دیوار گریہ کے آس پاس۔۔۔۔۔کاشف مصطفےٰ اور محمد اقبال دیوان/قسط4

(اسرائیل کا سفر نامہ ۔اپریل 2016 )
ادارتی تعارف
کتاب دیوار گریہ کے آس پاس کو مکالمہ میں خدمت دین اور فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی خاطر شائع کیا جارہا ہے۔
کتاب کا شمار اردو کی ان دنوں مقبول ترین کتب میں ہوتا ہے۔مشہور سیاح اور مصنف مستنصر حسین تارڑ بھی اسے پڑھ کر ششدر رہ گئے تھے۔
یہ سفر اپریل 2015 میں جناب کاشف مصطفے نے کیا تھا۔یہ انگریزی میں تحریر سفری یاداشتوں کا ایک غیر کتابی سلسلہ تھا ۔ ہمارے جگر جان ،محمد اقبال دیوان نے موصول شدہ انگریزی نوٹس کی مدد سے اردو کے قالب میں ڈھالا اور اسے ادارہ قوسین نے اردو کے مشہور جریدے سویرا کی وساطت سے کتاب کی صورت میں لاہور سے شائع کیا۔اس کتاب کو لکھنے میں اور اس کی اشاعت و ترویح میں ان کا بہت حصہ ہے۔یہ کاوش بیش بہا پہلے سے کسی کتاب کی صورت میں کسی زبان میں موجود نہ تھی۔ قارئین مکالمہ کی خاطر کچھ تصاویر جو کتاب میں موجود نہ تھیں وہ وضاحت مضمون کی خاطر نیٹ سے شامل کی گئی ہیں۔قسط مذکورہ میں ڈاکٹر صاحب کی اپنی تصویر کے علاوہ تمام تصاویر نیٹ سے لی گئی ہیں
ہما رے دیوان صاحب ڈاکٹر صاحب کے ہم زاد ہیں ۔سابق بیورو کریٹ اور صاحب طرز ادیب ہیں ۔ ان کی تین عدد کتابیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا اور تیسری پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ شائع ہوچکی ہیں۔ چوتھی چارہ گر ہیں بے اثر ان دنوں ادارہ قوسین کے پاس زیر طبع ہے۔ سرجن کاشف مصطفے جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں اور ان کا شمار دنیا کے نامور ہارٹ سرجنز میں ہوتا ہے۔بہت صاحب نظر اور اہل رسائی ہیں۔کاشف صاحب کوہ پیما ہیں،پیراک ہیں، میراتھن رنر ہیں اور دنیا کے ستر سے زائد ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔تنہا سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان دو دوستوں کی اس کاوش کی اشاعت ادارہ مکالمہ اپنے لیے باعث تفاخر سمجھتا ہے۔
ایڈیٹر ان چیف

انعام رانا!

tripako tours pakistan

note rcvd in complete screen grab

گزشتہ سے پیوستہ
میں اب دوبارہ حاتم کے بیان کی طرف لوٹتا ہوں وہ بتارہا تھا کہ فرعون نے جب سرکشی پر کمر باندھ لی اور حضرت موسیؑ نے بنی اسرائیل کو اس کے مظالم سے نجات دلائی اور انہیں لے کر اس ارض مقدس واپس آگئے۔یہ مقام ایک عرصے سے بے توجہی اور لاتعلقی کا شکار ہے ۔ بنی اسرایئل کے بنیادی عقائد بھی بہت تبدیل ہوتے رہے ۔ وہ بھی دیوار گریہ سے لپٹ کر روتے رہے تاوقیکہ سیدنا عمرؓ نے جب فلسطین فتح کیا تو ان پر اس مقام مقدس کی حقیقت دوبارہ عیاں ہوئی۔اندر داخل ہوکر ہمارا بیس قدم کے فاصلے پر ایک اور گارڈ سے واسطہ پڑا اس نے بھی ہمارا استقبال مرحبا کہہ کر کیا۔حاتم نے مجھے ایک مقام خصوصی کی جانب لے جانے کا اعلان کیا۔ ہم اب ایک ایسی پتھر کی بنی ہوئی زیر محراب راہداری میں کھڑے تھے جو بیس فیٹ چوڑی اور پندرہ فیٹ اونچی تھی۔یہاں سرخ قالین بچھے ہوئے تھے۔ہم دونوں ان پر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ایک ایسی دیوار کے  پاس جاپہنچے جس کی تعمیر میں بڑے پتھر نمایاں تھے۔یہاں نہ کوئی علامات تھیں نہ کوئی آرائشی طغرے۔ اس نے میرا جائزہ بہت احتیاط سے لیا کہ کیا میں کسی بڑی حقیقت کے انکشاف کے لیے تیار ہوں کہ نہیں۔’’ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمارے نبی
ﷺنے شب معراج کو انبیا کی نماز کی امامت کی تھی‘‘۔اس کا لہجہ بے حد دھیما اور الفاظ بہت ہی نپے تلے تھے گویا وہ میرے لیے اس راز سے آشنائی کے مراحل کو آسان قابل فہم اور قابل یقین بنا رہا ہو۔مجھے لگا کہ میں ایک سکوت بھرے بے کراں خلا میں بے الفاظ وجود بن چکا ہوں۔
کچھ دیر بعد جب میرے حواس بحال ہونے لگے تو میرے تھر تھراتے لبوں سے صرف ایک لفظ بمشکل ادا ہو پایا ’’یہاں؟‘‘
میرے بازو تھام کر تقریباً گھسیٹتے ہوئے وہ مجھے ایک ایسے سجادے (جانماز) کے پاس لے گیا جہاں ہمارا نبی محترمﷺ بطور امام کھڑے ہوئے تھے۔تکبیر سیدنا ابراہیم ؑ نے پڑھی تھی۔پہلی صف میں سیدنا ابراہیمؑ ، اسحقؑ ،اسمعیلؑ ، موسیؑ ، عیسیؑ ،داؤد، سلیمانؑ ،آدمؑ جیسے انبیا تھے ،دیگر 25 رسول بھی پچھلی صفوں میں ان کے امامت میں تھے۔بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ کل 124000 انبیا اور رسول ہیں یہ بات درست نہیں یہاں برادر آپ بھی دو رکعت صلاۃ ادا کریں۔یہ میری زندگی کی طویل ترین دو
رکعات تھیں۔ کئی مرتبہ بھولا ، کئی دفعہ دوبارہ شروع کی۔نماز کے اختتام پر میری ندامت کو حاتم نے بھانپ لیا اور کہنے لگا میں یہاں کئی برسوں سے آرہا ہوں ۔ اس مقام پر آج بھی مجھے انبیا کے ملبوسات کی ، ان کے وجود کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئی قسط
تقدس اور خوش نصیبی کے ان جذبات نے کہ اللہ نے مجھے یہاں حاضری کی سعادت دی میں حیرت و تقدیس کا مارا ،احاطہء قبلہ اوّل میں، مغلوب کھڑا ہوں ۔ حاتم کی باتیں ایک عجب عالم سرشاری میں مجھے سنائی دے رہی ہیں۔یہ اقصی القدیم، انبیا کی مسجد ہے ۔اسی کا حوالہ سورہ الاسرار کی پہلی آیت میں ہے۔ کہتے ہیں ،یہاں خضر علیہ السلام بھی مغرب کی نماز پڑھنے آتے ہیں۔وہ مجھے ارد گرد کا محل وقوع سمجھا رہا ہے۔یہ حضرت ابراہیمؑ کا کنواں ہے۔یہ محراب وہ ہے جسے کے سائے میں آپ اکثر نماز پڑھا کرتے تھے۔یہ محراب وہ ہے جہاں حضرت بی بی مریمؓ ولادت مسیح سے پہلے عبادت فرماتی تھیں۔

وہ آیت مبارکہ جس کی تشریح ابتداءیے میں کی گءی
وہ کنواں جو سیدنا ابراہیم علیہ سلام سے منسوب ہے
محراب ابراہیمی
سرجن کاشف اور حاتم

یہ محراب وہ ہے جہاں حضرت ذکریاؑ نے 80 برس کی عمر میں جب بیٹے کے دعا کی تو ان کے ہاں حضرت یحییٰؑ پیدا ہوئے تھے۔ یہاں کئی بے اولاد جوڑے عبادت کرنے آتے ہیں۔بہت آہستگی سے میری رگیں اس تقدس کو اپنے آپ سے ہم آہنگ کرنے میں کامیاب ہوتی محسوس ہو رہی ہیں جو اس مقام عالی سے منسوب ہے۔میرا ارادہ ہے کہ میں دھیمے دھیمے اس تاثر کو اپنے اندر مزید سمو لوں مگر حاتم اس پر رضامند نہیں۔ہمیں یہاں سے جلد رخصت ہوجانا چاہیے ہمیں کیا پتہ یہاں آنے والی اگلی ہستی کون ہے۔اس کا لہجہ راز دارانہ اور انداز کچھ کچھ پرا سرار ساہے ۔ایسا جیسا کسی ایوان اقتدار سے جڑے ان مقربین کا ہوتا ہے جو آنے جانے والوں کے مقام اثر و رسوخ کو سمجھتے تو ہوں مگر شرکت رازداری سے محروم ہوں۔

میرے پاس اس کی بات ماننے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں۔میں بوجھل قدموں اور الجھی ہوئی سانسوں سے کسی مریض قلب کی مانند سیڑھیاں چڑھتا ہوا اس کے پیچھے چل پڑتا ہوں۔ وہ صخرہ ( وہ چٹان جہاں سے رسول اکرم ﷺ معراج پر تشریف لے گئے اور جس کے اوپر وہ مشہور سنہری گنبد موجود ہے جو جابجا تصاویر میں دکھائی دیتا ہے ۔) کی جانب جانے سے پہلے احاطے کے مختلف مقامات کی جانب مجھے لے جارہا ہے۔یہ جو ایک اکھاڑہ(amphitheater ) آپ دیکھ رہے ہیں جس کے ساتھ دو بڑے بڑے قدیم کمرے ہیں۔ یہ وہ قید خانہ ہے جہاں کسی شیطان جن سے حضرت داؤد علیہ سلام نے کشتی کرکے اسے پچھاڑا تھا اور پھر ان میں اسے قید رکھاتھا۔یہ جن ایک لوک داستاں کے بموجب تین دن بعد کسی گارڈ کو رشوت دے کر قید سے فرار ہوگیا۔
چلتے چلتے ہم ایک اور شکستہ گنبد کے نیچے آگئے ۔اس پر گھاس اگی ہے اور بے ترتیب ٹہنیاں ادھر ادھر سے نکل آئی ہیں۔یہاں حضرت سلیمان کی نشست ہوتی تھی ۔ یہیں ان کا انتقال ہوا تھا۔یہیں وہ عصا تھامے کھڑے تھے کہ ان کے اس عصا کو دیمک کھاگئی اور وہ کھڑے کھڑے گر پڑے یہ منظر دیکھ کر وہ جن جو اس عمارت کی تعمیر میں مصروف تھے انہیں اندازہ ہوگیا کہ ان پر حکومت کرنے والے نبی اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔ وہ فرار ہوکر قریبی کوہ عزازیل پر پہنچ گئے۔

جنوں کا قید خانہ
وہ مقام جہاں سیدنا سلیمان علیہ سلام کی وفات ہوئی

سیدنا سلیمان ؑ سے پہلے جنوں اور انسانوں کے نبی جدا جدا ہوتے تھے۔ سیدنا سلیمان ؑ سے ہمارے پیارے نبیﷺ تک تمام مخلوق کے ایک ہی نبی رہے۔اسی لئے ہمارے نبیﷺ کو وہ مقام رفعت عطا ہوا کہ آپ کو رحمتہ اللعالمین کے شاندار لقب سے پکارا گیا۔ تمام جنوں کو ہدایات کا پیغام لینے کے لیے انسانوں کے نبیوں اور رسولوں کے اطباع کا حکم دیا گیا۔ میں نے جلدی سے پوچھ لیا کہ سیدنا سلیمانؑ کا مزار مبارک کون سا ہے؟۔
اس کا کوئی وثوق سے نہیں بتاسکتا ۔ بہت سے لوگوں کا گمان ہے کہ ان کا مدفن اسی احاطے میں موجود ہے۔ میری اپنی برسوں کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ وہ اس احاطے میں مدفون ہیں جو مسجد الاقصی اور مسجد براق کا درمیانی صحن ہے۔اہل یہود البتہ مصر ہیں کہ وہ حضرت داؤد ؑ کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔مجھے لگا کہ حاتم کو واقعی ان اردگرد کی عمارات اور دین سے متعلق بہت معلومات ہیں۔

یہ مسجد براق کہاں ہے؟۔میرے سوال کے جواب میں وہ مجھے جلدی جلدی ایک طرف لے جانے لگا مگر ایک دم ایک چھوٹی سی رہائشی عمارت کے پاس رک گیا۔آپ انہیں حجرے کہہ لیں ۔یہ شاید کسی زمانے میں ملازمین کے کوارٹر ہوں گے۔ یہ وہ چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں ۔جہاں امام غزالی نے اپنی شہر ہ آفاق کتاب احیائے العلوم تخلیق کی ۔یہ بے نشاں کمرے، امام غزالی جیسا عالم بے مثال، احیائے العلوم جیسی مستند کتاب اور پھر وہی سورۃ الاسرا کی پہلی آیت ہمارے نبی محترم محمد ﷺ کامسجد الحرام سے مسجد الاقصی کا ساڑھے سات سو میل کا اس دور کا سفر جو ایک رات میں طے ہوا ،انہیں اپنی چند نشانیاں دکھانا اور یہ بھی انکشاف کہ اس کے اردگرد کے ماحول میں بڑی برکات ہیں۔ مجھے پختہ ایمان آگیا کہ یقیناًیہ کوئی معمولی جگہ نہیں۔
ہم ایک مرتبہ پھر اقصی کے صحن سے گزر کے ایک اور جانب بڑھ گئے۔ایک بہت بڑے خالی  احاطے کی جانب اس نے اشارہ کیا کہ یہود انہیں حضرت سلیمانؑ کا اصطبل کہتے ہیں۔یہ سراسر لغو ہے۔ میرے اندازے کے مطابق حضرت سلیمان یہیں کہیں مدفون ہیں۔جب عید اور جمعے کے دن نماز کے لیے مسجد اقصی بھر جاتی ہے تو یہاں بھی نمازیوں کے لیے صفیں بچھا دی جاتی ہیں۔
یہاں سے آگے بڑھ کر دو سو میٹر بائیں جانب جا کر ہم ایک تنگ سے زینے کے پاس جاپہنچے۔یہ زینہ بہت آہستگی سے مسجد براق کی جانب اتر جاتا ہے۔ویسے تو اس مسجد کو بھی اقصی ال قدیم ہی میں شمار کیا جاتا ہے مگرعثمانی خلافت کے زمانے میں یہاں نہ جانے کیوں ایک دیوار کھینچ کر دونوں کو علیحدہ کردیا گیا۔یہ مسجد وہ مقام ہے جہاں آپ ﷺ نے اپنی سواری براق کو مکۃ ال مکرمۃ سے یروشلم آمد پر باندھا تھا۔وہ یہاں سے جب پچاس میٹر کے لگ بھگ آگے بڑھے تو 25 جلیل القدر انبیا کی ایک تعداد نے آپ کا استقبال کیا۔۔۔ایک ایسا لوہے کا رنگ آج بھی یہاں دیوار میں نصب ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہی وہ کھونٹا ہے جس سے براق کو باندھا گیا تھا۔

سرجن کاشف اس مقام پر جہاں براق کو باندھا گیا

مسجد کے دائیں ہاتھ والی اس دیوار کی عین پشت پر یہودیوں کی دیوار گریہ واقع ہے۔ میں نے اس  جگہ  دو رکعت نفل پڑھے  اور بہت خاموشی سے اس کھونٹے کے نیچے بیٹھ گیا۔اتنی ساری تاریخ جو براہ راست میرے عقیدے اور میرے نبی محترمﷺ کے حوالے سے مجھ تک اس قدر سرعت سے بڑھی چلی آرہی تھی اس کے بارے میں دھیمے دھیمے میں نے سوچنا شروع کیا مجھے لگا کہ حاتم کو کم از کم یہاں سے باہر لے جانے کی کوئی عجلت نہیں۔ میرا اندازہ درست نکلا مجھ سے ایک مختصر سی اجازت لے کر وہ غائب ہوگیا۔ تیس منٹ بعد جب وہ لوٹا تو اس کے ساتھ ایک عمر رسیدہ عرب تھا۔ یہ عبدالرحمن ہیں،اس مسجد کے منتظم ۔ان کا حال ہی میں دل کا آپریشن ہوا ہے ۔ان کی طبیعت پچھلے چند دنوں سے ٹھیک نہیں۔میں نے سوچا کہ آپ کی موجودگی کا بطور ہارٹ اسپیشلسٹ فائدہ اٹھا لیں۔ میں نے بہت توجہ سے ان کا عارضہ سنا۔ مشکلات کا احوال جان کر انہیں کچھ مفید اور تسکین بخش مشورے دیے۔ ویسے تو اسے طبی اصطلاح میں placebo یعنی غیر طبی تسلی کہا جاتا ہے مگر اس کا مریض پر بہت خوشگوار اثر بھی ہوتا ہے۔ اکثر دل بھی پتنگ کی طرح ہوتے ہیں ایک دفعہ پتنگ بازی کی اصطلاح میں ہوا میں آجائیں تو خود بہ خود اڑنے لگتے ہیں۔ کچھ یہی معاملہ ہمارے بزرگ عبدالرحمن صاحب کا بھی ہوا۔میرے تجویز کردہ placebo کے بعد چہکنے لہکنے لگے۔فوراً ہی عربی کافی لینے دوڑ پڑے ۔کافی کی گرماہٹ اور خلوص کی خوشبو کے زیر اثر میں نے ایک ایسا بابِ الفت بلا سوچے سمجھے کھول دیا جو میرے مزاج اور پیشہ ورانہ تربیت سے بہت الگ ہٹ کر ہے۔

میں نے انہیں پیشکش کردی کہ میں مزید سات دن یہاں ہوں۔کسی مفت طبی مشورے یا معالجے کی ضرورت ہو تو مت ہچکچانا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کو بہ کو پھیل گئی بات مسیحائی کی۔ یوم رخصتی تک ہر دن بیس سے چالیس مریض مسجد الاقصی میں دل و جگر تھامے میرے منتظر ہوتے تھے ۔میں انہیں مسجد القصی کے باہر ایک چھوٹے سے کمرے میں محض مفت طبی مشورے دیتا تھا اور قیمتی دعائیں بطور معاوضہ مجھے ملا کرتی تھیں۔یہ تشخیص ، یہ معالجے، یہ مشورے ، کہاں میں ،کہاں یہ مقام، اللہ اللہ ۔۔اب مڑکر دیکھوں تو  مجھے اپنے طبی کئیریر کی معراج لگتے ہیں۔ایسی پیشہ ورانہ تسکین اس  سے  پہلے مجھے کبھی محسوس نہیں ہوئی۔
عبدالرحمن کی کافی کے فوراً بعد جب ہم مسجد البراق سے باہر نکلے توقبۃ الصخریٰ جگمگارہا۔اس کی شاندار عمارت سے ایک غرور فاتحانہ عیاں تھا۔ مشہور مسلمان سیاح ابن بطوطہ بھی یہاں آیا تھا اس نے اس عمارت کے لیے 14ویں صدی میں لکھا تھا،’’اس کا غیر معمولی حسن۔اس کی پختگی،اس کا وقار اور اس کی تعمیر میں وحدانیت کا تاثر اپنی مثال آپ ہے۔اس کی اندرونی اور بیرونی سجاوٹ بعید از بیاں ہے۔اس کی تعمیر میں سونے کا استعمال کثرت سے ہوا ہے۔جو بھی اسے دیکھتا ہے مبہوت ہوکر رہ جاتا ہے ۔ کبھی اس کے گرد بجلیاں کوندتی محسوس ہوئی ہیں تو کبھی یہ ایک بقعہء نور محسوس ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات چل رہی تھی مشہور مسلمان سیاح ابن بطوطہ کی جو قبۃ الصخری کا حسن تعمیر دیکھ کر مہبوت رہ گیا تھا۔حرم الشریف کی دیگر عمارات کی طرح قبۃ الصخریٰ میں بھی صرف مسلمانوں ہی کو داخلے کی اجازت ہے۔یہاں متعین کئی عرب محافظین مدرسے کے طالبان کی مانند موجود تھے۔ ان میں سے ایک بے حد وجیہہ گارڈ لائین میرے آگے موجود ایک صاحب کے راستے میں حائل ہوگیا تھا۔یہ حضرت چہرے مہرے اور انداز سے مجھے کوئی ترک لگتے تھے وہ ان سے چھٹا کلمہ سنانے کی فرمائش کر بیٹھا۔اُس کا یہ مطالبہ سن کر میری ریڑھ کی ہڈی میں بھی ایک سرد برقی رو دوڑ گئی ۔ چھٹا کلمہ تو مجھے بھی یاد نہ تھا۔ فارسی زبان کا محاورہ ترکی بہ ترکی جو اردو میں بھی مستعمل ہے اب میری سمجھ میں آیا کیوں کہ وہ ترک حضرت اس کے مطالبے پر جھنجلا کر پوچھنے لگے کہ ’’مسلمان ہونے کے لیے چھٹا کلمہ یاد ہونا اللہ نے کہاں لازم قرار دیا ہے؟‘‘ اس کی جانب سے جو بھر پور  جواب وار  ہوا وہ بھی عربی تکبر کی ایک واضح علامت تھا وہ کہنے لگا ’’روز قیامت تمہارے مسلمان ہونے کا فیصلہ اللہ کرے گا مگر آج یہ اختیار مجھے حاصل ہے۔ترک بے چارے کو دروازے سے ہی لوٹنا پڑا۔ حاتم کی رفاقت میں میرا اسلام کسی آزمائش اور اس کے احتیاط بھرے تکبر کی بھینٹ چڑھنے سے محفوظ رہا اور ہم اس مشہور عمارت میں داخل ہوگئے۔
بلاشبہ ابن بطوطہ نے جو کچھ تیرھویں صدی میں بیان کیا ،وہ درست ہے۔اس کا بیرونی حسن تو دلفریب ہے ہی، اندر کا حسن بھی ناقابل بیان ہے۔دنیا میں اپنی اصل حالت میں موجود اس کی محراب آج اسلامی عمارات کی قدیم ترین محراب ہے۔اس کے اندرونی حصے میں جا بجا سنگ مرمر، دھاتی طغرے میں قرانی آیات بیلوں کی صورت میں اس طرح درج ہیں کہ کہیں کہیں ان پر رنگ برنگے پتھروں نے ان کا حسن خطاطی اور بھی بڑھا دیا۔چونکہ وہاں ان دنوں مرمت کا کام جاری تھا لہذا وہ چٹان (صخری) کو ایک دبیز کینوس سے ڈھانپ کر محفوظ کردیا گیا تھا۔
مجھے یہ دیکھ کر کچھ مایوسی ہوئی تو حاتم میاں نے میرے چہرے کے تاثرات پڑھ لیے اور بہت آہستگی سے مجھے اپنے ساتھ آنے اور خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ ایک کونے میں دنیا و مافیا سے بے نیاز ایک بوڑھا عرب تلاوت قرآن پاک میں مشغول تھا ۔ اس کے کان میں حاتم نے جھک کر کچھ کہا تواس نے میرا بغور جائزہ لیا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔
میں نے اردگرد دیکھا تو مجھ سمیت کل دس زائرین ایک نیم دائرے کی شکل میں موجود تھے۔وہ ان سب کو چھوڑ کر ہم دونوں کو اشارہ کرنے لگا اور ہم سمجھ گئے کہ وہ ہمیں خاموشی سے ایک دم سیدھے ہاتھ والے کونے میں جانے کا کہہ رہا ہے جہاں سے چند قدم ہی کے فاصلے پر ایک غار سا تھا۔
’’بئرالارواح‘‘ (ارواح کا کنواں) حاتم نے میرے کان کے  بہت  پاس سرگوشی کی۔ میں سوچ میں پڑگیا کہ کہاں تو میری زندگی مدتوں ایک ہی رفتار اور ایک ہی سمت میں رینگتی رہتی ہے اور کہاں اتنے قلیل وقت میں اللہ سبحانہ تعالی مجھے اتنا کچھ دکھا رہا ہے کہ میں ارواح کے کنوئیں میں اتررہا ہوں۔

بئر الارواح
بئر الارواح۔جہاں سے سفر معراج کا دوبارہ آغاز ہوا

آپ کو اگر ایک مشہور فلم سیریز انڈیانا جونز کی ایک فلم Lost Ark Raiders of the  دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو تو (جس کے ڈائریکٹر بھی یہودی ہیں یعنی Steven Spielberg ) آپ کے علم میں ہوگا کہ یہودیوں کا مشہور Arc of Covenant ’’تابوت سکینہ ‘‘ یعنی لکڑی کا وہ مقدس صندوق جس میں ان کے عقیدے کے مطابق وہ دو تختیاں، جو کوہ طور پر حضرت موسیؑ کو اللہ نے عطا کیں۔ حضرت ہارون کا عصیٰ، وہ برتن جس میں ان پر آسمان سے بھیجا جانے والا من و سلوی محفوظ ہے۔اس صندوق کو ایک بیانیے کے مطابق، بابل کی افواج 587 قبل از مسیح اپنے حملے میں ہیکل سلیمانی کو برباد کرکے ساتھ لے گئی تھیں۔کچھ یہودی رے بائی البتہ بعد میں یہ کہنے لگے کہ اسے حملہ آوروں سے محفوظ رکھنے کے لیے عین اسی جگہ چھپادیا گیا تھا جہاں ہیکل سلیمانی موجود تھا۔
مذکورہ بالا فلم میں تو انڈیانا جونز کو یہ تابوت بئر الارواح میں مل جاتا ہے۔ فلم میں البتہ ایک مصلحت دور دراز کے تحت اور اسکی جانب غیر ضروری توجہ مبذول ہونے سے محفوظ رکھنے کے لیے اس کی برآمدگی اور کنوئیں کا محل وقوع مصر کے قدیم شہر صان الحجر ( جنات) جس کا قدیمی نام تانس تھا وہاں سے دکھائی گئی۔ یہودیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ روز قیامت سب ارواح قبہۃ الصخری والے اسی کنوئیں میں جمع کی جائیں گی۔ان کے ایک اہم بزرگ یہ کہتے ہیں کہ اس کنوئیں سے ان روحوں کی آوازوں میں جنت کے دریاوں کی لہروں کی گنگناہٹ سنائی دیتی ہے۔ہم اس کنوئیں میں داخل ہوگئے۔
یہ ایک کنواں ایک طرح کا غار ہے اس کے فرش کے اوپر ایک ساڑھے چھ فیٹ کی انتہائی چکنی چٹان بطورایک پلیٹ فارم کے موجود ہے ۔ جس کی اونچائی ساڑھے چھ فیٹ اور چوڑائی اور لمبائی تقریباً 14 فیٹ ہے ۔اس کے فرش پر سجادے (جانمازیں) موجود ہیں اور ان جانمازوں کے درمیاں ایک بہت صاف دائرہ نما سوراخ موجود ہے۔گویا یہ ایک طرح کا ایسا ٹیک آف اسٹیشن ہے جہاں سے کسی خصوصی سواری نے روانہ ہونا ہو۔
اس کمرے نما کنوئیں میں داخل ہوتے ہی حاتم کی آنکھیں ایک سرور بے پایاں سے سرخ ہوگئیں ۔نیچے آن کر لگا حاتم نے مجھے موقع دیا کہ میں سیڑھیاں اتر کر عین اس سوراخ کے نیچے فرش پر کھڑا رہوں اس نے اپنے لیے عین مقابل سیڑھیاں منتخب کیں۔ یہ ہی عین وہ مقام ہے جہاں سے ہمارے نبی محترم ﷺمعراج کے لیے بلندیوں پر گئے تھے۔ وقت میں سفر کرنا ایک بے حد دل چسپ موضوع ہے مجھے یہ اس سوراخ کے نیچے کھڑے ہوکر باہر آسمانوں میں جھانکتے ہوئے پہلی دفعہ سمجھ آیا ایسا لگا کہ اس سنہری گنبد کی چھت سے آر پار گزر کر نبی کریم کے عام سے ایک امتی ہونے کے ناطے محض سعادت حضوری کے انعام کے طور پر ہزارہا شعاع الانوار مجھ پر برس رہی ہیں۔

یہ وہ کیفیات ہیں جن کا بیان بہت ہی مشکل ہے۔مجھے اس کے نیچے اور منڈیر کو چھوکر لگا کہ میری روح میں برکات اور ادراک کا ایک نیا باب وا ہوگیا ہے۔مجھے پہلی دفعہ زمان و مکان کی وہ گتھی بھی سلجھتی ہوئی محسوس ہوئی جو متعلق فلکی طبیعات اور خود فلکیات اور علوم ریاضی کی الجھن بنی ہوئی ہے۔مجھے وقت اور فاصلوں کے  وہ حوالے جو دنیا میں رائج ہیں اللہ کے  نزدیک بے معنی دکھائی دیے۔وہ جو مالک کن فیکن ہے۔ اس سفر کے حوالے سے اس مقام پر میرے ایمان کو مغرب کے کھرے سچے سائنسدانوں کے درمیاں رہتے ہوئے بھی ایسا استحکام ملا کہ میرے پاس اب نبی کی اطاعت اور اللہ کی بندگی کا جواز خالصتاً اسلامی ہے۔۔
میں یہاں گہری مدہوشی کے عالم میں تھا کہ حاتم نے میرے شانے جھنجوڑتے ہوئے مجھے دو رکعت نفل صلوۃ کی تجویز دی۔ مجھ میں ہمت نہ تھی کہ میں اس پر عمل کرتا۔ میرے لیے یہ بیان نا ممکن ہے کہ میں آپ کو بتا سکوں کہ اس کنوئیں میں میری کیا کیفیت تھی۔میں نے انکار کردیا تو مجھے لگا کہ شاید وہ مجھ سے پہلے کسی اور کے ساتھ اسی طرح کے معاملات میں شامل رہا ہے۔مجھے وہ کہنے لگا وقت بہت کم ہے۔میں اپنی کیفیت کی وجہ سے اس سے لا تعلق ہوچلا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا تمہارا قد اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ تم اس پلیٹ فارم پر کھڑے ہوکر منڈیر کو چھولو۔
میں نے اس کا کہنا مانا اور اپنا دایاں ہاتھ اس کنوئیں کی منڈیر کو چھونے کے لیے اٹھایا تو یہ ہاتھ جو بے حد نازک سرجری میں بھی کبھی نہیں کپکپایا ایک کمزور سے پتے کی طرح لرز رہا تھا یہ عالم ان ٹانگوں اور گھٹنوں کا تھا جو دوران آپریشن جانے کتنے گھنٹے بلاتکان مجھے سنبھالے رکھتے ہیں۔ میں نے منڈیر کو چھوا اور فوراً ہی بیٹھ کر دو رکعت نماز کی نیت باندھ لی اپنے پیاروں کے لیے جو دعائیں میں نے مانگنی تھیں یک لخت ذہن سے محو ہوگئیں۔میں نے اپنی صلوۃ ختم کی اور حاتم کے ساتھ اوپر چلا آیا۔ وہاں اب کوئی اور زائر موجود نہ تھا۔حاتم نے یہ کرم کیا کہ ان بزرگ قاری کے ساتھ مل کر اس کینوس کو ہٹا دیا تاکہ میں صخری یعنی اس چٹان کی ایک جھلک دیکھ پاؤں جہاں سے آپ معراج پر تشریف لے گئے تھے ۔

صخری پر وہ سوراخ جہاں سے براق آسمانوں میں بلند ہوا

یہ 60 فیٹ لمبی 40 فیٹ چوڑی اور 6.5 فیٹ اونچی چٹان ہے۔عرب قاری صاحب بتانے لگے کہ ہمارے رسول اکرمﷺ براق پر سوار ہوئے تو یہ چٹان حکم الہی سے اوپر کی جانب اٹھ گئی جس کی وجہ سے وہ کنواں یا غار بن گیا ہے اسے جب حضرت جبرئیل نے بلند ہونے سے روک کر واپس اپنی جگہ لوٹایا تو آپ کے دست امیں کا نشان موجود رہ گیا ۔(دونوں تصاویر یہ فرق واضح کرتی ہیں)۔آپ یہ بھی بات جان لیں کہ صخریٰ کا جو زیریں فرش ہے وہ بئر الارواح کی چھت ہے اور بئرالارواح کا جو کنواں ہے اس کی نشانی آپ کو اس سوراخ سے دکھائی دیتی ہے جو بئرالارواح سے صخری کے بالائی فرش تک موجود ہے جو تصویر میں آپ کی آسانی کے لیے ایک پیلے اسکوائر سے ظاہر کیا گیا ہے
۔ یہاں براق کے سموں کے نشان بھی ہیں۔

صخری]چٹان[ اوراس پر براق اور سیدنا جبرءیل علیہ سلام کے دست بابرکت کے نشان وضاحت فوٹو شاپ سے مدد لی گئی
میں تیزی سے کچھ تصویریں اپنے کیمرے سے بنانے میں لگ گیا۔اتنے میں اوپر کچھ آوازیں سنائی دیں تو انہوں نے جلدی سے کینوس کو چٹان پر پھیلادیا۔میں بھی خاموشی سے ایک کونے میں الگ تھلگ انجان بن کر بیٹھ گیا۔یہ مقام یعنی قبۃ الصخری اہل یہود کے ہاں بھی بہت متبرک گردانا جاتاہے وہ اسے ماؤنٹ موریا کے نام سے پکارتے ہیں۔ وہ اسے دنیا کا نقطہء آغاز سمجھتے ہیں۔ یہودیوں کاعقیدہ ہے کہ اسی چٹان پر حضرت اسحق کی نسلی تفاخر کی بنیاد پر قربانی پیش کی گئی تھی۔ان دنوں اسرائیل میں ان کے مذہبی پیشواؤں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو اس جگہ کو بزور طاقت مسلمانوں سے چھین لینے کے مطالبے اور حیلے کررہا ہے۔
اس دوران مغرب کی اذان ہوگئی اور   صلوۃ کی ادائیگی کے بعد ایک دفعہ پھر عبدالرحمن صاحب نے مجھے پھر سے گھیر لیا مگر اب کی دفعہ وہ تنہا نہ تھے بلکہ بیس عدد مریض بھی ان کے جلو میں تھے اور میری مدد کے لیے انہوں نے کہیں سے ایک طالبہ اور ایک طالب علم کو بھی معاونت کے لیے شریک معالجہ کرلیا تھا کہ وہ میری ترجمانی کے فرائض انجام دیں گے۔بسم اللہ ، اس مقام عزت پر مجھے ان سب مریضوں کی آنکھوں میں بہت سی امیدیں دکھائی دیں۔
طبی معائنے کا یہ سلسلہ عشا کی نماز تک جاری رہا ۔میں نے عشا وہیں مسجداقصی میں پڑی اور باب الرّحمہ کی جانب چل پڑا ۔ حاتم کہیں جاچکا تھا۔راستے میں کئی خاندان دکھائی دیے جو مصروف الطعام تھے مجھے کم از کم پانچ ایسے خاندان یاد ہیں جو بہت مصر تھے کہ میں ان کے ساتھ شریک طعام ہوجاؤں۔باب الرّحمہ کہ پاس پہنچ کر مجھے لگا کہ میں ملاقات کے لیے طے شدہ ،حاتم کی بتائی ہوئی جگہ بھول چکا ہوں۔ ابھی اسی شش و پنج میں تھا کہ پیچھے سے مجھے کسی نے ڈاکٹر مصطفے کہہ کر آواز دی۔مڑکردیکھا تو ایام گزشتہ کی بھٹکی ہوئی روح شائم ایمون دکھائی دیا۔ شائم ایمون تو آپ کو یاد ہے نا ۔ ارے وہی ایتھوپین رے بائی، جو جہاز میں میرا ہم نشین تھا۔
’’مجھے یقین تھا ہماری ملاقات ایک مرتبہ اور ہوگی ‘‘میں نے تکلفاً اس سے دیوار گریہ کا پوچھا کہ کیا وہ وہاں گیا تھا تو جواب میں اس نے بھی میرے معمولات جاننا چاہے میں نے تفیصلات سے گریز کرتے ہوئے صرف اقصی اور قبتہ الصخری کا ذکر کیا۔اس پر وہ کسی توقف کے بغیرگویا ہوا ’’اچھاتو تم بھی ان لوگوں میں سے ہو جو یہ مانتے ہیں کہ تمہارے نبی وہیں سے آسمانوں کی جانب گئے تھے؟۔میں نے سوال کی تحقیر بھری کاٹ محسوس کی اور مجھے لگا کہ اس قدر روشن خیال ہونے کے باوجود بھی وہ اندر سے اپنے مذہب سے ویسے ہی جڑا ہے جیسے دیگر صیہونی باہر سے دکھائی دیتے ہیں۔
اپنے سوال کی مزید وضاحت اس نے قبۃالصخری کی جانب اشارہ کرکے کی اور میرے مختصر سے جواب اثبات کو سن کر کہنے لگا۔’’ جان لو کہ دنیا کا مرکز اسرائیل ہے،اسرائیل کا مرکز یروشلم،یروشلم کا اپنا مرکز ٹمپل آف ماؤنٹ یعنی حرم الشریف ہے، جس کا اپنا مرکزی مقام یہ صخرہ  ہے یعنی ہمارا ماؤنٹ موریا ۔ یہ چٹان ایسی ہے کہ ہمارا بھی پختہ یقین ہے کہ یہ دنیا اور ماروائے الدنیا کے درمیان ایک رابطہ ہے اور اس کا مرکز ایک سوراخ ہے جہاں سے تم کہتے ہو کہ تمہارے نبی آسمانوں کی معراج پر تشریف لے گئے تھے۔
۔اس سے پہلے کہ میں اس کے جملے کی گہرائی کو سمجھ پاتا وہ مجھ سے دعا کی درخواست کرتا ہوا تیزی سے اندھیرے میں کسی بھوت کی مانند کہیں غائب ہوگیا۔ کچھ ہی دیر میں میرا نیا نائب وسیم جو مریضوں کے معائنے میں میرا معاون تھا میرے پاس بھاگتا ہوا آیا اور بتانے لگا کہ نبیل انصاری آپ کا رات کے کھانے پر انتظار کررہے ہیں۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply