• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • دمشق کے موچی کا حج بمقابلہ پاکستانی حکومتی سبسڈی کا حج ۔۔۔۔ محمد فاتح ملک

دمشق کے موچی کا حج بمقابلہ پاکستانی حکومتی سبسڈی کا حج ۔۔۔۔ محمد فاتح ملک

ایک مشہور بزرگ حضرت عبداللہ ابن مبارکؒ کا ایک مشہور واقعہ تذکرة الاولیاء میں درج ہے۔ آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’ آپ ایک بار حج سے فراغت کے بعد حرم شریف میں کچھ دیر تک سوگئے۔ آپؒ نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے آسمان سے نازل ہوئے اور ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ اس سال کس قدر لوگ حج کو آئے؟ دوسرے نے جواب دیا: 6 لاکھ۔ پھر اس نے پوچھا: کتنے لوگوں کا حج قبول ہوا؟ جواب دیا: کسی کا حج قبول نہیں ہوا ہے۔
ابن مبارکؒ فرماتے ہیں کہ جب میں نے یہ سنا، تو میرے دل میں ایک اضطراب پیدا ہوگیا اور میں نے کہا کہ اس قدر لوگ جو دور دراز سے اس قدر رنج اٹھا کر صحراؤں اور بیابانوں کو طے کر کے آئے ہیں، ان کی تکالیف و مصائب رائیگاں گئیں؟ پھر اس فرشتے نے کہا کہ دمشق میں ایک موچی ہے، اس کا نام علی بن الموفق ہے، وہ حج کو نہیں آیا، لیکن اس کا حج قبول ہے اور حق تعالیٰ نے ان سب لوگوں کو اس کے طفیل بخش دیا ہے۔
ابن مبارکؒ فرماتے ہیں جب میں نے یہ سنا تو خواب سے بیدار ہو کر خیال کیا کہ  مجھے دمشق جا کر اس شخص کی زیارت کرنی ہے۔ جب میں دمشق پہنچا اور اس کا مکان تلاش کیا اور دروازے پر دستک دی، تو اندر سے ایک شخص نکلا، میں نے اس سے اس کا نام دریافت کیا۔ اس نے کہا: علی بن الموفق، میں نے کہا کہ مجھے آپ سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔
اس نے کہا: ہاں کہو، میں نے کہا: آپ کیا کام کرتے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ میں موچی کا کام کرتا ہوں۔ پھر میں نے خواب کا تمام واقعہ اس سے بیان کیا، اس نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: ابن مبارک۔ پھر اس نے کہا مجھے تیس سال سے حج کی آرزو تھی، میں نے اس مدت میں تین ہزار درہم جمع کیے اور اس سال حج کا ارادہ کیا، میری بیوی حاملہ تھی، وہ ایک دن مجھ سے کہنے لگی کہ پڑوس کے گھر سے آج کھانے کی خوشبو آرہی ہے، آپ جائیں میرے لیے کچھ کھانا ان سے مانگ کر لائیں، میں گیا تو پڑوسی نے مجھ سے کہا کہ تین دن تین راتوں سے میرے بچوں نے کچھ نہیں کھایا تھا، آج اتفاقاً میں نے ایک مردار گدھا دیکھا، تو اس سے ایک ٹکڑا گوشت کا کاٹ کر لے آیا اور اس کا کھانا بنایا، اس لیے یہ کھانا آپ کے لیے حلال نہیں ہے، جب میں نے یہ سنا تو میری جان کو ایک آگ سی لگ گئی۔ میں نے وہ تین ہزار درہم گھر سے لیے اور اس کو دے دیئے کہ اس سے اپنے بال بچوں کا گزارہ کرو۔ بس اب یہی میرا حج ہے اور خدا تعالیٰ کی خاص عنایت ہے کہ میرے خلوص نیت کو دیکھ کر بغیر ادائیگی افعال حج اس نے میرے اس فعل کو قبولیت حج کا درجہ عطا فرما دیا۔‘‘
یہ کوئی قصہ کہانی نہیں بلکہ حقیقی واقعہ ہے۔ مخلوق خدا تعالیٰ کی عیال ہے۔ اگر اس کی عیال کا خیال رکھا جائے تو اس سے ایک نہیں 6 لاکھ افراد کا حج بھی قبول ہو سکتا ہے۔ ایک غریب انسان کو روٹی کھلانا ، اس کے کپڑے کا بندوبست کرنا ، اُس تیس سال کی آرزو حج کے سامنے کیا حیثیت رکھتا ہے؟ لیکن اللہ تعالیٰ کو ایک انسان کی یہ ادا ایسی پسند آئی کہ وہ شخص جس کے دل میں تیس سال سے روز حج کی آرزو ، مکہ و مدینہ کی زیارت مچل رہی تھی اس کے نہ جانے پر بھیاللہ تعالیٰ نے نہ صرف حج قبول کر لیا بلکہ اس ایک شخص کے بدلے 6 لاکھ مسلمانوں کا حج قبول ہوا۔
اب آئیے آپ کو دمشق سے پاکستان لئے چلوں اور دکھاؤں پاکستان کا حال۔ پاکستان کی 30 فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ 70 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ 60 فیصد سے زائد آبادی ناخواندہ ہے۔ لاکھوں افراد ایسے ہیں جن کے پاس گھر نہیں۔ unemployment rate میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انڈسٹری تباہ ہے۔ مہنگائی کا ایک طوفان ہے جس سے ملک کی 80 فیصد آبادی متاظر ہے۔ اکثر اشیاء ہم دوسرے ممالک سے درآمد کرتے ہیں۔ تعلیم کا نظام دربرہم ہے۔ ہم ٹیکنالوجی میں دوسرے ممالک سے صدیوں پیچھے ہیں۔ تھر اور بلوچستان قحط کا شکار ہے۔ غربت و افلاس کا حال ناگفتہ بہ ہے۔ علاج معالجہ کی کوئی صورت نہیں۔
ان سب باتوں کے باوجود عوام کا مطالبہ ہے کہ حج پر سبسڈی دی جائے۔ اس بارے میں پہلے نمبر پر تو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ سبسڈی کوئی اپنے جیب کے پیسوں سے نہیں دی جاتی۔ سبسڈی ان ٹیکسوں سے ادا کی جاتی ہے جو عوام ادا کرتے ہیں۔ اوپر جو میں نے نقشہ کھینچا اس سے آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 40 فیصد ٹیکس کیسی عوام ادا کر رہی ہے۔ اس کے بعد ایک بڑی تعداد ان مڈل کلاس لوگوں کی ہے جو بمشکل مہنگائی کے اس دور میں سفید پوشی سے گزارا کر رہے ہیں۔ امیر طبقہ جو elite class کہلاتا ہے اس کی تعداد پاکستان میں آتے میں نمک کے برابر ہے یعنی صرف 2 فیصد۔ اس لئے بجائے اس کے کہ حکومت ان عوامی ٹیکسوں سے فلاحی کام کرے اسلام کی آڑ میں یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حج پر حکومت ان ٹیکسوں سے سبسڈی دے۔
دوسری بات جو نہایت اہم ہے وہ حج کا اصول ہے۔ حج اسلامی فریضہ ہے۔ اور اسلامی فریضہ کی تشریح اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔ قرآن کریم میں حج کے بارے میں ذکر ہے کہ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا یعنی حج ان لوگوں پر فرض ہے جو اس کے اس کے راستے کی طاقت رکھتے ہیں۔ جس کے پاس پیسے نہیں اس پر حج فرض ہی نہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ ہر مسلمان کی خواہش ہے کہ وہ مکہ اور مدینہ کی زیارت کرے تو بھائی صاحب خواہش تو انسان کی بنیادی ضروریات کی بھی ہیں۔ روٹی کپڑا مکان کی بھی ہیں۔ وہ تو پہلے پوری کریں۔ اور پھر اس غریب موچی کو یاد کریں جس نے 30 سال حج کے لئے پیسہ جمع کیا اور پھر ایک ہمسائے کی فاقہ کشی کے پیش نظر اس کو دے دیا۔ حج پر نہ جا سکا پر اللہ تعالیٰ کو اس کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ اس نے نہ صرف اس کا حج قبول کر لیا بلکہ اس کی اس نیکی کے سبب 6 لاکھ حاجیوں کا حج قبول کیا۔ اور ان سب کے بعد بھی پاکستان میں لاکھوں افراد ایسے بھی ہیں جو حج کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔
اب اسی سبسڈی کا دوسرا پہلو بھی ملاحظہ ہو۔ 2009 میں کروڑوں روپوں کا حج سکینڈل سامنے آیا۔ اور لوٹ مار اسی پیسے میں سے تھی جو سبسڈی کے نام پر جاری کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری خزانے سے وزیروں، حکومتی افسروں وغیرہ کو مفت حج بھی کروایا جاتا ہے۔ جس پر کروڑوں روپے لگتے ہیں۔ جن لوگوں کو یہ مفت سہولت فراہم کی جاتی ہے ان میں سے اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنا خرچ خود برداشت کر سکتے ہیں۔ اس لحاط سے دیکھا جائے تو حکومت کا سبسڈی ختم کرنا بہت اچھا فیصلہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ اور خلفاء راشدین نے مدینہ کے ریاست میں لوگوں کو کتنی سبسڈی دی تھی؟ ہاں مکہ میں حاجیوں کے لئے انتظام کیا جاتا تھا اور ہے۔ اورآج بھی تقریباً 70 فیصد حج کے اخراجات سعودیہ عرب کی حکومت اٹھاتی ہے۔ صرف رہائش ، کھانے اور آمد و رفت کے کے کچھ پیسے حاجی برداشت کرتے ہیں۔
پاکستان پہلے ہی مذہبی شدت پسندی کا شکار ہے۔ اب مزید اس ایشو کو اسلام کی آڑ میں ہوا نہ دی جائے اور پاکستان کی غریب عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ اور جو رقم اس طرح بچ جائے وہ اس ملک کی غریب عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے۔ اسلام اور حج کی وہ تشریح کی جائے جو اللہ اور اس کے رسول نے کی ہے نہ کہ سیاست چمکانے کے لئے اپنی توجیحات پیش کی جائیں۔
اگر ایک غریب انسان باوجود خواہش کے ، اخراجات کی کمی کی وجہ سے نہیں جا سکتا تو اسلام میں اس پر فرض بھی نہیں۔ ہاں اگر آپ خلق خدا کی مدد اور ہمدردی کرتے ہیں تو شاید پاکستان میں گھر بیٹھے آپ کا حج بھی اس موچی کی طرح قبول ہو جائے۔ اور نہ صرف قبول ہو جائے بلکہ شاید آپ کے اخلاصِ نیت کی وجہ سے اور بھی بہتوں کا حج قبول ہو جائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *