• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • تعاونوا علی البر و التقویٰ (ایک بھلایا جاچکا قرانی حکم)۔۔۔۔۔۔محمد احسن سمیع

تعاونوا علی البر و التقویٰ (ایک بھلایا جاچکا قرانی حکم)۔۔۔۔۔۔محمد احسن سمیع

چند روز قبل تحریک انصاف کے ایمانی غیرت سے سب سے زیادہ لبریز وزیر جناب علی محمد خان صاحب پارلیمان میں   روایتی نم آنکھوں کے ساتھ اپنی بے بسی بیان کرتے ہوئے سنائی دیئے کہ ہماری حکومت بیچاری کیا کرے، سعودی حکومت نے ہی مشترکہ حج اخراجات 1210 ریال فی کس سے بڑھا کر 1756 ریال کردی ہے، عمارتوں کے کرائے اتنے بڑھ گئے تو ٹرانسپورٹ کے اتنے، فلاں  ڈھماکانا وغیرہ وغیرہ۔ چلو سعودی حکومت کی فیس تو ایک طرف، کوئی ان افلاطونوں سے یہ پوچھے کہ  یہ جو کرایوں کی مد میں اضافوں کا رونا رو رہے ہیں، یہ خالص اضافہ ہے یا ایکسچینج ریٹ کے تغیر کا اثر ہے؟
پچھلے سال حج اسکیم کے اعلان کے وقت ڈالر کی قیمت لگ بھگ 115 روپے تھی۔ اس میں سے اگر اس وقت کے مشترکہ اخراجات منہا کر دیئے جائیں تو اس وقت کے ایکسچینج ریٹ کے حساب سے سرکاری حج اسکیم کی ڈالر ویلیو (سبسڈی ملا کر) تقریباً 2320 ڈالر فی کس بنتی تھی۔ رواں برس حج پالیسی کا جب اعلان ہوا تو ڈالر کی قیمت 139 روپے کے قریب ہے۔ سو اس حساب سے سرکاری اسکیم کے تحت حج اخراجات کا تخمینہ، مشترکہ حج اخراجات منہا کرکے 2320*139 کے حساب سے 322480 روپے کے قریب بننا چاہیئے تھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس کے تخمینے میں سبسڈی کے 23 ہزار روپے فی کس شامل ہیں جن کی بقول حکومتی وزرا کے یہ بھوکی ننگی قوم متحمل نہیں ہوسکتی۔ سو اگر ہم اس سال کے تخمینے میں مشترکہ حج اخراجات کے 1756 ریال (تقریباً 65 ہزار روپے) بھی شامل کرلیں تو کل لاگت 387480 روپے سے زیادہ نہیں بنتی۔ واضح رہے کہ اس تخمینے میں ایکسچینج ریٹ کا تغیر اور سعودی حکومت کی عائد کردہ اضافہ شدہ مشترکہ اخراجات فیس بھی شامل ہیں۔ جب دونوں مرکزی عوامل تخمینے میں شامل ہوگئے تو پھر کس حساب سے منہ اٹھا کر اوسط 4 لاکھ 31 ہزار کا بل عوام کو تھمایا جارہا ہے؟ چلیں ہم اس میں گزشتہ برس کے دوران سعودیہ میں ہوئی مہنگائی بھی شامل کرلیتے ہیں۔ پچھلے سال سعودی عرب میں مہنگائی کی اوسط شرح 2٫8 فیصد سالانہ رہی ہے۔ بقول حکومتی وزرا کے 70 فیصد سے زائد اخراجات سعودیہ میں ہوتے ہیں۔ تو مشترکہ اخراجات فیس منہا کرکے حاصل ہونے والے میزانیئے پر اگر اوسط 3 فیصد سالانہ مہنگائی کے حساب سے بھی اضافہ کی جائے تو کل اخراجات کا تخمینہ تقریباً 3 لاکھ 97 ہزار روپے فی کس بنتا ہے جبکہ حکومت آپ سے اوسط 4 لاکھ 31 ہزار روپے کا تقاضا کر رہی ہے۔ کوئی واضح کرے گا کہ یہ 34 ہزار روپے فی کس، جو (سرکاری اسکیم کے تحت جانے والے 110400 عازمین کے حساب سے) کل ملا کر تقریباً 3 ارب 75 کروڑ بنتے ہیں، کیوں اور کس مد میں طلب کئے جارہے ہیں؟
یہ تو رہا تصویر کا محض ایک رخ۔ مزید تفصیل ابھی باقی ہے۔ گزشتہ برس تقریباً پونے چار لکھ لوگوں نے درخواستیں جمع کروائیں تھی۔ ہم فرض کرلیتے ہیں کہ امسال “استطاعت” گھٹ جانے کی وجہ سے محض ساڑھے تین لاکھ لوگ ہی درخواست جمع کروا پائیں گے۔ کیونکہ آپ کو اخراجات کی کل رقم درخواست کے ساتھ ہی جمع کروانی پڑتی ہے, سو حاصل حصول یہ  کہ صرف حج درخواستوں کی مد میں حکومت اندازاً 163 ارب روپے جمع کرے گی۔ درخواستوں کی وصولی سے قرعہ اندازی تک تقریباً 1 مہینہ یہ پورا پیسہ بینکوں میں پڑا سود یا منافع (جو بھی کہہ لیں) کمائے گا۔ اس وقت کے ایک مہینے کے کائیبور کے حساب سے بھی اگر دیکھا جائے (جو 10٫62 ٖفیصد سالانہ ہے) تو اس رقم پر حکومت تقریباً 1٫4 ارب روپے منافع کمائے گی۔ قرعہ اندازی کے بعد ناکامیاب لوگوں کو پیسے واپس کردیئے جائیں گے، جبکہ کامیاب ہونے والے 110400 عازمین کا پیسہ تقریباً 4 مہینے مزید بنکوں میں پڑا رہے گا جو کہ تقریباً 47 ارب روپے بنتا ہے، اور کائیبور ریٹ کے حساب سے اس دوران حکومت اس رقم پر مزید 1٫6 ارب روپے منافع کمائے گی۔ سو کل ملا کر صرف حج درخواستوں سے ہی جمع کی گئی رقم پر حکومت تقریباً 3 ارب روپے منافع کمائے گی!
وازرت مذہبی امور نے کل 4 ارب روپے کی سبسڈی درخواست کی تھی، جسے وفاقی کابینہ نے بڑی رعونت کے ساتھ مسترد کردیا تھا! اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ 3 ارب، جو حجاج کرام کے پیسے سے ہی کمائے جارہے ہیں، کیا انہیں عوام کی “استطاعت” وسیع کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا تھا، جو کہ کسی بھی حکومت کا بنیادی فرض ہے۔ چلیں ہم اُس پونے چار ارب روپے کے بلاجواز اضافے کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں (جس کی تفصیل اوپر بیان کی جاچکی، اور جو بالآخر نامعلوم جیبوں میں جائے گا)، آپ کم از کم اتنی ہی حیا کرلیتے کہ جو پیسہ حجاج کرام کے مال سے کما رہے ہیں، بس وہی ان کے اوپر صرف کردیتے کہ ان بوجھ کچھ ہلکا ہوجاتا۔ یہ انسانی تاریخ کی پہلی حکومت ہوگی جو نہ صرف عوام کی استطاعت کم کررہی ہے، بلکہ ڈھٹائی کے ساتھ اس پر بغلیں بھی بجاتی پھر رہی ہے۔
جس جس کو بھی حج سبسڈی پر تکلیف ہورہی ہے اور قران وحدیث سے دلائل مانگتا پھر رہا ہے، کاش وہ ایک بار سورۃ مائدۃ کی وہ مشہور آیت ہی دیکھ لیتا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المائدۃ: آیت 2)
اللہ کا حکم ہے کہ نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی معاونت کرو! اور ہمارا حال یہ ہے کہ فیض میلہ ہو، فلم فیسٹیولز ہوں، بسنت ہو، ویلنٹائنز ڈے ہو ۔۔۔ ہمیں ہر میلے ٹھیلے کے لئے تو حکومتی سرپرستی درکار ہے، گلے پھاڑ پھاڑ دہائیاں دی جاتی ہیں کہ خدارا فلاں فن دم توڑ رہا ہے، اسے بچا لو، فلانے ایونٹ کی سرپرستی کرو، فلانے ایونٹ کو ٹیکس میں چھوٹ دو ۔۔۔ مگر جب کوئی ریاست سے عبادات میں آسانیاں پیدا کرنے کا مطالبہ کرے (جو کہ ریاست  کی آئینی ذمہ داری بھی ہے) تو یہ فوراً اپنی قمیض اٹھا کر ننگا پیٹ دکھانا شروع کردیں کہ دیکھو لاکھوں لوگوں تو روٹی بھی میسر نہیں۔

محمد احسن سمیع
محمد احسن سمیع
جانتے تو ہو تم احسنؔ کو، مگر۔۔۔۔یارو راحلؔ کی کہانی اور ہے! https://facebook.com/dayaarerahil

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *