دیوار گریہ کے آس پاس۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان اور کاشف مصطفےٰ/قسط5

(اسرائیل کا سفر نامہ ۔اپریل 2016 )
ادارتی تعارف
کتاب دیوار گریہ کے آس پاس کو مکالمہ میں خدمت دین اور فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی خاطر شائع کیا جارہا ہے۔
کتاب کا شمار اردو کی ان دنوں مقبول ترین کتب میں ہوتا ہے۔مشہور سیاح اور مصنف مستنصر حسین تارڑ بھی اسے پڑھ کر ششدر رہ گئے تھے۔
ارض مقدس کا یہ سفر اپریل 2015 میں جناب کاشف مصطفے نے کیا تھا۔یہ ان کی انگریزی میں تحریر سفری یاداشتوں کا ایک غیر کتابی سلسلہ تھا جو زیادہ تر مختصر پیرائے میں اسرائیل سے جناب دیوان صاحب کو بذریعہ ای میل موصول ہوئیں۔ ہمارے جگر جان ،محمد اقبال دیوان نے ان موصول شدہ انگریزی ٹریول نوٹس کو اپنے مخصوص انداز میں  اردو کے قالب میں ڈھالا۔ انہیں کی مساعی سے اسے ادارہ قوسین نے اردو کے مشہور جریدے سویرا کی وساطت سے کتاب کی صورت میں لاہور سے شائع کیا۔اس کتاب کو لکھنے میں اور اس کی اشاعت و ترویح میں ان کا بہت حصہ ہے۔یہاں  اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ یہ کاوش بیش بہا پہلے سے انگریزی یا کسی اور زبان میں کتاب کی صورت  میں موجود نہ تھی۔ نہ ہی اس کا کوئی اور نسخہ اب تک کسی اور زبان میں معرض وجود میں آیا ہے۔ قارئین مکالمہ کی خاطر کچھ تصاویر جو کتاب میں موجود نہ تھیں وہ وضاحت مضمون کی خاطر نیٹ سے شامل کی گئی ہیں۔قسط مذکورہ میں ڈاکٹر صاحب کی اپنی تصویر کے علاوہ تمام تصاویر نیٹ سے لی گئی ہیں۔زیر مطالعہ قسط میں قرآن الکریم اسلامی تاریخ اور صوفی سلسلے کا اضافہ دیوان صاحب کی جانب سے کیا گیا۔
ہما رے دیوان صاحب، ڈاکٹر صاحب کے دوست ہیں ۔سابق بیورو کریٹ اور صاحب طرز ادیب ہیں ۔ ان کی تین عدد کتابیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا اور تیسری پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ شائع ہوچکی ہیں۔ چوتھی چارہ گر ہیں بے اثر ان دنوں ادارہ قوسین کے پاس زیر طبع ہے۔ سرجن کاشف مصطفے جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں اور ان کا شمار دنیا کے نامور ہارٹ سرجنز میں ہوتا ہے۔بہت صاحب نظر اور اہل رسائی ہیں۔کاشف صاحب کوہ پیما ہیں،پیراک ہیں، میراتھن رنر ہیں اور دنیا کے ستر سے زائد ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔تنہا سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان دو دوستوں کی اس کاوش کی اشاعت ادارہ مکالمہ اپنے لیے باعث تفاخر سمجھتا ہے۔

ایڈیٹر ان چیف

انعام رانا

پہلا انگریزی نوٹ جو موصول ہوا
dr kashif note in english

گزشتہ سے پیوستہ

میں ابھی اسی شش و پنج میں تھا کہ پیچھے سے مجھے کسی نے ڈاکٹر مصطفے کہہ کر آواز دی۔مڑکردیکھا تو ایام گزشتہ کی بھٹکی ہوئی روح شائم ایمون دکھائی دیا۔ شائم ایمون تو آپ کو یاد ہے نا ۔ ارے وہی ایتھوپین رے بائی، جو جہاز میں میرا ہم نشین تھا۔
’’مجھے یقین تھا ہماری ملاقات ایک مرتبہ اور ہوگی ‘‘میں نے تکلفاً اس سے دیوار گریہ کا پوچھا کہ کیا وہ وہاں گیا تھا تو جواب میں اس نے بھی میرے معمولات جاننا چاہے میں نے تفیصلات سے گریز کرتے ہوئے صرف اقصی اور قبتہ الصخری کا ذکر کیا۔اس پر وہ کسی توقف کے بغیرگویا ہوا ’’اچھاتو تم بھی ان لوگوں میں سے ہو جو یہ مانتے ہیں کہ تمہارے نبی وہیں سے آسمانوں کی جانب گئے تھے؟۔میں نے سوال کی تحقیر بھری کاٹ محسوس کی اور مجھے لگا کہ اس قدر روشن خیال ہونے کے باوجود بھی وہ اندر سے اپنے مذہب سے ویسے ہی جڑا ہے جیسے دیگر صیہونی باہر سے دکھائی دیتے ہیں۔
اپنے سوال کی مزید وضاحت اس نے قبۃالصخری کی جانب اشارہ کرکے کی اور میرے مختصر سے جواب اثبات کو سن کر کہنے لگا۔’’ جان لو کہ دنیا کا مرکز اسرائیل ہے،اسرائیل کا مرکز یروشلم،یروشلم کا اپنا مرکز ٹمپل آف ماؤنٹ یعنی حرم الشریف ہے، جس کا اپنا مرکزی مقام یہ صخرہ ہے یعنی ہمارا ماؤنٹ موریا ۔ یہ چٹان ایسی ہے کہ ہمارا بھی پختہ یقین ہے کہ یہ دنیا اور ماروائے الدنیا کے درمیان ایک رابطہ ہے اور اس کا مرکز ایک سوراخ ہے جہاں سے تم کہتے ہو کہ تمہارے نبی آسمانوں کی معراج پر تشریف لے گئے تھے۔
اس سے پہلے کہ میں اس کے جملے کی گہرائی کو سمجھ پاتا وہ مجھ سے دعا کی درخواست کرتا ہوا تیزی سے اندھیرے میں کسی بھوت کی مانند کہیں غائب ہوگیا۔ کچھ ہی دیر میں میرا نیا نائب وسیم جو   مریضوں  کے معائنے میں میرا معاون تھا میرے پاس بھاگتا ہوا آیا اور بتانے لگا کہ نبیل انصاری آپ کا رات کے کھانے پر انتظار کررہے ہیں۔

نئی قسط

نبیل انصاری صاحب کا گھر چھوٹا اور دل بہت بڑا تھا۔ یہ بات میں بطور معالج نہیں کہہ رہا،محاورتاً عرض کر رہا ہوں۔اس چھوٹے سے لاؤنج میں چار افراد شریک طعام تھے ، خاکسار، میزبان، شیخ نائف اور حاتم کرد۔ہماری نشست فرش پر تھی۔ رسیلے بکری کے گوشت کا منصف بنایا گیا تھا۔ یہ عربی ڈش ایک خاص قسم کے خمیری دہی’’ جمید ‘‘ میں رچنے (Marinate) ) کے لیے بالکل اس طرح چھوڑ دی جاتی ہے جیسے ہمارے ہاں بچھیا کا گوشت بریانی کے مصالحوں میں دہی لگا کر چار پانچ گھنٹے چھوڑ دیا جاتا ہے۔یہ گوشت بعد میں زعفران چھڑکے ہوئے چاولوں پر پھیلادیا جاتا ہے۔ آپ چاہیں تو ان سفید چاولوں پر تلے ہوئے بادام، کشمش ، چلغوزے یا کاجو بھی ڈال سکتے ہیں۔
شیخ نائف کی دو بڑی شناخت ہیں ایک تو وہ سماجی لحاظ سے برادری کے بڑوں میں شمار ہوتے ہیں دوسرے وہ سلسلہ شطاریہ کے شیخ بھی ہیں۔

نبیل انصاری کا گھر
سیدنا شیخ نائف شطاری سلسلے کے بزرگ
فلسطینیوں کا پلاؤ منصف

اہل سلوک کا شطاریہ سلسلہ کا آغاز ایران میں پندرھویں صدی میں ہوا۔اس کی بنیاد شیخ سراج الدین عبداللہ شطار نے رکھی تھی۔اسے ہندوستان میں ایک باقاعدہ صوفی سلسلے کا روپ دیا گیا اور پھر اس کے ماننے والے اسے حجاز اور انڈونیشیا تک لے گئے۔شطار بمعنی برق رفتار۔اس میں سلوک کی منازل بہت تیزی سے طے کرائی جاتیں ہیں۔صوفیوں کا یہ وہ واحد سلسلہ جو راہ سلوک میں فنا کو نہیں مانتا۔علم جو اللہ کا بقا کی مانند ایک وصف عظیم ہے اس میں آگے بڑھتے رہنے کا مْقصد قرب الہی ہے۔اس پر مزید گفتگو پھر کبھی۔

ان کے علم میں جب یہ بات لائی گئی کہ ایک پاکستانی مسلمان   اسرائیل اور بالخصوص بیت المقدس میں بطور سیاح تن تنہا آن پہنچا ہے تو وہ مجھ سے ملنے اس دعوت میں خصوصی طور پر شریک ہوئے۔عمر ان کی اسی برس کے لگ بھگ ہے لیکن آنکھیں کی چمک اور دماغ کی پھرتی جوانوں کو مات کرنے والی ہے ۔انگریزی بولتے ہیں تو لگتا ہے کہ عربی کبھی بولی ہی نہیں، بے داغ اور طرح دار۔لب و لہجہ بے حد مہذب اور الفاظ کا انتخاب نپا تلا اور من بھاؤنا۔بعد از طعام جب عربی چائے کا دور برپا ہوا تو نبیل انصاری صاحب گویا ہوئے کہ میرے بھائی مصطفے ہم جانتے ہیں کہ بطور مسلمان اور پاکستانی آپ کے ذہن میں ہمارے بارے میں ،ہماری جدوجہد کے بارے میں اور ہماری مشکلات کے بارے میں آپ کے ذہن میں بہت سے سوال ہوں گے لہذا میں نے مناسب جانا کہ شیخ نائف سے آپ کی ملاقات کا اہتمام کیا جائے کیوں اس وقت ہمارے درمیاں ان سے بہتر آپ کو جوابات دینے والا کوئی اور نہیں۔
میں نے جب شیخ نائف کی جانب دیکھا تو ان کی مسکرا ہٹ میں شفقت، اعتماد اورایک شدید احساس وابستگی واضح طور پر جھلملارہا تھا۔
میں نے اپنا گلا اور ذہن دونوں ہی سوالات پوچھنے کے لیے بہ یک وقت صاف کیے۔ شیخ نائف نے میرا تذبذب جلد ہی بھانپ لیا اور اپنی جانب سے یہ فراخدلانہ پیش کش کی’’ ہم سب تاریخ کے طالب علم ہیں لہذا سوال پوچھتے وقت کسی الجھن کا خیال مت کرنا۔۔‘‘
ایک سوالات اور شبہات سے کلبلاتی خلش جو مجھے تل ابیب میں اپنی دوست ڈاکٹر کلور لی کے شوہر ڈیوڈ سے گفتگو کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔ آپ کو یاد ہے نا کہ ڈیوڈ نے مجھے ان کے مسیحا کی آمد ، ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے جنگ عظیم اور  ان کے کیلنڈر کے حساب سے اس کی آمد میں محض 224 سال کا باقی ماندہ وقفے کا تذکرہ کیا تھا سو اس بارے میں دوسری طرف کے متعلقین کی رائے جاننے کے لیے قدرے اختصار سے بتایا۔ان کے ہاشمی چہرے پر ایک پراسرار سی مسکراہٹ جس میں حالات اور تجربے  کا ٹھہراؤ اور گہرائی نمایاں تھی ،پھیل گئی۔
’’کبھی تم نے یہ سوچا ،‘‘ شیخ نائف گویا ہوئے کہ یہودی عین اس مقام پر جہاں ہماری مسجد اقصی واقع ہے وہاں پر اپناہیکل سلیمانی یعنی Temple of Zion   تعمیر کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں۔؟‘‘ میرے لیے اس سوال کی رفتار اور کاٹ کو سمجھنا چونکہ ممکن نہ تھا لہذا میں نے خاموشی کو بہتر جواب جانا۔اللہ کی عبادت میرے مصطفے بھائی مسجد، چرچ،مندروں اور کنیساؤں یعنی synagogues میں ہوتی ہے۔یہودی اگر ہم   یہ کہیں کہ ہم یہاں ایک چھوٹا سا synagogue بنانا چاہتے ہیں تو ہم ان سے کوئی مناسب جگہ اس احاطہ ء اقدس میں  مختص کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کریں۔یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ دنیا بھر میں مختلف مذاہب کی عبادت گاہیں ایک دوسرے کے پڑوس میں اور ساتھ ساتھ ہوتی ہیں۔ ہمارے گھر ساتھ ساتھ ہیں تو ہماری عبادت گاہ کا ایک دوسرے کے پڑوس میں ہونا عین رواداری ہے۔
مجھے یقین ہوگیا کہ شیخ نائف مجھے بہت آہستگی سے اسلامی تاریخ کے ایسے موڑ پر لے جارہے جس کا بہت کم مسلمانوں کو موجودہ سیاسی تناظر میں اور مغربی پروپیگنڈے کے غلبے کی وجہ سے درست ادراک ہے۔
شیخ نائف فرمانے لگے کہ ’’ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی  پشت پر اقصی القدیم اور جدید کی بربادی اور اور ایک خفیہ خزانے کی تلاش ہے‘‘ ۔
’’خزانہ اور مسجد کے نیچے ؟‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت سلیمان کے وقت میں یہاں سے بابل اور نینوا تک اس علاقے میں  کالے جادو  اور فتنہ پرور خفیہ علوم کو  بڑا فروغ  حاصل ہوچکا تھا۔ یاد آیا کہ اس کا ذکر قرآن الکریم میں سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 102 میں اللہ سبحانہ تعالی نے بڑی صراحت سے کیا ہے کہ سلطنت سلیماں میں شیاطین کے پیروکار ان کے کفر کی پیروی میں لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ان پر اتمام حجت کے لیے دو فرشتے ہاروت اور ماروت کو جادو سکھا کر بھیجا گیا تھا تاکہ وہ لوگوں کی آزمائش ایک بڑی وارننگ سے کریں کہ یہ جادو تو سراسر کفر ہے۔اس سے وہ میاں بیوی کے درمیاں جدائی ڈال سکتے تھے۔اس علم کے چاہنے والوں کا آخرت میں بجز نقصان کے کوئی حصہ نہیں۔

قرآن الکریم کی مذکورہ آیت کا ترجمہ
آیت نمبر 102،سورہ بقرہ

آپ چونکہ اللہ کے نبی تھے لہذا آپ کو حکم دیا کہ وہ اس علاقے میں ایک آپریشن کلین اپ کرکے ایسے تمام قدیم علوم کے خفیہ صحیفے اور ان کی معاونت میں استعمال ہونے والی اشیا کو اپنے قبضے میں لے لیں اور اس کام میں مہارت رکھنے والے جادوگر ، عامل، ٹونہ باز، جیوتشی ان سب کو پہلے توبہ کا موقع دیا گیا اور جس نے اللہ کا حکم نہ مانا اور نبی سے بغاوت کی ان کو کڑی سزائیں دی گئیں۔آپ یعنی حضرت سلیمان ؑ نے یہ تمام اشیا بشمول ان خفیہ صحیفوں کو ایک جگہ اپنے محل میں دفنا دیا۔
ان کی اس وضاحت سے میرے دماغ کی دھند ایسے چھٹنے لگی جیسے رات کی تاریکی آہستگی سے پھیلتی کرنوں سے پہلے پہل پہاڑ کی بلند و بالا چوٹیوں پر ہوتی ہے۔مجھے پر یہ راز عیاں ہونے لگا کہ وہ ان خفیہ کتب اور دستاویزات تک رسائی کے متلاشی ہیں۔چونکہ ڈیوڈ کے بیانیے میں میں نے ایتھوپین ربائی شائم آمون کا بھی تذکرہ کردیا تھا لہذا جواب میں شیخ نائف کو اس کا حوالہ دینے میں کوئی دشواری نہ ہوئی وہ کہنے لگے کہ تمہارا وہ مسافر ساتھی ٹھیک کہہ رہا تھا یہ ساری شرارت یہودیوں میں شامل ان صہیونی طاقت ور گروپوں کی ہے جو ہر حال میں دنیا پر قابض رہنا چاہتے ہیں۔‘‘
اب سوال کرنے کی باری میری تھی۔’’لیکن یہ صہیونی بھی اپنے مذہبی جھکاؤ کے حساب سے تو بالآخر یہودی ہیں؟‘‘

احیا العلوم

ہر سیاسی تحریک کو ایک بہت بڑی جذباتی بیٹری اور روحانی چارجر کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ عوام کی اکثریت کو مذہب کے نام پر اس سے جوڑ کر رکھا جاسکے۔بڑی سیاسی تحریکوں میں اگر مذہب سے جذباتی لگاؤ جوڑ کر نہ رکھا جائے تو وہ بہت جلد کمزور پڑ کر اپنی اہمیت کھوبیٹھتی ہیں اس کا بڑا ثبوت آپ کو نازیوں کے ہاں ملتا ہے۔ انہوں  نے مذہب کی ایک کمزور اور مسخ شدہ شناخت آریائی نسلی برتری کو اپنے حامیوں کے گلے میں باندھ دیا تھا۔ خود تمہارے اپنے جنوبی افریقہ میں بائبل کے الٹے سیدھے حوالوں سے سفید فام نسلی امتیاز (Apartheid )کو مسلط کرنے کی کوشش کی گئی صہیونیت بھی اپنے اقتدار اور کنٹرول کے ایجنڈا کے نفاذ اور اپنے عزائم کو فروغ دینے کے لیے یہودی مذہب کا سہارا لیتی ہے۔وہ کچھ دیر کے لیے اپنے کپ میں چائے بھرنے کے لیے رک گئے۔
اب میری باری تھی کہ میں خود کو ہنری کسنجر اور بان کی مون کا ہم پلہ سفارت کار ثابت کروں لہذا میں نے صدیوں کی اس مخاصمت کو وہاں بیٹھے بیٹھے ہی ختم کرنے کے لیے پوچھ لیا کہ’’ کیا ان کی جانب سے اس حوالے سے کبھی گفت و شنید کا بھی معاملہ آیا؟‘‘
جی ہاں۔ کئی دفعہ لیکن ہم انہیں بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ یہ ان کا محض دکھاوا ہے کہ دنیا کو وہ ایک پر امن قوم کے طور پر اپنا چہرہ  دکھاسکیں۔ ایک صلح جو قوم کا روپ جو اپنے تمام مسائل کا حل باہمی گفتگو کے ذریعے کرنا چاہتی ہے۔ دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت کو چونکہ ان مقامات کی زیارت کے لیے اسرائیل آنے پر پابندی ہے لہذا وہ اپنے نشریاتی اداروں بالخصوص الیکٹرانک   میڈیااخبارات اور رسائل جن کی اکثریت غیر مسلموں کی ملکیت ہے ان پر بہت عیاری سے Dome of the Rock (قبتہ الصخری )کو بطور مسجد الاقصی پیش کیا جاتا ہے۔

یہاں انہوں نے توقف کرکے بغور میرا جائزہ لیا کہ کیا مجھ پر ان کی باتوں کا کچھ اثر بھی ہورہا ہے یا  محض یہ میں میزبان کی بے گار سمجھ کر ٹال رہا ہوں۔مجھے لگا کہ وہ اپنے بیان میں بالکل صادق ہیں کیوں کہ یہاں آمد سے بہت پہلے تک مجھ پر بھی مسجد الاقصی کا اور قبتہ الصخری کا فرق کچھ ایسا خاص واضح نہ تھا۔ جب کہ میں اپنے آپ کو بہت حد تک باخبر افراد میں شامل کرتا ہوں۔
اس میں کچھ قصور تو اقصی کی اپنی سادگی کا بھی ہے جو دور سے کھینچی گئی تصاویر بالخصوص ان تصاویر میں جو بلندی سے لی گئی ہوں قبتہ الصخری کے تعمیراتی حسن جہاں تاب میں کی منظر کشی میں شناخت سے محروم ہوکر رہ جاتی ہے۔ بے شمار مسلمان یہ جان ہی نہیں پاتے کہ سنہری گنبد سے دور ہٹ چپ چاپ کھڑی یہ سفید پلاسٹر والی اداس سی ایک منزلہ عمارت ہی دراصل ان کا قبلہء اوّل ہے۔
مکۃ المکرمہ اور مدینۃ المنورۃ کے بعد تیسرا اہم ترین مقدس مقام، ان کی مسجد الانبیا ، ان کی مسجد الاقصیٰ ہے۔مجھے لگا کہ شیخ نائف سے میری گفتگو کچھ بوجھل ہوچلی ہے لہذا میں نے ذہن میں بہت دیر سے مچلتے ہوئے ایک سوال کو آہستگی سے باہر کھینچ نکالا۔

قبۃالصخری کا ایک منظر
قبۃالصخری کا ایک منظر

’’یہ علوم مخفی اور جادو ٹونوں اور عملیات کے جن صحیفوں کا آپ نے ابھی تذکرہ فرمایا تھا ان میں سے کچھ اب تک کسی بے قرار کھوجی روح کو کسی کھدائی یا اتفاقاً کہیں پڑے ہوئے ملے بھی ہیں؟‘‘۔
ممکن ہے صلیبی جنگوں میں عیسائی افواج میں ایک ایسا فوجی دستہ (Legion)تھا جو خود کو Order of the Poor Knights of Christ کہتا تھا ۔جنہیں ساری دنیاThe Templar Knights کے نام سے جانتی ہے جو ابتدا میں تعداد میں آٹھ تھے ۔ یہ عیسائی زائرین کی حفاظت کے لیے سن 1120 میں فرانس سے آئے تھے۔انہیں نو سال بعد ایک فوجی دستہ بن کر رہنے کی اجازت مل گئی۔انہیں یروشلم کے حکمراں بالڈوین ثانی نے ان کے سرپرست Warmund, نے جو فلسطین کا بڑا پادری تھا ان کی سفارش پر اقصی القدیم میں ہائش پذیر ہونے کی اجازت دے دی تھی ۔

جدید ٹمپلر نائیٹس
ٹمپلر نائٹ کی انگوٹھی

ان کے ہاتھ کچھ ایسے مخفی علوم کے صحیفے لگ گئے کہ وہ بے حد طاقتور اور مالدار ہوگئے۔فلسطین کے وہ باخبر بزرگ شیخ نائف جو لکھی گئی ، سنی گئی اور زبانی تاریخ کا ایک سیل رواں تھے کچھ دیر رکے اور فرمانے لگے کہ اہل اسلام اور اہل یہود جو یہاں آباد ہیں ان میں سے بہت سے لوگوں کا اور کئی محققین کا خیال ہے کہ ان نائٹس کے ہاتھ کچھ ایسے صحیفے آگئے تھے جن میں درج منتردولت پر قابض جنوں اور دیگر مخلوقات کو اپنا مطیع بنالیتے تھے۔یہی وہ نائیٹس تھے جنہوں نے تاریخ انسانی کا پہلا بینک قائم کیا۔
’’وہ کیسے ؟ ‘‘یہ میرا مختصر سا حیرت بھرا سوال میرے بہت سے کرم فرماؤں پر بہت بوجھ ڈال دیتا ہے مگر میں اس خزانے کی کنجی جان کر استعمال کرنے سے باز نہیں آتا۔
وہ ایسے کہ ان نائٹس نے یورپ بھر میں یہاں آنے والے زائرین  میں یہ بات عام کردی کہ دوران سفر رقم اور قیمتی اشیا لے کر آنا خطرے سے خالی نہیں۔آپ ہمارے دفاتر اور نمائندے جو تمام یورپ میں پھیلے ہیں ان کے پاس مطلوبہ رقم جمع کرائیں۔ وہ ایک پروانہ ء متبادل Cheque یہ عہد نامہ نقدی جاری Bank Draft کریں گے جو یروشلم میں پیش کیے جانے پر آپ کو کمیشن نکال کر مطلوبہ رقم کا حقدار ٹھہرائے گا۔ ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے پوپ نے فرانس کے بادشاہ کی مدد  سے   انہیں برباد کردیا۔
درست فرمایا آپ نے جمعہ 13 اکتوبر سن. 1307کو یہ سب ہوا تھا۔ میں نے بھی اپنی جنرل نالج کا اظہار کیا۔۔۔
’’ درست‘‘ میں یہاں آپ کی خدمت میں عرض کرتا چلوں کہ یہ نائٹس ایک عرصے سے فرانس کی وزارت خزانہ سے منسلک تھے ۔ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں سننے میں  آتی تھیں۔ان کی  بے جا مداخلت سے سارے یورپ کے حکمران پریشاں رہتے تھے ۔ یہ اپنے آپ کو اسٹیبلشمنٹ ، کنگ میکرز، بین الاقوامی مالیاتی ادارہ ، آئی ایم ایف ورلڈ بینک اور وزارت خزانہ جانے کیا کیا سمجھتے تھے۔ انہیں ہر طرح کے ٹیکس اور عدالتی معاملات سے استثنیٰ تھا۔یہ اپنے معاملات کی انجام دہی میں  صرف پوپ کو جواب دہ تھے ۔
ایک زمانہ ایسا آیا کہ جب انہوں نے فرانس کے بادشاہ فلپ چہارم کی ہمشیرہ کی شادی کے لیے اور جنگی اخراجات کے لیے ایک بڑی رقم بادشاہ کو ادھار دی تو اسے ان کی دولت کا صحیح اندازہ ہوا اس نے کچھ عرصے بعدان کی دولت پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا جس میں اسے بڑی مہارت تھی وہ سال بھر پہلے ہی یہودیوں کی فرانس میں دولت پر اسی طرح قابض ہوچکا تھا۔
بادشاہ فلپ چہارم کو اپنے منصوبے پر عمل درآمد کرنے کا موقع اس وقت ملا جب اس وقت کے پوپ کلیمنٹ پنجم کا خط اسے ان کے ٹمپلر نائیٹس کی کرپشن اور بد اعمالیوں کے بارے میں موصول ہوا ۔پوپ کی مرضی تھی کہ ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن جس میں ان کے اپنے نمائندے بھی شامل ہوں یہ تحقیقات کرکے انہیں رپورٹ پیش کرے۔ اس کے برعکس پوپ کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب فرانس کے طول و عرض میں اس کی فراہم کردہ لسٹوں کو سامنے رکھ کر بادشاہ کے حکم پر یہ سارے خفیہ نائٹیس راتوں رات پکڑے گئے اور انہیں صلیب پر زندہ جلادیا گیا۔

Knights-Templar-

میرے تجسس نے ایک اور اڈاری ماری۔لیکن یہ روشن خیال مغرب آخر ایک ایسے گروپ کے پیچھے کیوں لگ گیا جو شیاطین کا پجاری ہے؟
ان میں سے کچھ ٹمپلر نائٹس کو جب بادشاہ کے ان ظالمانہ عزائم کا علم ہوا تو یہ بہت خاموشی سے اسکاٹ لینڈ فرار ہوگئے جو پوپ کے اثر و رسوخ اور پہنچ سے باہر تھا۔وہاں پہلے سے ہی ایک سوسائٹی تھی جس میں راج معمار یعنی اینٹیں چننے والے شامل تھے۔ انہیں”Masons”, کہتے تھے۔یہ بہت منفعت بخش کام تھا۔ انہیں اس میں مہارت بھی بہت تھی اور اس کا یہ معاوضہ بھی بہت لیتے تھے۔اس لیے کہ وہاں بڑے کلیسا اور قلعے بنانے کا جنون تھا۔
اس سوسائٹی کے ممبران کے پاس بہت رقم تھی یہ اپنے تعمیراتی رازوں میں بھی کسی کو شریک نہ کرتے تھے۔جب یہ ٹمپلر نائیٹس فرانس سے اسکاٹ لینڈ  پہنچے تو میسن کا حال کچھ پتلا تھا۔ ان کی دولت بھی ختم ہوچکی تھی اسی وجہ سے ان نائٹس کو اس سوسائٹی کا  ممبر بننے کی اجازت دی کیوں کہ ان کی دولت اور میزبانوں کی ہنر مندی سے ایک نئی دنیا جس میں پوپ اور مذہب کا عمل دخل نہ ہو وجود میں لانا تھا ۔ سوسائٹی کی ممبر شپ کھول دی گئی اور یہ نئے ممبرز فری میسن کہلائے۔

جس طرح قبۃالصخری اور مسجد الاقصی کے بارے میں یہ وثوق سے کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں قدیم ترین اسلامی عمارات ہیں ۔اسی طرح دنیا کی قدیم ترین خفیہ تنظیموں میں فری میسن کا بھی شمار ہوتا ہے جو اب باقاعدہ مغربی مہذب دنیا میں متبادل مذہب کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔اس کا بے ضرر مگر ڈھکا چھپا نعرہ یہ ہے کہ ’’ہم اچھے انسانوں کو بہتر انسان بناتے ہیں‘‘ لیکن یہ ایک عرصہ سے اقتدار کے بلند و بالا ایوانوں میں اپنے حلف یافتہ کارکن داخل کرتی رہتی ہے۔میرے لیے حیرت کا صرف ایک نقطہ تھا کہ کیسے آٹھ ٹمپلر نائٹس کا گیارھویں صدی کا ایک چھوٹا سا حفاظتی دستہ ایک فوجی دستے کی صورت اختیار کرکے آج دنیا بھر کے اداروں میں چاہے وہ تعلیمی ہوں یا معاشی، سیاسی ہوں یا حربی ان میں اقتدار اور کنٹرول حاصل کرچکا ہے۔
یہاں میں یہ یاد دلاتا چلوں کہ مسلمانوں نے فلسطین یعنی یروشلم پر قبضہ عیسائیوں کو شکست دے کر حاصل کیاتھا۔وہ نومبر 636 عیسوی میں بازنطینی رومی حکومت کے دور میں یروشلم کے قلعے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔
یہ سیدنا عمرؓ بن خطاب کا دور خلافت تھا اور اسلامی افواج کی قیادت ابوعبیدہؓ کے پاس تھی۔۔ ۔مسلمانوں کو جنگ میں محاصرے کی حکمت عملی سے پہلی بار واسطہ پڑا تھا ۔ وہ چار ماہ اسے گھیرے  رہے۔بالاخر وہاں کے قدیم چرچ کے بڑے پادریSophronius سوفرنیئس نے اپنی جانب سے یہ تجویز رکھی کہ وہ قلعے کی چابیاں کسی سپاہی کے حوالے نہیں کریں گے بلکہ ایک ایسے بادشاہ کو دیں گے جس کا طرز بود باش فقرا کی مانند سادہ اور بے خوف وہ بے نیا ز ہوگا۔اس کے بارے میں اسے اپنی بائیل میں کچھ اشارے ملے ہیں۔
اس کی یہ تجویز جب وہاں محاصرے کے انچارج مسلمان کمانڈر حضرت شرابیلؓ بن حسنہ کو پہنچی تو انہوں نے سوچا کہ سیدنا عمرؓ کو اتنے دور مدینہ سے یہاں آمد کی زحمت دینا مناسب نہیں، کیوں نہ ان کی جگہ حمص( شام) سے حضرت خالدؓ بن ولید کو بلالیا جائے ۔ وہ اپنے حلیے اور شباہت میں سیدنا عمرؓ جیسے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ جب سیدنا خالدؓ آئے تو یہودی انہیں پہچانتے تھے۔اس پر حضرت ابوعبیدہؓ جو مسلمانوں کے سپہ سالار تھے انہوں نے سیدنا عمرؓ کو آمد کی درخواست اور فتح کے  معاہدہ پر دستخط کی تجویز بھیجی تو آپ اس شان سے آئے کہ شہر میں داخل ہوتے وقت اونٹ کی نکیل تھامنے کی باری آپ کی تھی اور سواری کا اس فاصلے پر حق آپ کے غلام کا تھا۔یروشلم  میں بارش کی وجہ سے آپ کے ثوب پر کیچڑ کے چھینٹے بھی پڑے ہوئے تھے۔یہ منظر دیکھ کرسوفرنیئس بے حد مرعوب ہوا۔
ایک معاہدے کے تحت جسے معاہدہ عمری بھی کہا جاتا ہے اور جس کے گواہوں سیدنا خالد بن ولید، سیدنا معاویہ ابن ابو سفیان،سیدنا ابوعبیدہ (اللہ ان سب سے راضی ہو) شامل تھے یروشلم سن 637 میں آزاد ہوا ۔یہودیوں کو دو سو سال سے اس شہر میں عبادت اور داخلے کی اجازت نہ تھی ۔وہ بھی ملی۔ حضرت عمر یہاں دس دن قیام پذیر رہے ۔
میں نے اپنی گھڑی دیکھی رات کے 11:30 بج چکے تھے۔ اپنے میزبانوں سے رخصت چاہی اس وعدے کے ساتھ کہ ہم دوران قیام اور بعد میں بھی انشا اللہ ایک دوسرے کے رابطے میں رہیں گے ۔حاتم کا ارادہ مجھے ہوٹل تک چھوڑ کر آنے کا تھا۔شیخ نائف نے اسے روک دیا ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن نہیں کہ تین عربوں اور ایک پاکستانی کی ملاقات کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد مانیٹر نہ کررہی ہو۔تمہاری رفاقت تم دونوں کے لیے بہتر نہیں۔اس سے مصطفے بھائی کے لیے بھی معاملات پیچیدہ ہوجائیں گے۔انہیں اکیلا ہی جانے دیں۔اس انکشاف کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھ ہی لیا کہ کیا آپ خوف زدہ ہیں۔ میرے چہرے پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ نے میرے خوف کا احاطہ کرلیا میں آرام سے اپنے ہوٹل پہنچ جاؤں گا آپ تردد نہ کریں۔
واپسی پرشہر قدیم ایک گہری نیند میں سویا تھا۔راستے میں پانچ چیک پوسٹوں پر میں نے نیم خوابیدہ یہودی سپاہیوں کو انہیں کا shalom(سلام )گرمجوشی سے کیا تو مجھے لگا شیخ نائف ان سے اور موساد سے بلاوجہ ہی خائف رہتے ہیں۔
میں رات بھر ایک عجیب عالم سرشاری اور اطمینان سے بچوں کی مانند سویا کیا ۔صبح جب کھڑکی سے نظر باہر ڈالی تو آسماں میں بادل ایک دوسرے کے تعاقب میں دوڑے پھرتے تھے۔رات کے کسی پہر ہونے والی ہلکی ہلکی بوندا باندی نے شہر کو دھو کر اجلا کردیا تھا۔
ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں تین کپ کافی نے مجھے مکمل طور پر حالت بے داری میں لوٹا دیا۔اردگرد نگاہ دوڑائی تو وہاں کوئی اور مہمان نہ تھا ۔جب میں نے باہر جانے کا ارادہ کیا تو رفیق صاحب لاؤنج میں دکھائی دیے ان سے علیک سلیک ہوئی تو انہوں نے میرا آج کا پروگرام پوچھ لیا ۔ میں نے جب بتایا کہ اس شہر قدیم میں آج میرا ارادہ ادھر ادھر بھٹکنے کا ہے۔میری تجویز ہے کہ آپ The Mount of Olives(جبل الزیتون جسے عرب الطور کے مختصر لقب سے پکارتے ہیں جو آرمینی زبان کا لفظ ہے) وہاں چلے جائیں ۔ موسم خوشگوار ہے ۔ایسے میں وہاں جانا آپ کے لیے بہت پُرلطف  تجربہ رہے گا۔ اس کی تجویز مجھے بہت من بھاؤنی لگی اور سفر کی ہدایات لے کر میں چل پڑا۔دھلا دھلایا یروشلم اس صبح جگمگارہا تھا لیکن اس شہر میں ایک مجذوب کا سا باؤلا پن ہے جو ہر کس و ناکس کی سمجھ میں نہیں آتا ۔ اس کے لیے آپ کو ایک وسیع کینوس پر تاریخ،مذہبی تقابلی جائزے،سیاسی ریشہ دوانیوں سے آگاہی کے خطوط کھینچنے اور رنگ بکھیرنے پڑتے ہیں۔ یہ سب کرنے کے لیے آپ کے اندر مظلوموں کی بے چارگی پر اشک بار ، سوگوار دل اور بچوں کا سا تجسس بھی باہر نکالنا پڑتا ہے جو ساکٹ میں جھٹکوں سے بے پروا ہوکر انگلی ڈالنے سے باز نہ آتا ہو۔اس صبح مجھے یروشلم ایک سادہ لوح،رومانچک اور انوکھے پن سے آراستہ لگا۔

قبتہ االمعراج کوہ زیتون

ہوٹل سے باہر نکلتے ہی 15 سے 20 اسرائیلی فوجی کسی عرب دکاندار سے چہلیں کررہے تھے۔میں چلتا چلتا باب الاسباط جسے عرف عام میںLion gate کہتے ہیں پہنچ گیا۔اسی دوران میری نگاہ ایک قبرستان پر پڑی جو اپنے مقابر( عربی میں واحد مقبر) کے اعتبار سے مسلمانوں کا لگ رہا تھا۔یہ اب میری عادت کا معاملہ بن چکا ہے کہ میں جب کبھی بیرون ملک کسی ایسے حصے میں ہوں جو مسلمانوں کا قبرستان ہو تو میں وہاں رک کر اجتماعی فاتحہ پڑھنا اپنے اوپر ایک قرض اور فرض ضرور دونوں ہی سمجھتا ہوں۔قبرستان میں داخل ہوا تو ہزارہا مسلمان ایک اونچے نیچے وسیع میدان میں مدفون دکھائی دیے۔ قدیم مقابر فیصل شہر کے نزدیک ہیں۔انہیں مقابر میں دو صحابہ  کی قبور بھی موجود تھیں یہ دو صحابی سیدنا عبادہؓ اابن سامت اور عاصؓ ابن شداد ہیں۔سیدنا عاص کے قدموں کے پاس ہی خلافت عثمانیہ کے عظیم فرمانروا سلیمان عالیشان کی قبر ہے جس پر یہاں تو کوئی کتبہ درج نہیں لیکن اگر آپ استنبول شہر کی مسجدسلیمانیہ میں جائیں تو اس کی منظور نظر ملکہ حرم سلطان کی تربت(ترکی میں قبر کو مزار یا ترُب بھی کہتے ہیں) کے باہر ایک یادگاری ستون نصب ہے جو اس کی اس قبر کی نشاندہی کرتا ہے۔

تربت سلیماں

فاتحہ خوانی سے فارغ ہوکر میں شہر کے قدیمی بازار میں آن نکلتا ہوں،ہجوم خریداں اور حرص تاجراں نے ایک بے ہنگم صوتی روپ دھار لیا ہے۔بلاوے اور بھاؤ تاؤ کا ایک آرکسٹرا ہر طرف سنائی دے رہا ہے جس میں لے تان کے بغیر بس رقم اور مال کا تبادلہ ہی مقصد متاعء بازار ہے۔
عرب خواتین سڑک پر سجائے ہوئے اسٹالوں سے روزمرہ کا سودہ خرید رہی ہیں۔وہی ہماری عورتوں کا سا بھاؤ تاؤ کا انداز۔ موسم سے لطف اندوز ہوتے مرد پاس ہی تھڑوں پر بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف ہیں۔اس ہجوم خریداراں کے درمیاں سے میں آہستہ آہستہ گزر کر جبل الزیتون کی جانب بڑھ رہا ہوں جس کی ڈھلان شہر سے جڑی ہوئی ہے۔ایک زمانہ ہوتا تھا یہاں زیتون کے ہزارہا درخت ہوتے تھے جس کی وجہ سے اس کا یہ نام پڑا۔اس کے دامن میں کئی ایسے کولہو بھی تھے جنہیں آپ آئل مل کا نام دے لیں۔اب ایسا نظارہ دکھائی نہیں دیتا۔

یروشلم کا بازار
کوہ زیتون سے نظارہ

جبل الزیتون کی یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاں بہت اہمیت ہے۔مسلمان دینی حوالوں سے اس سے ذرا لا تعلق سے ہیں۔یہودیوں کا خدا جسے وہ Yahwehکہتے ہیں اور جو ہمارے تصور وحدانیت کے حساب سے دنیا کے باقی تمام مذاہب کی نسبت قریب ترین ہے کہ وہ یکتا ہے، دکھائی نہیں دیتا۔ازل تا ابد تا قائم رہنے والا اور ہر شے کا خالق و مالک ہے،وہ ہی ابراہیم، اسحق اور یعقوب موسیٰ علیہا السلام کا رب ہے جس نے انہیں فرعون کے مظالم سے نجات دلا کر سیدنا موسیٰؑ کے ذریعے تورات عطا کی۔ وہ عبرانی زبان میں جس طرح اللہ لکھتے ہیں وہ غور سے دیکھنے پر عربی میں لکھے گئے لفظ اللہ کا عکس معکوس لگتا ہے اور وہ اسے انگریزی میں YHWH لکھتے ہیں۔وہ اللہ کو Elohim. بھی کہتے ہیں جو سننے میں ہمارا اللّھُمَ لگتا ہے۔یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ روز قیامت یہوا ،اسی جبل الزیتون پر جلوہ افروز ہوگا۔پہاڑ اس دن پھٹ کر دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے گا۔یہ روز قیامت کی نشانی ہے۔اس کی ڈھلوان پر اہل یہود دفن ہونا عین سعادت سمجھتے ہیں۔ان ڈھلوانوں پر نگاہ ڈالیں تویہود کی کوئی ڈیڑھ لاکھ قبور جلوہ الہی کی منتظر دکھائی دیتی ہیں۔

عیسائیوں کا معاملہ ان سے قدرے مختلف ہے جوعیسٰی ؑ ابن مریم ؑ کواللہ کا بیٹا مانتے ہیں،قرآن کہتا ہے کہ ’’یہ اس قدر شرم ناک بات ہے کہ اگر یہ پہاڑوں زمین اور آسمانوں کی سمجھ میں آجائے تو وہ شرم و ندامت سے پھٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں‘‘(سورۃ مریم آیت نمبر 89 تا 90)۔وہ کہتے ہیں کہ ان کادنیا میں دوبارہ ظہور اسی پہاڑ پر ہوگا۔و ہ  یہیں سے اتر کر مشرقی دروازے سے یروشلم شہر میں داخل ہوں گے۔-اس کے گرد و نواح میں بے شمار چرچ ہیں اور حضرت مریم کا مزار مبارک بھی یہیں پر ہے جہاں ہمہ وقت سیاحوں کی آمد جاری رہتی ہے۔

موسم خوش گوار ہونے کے باعث میں کسی دشواری کے بغیر بیس فیٹ اونچی ایک ایسی عمارت میں جا پہنچا جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ابسلام کا مقبرہ ہے جو سیدنا سلیمان ؑ کا سویتلا بھائی اور حضرت داؤد علیہ سلام کا بیٹا تھا۔تاریخ اسے اپنے والد محترم سے بغاوت کرنے کی وجہ سے اچھا نہیں سمجھتی۔باپ بیٹے کی اس جنگ میں ایک روایت کے بموجب پہلے تو حضرت داؤد علیہ سلام کو ابسلام کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی اور وہ یہاں جبل الزیتون میں آن کر چھپ گئے تھے لیکن بعد میں انہوں نے اپنے اس بیٹے پر فتح پائی۔اس کی جنگ میں ہلاکت ہوئی ،وہ یہاں مدفون ہے ایک عرصے تک اس شہر کے لوگ آتے جاتے اس مزار کو کنکریاں مارتے تھے۔

مقبرہء ابسلام

یہ عمل بہت برسوں تک جاری رہا حتیٰ کہ یہ مزار سنگ باری کی وجہ سے ڈھیر میں چھپ گیا۔ شہر کے لوگ اپنے بچوں کو یہ مقام عبرت دکھانے لاتے تھے پھر آج سے تیرہ سال پہلے یعنی 2003میں مورخین کو یہاں درج ایک کتبہ پڑھنے کا اتفاق ہوا تو عجب انکشاف ہوا کہ یہ تو عیسائیوں میں مقدس سمجھے ذکریاکا مزار ہے جو شہید یحییٰ یعنیJohn the Baptist کے والد تھے۔اسی نکشاف کی وجہ سے اس مزار مطعون کا درجہ، رتبہ، حلیہ یکایک بدل گیا۔اب رات کو یہاں نیلی روشنیاں اس طرح جگمگاتی ہیں کہ ان پر دور سے اہرام مصر کا گماں ہوتا ہے۔
ذرا ٹھہریے اس مزار کو آپ حضرت یحیٰی کے مزار سے گڈ مڈ نہ کریں۔ایک اور مزار ایسا ہے جو ایک ایسے نبی کا ہے جو حضرت عیسیٰ سے 900سال پہلے ہوگزرے ہیں اور قرآن میں مذکور نہیں۔انہیں زکریا بن یہودا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *