دیوارِ گریہ کے آس پاس۔۔۔۔۔۔ کاشف مصطفےٰ اور اقبال دیوان/قسط3

(اسرائیل کا سفر نامہ ۔اپریل 2016 )
ادارتی تعارف
کتاب دیوار گریہ کے آس پاس کو مکالمہ میں خدمت دین اور فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی خاطر شائع کیا جارہا ہے۔
کتاب کا شمار اردو کی ان دنوں مقبول ترین کتب میں ہوتا ہے۔مشہور سیاح اور مصنف مستنصر حسین تارڑ بھی اسے پڑھ کر ششدر رہ گئے تھے۔
یہ سفر اپریل 2015 میں جناب کاشف مصطفے نے کیا تھا۔یہ انگریزی میں تحریر یاداشتوں کا ایک غیر کتابی سلسلہ تھا جسے ہمارے جگر جان ،محمد اقبال دیوان نے موصول شدہ انگریزی نوٹس کی مدد سے اردو کے قالب میں ڈھالا اور اسے ادارہ قوسین نے اردو کے مشہور جریدے سویرا کی وساطت سے کتاب کی صورت میں لاہور سے شائع کیا۔اس کتاب کو لکھنے میں اور اس کی اشاعت و ترویح میں ان کا بہت حصہ ہے۔یہ کاوش بیش بہا پہلے سے کسی کتاب کی صورت میں کسی زبان میں موجود نہ تھی۔قارئین مکالمہ کی خاطر کچھ تصاویر جو کتاب میں موجود نہ تھیں وہ وضاحت مضمون کی خاطر نیٹ سے شامل کی گئی ہیں۔قسط مذکورہ میں ڈاکٹر صاحب کی اپنی تصویر کے علاوہ تمام تصاویر نیٹ سے لی گئی ہیں
ہما رے دیوان صاحب ڈاکٹر صاحب کے ہم زاد ہیں ۔سابق بیورو کریٹ اور صاحب طرز ادیب ہیں ۔سرجن کاشف مصطفے جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں اور ان کا شمار دنیا کے نامور ہارٹ سرجنز میں ہوتا ہے۔بہت صاحب نظر اور اہل رسائی ہیں۔کاشف صاحب کوہ پیما ہیں،پیراک ہیں، میراتھن رنر ہیں اور دنیا کے ستر سے زائد ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔تنہا سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان دو دوستوں کی اس کاوش کی اشاعت ادارہ مکالمہ اپنے لیے باعث تفاخر سمجھتا ہے۔
ایڈیٹر ان چیف

انعام رانا!

موصول شدہ انگریزی نوٹ

گزشتہ سے پیوستہ
دمشق دروازے سے کچھ ہی فاصلے پر میری نگاہ ایک بورڈ پر پڑی جس پر درج تھاCave of Zedekiah, Solomon’s Quarry” بورڈ دیکھتے ہی مجھے سرجری کے استاد مسٹر کاٹز یاد آگئے وہ فری میسن تھے۔ انہوں نے مجھے کہا تھا کہ’’ تمہارے دل کا ابن بطوطہ تمھیں یروشلم لے جائے تو میری جانب سے غار ذیڈے کاہیا میں ایک شمع روشن کردینا ۔ یہ مت پوچھو کیوں؟‘‘۔جب میں نے وہاں داخل ہونے کی کوشش کی تو نیم خوابیدہ گارڈ ایک بے لطف سی نگاہ مجھ پر ڈالی اور داخلے کے لیے اس نے 16 شیکل کی فیس طلب کی۔اندر کوئی نہ تھا۔مجھے کوئی شمع بھی نہ ملی کہ روشن کرتا ،میں نے ایک غائبانہ معذرت ڈاکٹر کاٹز سے کی اور چل پڑا ۔ بہت بعد میں مجھے علم ہوا کہ یہ جگہ خفیہ مغربی تنظیم فری میسن کے لیے بہت اہم ہے۔ یہاں سے پتھر کھود کر ہیکل سلیمانی تعمیر ہوا تھا۔قدیم فری میسن یہیں پر اپنے خفیہ اجلاس منعقد کرتے تھے اور ان کا سالانہ اجتماع تو اسی مقام پر بڑا دھوم دھڑکے سے یہاں منعقد ہوتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئی قسط
یروشلم جسے حضرت داؤد ؑ نے فتح کرکے دار الامان کا نام دیا تھا، آپ کوالہ دین کے غار کی یاد دلاتا ہے۔اس کی گلیاں رقیب کے دل کی مانند تنگ، دکانیں سامان سے لدی پھندی مگر معشوق کے رخسار کے تل کی مانند سمٹی سمٹی سی ہیں۔دکانداروں کی آوازیں اور ان کے بے قابو ہاتھ، دونوں ہی زبردستی آپ کے پیچھے لگ جاتے ہیں، دامن تھام لیتے ہیں۔انہیں دکانوں کے اوپر قدیم رہائش کدے بھی ہیں جن کی کھڑکیاں چھوٹی اور چلمنیں حریری (ریشمی) ہیں۔گھروں کی سیڑھیاں پتھریلی مگر گھس چکی ہیں۔گھروں کے درمیان جو عمر رسیدہ افراد کے دانتوں میں فاصلے جتنی چھوٹی چھوٹی گلیاں ہیں ان میں ہر صبح فلسطینی خواتین قرب و جوار کے علاقوں سے اپنی زرعی پیدوار فروخت کرنے آجاتی ہیں۔اسی انبوہ تاجراں میں طلسم کدہء حیرت میں کھوئے ہوئے جوق در جوق سیاح۔ انہیں حیرانی اس بات کی ہے کہ بوڑھا وقت اپنی تمام تر تھکاوٹ اور نحیف ہونے کے باوجود ان مقامات پر بوئنگ اور ائیر بس کا مسافر نہیں بلکہ اب بھی پیدل ہی چل رہا ہے۔ اسے اپنی منزل پر پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں

میں اب اپنے ہوٹل سے آدھا کلومیٹر دور چلا آیا ہوں۔راستے میں تین چیک پوسٹ آئیں۔چست نوجوان ، مسرور مگر بے حد سنجیدہ اسلحہ سے لدے ہوئے اسرائیلی سپاہی کھڑے ہیں۔اسرائیلی سپاہی اگر ڈیوٹی پر نہ بھی ہوں تو انہیں اسلحہ لازماً لے کر چلنا ہوتا ہے۔ چونکہ فوجی ڈیوٹی ہر نوجوان کے لیے لازم ہے لہذا آپ کو بازار اور دیگر پبلک مقامات پر بھی ایسے مرد و عورت فوجی دکھائی دیں گے جن کے شانے سے جدید بندوقیں لٹک رہی ہوتی ہیں۔ ان تینوں چیک پوسٹوں پر کسی کو روکا نہیں گیا۔البتہ کچھ150 میٹر جاکر مجھے جب روکا گیا تو سپاہی نے پہلے عبرانی اور پھر عربی میں بات کی میں نے انہیں جتایا کہ میں تو ایک سیاح ہوں۔یہ معاملہ مسجد اقصی سے کچھ دور ہی پیش آیا تو اس نے جتایا کہ یہ مقام قبتہ الصخرۃ یا طلائی گنبد صرف مسلمانوں کے لیے ہے۔غیر مسلم یہاں سے داخل نہیں ہوسکتے ۔ ان کے وہاں جانے کا راستہ مغربی دروازے سے دیوار گریہ کے نزدیک سے ہے اور وہ بھی مخصوص اوقات میرا نام مصطفے ٰ ہے ۔میں اسے اپنے مسلمان ہونے کا یقین ایک غیر مسلم ملک سے جاری کردہ اپنا پاسپورٹ دکھا کر دلاتا ہوں اور وہ مجھے آگے بڑھنے کی اجازت دیتا ہے۔اس دوران میرے دماغ میں ان خدشات کا ایک طوفان اٹھ چکا ہے کہیں ہنگاموں کی وجہ سے ان کم بختوں نے مسجد اقصی میں ہی داخلے کی ممانعت نہ کردی ہو۔

آف ڈیوٹی سپاہی

سو میٹر دور جاکر پھر ایک ایسا ہی مرحلہ درپیش آتا ہے۔مجھے اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت مل جاتی ہے اور میں لکڑی کے ایک قدیم بڑے دروازے سے جونہی اندر داخل ہوا ۔ ایک نوجوان میری جانب لپک کر آتا ہے اور چیخ کر مجھے رک جانے کا کہتا ہے۔’’ مسلم؟‘‘ اس کا سوال منکر نکیر کے  جیسا مختصر اور میرا جواب نفس مطمئنہ والا الحمد و لاللہ ۔میرا جواب سن کر اس کے چہرے پر مسرت نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ کہاں سے؟ یہ سوال میرے لیے متوقع بھی اور باعث تفاخر بھی۔مسجد اقصی کا آخری سیکورٹی مرحلہ ا سرائیلی عرب مسلمانوں کے حوالے سے ہے مبادا کوئی یہودی سیکورٹی گارڈز کو دھوکا دے کر آجائے ۔ یہاں دین پر بھی چند سوال کرلیے جاتے ہیں ۔
میرا خیال تھا مجھ سے وہ اسرائیلی عرب گارڈ یا تو آیت الکرسی کے بارے میں  سوال کرے گا  یا  دعائے قنوت یا سورۃ الاخلاص کی تلاوت کی فرمائش کرے گا۔ جب میں نے اسے اپنے ملک کا نام پاکستان بتایا تو اس نے کسی تکلف اور توقف کے بغیر میرے گال کا بوسہ لے لیا ۔تب مجھے لگا کہ یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک میں خاکسار نے کتنا وقت ضائع کیا ، پاکستان کا نام زور زور سے لینے سے تو یہ گنوائے ہو ئے بوسے مل جاتے میری آنکھیں بھی اس وقت نم آلود ہوگئیں جب میں نے اس بوسے کے بعد اس عرب گارڈ کی آنکھ میں آنسو دیکھا۔ دل میں بے اختیار یہ خیال کوندا کہ کیا پاکستا ن اور اس کی فوج اب بھی عالم اسلام کی آخری امید ہے۔’’میرے بھائی مسجد اقصی میں خوش آمدید‘‘۔ اس کا آنسووں سے نم آلود یہ جملہ مجھے پاکستان سے اس سمیت ہم سب کی امید اور موجودہ حکمرانوں اور اشرافیہ کے طرز معاشرت پر ندامت ،دونوں سے بھگوگیا۔اللہ نے کیسا ا علی ٰ ملک و منصب دیا ہے اور ہم نے اس کا کیا بنا کر رکھ دیا ہے۔

اس سے رخصت ہوکر میں چند قدم آگے بڑھا تو   ایک ایسے احاطے میں آن پہنچا جس کا رقبہ تو یہی کوئی 35 ایکڑ ہے مگر جس کی تاریخ صدیوں پر محیط واقعات سے لدی پھندی ہے۔جہاں سے مسلمان داخل ہوتے ہیں وہاں سے اندر آن کر دیکھیں تو آپ کی نگاہ مسجد الاقصیٰ ( اقصی بمعنی جو بہت دور ہو) پر نہیں بلکہ سنہری گنبد والے قبتہ الصخرۃپر پڑتی ہے۔قبہ عربی میں ٹیلے کو کہتے ہیں ۔
اسے مشرق وسطیٰ کی سب سے مشہور علامتی نشانی مانا جاتا ہے۔ قدرت الہی کا یہ بھی طرفہ تماشا ہے کہ اسرائیل کی سب سے اہم شناخت مسلمانوں کی بنائی ہوئی ایک عمارت یعنی یہ سنہری گنبد ٹھہرا جسے عرب سے باہر تعمیر شدہ مسلمانوں کی پہلی عمارت کہا جاتا ہے۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ یہاں بہت ضروری ہے ۔ یہ عمارت کوئی مسجد نہیں بلکہ ایک ایسا خوبصورت احاطہ ہے جس کے سنہری گنبد کے عین نیچے وہ پتھر یلی چٹان (صخرۃ) ہے جہاں سے نبی کریم ﷺ معراج پر تشریف لے گئی۔تھے۔یہاں آنے والے نوافل بھی پڑھتے ہیں اور قرآن کریم بھی۔ یہاں بھی صرف مسلمان ہی آسکتے ہیں ۔یوں اس کی مسلمانوں کے ہاں بڑی خصوصی اہمیت ہے۔

ال-صخری
الصخری کا اندرونی خاکہ
الصخری اور مسجد الاقصی کا فضائی منظر

اسکی ہمارے فرسٹ کزن اہل یہود کے ہاں بھی بڑی اہمیت ہے۔وہ اسے Mount Moriah کے نام سے پکارتے ہیں ۔ اسی چٹان کو وہ دنیا کا مقام آغاز سمجھتے ہیں۔ ان کے ہاں قربانی کے لیے حضرت ابراہیم نے اپنے بڑے بیٹے اسحق ؑ جن کا لقب اسرائیل تھا انہیں اس پتھر پر لٹایا تھا نہ کہ کنیز کے بیٹے حضرت اسمعیٰلؑ کو ۔ حضرت اسحقؑ ان کی اہلیہ حضرت سارہ کے بطن سے تھے جو ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔حضرت اسمعیلؑ کی والدہ حضرت حاجرہ)Hagar ہیگر ( حضرت سارہ کی کنیز تھیں۔اسی لیے مسلمانوں کو وہ حقارتاً ہیگرآئٹس( (Hagarites بھی کہتے ہیں۔دو مواقع پر فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس آئے تھے ۔ دوسری دفعہ تب جب انہیں ان کے کزن حضرت لوطؑ کی بستی سدوم کو برباد کرنا تھا۔ دونوں دفعہ آپ یعنی حضرت ابراہیم کو بیٹوں کی پیدائش کی نوید بھی سنائی گئی تھی ۔حضرت اسمعیل جو مسلمانوں کے عقیدے کے حساب سے بڑے بیٹے تھے ان کے لیے قرآن غلام۔حلیم )(سورۃ الصفات آیت نمبر 101 یعنی نرمی اور خوش خلقی کے وصف سے مزین) کی اصطلاح استعمال کرتا ہے ، یہ خوش خبری انہیں آگ سے برآمدگی کے بعد سنائی گئی تھی۔ حضرت اسحقؑ جنہیں اسرائیل کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے یہودی ان سے اپنا نسلاً رشتہ جوڑتے ہیں ان کے لیے قرآن الکریم غلامُُ علیم )سورۃ الحجر آیت نمبر 53 ( یعنی صاحب علم کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ان کے ہاں یہ تفاخر بھی بہت عام ہے کہ تین ہزار برسوں سے نہ نام ، نہ زبان ، نہ علاقہ کچھ بھی انہوں نے نہیں بدلا۔
قبۃ الصخرۃ کو آنحضرت محمد ﷺ کی وفات یعنی 632 عیسوی کے ٹھیک   ساٹھ سال بعد تعمیر کیا گیا تھا۔اسے اُ موی خلیفہ عبدالمالک بن مروان نے خانہ بربادی کے دور ابتلا میں اس وقت تعمیر کیا جب مسلمان مملکت اسلامیہ کا دار الخلافہ مدینہ سے دور پہلے کوفہ اور بعد میں دمشق میں قائم کر نے کی فاش غلطی کربیٹھے تھے ۔ اس کے بعد اسلامی ریاست مڑ کر کبھی مدینہ نہ لوٹ پائی ۔
حضرت عبداللہ بن زبیرؓ ( حضرت ابوبکر کے نواسے اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کے بھانجے یعنی ان کی ہمشیرہ حضرت اسماء بنت ابوبکرؓ کے صاحب زادے تھے ) انہوں نے سیدنا حسین ابن علیؓ کی طرح یزید کی بیعت سے انکار کیا تھا ان کی شہادت کے بعد اہل مکہ نے ابن زبیرؓ کو اپنا خلیفہ بنایا تھا۔مروان یزید کی تین برس کی حکمرانی کے بعد اس کی وفات پر دمشق میں خلیفہ بنا تھا۔ عبداللہ بن زبیرؓ سے اس کی مکہ اور مدینہ پر قبضے کی جنگ جاری تھی۔ ا۔ انہیں بالآخر حجاج بن یوسف کی ہاتھوں جام شہادت پینا پڑا جسے اموی خلیفہ عبدالمالک نے مکہ اور مدینہ فتح کرنے بھیجا تھا۔
قبۃ الصخرۃ ایک شاندار عمارت ہے جسے ایک انسانی تعمیر شدہ ٹیلے ( قبہ) پر بنایا گیا ہے ۔ مسلم مورخ مقدسی سے روایت ہے کہ اس نے اپنے چچا سے پوچھا تھا کہ اس شاندار عمارت کی ضرورت مسلماں خلیفہ عبدالمالک اور اسی کے بیٹے ولید بن عبدالمالک کو کیوں پیش آئی تھی تو جواب ملا کہ شام اور فلسطین میں عیسائی گرجے دیکھ کر وہ بھی چاہتا تھا کہ ایسی ہی کوئی شاہکار عمارت وہاں  بنائے۔اس کے مخالفین یہ بھی ایک توجیہ پیش کرتے ہیں کہ چونکہ مکۃ المکرمہ ان باپ بیٹوں کے تسلط میں نہ تھا لہذا وہ اپنا ایک مرکز تقدس تیسر ے کسی ایسے مقام مقدس جو پہلے دو مقامات کی یاد کچھ دن تک بھلادے بنانا چاہتے تھے۔ مسجد اقصیٰ انہیں بہت سادہ لگی۔ وہ دینی حوالے سے اس میں کوئی ترمیم بھی نہ چاہتے تھے لہذا اس کے عین مقابل حرم شریف کے صحن کے دوسری طرف انہوں نے اس مقدس چٹان کو چنا اور یہ سنہری گنبد بنا ڈالا۔( اس پر مزید گفتگو بعد میں)
دوران تعمیراس کے سامنےChurch of the Holy Sepulcher, اور لائیڈا اور ایڈیسا کے کلیسا کی عمارت کی مثالیں تھیں۔مسلمانوں میں عالی شان مساجد اور محلات و مقابر تعمیر کرانے کا رجحان وہیں سے پڑا۔ اس سے قبل مسلمان اپنے طرز رہائش میں بہت سادہ اور جذبوں میں بہت شدید اور سچے تھے بعد کہ مسلمان اس کے بالکل برعکس نکلے۔وہ امویوں عثمانیوں اور مغلوں کی طرح پُر تعیش طرز زندگی گزارتے تھے اور ان کی زندگی دین سے بہت پرے پرے گزرتی تھی۔
اس قبۃالصخریٰ کی تعمیر جس کھلے صحن ( کمپاؤنڈ) میں ہوئی ہے اسے حرم الشریف کہتے ہیں۔ یہاں بہت دور ہٹ کر ہی مسجد اقصی، کئی مدارس اور دیگر چھوٹی چھوٹی مذہبی عمارات بھی ہیں۔یہی وہ احاطہ ہے جس پر یہودی اور مسلمانوں کا کنٹرول کا جھگڑا ہے۔ان دونوں مذاہب کے پیروکاروں کے لیے یہ بہت ہی اہم مقام ہے۔
دل میں ایک خوف بھی اور میرے قدم بوجھل ہیں۔ اس بچے کی طرح جس کا اسکول میں پہلا دن ہو۔ چارسو میٹر کے بعد میں مسلمانوں کی تیسری سب سے مقدس عمارت کے سامنے ہوں ۔مسجد اقصی بہت سادہ ہے مگر قدرے بڑی۔میں اپنے جوتے اتار کر جب اندر داخل ہوا تو نبیل انصاری میرے منتظر تھے۔یہ اس وقف بورڈ کے ممبر ہیں جو اس مسجد کا انتظام چلاتا ہے۔ مسجد اقصی اپنے رقبے میں استنبول ترکی کی بلیو مسجد جتنی ہے۔سرخ دھاریوں والے قالین اور اونچی چھت سے لٹکتے ہوئے فانوس، چھت کی منڈیروں سے جابجا کبوتر اڑتے دکھائی دیتے ہیں ۔ میں مسجد میں داخل ہوا تو ظہر کی نماز پڑھی جاچکی تھی۔
ہم ایک کونے میں بیٹھ کر گفتگو کا آغاز کردیتے ہیں۔
ذکر تھا مسجد قصی میں میرے بزرگ میزباں نبیل انصاری کا۔۔۔۔۔۔۔
سیدی نبیل انصاری اس وقف بورڈ کے ممبر ہیں جو حرم الشریف کا انتظام و انصرام سنبھالتا ہے۔
ہم ایک کونے میں گفتگو کرنے بیٹھ گئے۔ وہ بتانے لگے کہ اسرائیلی عربوں کے لیے مسجد اقصی ایک وجود لازم ہے، اس سے وابستگی میں ہی ہمارا مکمل تشخص پنہاں ہے۔ یہ ہم مظلومین کی روحانی پناہ گاہ ہے۔
یروشلم کی بیشتر مسلم آبادی اس کے اردگرد کے محلوں میں اور یہاں سے دو کلومیٹر دور خالصتاً ایک عرب بستی سیلفان( جسے انگریزی میں Silwan لکھتے ہیں) اس کی تنگ و تاریک گلیوں اور چھوٹے چھوٹے مکانات میں رہتی ہے۔ ہر مکان میں اوسطاً تیرہ چودہ افراد رہتے ہیں۔ شام ہوتے ہی یہ ساکنان مظلومیت تازہ ہوا کی چاہ میں قبۃ الصخرۃ اور مسجد اقصی کے دالانوں اور پاس پڑوس کے باغیچوں میں آجاتے ہیں۔ساتھ ہی ان کے بچے بھی کھیلتے ہیں یہاں وہ سیاست سے لے کر جدید عربی ادب کے بخیئے ادھیڑتے ہیں، اور رات کے کسی پہر خاموشی سے گھر لوٹ جاتے ہیں۔

سلوان
ال شطیلہ کا کیمپ بیروت لبنان
القدس الشریف
فلسطینی کیمپ لبنان

ان فلسطینی عربوں کی اکثریت غربت کے کوہ گراں تلے دبی ہوئی ہے۔سرکاری ملازمتوں کے دروازے ان پر بند ہیں اور اس قدر نامساعد ماحول میں کاروبار کے مواقع بھی بہت محدود ہیں۔ان کی ا کثریت دیہاڑی کی مزدوری کرتی ہے۔ بے چاری روز کنواں کھودتی ہے روز پانی پیتی ہے۔بچوں پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند ہیں۔مملکت یہود چاہتی ہے کہ ان کی زندگیاں اس قدر مشکل اور گھٹن زدہ بنادی جائیں کہ یہ تنگ آن کر دوسرے ممالک ہجرت کر جائیں۔مجھے ان کے جس وصف نے عرق تحسین سے بھگودیا وہ وہ ان کی فیاضی اور نرم دلی ہے۔ان کی مہمان نوازی ایسی کہ برسات بادلوں کی طرح کھل کر برستی ہوئی۔
نبیل صاحب بھی انہیں اوصاف حمیدہ سے آراستہ ہیں محبتوں کے مارے ۔
فرمانے لگے کہ میرے بھائی مصطفے مجھے اس بات کا بے حدقلق ہے کہ مسلمانوں کی ا کثریت کو اسرائیل آنے کی اجازت نہیں۔ یہاں آنے والے سیاحوں کی بہت بڑی اکثریت غیر مسلم ہے۔ انہیں ہمارے مقامات مقدسہ سے کوئی خصوصی دل چسپی نہیں ہوتی ۔مجھے اس سے بڑھ کر اس بات کا بھی دکھ ہے کہ وہ جو تھوڑے بہت مسلمان یہاں کسی پاسپورٹ کی رعایت سے آتے بھی ہیں تو ان کا رویہ ہمارے بارے میں بہت دل بری کا نہیں ہوتا۔ یہ مسلمان ،سفری سہولت کی وجہ سے سیاحوں کے بڑے گروپس میں آتے ہیں۔ ان ٹور آپریٹرز کو اسرائیلی حکومت لائسنس جاری کرتی ہے۔اس لائسنس کی وجہ سے ان کی سیاحت پر اسرائیلی پروپیگنڈہ کی چھاپ ہوتی ہے۔ان کے تعارفی بیانیے بھی جاری کردہ گائیڈ لائن کے عین مطابق اور بہت محدود اور اسرائیل کی پالیسوں کے عین طابع ہوتے ہیں۔ وہ اگران سے ذرا بھی رو گردانی کریں تو لائسنس منسوخ ہوجاتا ہے۔ ایک غیر اعلانیہ پاسداری انہیں اس بات کی بھی کرنی ہوتی ہے کہ مسلم اور غیر مسلم دونوں ہی طرح کے سیاح مقامی مسلمان آبادی کے رابطے میں نہ آئیں۔ انہیں پہلے ہی سے خوف زدہ کردیا جائے ۔
.’’ لیکن ایسا کیوں ہے؟ ‘‘ میرا اضطراب اور تجسس دونوں ہی بہت نمایا ں تھے
وہ اس لیے کہ ہماری بے بسی اور ان کے مظالم دونوں ہی عالم آشکار ہوجائیں گے۔ہر ہفتے ان کی جانب سے ہماری اس مقدس عبادت گاہ کی بے حرمتی کا کوئی نہ کوئی واقعہ سرزد ہوتا ہے۔ہر جمعے کی صلوۃ میں اسرائیلی افواج اندر گھس آتی ہیں تاکہ لوگوں میں خوف و ہراس پھیلے۔ہم نہتے ہاتھوں سے دنیا کی تیسری طاقتور فوج کا مقابلہ کرتے ہیں۔ میں ایک مجرمانہ خاموشی سے سر جھکائے اس کا دکھڑا سن رہا تھا۔بہت سارے مسلمانوں کے لیے تو ہم کوئی وجود بھی نہیں رکھتے ۔ان میں سے کچھ مسلمان سیاح جن کے پاس اسرائیلی حکومت کے لیے قابل قبول پاسپورٹ ہوتے ہیں یہاں اپنی قیمتی کاروں میں جمعہ کی نماز پڑھنے آتے ہیں اور ہم پرنگاہ ڈالے بنا چلے جاتے ہیں۔

میرے بھائی تمہیں شاید اس بات کا خیال بھی نہ ہو کہ ہم بھی مسجد اقصی جتنے پرانے مسلمان ہیں۔ اللہ کے اس مقدس گھر کے محافظ ۔تم کیا سمجھتے ہو کہ ہم قرب و جوار کے عرب ممالک میں ہجرت کرکے نہیں جاسکتے۔1967 کی جنگ میں جب اسرائیل نے اردن کے علاقے فلسطین قبضہ کرلیا تو ہمار ی ایک بہت بڑی تعداد عرب ممالک میں جا بسی (واضح رہے کہ1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد اسرائیل نے شام کے علاقے  ہضبتہ الجولان (Golan Heights)، مصر کے زیر انتظام غزہ کی پٹی، اردن کے زیر انتظام ال ضفۃ ال غربیۃ کا ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر کا رقبہ جس میں رملہ، نابلس، جیرکو، جنین اور ہیبرون جیسے مشہور نام شامل ہیں ۔ ان تمام علاقوں پر قبضہ کیا تھا)۔ہم نے پھر بھی یہ اس علاقے میں قیام کرنا ہی اپنا فریضہ جانا ہم قدیم فلسطینی مسلمان باشندوں کی موہوم سی مدافعت دنیا کو یاد دلاتی رہتی ہے کہ یہ ہماری سرزمین ہے۔ یہ مقدس عبادت گاہ ہماری ہے ۔ ہم یہ کسی اور کے حوالے نہیں کریں گے۔ مجھے دوران کلام تو نبیل انصاری صاحب کے خیالات میں شدت پسندی کی رنگ غالب دکھائی دیا لیکن جب میں اقصی القدیم کے مقام پر پہنچا تو وہ ایک بہت بڑا راز تھا جو ہر مسلمانوں کی بڑی اکثریت کی نگاہوں سے کم علمی اور مغربی پروپیگنڈے کی وجہ سے اوجھل ہوگیا ہے۔ یہ راز آپ پر بھی آگے آنے والے حاتم کرد کی رفاقت میں اٹھائے گئے چند قدموں سے ظاہر ہوجائے گا۔ میں اپنے اس سفر کے اس موڑ کو بہت ہی اہم انکشاف سمجھتا ہوں۔
نبیل انصاری صاحب فرمارہے تھے تمہیں کیا پتہ ہے  کہ تم سے مل کر میرا دل کتنا شادماں ہے۔ اھلاً و سھلاً۔ آؤ تمہیں ایک ایسے فرد سے ملاؤں جو اقصی اور صخرۃ کے بارے میں معلومات کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہے۔اس نے موبائیل پر کسی سے بات کی اور ایک تنو مند طویل قامت ادھیڑ عمر کا مرد چند  ہی منٹ میں وہاں آن پہنچا۔
یہ حاتم کرد ہیں۔نیبل انصاری نے تعارف کراتے ہوئے مجھے ان کے حوالے کردیا اور خود کہیں چل دیے لیکن اس وعدے کے ساتھ کہ شام کو ہم بعد نماز عشا کھانا ساتھ کھائیں گے ۔ حاتم کرد کے اجداد شاید اپنے کرد سپہ سالار صلاح الدین ایوبی کے ساتھی تھے جو اس کے ساتھ صلیبی جنگوں میں فلسطین آئے تھے اور یہیں رچ بس گئے۔
حاتم نے پہلا وار میری غلط فہمی پر یہ کہہ کر کیا کہ یہ ااصلی والی مسجد اْقصی نہیں جہاں ہم کھڑے ہیں ۔ مسجداْقصی وہ سامنے ہے۔ ۔وہ بتارہا تھا کہ یہ عمارت تو وہ ہے جو صلاح الدین ایوبی نے 800 سال پہلے بنائی تھی۔اصلی اقصی اس کے نیچے والے تہہ خانے( basement ) میں ہے۔

مسجد الاقصی جسے سلطان ایوبی نے تعمیر کرایا

مجھے لگا کہ حاتم کرد کا اشارہ مسجد اقصی کے بارے میں اس قرآنی حوالے سے تھا۔ اس انکشاف سے مجھے ا پنے وجود میں ایک ولولہ تازہ کی لہر امڈتی ہوئی محسوس ہوئی۔ خیال آیا کہ حاتم کی رفاقت میں اب تقدیس و تاریخ کا ایک ایسا طلسم ہوش ربا میرے سامنے کھلے گا جس سے میرے ہم وطنوں کی ایک کثیر تعداد یقیناً  لاعلم ہوگی۔
وہ مجھے لے کر ایک ایسے دروازے پر پہنچا جہاں سے سیڑھیاں نیچے تہہ خانے میں جاتی تھیں۔
داخلے کے درازے کے عین اوپر ایک چھوٹی سی اداس پیلے رنگ کی تختی اقصی القدیم کا اعلان کر رہی تھی اسی کے نیچے مکتبۃ الخطانیہ بھی درج تھا ، مکتبہ بمعنی لائبریری اور خطانیہ وہ صاحب جن کے نام سے خواتین کی یہ لائبریری موسوم ہے۔ سیڑھیاں اترتے ہی کئی عرب نوجوان بطور گارڈ زموجود نظر آئے ۔ انہوں نے سر تا پا میرا خاموشی سے جائزہ لیا۔حاتم نے جب میرا تعارف کرایا تو ایک نعرہء مرحبا فضا میں گونجا، ہم اب اقصی القدیم میں داخل ہوگئے۔
وہ بتانے لگا کہ کعبہ کی تعمیر 6000 سال قبل حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بڑے صاحبزادے حضرت اسمعیلؑ کے ساتھ مل کر کی تھی ۔ انہیں جب وہ حضرت ہاجرہ کے پاس چھوڑ کر مکے سے فلسطین واپس اپنی اہلیہ؛حضرت سارہ اور بیٹے حضرت اسحقؑ کے پاس لوٹے تو ایک مسجد حضرت ابراہیم ؑ نے یہاں بھی بنائی ۔آپ نے یہ فریضہ اپنے چھوٹے بیٹے حضرت اسحقؑ کے ساتھ مل کرکعبہ کی تعمیر کے ٹھیک 40 سال بعد سرانجام دیا۔ہم جہاں داخل ہو رہے ہیں یہ ہی وہ مقام ہے۔ اس مسجد کا انتظام حضرت اسحق اور ان کی بعد کی نسلوں کے پاس 2000 سال یعنی اس وقت تک رہا جب بنی اسرائیل فلسطین سے مصر ہجرت کرگئے ۔یہاں اسی رب کی عبادت ہوتی تھی جو حضرت ابراہیمؑ سے لے کر محمد مصطفے ﷺاور ہم سب کا رب ہے ۔
میں آپ کی توجہ اس انکشاف کی جانب دلانا چاہتا ہوں۔
سورۃالاسرا (سورۃ ال بنی اسرائیل )کی آیت نمبر ایک میں بیان کیا گیاہے کہ ’’ بہت اعلی مرتبت ہے وہ ذات جو اپنے بندے ( حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ) کو ایک ہی رات میں مسجد الحرام (مکۃ المکرمہ میں کعبۃ اللہ) سے مسجد الاقصیٰ لے گئی جس کے ارد گرد کے ماحول میں بڑی برکات ہیں تاکہ ہم انہیں ( حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ) کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔بے شک اللہ ہی سب کچھ جاننے اور سننے والا ہے‘‘۔

وہ آیت مبارکہ جس کی تشریح ابتداءیے میں کی گءی

آپ یہاں اس بات پر بہت خصوصی توجہ دیں کہ دونوں مقامات یعنی کعبہ اور اقصیٰ کے لیے قرآن ایک ہی لفظ ’’مسجد ‘‘ استعمال کررہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ نبی کریم کی آمد سے پہلے بھی دو مقدس مساجد موجود تھیں یعنی کعبہ اور اقصی جن کا اس آیت مبارکہ میں ذکرہے۔
یہ نازک نقطہ جسے پروپیگنڈے نے اپنے اندر بہت عیاری سے اپنی مکروہ چادر میں چھپالیا ہے، آپ پر اس وقت بہت کھل کر واضح ہوجائے گا جب اقصی القدیم کی تصویر اور بیاں آگے آئے گا ۔ آپ پر یہ نقطہء اوجھل بھی کھل کر عیاں ہوجائے گا کہ یہ علاقہ مسلمانوں کے لیے کیوں مقدس ہے ۔ کیوں   یہ مٹھی بھر نہتے عرب اتنی بڑی سازش کا کیسے ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں۔ بس آپ تین نکات سامنے رکھیں۔ پہلا یہ کہ مسجد الحرام کی طرح قرآن اقصی کو بھی ایک مسجد ہی ظاہر کررہا ہے۔ دوم یہ کہ مسجد ال اقصی کی تعمیر نبی کریمﷺ کے زمانے سے پہلے کس نے کی اور سوئم یہ کہ اگر اس مقام کی دین میں کوئی اہمیت نہ ہوتی تو اللہ ہمارے نبیﷺ کو مکۃ المکرمۃ سے براہ راست ہی آسمانوں میں معراج پر لے جاتا۔ اس مسجد اور اس کے اطراف کی برکات اور نشانیاں دکھانا لازم نہ ہوتا وہاں ارد گرد کے ماحول میں بڑی برکات ہیں اور ان میں سے بھی چند نشانیوں کا انکشاف کوئی بہت بڑا راز اور مقام معرفت ہے جب ہی تو آپ ﷺ کو مکہ سے بیت المقدس اس دور افتادہ مسجد کا سفر کرایا گیا۔ یہ سفر ایسا تھا کہ اسکی صداقت جانچنے کے لیے اسی راستے پر جو مکہ سے یروشلم تک 755.1 میل طویل ہے ۔آپ کو مکہ سے آتے جاتے کئی قافلے مختلف مقامات پر دکھائی دیے تھے جن کے بارے میں مشرکین نے آپ سے سوال جواب کیے تھے جو بعد میں ان کی وطن واپسی پر بالکل درست نکلے۔ آپ کے اس بیان صادق نے آپ کی نبوت پر ایمان لانے والوں کے قلوب کو بڑی تقویت بخشی۔
یہودی اور دیگر اسرائیل نوازاستعماری قوتیں مسجد الاقصی کو گرا کر اس کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر (دیکھئے تصویر) کا جواز یہ ڈھونڈتی ہیں کہ انجیل اور تورات میں یروشلم کا ذکر بشمول Zion 823 مرتبہ آیا ہے تورات یعنی Old Testament میں یہ ذکر 669 مرتبہ اور انجیل یعنی New Testament. میں 154 مرتبہ جب کہ قرآن میں یروشلم کا ذکر ایک مرتبہ بھی نہیں۔وہ حضرت ابراہیمؑ کی واپسی پر حضرت اسحق ؑ کے ساتھ مل کر ایک مسجد (اقصی القدیم )تعمیر کرنے کا ذکر گول کرجاتے ہیں ،جس کی جانب قرآن الحکیم کی مذکورہ بالا آیت کا اشارہ ہے۔ وہ اپنا نقطہء مخاصمت کا آغاز اور اختتام موجودہ مسجد جو بالائی میدان میں واقع ہے ان کی تعمیر کا الزام وہ سیدناحضرت عمرؓ اور صلاح الدین ایوبی کو بطور غاصب فاتحین کی تعمیر کردہ عمارات کے طور پر دیتے ہیں۔اسی لیے وہ اس کو مسمار کرنے کے درپے ہیں تاکہ اقصی ال قدیم بھی ساتھ ہی برباد ہوجائے۔ مسلمانوں کے لیے اس حرم الشریف کی ایک ایک اینٹ مقدس ہے۔

صخری اور ہیکل کا منصوبہ
ہیکل سلیمانی کا تھری ڈی ماڈل
مصنف اصلی مسجدِ اقصیٰ میں ،جہاں شبِ معراج انبیاء نے نماز ادا کی

میں اب دوبارہ حاتم کے بیان کی طرف لوٹتا ہوں وہ بتارہا تھا کہ فرعون نے جب سرکشی پر کمر باندھ لی اور حضرت موسیؑ نے بنی اسرائیل کو اس کے مظالم سے نجات دلائی اور انہیں لے کر اس ارض مقدس واپس آگئے۔یہ مقام ایک عرصے سے بے توجہی اور لاتعلقی کا شکار ہے ۔ بنی اسرایئل کے بنیادی عقائد بھی بہت تبدیل ہوتے رہے ۔ وہ بھی دیوار گریہ سے لپٹ کر روتے رہے تاوقیکہ سیدنا عمرؓ نے جب فلسطین فتح کیا تو ان پر اس مقام مقدس کی حقیقت دوبارہ عیاں ہوئی۔اندر داخل ہوکر ہمارا بیس قدم کے فاصلے پر ایک اور گارڈ سے واسطہ پڑا اس نے بھی ہمارا اسقبال مرحبا کہہ کر کیا۔حاتم نے مجھے ایک مقام خصوصی کی جانب لے جانے کا اعلان کیا۔ ہم اب ایک ایسی پتھر کی بنی ہوئی زیر محراب راہداری میں کھڑے تھے جو بیس فیٹ چوڑی اور پندرہ فیٹ اونچی تھی۔یہاں سرخ قالین بچھے ہوئے تھے۔ہم دونوں ان پر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ایک ایسی دیوار پاس جاپہنچے جس کی تعمیر میں بڑے پتھر نمایاں تھے۔یہاں نہ کوئی علامات تھیں نہ کوئی آرائشی طغرے۔ اس نے میرا جائزہ بہت احتیاط سے لیا کہ کیا میں کسی بڑی حقیقت کے انکشاف کے لیے تیار ہوں کہ نہیں۔’’ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمارے نبی ﷺنے شب معراج کو انبیا کی نماز کی امامت کی تھی‘‘۔اس کا لہجہ بے حد دھیما اور الفاظ بہت ہی نپے تلے تھے گویا وہ میرے لیے اس راز سے آشنائی کے مراحل کو آسان قابل فہم اور قابل یقین بنا رہا ہو۔مجھے لگا کہ میں ایک سکوت بھرے بے کراں خلا میں بے الفاظ وجود بن چکا ہوں۔
کچھ دیر بعد جب میرے حواس بحال ہونے لگے تو میرے تھر تھراتے لبوں سے صرف ایک لفظ بمشکل ادا ہو پایا ’’یہاں؟‘‘
میرے بازو تھام کر تقریباً گھسیٹتے ہوئے وہ مجھے ایک ایسے سجادے (جانماز) کے پاس لے گیا جہاں ہمارے  نبی محترمﷺ بطور امام کھڑے ہوئے تھے۔تکبیر سیدنا ابراہیم ؑ نے پڑھی تھی۔پہلی صف میں سیدنا ابراہیمؑ ، اسحقؑ ،اسمعیلؑ ، موسیؑ ، عیسیؑ ،داؤد، سلیمانؑ ،آدمؑ جیسے انبیا تھے ،دیگر 25 رسول بھی پچھلی صفوں میں ان کے امامت میں تھے۔بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ کل 124000 انبیا اور رسول ہیں یہ بات درست نہیں یہاں برادر آپ بھی دو رکعت صلاۃ ادا کریں۔یہ میری زندگی کی طویل ترین دو رکعات تھیں۔ کئی مرتبہ بھولا ، کئی دفعہ دوبارہ شروع کی۔نماز کے اختتام پر میری ندامت کو حاتم نے بھانپ لیا اور کہنے لگا میں یہاں کئی برسوں سے آرہا ہوں ۔ اس مقام پر آج بھی مجھے انبیا کے ملبوسات کی ، ان کے وجود کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”دیوارِ گریہ کے آس پاس۔۔۔۔۔۔ کاشف مصطفےٰ اور اقبال دیوان/قسط3

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *