مشورہ: طلب اور کارآمدیت… .حافظ صفوان محمد

برس دن گزرے، ایک بڑے اردو اخبار کے راول پنڈی ایڈیشن میں ایڈیٹر کے نام خطوط میں ہیلری کلنٹن کے نام ایک کھلا دیکھا۔ خط نگار یا نگارن نے ہیلری کو جناب کلنٹن کی مبینہ “بے وفائی” پر کچھ مشورے دے رکھے تھے۔ ہم نئے نئے افسران اس وقت چائے کے وقفے میں تھے جب یہ خط ایک سینئر رینکر افسر نے نہایت دلسوزی کے ساتھ پڑھ کر سنایا۔ خط کا فوری تاثر مجھ پر یہ بنا کہ میں نے شادی میں جلدی کی ہے ورنہ میں مسٹر اور مسز کلٹن کی بیٹی چیلسیا کو زیرِ اسلام لانا بہت آسان تھا۔ یہ تاثر مزید گہرا ہو جاتا اگر میری بیگم ڈاڈھی نہ ہوتی۔ میرے عزیز دوست مرحوم چودھری شبیر احمد صاحب نے تو چیلسیا کے لیے ماہیے بھی پڑھنا شروع کر دیے جو کئی سال چلتے رہے۔ ہم دونوں میں امریکہ کو زیرِ اسلام لانے کی یہ سرد جنگ خاصا عرصہ جاری رہی۔ وہ تو جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر ہی دیا تب کہیں جاکر ہمیں امریکہ برا لگنا شروع ہوا اور ہم نے اپنے اپنے موجود قطعاتِ زمین پر ہی نفاذِ اسلام کی کوششیں تیز کیں۔

اس قسم کے مشورہ دہندگان سے دنیا بھری پڑی ہے۔ دنیا سے مراد یہاں صرف وہ پاکستانی اور برادرانِ مسلم ہیں جن کے پاس وقت کی بہتات ہے اور کرنے کو کوئی کام نہیں۔

ہم پاکستانی تو کسی کو مشورہ دیے بغیر رہ بھی نہیں سکتے۔ ہمیں مشورہ یوں آتا ہے جیسے خلائی جہاز پھٹنے کے بعد زمین کی طرف آتا ہے۔ الحمدللہ ہر مسئلے کا افلاطونی حل اور بقراطی معجون ہمارے سڑک چھاپ کے پاس بھی موجود ہوتا ہے۔ یہ مشورے باز صرف پتلونیں پہنے یونیورسٹیوں میں نہیں پائے جاتے بلکہ نہایت اعلیٰ درجے کے عقلِ کل مساجد و مدارس میں بھی ریت کے ذروں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ حضرت تھانوی نے غالبًا تعمیم التعلیم میں اس مضمون کا جملہ لکھا ہے کہ بعضے مولوی بھی جاہل ہوتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بعض جاہل مولوی مشہور ہوجاتے ہیں۔

1991 میں عراق کویت جنگ لگی تو لوگ صدام حسین کو جنگی مشورے دیا کرتے تھے۔ ان دنوں ایک بار بھائی عبد الوہاب صاحب نے رائے ونڈ میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ لایعنی کی بھی حد ہوتی ہے۔ کیا زمانہ آگیا ہے کہ تھڑے پر بیٹھا ہوا شخص صدام حسین کو مشورے دے رہا ہوتا ہے۔ اس دن مجھے لایعنی کے معنی سمجھ آئے۔

آمدم برسرِ مطلب۔ سوشل میڈیا پر آپ کو ایسے بہت سے لوگ ملتے ہیں جو نہایت اچھی نیت اور بہت اچھے عزائم کے ساتھ حکومت کو مشورے دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ جذبہ جس قدر قابلِ قدر ہے اسی قدر بیکار عادت ہے۔ ہم نے یہی دیکھا کہ یہاں تو اہم اداروں میں کنسلٹنٹس کو بڑی بڑی تنخواہیں دے کر جو مشورے لیے جاتے ہیں ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوتا تو یہ مفت کے مشورے سننے والی مخلوق کہاں بستی ہوگی۔

ہم حکومتوں اور ریاستوں کو اس قسم کے بے طلب مشورے دینے کے فیز سے عرصہ ہوا نکل چکے ہیں۔ میرے نزدیک اس قسم کی تجاویز اور مشورے محض خود کو بہلانے، وقت کے ضیاع اور آخرِ کار سخت مایوسی کے گہرے سمندر میں اتر کر ایک فرسٹیٹڈ انسان کے طور پر باقی زندگی گزارنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ یہ بات جنابِ مختار مسعود سے ان کے والد شیخ عطاء اللہ نے کہی تھی۔

ہمیں اپنی ترجیحات بدلنا چاہییں اور یکسو (focused) ہونا چاہیے۔ مشورہ “آرہا” ہو تو صرف وہ مشورہ دیا جائے جو آپ کے حلقے کے لوگوں کے لیے یا آپ کے آس پاس کے حلقوں کے لوگوں کے لیے کارآمد ہو۔ ایسے لوگوں میں بھی تجویز و مشورہ صرف اس وقت دیجیے جب آپ ان کے اندر اس کے لیے طلب پیدا کرچکے ہوں اور وہ آپ کی بات کو لینے کے لیے تیار ہوں۔ رڑے پر بیج پھینکنے سے کچھ نہیں اگتا۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *