جنسیت:ارتقا کا پیچیدہ ترین پہلو۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

جب ہم ارتقائی حیاتیات کو زیر بحث لاتے ہیں تو سب سے پیچیدہ سوال جو ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک ہی نوع کی دو مختلف جنسیں؛ نر اور مادہ کیسے پیدا ہو گئیں؟ کچھ گرہوں کی رائے کے مطابق ارتقائی سائنس کی تھیوری “نیچرل سلیکشن” کی مدد سے دو مختلف جنسوں کی پیدائش کے عمل کو سمجھنا شاید ممکن نہیں ہے. ابتدائی جاندار ایک ہی جسم سے پیدا ہوتے تھے، جس کیلئے ایک نر اور ایک مادہ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی. کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ابھی تک ارتقائی حیاتیات اِس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ جانداروں کو نسل کی بڑھوتری کیلئے دو مختلف جنسوں کی ضرورت کب اور کیوں پیش آئی؟ غیرجنسی تولید کی نسبت جنسی تولید پیچیدہ اور مشکل عمل ہے، پھر آخر جاندار اِس عمل کی طرف کیونکر راغب ہوئے؟ نظریہ ارتقاء کے حامی سمجھتے ہیں کہ ہر چیز کا ایک مادی جواز موجود ہوتا ہے تو اِس سوال کا بھی جواب ملنا چاہیے. کیا جنس کی پیدائش ایک تاریخی حادثہ ہے یا پھر خدائی تخلیق؟
حیاتیات بتاتی ہے کہ Amoebas سے جسیمے، پھر ایمپحئبیانس، رینگنے والے جانور، ستنداریوں، اور بالآخر انسانوں کو جنم ملا. لیکن اس کے باوجود نر اور مادہ کیسے پیدا ہوئے ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا. انڈے اور نطفے کے آغاز کہاں سے ہوا؟ گراہم بیل اپنی مشہور تصنیف The Masterpiece of Nature: The Evolution of Genetics and Sexuality میں لکھتا ہے کہ:
“جنسی تفریق ارتقائی حیاتیات میں مسائل کی رانی ہے. شاید ہی کوئی دوسرا قدرتی رجحان اتنی توجہ حاصل کرے؛ یقینی طور پر ایک ہی نوع کے جانداروں میں جنسی تفریق نے بہت الجھن پیدا کی ہے. بہت سارے راز روشن کرنے والے ماہرین جن میں ڈارون اور مینڈل کی بصیرت بھی شامل ہے، جنسیت کے مرکزی اسرار پر ایک دھیما اور متزلزل تبصرے کے علاوہ ناکام رہے ہیں.”
ارتقائی حیاتیات کے کچھ ماہرین کھلم کھلا اقرار کرتے ہیں کہ جنسیت کے آغاز اور جنسی عمل تولید کا اسرار آج بھی حیاتیات کے میدان میں پیچیدہ ترین اور مشکل ترین سوال ہے. ارتقائی حیاتیات کے ماہرین سب سے زیادہ اسی سوال سے چِڑتے ہیں. غیرجنسی عمل تولید کی نسبت جنسی عمل تولید زیادہ توانائی مانگتا ہے اور زیادہ مشکل و پیچیدہ عمل بھی ہے، آخر جاندار ایک آسان عمل سے پیچیدہ عمل کی طرف کیوں گیا؟ ماہرین زچ ہو جاتے ہیں اور خاموش بھی.
لین مارگولیس اور ڈورین ساگان کے مطابق مینڈیلین وراثت اور جنسیت ایک تاریخی حادثے کے سوا کچھ بھی نہیں. اُنکے مطابق نر اور مادہ کی تفریق اور آغاز جیسے غیر سائنسی سوالات شعوری بددیانتی اور الجھن پیدا کرنے کا بہانہ ہیں. مارک ریڈلے کا کہنا ہے کہ جنسی عمل تولید کے یقیناً بیش بہا فوائد ہونگے، لہذا جنسی تفریق ہر جاندار میں ہوتی ہے مگر کچھ جانداروں نے اُس کا اظہار ہی نہیں کیا، خصوصاً یک خلیاتی جانداروں کی اُن فوائد کی طرف توجہ ہی نہ گئی. سر جان میڈکس جو کہ ایک مشہور و معروف سائنسدان تھے اور جو عالمی شہرت یافتہ سائنسی جریدے “نیچر” کے پچیس سال سے زاید عرصہ ایڈیٹر بھی رہے نے What Remains to be Discovered کے عنوان سے ایک شاندار کتاب لکھی. اُس کتاب میں انہوں نے لکھا کہ:
“جنسی تفریق کب اور کیسے وجود میں آئی؟ یہ ایک مقدم ترین سوال ہے. دہائیوں پہ مبنی قیاس آرائیوں کے باوجود ہم اس مسئلے کے حقیقی جواب سے ناواقف ہیں. مشکل یہ ہے کہ جنسی عمل تولید ہی کی وجہ سے تو جینوم کی پیچیدگی پیدا ہوتی ہے اور نر و مادہ کے علیحدہ علیحدہ گیمیٹ (جنسی مادہ جات) کی پیداوار کے ایک علیحدہ میکنزم کی ضرورت پیش آتی ہے. خاص طور پہ جنسی اعضاء کی دستیابی اور جنسی عمل تولید کے لیے استحالاتی قیمت بہت زیادہ ہے. جبکہ دوسری طرف جنسی عمل تولید کے فوائد واضح نہیں ہیں.”
اب جنسیت کے ارتقاء سے زیادہ جس سوال پہ زور دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ آخر جانداروں نے جنسی عمل تولید کو ہی کیوں اپنا لیا ہے؟ اور ایک لمبے عرصے سے اِسی جنسی عمل تولید پہ ہی کیوں توقف کر رکھا ہے. حالانکہ غیر جنسی عمل تولید زیادہ آسان اور تیز رفتار ہوتا ہے. یقیناً عمومی خیال تو یہی ہے کہ جاندار نسبتاً ایک آسان عمل اور کم توانائی کی مانگ والے عمل کی طرف راغب ہونگے مگر یہ معاملہ الٹ ہے. اس کی توجیہہ کیا ہو سکتی ہے؟ چونکہ جنسیت کے ماخذ کے حوالے سے پیش کردہ مفروضوں کو تجرباتی طور پر پرکھنا ممکن نہیں لہذا تمام توجہ اِس طرف مبذول ہے کہ جانداروں نے جنسی عمل تولید کو ہی کیوں اپنا رکھا ہے؟
مگر کچھ گروہوں اور ماہرین نے اس معاملے کو تفصیل سے زیرِ بحث رکھا ہوا ہے. ایرامَس ڈارون، اوگسٹ وائزمین، چارلس ڈارون، ولیم ڈونلڈ ہملٹن، الیکسے کونڈراشوف، جارج کرسٹوفر ولیم وغیرہ اِس موضوع پر تحقیقات کرنے والوں میں سے ہیں. اوگسٹ وائزمین نے 1889ء میں جنسیت کی ارتقاء کی وضاحت پیش کی کہ اولاد یا نئی نسل کے درمیان تنوع کی ضرورت ہی جنسیت کا سبب ہے. غیرجنسی عمل تولید کے سبب ہمیشہ اولاد اپنے جَد کی ہوبہو نقل ہوتی ہے. لہذا زندگی کی بقا کیلئے  لازم ہے کہ اولاد میں معیاری تبدیلیاں وقوع پذیر ہوں. یہی موقف 1930ء میں فِشر اور 1932ء میں مُلر نے بیان کیا تھا. اور پھر حال ہی میں آسٹن بَرٹ نے 2000ء میں اس کا خلاصہ بیان کیا.
جارج کرسٹوفر ولیم نے کائن کے درخت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ درختوں کے بیچ خالی جگہیں ہر ایک درخت کو بڑھوتری کا موقع دیتی ہیں. ایک درخت کی موت کی وجہ سے پیدا ہونے والی خالی جگہ کو پُر کرنے کیلئے دوسرے درختوں کے بیجوں میں مقابلہ ہوتا ہے. اِس مقابلے میں فتح کا انحصار بیج کی جینوٹائپ (جینیاتی وضع قطع) پہ ہوتا ہے. لیکن جَدی درخت کو اندازہ نہیں ہوتا کہ کونسا بیج جنیاتی طور پہ طاقتور ہے، لہذا وہ درخت ایک سے زیادہ بیج گراتا ہے. چارلس ڈارون کا tangled bank hypothesis بھی اِسی قسم کی وضاحت کرتا ہے.
مائیکل گزیلین 1974ء میں اپنی تصنیف The Economy of Nature and the Evolution of Sex میں رائے دیتا ہے کہ ایک ہی نوع کے ہوبہو ایک جیسے جاندار کی نسبت ایک ہی نوع کے مختلف جاندار اپنے ماحول سے زیادہ خوراک حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، کیونکہ ایک ہی نوع کے مختلف جاندار مختلف طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں. میک گل یونیورسٹی کا ماہرِ حیاتیات گراہم بیل بھی اِسی مفروضے کا حامی تھا.
یہاں یہ بات سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ جانداروں کو اپنے اپنے ماحول میں کامیابی سے اپنی بقا برقرار رکھنے مقدار کے ساتھ ساتھ معیار کی ضرورت پڑتی ہے. اِس معیاری تبدیلی کی جدوجہد نے ہی جانداروں کو غیرجنسی عمل تولید سے جنسی عمل تولید کی طرف راغب کیا کیونکہ ایک ہی نوع کے جانداروں میں معیاری تبدیلی غیرجنسی عمل تولید سے ممکن نہیں تھی. فوسل ریکارڈز کی جانچ سے معلوم پڑتا ہے کہ جانداروں میں جنسی عمل تولید کا آغاز آج سے سوا ارب سال پہلے ہوا تھا.
وائرل یوکیریوجینسس، نیومورن ریولیوشن، کینابلزم تھیوری، سلفش ڈی این اے تھیوری، لبرٹائن ببل تھیوری اور ڈیٹرمینسٹک میوٹیشن تھیوری سمیت کئی دوسرے علمی کام اِس معاملے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں. مگر جانداروں میں معیاری جینیاتی تبدیلیوں کی خواہش/ضرورت والی تھیوری سب سے زیادہ اہم تصور کی جاتی ہے.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *