دیوارِ گریہ کے آس پاس۔۔۔۔کاشف مصطفیٰ ،محمد اقبا ل دیوان/قسط2

(اسرائیل کا سفر نامہ ۔اپریل 2016 )

ادارتی تعارف
کتاب دیوار گریہ کے آس پاس کو مکالمہ میں خدمت دین اور فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی خاطر شائع کیا جارہا ہے۔
کتاب کا شمار اردو کی ان دنوں مقبول ترین کتب میں ہوتا ہے۔مشہور سیاح اور مصنف مستنصر حسین تارڑ بھی اسے پڑھ کر ششدر رہ گئے تھے۔
یہ سفر اپریل 2015 میں جناب کاشف مصطفے نے کیا تھا۔یہ انگریزی میں تحریر یاداشتوں کا ایک غیر کتابی سلسلہ تھا جسے ہمارے جگر جان ،محمد اقبال دیوان نے موصول شدہ انگریزی نوٹس کی مدد سے اردو کے قالب میں ڈھالا اور اسے ادارہ قوسین نے اردو کے مشہور جریدے سویرا کی وساطت سے کتاب کی صورت میں لاہور سے شائع کیا۔اس کتاب کو لکھنے میں اور اس کی اشاعت و ترویح میں ان کا بہت حصہ ہے۔یہ کاوش بیش بہا پہلے سے کسی کتاب کی صورت میں کسی زبان میں موجود نہ تھی۔قارئین مکالمہ کی خاطر کچھ تصاویر جو کتاب میں موجود نہ تھیں وہ وضاحت مضمون کی خاطر نیٹ سے شامل کی گئی ہیں
ہما رے دیوان صاحب ڈاکٹر صاحب کے ہم زاد ہیں ۔سابق بیورو کریٹ اور صاحب طرز ادیب ہیں ۔سرجن کاشف مصطفے جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں اور ان کا شمار دنیا کے نامور ہارٹ سرجنز میں ہوتا ہے۔بہت صاحب نظر اور اہل رسائی ہیں۔کاشف صاحب کوہ پیما ہیں،پیراک ہیں، میراتھن رنر ہیں اور دنیا کے ستر سے زائد ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔تنہا سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان دو دوستوں کی اس کاوش کی اشاعت ادارہ مکالمہ اپنے لیے باعث تفاخر سمجھتا ہے۔
ایڈیٹر ان چیف

tripako tours pakistan

انعام رانا!

گزشتہ سے پیوستہ
جافا کی مسجد ال بحر بالکل خالی تھی ۔میرے جیسے کچھ سیاح ادھر ادھر کہیں فوٹو کھینچ رہے تھے۔ایک سیاح اندر آنے کا خواہشمند بھی تھا ۔مجھ سے اجازت طلب کی تو میں نے بتایا کہ خاکسار بھی مسافر ہے۔ جس پر اس نے کہا کہ ۔ جافا میں غروب آفتاب کا منظر دنیا بھر میں سب سے سہانا منظر مانا جاتا ہے۔ آپ اسے مسجد کے مینار سے دیکھ سکتے ہیں۔اس کا فوٹو گرافی کا سامان دیکھ کر لگا کہ وہ کوئی پیشہ ور فوٹو گرافر ہے۔میں بھی سیڑھیوں کے راستے پیچھے پیچھے ہولیا۔ دنیا بھر میں شامیں اداس ہوتی ہیں مگر جافا کی اس شام میں کا حسن کسی حسین بیوہ کی سوگوار ی مانند تھا۔منار کی محراب سے میں نے جب سورج کو بحیرہ روم میں ڈوبتے دیکھا تو مجھے لگا کہ خون کی سی سرخی لہروں میں گھل گئی ہے۔
بہت ممکن تھا کہ محو نظارہ ہوکر میں اسی جمال فطرت کی رعنائیوں میں کچھ دیر اور بھی گم رہتا مگر عین اس وقت فون کی گھنٹی بجی دوسری جانب میری دوست ڈاکٹر کلور لی چیخ رہی تھی کہ’’ کہاں ہو؟ وہ وائن تمہارا ہوٹل میں منتظر ہے‘‘۔میں نے ہڑ بڑا کر گھڑی دیکھی تو شام کے ساڑھے سات بج چکے تھے۔ میں منمنایا کہ مسجد البحر کے منارے سے غروب آفتاب کا منظر دیکھ رہا تھا۔مجھے اس اعتراف پر فوراً معافی مل گئی کہ وہ بھی اس غروب آفتاب کو دنیا کا سب سے خوبصورت منظر مانتی ہے ۔اس کا اگلا حکم یہ تھا کہ میں وہیں رکوں۔ ڈرائیور وائن مجھے مسجد ال بحر کے پاس ہی سے لے گا۔میں نے تمہارے لیے خاص طور پر گولاش (سبزی اور فوشت کا اسٹو ہنگری کے چرواہوں سے منسوب ہے) اور آرٹی چوک سلاد تیار کیا ہے
’’جو حکم مادام میں تیار ہوں‘‘

پہلا انگریزی نوٹ جو موصول ہوا
موجودہ قسط کا انگریزی نوٹ

نئی قسط

بھوک کا معاملہ بھی عجیب ہوتا ہے۔ آپ جب کھانا شروع کرتے ہیں تب کہیں جا کر احساس ہوتا کہ شکم محرومی کس بلا کا نام ہے۔جب میں نے دوسری مرتبہ گولاش کو پیالے میں انڈیلا تو اپنے ندیدے پن کا احساس ہوا۔میں نے اپنی خفت چھپاتے ہوئے اپنے میزبانوں ڈاکٹر کلور اور ان کے میاں ڈیوڈ کی جانب دیکھا۔ ان کے چہرے پرطمانیت بھری مسکراہٹ تھی ۔ ڈاکٹر صاحبہ ذہین ہیں۔ بے حد ذہین ۔ میرے تاثرات پڑھ کر کہنے لگیں  کسی بھی شیف کے لیے اس  سے بہتر تعریف کوئی نہیں ہوسکتی کہ آپ اس  کی  پکائی ہوئی ڈش خاموشی سے ہڑپ کر جائیں ۔ویسے بھی بھوکے مسافر کو کھانا کھلانا ہمارے ہاں بھی بڑے اعلی درجے کی نیکی سمجھا جاتا ہے۔مجھے لگا کہ میں نے بھی ایک بھوکے ملاح کی مانند خوب کھایا ہے۔

golash

آنجہانی ڈاکٹر کلور لی

ڈنر کے برتن ٹیبل سے سمیٹتے ہوئے ڈاکٹر صاحبہ نے مجھے اور ڈیوڈ کو بالکونی کا راستہ دکھایا۔ان کا سپرتعیش اپارٹمنٹ تل ایبب کے ایک مہنگے علاقے اور مشہور ترین روتھ شیلڈ بولے ورڈ پر واقع تھا۔بالکونی سے نیچے پر رونق کلب اور ریستوران اور مہنگے بوتیک قطار در قطار موجود تھے۔ڈیوڈ نے ادھر ادھر دیکھا اور اپنے کوٹ کی جیب سے دو عدد مونٹی کرسٹو سگار برآمد کیے ۔اسے یاد تھا کہ میں جب تعطیلات پر نکلا ہوا ہوں تو یہی سگار شوق سے پیتا ہوں۔
ڈیوڈ کو یہودیوں کا ربائی (یہودی مذہبی پیشوا اس کا اردو ،انگریزی اور عربی ترجمہ وہی ہوتا ہے یعنی مولیٰ ۔انا میرے آقا، My Lord ۔ )بننے کا شوق تھا ۔ اس  کے ارادے کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑی یہ مجبوری بنی کہ اس کی والدہ یہودی نہ تھیں ۔ قربت الہی اور بھٹکے ہوؤں کی رہنمائی کی قابلیت کے جو سرٹیفکیٹ ان کا دار ال نابئین Board of Deputies جاری کرتا ہے اس نے والدہ کا یہودی نہ ہونے کا خفیہ عذر سامنے رکھ کر ڈیوڈ کو کئی کئی دفعہ امتحان میں فیل کیا ۔تو اس نے بھی نیا پیشہ اپنانے کی سوچی اور کاروں کی ڈیلر شپ لے کر بیٹھ گیا ۔اب وہ ایک کامیاب کروڑ پتی بزنس مین ہے۔

rothschild boulevard

’’ تو آپ   پھرربائی بننے سے رہ گئے۔؟‘‘ میں نے بھی چھیڑا
’’ہرگز نہیں ربائی تو میں اب بھی ہوں ۔بس میرے پاس سرٹیفکیٹ نہیں‘‘ اس نے چالاکی سے جواب دیا۔
میرے تل ابیب سے جلد رخصت ہونے کا سن کر اسے افسوس ہوا ۔اس نے جتلایا بھی کہ میں نے تو ٹھیک سے ابھی تل ابیب دیکھا بھی نہیں کچھ دن اور ٹھہروں۔
’’ یہ میرے مزاج کا شہر نہیں۔بہت جدید ہے۔ اس کی تاریخ بھی صرف 110سال پرانی ہے اسرائیل کی  دیگر بستیوں کے مقابلے  میں تو یہ محض ایک دودھ پیتا بچہ ہے‘‘ میں نے جان چھڑاتے ہوئے جواب دیا۔
’ہاں میں تو بھول ہی گیا تھا کہ تم خود بھی ایک ایسے اجڑے ہوئے ماہر آثار قدیمہ کی روح ہو جو سرد مہری سے ہیٹ پہنے ویرانوں میں  تاریخی نوادرات کھوجتا ہو۔لیکن میرے دوست ایک بات کا خیال رکھنا حالات کچھ گھمبیر ہیں،مسجد اقصی اور ہیبرون جہاں آپ جانا چاہتے ہو وہاں چند دنوں سے کسی نہ کسی کو چھرا گھونپ دیا جاتا  ہے۔۔ اسرائیلی فوجی وہاں بار بار چڑھائی کررہے ہیں دونوں اطراف کے عوام میں بہت اشتعال ہے۔ ایسا نہ ہو  تمہارا شمار بھی محض ایک بد نصیب مردہ سیاح کے طور پر ہو‘‘

اسے جانے دو۔تم اچھی طرح جانتے ہو وہ تمہارے منع کرنے سے   رکنے والا نہیں۔ڈاکٹر کلور نے بالکونی میں داخل ہوتے ہوئے اسے تنبیہہ کی۔ میری پسندیدہ اطالوی روسٹیڈ بلیک کافی کی پیالیاں اس نے ٹرے میں سجارکھی تھیں۔
’’ مسجد اقصی تم لوگوں کے ہوش و حواس پر کیوں اس بری طرح طاری ہے؟ میں نے بھی شرارتاً اسے چھیڑنے کے لیے پوچھا۔ ہم مسلمانوں نے تمہارے رونے اور گناہ معاف کرانے کے لیے ایک پوری دیوار گریہ چھوڑ دی ہے۔تم اگر مسجد اقصی کو چھوڑ دو تو مسلمانوں سے آدھی دشمنی تمہاری فوراً ختم ہوجائے گی۔
ڈیوڈ نے اپنی بیوی پر ایک محتاط باخبر نگاہ ڈالی اور آہستہ سے اک آہ بھر کر کہنے لگا کہ’’ اس بارے میں ہمارا نقطہء نظر تم سے بہت مختلف ہے‘‘
’’ہم سے کیوں یہودی تو ایک دوسرے سے بھی اختلاف کرنے سے نہیں چوکتے ‘‘ میں کہاں دم لینے والا تھا۔میری بات سن کر ڈاکٹر کلورلی  کھلا کھلا کر ہنس پڑی اور کہنے لگی’’ بات تو تم ٹھیک ہی کرتے ہو مگر اس کو سن لو گے تو تمہاری معلومات میں اضافہ ہوگا‘‘۔
ڈیوڈ نے کافی کا بڑا سا گھونٹ لیا اور بتانے لگا کہ’’ ہماری مقدس کتاب تلمود ( بمعنی ہدایات )میں لکھا ہے کہ موجودہ عہد کی کل معیاد ہمارے کیلنڈر کے حساب سے 6000 سال ہے۔ اس کے بعد ہمارے مسیحا موعود Mossiach نے آنا ہے۔اس وقت تک 5776 برس بیت چکے ہیں اور کل برس 224 اس وعدے کے پورے ہونے میں باقی ہیں۔ساری دنیا یہودی بن جائے گی۔دنیا بھر سے یہودی اسرائیل میں آن کر آباد ہوجائیں گے اور سلطنت داؤد ( Kingdom of David)دوبارہ اپنی آب و تاب سے قائم ہوجائے گی۔۔یہ کہہ کر اس نے کسی متوقع سوال کے لیے میری جانب دیکھا۔
یہاں یہ وضاحت لازم ہے کہ بائبل کی پہلی پانچ کتابیں جنہیں توریت کہا جاتا ہے ان میں میں آمد مسیحا کا کوئی ذکر نہیں۔ البتہ تیرھویں صدی میں سلطان صلاح الدین ایوبی یہودی ہسپانوی معالج موسی بن مامون (Rambam) نے جو تیرہ عقائد وضع کیے اور چودہ جلدوں  کی وضع کردہ تلمود میں مسیح موعود کا ذکر ہے۔۔ اہل یہود کی وہ دعا جسے یہ ’’شمونے عسرے ‘‘کہتے ہیں یہ کنیسہ synagogue میں کھڑے ہوکر دن میں تین دفعہ پڑھی جاتی ہے اس میں مسیح موعود کی آمد، دنیا بھر میں موجود یہودی مہاجرین کی اسرائیل واپسی،ان کی شرعی عدالتوں کا قیام، اہل یہود کے لیے دور خوش حالی و فراوانی ، مردوں کا دوبارہ جی اٹھنا، انصاف کی برتری ،ہیکل سلیمانی کی تعمیر اور سلطنت داؤد کا قیام لازمی جز ہے۔

mosa bin mamoon

حیرت کی بات یہ ہے کہ اہل یہود میں کسی شخص کو دعویٰ مسیحائی جائز نہیں، نہ ہی اسے وہ وقت ظاہر کرنا ہے جس میں اس کی آمد ہوگی۔ مسیحا کا اگر مشن ہے تو وہ اس کی موت سے پہلے مکمل ہوجائے گا لیکن  اگر وہ خود مشن کی تکمیل سے پہلے دنیا سے سدھارجائے تو وہ مسیحا نہیں تھا۔ یہودیوں نے اس معاملے میں بہت احتیاط رکھی ہے کیوں کہ اٹھارویں صدی میں ان کا ایک بڑا ربائی Shabbatai Tzvi جس نے مسیحائی کا دعویٰ کیا تھا وہ مسلمان ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی بہت سے یہودی بھی دائرہ اسلام میں آگئے۔ اس کے باوجود مسلمانوں کے کچھ فرقوں کی طرح یہ بھی مسیحا کی آمد کا بڑے شد و مد سے انتظار کرتے ہیں۔

آیئے دوبارہ ڈاکٹر کلور لی کی بالکونی میں بیٹھے اس کے انتہائی باعلم شوہر ڈیوڈ سے سلسلہ تکلم جوڑتے ہیں۔ میں نے اسے چھیڑتے ہوئے پوچھا کہ ہم مسلمان اور ہماری یہ مسجد اقصی آپ کے اس سہانے خواب کی راہ میں کیسے رکاوٹ بن رہی ہے یہ تو مجھے سمجھائیں؟
۔’’ ہمارا معبد ثلاثہ Third Temple یعنی ہیکل سلیمانی عین اس جگہ تعمیر ہونا ہے جس ٹیلے پر مسجد اقصی قائم ہے۔یہ منصوبہ مسیح موعود کی  آمد سے پہلے پایہ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہے‘‘۔
اس کے جملے بتدریج معذرت خواہا نہ سرگوشی میں بدل گئے ڈاکٹر کلور نے بھی ایک مہذب انداز سے نگاہیں کسی اور جانب مرکوز کرلیں۔ایک ناآسودہ سی خاموشی ماحول پر چھا گئی۔
’’اس طرح تو تمہارے پاس کل 224 برس ہی باقی رہ گئے ہیں؟‘‘ میں نے بھی ایک خفیف طنز کیا۔اس نے بھی یہ سن کر اثبات میں سر ہلا دیا۔میں نے ڈاکٹر کلور کی جانب ایک نگاہ ڈالی جس کی خاموشی میں ایک گہری دوست کی ایسی مفاہمت بھری معنی آفرینی تھی جو آنے والے خطرات کا بہت دھیمے سے پتہ دے رہی تھی۔
’’اگر ایسا ہے تو مجھے جلد ہی مسجد اقصی دیکھ لینی چاہیے‘‘۔
موضوع کی یہ تبدیلی ڈاکٹر کلور کی آنکھوں میں میرے لیے ستائش کے نئے رنگ بکھیر گئی۔
میزبانوں سے جلد ہی رخصت ہوکر میں ہوٹل کے لیے رخصت ہوگیا۔ تل ابیب کی گلیوں پر نیند کا خمار آہستہ آہستہ طاری ہورہا تھا۔ایک بوڑھا عرب کسی پارٹی کی ترک شدہ باقیات سمیٹ کر کچرا جمع کررہا ۔بحیرہء روم بھی شانت تھا۔فضا میں برسات کی سوندھی سوندھی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ایک جیتا جاگتا مچلتا ہوا شہر اب ادھ مواء ہوکر خواب غفلت لپٹ گیا تھا۔
راستے میں ہماری کار کو تین چیک پوائنٹس پر روکا گیا۔میرے بارے میں سنتریوں کے چہرے پر اس وقت نرمی آجاتی تھی جب انہیں میرے سیاح ہونے کا اطمینان ہوجاتا تھا۔وائن نے تیسری چیک پوسٹ سے گزرتے ہی کار کے عقبی شیشے سے مجھ پر گہری نگاہیں ڈالتے ہوئے ہنستے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ مجھے اس لیے روک رہے ہیں کہ میں شکل سے عربوں کی مانندناقابل اعتماد لگتا ہوں۔ میری خاموشی نے اس کی طبع تفنن کو آلودہ کردیا۔
اس نے میرے لیے ڈرائیور کا پہلے سے بندوبست کر لیا تھا ۔ وہ اسی کا دوست تھا۔ مجھے صبح وہ آٹھ بجے ہوٹل سے یروشلم لے جانے کے لیے آئے گا۔ مجھے اسے 350 شیکل دینے ہوں گے۔ اسرائیل کی یہ کرنسی ہمارے 11000 روپوں کے لگ بھگ ہوتی ہے۔آٹھ تو جلدی ہے میں سونا چاہتا ہوں وہ دس بجے آئے گا تو میرے لیے بہتر ہے۔
لابی سے کمرے تک میرے ذہن میں ڈیوڈ کی بات کی چنگاریاں چٹاخ پٹاخ بھڑک رہی ہیں۔ وہی ہیکل سلیمانی کی تعمیر ۔تاریخ کے گم شدہ خزانوں کی تلاش میں مسجد اقصی کی بنیادوں کی کھدائی کی  خبریں ۔وہ چاہتے ہیں کہ اس کی بنیاد ایسی کمزور ہوجائے کہ یہ خود بخود فلسطینوں کی مانند کھڑے کھڑے ڈھے  جائے تاکہ اس کے ملبے سے وہ  اس  ہیکل کی تعمیر کرسکیں۔
سوالات کا ایک طوفان میرے ذہن میں اٹھ رہا تھا کہ کون ہے جو مسلمانوں کے اس قبلہء اول کی حفاظت کررہا ہے۔دنیا کی تیسری بہترین اسرائیلی فوج کے مقابلے پر کون سینہ سپر کھڑا ہے۔ یہ جھلسے ہوئے، مرجھائے، کچلے ہوئے پچاس ہزار فلسطینی جو وہاں آباد ہیں۔وہی حقیقی باشندے جن کے جوانوں کی اکثریت یا تو ٹور گائیڈ ہے یا ٹیکسی ڈرائیورز ۔ میرے بستر استراحت پر نیند میں ڈوبتے
ہوئے مجھے لگا کہ کل سو میل کے فاصلے پر تاریخ کروٹیں لے کر ایک بڑی جنگ جسے عرب ہرمجدون اور باقی سبArmageddon کہتے ہیں ۔ اس کی تیاریاں بڑی خاموشی سے شروع ہوگئی ہیں۔
نیند کے آتے آتے مجھے ایک افریقی زولو شامن( جادوگر اور درویش) کی بات یاد آتی رہی کہ ’’اختتام ہماری توقع سے جلدی ہوجاتا ہے۔‘‘

Armageddon

ہوٹل میں ناشتہ کی میز پر مغربی اور عربی طعام کی بھرمار تھی۔دس بجے  ڈاکٹر کارلا کے میاں ڈیوڈ کا ڈرائیور دوست ایلی مجھے لینے  آگیا۔تل ابیب سے یروشلم کی شاہراہ قدرے پرسکون تھی۔ایلی میرے مزاج کا ڈرائیور تھا۔دھیما ،خوش مزاج ، پراعتماد اور احتیاط سے گاڑی چلانے والا۔والدین کا تعلق روس کی ریاست جارجیا سے   تھا۔12 سال کی عمر میں والدین کے ساتھ اسرائیل آگیا تھا۔ اب پچھلے چالیس سال سے یہیں پر مقیم ہے
یروشلم تل ابیب سے کتنا دور ہے۔؟ میں نے اپنی معلومات میں اضافے کے لیے پوچھ لیا
’’ 85 ‘‘ کلومیٹر اس کا جواب مختصر تھا۔
سو ہم ایک گھنٹے میں وہاں پہنچ جائیں گے میں نے بھی اندازہ لگانے میں کچھ عجلت کا مظاہرہ کیا۔
’’جی نہیں جہاں کا قیام ہے وہاں پہنچتے پہنچتے ہمیں دو گھنٹے لگیں گے‘‘۔ اس نے بھاری مشرقی یورپی لہجے میں شکایتاًبتایا۔

’’ڈیوڈ کہہ رہا تھا آپ ایک ڈاکٹر ہیں‘‘ ڈرائیور نے پوچھا۔میرا جواب اثبات میں پاکر اس نے اگلا سوال بھی داغ دیا کہ’’ آپ نے مشرقی یروشلم میں قیام کرناکیوں بہتر جانا؟‘‘۔
میں نے فلسفیانہ انداز میں جواب دیا کہ شہر یوں کے درمیاں رہنے میں مجھے اچھا لگتا ہے۔مجھے اس کے سوال کی کاٹ سمجھ آچکا  تھا ۔مشرقی یروشلم مسلمانوں کا علاقہ اور ہنگاموں کا مرکز ہے۔سیاح وہاں قیام کرنا ناپسند کرتے ہیں کیوں کہ چوبیس گھنٹے اسرائیلی فوج وہاں ڈیرے ڈالے رہتی ہے۔ شاہراہ ء سلیمان پر میرے گولڈن وال ہوٹل کا مالک مسلمان تھا اور ایلی کی تشویش بجا تھی۔ مجھے خدشہ ہوا کہ اسے مسلمانوں کے علاقے میں گاڑی لے جانے میں کچھ تامل ہے۔۔میرا مسئلہ یہ تھا کہ مسجد اقصی کے قریب ترین یہ واحد قابل قیام ہوٹل تھا۔

golden wall hotel

’’مجھے آپ مشرقی یروشلم سے پہلے اتار دو میں وہاں سے کسی عرب ڈرائیور کی ٹیکسی میں وہاں پہنچ جاؤں گا۔میں نے اپنی جانب سے ایک مفاہمت کا راستہ چن لیا
’’ارے نہیں میرے وہاں بہت سے عرب دوست ہیں ۔میں تقریباً ہر ہفتے ہی وہاں جاتا ہوں۔ میں عربی بھی بول سکتا ہوں‘مجھے آپ کی جانب سے فکر ہے
میں نے جب اللہ مالک کہا تو جواباً اس نے بھی وہی الفاظ دہرائے اور مجھے یقین آگیا کہ وہ عربی مجھ سے بہتر ہی بولتا ہوگا۔
اس نے کار کا شیشہ نیچے اتارتے ہی مجھے تل ابیب کی بوجھل دھواں دھار ہوا کی بجائے ٹھنڈے ، خوشبودار جھونکے سانس کے ساتھ اپنے وجود میں گھلتے ہوئے محسوس ہوئے۔یروشلم اسرائل کا دار الخلافہ، تل ابیب سے 1000 میٹر اوپر ہے۔تل ابیب کی جغرافیہ میں آپ کو ایک بنجر سی اداسی محسوس ہوتی ہے جو یروشلم تک آتے ٹھنڈک بھری ہریالی میں بدل جاتی ہے۔یہاں تاریخ ،گھاس، درخت ،جھاڑیا ں اور عربوں کے خون کی ہر دم تازہ نئی فصل ایک ساتھ اگتی ہے۔انسانی خون اور ہلاکت میں بسی یہ ہریالی پھر بھی دل کو بھلی لگتی ہے۔
شہر کے عین قریب چیک پوائنٹ پر جب ہمیں روکا گیا تو کئی گارڈ ایلی کو جانتے تھے اور وہ محو کلام ہوئے تو میں بھی باہر کا منظر دیکھنے میں مصروف ہوگیا۔نگاہوں کے اس جائزے کو اچانک ایک جھٹکا لگا۔ایسا لگا کہ کوئی بجلی سی کوند گئی ہے۔سامنے ایک سبز بورڈ پر انگریزی ، عربی اور عبرانی میںAL-QUDS AS-SHARIF درج تھا

jerusalem -tel aviv highway

یروشلم ( بمعنی گہوارہ ء امن) کا نام حضرت داؤد علیہ سلام نے جیبس(عربی یبوس) کی ایک چھوٹی سی بستی کو حضرت عیسی ؑ کی پیدائش سے 1000 سال پہلے فتح کرنے کے بعد رکھا۔اسے انہوں نے اپنی راج دھانی بنادیا۔یہ بھی تاریخ کا عجب تمسخر ہے کہ اس دار الامان کا23 مرتبہ محاصرہ کیا گیا52 مرتبہ اس پر فوج کشی ہوئی اور 44 دفعہ اس پر قبضہ ہوا ۔
شہر کی سلطان سلیمان اسٹریٹ پر پہلا گمان تو پنڈی کے راجہ بازار کا گزرتا ہے۔ کم سن بچوں کی طرح مین اسٹریٹ سے دامن چھڑا کر بھاگتی ہوئی شریر تنگ گلیاں۔ راجہ بازار بدصورت ہے ، گندا ہے کسی نشئی فقیر کی طرح ، سلیمان اسٹریٹ ایک ایسی بیوہ کی مانند ہے جس کو تاریخ نے حسن بزرگی اور رکھ رکھاؤ دے دیا ہے اور مظلومیت نے اس کے سر کے چاندی جیسے تاروں پر مظلومیت کا سفید دوپٹہ ڈال دیا ہے۔ گزرتی ہوئی شور مچاتی گاڑیاں، چھوٹے چھوٹے دھابے۔اس کے دمشق دراوازے کے ساتھ ہی میرا گولڈن وال ہوٹل تھا۔یہ ہوٹل ایک خاندان مل جل کر چلاتا ہے۔مسرور اور خوش اخلاق رفیق نام کے منیجر نما مالک نے مجھے خوش آمدید کہا۔کمرے چھوٹے مگر بہت صاف ستھرے  تھے 110 ڈالر یومیہ کرائے میں عربی ناشتہ بھی شامل تھا۔

damascusgate
Damascus-Gate

میرے کمرے کی کھڑکی سے یروشلم شہر کی قدیم فصیل کا منظر ایک بلاوا تھا۔کمرے سے نکل کر میں جب ریسپشن پر آیا تو منیجر رفیق صاحب کی چائے ، کافی کی پیشکش کا میں نے صرف ایک جواب دیا’’ اقصیٰ‘‘
ان کا رویہ پدری شفقت سے لبریز تھا۔اور سوال بھی۔ مجھے اچھا لگا۔میرے وطن پاکستان کا نام جان کر اس کے چہرے پر دھنک رنگ بکھر گئے۔جواب میں اس نے بھی جب لفظ پاکستان کو دہرایا تو مجھے وہ نام اس کے عربی لہجے میں ایک ورد اطمیان و اعتماد لگا۔ اس نے فور جذبات سے مغلوب ہوکر کہا واللہ حبیبی آپ پہلے پاکستانی ہیں جو ہمارے مہمان بنے ہیں۔اور ساتھ ہی اس نے ایک نعرہ ء مستانہ لگایا جس کو سن کر ہوٹل کا سارا عملہ کاؤنٹر پر پہنچ گیا ۔ یہ عملہ کیا تھا ۔ان کے بھائی بھابھیاں،خالہ پھوپھیاں ،بھانجے، بھتیجیاں اور کزن اور انہیں کہا کہ میرا بھائی کاشف ہمارے ہوٹل میں پاکستا ن سے آنے والا پہلا مگر اللہ نہ کرے آخری مہمان ہو ۔سو اس کے قیام کو ایسا سہانا اور پرلطف بنادو کہ یہ ساری عمر اسے یاد رکھے۔اس نے ہوٹل اس بھلے چنگے خاندان کے باقی افراد کے حوالے کیا اور میرا ہاتھ تھام کر سوئے اقصی ٰ چل پڑا۔
’’برادر رفیق میں مسجد اکیلا جانا چاہتا ہوں‘‘
وہ میرا مطلب سمجھ گیا اور ہوٹل کے باہر لے جاکر مجھے بتانے لگا کہ تیسرے سگنل سے بائیں ہاتھ مڑ جاؤ۔پرانے شہر میں دمشق گیٹ سے داخل ہوجاؤ اور سیدھے چلتے چلے جاؤ‘‘
اور پھر ‘‘ میں نے وضاحت مانگی۔
’’ادھر اُدھر مت دیکھو وہ تمہیں خود ہی ڈھونڈ لے گی۔‘‘ اس نے مجھے بہت آہستہ سے انسانوں کے ایک سمندر میں دھکیل دیا۔ 65 ممالک کی سیاحت نے مجھے ہر طرح کے معاشرے اور افراد سے ملنے کا موقع  دیا ہے لیکن تاریخ کا ایک بوجھ مجھے اس شہر میں محسوس ہوا۔ ایک طرف گورے سیاحوں کی بھرمار تھی،جنہیں ٹور گائیڈ اپنی مرضی سے ہانک رہے تھے۔
ایسا ہی ایک متوازی سیل رواں شور مچاتے ، سیلفیاں لیتے ، فلیش چمکاتے چینی سیاحوں کا بھی تھا۔ ان کے پاس بھی جاپانیوں کی طرح بہت دولت بہت جلدی آگئی ہے۔ اسی اور نوے کی دہائی میں ہر جگہ جاپانی سیاحوں کے غول  کے غول دکھائی دیتے تھے ۔اب جاپان میں بوڑھے زیادہ اور نوجوان کم ہوگئے ہیں تو سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوگئی ہے۔بڑھاپے میں جو مزہ گھر میں رہنے میں آتا ہے وہ شاید کسی اور عمر میں نہیں آتا۔اپنے سیاحت کے تجربے میں مقامات مقدسہ اور عبادات پر میں نے سب سے برا طرز عمل چینیوں کا دیکھا۔مثلاً ال جلجثہGolgotha یعنی وہ مقام جہاں حضرت عیسیؑ کو ایک روایت کے مطابق مصلوب کیا گیا تھا وہاں تقدس اور خاموشی لازم امر ہے مگر چینیوں کی بد تہذیبی وہاں بھی بہت کھل کر عیاں تھی اور گراں گزر رہی تھی انتہائی مضحکہ خیز انداز میں یہ گروپس شور مچا مچا کر سیلفیاں اتار رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر مجھے لگا کہ دولت سے کلاس اور سلیقہ نہیں آتا، کم از کم فوراً تو ہرگز نہیں آتا۔
دمشق دروازے سے کچھ ہی فاصلے پر میری نگاہ ایک بورڈ پر پڑی جس پر درج تھاCave of Zedekiah, Solomon’s Quarry” بورڈ دیکھتے ہی مجھے سرجری کے استاد مسٹر کاٹز یاد آگئے وہ فری میسن تھے۔ انہوں نے مجھے کہا تھا کہ’’ تمہارے دل کا ابن بطوطہ تمیں یروشلم لے جائے تو میری جانب سے غار ذیڈے کاہیا میں ایک شمع روشن کردینا ۔ یہ مت پوچھو کیوں؟‘‘۔

غار ذیڈے کاہیا

جب میں نے وہاں داخل ہونے کی کوشش کی تو نیم خوابیدہ گارڈ ایک بے لطف سی نگاہ مجھ پر ڈالی اور داخلے کے لیے اس نے 16 شیکل کی فیس طلب کی۔اندر کوئی نہ تھا۔مجھے کوئی شمع بھی نہ ملی کہ روشن کرتا ،میں نے ایک غائبانہ معذرت ڈاکٹر کاٹز سے کی اور چل پڑا ۔ بہت بعد میں مجھے علم ہوا کہ یہ جگہ خفیہ مغربی تنظیم فری میسن کے لیے بہت اہم ہے۔ یہاں سے پتھر کھود کر ہیکل سلیمانی تعمیر ہوا تھا۔قدیم فری میسن یہیں پر اپنے خفیہ اجلاس منعقد کرتے تھے اور ان کا سالانہ اجتماع تو اسی مقام پر بڑا دھوم دھڑکے سے یہاں منعقد ہوتا تھا۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply