کوک سٹوڈیو کی بداعمالیاں۔ کامریڈ فاروق بلوچ

موسیقی، آرٹ یعنی فن کی ایسی ثقافتی شکل ہے جس میں آواز کو ایک مخصوص وقت کے لیے منظم کیا جاتا ہے. موسیقی کے عمومی عناصر میں پچ یعنی آواز کی نرمی اور ہم آہنگی، تال، آواز کی بلندی ، پستی، اور آواز کی ساخت یعنی بناوٹ شامل ہیں. موسیقی کی تاریخ آج سے پچیس لاکھ سال پرانی ہے. قدیم زمانوں سے یہ سوچ موجود ہے کہ موسیقی ہمارے جذبات، عقلیت اور نفسیات کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے. یہ ہمیں مربوط، مضبوط، کمزور اور متغیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے. قدیم یونانی فلسفی افلاطون نے “جمہوریہ” میں لکھا کہ
“موسیقی روح پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے لہٰذا اِس کو ریاست کے تحت ہونا چاہیے.”

مشہور فلسفی “امانویل کانٹ” کے مطابق “آلاتِ موسیقی اہم مگر بہت حقیر ہیں لہذا موسیقی کی اہمیت الفاظ کے ساتھ ہے ورنہ موسیقی کا اخلاقی مقصد باقی نہیں رہتا ہے.” جبکہ کچھ دوسرے فلسفیوں کا خیال ہے کہ آلاتِ موسیقی کو مخصوص انداز میں بجانا بھی تو ایک فن ہے، لہذا آلاتِ موسیقی کو بھی بہترین موسیقی خیال کیا جانا چاہیے. ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے خیال کے حامل فلسفی عموماً مابعدالطبیعاتی نظریات کے پرچارک ہوتے ہیں. میری ذاتی رائے میں موسیقی میں زیادہ اہمیت الفاظ کی نسبت الفاظ کی ادائیگی کو ملنی چاہیے. یعنی یہ اہم ہے کہ الفاظ کو کس خوبصورتی سے ادا کیا گیا ہے. یقیناً الفاظ کی اپنی اہمیت ہے مگر الفاظ کو ادا کرنے کے طریقے کو زیادہ اہمیت ملنی چاہیے جو سننے والے پہ اثر انداز ہو گا.

کوک سٹوڈیو کی طرف آتے ہیں. کوک سٹوڈیو کے ادارتی ڈھانچے، اِس کا سرمایہ کے ایوانوں سے تعلق اور رشتہ، اور موسیقی سے اِن کے تعلق کو پرکھنا اور جانچنا ہو گا. کوک سٹوڈیو دراصل مشروبات بنانے والی امریکی ملٹی نیشنل کمپنی کوکاکولا کا ذیلی ادارہ ہے. لہذا اِس ادارے کو کوئی ثقافتی یا ادبی ادارہ ماننا بالکل ہی بیوقوفی ہو گی. اِس ادارے کا مقصد لاکھوں ڈالر کمانا ہے نہ کہ موسیقی کی ترقی و ترویج اِس کا مقصد ہے. کوکا کولا کے اپنے سالانہ اعداد و شمار کے مطابق 2016ء میں کمپنی کی مالیت آٹھ ہزار آٹھ سو ارب روپے بنتی ہے. جبکہ کوک سٹوڈیو پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق کوک سٹوڈیو پاکستان کی روزانہ کی کمائی سترہ لاکھ روپے بنتی ہے.

یہ کوک سٹوڈیو والی کوکاکولا کمپنی ہے جو اپنے ملازمین کا شدید ترین استحصال کر رہی ہے. کولمبیا، گوئٹےمالا، ترکی، ہندوستان، چین، میکسیکو، سلواڈور وغیرہ میں کوکاکولا کمپنی نے اپنے ملازمین پر مظالم، تشدد اور استحصال کے پہاڑ توڑ دیے ہیں. کولمبیا میں ورکرز یونین SINALTRAINAL کے وائس چیئرمین جوآن کارلوس گالس نے کہا تھا کہ “اگر ہم کوک کے خلاف یہ لڑائی ہار گئے تو سب سے پہلے ہم اپنی یونین کو کھو دیں گے، پھر ہم اپنی ملازمتوں کو کھو دیں گے اور پھر ہم سب اپنی جانیں کھو دیں گے”. اور پھر ہوبہو ایسا ہی ہوا. مزدور یونین کا ناطقہ بند کرکے ورکرز کو ملازمین کو فارغ کیا گیا، جیل میں ڈال دیا گیا اور کئیوں کو قتل کر دیا گیا. اسی طرح گوئٹے مالا میں کوکاکولا کمپنی ملازمین کے خلاف تشدد، جنسی زیادتی اور قتل و غارت گری میں ملوث ہے. 25 فروری 2010ء میں پینتالیس کوکاکولا ورکرز اور اُن کے خاندانوں نے کمپنی کے خلاف عدالت میں کیس کر رکھا ہے جو تاحال جاری ہے. ایک کیس نیویارک میں بھی فائل کیا گیا تھا جس کا فیصلہ ابھی آنا باقی ہے. مگر اتنے بڑے مالیاتی ادارے کے خلاف فیصلے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا ہے.

ایک ایسا ادارہ جس کا پہلا اور آخری مطمع نظر بےپناہ منافع اور دولت ہے، وہ کیسے سماج کی محبت اور موسیقی کی خدمت کے نام پہ موسیقی کو برباد نہ کرے گا. کوک سٹوڈیو والے کہہ رہے ہیں کہ ہم موسیقی کی بحالی اور تجدید کے لیے کام کر رہے ہیں. نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے. یہ لوگ کچھ نیا نہیں کر رہے ہیں. یہ پرانے موسیقاروں کی نقالی کر رہے ہیں تاکہ ریسرچ اور جدیدیت کے مشکل کام سے بچ کر گھٹیا طرز عمل اختیار کرتے ہوئے محض جدیدیت کا نام لیا جائے. تخلیق، جدیدیت اور تحقیق انتہائی مشکل کام ہوتے ہیں. اگر آپ نے سلیم رضا کا گایا ہوا دوبارہ گانا ہے تو اُس سے بہتر گانا ہو گا. اگر آپ نے ماسٹر عنایت کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے تو سابقہ کمپوزیشن سے بہتر پیش کرنی ہوگی، یہ کیا طریقہ ہے کہ علی ظفر کے ہاتھوں گیت کی مَت مار دی جائے. آلاتِ موسیقی کی بےہنگمی اور علی ظفر کی بیہودگی نے ماسٹر عنایت کو کیا خوب خراجِ تحسین پیش کیا ہے!

کوک سٹوڈیو میں گایا جانے والا قومی ترانہ اگر موسیقی کے کم ترین معیارات پہ پورا اترتا ہے تو پھر میں پاکستانی ولگر سٹیج ڈرامے کو شیکسپیئر کے ڈراموں سے بہتر کہنا شروع کر دوں گا. قومی ترانہ دس بارہ گلوکاروں نے مل کر گایا، یہ کون سی جدیدیت ہے؟ کسی پرائمری سکول کی اسمبلی میں گایا جانے والا قومی ترانہ کوک سٹوڈیو کے قومی ترانے سے کہیں بہتر ہو سکتا ہے. قومی ترانہ پیش ہی اس لیے کیا گیا کہ کوئی اُن پہ انگلی نہ اٹھائے. مگر ہم تو اٹھائیں گے کہ اچھے بھلے قومی ترانے کا “حلیہ” ہی بگاڑ دیا گیا.

نصرت فتح علی خان کا وہ عہد جس میں طبلہ اور تالی ہوا کرتی تھی، اُس عہد سے کہیں بہتر ہے جب جدیدیت آلات موسیقی کی مدد سے استاد نے گیت گائے. ایسے ہی کوک سٹوڈیو کے راحت فتح علی خان نے جنون کا ایک گیت گایا ہے. مجھے تو یقین بھی نہیں آیا کہ یہ راحت فتح علی خان کا گایا ہوا گیت ہے؟ بس منافع کی لالچ میں کوک سٹوڈیو اردو موسیقی کو برباد کرنے پر اتر آیا ہے. سرمایہ دارانہ نظام میں ہر چیز، ہر رشتہ، ہر عنصر ایک قابل فروخت و خرید مال بن گیا ہے. منافع، مقابلہ بازی اور سرمایہ کی بداعمالیوں نے ہمہ قسمی فنون کو تباہ کر دیا ہے. فنِ تعمیر سے لے کر گائیکی تلک تباہی کے راستے پر چل نکلے ہیں. آئیے مرثیہ پڑھیں.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کوک سٹوڈیو کی بداعمالیاں۔ کامریڈ فاروق بلوچ

  1. بہترین تجزیہ ۔ اس صدی کا سب سے واہیات میوزک کوک سٹوڈیو کی مرہونِ منت ہے۔گویا جن گلوکاروں کے مشہور و معروف گیتوں اور غزلوں کو گایاجارھا ھے انہوں نے بھی نہ سوچاھوگا کہ موسیقی کا بلاتکار ایسے بھی کیاجائے گا۔ افسوس تب ھوتاھے جب راحت اور شفقت جیسے نامور گوّیے بھی پیسے کی لالچ میں اس اجتماعی زیادتی میں شامل ہوتے ہیں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *