ایچ ۔ ٹو۔ او۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط3

کراچی کی پبلک یونی ورسٹی کے ایام سے ملحق و پیوست ایک اور کہانی
گزشتہ سے پیوستہ

ایک دن جب وہ یونی ورسٹی میں تھی اسے فیصل کا فون آیا کہ یونی ورسٹی کے باہر گڑ بڑ ہے۔فائرنگ ہورہی ہے۔وہ قریب ہی کسی میٹنگ کے لیے آیا ہوا ہے۔ وہ اسے پک کرنے آرہا ہے۔ حسنہ کی اپنی گاڑی وہ ڈرائیور کے ذریعے میٹرو کے پاس طارق روڈ پر کھڑی کرادیں گے۔موسم بھی اچھاہے۔گلشن معمار یا ہاکس بے کی طرف نکل جائیں گے وہاں بہت سنسان گوشے ہیں ۔گاڑی کی نمبر پلیٹ بھی نیلی پولیس والی ہے۔چنتا کی کوئی بات نہیں ۔ایچ۔ ٹو۔ او ۔ ذرا کھلنڈری، مت والی ، نمائش پسند اور قدرے بے باک اور حدود سود زیاں سے پرے رہنے والی عورت نے سوچا کہ یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں۔

tripako tours pakistan

نئے سلسلے!
اس دن وہ دو گھنٹے تک ہلکی ہلکی پھوار میں ڈرایؤ کرتے رہے۔جانے کیا لمحات تھے کہ ایچ ٹو او جذبات میں بہہ گئی اور کئی دفعہ دونوں نے ایک دوسرے کو چوما بھی۔اصل میں فیصل بہت شیریں گفتار تھا۔ جب وہ کوئی درخواست کرتا تھا تو اس کی نگاہوں میں ایک ایسی بے چارگی ہوتی تھی جو کسی شیر خوار بچے کی نگاہوں میں دودھ طلب کرتے وقت ہوتی ہے۔حسن طلب کے ساتھ اس میں ایک صبر آمیز ٹھہراؤ بھی تھا ۔ وہ جانتا تھا کہ مطالبہ پورا ہونے میں کچھ وقت بھی لگ سکتا ہے۔اس نے ڈرائیونگ   کے دوران جب دونوں سیٹو ں کے درمیان سینٹر کنسول سے بئیر کا کین نکالا تو ایچ ٹو او نے ذرا سختی سے کہا “میرے ساتھ آپ کو شراب پینے کی اجازت نہیں۔”یہ سن کر اس نے وہ ساری تھیلی جس میں بیرء کے چھ کین بھی اور بہت سی خشک برف بھی تھی ایچ۔ٹو او کو تھما د ی کہ وہ اسے کھڑکی کھول کر پھینک دے۔جس پر ایچ ٹو او نے ایک کین نکال کر اسے خود ہی کھول کر دے دیا۔ جو اس نے تین چار گھونٹ میں کار چلاتے ہوئے ختم کرلیا۔ اس دوران وہ اسے مسلسل پندرہ منٹ تک  گھور کر دیکھتی رہی کہ اس پر کہیں نشے کا کوئی اثر تو نہیں ہوا تو اس نے بہت آہستگی سے کہا “اللہ  سائیں جندڑیے ہینج تو مے کو نہ تکو لگدا ہے کراماً کاتیبین مے کو گھور دے پئیں۔اس کی اس بات سے ایچ ٹو بہت محظوظ ہوئی۔”حسین بھائی باٹلی والا نے سہاگ رات سے گزشتہ رات تک مجال ہے کبھی تو اس قدر ٹھنڈک اور مٹھاس سے کوئی بات کہی ہو ۔ اس بات کے انعام کے طور پر بئیر کا ایک کین اور کھول کر دیا تو اس نے کہا “بئیر اس پر اس وقت تک حرام ہے۔جب تک میزبان خود ایک گھونٹ نہ پی لے۔”

اچھے برے کام میں ایک بڑا فرق ہے۔ برے کام میں صرف پہلا قدم مشکل ہوتا ہے   باقی راستے خود بخود بنتے جاتے ہیں۔گلوکار ہ میڈونا نے اپنی جو ڈائریا ں اپنی فلم “ایویٹا” کی فلم بندی کے دوران ارجنٹائن میں لکھی ہیں ان میں کہیں لکھا ہے کہ “جب آپ کوئی برا کام کرنا چاہیں تو ساری دنیا اس سازش میں لگ جاتی ہے کس طرح آپ کی مدد کرے۔”اچھے کام میں البتہ ہر لحظہ مشکل پیش آتی ہے۔چوزوں جیسے دل رکھنے والوں کے لیے اچھائی کرنا آسان نہیں۔ایچ ٹو او نے جب کہا” نہ تو اس نے پہلے کبھی شراب پی ہے نہ وہ اب  شراب پیے گی” تو قیصرانی کہنے لگا۔” اللہ سائیں جندڑیے ،بئیر کو شراب، کون سامفتی بولتا ؟اڑے ظالم اس میں تو رو دھو کر امریکی فیڈرل  قانون کے حساب سے صرف تین سے پانچ پرسنٹ الکوحل ملاتے ہیں اس سے زیادہ الکوحل اور نشہ تو آپ کا میرے کو تھوڑے دیر پہلے دیکھنے میں تھا۔ ظالم حسینہ پھر تو وہ دیکھنا بھی اللہ سائیں کے پاس حرام ہوگیا۔جاؤ کہیں سے اس پر بھی کرائے کے کسی عالم کا فتویٰ پکڑ لو۔اللہ سائیں ابھی تو عشق کا کارواں چلا بھی نہیں اور ابھی سے غبار کی باتیں۔ آپ کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر اعتراض ہے تو واپس چلتے ہیں ۔ ہم کو یقین آگیا کہ میرے نصیب میں اے دوست تیرا پیار نہیں۔”

مڈونا

اس کی اس بات پر ایچ ۔ٹو۔ او نے منہ  بنا کر ایک چھوٹا سا گھونٹ لیا اورا پنے ہونٹ صاف کرنے کے لیے ٹیشو پیپر کے ڈبے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو  قیصرانی نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں کے پاس لا کر کہا کہ اگر یہ گناہ تھا تو اللہ سائیں اس کو بھی ہمارے حساب میں لکھ دیں۔کچھ ہی دیر میں کار آہستہ ہوگئی  اور دونوں کے ہونٹ آپس میں پیوست تھے۔سڑک سنسان اور دل آباد۔ ایک رسالے کے حساب سے دنیا کی سب سے سیکسی اداکارہ جیسکا ایلبا نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ” وہ اسے اپنے فرائض میں شمار کرتی ہے کہ ہر لڑکے کو پہلی دفعہ چومے”۔
بوسوں سے محروم حسنہ نے بھی شایدقیصرانی کو اسی احساس سے چوما گو اس میں اس  کی  اپنا حسن طلب بھی شامل تھی۔
اسی دن اس نے قیصرانی سے پیار کے عہد و پیماں کیے۔اسے بغیر بتائے دل ہی دل میں ٹھان لیا کہ اگر حالات سازگار ہوئے  تو وہ اپنے میاں کو چھوڑ کر ایس ۔پی فیصل قیصرانی سے شادی کرلے گی۔ دونوں کی ازدواجی زندگی بہت نا آسودہ ہے ۔

جیسکا ایلبا

حسنہ کا میاں حسین بھائی اس کا پھوپھی زاد ہے، شادی جلد اور اس سے پوچھے بغیر ہوئی تھی۔پھوپھی نے حسنہ کے باپ کے قدموں میں اس رشتے کے لیے بیوہ بہن بن کر دوپٹہ ڈال دیا تھا۔حسنہ ان دنوں بمشکل ساڑھے سترہ برس کی تھی اور خاندان میں خوبصورت ذہین اسٹائلش سمجھی جاتی تھی۔ اسے اچھی طرح یاد ہے جب پھوپھی یہ سب ڈرامہ کر رہی تھی تو اس کی ماں سکھر گئی تھی اور وہ خود خاتون پاکستان گرلز کالج سے فرسٹ ایئر میں داخلہ کا فارم جمع کرا کے گھر آئی تھی ۔ اس کے مقابلے میں حسین بھائی باٹلی والا کی عمر پورے ستائیس سال پونے چار ماہ تھی۔میٹرک میں تین دفعہ فیل ہونے پر اس کے بڑے بھائی نے کہا کہ “اب میٹرک بورڈ والوں کو مزید ذلیل کرنے کی ضرورت نہیں۔کل سے مارکیٹ میں آجا۔سندھ میں مرچوں کی نئی فصل آنے والی ہے۔”
ایچ ٹو او نے رشتے کی ہاں کہنے سے پہلے ایک دن ا پنی ماں کو عمر کی اس دس سالہ تفاوت کی طرف جب متوجہ کیا تو ماں نے تنک کر جواب دیا کہ “عورت کی کیا عمر۔ ایک بچے کے بعد نئی ہونڈا سوک بھی موئی ٹھاٹھڑی (پرانی )سوزوکی لگتی ہے۔تیرے باپ میں اور میرے میں بھی ساڑھے نو سال کا فرق ہے۔ابھی بھی بڈھا جمعے کی نماز اور کاجول کی فلم نہیں چھوڑتا اور فلم دیکھ کر بیس برس کا شاہ رخ بن جاتا ہے۔ابھی تو کنواری ہے۔تیرے کو نئیں پتہ۔ شادی ہوگی تو ان باتوں کی خود ہی سمجھ آجائے گی۔تاریخوں کا حساب ککوتری ( میمنی بولی میں شادی کارڈ ) اور بھائیڑے (میاں) کا بچے کا موڈ دیکھ کر رکھتے ہیں۔”

کاجول

ٍ فیصل کے اسے رابی سینٹر طارق روڈ پر اتارنے اور وہاں سے پیدل جب وہ اپنی کار کی طرف میڑو شوز کے پاس والے روڈ پر اس سپاہی ڈرائیور سے چابی لے کر سوار ہوئی تو اس نے فوراً ہی قیصرانی  کو ایس ایم ایس کیا کہ لگتا ہے وہ اپنی کار میں نہیں بلکہ کسی ایش ٹرے میں سوار ہوکر گھر جارہی ہے۔کار میں ائیر فریشنرکا آدھا کنیسٹر خالی کر کے اور شیشے کے  دروازے بند کرکے وہ ساتھ والی جوتوں کی دکان میں چلی گئی ،دو ایک جوتے بد دلی سے ٹرائی بھی کی اور آئینے  میں اپنا سراپا بھی غور سے دیکھا۔ ہونٹوں میں کچھ گلابی پن ضرور تھا مگر وہ بوسوں سے زیادہ اس احساس کی وجہ سے تھا جو فیصل کے ان بوسوں نے اس کے وجود پر طاری کیا تھا ، البتہ اسے آئینے کی سطح سے ٹکرا کر لوٹتی ہوئی سانس میں بئیر کا ہلکا سا بھبکا ضرور محسوس ہوا اس لیے کہ کھیل کھلواڑ میں اس نے بھی وقفے وقفے سے پورا ڈبہ ہی حلق میں انڈیل لیا تھا۔ اس نے آئینے کے سامنے سے ہی نئے جوتے پہن کر چلنے کی کوشش اس خیال سے کی کہ وہ دیکھے کہ کیا اس پر بئیر کا نشہ طاری ہوا ہے ۔ اس کے قدموں میں بہت معمولی سی لڑکھڑاہٹ تھی اور زبان بھی اس کی لڑکھڑاہٹ کا ساتھ دے رہی تھی ۔باہر نکل کر اس نے فوری طور پر چیونگم خریدی اورمنہ  میں بدبو ختم کرنے کے لیے ڈال لی ساتھ ہی اس نے سونف کی ایک پڑیا جو ہروقت اس کے پرس میں موجود رہتی تھی وہ بھی منہ  میں ڈال لی۔جس نے اس کی چیونگم  کو جلد ہی گلا دیا اور منہ  میں ایک عجب سا ذائقہ چھوڑ دیا ۔
جوتوں کی دکان سے واپسی پر اپنی کار کا دروازہ کھول کر جب وہ اندر بیٹھی تو ائیر فریشنر کے اسپرے کی بہتات کی وجہ سے اسے کھانسی بھی آئی مگر اس نے شکر ادا کیا کہ کسی حد تک دھوئیں اور سگریٹ کی بدبو چلی گئی۔صرف ایک بد دھیانی پر اس کی نگاہ نہ پڑی کہ وہ جو ڈرائیور صاحب تھے انہوں نے چلتی گاڑی میں سے جو سگریٹ کا ٹوٹا بجھا کر پھینکنے کی کوشش کی تھی اس میں وہ کچھ ناکام رہے تھے۔تھے بھی قیصرانی صاحب کے پسندیدہ ڈرائیور ، لہذا دماغ پر یا طبیعت پر زیادہ زور نہیں دیتے تھے۔ وہ ٹوٹا وہیں پڑا رہ گیا اور لڑھکتا پھڑکتا کہیں جاکر ربر کے فرش اور دروازے کے قریب آن کر سماگیا بدبو کے اس طوفان کے سد باب میں اسے دکھائی دینے سے رہ گیا۔
جس وقت وہ شاور لے رہی تھی تو حسین بھائی آئے اور گاڑی لے کر چل دیے۔ان کو کار میں دھوئیں کی بدبو بھی محسوس ہوئی اور جانے کیسے وہ ٹو ٹا بھی پڑا نظر آگیا۔شاور لے کر وہ کچن کی طرف جاہی رہی تھی کہ اس کی بھابھی، بڑی بہن اور ایک دوست آگئے اور وہ سب چاٹ کھانے بہادر آباد کی طرف نکل گئے ۔ ان سب کا پک نک کا پروگرام وہیں بنا۔ اسی کی بہن نے کہا وہ قیصرانی کو پوچھے کہ کوئی فارم ہاؤس مل جائے گا ۔ ہم لوگ کنٹری بیوٹ کرکے پے کردیں گے۔اس پر ایچ ٹو او نے اصرار بھی کیا کہ وہ اپنے میاں سے پہلے پوچھ لے پھر بات کرے گی مگر اس کی بہن نے کہا ” اب تیرے میاں کو بھی پتہ ہے کہ تو کونسی پریانکا چوپڑا ہے کہ کوئی تیرے سے افئیر چلائے۔”
اس نے وہیں سے قیصرانی کو ٹیکسٹ میسج کیا وہ اس وقت اپنے دفتر میں علاقہ ایس ایچ او کی میٹنگ کررہا تھا لہذا اس نے پندرہ منٹ کی مہلت، جواب دینے کے لیے مانگی۔ اس کا جواب فارم ہاؤس کی دستیابی کے بارے میں اثبات میں ملنے پر تاریخ کا فیصلہ انہوں نے وہیں بیٹھے بیٹھے کیا۔ یہ ان کی اس حیدرآباد دکن والی دوست کا مشورہ تھا کہ مردوں کو سب باتیں نہیں بتانی چاہیں۔ان کی بچہ بُّدھی (بدھی ۔ہندی میں عقل ) ہوتی ہے۔بات کو سمجھتے کم اور ری ایکٹ زیادہ کرتے ہیں۔

فارم ہاؤس

اگلے دن اسے اس کی سندھی دوست ، مہر ین شاہ نے چائے پر بلالیا۔وہ کالج میں سندھی کی استاد تھی اور ٹی وی کے لیے ڈرامے وغیرہ بھی لکھتی تھی۔اپنی امی اور بھائی بھابھی کے ساتھ زمزمہ کے ایک بنگلے میں رہتی تھی۔ ماں کا تعلق بلوچستان سے اور باپ کا سعید آباد سندھ سے تھا۔زمینیں بھی کافی تھیں۔
کسی تفصیل میں جائے بغیرایچ ٹو او نے قیصرانی کے بارے میں اس طرح سے پوچھا کہ ” یہ تونسہ شریف کے قیصرانی اتنے شیریں گفتار کیسے ہوتے ہیں ؟” وہ ہنس کے کہنے لگی ” یہ سرائیکی لوگ جب بولتے ہیں تو لگتا ہے پنجاب اور سندھ کی ساری شوگر ملیں ان کے گلے میں فٹ ہوگئی ہیں۔کسی تونسہ شریف والے سے ہاتھ ملاتے ہیں۔
تو ہم سندھی سیدّ لوگ تو اپنی انگلیاں پہلے سے گن لیتے ہیں یوں بھی جھوٹے مرد اور مکار عورتیں بہت میٹھی اور من بھاؤنی باتیں کرتے ہیں۔سچا مرد کڑوا اور سچی اچھی عورت پتھریلی ہوتی ہے۔”۔ایچ ۔ٹو۔او کو اس کی باتوں میں ادراک اور سنجیدگی کی شدید کمی محسوس ہوئی۔
اگلے دن پک نک پر اس نے وہی حیدرآباد دکن والی مہاجر دوست سے پوچھا کہ ” یہ مہرین شاہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کے بارے میں اتنا متعصب رویہ کیوں رکھتی ہے؟” تو اس نے بتایا کہ ” مہرین شاہ کو یونی ورسٹی میں ڈیرہ غازی خان کے کسی کنگلے بلوچ لڑکے صالح لانگاہ جس کو انگلش ڈی پارٹمنٹ کی لڑکیاں ٖ صالح لانگاہ غریب کا تانگہ بولتی تھیں۔ اس صالح لانگاہ سے عشق ہوگیا تھا۔دیکھنے میں وہ بہت ہینڈ سم اور پڑھنے میں بہت ذہین تھا۔ یہ اس کا پڑھائی کا سارا خرچہ اٹھاتی تھی حتی کے پچیس ہزار روپے کی موٹر سائیکل بھی لے کر دی تھی۔اس لیے کہ اس کو سی ایس ایس کی کوچنگ کلاسیں بھی سندھی مسلم سوسائٹی میں اٹینڈ کرنی ہوتی تھیں۔اسی پگلوٹ نے ہاتھی کو ہندوستان دکھایا تھا اور اسے یہ سی ۔ ایس۔ ایس پاس کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ہر وقت امتحان دینے کے لیے اس کے پیچھے لگی رہتی تھی۔وہ لفنگا پرندہ امتحان پاس ہوکر فارن سروس گروپ میں کامن ٹریننگ کے لیے اکیڈیمی گیا تو وہیں سرگودھا کے ڈپٹی کمشنر کی بہن سے شادی کرلی۔ہمیں تو سچ پوچھو تو گھگر پھاٹک ( کراچی کی سرحد) سے پرے کا عشق بہت primitiveلگتا ہے۔پھر وہ درمیانی انگلی مٹھی بلند کرکے شرلاک ہومز کے الفاظ جو وہ کوئی سمجھداری کی بات بتاتے وقت ڈاکٹر واٹسن کو کہا کہا کرتا تھا دہرانے لگی ” ایلمینٹری ! مائی ڈیر و اٹسن ایلیمنٹری”
ایچ ۔ٹو۔او کو لگا کہ اس کی حیدرآباد دکن والی مہاجر دوست بھی کچھ کم متعصب نہیں اور دیگر مہاجروں کی طرح اپنے علاوہ سب کو پتھر کے دور کا انسان سمجھتی ہے۔
ایس۔ پی فیصل قیصرانی ہی کے توسط سے شہر سے دور ایک فارم ہاؤس پر بہن اور دیگر رشتہ داروں کی پک نک کا اہتمام ہوا تو ایچ ۔ٹو۔ او نے سوچا کہ امپریشن مارنے سے بہتر ہے کہ بہ لباس سادہ ایک یا دو خدمت گار ہوں چپ چپ، بھیگے بھیگے ، نہ کہ تھانے کی اسپیشل والے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کلاشن کوف لہراتے ہوئے بانکے سپاہیے۔خوش قسمتی سے فارم ہاؤس کا علاقہ بھی فیصل کی راجدھانی تھا۔اس دن حسین بھائی بھی پروگرام میں شامل تھے۔ایچ ٹو او کی بہن میمونہ نے فارم ہاؤس کے بارے میں سب کو یہ بتایا کہ حسنہ کے ہاں ڈیپارٹمنٹ میں کسی لوکل سردار کا بیٹا داخل ہوا ہے۔ان کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ اور سردار صاحب کی بچپن کی دوستی ہے اس لیے  فارم ہاؤس اور یہ چاکری آرام سے مل گئی۔
حسین بھائی کو البتہ بہت پرے پرے سے شبہ ہوا کہ وہ جو دو مرد وہاں کھانے پینے اور دیگر انتظامات پر معمور تھے اور فارم کے ملازمین جس طرح ان کے احکامات مان رہے تھے ۔ وہ فارم سے باہر کے اور کچھ خاص طرح کے لوگ تھے ۔ اس معاملے کو پرکھنے میں اس کے اپنے کیٹرنگ کے تجربے کا  بھی خاصا دخل تھا۔ اس بات کی تصدیق اس نے اپنی ٹوٹی پھوٹی سندھی سے کام چلا کر فارم کے ملازمین سے بھی کرلی تھی ۔
کھانے کی تعریف جب اس نے ایک باہر والے ملازم سے کی تو راز داری کی دھوپ نے احتیاط کا پردہ ہٹا کر جھانکا ، یہ ملازم ،با لباسِ سادہ درحقیقت علاقہ تھانے کا سپاہی فیض رسول تھا اور کچھ ہی دیر پہلے ہی ایک سوزوکی میں بریانی کی دیگ، قورمہ کا بڑا سا برتن، آئس کریم کی تین بالٹیاں اور ٹھنڈے مشروبات کے چار کریٹس لدوا کر آیا تھا۔
اپنے اس حسن انتظام کی تعریف سنتے ہی وہ ناعاقبت ا ندیش حسین بھائی کی توجہ کی بارش میں رکاوٹوں سے بھرے گٹر کی مانند ابل پڑا ۔دراصل یہ جو چھوٹے درجے کے ملازم ہوتے ہیں یہ طبعیتاً بڑے جلد باز اور پنجابی زبان میں نکیّ بھانڈے یعنی کہ اسمال کراکری ہوتے ہیں،سستے کپڑوں کی مانند اپنا رنگ ،پہلی ہی دھلائی میں چھوڑ دیتے ہیں ۔ انہیں رازوں کو سینت کر خاموشی سے اپنا سفر طے کرنا نہیں آتا، فی الفور فائدوں اور عند الطلب معاوضے کی ہوس انہیں حلقہء خاص میں دیر تک شامل رہنے سے روکتی ہے ۔ ہاں اگر ان میں کوئی واقعی محرم اسرار ہو اوراپنے سینے میں آقا کے راز دیر تک سنبھال کر رکھنے کا ثبوت بھی فراہم کرے تو کبھی تو قطب الدین ایبک کا ایلتمش،کبھی ملکہ وکٹوریہ کا عبدالکریم خان، کبھی روس کے صدر والڈیمر پٹن جنکے دادا ایک زمانے میں لینن اور اسٹالن کے باورچی اور معتمد خاص تھے، اور جنہوں نے صدر گرباوشوف کے خلاف سازش میں ساتھ دینے سے انکار پر کافی سختیاں جھیلیں مگر منہ  سے ایک راز نہ باہر نکالا، تو کبھی کسی یونی ورسٹی کا وائس چانسلر بن جاتے ہیں گو خود کبھی ٹھیک سے یونی ورسٹی کا منہ  بھی نہ دیکھا ہو۔
اسی ناہنجار فیض رسول سپاہی پیٹی نمبر 7413 حال تعینات تھانہ میمن گوٹھ سکنہ آرٹلری میدان پولس لائن نے اپنی رسائی ایس پی صاحب کے حلقہء خاص میں بھرم مارنے کے لیے ظاہر کرنے کی خاطر یہ جانے بغیر کہ  سائل تو خود ہی بعوض مہر معجل سکہ رائج الوقت بتیس روپے پچاس پیسے اس حسینہ کا شوہر عالی مقام ہے جس کی محبتیں چن کر اس کے علاقہ ایس پی ان دنوں اپنی آرزو کے محل سجاتے اور بے نیازانہ زیست کرتے ہیں۔اس نے اس راز پردہ اٹھا دیا کہ یہ فارم ہاؤس کا تمام موج میلہ ان کے ایس۔ پی صاحب کے ” کن فیکون ” کا کمال ہے۔ اس راز افشانی میں یہ التزام ہنرالبتہ اس نے ضرور رکھاکہ حسین بھائی باٹلی والا کو جتلادیا کہ خدمت کے ان احکامات کی بجا آوری تھرو پراپر چینل ہو رہی ہے ۔ ان کے ایس۔ ایچ ۔او ۔صاحب کا حکم ہے کہ ایس۔ پی صاحب کے مہمان ہیں۔ کوئی شکایت یاتکلیف نہ ہو ۔
بات چھوٹی تھی مگر پھیل کر افسانہ بنی ۔حسین بھائی باٹلی والا کا شک یقین میں بدل گیا کہ حسنہ۔ قیصرانی تعلقات کی نہج اب مالک مکان اور کرائے دار کی مقررہ حدود کو پھلانگ چکی ہے۔ فارم البتہ واقعی کسی سردار صاحب کا تھا۔یہ ایچ۔ٹو ۔اوکی غلطی تھی کہ اس نے ذرا بھرم مارنے کے لیے باہر کے لوگ بلوائے تھے۔
انتظام تو وہاں فارم کے موجود ملازمین سے بھی چل سکتا تھا مگر وہ کچھ دن سے فیصل قیصرانی سپرنٹنڈینٹ  آف پولیس کی دوستی میں اپنے میاں کے رویوں اور رد عمل سے غافل ہوچلی تھی ۔ ” اس پکنک والے دن اس بیگم پیاری کو یہ گمان ہرگز نہ تھا کہ اس پروگرام میں اس کا میاں حسین بھائی باٹلی والا بھی یوں عین پک نک پر روانگی کے وقت اپنے جاگرز اور ٹی شرٹ چڑھا کر اور دھوپ کا چشمہ لگا کر شامل ہوجائے گا۔یوں ایچ ٹو او کی معمولی سی شو آف کرنے کی کمزوری سے اس کے میاں کے دل میں شک کا ایک اژدھا بلاوجہ ہی ولادت پذیر ہوگیا۔
سپاہی فیض رسول کے اس انکشاف کے بعدحسین بھائی کے برتاؤ میں تبدیلی کو کسی اور نے نوٹ کیا ہو یا نہ کیا  ہو ، حسنہ نے بڑی خاموشی سے نوٹ کیا کہ حسین بھائی لنچ سے کچھ دیر پہلے سے ہی ایک دم چپ سا ہوگیا ویسے تو سارا دن لنچ کے وقفے تک بچوں کے ساتھ تالاب میں نہا بھی رہا تھا، کرکٹ بھی کھیل رہا تھا، عورتوں کو مکیش کے گیت بھی سنارہا تھا،بلکہ بیٹے غفران کی فرمائش پر اس نے مکیش کا فلم چھلیا کا مشہور گیت ع ڈم ڈم، ڈی گا ،ڈی گا ،بھی بالکل اداکار راج کپور کی طرح ناچ کے ساتھ گا کر سنایا وہ یہ گیت باتھ روم میں شاور لیتے وقت اکثر گاتا تھا ۔اس کے بعد فرمائش ہوئی کہ حسنہ اور حسین بھائی فلم مقدر کا سکندر کے وہ مشہور گیت ۔۔سلام عشق میری جاں ذرا قبول کرلو ۔ اس پر بالکل ریکھا اور امیتابھ بچن کی طرح ناچیں، گانا سب مل کر ڈھولکی کی تھاپ پر گائیں گے۔۔۔اس ناچ پر دونوں کو بہت داد ملی۔ وہ دل ہی دل میں خوش بھی ہوئی کہ میاں سے کچھ تو قربت ہوئی۔باقی مراحل رات کو بستر میں طے ہوجائیں گے اور وہ اس شادی کو پھلنے پھولنے کا ایک موقع اور دے گی۔ہر آدمی جارج کلونی اور سیف علی خان نہیں ہوتا۔


لنچ کے دوران ہی اس کی لاتعلقی اور بددلی کو دیکھ کر چند لوگوں نے حسین بھائی سے پوچھا بھی کہ کیا بات ہے تو کہنے لگا ” یار لنچ میں قورمہ آئس کریم نے گڑبڑ کردی ہے۔ ابھی سائیں مہرین شاہ بھی کالج سے آگئی ہے۔ یہ سید اور خاندانی لوگ ہیں۔ان کے سامنے ٹچا پن ٹھیک نہیں لگتا۔”
جب وہ پک نک منا کر واپس ہوئے تو حسین بھائی اپنی والدہ کے گھر پر اتر گیا کہ اس کی ماں کو اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا تھا۔ رات اس کی واپسی تک تو ایچ ٹو او تھک ہار کے سو چکی تھی۔
بستر میں اس کی آمد کے کچھ دیر بعد تک طے شدہ پروٹوکول کے مطابق جب اسے بدن پر کوئی وحشت بھرا بوجھ محسوس نہ ہوا تو اس نے عالم نیم خوابیدگی میں ہی سوچا کہ اتنے قریب آکر بھی کچھ اجنبی سے وہ ہیں اور کچھ اجنبی سے ہم، حالانکہ اس کی عریانگی کا اہتمام تو اس کے بستر میں داخل ہوتے ہی شروع ہوگیا تھا۔ ایچ ٹو او نے اسے باتھ روم سے نکلتا دیکھ کر خود ہی اپنی جھاگ جیسی نائٹی کے تسمے گردن کے پیچھے سے کھول دیے تھے۔جب اسے لگا کہ اس کے کپڑے تو بدن سے ضرور اترے مگر پھر جس طرح کمپیوٹر ہینگ ہوجاتا ہے۔اسی طرح اسکرین پر ایک منظر منجمد ہوگیا۔روز مرہ بستر کے اس کے معمولات جن میں پیار سے زیادہ ایک تسلط جتانے کا ایسا جذبہ جس کی حمایت اسے ہر طرف سے حاصل تھی، ان اقدامات میں بھی سناٹوں سے بھرا ہوا وقفہ آگیا تو وہ ایک نسوانی ادارک کے حساب سے چونکی۔
زیرو کا بلب حسب عادت بستر کے ساتھ والی دیوار پر اس کی دلہن بنی تصویر سے ذرا ہٹ کر جل رہا تھا جس کی روشنی اس کے کمرے کے لیے کافی ہوتی تھی۔ کئی دفعہ ان کا جھگڑا اس بات پر بھی ہوا کہ وہ یہ بلب بجھا دے جب کہ حسین بھائی کی ضد ہوتی تھی کہ وہ اسے مکمل عریاں نہیں دیکھے گا تو کون دیکھے گا۔البتہ اس کی روشنی میں آج باتھ روم کے ادھ کھلے درازے سے چھن کر باہر آئی اینرجی سیور کی تیز روشنی کی بھی وافر رفاقت شامل تھی۔
سکوت اور سناٹوں کا پردہ کھسکا کربہت آہستگی سے نیم وا آنکھ سے حسنہ نے دیکھا کہ حسین بھائی کی نگاہوں کے ریڈار کا دائرہ اس کے سینے سے پھسل کر اس کی ناف سے نیچے اتر کر دور کہیں
بکھرے مناظر کا جائزہ لے رہا تھا۔گویا اس کا عریاں بدن دفاعی حوالے سے Measurement and signature intelligence (MASINT) یونٹ کے نصب کردہ ریڈار دوربینوں اور آلات سماعت کی  زد میں ہو۔اسے یہ بھی لگا کہ وہ اس کے بدن کی شانت سطح پر یہ گھس بیٹھیوں Intruders) کی جانب سے بے دھیانی میں چھوڑے گئے نشانات کاجائزہ لے رہا ہے۔پیار میں کچھ لوگ ایسے کاٹتے ہیں کہ بقول شاعر گلزار کے نہ تو چقووں کی دھار ،نہ درانتی ، نہ کٹار، ایسے کاٹے کہ  دانت کا نشان چھوڑ دے ۔
جب اس نے اپنے بدن پر ایک انہماک سے جھکے ہوئے حسین بھائی کے نیچے خود کو سمیٹ کر ایک ادائے دلبری سے انگڑائی لے کر کمر کی محراب بنائی تو سینے پر پیار کے دو تاج محل تھرتھرانے لگے ۔ ایچ ٹو او نے ایک جھوٹی مصلحت پسندانہ مسکراہٹ اور آواز میں ایک سیکسی سرگوشی کی کیفیت لاکر پوچھا۔”جانو، کیا اپنی کھیتی کو پہلی دفعہ دیکھ رہے ہو۔یا کوئی نئی فصل لگانے کا ارادہ ہے ” تو ایک جھٹکے سے اس نے ایچ ٹو او کو پلٹ دیا اور چادر جو اس کے کولہوں کی نیم گولائی تک سرک گئی تھی اسے  کھینچ کر پرے کردیا۔۔ بہت دیر تک اسے لگا کہ اس کی انگلیاں ایک ایسے لمس کی طرح کمر اور شانوں کی پشت پر نرمی سے پھسلتی رہیں جیسے کوئی بڑھئی   رندہ (Plane Tool) لگانے کے بعد لکڑی کی سطح کی ہمواری اور چکناہٹ کا جائزہ لے رہا ہو۔یہ ایچ ٹو او کو اچھا لگا
اسے گمان گزرا کہ شاید آج وہ اسے ساتھ ناچتے ہوئے راج کپور کی نوتن یا امیتابھ کی ریکھا لگی ہے۔ جس کی وجہ سے اس کے سوئے ارمان ایک سلیقے سے اُسے برتنے کے لیے جاگے ہیں۔اس خیال کے آتے ہی اسے بدن پر کئی گوز بمپس اٹھتے ہوئے محسوس ہوئے۔ اس کا خیال تھا کہ وہ جائے گا اور برف کی ایک ڈالی منھ میں ڈال کر بہت آہستہ سے اس کی گردن کے عین درمیان ریڑھ کی ہڈی کے اوپر آہستہ سے چھوڑ دے گا ۔یوں ایک یخ بستہ سنسنی اس کے آتشین وجود پر ویسے ہی بھڑکے گی جسے فرینچ زبان میں فلَّم بے flambeکہتے ہیں یعنی وہ عمل جس میں الکوحل گرما گرم ڈش میں انڈیلنے پر شعلے بھڑک اٹھتے ہیں۔اس کی وجہ سے اُس ڈش میں ذائقے اور خوشبو کا ایک نیا گٹھ جوڑ بن جاتا ہے۔

گوز بمپس

اس کی بستر میں   واپس آمد تک  وہ  ویسے ہی اوندھی انگاروں   پڑی رہی کہ حسین بھائی کوئی لمحے یا تو فرج میں پڑی یخ بستہ کوک کی بوتل یا برف کی ڈلی کی ڈش لائے گا۔جو یا تو منہ  میں بھر کر اس کی کمر کی  ریڑھ کی ہڈی والے کٹاؤ یا ناف کے بھنور میں انڈیل کر پھر شیر کی طرح زبان نکال کر شور مچا مچا کر پانی کی اس مختصر سطح میں اپنا مغرور اور قابض عکس دیکھ کر پی لے گا۔
ایسا نہ ہوا۔۔۔۔۔
وہ بستر سے بہت خاموشی سے اٹھا اور ساتھ والے کمرے میں جہاں اس کے کاروبار سے متعلق چیزیں پڑی رہتی تھیں وہاں گیا مگر جلد ہی واپس آگیا ۔ایچ ۔ٹو ۔او ا ب بھی پیٹ کے بل بستر میں ایسے ہی اوندھی پڑی تھی جیسے وہ چھوڑ کر گیا تھا بستر میں آن کر اس نے بغیر کسی تمہید کے اس کی پونی ٹیل کھینچی اور چہرہ اوپر اٹھ جانے پر اس کے دوپٹے سے اس کی آنکھیں باندھ دیں۔ دوسرے جھٹکے میں اسے پلٹ دیا ۔تب تک وہ  ہنگامہ خیز متنازعہ کتاب مصنفہ ای ۔ایل ۔جیمز کی ففٹی شیڈز آف گرے منظر عام پر نہیں آئی تھی مگر ایچ ۔ٹو۔ او نے پاؤلو کولہیو کی کتاب دی ایلیون منٹس کی کتاب کو کئی دفعہ غور سے اور مزے لے لے کر پڑھا تھا۔پیار میں Bondageکے اپنے مزے تھے۔اسی رو میں اس نے حسین بھائی کو پیش کش کی کہ وہ اس کے ہاتھ بھی اسی دوپٹے سے کمر کے پیچھے کرکے باندھ دے۔
اس دوران جو کچھ ہوا ایچ ۔ٹو۔ او کا اس کا خدشہ تو اسی دن تھا جب وہ قیصرانی کے ساتھ باہر گئی تھی۔اسے پتہ تھا کہ شاید یہ بات کسی وقت بھی باہر آسکتی ہے۔یوں وہ ذہنی طور پر ایک طرح سے تیار تھی مگر اس کی ٹائمنگ کا اسے اندازہ نہ تھا۔ جوکچھ اس کے ساتھ اب تک بستر میں ہورہا تھا وہ گوبہت حد تک معمول سے جدا اور انہونا سا تھا اس کی وجہ سے وہ بہت حد تک اندرونی طور پر بیدارا و ر تیار تھی مگر برتاؤ کی اس تبدیلی کو وہ اس دن کی پک نک اور ناچ سے جوڑے بیٹھی تھی۔
” ماں کی قسم کھا جو بولے گی سچ بولے گی” حسین بھائی نے ایک پر اعتماد وکیل کے انداز میں مگر قدرے جارحانہ انداز میں پوچھا اور ساتھ ہی اس کی پونی ٹیل کے بالوں کو ایک بل دیا تو اس کی صراحی دار گردن سر کو پیچھے کی طرف ڈھلکا کر اور تن گئی یہ سب کچھ اس کے اُس وقت کے اندازوں سے بہت پرے تھا ۔ وہ لرز کر رہ گئی ۔
“لسن آپ کو میرے کو چھوڑنا ہے تو اچھے آدمی کی طرح چھوڑ دو مگر یہ کورٹ سین لگانے کا فائدہ نہیں۔” اس نے ہمت کرکے جواب دے ہی دیا۔
اس پیشکش کو نظرانداز کرتے ہوئے حسین بھائی نے اس کی ناف پر وہی سگریٹ کا ٹوٹا مسلتے ہوئے بجھانے کے انداز میں رکھ دیا جو اسے کار کے فرش پر پڑا ملا تھا یہ قیصرانی کے ڈرائیور کی بداحتیاطی کا  شاخسانہ تھا۔
” تیرا نواں بھائی ڑا ( میاں) وہ حرامی فیصل سگریٹ یہاں بجھاتا ہے؟” آنکھوں میں ایک جہان کی نفرت سمیٹ کر حسین بھائی نے تقریباً غراتے ہوئے پوچھا۔
“بہت آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے تھے کچھ سگریٹ پان گٹکے کے نشان ملے کیا؟”۔حسین بھائی کے گٹکے کو اس نے ساتھ ہی لپیٹ دیا۔اس نئے کاروبار میں روز مرہ کی ٹینشن کی وجہ سے  اسے گٹکا کھانے کی غلیظ عادت پڑگئی تھی۔
” بول سالی گاڑی میں دھواں اور سگریٹ کہاں سے آئی۔؟ “اس نے آواز میں ذرا گرج پیدا کرکے کہا۔
“سچ جاننا ہے تو چیخنے کی ضرورت نہیں ۔ آپ کو یاد ہو تو میں نے مسیج کیا تھا کہ یونی ورسٹی کے باہر بہت گڑبڑ ہے یا تو آپ آ کے مجھے لے جاؤ۔ ورنہ مجھے آنے میں دیر ہوجائے گی۔ یونی ورسٹی والوں نے بولا سب گاڑیا ں اندر اپنے اپنے ڈیپارٹمنٹ کے باہر کھڑی کریں۔ مین پارکنگ میں سے ہٹا لیں۔میں نے کسی اسٹوڈنٹ لڑکے کو بولا میری گاڑی بھی یہاں لاکر لگادے۔مجھے کیا پتہ اس نے سگریٹ پی کر گاڑی میں پھینکی ہے”۔ حسنہ نے وضاحت پیش کی۔
” مجھے تیرے یہ انگلش کے میسج سمجھ نہیں آتے “حسین بھائی نے اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا
“میں نے کال کیا تھا فون بند تھا ۔غفران بھی اسکول میں تھا۔آپ کو اور کیسے بتاتی؟”حسنہ نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا۔
“فیصل سے تیرا سمبندھ کیسا ہے گرل فرینڈ والا۔؟”حسنہ نے دیکھا کہ اس سوال میں کئی تہہ در تہہ جذبات لہریں لے رہے تھے۔ اس میں نفرت کے ساتھ ساتھ ایک ایسی شکست کا اعتراف بھی تھا ۔ اس مثلث میں اس کامدمقابل طاقت ،شخصیت ، جواں عمری ،پسندیدگی ہر لحاظ سے اس پر ایک واضح برتری کا حامل تھا ۔ اس کے علاوہ اس میں کچھ ماضی کے اپنے رویے اور غلطیاں، کچھ آزادی کے فوائد جو تعلیم کے بہانے حسنہ نے خود ہی زبردستی جھولی میں ڈال لیے تھے۔دن کا ایک بڑا حصہ وہ یونی ورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالب علم ہونے کے بہانے گزارتی تھی۔
“نہیں وہ میرے کو ادّھی ادّھی ( سندھی زبان میں بڑی بہن) بولتا ہے۔خاندانی آدمی ہے۔” حسنہ نے ایک اور جھوٹ سابقہ بوسوں کی لذت کو اپنی پرفریب مسکراہٹ کے غلاف میں لپیٹ کر ، ذرا دل پر جبر کرکے بولا۔
اس کا یہ جھوٹ سن کر حسین بھائی کا فیوز ایک دھماکے سے اڑ گیا اور وہ چیخ کر کہنے لگا “بہن( گالی) بسم اللہ بول کے وہسکی پینے سے، شراب حلال نہیں ہوجاتی ۔ پولیس والے کسی کا جنازہ بغیر لالچ کے نہیں پڑھتے ۔ سالی تیرے حکم کا غلام ،وہ ایس ۔پی تیرے کو بہن بنانے کے لیے پیدا نہیں ہوا ہے۔میرا نانا رحیم جی پٹیل بولتا تھا کہ اس آدمی سے بچ کر رہو جو خود ننگا ہو مگر دوسرے کو آبا (کرُتہ)دینے کی بات کرے۔۔تو میرے کو کیا الو کا پٹھا سمجھتی ہے۔۔فارم بھی اس کے دوست کا تھا ۔میرے کو میمونہ (حسنہ کی بہن) نے راستے میں بولا ۔ حسنہ کے ہاں ڈیپارٹمنٹ میں کسی لوکل سردار کا بیٹا داخل ہوا ہے۔ان کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ اور سردار صاحب کی بچپن کی دوستی ہے اس لیے فارم ہاؤس آرام سے مل گیا۔ماں(گالی) تو جھوٹی سالا تیراسارا خاندان جھوٹا۔”
“ایک تو گالی مت دو۔ خاندان تک مت پہنچو،دوسرے جو من میں آتا ہے وہ سمجھو ۔ ادھار کے پیسے نکلوانے تھے تو اشرف بھائی کو کیسے لے کرلے پالتو کتے کی طرح دم ہلاتے فیصل بھائی کے دفتر پہنچے تھے۔”یہ کہہ کر اس نے چادر کھینچی ۔اسے اپنے سے پرے دھکا دیا اور پلٹ گئی لیکن اس دوران حسین بھائی کا ہاتھ فضا میں بلند ہوچکا تھا اور ایک زناٹے کا تھپڑ سیدھا اس کے بائیں گال پر آن کر جم گیا۔
ایک نفرت سے اس نے حسین بھائی کو دیکھا اور بستر سے جمپ مار کر غسل خانے کی طرف یہ کہتے ہوئے بھاگی کہ ” اس تھپڑ کا بدلہ لوں گی” ۔وہاں سے اپنے گھر کے کپڑے پہنے اور باہر نکل کر غفران کے بستر میں جاکربہت دیر تک کروٹیں بدلتی رہی۔حسین بھائی منانے نہ آیا تو وہ بھی انتقام کا جذبہ دل میں سمیٹ کر سوگئی۔
یوں نہ تھا کہ پیار کے نام پاؤلو کولہیو کی کتاب دی ایلیون منٹس کی ہیروئن، ماریا کی طرح جو ایک طوائف تھی حسنہ بھی اپنے شوہر نامدار حسین بھائی کو ماریا کے اذیت پسند گاہک ٹیرنس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اگر وہ اس کی چمڑے کے ہنٹر سے کھال ادھیڑ دیتا تو وہ کم از کم اس رات اسے کچھ نہ  کہتی۔دونوں جب لنچ سے پہلے اس دن پک نک پر گانے پر ساتھ ناچے تو اس کا بدن اس رات ایک ایسے میدان کی طرح لذت بھری سپردگی کے ایسے تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا تھا جو کسی بڑی سیریز کے کرکٹ میچ کا فائنل دیکھنے آئے ہوں۔
یہ الگ بات ہے کہ اس رات نفرت، انکشاف، بے وفائی کے آندھی ، اولے اور برسات کی وجہ سے میچ ملتوی ہوگیا۔یہ بھی جھوٹ نہ ہوگا کہ اس رات حسنہ نے سب کچھ بالائے طاق رکھ کر کالی گھٹا بن کر پیاس کے اس صحرا پر برسنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
وجدان کے پاس جب وہ آن کر لیٹی تو بہت د یر تک اس شادی کے بارے میں سوچتی رہی ۔یہ الگ بات ہے کہ وہ حسین کی عدم توجہ کے باعث ،بتدریج فیصل کی طرف کھنچتی چلی جارہی تھی۔وہ طاقت ور تھا، جوان تھا، فن گفتگو سے بخوبی واقف، تعلیم یافتہ،بااثر ورسوخ۔اس کی معمولی سی فرمائش کو بھی آئی جی کا حکم کا سا درجہ دیتا تھا۔اس کے باوجود ایچ ٹو او کو اس بگاڑ کا بخوبی اندازہ تھا
سچ پوچھو تو وہ ایسی نادان بھی نہ تھی ۔وہ جانتی تھی کہ اس ساری بے توقیری کے بعد بھی وہ اس ازدواجی بندھن میں ناآسودہ تو ضرور ہے پر ناخوش ہرگز نہیں۔ شادیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ مرد کوئی بھی عورت ہو ،اس سے جلد اکتا جاتے ہیں ،بیویا ں بھلے سے جنیفر لوپیز ہو کورٹنی کوکس نکول کڈمین ہو کہ مڈونا،مرد کب کس کے ہوئے جو وہ حسین بھائی باٹلی والا کا شکوہ کرتی مگر یہاں تو جو کچھ تھوڑی بہت بے وفائی ہورہی تھی وہ اس کی جانب سے تھی۔ اس دن پک نک پر سب کے سامنے اس کے ساتھ ناچتے ہوئے اس نے سوچا تھا کہ جیسا بھی سہی حسین بھائی ایک بھولا بھالا، بنیادی مرد ہے۔روتے دھوتے ہی سہی اپنے احساس کمتری کو بالائے طاق رکھ کر اس نے حسنہ کو یہاں تک تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی ۔پیسے دے کر اس سے کبھی حساب نہیں مانگا۔ یونی ورسٹی میں اس کے معمولات پر اس نے کبھی شک کا اظہار نہیں کیا۔ اس نے دل میں تہیہ کیا کہ وہ معافی مانگے گا تو وہ اسے معاف کردے گی۔بھلے سے اس نے چھ سال میں پہلی دفعہ اس پر ہاتھ اٹھایا۔

نکول کڈمین

اس نے ایک دن اپنی والدہ کو نانا سے، جو عمر کے آخری دس برسوں میں بہت مذہبی ہوگئے تھے ایک دفعہ گفتگو کرتے ہوئے سنا کہ اس کی ماں کہہ رہی تھی کہ ” ہمارے نبی محترم نے کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا “تو نانا نے کہا کہ “رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی جھوٹ بھی تونہیں بولا۔یہ دین کے  معاملے میں ہم اپنی سہولت کے دلائل کیوں آگے بڑھاتے ہیں، یہودیوں اور عیسائیوں نے بھی اسی طرح اللہ کے پیغام کو کرپٹ کردیا اور اپنی پسند کی چیزیں اللہ سے منسوب کرکے کتاب میں شامل کرلیں جس کی وجہ سے وہ الہامی کتابوں کے درجے سے محروم ہوگئیں۔ ”
تین دن ہوئے ان دونوں میاں بیوی میں کوئی کلام وغیرہ نہ ہوا ۔اس کی ماں کی طبیعت بھی کچھ نرم گرم تھی لہذا وہ رہا بھی زیادہ تر اپنی والدہ ہی کے گھر پر۔ ایسا لگتا تھا اس بندھن کو بے اعتنائی کی ایسی گہری دبیز دھند نے لپیٹ لیا ہے جہاں اگر تھوڑی دیر کے لیے کبھی کوئی روشنی ہوتی بھی ہے تو وہ نفرت کے دھماکے دار سپارکس کی ہوتی ہے۔چوتھے دن وہ یونی ورسٹی سے آن کر سیدھی جم چلی گئی اور واپس آن کر نہا دھوکر اس نے ہلکا بے بی پنک ڈروریوں والا ٹاپ بغیر برا کے پہنا تھاجس سے اس کے خوبصورت گورے اجلے شانے اور بازو کھل کر جھلک رہے تھے اس پر لکھا بھی تھا کہ Was in such a rush! 4got 2 wear a bra. اور پیٹ بھی ساڑھی کے بلاؤز کی طرح نمایاں دکھائی دے رہا تھا ساتھ ہی اس نے اے اینڈ ایف (Abercombie and Fitch) کی کھلی کھلی ڈرا اسٹرنگ سویٹ پینٹس پہنی تھی۔زینب مارکیٹ کے دکاندار نے ان کپڑوں کو فروخت کرتے وقت اسے کہا کہ نائن الیون کی وجہ سے فیصل آباد کی پارٹی کا پوارکرسمس کا آرڈر کینسل ہوگیا تھا ورنہ امریکہ میں بھی یہ چیزیں کرسمس سیل میں بھی تیس چالیس ڈالر سے کم میں نہیں بکتیں۔
اس سے پہلے کہ وہ گھنٹی بجنے پر گھر کے اندر کا دروازہ کھولتی اس کا میاں اور اشرف بھائی ساتھ ساتھ گھر میں اندر چلے آئے۔جب تک وہ اپنا دوپٹہ کہیں سے ڈھونڈ کر پہنتی حسین نے تو شاید گھر کی مرغی کو دال سمجھ کر نظر انداز کیا مگر اشرف بھائی نے اسے اپنی نگاہوں میں جی بھر کر سمیٹا۔اس اثنا میں حسین خود تو غسل کرنے اور کپڑے تبدیل کرنے چلا گیا۔وہ جب اشرف کے لیے چائے بنا نے گئی تو وہ بھی کچن میں ہی آگیا اوروہیں پر رکھی کرسی میز پر بیٹھ گیا۔حسنہ کو لگا کہ اشرف کی نگاہوں کا حرص اس کے دوپٹے اور ٹاپ سے اندر گھس کر درزی کا فیتہ بن کر خطوط کی پیمائش کرنے لگا تھا۔
اشرف نے   آنکھ مار کر اسے جتلایا کہ لگتا ہے کہ ” بڑے ملکوں میں چھوٹی موٹی لڑائی چل رہی ہے۔ویسے بھی شادی میں لڑائی لفڑے زیادہ ہوتے ہیں پیار کم۔پیاری بھابھی یہ بتاؤ اپنے فیصل بھائی کیسے ہیں۔آپ کا تو قسم سے ایسا ری گارڈ کرتے ہیں کہ ہم کو شرم آگئی کہ ہم اپنی سگی بہن کا بھی نہیں کرتے۔میرے باقی چار لاکھ دلادو تو بھابھی آپ کو بہترین گفٹ دوں گا۔”۔
ایچ ٹو او کو یہ سب برا لگا کہ اسے گمان ہوا کہ ایک تو اشرف کو اس کے میاں نے شاید اس ناراضگی کے بارے میں بتایا ۔یہ بہت ہی غیر ذمہ دارانہ حرکت تھی اشرف لاکھ پرانا دوست سہی مگر وہ تھا تو تھرڈ پارٹی ۔ اس سے یہ سب شئیر کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔دوسرے اس کے فیصل والے حوالے میں جہاں چار لاکھ روپے کی وصولیابی کا لالچ تھا وہاں ایک ایسا طنز بھی تھا جو اس ناراضگی پر جلتی پر تیل کا کام کرسکتا تھا۔اس کی چائے میز پر رکھ کر وہ اپنے میاں کا کپ لے کر غسل خانے کی طرف گئی مگر وہ تولیہ لپیٹے اپنے کمرے کی طرف جاچکا تھا ۔ وہ یہ کپ لے کر کمرے میں گئی تو حسین ایک رول آن بیگ میں اپنے کپڑے رکھ رہا تھا اس نے نہ تو حسنہ کی طرف دیکھا، نہ چائے کے بارے میں کچھ کہا تو وہ اس بے اعتنائی پر کچھ ٹوٹ سی گئی۔
وہ چائے لے کر دوبارہ کچن کی طرف جانے لگی تو اشرف اسے لاؤنج میں دکھائی دیا، وہی نگاہیں وہی تعاقب۔ان بوجھل ناگہانی لمحات کی تلخی کم کرنے کے لیے اس نے اشرف سے دونوں کی اتنی اچانک آمد کا پوچھا تو وہ کہنے لگا :
” ایک بڑا آرڈر ہے ، تھانہ بولا خان میں کسی ہندو تاجرکے ہاں دو ہزار آدمیوں کا بیٹے کی شادی پر چار کھانوں کا پروگرام ہے۔ہم دونوں تین دن کے لیے جارہے ہیں” ۔ابھی وہ بمشکل چائے ختم ہی کررہا تھا کہ دو فون آگئے کہ سامان کے دونوں ٹرک، مزدور اور کک وغیرہ سب کے سب ٹول پلازہ پر بھگت رام صاحب کے گارڈز کے ساتھ انتظار کررہے ہیں۔ ۔ میاں کا ان چھوا چائے کا کپ اس کا منہ  چڑا رہا تھا البتہ اشرف نے یہ سب دیکھ کر دروازے کا ایک پٹ پکڑ کر جب حسین باہر اپنی کار اسٹارٹ کررہا تھا اس نے موقع غنیمت جان کر ایک دفعہ اور معنی خیز انداز میں آنکھ ماری اور کہنے لگا۔
” پیر تک آپ کا میاں ادھار لے جارہا ہوں۔ انشاء اللہ واپسی پر محبوب آپ کے قدموں میں ہوگا۔ میری پیاری بھابھی جان۔آج تو قسم سے بالکل کرینہ کپور لگ رہی ہو۔ اس گھیلے ( میمنی زبان میں پاگل) حسین کو آپ کی قدر نہیں” اسے اشرف کی بات سن کر کچھ بہت خوشی نہ ہوئی اور یہ پوچھنے کی ہمت بھی نہ پڑی کہ اس کی اپنی سوزوکی کیری کہاں ہے جو وہ اس کی کار لے کر تھانہ بولا خان جارہا ہے وہ یونی ورسٹی اور دیگر جگہوں پر کیسے جائے گی۔

ان دونوں کے جاتے ہی اس نے فیصل کو ایک ایس ایم ایس کیا کہ ” ہماری قدر کرو ہم آج کسی کو کرینہ کپور لگے ہیں”۔آپ جانو کہ عورتیں اپنی تعریف کے معاملے میں ذرا کان کی کچی ہوتی ہیں ۔ مشہور ماڈلز اور اداکاراؤں کو چونکہ ایک زمانہ ان کے حسن کے حوالے سے چاہتا ہے لہذا اکثر عورتیں انہیں حسن کا اعلیٰ ترین معیار مانتی ہیں۔اپنی معمولی سی بھلے سے جھوٹی اور مطلب پرست مماثلت اور تعریف کو بھی سرمایہ حیات سمجھتی ہیں۔انہیں لگتا ہے اس تعریف سے راہ عشق کی چھوٹی بڑی رکاوٹیں خود ہی دور ہوگئی ہیں۔
اشرف کی پیاری بھابی جان نے بھلے سے اس کی قرینہ کپور لگنے والی بات پر ردعمل کا اظہار نہ کیا ہو مگر اس نے دل سے اسے پسند ضرور کیا اور فوراً ہی تصدیق اور ترغیب کے لیے دوپٹہ ایک طرف پھینک کر ایک ادا سے نگاہیں نچاتے ہوئے آئینے کے سامنے سر کو جھٹکا دے کر اور کولہے مٹکا کرآگے بڑھا دیا۔
پولیس کے اس حاضر سروس فرض شناس افسر کا جواب بھی فوراً آگیا کہ۔۔”اللہ سائیں ہم کو بھی تو شاہد کپور بناؤ اور ہن موجاں موجاں نچاؤ (ہندوستانی فلم جب وی میٹ۔ کا وہ مشہور گانا جن دنوں کرینہ کپور کا عشق شاہد کپور سے بہت زور پر تھا) ،ہم کو بھی پلا شربت دیدار وغیرہ، ہم بھی ہیں تیرے عشق میں بیمار وغیرہ”
” شربت دیدار بوہری بازار اور ایمپریس مارکیٹ کے ٹھیلوں پر نہیں ملتا” ۔۔۔ایچ ٹو او نے اپنے میسج میں یہ بات کہہ تو دی پراس خیال سے اسے تھر تھری سی آگئی کہ جانے اس کا وہ کیا مطلب نکالے۔
” ہم تو یہ شربت بھوربن اور برج العرب کے رائل سوئٹ( دوبئی کے مہنگے ہوٹل کا ایک لگژری سوئٹ جس کا یومیہ کرایہ دو لاکھ روپے کے قریب ہے ) میں بھی پینے کو تیار ہیں آپ ہمت تو پکڑو۔” ہمیشہ کے کھلنڈرے اور موقع کے متلاشی چھیل بٹّوے( پوربی زبان میں چالباز) فیصل قیصرانی نے بلاتوقف جواب دیا۔
وہ حسین کی بے اعتنائی اور اشرف کی چھوڑی ہوئی چنگاری سے کچھ پریشان سی تھی اس پر جمالی کا فوری ردعمل جو کسی حد تک اشرف کی تعریف کا ہی ایک سلسلہ تھا اسے پریشان کرگیا۔اس نے سوچا یہ قیصرانی تو باز نہیں آئے گا لہذا اس نے کچھ دیر فون بند کیا اور جاکر بستر پر لیٹ گئی۔بستر کے سرھانے پڑے ہوئے کاغذ کے پیڈ پر اس نے بیس دفعہ نمبر ڈال کر انگریزی میں لکھا ” I gave it a full try”( میں نے بہت کوشش کی)۔
حسنہ جس انگلش میڈیم اسکول کی پڑھی ہوئی تھی ۔اس کا شمار بہت عمدہ اسکولوں میں تو نہ ہوتا تھا مگر وہاں موجود راہبائیں ان میں ڈسپلن کا بہت خیال رکھتی تھیں۔طالبات کے کان کھینچنا، تھپڑ یا بید سے پٹائی کا کوئی رواج نہ تھا مگر سزا کے اپنے طریقے تھے۔ معصوم ترین سزا اپنا اعتراف جرم کاپی پر کئی دفعہ ایک جملے کی صورت میں لکھنا ہوتا تھا۔ یہ جسمانی طور پر کچھ خاص اذیت ناک عمل نہ تھا مگر اس سے ایک تو اندرونی ٹوٹ پھوٹ بہت ہوتی تھی اور دوسرے کبھی والدین کے ہاتھ اسکول کی ڈائری کا وہ پرچہ لگ جاتا تو اس کے مضمرات اور بھی خوف ناک ہوتے تھے۔حسنہ کو اچھی طرح یاد ہے ان سے سینئر کچھ ساتھیوں نے اسکول میں سگریٹ پی تو ان سے ایک ہزار دفعہ یہ جملہ اسکول ڈائری میں لکھوایا گیا اور پھر تینوں لڑکیوں کے گلے میں ایک بورڈ ان کی اپنی تحریر میں کہ ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم نے اسکول میں سگریٹ پی ہے لکھواکر انہیں سارا دن گراؤنڈ میں پیڑ کے نیچے کھڑا کردیا گیا جس کی وجہ سے ان کی اس قدر تضحیک ہوئی کہ دو لڑکیاں تو اگلے ہفتے ہی اسکول چھوڑ گئیں۔ اس طریقے کو وہ پی نینسPenance )۔( یعنی اعتراف اور توبہ کہا جاتا تھا جو رومن کیتھولک چرچ میں ایک عرصے سے مروج تھا۔

شاید وہ ڈھلتی شام کا کوئی لمحہ تو جب رنگین سپنے دیکھتی حسنہ کی آنکھ اپنی بہن کے کمرے کے باہر شور مچانے سے کھلی۔وہ اپنے دو عدد بچوں کے ساتھ آئی ہوئی تھی۔حسنہ اور وہ جب چائے پینے بیٹھے تو اس نے اعلان کیا کہ وہ کل صبح سویرے  اپنے جیٹھ جیٹھانی کے ساتھ میرپورخاص جارہی ہے جہاں اس کی خالہ ساس کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ اگر کل عام تعطیل ہونے کی وجہ سے اس کے بچوں کو اپنے صفوان کو اور جیٹھ کی دونوں بیٹیوں کو اگرفیصل بھائی سے کہہ کر کسی فارم ہاؤس پر لے جائے تو بچے بہت خوش ہوں گے۔
اس تجویز پر حسنہ کچھ دیر کے لیے چپ ہوگئی اور اس کی سراسیمگی دیکھ کر بہن نے آہستہ سے انگریزی میں کہا “Does that BBW( Big Bad Wolf) of your’s has an issue with this?” ( کیا تمہارے اس بوڑھے گندے بھیڑیے کواس میں کوئی مسئلہ ہے۔) ایک لمحے کو حسنہ کا دل چاہا کہ بڑی بہن ہونے کے ناطے وہ  اسے  سب  کچھ بتادے مگر پھر اس نے سوچا کہ ویسے بھی یہ اس ہفتے چلی جائے گی پھر اس کو اس تنازعے میں سردست شامل کرنا بے سود ہوگا۔اس کی چپ دیکھ کر کہنے لگی “Mine one is chill that way .Go with a gora , go with a kala. He has no issue. Complete trust. This is the difference with men here and men there”.( اس حساب سے میرا میاں بہت اعلیٰ ہے۔ گورے کے ساتھ گھومو، کالے کے ساتھ جاؤ۔کوئی مسئلہ نہیں۔یہاں کے مرد میں اور وہاں کے مرد میں یہی تو فرق ہے۔)اس کا میاں جنوبی افریقہ میں پیدا ہوا تھا۔ یہاں کچھ دن کے لیے آیا تو میمونہ اسے اچھی لگی اور کراچی بہت ہی برا ۔ ان دنوں سچ پوچھو تو یہاں گڑ بڑ بھی بہت تھی ۔ وہ واپس پہلے ایسٹ لندن (جنوبی افریقہ ) پھر موپوتو (موزمبیق )۔ میمونہ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور لے کر حسین بھائی کو فون کردیا کہ وہ کل حسنہ کو بچوں کے ساتھ پک نک پر بھیج رہی ہے۔ اس نے بتایا کہ فیصل بھائی سے بھی اس نے فون پر بات کرلی ہے۔ یہ خاندانی لوگ ہیں مجھے بھی آپی آپی کہتے نہیں تھکتا۔آپ اجازت دے دو یہ آپ کے ڈر کی وجہ سے ہاں نہیں کہہ رہی۔ یہ کہہ کر اس نے فون حسنہ کو پکڑادیا۔
فون کے دوسری طرف چپ اور سانس لینے کی آواز آرہی تھی تو حسنہ نے آہستہ سے پوچھا۔ میں جاؤں ان کو لے کر۔؟
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد حسین بھائی نے کہا “ایسا کر ایک فون میرے کو کونڈا لیزا رائس سے بھی کرادے۔ابھی چلی جا۔لاسٹ ٹائم ۔ نو مو ر ر ی پیٹ اگین (آخری دفعہ مزید اس کا اعادہ نہیں ہوگا) یہ بھی میمونہ کی وجہ سے”
حسنہ ہنس کے کہنے لگی “کونڈا لیزا رائس کے فون سے شوکت عزیز بھائی ڈرتے ہیں میر ے امریکہ کا صدر جارج بش نہیں”۔
“اپن کوئی جارج بش نہیں اپن تو تیرا افغانستان ہیں ۔”یہ کہہ کر بغیر جواب کے اس نے فون بند کردیا ۔ جس پر اس کی بہن میمونہ کہنے لگی اللہ تم لوگ کتنے پولیٹکل جوک کرتے ہو۔

Advertisements
merkit.pk

حسین بھائی کی دی گئی اجازت سے حسنہ کے دل میں خوشیوں اور امید کا ایک طوفان امڈ آیا۔اس نے تہیہ کیا کہ کل کچھ بھی ہو وہ فیصل سے شادی کے بارے میں دو ٹوک بات کرے گی۔ ” I want to the pull the plug without further delay ” ( میں اس میں جلد کسی فیصلے پر پہنچنا چاہتی ہوں ) اس نے اپنی بہن کو کہا کہ وہ فیصل کو موزمبیق آنے کی دعوت دے اور اس سے خود کل کی پک نک کے انتظامات کے لیے درخواست کرے۔اگلے ہی لمحے اس نے فیصل کو فون کرکے جواب ملنے پر فون میمونہ کے ہاتھ میں فیصل کو بتا کر تھمادیا کہ “آپ سے بات کرنے کے لیے کوئی بے تاب ہے۔”
فیصل کے لیے پک نک کا انتظام کسی بھی فارم ہاؤس پر کرنا کوئی ایسا دشوار گزار مرحلہ نہ تھا مگر آج وہ بھی اس ٹینشن کو بھانپ گیا جو اس فرمائش کے پیچھے خاموشی سے ہلکورے لے رہی تھی۔اس نے بہت آہستگی سے میمونہ کو یہ جواز پیش کیا کہ فارم ہاؤس تو اتنے شارٹ نوٹس پر اور کل کی عام تعطیل کی وجہ سے شاید ممکن نہ ہو مگر شہر سے پرے ایک بہت ہی عمدہ کلب ہے۔ اسے یاد پڑتا ہے کہ کوئی ایس ایچ او وہاں چلڈرن تھیٹر کی اجازت کے لیے آیا تھا۔وہاں بچوں کو لے جایا جاسکتا ہے اس میں بچوں کی کھیل تفریح اور بولنگ کے بھی لوازمات ہیں اگر وہ مناسب سمجھے تو کل ان سب کو وہ لے جاسکتا ہے۔ میمونہ نے اسے جتایا کہ وہ تو یہاں پردیسی ہے اس طرح کی تفصیلات وہ حسنہ باجی سے طے کرلے۔۔۔
حسنہ کو میمونہ نے بڑے سلیقے سے یہ چیتاونی دے دی کہ ” Stay Clean with Him. He is a dangerous cargo”(اس سے ذرا بچ کر رہنا یہ خطرناک زادِ راہ ہے)
فیصل کا فون میمونہ کے واپس جانے کے کوئی ایک گھنٹے بعد آیا ۔ وہ کہہ رہا تھا کہ تمام انتظامات ہوگئے ہیں وہ کل گیارہ بجے تک تیار رہے۔ سیاہ یا نارنجی ساڑھی کوئی چھوٹے سے کاندھے پر باندھی جانے والے ڈوریوں اور جیولری کے ساتھ پہنے۔با لوں کی پونی ٹیل باند ھے ۔ مگر اس پر عبایا ضرور پہن لے اس کے پاس وہ ساڑے دس بجے کوئی پرائیویٹ جیپ بھیج دے گا جو اسے بھی ماڈل کالونی والے گھر سے لے لے گی۔بچوں کو تھیٹر اور کھیلوں کا بتادے۔ یہ بھی بتادے کہ یہ تمام دن کا بڑا حصہ وہ اس کے بغیر تھیٹر اور پلے ایریا میں گزاریں گے۔بڑوں کو وہاں آنے کی اجازت نہیں کل چھٹی کی وجہ سے چلڈرن ڈے ہے۔اینڈ سی یو ٹو مارو کہہ کر اس نے فون کردیا مگر دو منٹ بعد ہی اس کا میسج آیا کہ وہ آئی جی صاحب کے پاس کسی میٹنگ میں جارہا ہے۔سب ایس پی از کو فوراً طلب کیا ہے شاید دو دن بعد صدر صاحب کا شہر آنے کا پروگرام ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply