• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • دیوارِ گریہ کے آس پاس ۔۔۔تحریر: کاشف مصطفی ،ترجمہ تحقیق ترتیب:محمد اقبال دیوان/ابتدائیہ

دیوارِ گریہ کے آس پاس ۔۔۔تحریر: کاشف مصطفی ،ترجمہ تحقیق ترتیب:محمد اقبال دیوان/ابتدائیہ

نوٹ:کتاب دیوار گریہ کے آس پاس کو مکالمہ میں خدمت دین اور فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی خاطر شائع کیا جارہا ہے۔کتاب کا شمار اردو کی ان دنوں مقبول ترین کتب میں ہوتا ہے۔مشہور سیاح اور مصنف مستنصر حسین تارڑ بھی اسے پڑھ کر ششدر رہ گئے تھے۔
یہ سفر اپریل 2015 میں جناب کاشف مصطفے نے کیا تھا۔یہ انگریزی میں تحریر یاداشتوں کا ایک غیر کتابی سلسلہ تھا جسے ہمارے جگر جان ،محمد اقبال دیوان نے اردو کے قالب میں ڈھالا اور اسے ادارہ قوسین نے اردو کے مشہور جریدے سویرا کی وساطت سے لاہور سے شائع کیا۔اس کی اشاعت و ترویح میں ان کا بہت حصہ ہے۔ وہ ڈاکٹر صاحب کے ہم زاد ہیں ۔سابق بیورو کریٹ اور صاحب طرز ادیب ہیں ۔سرجن کاشف مصطفے جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں اور ان کا شمار دنیا کے نامور ہارٹ سرجنز میں ہوتا ہے۔بہت صاحب نظر اور اہل رسائی ہیں۔کاشف صاحب کوہ پیما ہیں،پیراک ہیں، میراتھن رنر ہیں اور دنیا کے ستر سے زائد ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔تنہا سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔ان دو دوستوں کی اس کاوش کی اشاعت ادارہ مکالمہ اپنے لیے باعث تفاخر سمجھتا ہے۔
ایڈیٹر ان چیف
انعام رانا!

سرجن کاشف مصطفے حالیہ دورے میں

انتساب!

میرے ابّو محترم محمد مصطفےٰ
اور میری امّی محترمہ فرحت مصطفٰے
کے نام
جن کی آنکھوں سے دنیا دیکھی،
جن کے دل سے دنیا کو برتا۔
ع اتنے احسان کہ گنوانا بھی چاہوں تو گنوا نہ سکوں!

عرضِ مصنف!

اپنے بارے میں لکھنا میرے نزدیک کچھ ایسا ہی ہے جیسا کوئی سرجن اپنی سرجری کا ناممکن اور ناپسندیدہ عمل خود ہی کرنے کی ٹھان لے۔بہت دنوں سے میں نے شعوری طور پر خود ستائی کی انسانی کمزوری پر قابو پالیا ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ میری آدھی زندگی جو آپریشن تھیٹرز اور آدھی زندگی جو دیار غیر اور ہوائی اڈوں پر گزری ہے۔اس نے کامیابی کا کچھ توسفر ضرور طے کیا ہے۔
پنڈی شہر کے کاروباری علاقے میں اوائل عمر کے ایام میں مجھے کبھی بھی ایسے سہانے اور لدے پھندے خواب دیکھنے کی عادت نہیں رہی کہ گزرتے وقت کے ساتھ زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی اہمیت میرے نزدیک کم ہوکر رہ گئی ہو۔یقین جانیے شہر کے چھوٹے چھوٹے دھابوں سے کھانا کھاتے وقت مجھے بعض دفعہ پانچ ستارہ ہوٹلوں کے سات کورس ڈنر سے زیادہ سواد آتا ہے۔کچھ ایسا ہی مزہ شہر کی تیرہ و تاریک گزرگاہوں تنگ گلیوں پرانی بستیوں میں آوارہ گردی کے وقت آتا ہے۔کسی شہر قدیم کی   چوٹی یا چٹان پر بیٹھ کر طلوع یا غروب آفتاب کا منظر بھی میرے دل کو بہت برماتا ہے۔
دور دراز کے وہ علاقے جنہیں فاتحین کے قدم اپنے جبر تلے مسلسل روندتے رہے ان سے مجھے ایک ہمدردانہ انسیت اور لگاؤ محسوس ہوتا ہے ۔ وہاں کی جھیلیں،کنوئیں، نہریں، دریا۔عمارتیں ، ٹوٹی پھوٹی محرابیں۔ان بستیوں کو اپنے دامن میں سمیٹے وہ بلند و بالا پہاڑ،آبادیوں سے بہت پرے مقابر گمنام،ہر سمت سے دور چھوٹی چھوٹی بستیاں جیسے وہاں رہنے والوں نے اپنی حدود سے باہر قدم نہ نکالنے کا فیصلہ طوفان نوح کے فوراً بعد ہی کرلیا تھا ، اپنے فیصلے پر قائم وہ تب سے وہیں آباد ہیں۔
میری اس حوالے سے دلچسپیاں گونا گوں ہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ ان کے حوالے سے کوئی معمولی سی چنگاری قلب تجسس میں بھڑکتی ہے اور پھر خواہشات کا ایک الاؤ بھڑک اٹھتا ہے۔اس عمل کے تواتر نے اب ایک ایسا روپ دھار لیا ہے کہ میری فطرت ثانیہ بن گیا ہے۔
آپ کا یونانی دیو مالائی کہانیوں کا مطالعہ اچھا ہو تو آپ کو یاد ہوگا کہ حسین خواتین کا ایک جھرمٹ سائرن انجانے مسافروں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے اپنی طرف بلاتا تھا (اب آپ کی سمجھ میں آگیا ہوگا کہ خطرے کے بھونپو کو سائرن کیوں کہتے ہیں) میں ان ہی ناتواں ارادوں کا مالک وہ مسافر ہوں جو ہمیشہ اس نغمہء مرگ کی جانب لبیک کہتا ہوا دوڑ پڑتا ہے۔ان قدموں کی آوارگی مجھے اس پہاڑ تک بھی لے گئی ہے جسے کرہ ارض کا نقطہ ء اختتام سمجھا جاتا ہے۔یہاں اگر وقت برف کے منظر میں جما لگتا ہے تو سر شام پیرس کی شانزایلیزے وہ مقام حرارت و مستی ہے جہاں لمحات جذبات کی بھٹی میں سلگتے دکھائی دیتے ہیں۔ کرغزستان کو ہ قاف سے لے کر الاسکا تک کیا کیا نہ دیکھا مگر عجب بات تھی کہ لکھنے کا اس وقت تک دھیان نہ آیا جب تک پار سال فلسطین اور اسرائیل کی سرزمین پر قدم رکھا۔
یہ ارض مقدس اپنے اندر ایک باشعور مجذوب کی سی کیفیت چھپائے بیٹھی ہے۔اس کے اندر جو کچھ ہے وہ باہر والے نہ دیکھ سکتے ہیں نہ محسوس کرسکتے ہیں۔بیرونی دنیا کے افراد اس سے وابستہ واحد جنون مسلسل کے پہلو سے تو سطحی طور پر آشنا ہیں لیکن سربستہ رازوں کے اس خزانے کا خود عالم اسلام کی ایک بڑی اکثریت کو بھی صحیح ادارک نہیں۔اس سرزمین پر حکایت اور حقیقت کی جڑواں بہنیں اداسیوں کے بال کھولے سورہی ہیں۔
وہ جو اس کو جاننے کے خواہشمند ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ اس مجذوب دانا کو بصد احترام سلام کریں، دھیمے قدموں اس کی جانب بڑھیں۔ہوسکتا ہے اسے آپ کا یہ انداز احترام و دل چسپی بھا جائے اور وہ اپنے نہالچے( وہ چھوٹا سا گدا یا غالیچہ جس پر بزرگ دورانِ مجلس تشریف رکھتے ہیں) کے کونے پر آپ کو بھی بٹھالے اور آپ بھی پروانہ و پتنگ بن کر وقت کے آسمانوں میں اڑنے لگیں۔ممکن ہے ان آسمانوں میں لحن داؤدی کے سر اب بھی بکھرے ہوں اور آپ رضائے الہی سے سن لیں۔کہیں سیدنا موسیؑ کو وہ شریر عصیٰ بھی دکھائی دے جائے جو فرعون پر لرزہ طاری کرنے کے لیے ایناکونڈا بن گیا تھا۔فیض الہی آپ کو مزید نہال کرے تو سیدنا موسیؑ کی سفیدڈاڑھی کے نرم و مہربان ریش آپ کی سفارش بھی اللہ سے ایسے ہی کردیں جیسے وہ نافرمان یہودیوں کی کرتے تھے۔ اللہ کی مہربانیوں کا ہم بندے کیا شمار و اندازہ کریں وہ چاہے تو ہمیں پہلوئے سلیمان و بلقیس میں مجالس جن و طیور میں لے جائے۔وہ راضی ہوجائے تو اپنی روح پرور مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے سیدنا عیسی ؑ سے آپ کی ملاقات یروشلم کی انہیں گلیوں میں کراسکتا ہے جہاں وہ رشد وہدایت کا پیغام لیے اکثر گھوما کرتے تھے ۔مقام فیض ہی کی بات ہے تو اس کی قدرت کے لیے یہ کیا مشکل ہے کہ آگے وہ آپ کو الخلیل (ہیبرون) کے نواح میں شاہ بلوط کے اس درخت تک لے جائے جس سے ٹیک لگا کر ابو الانبیا سیدنا ابراہیم ؑ تحیر و تفکر کیا کرتے۔

میرے لیے یہ سب نظارے بہت دیدنی مگر اپنی روحانی کیفیت میں اعصاب شکن تھے۔ان کے جلووں کو تنہا سمیٹ کر جذب کرتے کرتے میری ہڈیاں سرمہ بن گئیں ۔یہ مسافت جتنی جسمانی تھی اس سے کہیں زیادہ روحانی تھی سو میں نے سوچا آپ کو بھی اس بار مسلسل  سبک سار کرنے کے لیے  شریک سفر کرلوں۔
میں اپنے دوست محمد اقبال دیوان کا بے حد شکر گزار ہوں۔ان کی ان تھک رہنمائی ۔ حوصلہ افزائی، ترجمے کی ترواٹ اور میرے مشاہدات و افکار سے قربت نے مجھے قلم تھامنے کی جرات دلائی ۔ ان کی تحقیق اور روحانی شعور میرے لیے باعث حیرت تھا ۔ایسا لگتا تھا وہ اس سفر میں مابعد الطبیعات کے حوالے سے Remote Viewership کے ذریعے میرے ہم سفرتھے۔ اس سفر نامے میں میرے انگریزی جملے ڈاکٹر کے نسخے کی مانند سرد اور درد ناآشنا تھے۔ حضرت کے زبان و بیان کے چٹخارے نے انہیں بارہ مسالے کی چاٹ بنادیا۔
اجازت دیجے کہ میں یہاں اپنی شریک حیات صائقہ کا شکریہ بھی ادا کرلوں۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ میں تین دن کے لگاتار آپریشنوں کے بعد گھر آتا،یا تین ہفتوں کی مسافت کے بعد گھر لوٹتا ان کا پاکیزہ دامن ہمیشہ کشادہ اور ان کی مسکراہٹ ان کے طعام کی مانند ہمیشہ گرما گرم بھاپ اڑاتی ہوتی۔کام اور سفر کے دھتی شوہر کی بیوی ہونا کچھ آسان کھیل نہیں۔
شکریہ آپ سب افراد کا بھی جن میں سے اکثریت نے قسطوں میں تحریر اس سفرنامے کو کتابی صورت میں یکجا کرکے کسی مستند ادارے کے زیر اہتمام شائع کرنے کے لیے مجھ سے مسلسل رابطہ رکھا۔ انہی کی اس دل چسپی کا ثمر آپ کا اس وقت مرکز توجہ ہے۔
کتاب کے شائع ہونے تک ایک سفر اسی مسافت سے جڑ کر اور لاحق ہوا۔دیوان صاحب پھر حوصلہ دلاتے ہیں اور میں پھر ’’ الٹے قدم ‘‘ لکھنے پر آمادہ ہوں۔ اس کی بارہ اقساط میرے دورہ اردن اور اور بارہ دورہء مصر سے متعلق ہوں گی۔کار جہاں دراز ہے۔دیکھئے کب سمندر چاک ہوکر راستہ بناتاہے۔

مسافتوں کا دلداہ
کاشف مصطفے
فروری۔2017

کیا کرے حالِ دل بیان جگر!

تعارف:محمد اقبال دیوان

ہمارے کاشف میاں عادتاً بہت clinical آدمی ہیں۔ اگر آب و ہوا کا اثر پودوں  ،جانوروں اور پرندوں پر ہوتا ہے تو مان لیجئے کہ یہ اثر انسانوں پر بھی ہوتا ہوگا۔ اعلیٰ حضرت کا چونکہ آبائی تعلق روالپنڈی اور مانسہرہ سے ہے لہذا اسی مناسبت سے مزاجاً قدرے پتھریلے بھی ہیں۔ہمارا ،انہیں پتھریلا کہنے پر اتنا منہ بنانے کی ضرورت نہیں ۔کعبے میں توبہ کے طلب گار مومنین کے بوسوں سے آباد حجر اسود بھی ایک پتھر ہے۔
زمرد ،نیلم ،پکھراج اور یاقوت بھی پتھر ہی ہیں اور سمندرکا موتی کو بھی پتھر ہی سمجھ لیجئے کہ وہ ابتدا میں ایک سنگریزہ ہوتا ہے جو سیپ نگل لیتی ہے اس کی چھبن سے جسم نازک کو بچانے کے لیے تا دیر اس پر اپنا لیس دار لعاب لپیٹ کر ایسا آب دار بنادیتی ہے کہ وہ سنگ مداخلت کسی کے گلے میں حمائل ہوکر سج سج جاتا ہے۔

عجب بات ہے کہ کچھ پتھروں کو قرآن الکریم نے بھی گمراہ قلوب سے بہتر گردانا ہے’’ اور پھر تمہارے دل سخت ہوگئے۔پتھروں سے بھی زیادہ سخت، بلکہ اپنی سخت گیر ی میں ان پر بھی سبقت لے گئے کیوں کہ کچھ پتھر ایسے ہوتے ہیں جن سے حکم الہی سے چشمے پھوٹ کر بہہ نکلتے ہیں اور ان میں سے چند تو ایسے ہیں کہ ذکر الہی پر خوف سے لرزاں ہوکر گر گر پڑتے ہیں۔‘‘( سورۃ البْقرۃ آیت نمبر 74)
انگریزی محاورے کے حساب سے لڑھکتے ہوئے پتھر پر کوئی کائی نہیں جمتی (A Rolling Stone Gathers no Moss)۔ہم ایک عرصے تک سوچتے رہے کہ اس عمل میں ہرجائی کائی کو تو رین بسیرا مل جاتا مگر اس بار بردار پتھر کو اس ہم آغوشی کا کیا فائدہ ہے؟! تفکرات کے ان ہی تانوں بانوں کو بُنتے بُنتے سرجن کاشف مصطفے ہمارے دوست بن گئے۔ہماری کتاب ’’ جسے رات لے اڑی ہوا‘‘ کہیں سے اُن کے ہاتھ لگ گئی تھی۔یہی کتاب ہمارے مابین تعارف کا ذریعہ بنی۔
ہماری دوستی کا ذریعہ وہی کم بخت فیس بک بنی۔ویسے تو لوگوں نے فیس بک کے ذریعے دیس بدیس والیوں سے بیاہ بھی رچائے مگر پاکستانی مردوں اور عورتوں کی اکثریت سے ملنے کے لیے فیس بک بہت ہی بورنگ پلیٹ فارم ہے۔وہ یا تو اپنی تصویریں  اپ لوڈ کرکے آپ کو ہلکان کردیں گے یا اپنے دودھ پیتے اور منہ  بسورتے بچوں کی تصویر وں سے ساری فیس بک کو زچہ خانہ بنادیتے ہیں۔انہیں سمجھانا بہت مشکل ہوتا ہے کہ ان کے بچے اُن کے علاوہ ساری دنیا میں کسی کو اچھے نہیں لگتے ۔ہمیں جرات نہیں ہوتی کہ انہیں سمجھائیں کہ ذرا صبر کریں کچھ دنوں بعد یہی اولاد جب بہوئیں داماد گھر میں آئیں گے تو انہیں بھی کیکٹس کے پودے کی طرح چھبیں گے۔اس کے علاوہ بھی بہت سے پاکستانیوں کی ایک تعداد فیس بک کی حد تک ایسی ہے جن کی پوسٹوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان سے زیادہ باکردار اور خدا ترس اور اعلی ٰ ظرف انسان قیام پاکستان کے بعد کوئی اور پیدا ہی نہیں ہوا۔ان کے اخلاقیات سے بوجھل پیغامات دیکھ کر لگتا ہے کہ عبدالستار ایدھی اور عمران خان ناحق اس ملک میں پیدا ہوئے۔
علم ہوا ڈاکٹر بابو کاشف مصطفے کا تعلق پنڈی سے قیام جوہانسبرگ ۔جنوبی افریقہ میں ہے، پیشہ دل کی جراحی ہے اور سفر شوق۔اسی شوق میں وہ لڑھکتے لڑھکتے پتھر بن گئے ہیں اورعلمیت کی قابل تحسین کائی بھی خود پر لاد لی ہے۔اسکا اندازہ ان کی فیس بک پوسٹوں سے بھی ہوا۔

ایک دن اطلاع دی کہ اسرائیل جاتے ہیں ،وہاں سے اس طرح کی پوسٹ ہوئی تو ہم نے سمجھایا کہ کیا کرتے ہو۔جو کچھ لکھتے ہو اس کو سلیقے اور ذوق سے لکھو گے تو نگاہء آئینہ ساز میں عزیز تر ہوجاؤ گے۔کہنے لگے کہ ڈاکٹری نسخوں اور پیشہ ورانہ دستاویزات کے علاوہ کچھ اور کبھی لکھا ہی نہیں ۔ہم نے تسلی دی کہ دیو بند کے بانی اور قدرت اللہ شہاب صاحب کے روحانی مرُّبی ہمارے حاجی امداد اللہؒ مہاجر مکی کے ایک شاگرد رشید کا نام تھا مولانا قاسم ناناتوی ۔ان کو حکم ملا تھا کہ دارالعلوم دیوبند کی تعمیر کریں ۔چھتر والی مسجد سہارن پور صوبہ یوپی میں امام مسجد مولانا محمد حسین کو فریضہ سونپا گیا کہ کل فجر کی نماز پر جو پہلا بچہ ملے اس کی تدریس فرمائیں ۔وہ پہلا طالب علم بعد میں شیخ الہند کہلانے والے اسیر مالٹا شیخ محمود الحسن تھے۔شاہ رفیع الدین کو مہتم مقرر کیا گیا۔شاہ صاحب بمشکل اردو میں اپنا نام لکھ پاتے تھے مگر بڑے اعلیٰ صاحب نسبت بزرگ تھے۔سلوک حق کے بلند مدارج پر فائز۔
ایک زمانے میں مدرسہ دیوبند کے درباں بھی صاحب سلوک ہوتے تھے۔سو وہ جو دیوبند کا رشتہ تصوف سے جدا سمجھتے ہیں ، وہ درستگی کرلیں۔یہ امر اور ہے کہ اہل دیوبند مزار اور پیر پرستی، دھول، دھمال ماتم اور گریہ زاری کو خلاف شریعت جانتے ہیں۔ اعلی مرتبت نانوتوی صاحب ؒ سے راہ سلوک پر گامزن ایک سالک نے شکایت کی کہ’’ سرکار روحانی طور پر کچھ کثرت مجاہدہ کے باوجود تہی دامنی کا یہ حال ہے کہ حصول کا معمولی احساس تک نہیں ہوتا ہے ۔ لگتا ہے سفر رائیگاں پر گامزن ہوں‘‘جواب ملا ’’راہ سلوک میں نایافت کا احساس ہی اصل یافت ہے‘‘۔سو نہ لکھنا ہی ٹھیکرے کے کورے نکور برتن والی بات ہے۔استاد نذیر اکبر آبادی نے کورے برتن پر ایک نظم لکھی تھی ۔ دلیپ کمار کو پندرہ بیس بند کی یہ طویل نظم زبانی یاد بھی تھی اور اپنی زخموں کی ٹکور کرتے لہجے میں جی لگا کر سناتے بھی تھے۔

کاشف میاں کا دوسرا سوال تھا کہ اسرائیل کے سفر نامے میں لوگ دل چسپی لیں گے؟ ہم نے کہا پاکستانیوں کے لیے اسرائیل،سیارہ مریخ کی مانند اجنبی ہے۔اسرائیلیوں کو تو ہمارے بارے میں امریکہ ، ہندوستان، ہمارے جنوب مغربی پڑوسی کے ذریعے بہت کچھ پتہ چل جاتا ہے مگر ہمارے پاکستانیوں کی اکثریت بھی اس بھیانک حقیقت سے آشنا نہیں کہ تصاویر میں دکھائی جانے والی مشرق وسطی کی مشہور ترین عمارت قبتہ الصخری یعنی Dome of Rock وہ مسجد الاقصی نہیں جسکا احوال قرآن الحکیم کی سترہویں سورت (الاسرا )کی پہلی آیت میں درج ہے’’ بڑی بزرگی اور عظمت والا ہے وہ ،جو اپنے بندے کو ایک ہی رات میں مسجد الحرام(کعبۃاللہ ) سے مسجد الاقصیٰ( دور کی مسجد) تک لے گیا۔ جس کے ارد گرد کے ماحول کو اس(اللہ) نے بڑی برکت عطا فرمائی ہے۔ہے تاکہ وہاں اسے اپنی چندنشانیاں دکھائے۔ ‘‘

مکہ سے یروشلم
مکہ سے یروشلم
مکہ سے یروشلم

وہ لکھنے پر اور ہم وقت نکال کر ترجمہ کرنے پر آمادہ ہوگئے تو ہم نے ذکر کیا کہ اس کی اشاعت ایک نومولود ویب جریدے ’’ وجود ‘‘ میں ہوگی۔ یہ ہمارے دوست محمد طاہر جرنلسٹ کی ملکیت ہے۔وہ ویسے بھی آدھی روٹی پر دال لیے بیٹھے رہتے ہیں۔( آگرے کے محاورے میں ہمہ وقت موقع کی تلاش میں رہنا) آدمی بہت اللہ والے ،عبادت گزار ہیں اور زیرک ہیں عزائم بھی بلند رکھتے ہیں۔ہم نے مطالبہ کیا کہ اس سیریز میں طاہر میاں اپنا نشترِادارت (Editor’s Pen) ذرا تھام کر رکھیں گے۔انہوں نے بات مان لی اور یوں یہ سلسلہء اشاعت چل پڑا۔دوران اشاعت اسے بہت Hits ملے۔گوگل والے بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں اتنے ہٹس پاکستانیوں کی جانب سے یا تو زیر حراست ماڈل گرل ایان علی کے بارے میں کھوج میں ملتے تھے یا بھارتی نژاد کینیڈین شہرت رکھنے والی سکھ اداکارہ کی زندگی کے حقائق جاننے والوں کی جانب سے ملا کرتے تھے۔پاکستان کا کوئی جریدہ مقبولیت میں اس سلسلے کا ان دنوں ہم پلہ نہ تھا۔

ہم قاری کواس تعارف میں آگاہ کردیں کہ اس کتاب میں چھ سات مقاماتِ ادراک ذرا سخت ہیں:
پہلا مقام یہ ہے کہ سورۃ الاسرا کی جس پہلی آیت کا حوالہ ہم نے دیا ہے کہ ’’بڑی بزرگی اور عظمت والا ہے وہ، جو اپنے بندے کو ایک ہی رات میں مسجد الحرام(کعبۃاللہ ) سے مسجد الاقصیٰ( دور کی مسجد) تک لے گیا۔ جس کے ارد گرد کے ماحول کو اس(اللہ) نے بڑی برکت عطا فرمائی ہے۔ تاکہ وہاں اسے اپنی چندنشانیاں دکھائے۔ ‘‘
یہ آیت جب نازل ہوئی تو ہمارے نبی محترم محمدﷺ پر نبوت کا دسواں برس بہت بھاری تھا۔ اسے سیرت النبی کی کتب میں ’’عام ال حزن ‘‘ یعنی دکھوں کا سال کہتے ہیں۔ سیدنا ابو طالب کا اسی سال وصال ہوا ۔آپ کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے دو ماہ بعدام المومنین سیدۃ خدیجۃ الکبریٰ بھی جہانِ فانی سے کوچ کرگئیں۔آپﷺ ان سہاروں کی دنیا سے رخصت پر بہت رنجور اور دل گرفتہ تھے۔مایوسی کے بادل ہروقت طبیعت پر منڈلاتے تھے کہ ایسے میں آپ کی دل جوئی اور پیغام کی حقانیت ثابت کرنے کی خاطراسی سال آپ کو حکم الہی سے معراج کے سفر پر لے جایا گیا۔
آپ نے واپس آن کر معراج کااحوال بیان کیا ۔ آپﷺ کے ازلی دشمن لعین ابو جہل کو بھی اس کی سن گن ملی ۔وہ بہت خوش ہوا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ مکۃ المکرمہ سے یروشلم کا مہینوں کا ناممکن سفر آپ نبی محترم محمدﷺ نے ایک رات ہی میں طے کرلیا۔بڑا چال باز انسان تھا مگر اللہ نے اس ناہنجار کو ہدایت سے محروم ہی رکھا۔جابجا ہمارے نبی محترم محمدﷺ کی تکزیب کرتا پھرتا تھا۔اس نے اپنے رفقاء کو باور کرایا کہ جو قافلے یہاں سے یروشلم گئے ہیں اور وہاں سے واپس لوٹ رہے ہیں ،اُن کا احوال نبی محترم محمدﷺ سے پوچھیں گے۔دوران مسافت یقیناًآپ نے انہیں دیکھا ہوگا۔ان سے پھر پڑاؤ اور دیگر تفاصیل کی تصدیق کریں گے ۔اگر آپ ﷺ کا بیانیہ درست ثابت نہ ہوا تو نعوذ باللہ تکذیب کا بہترین موقع مل جائے گا ۔
کفار مکّہ آپ سے ان قافلوں کی واپسی پر وقتاً فوقتاً یہ تفصیلات پوچھتے اور سچ ثابت ہونے پر اپنے کفر کے راستے پر ڈگمگا کر رہ جاتے۔ آیت ہم نے بھی آپ کی طرح کئی دفعہ پڑھی۔حیران ہوئے کہ قرآن الکریم جو بے حد مختصر کتاب ہے اور جس کا کل ذخیرہء الفاظ بھی صرف دو ہزار الفاظ پر مشتمل ہے(اس میں پانچ سو الفاظ تو وہ ہیں جن کے معنی ایک عام فہم اردو اور علاقائی زبان بولنے والے کو ازبر یاد ہیں ۔جیسے رّب،شیطان،ابلیس،قیامت، جنت، خلد، جہنم ،نار،حساب،قیامت،یوم،طغیان،نبی، رسول،زیتون وغیرہ) ہم حیران ہوتے تھے کہ قرآن الحکیم اس آیت میں کعبۃاللہ کے علاوہ اقصیٰ (عربی میں دور افتادہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے) کے ساتھ مسجد کا لفظ کیوں استعمال کرتا ہے۔کفار کو بھی شہر یروشلم میں اس مقام پر کسی مسجد کی موجودگی کی کوئی خبر نہ تھی اور دیگر مذاہب کے پیشوا بھی اس اعتراض کو بہت اچھالتے تھے کہ قبۃالصخرۃ تو ہمارے نبیﷺ کے وصال کے کئی برس بعد تعمیر ہوا۔ اس مقام کو قرآن مسجد کیوں پکارتا ہے۔

تحقیق کے دوران ایک عجب حدیث سامنے آئی جو کم ہی لوگوں کی نظر سے گزری ہے۔یہ حدیث مبارکہ صحیح بخاری کی چوتھی جلد کی کتاب نمبر 55, میں حدیث نمبر 585کے طور پر سیدنا ابوذر غفاریؓ کے حوالے سے مذکور ہے کہ ’’اللہ کے نبی کے سے ہم نے پوچھا کہ روئے زمین پر تعمیر ہونے والی پہلی مسجد کون سی تھی تو نبیﷺ نے فرمایا کہ وہ یہ کعبۃاللہ یعنی مسجد الحرام ہے۔ہم نے مزید دریافت کیا کہ اس کے بعد کس مسجد کی تعمیر ہوئی تو آپﷺ نے فرمایا کہ وہ مسجد الاقصی تھی۔ہم نے پوچھا کہ ان دونوں مساجد کی تعمیر میں کل کتنے برس کا درمیانی عرصہ حائل ہے تو نبی محترم ﷺ نے فرمایا ’’کل چالیس برس کا جو بھی ان مساجد میں وقت مقررہ پر صلوۃ کی ادائیگی کرے گا۔یہ اس کے اعمال میں بہتری کا سبب بنے گا۔‘‘ یاد رہے کہ یہ چالیس برس وہ تھے جو سیدنا ابراہیم علیہ سلام نے سیدہ حاجرہ اور سیدنا اسمعیل علیہ سلام کی رفاقت میں مکۃالمکرمہ میں گزارے تھے اور وہاں سے آپ واپس اپنی پہلی شریک حیات سیدہ سارہ کی جانب یروشلم لوٹ گئے تھے۔
سو برسوں کی یہ خلش اس سفر نامے کو پڑھ کر دور ہوئی کہ قبۃ الصخرۃ تو وہ مقام اور سنہری گنبد ہے جو یزید کے کزن اموی خلیفہ عبدالمالک نے سن 691 عیسوی میں تعمیر کرایا تھا۔اس کا مقصد مکۃ المکرمہ میں اجتماع کو روکنا تھا۔ وہ اپنا اقتدار کے دوام کے لیے سیدنا امام حسینؓ کی شہادت کے بعد خوف زدہ بھی تھا اور مکۃ المکرمۃ اور مدینۃالمنورۃ میں اجتماع اور بغاوت سے گریز چاہتا تھا ۔عوامی اجتماع کا رش کم کرنے کے لیے اس نے یہ قبۃ الصخرۃ تعمیر کرایا۔یہیں سے ذرا دور ہٹ کر اسی احاطے میں ایک بڑی مسجد الاقصیٰ ہے ،جسے سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس لیے تعمیر کیا کہ اصلی مسجد الاقصیٰ جسے اہل یروشلم مسجد الانبیا کہتے ہیں۔وہ نمازیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے ناکافی تھی۔تہہ خانے میں واقع مسجد الانبیا میں ہمارے نبی ا ل محترم نے معراج پر تشریف لے جانے سے قبل قرآن الکریم میں مذکور پچیس انبیا کی صلوۃ کی امامت کی تھی۔یہاں سے وہ مقام بہت قریب ہے جہاں سے آپ براق پر سوار ہوکر سیر سماء وات پ تشریف لے گئے تھے۔کاشف صاحب نے بڑی عنایت کی کہ اس چٹان کو جوہوس دید میں براق کے ساتھ آسمانوں کی جانب بلند ہونے لگی تھی اسے فوٹو شاپ کی مدد واضح کردیا کہ کس طرح اسے جبرئیل امیں نے تھام کر روکا اور اس پر براق کے سموں اور قاصد وحی سیدنا جبرئیل کے دست مبارک کی علامات ثبت ہوکر رہ گئی ہیں۔یہ وضاحت پہلے دستیاب نہ تھی۔

ہمارے کاشف صاحب کو اس مقام مقدس پر شیخ نائف کی وساطت سے ایک پوری رات عبادت کرنے کا موقع ملا۔ یہ مقام اسرار و رموز ہے۔جو احوال ان پر اس رات طاری ہوئے وہ راز کی بات ہے۔ہم نے کاشف صاحب سے استدعا کی ہے کہ وہ اپنے سفر نامے کے دوسرے حصے ’’الٹے قدم‘‘ جس کا حکم انہیں شیخ نائف نے دیا اس میں شیخ نائف کا تعارف تفصیلاً کرائیں۔یہ سفر نامہ اردن اور مصر کے مقامات مقدسہ کی زیارات پر مشتمل ہوگا۔ان شاء اللہ۔شیخ نائف شطاری سلسلے کے بزرگ ہیں۔راہ سلوک کی بڑی اعلیٰ منازل طے کرچکے ہیں۔ایسے اہل راہ و رسم کمیاب ہی نہیں نایاب ہیں۔ان کا سماجی مرتبہ بھی اہل یروشلم میں بہت ممتاز ہے۔یروشلم کی مسجد رابعہ میں وہ ایک حلقہء ذکر و فکر ہر جمعرات کا جماتے ہیں۔اللہ ان کے مراتب کو اور بلند فرمائے۔
اس سفر نامے میں تیسرا اہم مرحلہ ہمارے کاشف صاحب کا سیدنا موسیؑ کے مقبر عالیہ کا دیدار ہے۔یہ بہت بڑی سعادت ہے جو رضائے الہی سے انہیں نصیب ہوئی۔اس باب کو بھی آپ بہت غور سے پڑھئے گا۔اس مزار کے متولی بھی کوئی معمولی ہستی نہیں گو رہن سہن بہت غریبانہ رکھتے ہیں۔
دنیاوی حساب سے پرکھیں تو آپ کو پہلی دفعہ یہ سفر نامہ اس راز سے آشنا کرتا ہے کہ اسرائیل میںSephardi Jews یہودالعرب نسبتاً ایک کمزور طبقہ ہے۔اس میں اسپین اور عرب کے یہود شامل ہیں۔ان کے برعکس Ashkenazi یہودی ہیں جن کا تعلق یورپ اور روس سے ہے۔یہ صیہونیت کے سب سے بڑے داعی ہیں۔دنیا بھر میں انہیں کا راج ہے۔ان دونوں فرقوں کے پادری بھی علیحدہ ہوتے ہیں اور یہود العرب کا حال وہاں خاصا مخدوش ہے۔عرب ان یہودیوں کے لیے اپنے معاملات میں قدرے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
دنیاوی حساب سے اس سفر نامے کو پرکھیں تو آپ کو دو اہم رازوں سے بھی آشنائی ہوتی ہے کہ Tempelar Knights،اُن کا پوپ اور کیتھولک چرچ اور خفیہ تنظیم فری میسن سے واسطہ اور بنکوں سے ان کی تعلق داری بھی آپ کی سمجھ میں آجائے گی۔
تاریخ کا یہ اہم باب جو حال اور مستقبل سے جڑہوا ہے وہ کئی صدیوں پر محیط ہے مگر اسے کاشف میاں نے آپ کو ایک کیپسول میں بند کرکے آنکھ بند کرکے پھانکنے کے لیے دے دیا ہے۔
دوسرا اہم راز جس سے آپ باخبر ہوتے ہیں وہ یہ ہے کہ اہل یہود اپنے جس مسیحا mashiach کے منتظر ہیں جسے ہم دجال اور عیسائی Anti-Christ پکارتے ہیں۔اس کی آمد میں اب کل دوسو بائیس سال بچے ہیں۔اس سے پہلے انہوں نے ہیکل سلیمانی جو ان کے عقیدے کے حساب سے عین مسجد الانبیا اور اقصیٰ ال جدید کے تہہ خانوں میں واقع ہے اس کی تعمیر کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔دنیا میں فلسطین اور مسجد الاقصی کی زیر زمین کھدائی کے حوالے سے جو خلفشار اس وقت دکھائی پڑتا ہے ،وہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔اس ہیکل کی تعمیر کے ساتھ ہی انہوں نے دنیا بھر سے یہودیوں کی آباد کاری مشرق وسطیٰ بالخصوص اسرائیل اور مدینۃالمنورۃ میں کرنی ہے اور دنیا بھر کے تمام وسائل پر قابض ہونا بھی ان کی شریعت کا حصہ ہے جو تلمود میں سکھائی جاتی ہے۔ اسی سفر نامے میں آپ کو فلسطینیوں کی زبوں حالی اور ان پر ہونے والے مظالم کا بھی ادراک ہوتا ہے۔اللہ ان کی مشکلات آسان کرے۔

سفر نامے کے قسط وار چھپتے چھتے دو اہم واقعات اور بھی رونما ہوئے ۔ٹیکسی ڈرائیور عبدالقادر کی بڑی ذہین اور سب سے چھوٹی صاحبزادی دعا کا داخلہ کاشف صاحب کے اثر و رسوخ اور مالی اعانت سے قاہرہ کی میڈیکل یونیورسٹی میں ہوگیا ۔سالانہ امتحان میں اس نے ٹاپ بھی کیا ہے۔اللہ اس کی زندگی میں برکت دے یہ اس غریب اور مفلوک الحال خاندان کے لیے Life Changing Move ہے دوسرے اس سفر نامے کو جس جس نے پڑھ کر اسرائیل کا دورہ کیا ان سب نے سفری رہنمائی کے لیے عبدالقادر کا ہی انتخاب کیا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت کا کاروبار گلشن کی طرح چل نکلا ہے۔ اب ان کے اور ان کے خانوادے کے پاس اتنے گاہک جمع ہوجاتے ہیں کہ اس وجہ سے اللہ برکت دے ان کے گھرانے میں خاصی مالی آسودگی بھی آگئی ہے۔وائس آف امریکہ والوں کی اردو سروس والوں نے بھی اس پر ایک سیریز بنانے کے لیے کاشف صاحب کے سفر نامے کی مدد لی۔
ہم اس کے ایک دل گرفتہ باب ممریز خان پنڈی والوں کا ذکر مختصراً اس طرح  کردیں کہ کئی مشتاقان جستجو ان کے گھرانے کی پنڈی میں کھوج میں لگ گئے جس سے خاصی بدمزگی ہوئی۔

بدمزگی کا ایک حوالہ اور بھی ہے!

ڈاکٹر کلور لی کاشف میاں کی جنوبی افریقہ میں کولیگ ہوتی تھیں۔وہاں انہوں نے امراض قلب کے کسی مضمون میں پی ایچ ڈی بھی کیا ۔یہ بہت بڑا اعزاز ہے۔یہ ان لندن ہم جماعت وہاں اورتل ابیب میں میزبان ہوتی تھیں۔ ان کا کتاب میں ذکر آیا تو انہیں یار لوگوں نے سوشل میڈیا پر ڈھونڈ نکالا ۔یہ جان کہ وہ اسرائیل میں ماہر امراض قلب ہیں انہیں یہ سنانے لگے کہ دل چیز کیا ہے ،آپ ہم پاکستانیوں کی جان لیجئے، بس ہم سے شادی کرلیجئے۔وہ ایک مدت سے شادی شدہ ہیں اور اپنے شوہرڈیوڈسے اتنی ہی خوش ہیں جتنے پاکستانی جمہوریت سے آسودہ دکھائی دیتے ہیں۔
ڈاکڑ صاحب سے انہوں نے اس جسارت بے ہودہ کی شکایت کی۔مطالبہ یہ تھا کہ کتاب میں ان کا ذکر کسی فرضی نام سے ہو تو مناسب ہے ورنہ اسرائیل کی موساد اور پاکستان کے مردوئے پیچھا کرنے میں ماں بہن ایک کردیں گے۔
ڈاکٹر صاحب نے ہما را ذکر چھیڑا کہ مزاج تو ان کا بھی چین کی خفیہ ایجنسی The Ministry of State Security (MSS) والا ہے ۔رابطے کی تلقین کی ۔کتاب پنے طباعت کے آخری مراحل میں تھی۔ڈاکٹر کلور لی اپنی شناخت پربہت زچ ہوئی۔پاکستانی مردوں نے اسے فیس بک پر بھی ڈھونڈ نکالا تھا۔ وہ اسے تواتر سے مسلمان ہونے، پاکستان آنے کی اور شادی کی پیشکش کرتے تھے۔یہ جان کر بھی کہ وہ پکی یہودن ہے، اسرائیلی ہے اور خیر سے میاں کو بھی پیاری ہوچکی ہے۔ وہ خواہش مند تھی کہ کتاب میں اس کو اس کے اصلی نام ڈاکٹر کلور لی اور میاں کو بھی کسی فرضی نام سے  موسوم کیا جائے۔ فون پر ہم نے جتایا کہ محض اسی نام کی تبدیلی کی وجہ سے ہڑا ہوڑی میں کتاب کا ایک پورا باب ضائع ہوگا وقت، پیسے کا زیاں ۔۔معصومہ کو سمجھایا کہ ہمارے پاکستان کے ایک شاعر ہوتے تھے مصطفے زیدی انہوں نے اپنے سے منسلک کسی دلنشین خاتون کے لیے فرمایا تھا کہ ع
ہماری نظم کی ساری جہاں میں شہرت ہے
ہمارے ساتھ رہوگی تو نام بھی ہوگا
مصر تھیں کہ میرا اور میاں کا نام بدل دو۔ہم نے کہا ارے وہ کیوں کلور تو ہماری شہد کی بوتل پر بھی “Clover Honey” لکھا ہے۔کہنے لگی تمہارے پاکستانی مرد میرے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ ہم نے کہا یہودی عورتوں اور شریفوں کے کرپشن سے جنگ لڑنے کا حوصلہ ہمیں کپتان عمران خان نے دیا ہے۔ہنسنے لگی۔سرجن کاشف مصطفےٰ ، کلور، پرنسس ڈیانا،جمائما اور ڈاکٹر حسنات کا ٹولہ لندن میں ساتھ گھومتا تھا۔

Dr.Clover Lee
aliyah
aliyah

ہم نے تجویز دی کہ اس کا نام سفیرہ اور میاں کا نام لیوی رکھ لیتے ہیں کہنے لگی تمہیں اسرائیل کی حسین لڑکیوں کے نام بہت یاد ہیں۔میرا نام کچھ جینرک ہو تو اچھا ہے۔فلسطینیوں کی ہمدردی کی وجہ سے ویسے ہی میری بہت کھنچائی ہوتی ہے۔ طے ہوا کہ کتاب میں وہ سارہ اور میاں سنگر کے نام سے موسوم ہوگا۔کتاب چھپی تو بہت خوش ہوئی،ہم سے کہنے لگی اس کا انگریزی ترجمہ بھی کردو۔ہم نے اسے روسی صدر پیوٹن کا پسندیدہ لطیفہ سنایا تو بہت ہنسی۔پیوٹن کسی پریس کانفرنس میں اپنے تین عدد وزراء کے ساتھ شریک تھے۔ دس میں سات سوال ان سے ہوئے تو چونک گئے۔کہنے لگے ایک اسرائیلی جنرل کو کسی خاص مشن کے لیے ایک نوجوان کپتان کی تلاش تھی۔ انٹرویو میں شریک کپتان سے سوال ہوا کہ اگر تمہارے سامنے ایک عرب دہشت گرد ہو تو کیا کرو گے۔ماردوں گا۔ اور اگر چار ہوں تو ؟انہیں بھی ماردوں گا۔وہ ٹینک میں بیٹھے ہوں تو؟ جواب ملا ان پر راکٹ فائر کرکے اڑا دوں گا۔وہ اگر کسی ہوائی جہاز میں موجود ہوں تو کیا کروگے؟ کپتان زچ ہو کر کہنے لگا کیا ساری اسرائیلی فوج میں ،میں اکیلا ہی  کپتان ہوں؟
ہم نے بتایا کہ ہمارے صاحب زادے ممکن ہے کسی کانفرنس کے سلسلے میں تل ابیب تشریف لائیں گے مچل گئیں کہ ہمارے مہربانی قدردانی سے متاثر ہوکر اسے وہ قیام کے دوران کھانے پر لے جائیں گی ۔ کہتی تھیں بہت دن ہوئے کسی دلفریب مرد کے ساتھ کھانا نہیں کھایا ۔” تصویر بھیجی تو کہنے لگیں ارے یہ تو ماشا اللہ ” Drop-dead Handsomeہے۔۔ہم نے کہا میاں سے پوچھو۔ دولت میں آدھا حصہ دیتا ہے تو ہم پہلے مسلمان کے طور پر”Aliyah” کرلیتے ہیں۔کہنے لگی تمہیں تو موساد جہاز سے ہی غائب کردے  گی۔تمہاری اسلام، پاکستان اور عربوں سے محبت کا ان کے پاس مکمل پروفائل ہوگا۔
ہمیں سرجن کاشف مصطفے کا میسنجر پر پیغام ملا کہ “ڈاکٹر کلور لی۔”1971-2017 تو ہم نے جواب میں سوالیہ نشان لکھا اور فون پر اس کی موت کی اطلاع ملی ،غالب نے کہا دوسروں کی موت پر وہ سوگوار ہو جسے خود نہ مرنا ہو۔یہ شاید اپنے لے پالک عارف خان کی موت پر لکھے گئے دل نشین نوحے ع ’’کیا تیرا بگڑتا جو مرتا نہ کوئی دن اور‘‘ سے پہلے کی بات ہے ۔
ڈاکٹر کلور لی کی وفات حسرت آیات پر سرجن کاشف، غریب فلسطینی ٹیکسی ڈرائیور عبدالقادر اور ہم سوگوار ہیں۔

محمد اقبال دیوان!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”دیوارِ گریہ کے آس پاس ۔۔۔تحریر: کاشف مصطفی ،ترجمہ تحقیق ترتیب:محمد اقبال دیوان/ابتدائیہ

  1. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! یہ کتاب لاہور میں کہاں دستیاب ہے ؟ براہ مہربانی ، مکمل پتہ سینڈ کردیں ۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *