آپ کی خدمت ہمیں مہنگی پڑتی ہے۔۔۔۔محمد حسین آزاد

پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں پر سب کچھ جائز ہے چاہے وہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی ۔بس ا س میں کسی شخص یا گروہ کے کچھ ذاتی مفادات ہونے چاہئیں۔ اگر چہ پاکستان معاشی طور پر ایک مستحکم ملک نہیں ہے اور یہاں بے روزگاری کی شرح بھی اچھی خاصی ہے ۔ اوپر سے غربت بھی ہے لیکن پھر بھی پیسے کمانے کے ذریعے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ان کے بارے میں ہر کوئی نہیں جانتا ۔یہا ں پر لوگوں کا ذریعہ معاش مختلف شعبوں سے وابستگی پر ہیں ۔ سر کاری نوکری کو لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں چاہے اس میں ذلت کیوں نہ ہو۔ اس کے حصول کے لیے اگر بہت سے پیسے یا تحفے تحائف بھی دینا پڑیں تو لاگ دینے سے نہیں کتراتے۔
پاکستان کے لوگ نہایت قابل ہیں ، انہوں نے ذریعہ  معاش کے نئے نئے طریقے ایجاد کئے ہیں ۔ پولیس سٹیشن میں ایک ایس ایچ او ہوتا ہے جو تیس پینتیس ہزار تنخوا لیتا ہے اور ساتھ ہی ایک ماہ میں لاکھوں کے تحائف بھی الگ سے وصول کرتا ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ بہت سے اور لوگوں کا معاش بھی وابستہ ہوتا ہے۔ جب تھانہ کچہری یا کسی اور دفتر میں جائیں تو آپ کو وہاں انتظامیہ کے علاوہ سفید کپڑوں اور کالے واسکٹوں میں ملبوس کچھ اور افراد بھی نظر آئیں گے ۔آپ ان کے بارے میں سوچتے ہوں گے کہ وہ وہاں کیا کر تے ہیں؟ اگر آپ ان سے پوچھیں بھی کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ تو ظاہر ہے ان کا جواب یہی ہوگا کہ ’’ ہم لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں ‘‘ ۔ اگر آپ ان سے ذریعہ آمدنی کے بارے میں پوچھیں  تو وہ ’’الحمدُاللہ‘‘ کے حرف ’’ح‘‘ پر زور دے کر حلق کی جگہ پیٹ سے نکالیں  گے’’ الحمد اللہ ، اللہ چھپر پھاڑ کر دیتا ہے ‘‘۔
یہاں پر زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش جرگوں معرکوں سے بھی وابستہ ہیں جنہیں لوگ اپنا اختیار دیتے ہیں لیکن وہ اپنے  مفاد کی خاطر اس کا غلط استعمال بھی کرلیتے ہیں ، پیسہ لے کر ہزاروں لوگوں کی ملکیت کسی ایک شخص یاکچھ اشخاص کو تحفے کے نام پر دیتے ہیں ۔ یہاں ہم ان خدمت گاروں کے بارے میں بحث کررہے ہیں جو دفتری اور انتظامی کاموں میں ہماری اور آپ کی خدمت کررہے ہیں ۔ ایک طرف تو سیاستدان صاحبان ہماری جان نہیں چھوڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرتے دم تک لوگوں کی خدمت کرتے رہیں گے، تو دوسری طرف یہ چھوٹے موٹے چمچے بھی ہمیں لوٹنے کے لیے کچھ کم نہیں۔ یہاں ہم ایس ایچ او ، واپڈا ایس ڈی او وسپرنٹنڈنٹ، پاسپورٹ آفس کے ڈائریکٹر ، نادرا کے منیجر ،فارسٹ آفیسریا پولیس وغیرہ کی بات نہیں کر رہے ۔ یہ صاحبان تو اپنی دفاترمیں لوگوں کی خدمت کرنے کے لئے بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جنہیں حکومت نے مراعات کے ساتھ ساتھ اختیار بھی دیا ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ بالواسطہ آپ کی خدمت نہیں کرتے کیونکہ یہ انہیں اپنی  توہین سمجھتے ہیں ، ان سے خدمت لینے کے لئے آپ کو ان کے چمچوں سے مدد لینا پڑے گی جو وہ آپ کو ان کے دفتر میں ملیں گے۔ ان چھوٹے موٹے مگر مچھوں کی چمکتی ہوئی داڑھیاں اور ہنس مکھ چہریں سے آپ کو وہ حقیقت میں خدائی خدمت گار دکھائی دیں گے لیکن دراصل وہ آپ کو لوٹنے کے لئے وہاں موجود رہتے ہیں ۔ان کی میٹھی میٹھی باتوں سے آپ ضرور دھوکہ کھائیں گے۔ بر سبیل تذکرہ
ایک شخص نے شناختی کارڈ بنانے کے لئے اپنے ساتھ ایک نمک حرام کو نادرا دفترلے گیا لیکن حقیقی خدمت گار سمجھ کر پیسے نہیں دئیے ۔ جب اس کا کارڈجاری ہوا، تو اس نمک حرام نے منیجر صاحب سے کہا کہ کارڈ مت دینا اور کہہ دینا کہ اس کا کارڈ بلاک کردیاگیاہے ۔ نادرا والوں کے پاس بہانے بھی بہت ہوتے ہیں ۔اس غریب شخص نے بہت ٹھوکریں کھانے کے بعد جب اس نمک حرام کو چند پیسے دئیے تو اس نے منیجر صاحب سے کارڈ دلوایا۔
دیر کے پاسپورٹ آفس میں میرے ایک دوست کے ساتھ ایسا ہی ہوا ۔ میرے دوست کا پاسپورٹ آفس میں ہی پڑا تھا لیکن ڈائریکٹر صاحب کے  کرم سے اسے میزکے دراز میں ہی بلاکررکھا تھا ۔ڈھیر ساری ٹھوکریں کھانے کے بعد اسے کہا  گیا کہ صاحبزادہ طارق اللہ صاحب( جو اس وقت دیر کا ایم این اے تھے) کا لیٹر لے آؤ ۔ جب   ایم این اے صاحب کا لیٹر وہ دفترلے گیا تو اسے مشورہ دیا گیا کہ آپ دوبارہ داخلہ کریں ،آپ کا پاسپورٹ مکمل طور پر بلاک ہے ۔ جب اس نے دوبارہ داخلے کے لئے کاغذات بھر دئیے اور داخلے کے تین ہزار تین سو روپے دئیے تو اسی وقت اسے  پاسپورٹ دیا گیا اور دوبارہ داخلے کے کاغذات پھاڑ دئیے گئے۔ ان واقعات سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ لوگ ہم اور آپ کو لوٹنے کے لئے کیسے کیسے حربے استعمال کر رہے ہیں ۔
میرے ایک دوست کے  والد صاحب ایک پرائمری سکول میں ٹیچر ہیں ۔میں نے دوست سے پوچھا کہ اس کے   والد دکھائی نہیں دے رہے ، اکثر غیر حاضر رہتے  ہیں  تو اس نے کہا ، ’’ بھئی! وہ آپ کی خدمت کے لئے گھومتے  پھر تے  ہیں ‘‘ ۔ وہ سکول کے بچوں کو چھوڑ کر تھانے کچہری اور سیاسی اجتماعات میں گھومتے پھرتے ہماری خدمت کر رہے ہیں او ر حکومت سے تنخواہ سکول کے بچوں کے سر پر لیتے ہیں ۔ ان تمام حضرات سے گزارش ہے کہ لوگ آپ کی خدمات سے تنگ آچکے ہیں ،آپ دفتری اور انتظامی کاموں میں عمل دخل چھوڑ کر اپنے کام سے کام رکھیں یہ آپ کے لئے بہتر ہوگا۔ اور حکومت سے درخواست ہے کہ دفتری اور انتظامی کاموں میں عمل دخل کرنے والے لوگوں پر دفتری اور انتظامی جگہوں میں پابندی لگا دے اور کسی عمل دخل کرنے کی صورت میں دخل  اندازی کرنے والوں کے ساتھ ساتھ متعلقہ انتظامیہ کے خلاف عملی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ لوگ ان پلید کاموں کو ذریعہ معاش بنانا چھوڑ دیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *