کہتی نہیں ہو پاۓ گا۔۔۔عمیر ارشد بٹ

ہفتہ ہجر میں رہنے کا سوچا
کہتی نہیں ہو پاۓ گا
کیا دیکھتا ہوں
رات آتی ہے کہتی ہے
دیرتک رہوں گی 
خوب دیدار یار کرنا
چاند آتا ہے کہتا ہے
کل چودہ کا ہوا تھا
گر آج سے ہجر ہے
میں بھی کم ہونے جا رہاہوں
سورج آتا ہے کہتا ہے
اپنی گشت کم کر رہا ہوں
ہجر کو چھپانے کی کوشش کرنا
مہتاب و آفتاب تو  ساتھ چل پڑے
جو اپنےتھے  دل و دماغ
شریک بن بیٹھے
شیوہ ء طعنہ زنی عام ہو گیا
خوابوں میں اسے سجایا گیا
پہر ایام کو مثلِ ماہ بنا دیا گیا
صبح سے زوال تک
زوال سے دوپہر تک
دوپہر سے سہ پہر تک
سہ پہر سے شام تک
شام سے رات تک
رات سے صبح تک
وصال یار کے منتظر ہیں
وصال یار کے طلب گار ہیں
تم نے سچ کہا تھا نہیں ہو پاۓ گا
تم نے سچ کہا تھا ہار جاؤں گا
تم سے ہارا ہوا تمہیں جیتنا چاہتا ہے
اک کھوۓ ساتھی کو پانا چاہتا ہے

عمیر ارشد بٹ
عمیر ارشد بٹ
مرد قلندر،حق کا متلاشی، علاوہ ازیں سچ سوچنے اور بولنے کا عادی ہوں۔ حق بات کہتے ہوۓ ڈرنے کا قائل نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *