حسنِ صورت۔۔۔۔مرزا مدثر نواز

ایک شخص اصلاح نفس کی خواہش رکھتا تھا‘ وہ اس غرض سے ایک شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ شیخ نے اسے کچھ اور وظائف پڑھنے کی تاکید کی اور اس نے اس پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ شیخ کے گھر سے ایک خادمہ کھانا لایا کرتی تھی۔ چند دنوں بعد اصلاح نفس کا خواہشمند شخص اس خادمہ کے عشق میں مبتلا ہو گیا تھا۔ خادمہ نے سارا معاملہ شیخ کو جا کر بتا دیا۔ شیخ نے یہ بات سنی اور خاموش ہو گئے‘ پھر اپنے معبود سے دعا مانگی کہ وہی رہنمائی فرمائے تو بات بنتی ہے۔ شیخ نے چند دنوں بعد خادمہ کو اسہال کی دوا دی اور ساتھ ہی یہ کہا کہ دوا سے جتنے دست آئیں ‘ برتن میں جمع کر لینا۔ وہ اب بہت کمزور ہو گئی تھی‘ چہرہ پیلا پڑگیا تھا اور وہی حسین چہرہ جو کسی کو اس کے عشق میں مبتلا کر گیا تھا اب ساری دلکشی کھو بیٹھا تھا۔ شیخ نے خادمہ سے کہا کہ کھانا لے جاؤ اور خود قریب ہی چھپ کر کھڑے ہو گئے۔ عاشق نے محبوبہ کو اس حالت میں دیکھا تو منہ موڑ لیا اور کھانا ایک طرف رکھ کر خادمہ کو چلے جانے کا کہا۔ شیخ فوراََ سامنے آ گئے اور فرمایا: اے بیوقوف انسان! آج اس خادمہ سے یوں منہ موڑ لینے کی وجہ تو بتا؟ اس کے حسن و جمال میں سے کیا شے گم ہو گئی ہے کہ تیرا عشق اور تیرے عشق کی ساری گرمی سرد پڑ گئی‘ پھر اس برتن کا ڈھکن اٹھا کر اسے وہ بول و بزار دکھایا جس کے خارج ہونے سے یہ ساری صورت حال بنی تھی۔(حکایتِ رومیؒ )
حاصلِ حکایت یہ ہے کہ انسانی جسم کا حسن و جمال عارضی ہوتا ہے جو کسی بھی وقت چھن سکتا ہے۔ اس دار الفناء میں بظاہر خوشنما و دلکش نظر آنے والے رشتے‘ اشیاء‘ مخلوق یا ان کی خصوصیات اپنی فطرت میں دائمی نہیں ہیں‘ زندہ رہنے والوں کے لیے اس میں سبق اور نشانیاں ہیں کہ یہ دنیا اور اس سے جڑی خوبصورتیاں عارضی ہیں‘ اپنی جان سے زیادہ چاہنے والے ماں باپ ایک دن اکیلا چھوڑ کر کسی اور جہاں چلے جائیں گے‘ ایک ہی گھر میں پروان چڑھنے والے بہن بھائی آہستہ آہستہ دور ہو جائیں گے‘ دوستیاں پالنے اور یار باش بننے کا تمہیں بہت شوق تھا اور جن کے ساتھ تم کھیل کود اور دوسرے مشاغل میں سب سے زیادہ وقت گزارتے تھے وہ آج ڈھونڈنے سے نہیں  ملتے‘ الوداعی پارٹی میں بڑے بڑے بول بولنے والے اور جوش خطابت میں زمین و آسماں کے قلابے ملانے والے کبھی تم سے ملنے اور خیریت پوچھنے کے لیے وقت نہیں نکال پائیں گے‘ حسن و جوانی قصہ ماضی بن جائیں گے‘
؂سدا نہ باغیں بلبل بولے‘ سدا نہ موج بہاراں
سدا نہ ماپے‘ حسن‘ جوانی‘ سدا نہ صحبت یاراں
وہ حسین چہرے جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لوگ پاگل ہوئے پھرتے ہیں‘ ایک دن ایسے ڈھل جاتے ہیں کہ دیکھنے والابے اختیار کہہ اٹھتا ہے‘
؂زمانہ کس قدر پامال کر دیتا ہے انساں کو
ہمارے دور کے بہروپ پہچانے نہیں جاتے
آج ہم نے خوبصورتی کا معیار صرف اور صرف ظاہری شکل و صورت کو بنا لیا ہے اور اسی کے پیچھے پاگل ہوئے پھرتے ہیں جبکہ اصل خوبصورتی اندر کی ہے یعنی اچھی تربیت‘ بہترین اخلاق‘ دینداری اور نیک سیرت ۔ خوبصورت لوگ ہمیشہ اچھے نہیں ہوتے لیکن اچھے لوگ ہمیشہ خوبصورت ہوتے ہیں۔ کاسمیٹکس آج دنیا کی مہنگی ترین اور منافع بخش صنعت بن چکی ہے۔ حسن و جمال جو کہ سراسر عارضی اور عنقریب ڈھل جانے والی چیز ہے اس کو سنوارنے میں لگے ہیں جبکہ مستقل اور دائمی نفع بخش چیز کو نظر انداز کیے ہوئے ہیں‘
؂حسن صورت ہے عارضی‘ حسن سیرت ہے مستقل
اِس سے خوش ہوتی ہیں آنکھیں‘ اُس سے خوش ہوتا ہے دل
بظاہر حسین و جمال چہرے بعض اوقات اندر سے اتنے کالے اور بد صورت ہوتے ہیں کہ اقبال کو یہ کہنا پڑتا ہے‘
؂خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے‘ سلطانی بھی عیاری
اس کے برعکس رنگ کے کالے اور خوش شکل دکھائی نہ دینے والے چہرے اکثر اوقات اندر سے اتنے حسین اور پیارے ہوتے ہیں کہ سیدّ کائنات ﷺ نے معراج سے واپسی پر کہا کہ بلالؓ کیا نیکیاں کرتے رہتے ہو‘ میں نے تمہارے چلنے کی آواز جنت میں اپنے آگے آگے سنی ہے۔ میرے مرشد نے مختلف موقعوں پر نیک سیرت کے بارے میں اس طرح فرمایا ہو گا کہ
’’بے شک نیک سیرت اور مناسب وقار و نمکنت اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے۔ (مسند احمد، 9566)‘‘
’’دو خوبیاں منافق میں جمع نہیں ہو سکتیں‘ عمدہ سیرت اور دین کی سمجھ بوجھ۔ (السلسلتہ الصحیہ،۱۱۱)‘‘
’’سب سے وزنی چیز جو قیامت کے دن مومن کے میزان میں رکھی جائے گی وہ اس کا حسن اخلاق ہو گا‘‘
لہٰذا ہمیں خوبصورتی کا معیار عارضی حسن و جمال کی بجائے نیک سیرت کو ماننا چاہیے اور اپنی ظاہری شکل و صورت کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ زیادہ محنت ایک اچھا انسان بننے کے لیے اپنی سیرت کو خوبصورت بنانے کے لیے کرنی چاہیے تا کہ دونوں جہاں میں فلاح و کامیابی ہمارا مقدر بنے۔
؂دل کالے کولوں منہ کالا چنگا‘ جے کوئی اس نوں جانے ہُو
منہ کالا دل اچھا ہووے‘ تاں دل یار پچھانے ہُو۔

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *