ماں جیسی ریاست۔۔۔۔محمداقبال دیوان

دل چاہا سماجی ذمہ داریوں اور سوشل میڈیا کی طاقت پر ایک مضمون لکھیں۔چھوٹا سا اشاریہ مگر رویوں کا آئینہ دار۔
ایپل ایک بہت بڑا امریکی ادارہ ہے۔اس کا سرمایہ ایک ٹریلین ڈالر سے زائد۔ یہ دنیا کے 199 ممالک میں183 ملکوں کےGDP سے بڑا تخمینہ ہے
ہم آپ کو اعداد کی بھول بھلیوں میں گم نہیں کریں گے۔ یہ ضرور بتائیں گے کہ ایک ٹریلین میں بارہ زیرو ہوتے ہیں اور اگر آپ کے بینک اکاؤنٹ میں اتنی رقم ہو تو جہانگیر ترین اور علیم خان کی بجائے عمران خان آپ کے گھر اپنے منہ  سے ناشتے کی فرمائش کرکے آئیں گے جیسے جنرل ضیا الحق میمن سیٹھ رزاق داؤد کے چچا احمد صدیق داؤد کے گھر باوردی درست آتے تھے ۔ وہ داؤد گروپ کے بانی اور بائیس خاندانوں میں سر فہرست تھے۔اینگرو اور داؤد ہرکیولس انہیں کی کمپنیاں ہیں۔
اتنی رقم دیکھنے میں کتنی ہوتی ہے اس کے لیے ہم نے تصویر لگادی ہے ۔آپ پہلے رقم اور بعد میں ناشتے کا بندوبست کریں۔عمران خان کو لانا ہمارا ذمہ۔
رقم نہ بھی جمع ہو ، وزیر اعظم عمران خان نہ بھی آئیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا
اولاد تو آپ کی اپنی ہے ۔سب سے بڑا کیپٹل انوسٹمنٹ ،ہیومن کیپٹل ہوتا ہے۔ آپ اور آپ کے بچے اچھے ہوں گے تو دنیا میں اندھیرا کم ہوجائے گا۔

بارہ زیرو والا ٹریلین
احمدصدیق داؤد مرحوم
سیٹھ احمد صدیق داؤد کے صاحب زادے اور موجودہ چئرمین حسین داؤد

ہماری آپ سے بہرحال استدعا ہے کہ بچوں کو Mental Arithmetic اور Languages میں مشاق بنائیں۔ یہ دونوں مضامین Brain Developers ہیں انہیں پریوں جنوں کی کہانیاں سنائیں۔وہ کہانیاں جو ان کے تخئیل کو جلا بخشیں۔ رات کو جاوید چوہدی ،  عاصمہ  شیرازی کے بے ضمیر بیانیوں سے لدے پروگرام یا سونی ٹی وی پر ایکتا کپور کا بنایا ہوا سیریل دیکھنے کی بجائے انہیں کہانیاں سنائیں۔ایسی ہی فضول کہانیوں کو لکھ کر ہیری پوٹر کی خالق جیکی رولنگ پچھلے سال دنیا کی امیر ترین مصنف بن گئی ۔ اس کی نیٹ ورتھ ایک بلین ڈالرہے۔یہ کہانیاں وہ اپنی بیٹی کو طلاق کے بعد اپنی اور اس کی دل جوئی کے لیے سناتی تھی۔اپنے نفسیاتی معالج کے مشورے پر بعد میں اس نے انہیں بطور تھیراپی کے لکھنا شروع کردیا اور پھر مڑ کر نہیں دیکھا۔ایسی ہی ایک کمپنی ایپل کو ان دنوں ماں جیسی ریاست امریکہ نے ناک میں دھیرے سےگندھک کے تیزاب کے قطرے ٹپکا دیے ہیں پچھلے دنوں انہوں نے فیس بک اور گوگل والوں کو بھی  ان کی سینٹ کی کمیٹیوں نے نتھ ڈال رکھی تھی۔ وقتی شہرت اور کچلی ہوئی آبائی انا کے چکر میں لیے گئے ہمارے ہان کے جعلی سو وموٹو نوٹس کے بغیر۔

tripako tours pakistan
ہیری پورٹر کی مصنفہ جیکی رولنگ

اس   دھما چوکڑی میں جو امریکہ کے آنگن میں مچی ہے قسمت کا دخل انفرادی سطح پر اور ماں کاغصہ بھی ہے۔ میں اداروں پر اعتماد آپ کے ردعمل کو محتاط اور قانون کے دائرے میں رکھتا ہے ۔ ادارے ہی اداروں کی خبر لیتے ہیں،ایوانکا ٹرمپ کو سپاہی سڑک پر روک لے  تو اس کا پاک پتن کے گوندل ایس پی والا نمکین گجریلہ نہیں بنے گا،کوئی نہلا دہلا ایلا میلا وزیر کسی ڈاکٹر تو کیا نرس کو اپنی مرضی سے وارڈ نہیں بدلواسکتا۔یہ بدنصیبی پاکستان کا ہی آئین جوان مرداں ہے،طاقت کی بجائے دانائی کو فروغ ملتا ہے۔امریکہ سے زیادہ اپنے قانون اور ادارے پر اعتماد ہم نے دنیا میں کہیں اور نہیں دیکھا۔اسی لیے ہم کہتے ہیں پاکستانی کی بقا اور بہتری امریکی آئین کا حرف بہ حرف  ماڈل اپنانے بس ریاست کا ہر قانون قرآن کا پابند ہوگا۔
پچاس لاکھ کی آبادی کے چالیس صوبے، سینٹ ڈائریکٹ ووٹ سے،صدراتی نظام، ہر بڑا تقرر سینٹ کی متعلقہ کمیٹی کی منظوری سے۔ اس منظوری کی براہ راست کاروائی ٹی وی پر۔ سارا  پاکستان دیکھے کہ ان کے جج گورنر، باقی چیف کیسے ہیں ۔ صدر پارلیمنٹ کو جواب دہ۔
Grant Thompson کی خوش بختی آئی ۔کل چودہ برس کے ہیں ایری زونا امریکہ میں رہتے ہیں۔انہیں لگا کہ آئی فون پر جوگروپ چیٹ کا آپشن ہے اس میں ان کے کسی دوست کا مائیک ان کی جانب بھیجی گئی درخواست کی منظوری سے پہلے ہی آن ہوگیا۔امریکی قانون میں یہ جرم یوں بنتا ہے کہ وہ اسےeavesdrop on a recipient کے زمرے میں شامل کرتے ہیں۔ یعنی بلااجازت کسی کے معاملات میں دخل اندازی۔
19 جنوری کو گرانٹ نے اپنی والدہ مشعل کو جب یہ دشواری بتائی تو اس نے شوشل میڈیا پر اودھم مچانے کے علاوہ خود ایپل کو بھی ای میل بھیجی مگر معاملہ سانحہء ساہیوال پر وہی سی ایم بزدار اور وزیر اعظم صاحبان والا رہا۔بس یہ نہیں کہا کہ چودہ سالہ گرانٹ تھامسن دہشت گرد ہے اور موت کا حق دار ہے۔

گرانٹ تھامسن اور والدہ مشعل
گرانٹ تھامسن اور والدہ مشعل

ایپل نے کہاں سننا تھا۔یہ حرکت ضرور کی کہ Group FaceTime کی سہولت بلاک کردی۔
ایک ہفتے بعد یہ خبر 9to5Macچینل نے چلائی تو ایپل کو لگا کہ سونامی آنے کو ہے۔اس کا اندازہ یوں ہوا کہ ایری زونا سے دور کی ریاست نیویارک کی اٹارنی جنرل Letitia James نے صارفین کی تسلی کے لیے تیس جنوری کو ٹوئیٹ کیا کہ ہم اس امر کی تفتیش کا آغاز کررہے ہیں کہ ایپل اپنے صارفین کو ان کی پرائیویسی کی رخنہ اندازی کے بارے میں بتانے سے کیوں قاصر رہا اور اس نے ایک صارف کو جواب دینے میں اتنے لیت و لعل سے کیوں کام لیا۔ نیویارک کا کوئی شہری اللہ نہ کرے اس مشکل کا شکار ہو کہ اس کی نجی گفتگو کے  ساتھ یہ کھلواڑ بھی کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے فوراًاپنے دفتر سے ایک ہاٹ لائن نمبر آن کیا 1-800-697-1220. کہ کسی اور کو بھی ایپل سے کوئی شکایت ہو تو ایتھے رکھ۔ واضح رہے کہ ان دونوں مقامات میں ہزاروں میل کا فاصلہ ہے۔ہمارے ہاں تو تھانے لاش کو ہاتھ نہیں لگاتے اگر Jurisdiction کا معاملہ ہو چاہے جوڑا مری کے بدمعاشوں کے ہاتھوں بوری بند لاش ہی کیوں نہ بن جائے۔جرم ہمارے علاقے میں نہیں تو فکر بھی نہیں۔

ایپل کی امدنی کا موازنہ ممالک سے
Letitia James
اٹارنی جنرل صاحبہ کا ٹویٹ

لیٹیٹا بی بی پہلی افریقی امریکی خاتون جو نیویارک کی اٹارنی جنرل بنی ہیں اور بطور New York City Public Advocate, ان کی بڑی شہرت ہے۔
اس ٹوئیٹ کا آنا تھا کہ ایپل، ملک ریاض کی طرح تھامسن فیملی کے قدموں میں بیٹھ گیا۔اس کے ایک اہم اور بڑے عہدے دار گرانٹ تھامپسن سے معافی مانگنے اور معاملات طے کرنے پہنچ  گئے۔معاملات ابھی عدالت میں نہیں گئے۔یہ الگ بات ہے کہ شاہد مسعود رہا ہوگئے اور ریاض ملک بھاگ لیے۔ایک پر سختی کی نظر تھی سو وظیفہ ریٹائرمنٹ پورا ہونے پر نظر بد کی طرح رد ہوئی دوسرے پر نرمی کی نظر تھی سو آنکھ میں کاجل کی سلائی کی طرح امیگریشن کاونٹر کی   آنکھ میں سرکار کے دست حنائی کی مدد سے پھر گئی۔۔ایپل والے بے چارے کہاں جاتے ۔کس بات کی کمی ہے خواجہ تری گلی میں،گھوڑا تیری گلی میں، نتھیا تیری گلی میں کہہ کر امریکہ میں ہی بسترے ڈال کر پڑے رہے۔
ایپل کے سربراہ ٹم کک اپنی ڈیواسئز کے حوالے سے اصرار کرتے ہیں کہ data protection میں وہ چمپئین ہیں۔ سو انہوں نے بھی یہ Security Glitch سامنے آنے پر اپنے متعلقہ عملے کا وہی حال کیا جو مہاراجہ رنجیت سنگھ تہاڈی پہن دی سری کہہ کر دوپہر بارہ بجے تنگ کرنے والوں کا کرتا تھا۔
ایپل کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ 200,000 ڈالر تک bug bounty دینے پر رضامند ہے جس سے تھامسن کا کالج کاخرچہ نکل آئے گا۔امریکہ میں اعلیٰ تعلیم مہنگی ہے اور صرف ذہین اور سنجیدہ افراد ہی کالج یونی ورسٹی کا رخ کرتے ہیں۔اسکول آپ کا حق ہے اور کالج آپ کا استحقاق یعنیprivilege ، استحقاق وہ اسپیشل حق ہوتا ہے جو سوسائٹی آپ کو محنت اور صلاحیت کے بل بوتے پر بطور تفاخر عطا کرتی ہے۔
عدالت میں جانے سے معاملہ گھمبیر ہوتا ہے۔پاکستان میں تو ہرجانے کا قانون اور مقدمہ دونوں ہی بہت دکھ کا سفر ہیں مگر باہر ایسا نہیں۔دنیا میں ماؤں کی پسندیدہ پراڈکٹ جانسن بے بی پاؤڈر بنانے والی کمپنی کو 4.7 بلین ڈالر 22 خواتین کوdamages bill میں دینے پڑگئے جب عدالت میں یہ بات ثابت ہوگئی کہtalc products . میںasbestos شامل ہے جو کینسر پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔آپ بھی مغربی ممالک کی ہر شے کو بے دھڑک نہ استعمال کیا کریں۔پانی کی بڑی کمپنیاں آپ کو شیخوپورہ میں جنرل ضیا الحق کے دور میں دودھ کے فارم قائم کرنے کے لیے دیے گئے پانی کی سپلائی سے اربوں روپے منرل واٹر کے نام پر بیچتی ہیں۔ان کو بوتل پانی بیچنے میں اتنا فائدہ ہوا کہ وہ دودھ کے دھندے کو لات مار کر اسی طرف لگ گئیں۔کراچی میں پانی ملے نہ ملے ایک بڑی بوتل مشروب کمپنی کو مین لائن سے پانی ملتا رہتا ہے۔امریکہ ہوتا تو معاہدوں کی خلاف ورزی پر ایسے ہرجانے ہوتے کہ  ان کے برتن بھی بک جاتے۔

Advertisements
merkit.pk
جانسن اینڈجانسن کا معتوب پاؤڈر

چھ سات ماہ قبل ایک انشورنش کمپنی نے دفتر کے ایک جمعدار کے اکاؤنٹ سے ماہانہ ادائیگی میں تاخیر پر ساری رقم جو چھپن ہزار بنتی تھی نکال لی۔ہم نے اسے انشورنس محتسب کے پاس بھجوایا تو نوٹس ملتے ہی کمپنی نے آدھی رقم واپس اکاؤنٹ میں جمع کرادی۔جمعدار کو سکھایا گیا کہ وہ یہ ثبوت لے کر کہ کمپنی ہذا نے اس کے اکاؤنٹ میں آدھی رقم واپس جمع کرائی ہے۔محتسب صاحب کے سامنے اعلان کرے کہ وہ بینکنگ محتسب اور پرو بونو(مفتی وکیل) کے ذریعے بینک کے سربراہ اور انشورنس کمپنی پر دس لاکھ کا دعوی کرے گا ۔ان کے پاس معاہدے کی رو سے اس کے اکاؤنٹ سے ماہانہ رقم بطور قسط یا اس کے مساوی رقم نکالنے کا تو اختیار ہے اس میں  رقم جمع کرانے کا نہ   کوئی معاہدہ نہ اختیار۔کوئی دہشت گرد اس طرح کی رقم جمع کرکے اس کو  یا اس کے بچوں کو اغوا کرکے   یہ رقم نکلواسکتا ہے۔کراچی میں مختصر مدت کے اغوا اس مقصد کے لیے عام ہیں۔
یہ ان دنوں سپریم کورٹ میں فیک اکاؤنٹ والے سمٹ بنک کے کیس سے پہلے کی بات ہے۔یہ سننا تھا کہا  نشورنش کمپنی کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور  اگلی پیشی پر معتبر بن کراسے پوری رقم لوٹا دی گئی۔
سپریم کورٹ اور ہمارے صاحب علم چیف جسٹس چاہیں تو بہت خاموشی سے ایک لاء ریفارم ریسرچ کمیٹی ریٹائرڈ ججوں کی سربراہی میں قائم کرسکتے ہیں جو اس طرح کے مقدمات پر اٹھنے والے نکات کے حوالے سے قانون میں تبدیلیاں کر سکتی ہے۔یہ ری فارم تجربے،حالات اور ضرورت کو سامنے رکھ کر کی جائیں گی اور اس میں دس فیصد فیس منہا ہوکر کمیٹی سیکرٹریٹ کا خرچہ چلے گا۔یقیناً ہرجانے ادائیگی اور معاہدوں کے کئی مقدمات ان دنوں زیر التوا ہوں گے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply