پنجاب یونیورسٹی میں بلوچستان کا روشن چہرہ۔۔۔۔۔ سمّی بلوچ

صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی سمّی رشید پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والی پہلی نوجوان خاتون ہیں۔ مکران کی بیٹی سمّی رشید کا تعلق تربت ڈسٹرکٹ، کیچ سے ہے۔ وہ اس وقت بلوچ کاؤنسل پنجاب یونیورسٹی کی خواتین ونگ میں بطور چیئرپرسن اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم کیچ گرائمر اسکول تربت سے حاصل کی۔ بی ایس سی بلوچستان یونیورسٹی سے مکمل کرنے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے پنجاب یونیورسٹی لاہور کا رُخ کیا۔ جہاں انہوں نے ایم ایس سی زولوجی میں داخلہ لیا اور اسے مکمل کرنے بعد پنجاب یونیورسٹی میں ہی ایم فل کا ٹیسٹ دیا، جس میں انہوں نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ان کی تعلیمی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے آرمی نے ان کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا اور ان کے لیے اسکالرشپ کا اجرا کر دیا.

ایم فل میں فرسٹ ڈویژن حاصل کرنے بعد پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ نے ان کی تعلیمی قابلیت کو سراہتے ہوئے انہیں پنجاب یونیورسٹی سے ہی “پی ایچ ڈی” کرنے کا مشورہ دیا. پنجاب یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی مخصوص نشستیں ہوتی ہیں جن کی مجموعی تعداد 15 ہے لیکن انہوں نے داخلے کے ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی دکھا کر اپنی جگہ بنا لی۔ اسی تعلیمی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے بلوچستان کی اول پی ایچ ڈی اسکالر خاتون ہونے کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیا.

تعلیمی میدان میں اپنے جوہر دکھانے کے ساتھ ساتھ وہ روز اول سے فلاحی اور سماجی کاموں میں بھی پیش پیش رہی ہیں. بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبا بالخصوص فی میل طالبات کی رہنمائی کرنے میں انہوں نے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور باقاعدگی سے انہیں تعلیم کی جانب مائل کرتی رہیں.

ایم فل کے دوران ہی انہوں نے بلوچ کاؤنسل پنجاب یونیورسٹی کی خواتین ونگ کا عہدہ سنبھالا اور ڈگری مکمل ہونے تک اسی پر فائز رہیں. ڈگری کے اختتام پر وہ خود اپنے عہدے سے دست بردار ہوئیں مگر پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم بلوچ طلبا کے پُرزور مطالبے پر انہوں نے ایک بار پھر چیئرپرسن کا عہدہ سنھبالنے کی حامی بھر لی.

بلوچستان سے آنے والی طالبات خواہ وہ سٹڈی ٹورز کی غرض سے آئی ہوئی ہوں یا لاہور کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے، وہ ہمہ وقت ان کی خدمت میں پیش پیش رہی ہیں. بلوچستان اور بلوچ سماج سے تعلق رکھنے کی بنا پر انہیں قدم قدم پر مشکلات کا سامنا رہا مگر انہوں نے بہادری اور مسقل مزاجی سے ان کا سامنا کرتے ہوئے اپنے سفر کو جاری رکھا.

پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم فیمیل اسٹوڈنٹس کے داخلے سے لے کر ہاسٹل الاٹمنٹ تک وہ سب کی مدد کرتی رہی ہیں. ان کی خدمات کی وجہ سے پنجاب میں زیرتعلیم فیمیل اسٹوڈنٹس نے انہیں “بڑی امی” کا خطاب دیا ہے. ان کی خدمات محض فیمیل طالبات تک محدود نہیں رہی ہیں بلکہ انہوں نے میل طلبا کی بھی ہمیشہ رہنمائی اور مدد کی ہے.

ستم ظریفی یہ ہے کہ سّمی بلوچ جیسی دیگر خواتین کی حوصلہ افزائی اور امداد کے لیے حکومت بلوچستان کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے. جس کی وجہ سے انہیں بھی دورانِ پی ایچ ڈی کافی مشکلات کا سامنا رہا. حکومت کو چاہیے کہ ایسے قابل طلبا و طالبات کے لیے واضح تعلیمی پالیسی بنائے تاکہ سمّی رشید بلوچ کی طرح بلوچستان کی دیگر خواتین کو بھی صوبے کا نام روشن کرنے کا موقع ملے

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *