دیوارِ گریہ کے آس پاس۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط1

(اسرائیل کا سفر نامہ ۔اپریل 2016 )

ادارتی تعارف
کتاب دیوار گریہ کے آس پاس کو مکالمہ میں خدمت دین اور فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی خاطر شائع کیا جارہا ہے۔کتاب کا شمار اردو کی ان دنوں مقبول ترین کتب میں ہوتا ہے۔مشہور سیاح اور مصنف مستنصر حسین تارڑ بھی اسے پڑھ کر ششدر رہ گئے تھے۔
یہ سفر اپریل 2015 میں جناب کاشف مصطفے نے کیا تھا۔یہ انگریزی میں تحریر یاداشتوں کا ایک غیر کتابی سلسلہ تھا جسے ہمارے جگر جان ،محمد اقبال دیوان نے موصول شدہ انگریزی نوٹس کی مدد سے اردو کے قالب میں ڈھالا اور اسے ادارہ قوسین نے اردو کے مشہور جریدے سویرا کی وساطت سے کتاب کی صورت میں لاہور سے شائع کیا۔اس کتاب کو لکھنے میں اور اس کی اشاعت و ترویح میں ان کا بہت حصہ ہے۔یہ کاوش بیش بہا پہلے سے کسی کتاب کی صورت میں کسی زبان میں موجود نہ تھی۔
وہ ڈاکٹر صاحب کے ہم زاد ہیں ۔سابق بیورو کریٹ اور صاحب طرز ادیب ہیں ۔سرجن کاشف مصطفے جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں اور ان کا شمار دنیا کے نامور ہارٹ سرجنز میں ہوتا ہے۔بہت صاحب نظر اور اہل رسائی ہیں۔کاشف صاحب کوہ پیما ہیں،پیراک ہیں، میراتھن رنر ہیں اور دنیا کے ستر سے زائد ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔تنہا سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان دو دوستوں کی اس کاوش کی اشاعت ادارہ مکالمہ اپنے لیے باعث تفاخر سمجھتا ہے۔

ایڈیٹر ان چیف
انعام رانا

author
کاشف میاں کا انگریز ی نوٹ
وجود میں پہلی قسط کا عکس
وجود میں پہلی قسط کا عکس

بطور Cardio thoracic Surgeon دوسروں کا دل ٹھیک کرتے کرتے جب اپنا دل بے قرار ہونے لگتا ہے تو سفر پر نکل پڑتا ہوں۔ایسی ہی ایک کیفیت کا شکار ہوکر میں نے اعلان کیا کہ میرا اگلا پڑاؤ اسرائیل میں ہوگا تو احباب کو اچھا نہ لگا۔ سب ہی جانتے تھے کہ وہ ایک سرزمین ایسی ہے جس کا جغرافیہ مختصر ، تاریخ طویل اور فساد لامتناہی ہے۔ کسی نے اسے سونے کے ایک ایسے پیالے سے بھی تشبہیہ دی تھی جس میں بچھو کلبلا رہے ہوں۔میں خود بھی سوچ رہا تھا کہ کیا مملکت ہے ڈیڑھ ہزار سال ہونے کو آئے اس کا ماضی خون میں لتھڑا ہوا، ا حال تصادم میں الجھا ہوا اور جس کا مستقبل غیر یقینی ہے۔غالب نے کہا تھا کہ ع
رکتی ہے میری طبع تو ہوتی ہے رواں اور ۔۔
میرا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا گو دل میں یہ خواہش  تھی کہ ایک رات مسجد الاقصیٰ میں عین اس مقام رفعت پر سجدہ ریز ہوں گا جہاں سے ہمارے نبی کریمﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے۔میں نے ملامتی عبادہ اوڑھا اور سب کو کہا کہ اب دل کا انڈیانا جونز (ہالی ووڈ کی فلموں کا مشہور کردار ) نہ مانے تو کیا کروں، یارو مجھے معاف کرو۔

وہ پہلا جملہ جو لکھا گیا

یروشلم کا قدیم شہر جس کے چار طرف پرانے پتھروں کی ایک دیوار نے گھیرا ڈال رکھا ہے۔ دنیا کے تین بڑے مذاہب کی جولان گاہ رہا ہے۔ ایک کویعنی یہودیت کو وہاں پناہ ملی دوسرے کو یعنی عیسائیت کو جنم اور اسلام وہاں فاتح بن کر آیا اور جس کے پیروکار مفتوح بن کر رہتے ہیں۔بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ عقائد کا یہ ایک دوسرے سے الجھتا سنگم کیسا ہے کہ جس کی انسانی شعور پر حکمرانی ایسی ہے کہ سائنسدان، فلسفی،ملحد اس کی مخالفت اور تنقید کے باوجود اس کے پھیلاؤ کو  روکنے میں ناکام رہے ہیں۔اللہ نے اس نیم بنجر سرزمین پر کیا ایسا کرم کیا ہے کہ انبیاء کی ایک کثیر تعداد نے ہیبرون سے یروشلم کی اس تنگ سی پٹی کو مقام سکونت، دعوت اور رفعت بنایا ۔ سوال کئی تھے اور جواب ایک ہی لہذا سوچا کہ خود چل کر دیکھتے ہیں۔
۔ کئی ماہ کی منصوبہ بندی ،مطالعے اور تحقیق سفرسے فرصت ملی تو خود کو اپریل کی ایک خوش گوار صبح ائیر بس میں براجمان پایا جو تل ایبب کی جانب رواں دواں تھی۔امریکن کافی کے گھونٹ سے شعور جاگا تو احساس ہوا کہ مسافروں کی ایسی کڑی جانچ پڑتال کہیں اور نہیں ہوتی ۔ ہر وہ مسافر جو اسرائیلی باشندہ نہ تھا چبھتی ہوئی نظروں، کھنگالتے ہوئے سوالات اور احتیاط سے ٹٹولتے ہوئے ہاتھوں سے گزر کر ہی جہاز میں اپنی نشست تک پہنچ پایا تھا۔

تل ایبب

جہاز میں نظر گھمائی توسب ہی ہم سفر ایسے تھے کہ ہم نوائی نہ تھی۔ایتھوپیا کے یہودیوں کا ایک چھوٹا سا گروپ تھا۔ انہیں اصلی تے گورے یہودی اپنا ہم پلہ نہیں سمجھتے ۔نائیجیریا کے  عیسائیوں کا ایک گروہ بھی اپنے خوش گفتار نوجوان پادری کی رہنمائی میں مقامات مقدسہ کی زیارت کے لیے جارہا تھا۔جنوبی افریقہ کے کچھ متمول یہودی خاندان بھی نشستوں پر براجمان تھے۔جہاز کے ائیل میں سیر کے لیے کھڑا ہوا تو اپنے علاوہ کسی اور کو مسلمان نہ پایا البتہ اپنے دوست کی اس بات کی تصدیق کے لیے کہ  کیا اسرائیل ہوائی کمپنی ایل عال ( آسمانوں کی جانب) میں ہمہ وقت ایک دو کمانڈو ہوتے ہیں۔ اپنا بدن سامنے رکھ کر ہر مرادنہ بدن کا بغور جائزہ لیا۔مایوسی ہوئی ۔نشست پر آن کر بیٹھا تو دل کے رخسار پر نہ سہی کاندھے پر ایک نرم سا ہاتھ اس دعوت کے ساتھ دکھائی دیا کہ your halaal meal sir” ‘‘
کھانے  کا ایک لقمہ یقین دلا گیا کہ بے حد بد ذائقہ کھانا ہے۔ دل نے سوچا کاش اس سفر میں اگر نواز شریف ساتھ ہوتے تو کم از کم کھانا تو اچھا مل جاتا ، کالے تیتر کا قورمہ، نینی روغن جوش، گشتابہ ،دہی بڑے، فجے کے پاوے،تبک ماز، زعفرانی کھیر، دہلی کے حلوائی کی رس ملائی۔
جب فضائی میزبان نے بددلی مگر خاموشی سے کھانے کی ٹرے ہٹائی تو ایتھوپیا کا یہودی رابی جو ہم نشست تھا گویا ہوا کہ ’’ کھانے کو برا سمجھنا اچھی بات نہیں‘‘۔میں نے غور سے دیکھا تو ایسا لگا کہ فاقہ زدہ سرسید پڑوس میں بیٹھے ہم کلام ہوں۔ چہرے پر ایسی ڈاڑھی کہ  لگے  منہ پر  داڑھی نہیں بلکہ داڑھی پر منہ رکھ دیا گیا ہے۔سیاہ کوٹ اور سیاہ ہیٹ پہنے ہوئے ، گہری جائزہ لیتی ہوئی نگاہوں ۔مصافحے کے لیے تعارف کراتے ہوئے اپنا ہاتھ بڑھایا کہ ’’ میرانام شائم آمنون ہے‘‘ میری نگاہ اب اس کی آنکھوں کی بجائے بالوں کی اس لٹ پر تھی جو کانوں سے بہہ کر بل کھاتی ہوئی ایک بدنصیب ناگن کی طرح اس کے سینے پر پڑی تھی۔
’’اقصٰی جانے کا ارادہ ہے؟اس نے مسکراتے ہوئی پوچھا۔
’’نہیں یہاں کسی بزنس ٹرپ پر آیا ہوں‘‘مجھے بھی سچ بولنے کی کوئی جلدی نہیں تھی۔ اسے جواب سن کر مایوسی ہوئی اور وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
یکایک مجھے احساس ہوا کہ یہودی عالم عام طور پر غیر مسلموں سے گفتگو میں پہل نہیں کرتے۔ یہ ایک سنہری موقع ہے جو میں بے جا احتیاط کے چکر میں ضائع کررہا ہوں ۔میری ایک عمر ان یہودی افراد کے درمیان پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دیتے ہوئے گزری تھی۔میں نے بہت آہستگی سے منقطع سلسلہ پھر سے جوڑ دیا۔’’وہاں میری دل چسپی کی کیا شے ہوسکتی ہے؟‘‘
’’کاروبار کے معاملے میں تو میں آپ کو مشورہ نہیں دے سکتا‘‘۔۔ مجھے لگا کہ اس نے میرا جھوٹ پکڑ لیا ہے۔اس کے چہرے پر ایک روحانی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اسرائیل ایک مقدس سرزمین ہے ، آپ کا عقیدہ کچھ بھی ہو ، آپ یہاں سے خالی ہاتھ نہیں لوٹتے ۔‘‘
’’اس کا ادراک مجھے ائیرپورٹ پر ان کے رویے سے ہوگیا تھا ۔ ہر طرف خفیہ کارندے۔‘‘ میں نے بھی ایک محدود پیمانے کی جنگ چھیڑ دی۔
’’ آپ کا شکوہ صیہونیت سے ہے ۔ اسرائیل سے نہیں ۔اگر ایک طاقتور گروپ مذہب   کا اور  سسٹم کا اجارہ دار بن جائے تومعاشرہ کمزور اور زوال پذیر ہوجاتا ہے اور اس سسٹم کی بربادی شروع ہوجاتی ہے۔ یہودیت اور صیہونیت دو علیحدہ نظام ہیں۔ ہم کبھی بھیSiamese twins(ایک سر دو دھڑ والے جڑواں بچے) نہیں رہے جیسا کہ دنیا کو باور کرایا جاتا ہے۔‘‘ اس کا جواب سن کر مجھے اپنی سماعت پر شک سا ہونے لگا۔
پھرصیہونیت کیا ہے؟ میں نے سوچا کہ آج اس کی ہم سفری کا لابھ لوں۔۔۔۔
صہیون یا Sion کا مطلب سورج کے پجاری ہوتا ہے یہ حضرت یوسف والے علاقے کنعان کا ایک قدیم فرقہ تھا جو ہر حال میں اقتدار پر قابض رہنا چاہتا تھا۔ وہ اپنی وضاحت میں معذرت سے عاری تھا۔
’’ہم غیر یہودی تو دونوں کو ایک سمجھتے ہیں‘‘۔میں بھی مصر ہی رہا۔۔۔۔
’’بہت جلد تم دیکھو گے کہ ہم یہ ناخوشگوار بوجھ اپنے وجود سے اتار پھینکیں گے ساری دنیا کے یہودی بتدریج اس کے خلاف برسر پیکار ہیں۔اس نے اپنا پتلا ہاتھ پھیلا دیا ۔ پانچ انگلیاں مختلف سائز ، مختلف کام مگر ایک ہاتھ ۔ ایک وجود ۔اس کی ہم یہودیوں کے ہاں بڑی اہمیت ہے اسے ہم خمسہ کہتے ہیں‘‘۔میری سمجھ میں کچھ نہ آیا مگر اس سے پہلے کہ میں اس سے کچھ پوچھتا وہ اٹھ کر اپنے گروپ کو ہدایات دینے چلا گیا۔
مجھے بھی نیند نے آن لیا ۔ آنکھ کھلی تو شائم امنون ساتھ ہی بیٹھا تھا، خاموش اور بہت جدا جدا۔اسی دوران میں اسپیکر پر اعلان ہوا کہ ہم اسرائیل کی فضائی حدود میں داخل ہوگئے ہیں جہاز میں اس اعلان کے ساتھ دعاؤں کا ایک غلغلہ بلند ہوا ، یہودی رابی اٹھے اور جھک جھک کر تعظیم پیش کرنے لگے،مالدار فربہ اندام یہودی خواتین جن کا جنوبی افریقہ سے تعلق تھا اور جو اپنی ملازماؤں کے ساتھ اسرائیل جارہی تھیں ،سبکیاں لے لے کر رونے لگیں۔مجھے مسجد تنیم اور میقات یاد آگئے۔اگلے ہی لمحے ہم بن گوریاں ائیرپورٹ پر اترگئے(بن گوریاں اسرائیل کے پہلے صدر تھے ،انہیں صدر فضل الہی چوہدری اور رفیق تارڑبننے کا موقع اس لیے ملا کہ عظیم یہودی سائنسداں آئن سٹائن نے اس عہدے کو قبول کرنا اپنی علمی مصروفیات کی راہ میں رکاوٹ جانا تھا اور انکاری ہوئے تھے)۔
میرے جنوبی افریقہ والے پاسپورٹ کے لیے اسرائیل کا ویزہ لازم نہیں مگر مجھے لگا کہ پاک وطن کی وجہ سے تنگ کریں گے۔ ۔مجھ سے آگے لائن میں کھڑے تین گوروں کا داخلہ وہ سر کی ایک جنبش سے منسوخ نہ کرتی تو خاتون امیگریشن آفیسر کی حلاوت اور انداز آپ کو کسی فروٹ پنچ کی یاد دلاتا تھا ۔مشرق و مغرب نے ایسا لگتا تھا اس کے نسوانی سراپے کو دوسری نسل میں دل سے قبول کرلیا تھا ۔گو انگریزی پر فرینچ زبان کی گلابی خواب آویز دھند چھائی ہوئی تھی ۔
میری باری آنے پر اس کی ابرو نے ایک خوش گوار کمان کا روپ دھارا ( یہ بدنی زبان میں اظہار قبولیت کی علامت ہے ۔ جو لوگ آپ کو ناپسند کرتے ہیں وہ آنکھیں سکیڑ لیتے ہیں) سوال کرتے ہوئے ایسے ہی ہم آہنگ کمان اس کے ہونٹوں نے بھی بنائی۔
’’جائے پیدائش؟‘‘ ۔۔۔’’پاکستان‘‘ !میں نے بھی نعرہ تکبیر کی طرح خود اعتمادی کا ثبوت دیتے ہوئے سارے اسرائیل کو بتا دیا۔بلند لہجے پر وہ مسکرائی ۔منہ میں قلم اور کمپیوٹر پر بٹن دبایا ۔ایک کارڈ نکل کر آیا جس پر میری تصویر ، پاسپورٹ نمبر اورقیام کی مدت درج تھیں۔ ایک ادا سے مجھے جب وہ کارڈ اس نے پاسپورٹ سمیت لوٹایا تو کہنے لگی:
“Welcome to Israel Sirجو مجھے پنجابی میں’’ صد بسم اللہ آیا نوں‘‘ ہی لگا۔۔۔۔۔

بن گوریاں ائیرپورٹ پر پہلا گمان پتھروں کے بنے ایک بڑے سے قدیم تھیٹر کا ہوتا ہے ۔جا بجا حفاظتی اہل کار ایسے ہی ایستادہ دکھائی دیتے ہیں جیسے اسرائیل میں دیگر مقامات پرموجود ہوتے ہیں ہیں۔سامان اور کسٹمز سے گزر کے جب میں باہر آیا تو ڈاکٹر کلور لی کے ڈرائیور کی تلاش ایک مرحلہ تھی۔ڈاکٹر صاحبہ جنوبی افریقہ میں میری شریک کار تھیں ۔اب یہاں تل ایبب میں ماہر امراض قلب کی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔میرا خیال تھا کہ مروجہ طریقے کے مطابق کوئی میرے  نام کا استقبالی کتبہ تھامے کھڑا ہوگا۔وہاں ایسے کوئی آثار نہ تھے۔ یہ سوچ کر کہ ڈاکٹر لی کا ڈرائیور شاید ٹریفک میں کہیں پھنس گیا ہے ۔میں باہر رکھی ایک بینچ پر بیٹھ کر اپنے فون سے چھیڑ چھاڑ میں لگ گیا ۔۔
چند ساعتوں کے بعد نظر اٹھی تو سامنے ایک فوجی قد کاٹھ کے پیٹر جاسوس کو ایستادہ پایا ۔ چھوٹے بال، سیاہ چشمہ، بہت خاموشی سے جائزہ لیتا ہوا۔مجھے لگا کہ خیر نہیں لگتا ہے موساد کو میرے آنے کی اطلاع مل گئی ہے۔ اس نے بھرّائی آواز میں پوچھا کہ کیا آپ ہی ڈاکٹر مصطفے ہیں تو دھاڑس بندھی ۔میرا جواب اثبات میں پا کر اس نے بہت آہستگی سے اپنا نام وائن بتایا اور یقین دلایا کہ اسے ڈاکٹر کلور لی نے ہی بھیجا ہے۔میرے مزید ردعمل کا انتظار کیے بغیر اس نے ایک کمال آہستگی سے ڈاکٹر لی کی آرام دہ مرسڈیز میں مجھے دھکیل دیا جو دھیمے دھیمے سے تل ایبب کے طوفان ٹریفک میں بہنے لگی۔
دار الخلافہ تل ایبب، اسرائیل کا کراچی ہے مگر ویسا بدصورت، بے ہنگم اور بد حال نہیں۔ اس کا شمار خوش حالی میں ابو ظہبی کے بعد پورے مشرق وسطی میں دوسرے نمبر پر ہے۔ شہر کا نام بھی اس کا مطلب جان لینے پر اور بھی حسین لگتاہے۔ اس کا مطلب پہاڑی (Tel) چشمہ (Aviv)ہے۔
1948 میں اسے غریبوں سے بیاہی ہوئی پنڈی کی خوش حال بہن اسلام آباد کی مانند بسایا گیا ۔ان کا پنڈی شہرجافا کو مان لیں گو جافا کی تاریخ زیادہ قدیم اور دل چسپ ہے ۔یورپ کے یہودی ہمارے اپنے مہاجر بھائیوں کی طرح، دہلی اور لکھنو جیسی ارض وعدہ چھوڑ کر سوئے میخانہ  سفیر ان حرم کی طرح اسرائیل کی جانب گامزن تھے ۔ وہ چاہتے تھے کہ جو گلیاں چوبارے وہ پیچھے چھوڑ کر آتے ہیں۔ ویسی ہی کوئی بستی یہاں بھی آباد ہو جہاں ہواوں میں دولت کی مہک ہو۔جہاں کی فضا خوشگوار اور زندگی تھرکتی مچلتی ہو۔ سب کچھ تو ہوگیا مگر ٹریفک کا نظام کم بخت وہی مسلمانوں والا رہا ۔منزل جنت اور سواریاں اور شاہراہ دوزخ کی ترغیبات سے الجھی ہوئیں۔

jafa ka purana arab souq
purana jafa purani galiyan

ہوائی اڈے سے بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ہوٹل تک 20کلو میٹر کا سفر70 منٹ میں طے ہوا۔وائن نے شام سات بجے لینے آنے کا وعدہ کرتے ہوئے ہاتھ ملایا تو لگا میرا ہاتھ کسی لوہے کے شکنجے میں پھنس گیا ہے۔ڈاکٹر کلور اور ان کے شوہر نے رات کے کھانے پر مجھے مدعو کیا تھا۔
کمرے کی کھڑکی کا شیشہ سرکایا تو بحیرہء روم کی تازہ ٹھنڈی ہوا نے چہرہ چھولیا۔نیچے جھانکا تو چند اسرائیلی نوجوان فوجی خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔ اسرائیل میں نوجوانوں کو دو سال کی لازمی فوجی تربیت کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے ۔ یہی معاملہ ترکی میں بھی ہے۔ ہمارے اوپر والے جان کر انجان ہیں ۔ وہ اسے قومی یکجہتی،صحت مندی اور سرے سے غائب ڈسپلن کے لیے لازم نہیں مانتے ورنہ ساری دنیا میں اسے Standardization کا ایک بہت ہی موثر ذریعہ مانا جاتا ہے۔اتنے سارے فوجی اس لیے بھی درکار ہیں کہ ہر ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ان کی ملٹری چیک پوسٹ ہوتی ہے۔ کھڑکی سے دکھائی دیتے منظر میں،دور افق پر ایک مینار اس بات کی علامت تھا کہ وہیں مسجد ال بحر بھی ہے۔

my hotel
masjid e behr

فضائی سفر کرنے والے کہتے ہیں کہ اگر آپ نے سمندر کے اوپر سفر کیا ہے تو جادو کا اثر  ٹوٹ   جاتا ہے ۔گرم شاور، مختصر قلیولہ اور ایک عمدہ کھانا آپ کا حق بنتا ہے۔میں نے صرف شاور پر اکتفا کیا اور ہوٹل کی ریسپشن پر آگیا۔ڈیسک پر موجود میزبان خاتون کا حسن ایسا تھا کہ اسے دیکھ کر آپ گیت کہتے کبھی سنگیت بنانے چلتے۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ کعبے سے ان بتوں کو نسبت ہے دور کی، اس کا حسن دلفریب دیکھ کر دل نہ چاہا کہ مسجد کا راستہ پوچھوں۔ کچھ شرم ہوتی ہے ، کچھ حیا ہوتی ہے ۔ بھلے سے اتنی قلیل ہی کیوں نہ ہو جتنی فلور آف دی ہاؤس پر یہ شور مچانے والوں میں تھی۔
پاکستانیوں کی طرح میں نے بھی ایک چھوٹی سی چالاکی سے کام لیا۔ ادھر ادھر دیکھ کر لجاوٹ سے پوچھ ہی لیا کہ ’’سن نی کڑیئے، رنگاں دیئے پُڑیئے وہ جو ایک بستی ہوٹل کی کھڑکی سے پرے دکھائی دی ہے ۔ارے وہی جہاں ایک پرانا سا مسافروں کو راستہ دکھانے والا  لائٹ ہاؤس دکھائی دیتا ہے ۔وہ تو شہر کا کوئی قدیم حصہ لگتا ہے ۔ وہاں جا سکتے ہیں ؟اسلام آباد ہوتا تو سر کھجاتا اپنی پھوپھی سے تلہ گنگ کے موسم کا سیل فون پر حال دریافت کرتا ہوٹل کا concierge جواب دیتا’’ آہو جی او وی اپنا فیض آباداے ‘‘ ۔
ہمارا سوال سن کر اس کے سرخ لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ کے دو متوازن چراغ روشن ہوئی،  جاگنگ میں مصروف مرد اور عورتیں۔زندگی ویسے ہی رواں دواں تھی جیسے کوالا لمپور یا کیپ ٹاؤن میں ہوتی ہے۔
اسرائیل کو اس کی حکومت نے تین انتظامی یونٹوں میں تقسیم کررکھا ہے۔زون۔ اے میں فلسطینی علاقے جن میں مغربی کنارہ ،غازہ وغیرہ شامل ہیں۔اسرائیلی باشندوں کو ایک سرخ وارننگ بورڈ جسم و جاں کو لاحق خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔یہ تمام علاقہ ایک باڑ اور دیوار سے احاطہء زنداں میں بدل دیا گیا ہے۔ خروج اور دخول کے مقامات متعین اور سنتریوں کی تحویل میں ہیں۔اندر سے کوئی باہر نہ جا سکے ، باہر سے کوئی اندر نہ آسکے ،وہاں کوئی نہیں کہتا کہ سوچو کبھی ایسا ہو تو کیا ہو ۔ کیوں کہ اب جر م ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات مانی جاتی ہے ۔ زون۔ بی کے انتظامی علاقے میں فلسطینی کام کاج کے لیے آ تو سکتے ہیں مگر قیام نہیں کرسکتے۔زون سی میں فلسطیونیوں کا داخلہ یکسر ممنوع ہے۔ اس زون میں دار الخلافہ تل ایبب بھی شامل ہے مگر یہاں آج بھی دس فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ان کی اکثریت جافا میں رہتی ہے۔ ان جڑواں بستیوں یعنی تل ایبب اور جافا کا انتظام ایک ہی میونسپلٹی کے پاس ہے۔ اس کا نام تل ایبب ۔ یافو ہے۔ یافو عبرانی زبان میں جافا کا نام ہے۔


جافا دنیا کا دوسرا قدیم ترین شہر ہے۔ قدامت کے لحاظ سے پہلا شہر دمشق ہے جو مسلسل آباد ہے۔وہاں کی روایت کے حساب سے اسے حضرت نوح کے صاحبزادے جافتا نے سیلاب تھم جانے کے بعد بسایا تھا۔حضرت داؤد علیہ سلام اور ان کے جس جگہ حضرت یونسؑ مچھلی کے پیٹ سے برآمد ہوئے تھے عین اسی مقام پر مملوک حکمرانوں نے سترہویں صدی میں مسجد البحر بنائی ہے۔ یونانی دیومالائی کہانیوں میں سیفہس( King Capheus )جو جافا کا بادشاہ ہے  اسے سمندر کے دیوتا پوزائی ڈن ( Poseidon ),کو منانے کے لیے اپنی بیٹی آندرومیدا پیش کرنا پڑی۔ آندرومیدا کو ساحل سمندر پر ایک بڑی سی چٹان کے ساتھ باندھ دیا گیا۔پوزائیڈن نے اسے  کھالینے کے لیے ایک خونخوار عفریت کو بھیجا لیکن ایک یونانی ہیرو پرسی نن نے اس عفریت کو ہلاک کرکے اس کی جان بچا ئی اور آندرومیدا سے شادی کرلی۔آندرومیدا کے بارے میں یہ قصے بہت عام ہیں کہ وہ اس قدر حسین تھی کہ اس کی موجودگی میں پھول بھی کھلنے سے ہچکچاتے تھے۔جافا کی لڑکیاں اپنے حسن کے تانے بانے اسی آف شور حسینہ سے ملاتی ہیں۔

جافا پر مسلمان 8 ویں صدی سے 1917 تک یعنی گیارہ سو سال حکمران رہے۔یہ وہ سال تھا جب یہاں برطانوی راج قائم ہوا اور یہودی یورپ سے پہنچنے لگے جس کی وجہ سے مقامی مسلمان آبادی اور ان میں قومی فسادات بھڑک اٹھے۔انگریز کے جانب دارانہ رویے سے تنگ آن کر مسلمان 1921 میں ہونے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں بائیں کنارے پر اور یہودی جافا اور تل ایبب میں آباد ہونا شروع ہوگئے۔1948 کی جنگ میں یہ سارا علاقہ یہودی تسلط میں آگیا لیکن کچھ مسلمان خاندان کسی طور یہاں سے جانے پر رضامند نہ ہوئے۔
ان کی اس علاقے میں موجودگی تاریخ کا ایک دل چسپ باب ہے۔ یہاں تین پرانی مساجد ، کئی دکانیں اور اور ہوٹل بھی ہیں۔پتھریلی تنگ پرانی گلیاں آپ کے قدموں تلے آپ کا تعلق نادانستہ طور پر ان قدموں سے جوڑ دیتی ہیں جو انہیں روندتے روندتے خود بھی آسودہء خاک ہوگئے۔
مسجد البحر بالکل خالی تھی میرے جیسے کچھ سیاح ادھر ادھر کہیں فوٹو کھینچ رہے تھے۔ایک سیاح اندر آنے کا خواہشمند بھی تھا ۔مجھ سے اجازت طلب کی تو میں نے بتایا کہ خاکسار بھی مسافر ہے۔ جس پر اس نے کہا کہ ۔ جافا میں غروب آفتاب کا منظر دنیا بھر میں سب سے سہانا منظر مانا جاتا ہے۔ آپ اسے مسجد کے مینار سے دیکھ سکتے ہیں۔اس کا فوٹو گرافی کا سامان دیکھ کر لگا کہ وہ کوئی پیشہ ور فوٹو گرافر ہے۔میں بھی سیڑھیوں کے راستے پیچھے پیچھے ہولیا۔ دنیا بھر میں شامیں اداس ہوتی ہیں مگر جافا کی اس شام  کا حسن کسی حسین بیوہ کی سوگوار ی مانند تھا۔مینار کی محراب سے میں نے جب سورج کو بحیرہ روم میں ڈوبتے دیکھا تو مجھے لگا کہ خون کی سی سرخی لہروں میں گھل گئی ہے۔

بہت ممکن تھا کہ محو نظارہ ہوکر میں اسی جمال فطرت کی رعنائیوں میں کچھ دیر اور بھی گم رہتا مگر عین اس وقت فون کی گھنٹی بجی دوسری جانب میری دوست ڈاکٹر کلور لی چیخ رہی تھی کہ’’ کہاں ہو؟ وہ وائن تمہارا ہوٹل میں منتظر ہے‘‘۔میں نے ہڑ بڑا کر گھڑی دیکھی تو شام کے ساڑھے سات بج چکے تھے۔ میں منمنایا کہ مسجد البحر کے مینارے سے غروب آفتاب کا منظر دیکھ رہا تھا۔مجھے اس اعتراف پر فوراً معافی مل گئی کہ وہ بھی اس غروب آفتاب کو دنیا کا سب سے خوبصورت منظر مانتی ہے ۔اس کا اگلا حکم یہ تھا کہ میں وہیں رکوں۔ ڈرائیور وائن مجھے مسجد البحر کے پاس ہی سے لے گا۔میں نے تمہارے لیے خاص طور پر گولاش (سبزی اور گوشت کا اسٹو ہنگری کے چرواہوں سے منسوب ہے) اور آرٹی چوک سلاد تیار کیا ہے۔۔
’’جو حکم مادام میں تیار ہوں‘‘

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *