میڈیا اور نیا پاکستان۔۔۔حافظ یاسر

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ سلطنتیں، ملک اور معاشرے تباہ و برباد ہو گئے جہاں طاقت کے توازن میں بگاڑ پیدا ہوا۔جس معاشرے میں چیک اینڈ بیلینس بگڑا وہ تباہی سے دوچار ہوا، کیونکہ جب طاقت مخصوص ہاتھوں میں آتی ہے تو ناانصافی جنم لیتی ہے جس کا شکار ہمیشہ عام عوام ہوئے ہیں۔

جمہوریت ایک چیک اینڈ بیلینس کا نظام ہے مہذب ممالک کی جمہوریت میں جہاں عدلیہ، فوج اور انتظامیہ پرائم منسٹر کو جوابدہ ہوتے ہیں وہیں پرائم منسٹر پارلیمنٹ کو۔پارلیمنٹ میں اپوزیشن بھی ہوتی ہے جو حکومت کے ہر معاملے پر نظر رکھتی ہے اور اسے ملکی و قومی مفاد کے محب عدسے سے پرکھتی ہے اور پھر پوری پارلیمنٹ بشمول حکومت و اپوزیشن عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں اور ان تمام عناصر پہ نظر رکھتا ہے” میڈیا”   جس کا کام حقائق کو بنا لگی لپٹی اپنے عوام تک پہنچانا ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے اس ملک میں ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ سپریم طاقت حاصل کر لے اور کسی کو بھی جوابدہ نہ ہو۔جو اس کے مفاد میں ہو وہ بلا رکاوٹ کر گزرے۔۔ باقی ستونوں کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی اسی کا شکار ہوا بلکہ ایک گٹھ جوڑ کی کیفیت بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔

وطنِ عزیز میں آزاد میڈیا کی بنیاد ایک ڈکٹیٹر کے دور میں رکھی گئی، طاقتور گروپوں نے لائسنس خریدے، مقصد صرف پیسہ کمانا ٹھہرا۔۔
میڈیا کی آزادی کے ساتھ ہی ایک ریگولیٹری ادارہ بھی بنایا گیا جس کے آئین کا دوسرا جزو ہے کہ”پاکستان کے لوگوں کے لیے میڈیا میں خبروں، موجودہ حالات، مذہبی تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، معاشی ترقی، سماجی بہبود، موسیقی، کھیل، ڈرامہ اور دوسرے ملکی و قومی اہداف کی دستیابی میں وسیع مواقع پیدا کرنا”۔

اگر آج ہم ڈھونڈیں تو ہمیں سائنس، ٹیکنالوجی، معاشی معاملات، معاشرتی بہبود، جیسے موضوعات پر الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر کوئی مواد ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔۔میڈیا میں صرف ایک ٹاپک پہ کام ہوا” خبر” اور وہ بھی انتہائی بھونڈے انداز میں۔

میڈیا ریاست کا ہتھیار ہوتا ہے، لیکن اگر یہ ہتھیار اپنا ٹریگر غیر کے ہاتھ میں دیدے اور منہ ریاست کی طرف کر لے تو اس صورت میں کیا کیا جائے، ہمارے ہاں میڈیا کی بیوقوفی کی سینکڑوں مثالیں ہیں، اجمل قصاب کو پاکستانی ثابت کرنا ہو یا حامد میر پر قاتلانہ حملے کا الزام آئی ایس آئی پر لگانا ہو، بے ہودہ قسم کا مواد ٹی وی پہ دکھانا ہو یا رمضان میں کرنا ہے. میڈیا نے ہر جگہ اپنا امیج خراب ہی کیا ہے۔

جب میڈیا کا مطمع نظر صرف ایک بات ہی ہو کہ بس خبر چاہیے، وہ جھوٹی ہے یا سچی ہے اس سے کوئی غرض نہیں تو پھر لوگ آوازیں کسیں گے، لوگ جھوٹا کہیں گے کیوں کہ معتبر کی ایک جھوٹی بات اس کی سو سچی باتوں کو بے مول کرجاتی ہے اور ایک ادارہ جس کا مقصد ہی سچ کی تلاش ہو جب وہ بنا سوچے سمجھے پرکھے سچ جھوٹ کی تمیز کیے بنا بس ریٹنگ کے چکر میں نیوز بریک کرے گا تو پھر اس کی کریڈیبلیٹی پہ بھی آوازیں کسی جاویں گی۔

ایک اور بات، ہر چیز کا ایک ورلڈ مارکیٹ ریٹ ہوتا ہے۔اب اگر کچھ گدھے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے میڈیا کو استعمال کرنے کی خاطر انہیں دیے جانے والے اشتہارات کی قیمت ایک دو یا تین نہیں بلکہ ہزاروں گنا بڑھا جائیں تو اس میں ریاست کا کیا فائدہ ہے۔ایک غیر حقیقی تصویر دکھانے واسطے ریاست کے خزانے پہ بوجھ ڈالنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ اگر میڈیا نے اپنی ساکھ قائم رکھنی ہے تو اسے جلد سے جلد میچور ہونا پڑے گا۔ ملکی مفاد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پروپیگنڈا، سازشوں اور گٹھ جوڑ کی روش کو ترک کر کے بے لاگ کام کرنا ہوگا۔۔ورنہ پھر سوشل میڈیا تو ہے ہی جو پہلے ہی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو زور کی ٹکر دے رہا ہے۔ایسا نا ہو کہ پھر لوگ صرف سوشل میڈیا پر ہی تکیہ کر لیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *