فیروز ناطق خسرو صاحب کی نظمیں … محمد فیاض حسرت

میں نے باقاعدگی سے نظموں کی صرف ایک کتاب پڑھی ۔ سارا شگفتہ کی کتاب” آنکھیں “۔اِس کتاب کا مطالعہ کرنے سے یہ ممکن نہیں کہ آپ کی آنکھیں آنسوؤں سے محروم رہ جائیں ۔ درد کی کیفیت اس طرح سے آپ کو محسوس ہو جیسے آپ اس درد کی تکلیف براہِ راست کوئی درد ناک منظر دیکھتے ہوئے محسوس کر رہے ہوں ۔ یہ کتاب میں نے قریباً دو سال پہلے پڑھی تھی ۔کتاب ” آنکھیں “، پہلی نظم جو مصنفہ نے اپنی بیٹی کے نام لکھتے ہوئے لکھا ۔
تجھے جب بھی کوئی دکھ دے
اُس دکھ کا نام بیٹی رکھنا
آج فیروز ناطق خسرو صاحب کی نظموں پر مشتمل کتابیں ” آنکھ کی پتلی میں زندہ عکس ” اور ” ستارے توڑ لاتے ہیں” کا مطالعہ شروع کیا ۔ تو وہ دو سال پہلے کا منظر اچانک میری آنکھوں کے سامنے آیا کہ میری آنکھیں اشکوں سے بھر گئی تھیں اور پھر سے اسی منظر کی طرح آج بھی میری آنکھیں اشکو ں میں ڈوبی جب نظم ” یہ بستی کس کی بستی ہے ” پڑھی ۔ سارا شگفتہ ( م) کی نظموں کا ذکر اس لیے کِیا کہ خسرو صاحب کی اُن نظموں میں مجھے وہ جھلک نظر آئی جو کسی تکلیف ، دکھ درد کے پسِ منظر میں لکھی گئی ۔ خسرو صاحب نے آزاد نظموں کوایک نیا رنگ دیا ۔ یہ کوئی معمولی فن نہیں کہ آپ کسی درد میں مبتلا ہوں اور اُس درد کو آپ اس طرح سے بیان کریں کے سننے والا بھی اُسی درد میں مبتلا ہونے کی سی کیفیت محسوس کرے ۔ یعنی، درد کو لفظوں میں قید کر دینا کہ جو کوئی بھی ان لفظوں کو زبان پر لائے اُسے اُس درد کی کیفیت محسوس ہو اور اُس کے سامنے وہ درد ناک منظر آ جائے ۔اِس فن میں خسرو صاحب استاذی کا مقام رکھتے ہیں ۔ غزل ہو ، نظم ہو یا کہ نثر ہو خسرو صاحب کا اپنا ہی انداز ہے ، ایسا انداز جو قاری کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتا۔بات کو اس شائستگی اور سلیقگی کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ جس کی مثال وہ خود آپ ہیں ۔

کتاب ” آنکھ کی پتلی میں زندہ عکس ” سے چند نظمیں

سچی آنکھیں جھوٹی آنکھیں ( عبدالستار ایدھی کے لیے نظم ) پہلا حصہ
یہ آنکھیں اک ایسے شخص کا
عطیہ ہیں!
جس نے اس دوزخ میں رہ کر
اک جنت آباد کری تھی !
نفس کو زنجیریں پہنا کر
روح اپنی آزاد رکھی تھی !
(آخری حصہ )
یہ آنکھیں اب
جنگ کی باتیں کرتی ہیں
نفرت کے ترانے گاتی ہیں
یہ آنکھیں میری آنکھیں ہیں !
یہ آنکھیں جھوٹی آنکھیں ہیں !!

یہ دنیا سب کی دنیا ہے !
یہ دنیا کیسی دنیا ہے
یہ بستی کیسی بستی ہے
یہ بستہ ، کس کا بستہ ہے
یہ تختی کس کی تختی ہے
یہ چہرہ، کس کا چہرہ ہے
یہ لاشہ ، کس کا لاشہ ہے
یہ دنیا کیسی دنیا ہے
یہ بستی ، کیسی بستی ہے!
یہ بچی ، میری بچی ہے
یہ بچہ ، میرا بچہ ے
یہ لاشہ ، میرا لاشہ ہے
یہ کاندھا ، میرا کاندھا ہے
یہ دنیا کیسی دنیا ہے
یہ بستی ، کیسی بستی ہے
یہ بچی سب کی بچی ہے
یہ بچہ سب کا بچہ ہے
یہ لاشہ، سب کا لاشہ ہے
یہ کاندھا ، سب کا ، کاندھا ہے
یہ بستی سب کی بستی ہے!!
یہ دنیا سب کی دنیا ہے!!


کوئی تخلیق کر سکتا نہیں کا آخری حصہ
کوئی تخلیق کر سکتا نہیں جب تک نہ وہ چاہے
کہ ہر فنکار کے اندر وہ خود موجود ہوتا ہے
جو وہ چاہے تو گہری نیندکی حالت میں
روشن ذہن ہوتا ہے
نہ وہ چاہے
تو بیداری میں بھی یہ ذہن سوتا ہے !!

جو ہاتھ آگے بڑھے گا خنجر نکالنے کو
میں دوست دشمن میں
آج کیوں کر تمیز رکھوں
کسے کہوں میں
کہ پشت میں جو لگا ہے خنجر اُسے نکالے
کسے کہوں میں
کہ جینے مرنے کی کشمکش سے مجھے نکالے
یقین مجھ کو نہیں کہ میری صدا کو سن کر
جو ہاتھ آگے بڑھے گا خنجر نکالنے کو
وہ دوست ہوگا یا میرا دشمن!
وہ ہاتھ مجھ کو سکون دے گا
قرار دے گا
حیات کا اعتبار دے گا
یا پشت میں جو لگا ہے خنر
وہ دل کے اندر اتار دے گا !
رکھے گا مرہم
یا جیتے جی مجھ کو مار دے گا!!


برہنہ خواہشیں کا آخری حصہ
مگر میں اپنی سوچوں پر عمل کرنے سے قاصر ہوں !
میں سیدھی راہ سے ہٹ کر اگر چلنے کی کوشش میں
قدم آگے بڑھاتا ہوں
تو میرے جسم کے سارے رگ و ریشے
بغاوت پر اتر آتے ہیں لمحوں میں !
مرے یہ دست وبازو ساتھ دینے سے مرا انکار کرتے ہیں!
زبانِ بے زبانی سے یہی اظہار کرتے ہیں
تجھے کچھ یاد آتا ہے
انہیں ہاتھوں سے کل تو نے درِ کعبہ کو تھاما تھا !


عصبیت کا بیج ( پہلا حصہ )
اے خدا!
مجھ کو اُٹھا لے
آنے والے وقت سے پہلے
کہ اب ہم
زہر میں ڈوبے ہوئے لفظوں سے اپنے
پھول سے بچوں کے ذہنوں کو یہاں
آلودہ کرتے جا رہے ہیں !

کتاب “ستارے توڑ لاتے ہیں” سے چند نظمیں

جیسے وہ پرچھائی ہے میری
میں نے اپنی آنکھیں
اُس کے شہر میں گروی رکھ دیں
اور پھر اُلٹے پیروں
اپنے گاؤں میں لوٹ آیا ہوں !
لیکن مجھ کو یہ لگتا ہے
جیسے وہ پرچھائی ہے میری!
اور میں اُس کا سایہ ہوں !!
2-
خواہشیں
جسم کا پیڑ بھی اندھا
اس کی شاخیں بھی اندھی ہیں
تیز ہوائیں جب چلتی ہیں
سارے پتے
ایک اک کر کے گر جاتے ہیں !
شاخیں بازو پھیلا کر
اندھوں کی مانند
ہوا کا جسم ٹٹول کے رہ جاتی ہیں !!

تیرے بِنا
بہت سوچا تھا میں نے
زندگی تیرے بنا کیسے گزاروں گا!
مگر میں آج بھی
تیرے بنا
ہر خواب کو تعبیر کرتا ہوں
گزرتے وقت کو زنجیر کرتا ہوں !!

فسانہ زیست
جب کبھی اشک گرا
یا کوئی تارا ٹوٹا
خون میں ڈوبی ہوئی نوکِ مژہ
صفحہ دل پہ رقم کر گئی افسانہ زیست
وصل کا خواب!
کوئی ہجر کا گیت !!

میں جانتا ہوں
میں جانتا ہوں
کہ چندہ روزہ ہے زندگانی !
ہر ایک شے کی طرح ہے یہ بھی
وجود فانی !
مگر کسی کی گھنیری زلفوں کی
چھاؤں میں دن
بتا رہا ہوں !
حیات اپنی گنوا رہا ہوں !!

مجھے کس سے محبت ہے سے دوسرا پیرا
مجھے محسوس ہوتا ہے
مجھے تم سے محبت ہے
مجھے اُس سے محبت ہے
مجھے اِس سے محبت ہے
مجھے خود سے محبت ہے
مجھے کس سے محبت ہے
آخری پیرا
جو خالق ہے محبت کا
اُسے مخلوق سے اپنی محبت ہے
اُسی نے میرے پہلو میں
دلِ غم آشنا رکھا!مجھے اپنے اُسی رب سے محبت ہے!
مجھے سب سے محبت ہے !!

محترم نقاد
کل ہی اپنی شاعری کی میں نے تازہ تر کتاب
احتراماً نذر کی اک محترم نقاد کو !
چلتے چلتے یک بہ یک میں رک گیا فٹ پاتھ پر !!


چلو بازار چلتے ہیں ( اسٹریٹ کرائمز کے پس منظر میں)
کسی کی جیب سے نقدی
کسی کے کان کی بالی
کسی چوڑیاں
ہاتھوں سے
مہنگا کوئی موبائیل
جھلک TTکی دکھلا کر
جو مالا ٹوٹ کر بکھرے
تو موتی بین لیتے تھے!
غریبوں کی بھی کل پونجی
ابھی کل تک یہاں ہم
چھین لیتے تھے!
مگر اب لوگ بھی اپنے بہت ہوشیار بنتے ہیں !
شکستہ ہی سہی
پھر بھی ہماری راہ کی دیوار بنتے ہیں !
نہ کانوں میں کوئی بالی پہنتا ہے
نہ ہاتھوں میں
کڑے سونے کے ہوتے ہیں!
دلہن کے جو بھی زیور ہیں
وہ مصنوعی
جو موبائیل ہی وہ نقلی!
نمائش کے سبھی طور و طریقے
کھوکھلے ہیں
کچھ نہیں اصلی !
تو پھر بازار جا کر کیا کریں
جیبیں تو ہیں خالی!
چلو کچھ ایسا کرتے ہیں
کسی کے ہاتھ سے تھیلا دواؤں کا
لپک کر چھین لیتے ہیں
دوا ئیں بھی تو مہنگی ہیں
کہیں پر بیچ دیتے ہیں !
کہیں پر بیچ دیتے ہیں
یا پھر گھر کو پلٹتے ہیں
ابھی کچھ روز پہلے ہی
جو ہم نے بالیاں کانوں سے نوچی تھیں !
وہ میں نے تحفتاً بخشیں تھیں بیوی کو
کڑے سونے کے اماں کو
تو پھر کچھ ایسا کرتے ہیں
کڑے اماں سے جاکر چھین لاتے ہیں!
وہی دو بالیاں سونے کی جو بخشیں تھیں بیوی کو
انہیں پھر نوچ لاتے ہیں!!
چلو بازار چلتے ہیں !!

محمد فیاض حسرت
محمد فیاض حسرت
تحریر اور شاعری کے فن سے کچھ واقفیت۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *