خنزیر کے سال سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے؟

دنیا بھر میں مختلف برادریاں قمری سال کے اعتبار سے نئے سال کا جشن منانے کے لیے پرجوش ہیں۔ اس بار چینی نجومیوں کے مطابق یہ اہم سال ہے کیونکہ اس سال کا جانور خنزیر ہے اور اس قمری سال نو کا مطلب یہ ہے کہ اس سے متعلق جانور آرائش، کھلونوں، اشتہار، تحفے تحائف کی اشیا غرض کہ ہر جگہ نظر آ سکتا ہے۔

لیکن چینی منقطع البروج یا راس چکر (زوڈییک) کے کلینڈر کا آخری جانور خنزیر مسلمانوں کے نزدیک نجس اور حرام ہے۔ ایسے میں کیا جنوب مشرقی ایشیا کے مسلم اکثریتی ممالک میں اس قمری سال کے جشن سے کوئی مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے؟

بہت سے چینی ملائیشیائی خاندانوں کی طرح چاؤ خاندان کے لیے بھی قمری سال اچھی تجارت کا موقع تصور کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان ملائیشیا کے علاقے جوہر کے خوابیدہ شہر باٹو پاہٹ میں رہائش پزیر ہے۔
چاؤ یون کے لیے یہ سال انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ان کی اہلیہ سٹیلا اور بیٹی کی پیدائش اسی جانور والے راس چکر میں ہوئی تھی۔
ایک مقامی بسکٹ فیکٹری میں فلور منیجر کے عہدے پر فائز چاؤ کہتے ہیں: ‘ہم اپنا گھر خنزیر کے زیورات سے سجائيں گے اور ہمارے رشتہ دار، دوست اور پڑوسی ہمارے گھر آئیں گے خواہ وہ کسی بھی نسل یا مذہب کے کیوں نہ ہوں۔ جشن تو سبھی کے لیے ہے۔’

وہ اس بات سے بے فکر ہیں کہ ان کا جشن منانا ان کے ساتھیوں کو برا لگ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیا سال متنازع فیہ نہیں ہے۔
گذشتہ سال کے جشن کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ وہ سال کتے کے ساتھ منسوب تھا اور اس پر خاصا ہنگامہ ہوا تھا۔
ملائیشیا ایک کثیر ثقافتی ملک ہے لیکن وہاں سرکاری مذہب اسلام ہے۔ حال میں وہاں سے ایسی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں کہ مسلمانوں کی بے عزتی سے متعلق سرگرمیوں کی وجہ سے اس ملک میں عدم برداشت میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی لیے بہت سے دکانداروں نے مسلمانوں کی ناراضگی کے خوف سے کتوں کی تصاویر استعمال نہیں کی تھی۔
لیکن چاؤ کا خیال ہے کہ چھٹی کا جشن منانے والی چینی برادریوں سے مقامی انتظامیہ درگزر کرتی رہی ہے۔
وہ کہتے ہیں: ‘ملائیشیا مختلف نسلوں کے لوگوں سے مل کر بنا ہے۔ یہاں صرف ملائی مسلمان نہیں ہیں۔ یہاں چینی اور ہندوستانی برادریاں بھی ہیں۔ مسلمان کے ساتھ ہی مسیحی، ہندو، تاؤ اور بدھ مت جیسے مذہب بھی ہیں۔ اس لیے ہمیں ایک دوسرے کے جذبات اور جشن کا احترام کرنا چاہیے۔’

تاہم انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ سینسر شپ کا جذبہ اس خنزیر کے سال میں بھی جاری رہے گا۔
چینی نجومیوں کے مطابق، ہر جانور کی اپنی خاصیت اور ان کا اپنا کردار ہے۔ خنزیر کے سال میں پیدا ہونے والے افراد کو ذہین، رحم دل اور وفادار سمجھا جاتا ہے۔
کیا کسی راس چکر کے جانور کا استقبال نہیں کرنے سے کوئی فرق پڑتا ہے؟
اس سوال پر کوالالمپور میں چینی علم نجوم کے ماہر نجومی جوئے یاپ نے کہا: ‘اس کے متعلق فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔’
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پچھلے سال کے مقابلے میں اس بار ملائیشیا میں نئے سال کی تقریبات پر کوئی حساسیت نہیں دیکھی جا رہی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کسی چیز کی نمائش کر رہے ہیں یا نہیں کیونکہ اس سے کسی کی قسمت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔
وہ کہتے ہیں: ‘رنگ، علامتیں۔۔۔ یہ سب اہم نہیں ہیں۔ دراصل آپ کے عمل اور محنت سے قسمت چمکتی ہے اس لیے مثبت رہنا چاہیے۔’
سب سے زیادہ مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا میں اس قمری سال کی ابتدا کے موقعے پر تعطیل رہتی ہے۔ اس موقعے پر عوامی سطح پر کئی شہروں میں جشن منایا جاتا ہے، جس میں رنگا رنگ تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔
دارالحکومت جکارتہ کی میری اولیویا کہتی ہیں کہ ان کے مسلم دوستوں نے خنزیر کی تصاویر کا خیر مقدم کیا ہے۔
وہ کہتی ہیں: ‘میں انڈونیشیائی مسلمانوں کے ساتھ پلی بڑھی ہوں، اس لیے میں جانتی ہوں کہ خنزیر پر انھیں تشویش نہیں ہوتی۔’
وہ کہتی ہیں کہ یہ جانور کسی اور دوسرے جانور سے زیادہ ‘خوش’ نظر آتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ‘اگر آپ اس کا سانپ سے موازنہ کریں تو خنزیر بہت پیارے لگتے ہیں۔ اس لیے لوگ اس کی شکل کی سجاوٹ کی اشیا خریدتے ہیں اور اس سے گھر سجاتے ہیں۔’
بیکری کا کاروبار کرنے والی ویلیریا ریٹا نئے سال کے لیے مخصوص مٹھائی بنا رہی ہیں، جن میں خنزیر کی شکل کے بسکٹ شامل ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ‘سنترا لونر نیو ایئر کی مشہور علامت ہے۔ اس سال ہم نے خنزیر کی شکل کی مٹھائیاں بنانے کا فیصلہ کیا اور پری آرڈر کا کوٹہ دو ہفتوں میں ہی مکمل ہو گیا۔’
ان کے بہت سے گاہک مسلمان ہیں۔
وہ کہتی ہیں: ‘وہ اس کا جشن منانے والے اپنے چینی ساتھیوں اور دوستوں کے لیے میرے بسکٹ خریدتے ہیں۔ کئیوں نے اپنے لیے بھی آرڈر دیا ہے کیونکہ انھیں خنزیر پسند ہے۔’
انھوں نے اپنے ایک مسلم دوست کی جانب سے بھیجا گیا ایک پیغام کا مشترک کیا جس میں لکھا گیا تھا: ‘میری یہ مٹھائیاں پہلے ایسے خنزیر ہیں جنھیں مسلمانوں کو کھانے کی اجازت ہے۔’
بہر حال بعض لوگوں کے خیالات مختلف ہیں۔ ان میں 24 سالہ رنگا سستراجايا بھی شامل ہیں۔ وہ بوگور شہر میں رہتے ہیں۔ انھوں نے خنزیر کی شکل والے کھلونے اور دوسری اشیا خریدی ہیں لیکن وہ ان کا سرعام مظاہر کرنے سے پرہیز کر رہے ہیں۔

انھیں خدشہ ہے کہ اس سے دوسرے کے جذبات مجروح نہ ہوں۔ ان کے خیال میں ابھی تک بہت سے لوگ ثقافتی تنوع کو قبول نہیں کر سکے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ‘میں خود خنزیر کی تصاویر والی قمیض پہن سکتا ہوں یا گھر میں اس کی آرائش کر سکتا ہوں لیکن میں انھیں عوامی سطح پر ظاہر کرنے میں احتیاط برتوں گا کیونکہ میں کسی کے جذبات کو مجروح نہیں کرنا چاہتا۔’

کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس جشن پر تنقید کرتے ہیں۔ فورم مسلم بوگور (ایف ایم بي) مغربی جاوا کی ایک بنیاد پرست اسلامی تنظیم ہے جس نے جشن سے پرہیز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے۔
تنظیم نے کہا ہے کہ یہ مسلمانوں کے لیے ‘غیر مناسب’ ہے کیونکہ یہ ‘اسلامی عقیدے کو کمزور کر سکتا ہے۔’
ان کے اس پیغام کی پی پی اور پی ایف کے پی ایم جیسی تنظیمیں حمایت کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں نے چینی سماج میں پہلے بھی اس طرح کے جشن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
2017 میں چینی نژاد عیسائی جکارتہ کے گورنر باسكي چهاجا پرناما کو اسلام کی مذمت کے خلاف جیل بھیجا گیا تھا۔
انڈونیشین انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز کی تجزیہ نگار تھنگ جو-لان اس طرح کے اظہار کو ‘غیر روادار سیاسی تشریح’ کا نتیجہ بتاتی ہیں۔ اسی قسم کی بعض تشریح و تعبیر نے دو سال قبل جکارتہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

دو سال پہلے انڈونیشیا میں چینی نسل کے سابق گورنر باسكي ‘اہوک’ جہاجا پرناما کے خلاف شدید احتجاج ہوئے تھے۔ مسیحی نظریات کے حامل اہوک کو توہین مذہب کا مجرم کہا گیا، ان پر مقدمہ چلا۔ اس مقدمے کو انڈونیشیا میں مذہبی رواداری کے امتحان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

جو-لان نے بی بی سی کو بتایا: ‘اہوک کے معاملے میں جو ہوا وہ انڈونیشیا میں ہونے والے گورنر کے انتخابات کا اثر تھا۔ اس کے بعد سے آج تک اسی طرح کے جذبات مشتعل کیے جا رہے ہیں۔ عدم رواداری کا مسئلہ اس وجہ جاری ہے کیونکہ ہمیں اصل میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی بہت ہی تنگ سمجھ ہے۔ ہم جتنا کم سمجھتے ہیں اتنے ہی زیادہ ہی مشتعل ہوتے ہیں۔’

قمری نئے سال کے جشن کے بارے میں بہت سے انڈونیشیائی مسلمانوں کا خیال ہے کہ یہ ‘ثقافتی سے زیادہ مذہبی’ ہے۔
تاہم انڈونیشیا کے ایک لیڈر نے چینی کمیونٹی کے حق میں بیان دیا ہے۔ مذہبی امور کے وزیر لقمان حاکم سیف الدین مختلف تہذیبی پس منظر، مذاہب اور روایات کو ماننے والے لوگوں کے عقائد کو فروغ دیتے ہیں۔ سیف الدین نے ان کے احترام کی بات کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا: ‘لوگ ایسے تہواروں کے بارے میں جو بھی سوچتے یا سمجھتے ہیں ان سے قطع نظر میں نے سب سے روایات کا احترام کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔

بشکریہhttp://bbc.aaj.tv

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *