ایچ ۔ ٹو۔ او۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/دوسری قسط

کراچی کی پبلک یونی ورسٹی کے ایام سے ملحق و پیوست ایک اور کہانی
گزشتہ سے پیوستہ
شعبہ ابلاغ عامہ کے سییمنار والے کمرے میں اس کے علاوہ تین اور بھی افراد تھے۔ ایک طالب علم جوڑا جس میں لڑکی نے دستانے بھی پہنے تھے اور آنکھوں سے نیچے تک چہرہ بھی اپنا حجاب گھسیٹ کر چھپایا ہوا تھا۔ ایچ ۔ٹو ۔او نے انہیں سرگوشیوں میں گفتگو کرے دیکھ کر سوچا کہ یہ لڑکا ،اس قدر چھپی چھپائی لڑکی کو اتنی بے شمار لڑکیوں میں کیوں کر ڈھونڈلیتا ہوگا۔ تب اسے اپنے میاں حسین بھائی کا ایک سوال یاد آگیا کہ یہ چی نے جاپانی اور کورین ایک دوسرے کو کیسے پہنچاتے ہوں گے۔ اس رات وہ جسمانی طلب کی عدم سیرابی پر حسین بھائی سے ناراض تھی اور چڑ کر کہنے لگی “ہماری سیکس کے حساب سے تو میرا حق بنتا ہے کہ آپ کو میں بھی اب بھائی بولنا شروع کردوں ” حسین بھائی اس کی اس بے ربط اور اچانک تضحیک سے ہراساں ہوکر کہنے لگا “میرے سے کوئی اچھا ملتا ہے تو جاکر گھرگ (میمنی زبان میں شادی کرنا) جا۔”
حسنہ کو اس جملے سے جس سے اس کا سابقہ اس تعلق میں کئی دفعہ پڑا تھا ، شدید نفرت تھی۔ اس کی نسوانی حمیت کو نہ صرف یہ اپنے دلفریب وجود اور گھر گرہستی پر ایک رکیک حملہ لگتا تھا بلکہ یہ ایک طرح کا ایسا خفیہ اعلامیہ ہے کہ جیسے وہ اس کی جسمانی بہتری ، برتری اور لطافت سے محروم ہونے پر پشیماں نہیں ہوگا۔ روہ دل میں کئی مرتبہ اسے سبق سکھانے کا ارادہ کرکے بیٹھی تھی۔
دوسری قسط!
سیمینار کلرک جو خاصی فربہ اندام تھی وہ اپنے بے جوڑ ہاتھوں کا تکیہ بنائے ان پر اپنا چہرہ ٹکائے میز پر نیم دراز تھی۔ وہاں جامعہ میں دندناتی ایک طاقتور طلبہ تنظیم کے جنرل سیکرٹری کی بڑی بہن اور کسی اور شعبے کے سابقہ سربراہ کی سب سے چھوٹی سالی تھی۔ نبیل آغا کو لگتا تھا کہ  یہ جامعہ اسٹیٹ کا کوئی ادارہ نہیں بلکہ خاندانی جاگیر اور نوابوں کے راج واڑاہ ہے۔ کیسی علمیت ،کہاں کی دانش یہ تو جھوٹی انا کے معبد اور تعلق داری کے کوڑا دان جیسا معاملہ تھا۔ یہ کلرک صاحبہ اپنے سیاسی تعلقات کی بنیاد پر ایم فل میں گولڈ میڈل حاصل کرچکی تھیں۔ اپنی علمیت کے اور یونیورسٹی کی گریڈنگ کے معیار کے مطابق ، مدر ٹریسا کو مات دینےوالی دن میں وہ شعبہ ء سماجیات میں پی ایچ ڈی کی طالبہ تھی ۔
چونکہ نبیل کو کورس آوٹ لائین تو اس کے دوست نے ای میل کردی تھی مگر اس میں درج معاون کتابوں کی سیمینار میں دستیابی کا عندیہ بھی دیا تھا،لہذا اس نے جب کتابیں اس کلرک سے مانگیں تو اسے ایک فارم بھرنے کو کہا گیا مگر پھر جانے کیوں اس نے کہا سر “آپ میم کے پاس بیٹھیں اپنے نام کے صحیح اسپیل بتادیں میں فارم بھر کر لاتی ہوں آپ کا عہدہ اور سیل نمبر کیا ہے؟” ۔لفظ “میم” کے باقاعدہ اور غیر متوقع اعلان پر جب ایچ ۔ٹو ۔او نے اپنی نگاہوں کا اسٹیرنگ وحیدہ رحمان(یہ سیمینار کلرک کا نام تھا) کی جانب گھمایا تو وہاں موجو د نبیل ا سے پہلی ہی نظر میں اچھا لگا۔

نبیل آغا کا وہاں ارادہ تو کچھ اور رنگ کے کپڑے پہن کر آنے کا تھا مگر جب نیو سن شائن لانڈری سروس والوں نے اعلان کیا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے وہ اپنے آرڈر کے کپڑے دینے میں وقت مقررہ کی پابندی سے قاصر رہیں گے تو رات کے اینکر کے گھر پر منعقدہ بوائز نائٹ پر پہنے گئے کپڑے بے دھیانی سے پہن کر چلا گیا۔ گلابی قمیص، کاٹن کی خاکی چاینو فلیٹ ٹراوئزرز اور برگنڈی کارڈارائے کا کوٹ،گلے میں سونے کا ایک لاکٹ بالوں کی اس نے بیچ سے مانگ نکال کر پونی ٹیل باندھی ہوئی تھی اور ہاتھ کی انگلیوں میں سلگتا ہوا ایک سگریٹ قدرے احتیاط سے تھاما ہوا تھا۔جسم ، جم (Gym)کا اور محتاط پاور ڈائیٹ کا پالا ہوا۔

tripako tours pakistan
سیمینار ڈریس
chino flat trouser

ایچ ٹو او خود بھی کم نہ تھی،قد بہت دراز کیٹ واک پر اودھم مچاتی ماڈلز جیسانہ سہی پھر بھی قدرے نکلتا ہوا، کمیونٹی جم جو اس کے گھر کی پچھلی گلی میں تھا وہ وہاں باقاعدہ یوگا اور ایروبکس کرنے جاتی تھی۔آنکھیں بڑی بڑی اور ایتھوپیا کی کافی کی رنگت جیسی، جن پر وہ جب گلابی اور گرے رنگت سے الجھتے دھواں دھواں سے Taupe یا براؤن اور برونز رنگ کے آئی شیڈ لگاتی تو اچھے لگتے تھے۔کپڑوں جوتوں اور شاید مردوں کے معاملے میں بھی اس کاذوق ذرا قابل قبول معیار سے کم درجے کا تھا۔

نبیل کو اندازہ جلد ہی ہوگیا۔ ایچ۔ٹو ۔او شاید ہر اس کام کو اچھا کرلیتی تھی جسے اس نے محنت کرکے سیکھا ہو، فطری طور پر وہ بہت انیل(ہندی کم عقل ) محدود اور غیر محفوظ سی تھی۔ایسا لگتا تھا کہ وہ شاید کہیں زیادہ کھلی بندھی نہیں جب ہی اس میں تربیت اور خواتین والے مخصوص روایتی طور اطوار کی کمی تھی۔

Taupe eyeshadow

ایچ ۔ٹو ۔او کے پاس جاکر بیٹھنے کا وحیدہ رحمان کا حکم تونبیل نے اس وقت تو ضرور مانا مگر آئندہ جب کبھی ضرورت پڑی اسے ہمیشہ وحیدہ رحمان کی بجائے وحیدہ عبد الرحمان ہی پکارا ۔ایک دو دفعہ اس معصومہ نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے اسے جتلایا بھی کہ اس کا اصل نام ہی وحیدہ رحمان ہے اور یہ نام اس کے دادا نے بھارتی فلم گائیڈ کی ہیروئن، اداکارہ وحیدہ رحمان سے متاثر ہو کر رکھا تھا اور نبیل نے یہ لحاظ کیے بغیر کہ سمجھ میں آنے پر سیمینار کلرک ناراض بھی ہوسکتا ہے۔اسے ایک طنزیہ شائستگی سے جتلا دیا کہ خالی وحیدہ رحمان کہنے سے وہ اداکارہ اور اللہ میاں دونوں ناراض ہوسکتے ہیں جس پر اس دن قریب کھڑی ایچ ۔ٹو ۔او نے اسے کھلکھلاتے ہوئے  Meanie..[یعنی پیار سے کمینہ کہنا] کہا تو نبیل نے ہلکے سے کہا No.Just politically correct.” “(نہیں میرا بیان سیاسی طور پر درست ہے۔۔
نبیل اجازت لے کر جب اس کے سامنے بیٹھا تو ایچ ۔ٹو ۔او نے جلدی جلدی سے نوٹ کیا کہ ایک تو اس کی قیمص کا رنگ گلابی ضرور ہے مگر اس میں مہین سفید اور گرے رنگ کی مدھم سی دھاریاں بھی موجود ہیں دوسرے اس کے گلے کی چین میں سونے کا ہی ایک ہینڈ گرنیڈ بنا ہوا ہے جس کا سائیڈ کا ہینڈل یقیناًقیمتی نیلم کا ہے۔اس کے سینے پر حسین بھائی باٹلی والا جیسے بال ضرور موجود ہیں مگر ان سے اٹھنے  والی مہک بہت من بھاؤنی ہے،تمباکو، شراب ، قیمتی مردانہ پرفیوم اور مناسب مقدار میں بہائے گئے پسینے کا خمیرہء شہوت افزا۔کالر کے ایک کنارے پر رات کی پارٹی میں اس کی کو اینکر بننے کی طلب گار، قربت کی ستائی کسی بی بی نے بہت عیاری سے اپنی لپ اسٹک کا   وہ ہلکا سا نشان چھوڑ دیا تھا جسے مرد اگلی صبح بھلے سے نہ دیکھیں مگر بیویاں اور غیر متعلقہ عورتیں ضرور تاڑلیتی ہیں۔
ایک شتابی سے جو عرصہ آٹھ سال پر محیط تھی اس نے نبیل کے وجود سے آنے والی اس خوشبو کا موازنہ اپنے پتی پرمیشور حسین بھائی باٹلی والا کی اس ناخوشگوار بوُ سے کیا جس سے اس کا دن رات میں کئی دفعہ واسطہ پڑتا تھا۔

ذہن بھٹکنے لگا تو اسے بوُ اور فاصلوں کے حوالے سے یاد آیا کہ ان کے شعبے میں  ایک استاد کے سخت رویے پر بلندہونے والی احتجا ج کی دبی دبی چنگاریوں کو سرد کرکے شعبے کے سربراہ بتا رہے تھے کہ آج کل تو جامعہ کی جانب سے لڑکے لڑکیوں کے میل جول پر پالیسی میں خاصی نرمی ہے۔ سیکولر ، علاقائی اور غیر مذہبی طلبا تنظیمیں اسے دو افراد کا ذاتی فعل سمجھ کر دوسری  جانب دیکھنے لگ جاتی ہیں۔ جب کہ ان کے زمانہء طالب علمی میں یعنی سن ستر کی دہائی میں ایک مذہبی تنظیم اسلا می جمیعت طلبا کے جانب سے جاری کردہ احکامات کا وہی تقدس کا ویسا ہی غلغلہ ہوتا تھا جو سینٹ پال کے کیتھولک مذہب میں پوپ کے احکامات کا ہے جنہیں انگریزی زبان میں BULL کہتے ہیں۔۔اس زمانے لڑکے لڑکیوں کے درمیان چار فیٹ کا فاصلہ لازم ہوتا تھا ورنہ تنظیم کے تھنڈر اسکواڈ لڑکے کی درگت بنادیتے اور لڑکی کا جینا حرام کردیتے تھے۔
حسنہ نے سوچا کہ کاش یہ تنظیم والی چار فیٹ کے لازمی فاصلے والی پابندی اس کی ازدواجی زندگی میں بھی کسی قانون اور ضابطے کی وجہ سے لاگو ہوجاتی تھی تو اسے نہ چاہتے ہوئے بھی حسین بھائی کو سونگھنا نہ پڑتا۔کچھ تعلقات ایسے ہوتے ہیں کہ آپ قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگتے ہیں۔ انگریزی عورتیں تو اسے My own little breathing space کہتی ہیں۔ ایچ۔ٹو ۔ او کو اس اصطلاح کے بارے میں بھلے سے علم نہ ہو ۔اس لیے کہ اسے سفر کرنے کا  کوئی موقع نہیں ملا اور اس کا مطالعہ بھی ذرا محدود سا ہے لیکن وہ جانتی ہے کہ تعلقات میں فاصلوں کی بڑی اہمیت ہے۔ اداکارہ ریکھا نے یہ بات اپنے امیتابھ سے عشق کے بارے میں کہی تھی۔ ایک انٹرویو میں اس سے پوچھا گیا تھا کہ امیتابھ کے عشق میں اس نے سب سے اہم کیا راز  پایا  اور  کون سا سبق سیکھا تو جواب ملا That value of Space(فاصلوں کا اہتمام اور انہیں نبھانا)۔۔

اس نے جب اپنی جگر جان قسم کی ایک سندھی دوست مہر ین شاہ سے یہ حسین بھائی کی بوُ والی مجبوری کا تذکرہ کیا اور بتانے لگی کہ رات میں جب اس کا میاں اس کے قریب آتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ اس نے کوئی پرانا بغیر دھلا ہوا دستر خوان اوڑھ لیا ہے ۔تو وہ کہنے لگی کہ ” اڑے چنڈری (سندھی زبان میں نالائق ) ہمارے سندھی میں بولتے ہیں کھین جو کھلن خواری تے کھین جو روؤن راحت “(کسی کا ہنسنا بھی خواری تو کسی کا رونا بھی راحت لگتا ہے)۔ ہمارے ادّھا حسین بھائی (ادھا ۔۔سندھی بڑا بھائی) کا بھی دکھ یہی ہے۔ یو سمپلی ہیٹ ہم ( تم اس سے نفرت کرتی ہو )پاکستان کے اکثر مرد ایسے ہی سمیل(smell) کرتے ہیں۔ ملک سے باہر بھی جانا ہو.فلائیٹ صبح کی ہو تو جن کپڑے میں سوئے ہوں گے میلے بغیر استری کے شلوار قمیص اور گندی باہر جھانکتی ہوئی بنیان اور بھدے بدنما جوتے اور میلے گندے سینڈل ۔ وہ پہن کر بغیر منہ دھوئے جہاز میں چلے آئیں گے ۔ اس پر اللہ سائیں ظلم یہ کہ وہ جو عبایا میں ساتھ عورتیں ہوں گی۔ پھٹی ہوئی ایڑیوں اور پرانے سینڈل میں ٹھونسے ہوئے پاؤں پر عرب عورتوں کی طرح مہندی کے بیل بوٹے بنائے ہوئے وہ ایر پورٹ لاؤنج میں ہی فری ہونا شروع ہوجائیں گی۔ اپنے مرد کا کبھی ہاتھ پکڑیں گی تو گھوڑا رے گھوڑا ( سندھی میں کلمہء تاسف)۔کبھی اس کی میلی قمیص کو چھوئیں گی اڑے بابا ،گاؤں کی گوری۔ لیاری اور رحیم یار خان کی پریانکا چوپڑا صبر کرو ۔ تمہارا سر کا بوچھڑاسائیں (سندھی میں گندہ ، خراب )کہیں بھاگ نہیں رہا ۔ خواہ مخواہ چِھتے ( سندھی میں چنچل اور بے باک ) ہونے کی ضرورت نہیں۔ گھرجاکر اس کے میلے کپڑے پھاڑ کر اس سے لپٹ جانا کوئی گھنتی( فکر) کی بات نہیں۔ مگر شل نہ اللہ سائیں اندھی رن کو مرد ملائے۔۔ وہ اس کو لاٹھی سمجھ کر ایسا پکڑتی ہے کہ چھوڑنے کا نام نہیں لیتی۔
جب میں ایک دو دفعہ دوبئی اور دو دفعہ اپنے بہنوں کے پاس عمان اور بحرین گئی تو ایرپورٹ سے لے کر جہاز میں بدبو سے سر پھٹ رہا تھا۔ایک تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کو باہر جاتے وقت یہ شلوار قمیص سے کیا عشق ہوجاتا ہے۔سب کو ایک منٹ میں پتہ چل جاتا ہے کہ سامنے والا پاکستانی ہے۔جاہل اور خراب تو دوسرے بھی ہوتے ہیں مگر وہ اپنی جہا لت اور گندگی کا ایسا چیخ چیخ کر اعلان نہیں کرتے۔ سمجھاؤ کہ بابا جینز ٹی شرٹ پہنو تو چری رن کے بچے بولیں گے عرب بھی تو ثوب پہنتے ہیں ۔ اب ان گاؤ ں گوٹھ کے کھوتوں کو کون سمجھائے کہ عرب اپنا سفید لباس دن میں تین دفعہ بدلتے ہیں۔ فلسطین اور مصر کی عورت حادثے کے بعد کھینچی جانے والی تصاویر میں بھی جو اسکارف پہن کر بیٹھی ہوگی ۔وہ سفید اور بے داغ ہوگا۔ مصر میں حسنی مبارک کے خلاف ال تحریر اسکوائر میں جو کچرا ہوتا تھا وہ جامعہ الازہر کے طالب علم اٹھاتے تھے۔ اڑے بابا ان کے پاس درھم ریال ہے تم لوگ تو نوکر ہو، نوکر کی تے نخرہ کی ۔ ”

التحریر اسکوءایر اور طالب علموں کی صفائی مہم

فلسطینی مظاہرین
فلسطینی مظاہرین کے صاف ملبوسات

حسنہ حسین بھائی باٹلی والا کو لگا کہ اس کی دوست نے اس کی روز مرہ ہلاکت کے المیے پراظہار تاسف کرنے اور اس کا کوئی سہل اور قابل عمل حل تجویز کرنے کی بجائے یہ عمومی اور کچھ کچھ بین الاقوامی جواز ڈھونڈ کر اس کے جذبات کی سرا سر توہین کی ہے۔۔ دوست بھی دل ہی دکھانے آئے۔
بات یہ ہورہی تھی کہ جب سیمینار کلرک وحیدہ رحمان کی تجویز پر، نبیل آغا ایچ۔ ٹو ۔او کی ٹیبل پر آن کر سامنے بیٹھا تو اس نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر اور ابتدائی تعارفی کلمات کے دوران ہی اپنے مد مقابل کی قمیص کی دھاریوں کی رنگت ، سونے کی چین سے لٹکتے ہوئے ہینڈ گرنیڈ والے پینڈینٹ اور اس کے وجود سے اٹھنے  والی من بھاؤنی مہک جس میں،تمباکو، شراب ، قیمتی مردانہ پرفیوم اور مناسب مقدار میں بہائے گئے پسینہ غرض کہ وہ سبھی کچھ نوٹ کیا تھا جو لمحاتِ وصل میں صحراؤں کی طرح تپتی کسی عورت کو لذتوں سے بھگودے۔ اس نے یہ بھی سوچا کہ اس مرد کے سینے میں سر چھپا کر سونا کتنا خوشگوار اور تحفظ بھرا احساس ہوگا۔ وہ کون کم بخت ،کم عقل، ہر وقت کی شکوہ سنج عورتیں ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ سب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں۔ وہ آزمائش کے طور پر حسین بھائی باٹلی والا اور نبیل آغاکی رفاقت کا یکے بعد دیگرے مزہ لوٹ کر بتائیں کہ کیا سب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں؟
ایک دفعہ جب حسین بھائی کام سے رات کو واپسی کے بعد  شاور کیے بغیر اسے بستر میں گھسیٹ کر اس پر آوارہ بادلوں کی طرح منڈلانے لگے تو اس نے کہا ” شاور لے کراور ڈیوڈرینٹ لگا کر اور باتھ روب پہن کر بستر میں آنا رومانس میں اضافے کا باعث بنتا ہے ” تو حسین بھائی باٹلی والا تپ گئے اور کہنے لگے” میں کوئی جمعے کی نماز پڑھنے   بستر میں نہیں آرہا مولوی صاحب خطبے میں بولتے ہیں کہ قرآن میں لکھے لا ہے کہ عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں ۔ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہے جاؤ ۔تو بھی میری کھیتی ہے ۔ لہجے میں چیخ اور غصہ بھر کر کہا تونے گدھیڑی کی (گدھی کی بچی ) کوئی پھارمر (کسان) ایسا دیکھا کہ کھیت میں جانے سے پہلے گنگا اشنان کرتا ہو۔میں “تیرا کیا خیال ہے میں تیرے جھوٹ موٹ کے نخرے کی وجہ سے اپنا وجیفہء جوجیت (وظیفہ ء زوجیت ) چھوڑ دوں گا۔؟”
ایچ۔ ٹو ۔او جو پڑھی تو سستے انگلش میڈیم اسکولوں اور خاتون پاکستان گرلز کالج سے تھی مگر ترقی کے شوق میں اور گھر کے قریب واقع امریکن سینٹر میں انگلش سیکھنے کی وجہ  سے اپنی انگریزی دوسری لڑکیوں کے مقابلتاً زیادہ بہتر سنوار بیٹھی تھی، اس کی سمجھ میں عربی کا یہ وجیفہء جوجیت نہ آیا۔ اسے کہنے لگی کم از کم بول چال ہی سیکھ لو اگر نہانادھونا مشکل لگتا ہے ۔ اس کو انگلش میں لو میکنگ بولتے ہیں جس پر حسین بھائی کہنے لگے جب تیرے کو کوئی مل جائے تو اس سے تو لومیکنگ کرلینا میں تو امام صاحب جو درس کے ٹائم پر بولتے ہیں وہی بولوں گا۔مولوی صاحب بولتے ہیں خدا مت بولو اللہ بولو، نماز نہیں صلوۃ ،روزہ نہیں صوم ۔۔
جس پر اس نے اپنی زندگی سے سپردگی کے یہ مزید تین منٹ بھی آنکھیں موند کر مرتے پڑتے ،کاٹ دیے ۔صبح اٹھ کر البتہ اس نے اپنی ڈائری میں اسے رومن اردو میں Wajifa e jo- jee ait کے طور پر لکھ لیا ۔جامعہ میں اس کی ایک دوست اسلامیات میں پی ایچ ڈی کررہی تھی۔ وہ اتفاق سے بس میں ہی مل گئی تو اس نے اپنی ڈائری کھول کر اس سے بس ہی میں پوچھ لیا کہ “یہ کیا ہے؟”
“کیا کیا ہے؟”
“Wajifa e jo- jee ait” ایچ ۔ٹو۔او نے شرما کر پوچھا۔
“کمال ہے دوبچے پیدا کرلیے اور اس کا نہیں پتہ؟!”
“آج کل کنواریاں زیادہ ویل انفارمڈ ہیں”۔ ایچ ۔ٹو ۔ او بھی شرارت پر اترآئی۔
بارہ بنکی کے نستعلیق اردو بولنے والے گھرانے سے تعلق رکھنے والی اس دوشیزہ نے کہا” یہ الفاظ اگر کسی ہندی یا گجراتی بولنے والے کے منہ  سے ادا ہوئے ہیں تو اس سے مراد وہی کچھ ہے جو مرد شادی کے بغیر بھی باآسانی کرلیتے ہیں یعنی کہ سیکس”۔۔۔۔۔

بارہ بنکی یوپی بھارت

حسین بھائی سے حسنہ نے اگلی رات حسین بھائی باٹلی والا کی گھر واپسی کے فوراً بعد بستر میں داخل ہوتے وقت عجلت بھری وحشت کو بھانپ لیا اور آج رات بھی وہی گذشتہ شب والا مطالبہ دہرایا کہ پیار کرنے کے آداب ہوتے ہیں چاؤ کے، لگاوٹ کے، دو ٹھنڈے میٹھے بول، کچھ اہتمام ، تھوڑا رومانس بھی ہوتا ہے تو انہوں نے غصے میں آن کر اس کا نائیٹی نما لان کا سفید کرتہ جو کھلا کھلا اور ذرا لمبا ہونے کے باعث اور بہت دفعہ دھلنے کی وجہ سے دھنکی ہوئی کپاس کی طرح نرم ہوگیا تھا، لیرے لیرے کرڈالا۔اپنی جلد بازی میں انہوں نے دروازہ بھی ٹھیک سے بند نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے ان کا منجھلا بیٹا وجدان دروازے کے پاس آن کر جھانکنے لگا۔قریب تھا کہ حسین بھائی اس پر غصے سے” سالا حرامی کی اولاد” کہہ کر چپل پھینکتے حسنہ نے اسے چلے جانے کو کہا۔انہیں ہمیشہ سے شک تھا کہ حسنہ کا یہ بیٹا اس ایس پی فیصل قیصرانی کی اولاد ہے جس سے حسنہ کا کچھ دن افیئر چلا تھا۔ اس کے اس شک کی وجہ یہ تھی کہ بال سیدھے تھے قد لمبا، انداز بے حد پر اعتماد اور بات چیت کا انداز بھی شرمیلا اور میٹھا تھا ۔ سرائیکی بھی جب بولتے ہیں تو لگتا ہے کہ پھر اسے بندوقوں کا اور گاڑیوں کا شوق تھا جب کہ  بڑے بیٹے صفوان کے بال گھنگریالے، شوق اور عادتیں اس سے مختلف تھیں۔
اپنے غصے پر جوش و جنوں کی وجہ سے حسین بھائی نے قابو تو پالیا مگر فارغ ہوکر انہوں نے جو سناونیاں ایچ ٹو او کو سنائیں۔ ان کا کم و بیش خلاصہ یہ بنتا ہے کہ یہ تجھے ( بہن۔۔) کیا رومانس کا نیا شوق چڑھا ہے۔پولیس والے کا پلا   پیٹ میں پال  کر دل نہیں بھرا۔سن لے میں ایسا ہی ہوں ۔میرے سے کوئی اچھا ملتا ہے تو جاکر گھرگ (میمنی زبان میں شادی کرنا) جا۔میرے کو ایسے نکھرے چالے نہیں (نخرے اور چالیں) آتے ۔آج کل فاسٹ فوڈ کا زمانہ ہے لیموں پانی اور ٹینگ(Tang) کا۔ ابھی کسی کے پاس اتنا ٹیم نہیں کہ لیموں نچوڑے اور سنگترے کاٹے ۔ شے شے ( sachetچھوٹی تھیلی) کھولو ، پانی میں پھینکو ، شربت تیار۔تیری نانی تو کھیر کے چاول چکی پر پیس پیس اور پستے بادام چھیل چھیل کر مرگئی اب تو تیار کھیر مکس ملتا۔ تیرے ما پھک (موافق) گرم دودھ میں ڈالو اور کھیر تیار،فرج میں رکھی ، ٹھنڈی ہوئی کھالی۔اب وہ زمانہ نہیں کہ میں تیرے کو ایک گھنٹہ مغل اعظم کی مدھوبالا کی طرح موہے پنگھٹ پر نند لال ( نند لال ، میری نند کا بھائی ، یعنی میرا میاں) چھیڑ گیؤ رے ناچ کر گانے کو بولوں اور پھر جاکر بستر میں بازار کا ریٹ کھلے۔صبح کو سبزی منڈی بھاگنا ہوتا ہے تیرے مافک نوے نوے لوگڑے (نئے کپڑے) پہن کر بولڈ اینڈ بیوٹفل چھوکروں کے ڈیپارٹمنٹ میں اکھیوں کے ٹانکے نہیں لگانے ہوتے۔

ایچ۔ ٹو ۔او کے بدن نے اس سے کچھ دیر پہلے اس کے جوش رفاقت کے جو عذاب سہے تو وہ بھی کچھ کم نہ تھے مگر اس سے کہیں زیادہ کلفت اسے اپنے میاں کے اس  جوش خطابت سے محسوس ہوئی۔ ٹوٹتے بکھرتے نیند کی جھیل میں ڈُبکیاں لگاتے اس نے سوچا کہ اس شادی کچن چلانے والے، اسکول ڈراپ آؤٹ حسین بھائی باٹلی والا گدھیڑے موئے ( میمنی زبان میں گدھے کو کہتے ہیں) کو کیا پتہ کہ چھ گھنٹے   دہی والے مصالحوں میں سموچی ہوئی ((Marinated بچھّیا کے گوشت کی بریانی کا کیا مزہ ہے ۔ اس کی ماں مر کر بھی اس کو نہیں سمجھا پائے گی کہ دھیمی دھیمی آگ پر ساری رات پکتے ہوئے پایوں میں گرما گرم کلچے ڈبو کر کھانا کیا مغلئی مزہ ہے کوئلے پر آٹے سے سیل مٹکے میں پکے ہوئے کنے اور ببول کے انگاروں پر جھلستی ہوئی بلوچی سجیّ اور مدھانی میں رڑکے ہوئے لسی سے بلوئے ہوئے گائے کے پہلے بچھڑے کے دودھ کے روپہلے چکنے مکھن کے کیا مزے ہیں۔

اس نے جب وہ گہرے خراٹے لے رہا تھا چھت کو تکتے ہوئے سوچا کہ کیا نبیل آغا کو ان سب باریکیوں کا پتہ ہوگا۔ جس فیلڈ کا وہ آدمی ہے اس میں تو ذائقوں کی مسافتوں سے اس کا واسطہ ہوگا۔ اسے یاد آیا کہ فیصل خان قیصرانی میں بھی بڑی عجلت بھری وحشتیں تھیں۔ایک جنسی بھوک، سرکاری مصروفیتوں کا پاس ،قبائیلی تعلقات کو نبھانے کی مجبوریاں۔ اسے بھی ہروقت جلدی لگی رہتی تھی ۔وہ بھی حسین بھائی کا ایک پولیس گروپ والا پڑھا لکھا ورژن تھا۔سارے مرد ایسے ہی ہوتے ہوں گے۔
عورت کو مفتوحہ علاقہ یا قبضہء پولیس میں لی گئی کار سمجھ کر برتنے والا
تھوڑی دیر بعد اس کا میاں تو گالم گلوچ اور طعنے تشنے دے کر سوگیا مگر وہ اٹھی اور وجدان کے پاس جاکر لیٹ گئی اور اسے نم آنکھوں سے دیر تلک دیکھتی رہی۔ وہ بخوبی واقف تھی کہ وجدان اسی فیصل کی اولاد تھا۔ اس کا ایس پی فیصل قیصرانی سے پیار ایک بھول تھا۔ جس کے پیچھے کچھ تو تونسہ شریف کے اس بانکے چھبیلے کے اپنے چھاجانے کے انداز اور تحفے تحائف کی بھر مار اور کچھ ایک عورت کا پہلا جذبہء انتقام بھی تھا۔
فیصل قیصرانی مقابلے کے امتحان کے ذریعے بلوچستان کے کوٹے پر منتخب ہوکر پولیس گروپ میں افسر بنا تھا۔ دراصل وہ لاہور کا پڑھا ہوا تھا، دراز قد، مضبوط بدن، عام سا چہرہ، شیریں گفتار ، پر اعتماد اور بے حد چالباز سا مرد تھا۔ دنیا داری کوٹ کوٹ کر بھری تھی کم بخت میں۔اس کی تعیناتی جنوبی پنجاب کے ایک چھوٹے سے ضلع میں تھی کہ وہاں سندھ کے ایک طاقتور سیاستدان ، کسی بڑے خانوادے کے ہاں تعزیت پر آئے۔ ان کی حفاظت پر مامور فیصل نے خود ہی انہیں اپنی پوسٹنگ کی درخواست کی اور ایک ماہ بعد وہ کراچی میں سیکورٹی برانچ میں وی آئی پی ڈیوٹی پر لگا دیا گیا۔
ایچ ٹو او کی بڑی بہن میمونہ کا بنگلہ چونکہ ماڈل کالونی میں تھا اور وہ خود اپنے میاں کے ساتھ موزمبیق شفٹ ہوگئی تھی لہذا ایچ ٹو او کی ڈیوٹی لگی کہ کسی مناسب کرائے دار کا بندوبست کرے۔اس نے محلے کے ہی ایک اسٹیٹ ایجنٹ کے ذریعے اشتہار دیا تو ڈیفنس کے ایک خوبصورت سے کلب میں جہاں وہ پہلے کبھی نہیں گئی تھی ایس پی فیصل سے ملاقات ہوئی۔ اس کے بقول دو چھوٹے بھائی ، ایک سالا اور ایک بھانجا یہاں کراچی کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں ادھر اُدھر مارے مارے پھرتے رہتے ہیں۔یہ بنگلہ یوں بھی بہت مناسب مقام پر ہے کہ ایر پورٹ کے قریب ہے۔اس کی وی آئی پی آمد کی وجہ سے وقت بے وقت ڈیوٹی لگتی ہے۔ کبھی کبھار اس کی گاؤں کی بیوی بھی آن کر رہے گی۔ تین مہینے کا کرایہ وہ ایڈوانس دینے کو تیار ہے، مالک مکان کے خاتون ہونے کے ناطے وہ چھوٹی موٹی ری پئیرز خود ہی کرالے گا۔

ایچ ٹو او کے نظریات اس ملاقات میں پولیس کے رویے کے بارے میں بہت بدلے۔اس کے شعبے کے اساتذہ ساتھی یہ کہتے ہوئے پائے گئے تھے کہ آئی جی اور کانسٹبل کی بدمعاشی میں صرف ایک ڈگری کا فرق ہے ۔ وہ فرق ہے یونی ورسٹی کی ڈگری کا اگلے ہفتے اس نے مکان کرائے پر دے دیا۔انہی  دنوں صفوان کے اسکول میں داخلے کا مسئلہ درپیش ہوا۔ اس نے فیصل کو فون کیا تو ایک گھنٹے بعد ایک ایس ۔آئی آیا ۔اسے اور اس کے میاں کو اسکول لے گیا اور اسی دن صفوان میاں کا داخلہ ہوگیا۔ ایچ ۔ ٹو ۔ او کو لگا کہ وہ بہت دنوں سے ایسے ہی کسی مرد کے سہارے اور تعلق کی متلاشی تھی ۔ اگلے ماہ رمضان کے دوران اس نے ہر ہفتے پھلوں کی ٹوکریاں اور عید پر غفران کو عیدی کے طور پر ایک ویڈیو گیم اور میلے کے ٹکٹ بھجوائے اسی دوران اس کی بہن بھی موزمبیق سے آئی تو ائیر پورٹ پرایس پی قیصرانی کے حکم کی بجاآوری سے ملے پروٹوکول نے حیران کردیا۔بہن کو لگا کہ وہ نہیں بلکہ موزمبیق کے صدر جوکیم چسانو کراچی کے دورے پر آئے ہوں۔ بہن نے مذاق بھی کیا کہ ” بات کرایے سے آگے کی تو نہیں؟ “تو ایچ ۔ٹو ۔ او نے کہا “نہیں آپی کچھ لوگ خاندانی ہوتے ہیں۔اللہ کا شکر ہے فیصل بھائی جیسا کرایہ دار ملا ، مجھے تو ادّھی ادّھی ( سندھی میں بڑی بہن) کہتے نہیں تھکتا۔ ایک کام بولو تو لگتا ہے الہ دین کا جن ہے سالے کے پاس ۔ مجال ہے وہ کام سالاسیم ڈے نہ ہو۔میں تو میرے چھوکرے صفوان کو پولیس میں ڈالوں گی۔حسین کے ماپھک میرے کو اس کی موتن داس مارکیٹ اور جوڑیا بازار میں خجل خوار نہیں کرنا۔”

موزمبیق کے صدر جوکم چیسانو

تین ماہ کے اختتام سے پہلے ہی اسے جب اگلے تین ماہ کا کرائے کا ایڈوانس کیش پے مینٹ ملا تو وہ اس کی عنایات کی بارش میں اور بھی بھیگ گئی۔تعلقات جو گھر کے کرائے پر دینے سے شروع ہوکر صفوان کے داخلے،مضان کے دوران اس نے ہر ہفتے پھلوں کی ٹوکریاں اور عید پر بچوں کو عیدی اور میلے ، بہن کی موزمبیق سے آمد اور ائیر پورٹ پر پروٹوکول سب ہی کچھ اس کا دل جیتنے کا ایک چلتر تھے۔۔
ان کے تعلقات میں تیزی اس وقت آئی جب اس نے صفوان کے داخلے ، بہن کے ایر پورٹ والے پروٹوکول کے فوراً بعد خود اپنے میاں کے پارٹنر کی ایک پارٹی سے ادھار کی وصولیابی کا ذکر فیصل قیصرانی سے کیا۔ اپنے تعلقات پر پردہ یوں ڈالا کہ میاں کو بتایا کہ ایس پی صاحب ایک کولیگ کے فرینڈ ہیں۔
فیصل نے معمولی سی مداخلت کی تو رقم کی واپسی ہوگئی ۔ یہ کاروباری پارٹی جو سال بھر سے ان کے دس لاکھ روپے دبائے بیٹھی تھی ۔ اس کے مالکان مولوی قسم کا حلیہ رکھتے تھے۔
کچھ دن پہلے شہر میں ایک بڑا خود کش حملہ ہوا تھا۔علاقہ گو فیصل کا نہ تھا مگر آئی جی صاحب کو اطلاع تھی کہ اس کے پیچھے جو بڑا گروپ ہے اس کے کچھ لوگوں کی نقل و حرکت فیصل کے علاقے میں دیکھی گئی تھی۔اسی نے اسپیشل برانچ کے ڈی آئی جی کے ہاں سے مشکوک افراد کی جو لسٹ جاری ہوئی اس میں اپنے ریڈر کے سالے سے جو ڈی آئی جی کے ہاں ریکارڈ کلرک تھا ۔لسٹ میں کسی عبدالکریم، کا نام بھی ڈلوالیا۔پیشہ کاروبار،رجحان، مذہبی انتہا پسندوں کی سرپرستی اور مالی معاونت۔یوں اس لسٹ کے حساب سے ہر تھانے کی حدود میں کوئی نہ کوئی عبدالکریم ، پیشہ کاروبار کو اٹھایا گیا ۔جب ان گرفتار شدگان کی سفارش کوئی اہم سیاسی شخصیت یا جماعت کی مداخلت کرتی تو انہیں اس لسٹ کا حوالہ دیا جاتا ۔ان کے حوصلے پست کرنے کے لیے یہ بھی جتلادیا جاتا کہ دہشت گردوں کے معاونین کی لسٹ سی آئی ۔ اے کے چیف جارج ٹینیٹ نے خود صدر مشرف کے حوالے کی تھی ۔ یہی وہ لسٹ ہے جو وزارت داخلہ اسلام آباد نے اس ہدایات کے ساتھ بھجوائی ہے کہ جو ان کی رہائی کی سفارش کرے اس کو بھی دھر لو ، دیکھا جائے گا۔ اس کو بولو کہ اگلی ملاقات گونتانمو بے کے کیمپ ایکس رے میں ہوگی۔ کیوبا کا ٹکٹ کٹالو ۔ یوں حسین بھائی کی فرم کے دس لاکھ ہضم کرنے والی پارٹی کو بھی دہشت گردوں کی معاونت کے شبے میں راتوں رات اٹھا لیا۔گھر کے دو لڑکے بھی ساتھ ہی اٹھا لیے گئے تھے۔اور انہیں پولیس مقابلے میں مارنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

کیمپ ایکس رے کا فضائی منظر
کیمپ ایکس رے گنتا نومو بے

خود پولیس نے تو عبدالکریم اور اس کے لواحقین کو چھوڑنے کی ڈیل تیس لاکھ میں کی ۔اس میں بھی جب حسین بھائی باٹلی والا کے پاس ان گرفتار شدگان کی بیوی پہنچی تو اس نے کہا بھابھی میں تو ایس ایچ او کو نہیں جانتا مگر وہ جو اپنے اسٹاک مارکیٹ کا میرا پرانا بروکردوست ہے ۔اس کا ان لوگوں سے سیل پرچیز کا معاملہ ہے۔ آپ کہتی ہو تو میں جاتا ہوں۔
جب تک وہ تھانے پہنچتے ایچ ٹو او کا ایس ایم ایس ٖ فیصل خان قیصرانی کو آچکا تھا۔ وہاں جب لین دین کی بات چلی تو وہ دونوں یہ کہہ کر پیچھے ہٹ گئے کہ ہمارا لین دین سے کوئی واسطہ نہیں عبدالکریم کا بہنوئی خود مفت میں چھڑائے کہ کروڑ میں یہ ان لوگوں کی ڈیل ہے۔کیش ان کے پاس موجود نہ تھا تو ایک اسٹیٹ ایجنٹ کے ذریعے ان کا بھینسوں کا باڑہ راتوں رات مویشیوں سمیت فروخت کرایا گیا۔حسین بھائی کی فرم کو البتہ چھ لاکھ روپے ہی یہ جتلا کردیے گئے کہ پارٹی واقعی آج کل کاروبار میں ٹوٹی ہوئی ہے۔ سال بھر سے ڈوبی ہوئی رقم کا ساٹھ فیصد ملنے پر انہوں نے بھی چین کا سانس لیا۔یوں فیصل کو ایک طرح سے اس خاندان کے عارضی سرپرست اعلیٰ کے طور ذرا فاصلوں سے تسلیم کرلیا گیا۔
احسانات کے اسی تواتر میں اورفیصل کی تعاقب کرنے کی صلاحیت سے ایچ ٹو او نے بہت آہستگی سے ہار مان لی اور اس کے فون بھی لینا شروع کردیے۔ فون پر وہ اس سے یہ بات چیت یا تو یونی ورسٹی میں کرتی یا اپنے کمیونٹی جم میں ٹریڈ مل یا اسٹیٹک بائیک پر،جم میں ہیڈ فون کے ذریعے بات چیت میں خلل اس وقت آتا تھا جو وہ دس منٹ کے لیے رسی کود رہی ہوتی تھی۔اسے جانے کیوں یہ خیال دل میں بیٹھ گیا تھا کہ ایک بچے کی پیدائش کے بعد ایک تو کچھ اس کے کولہوں پر ایکسٹرا چربی جمع ہوگئی ہے اور کچھ وہ سینے پر ذرا سی ڈھلک سی گئی ہے۔یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ رسی کودنے سے کولہوں کی چربی بھی کم ہوجاتی ہے۔سینے اور بازؤں میں تناؤ کے لیے کے لیے اس نے بینچ پریس اور پش اَپ لگانے شروع کردیے۔قیصرانی نے حالانکہ ایسی کوئی بات کی طرف اشارہ نہیں کیا تھا ، مگر اس کی سندھی دوست ، مہر ین شاہ اکثر یہ کہتی تھی کہ “شل نہ کوئی عورت کپڑے اتارنے پر اپنا بدن دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کرتی ہو” ۔
” ایشوریہ رائے بھی؟ “ایچ ٹو او نے پوچھا ۔
“وہ بھی اس کو لگتا ہوگا کہ ششمیتا سین کی کمر اس سے اچھی ہے،آنکھوں میں زیادہ نشہ ہے مردوں کو وہ رئیل Stunner۔۔(ایک دم سکتہ طاری کردینے والی) لگتی ہے”۔
“اور ششمیتا سین کو کیا خیال آتا ہوگا ؟ ایچ ۔ٹو ۔او نے پوچھا۔
“وہ کہتی ہوگی ایشوریہ کے کاندھے میری طرح کھوکھلے نہیں اور اس کا بدن بھی زیادہ متناسب ہے جب کہ میرے بدن میں spaces زیادہ ہیں”
ایک دن جب وہ یونی ورسٹی میں تھی اسے فیصل کا فون آیا کہ یونی ورسٹی کے باہر گڑ بڑ ہے۔فائرنگ ہورہی ہے۔وہ قریب ہی کسی میٹنگ کے لیے آیا ہوا ہے۔ وہ اسے پک کرنے آرہا ہے۔ حسنہ کی اپنی گاڑی وہ ڈرائیور کے ذریعے میٹرو کے پاس طارق روڈ پر کھڑی کرادیں گے۔موسم بھی اچھاہے۔گلشن معمار یا ہاکس بے کی طرف نکل جائیں گے وہاں بہت سنسان گوشے ہیں ۔گاڑی کی نمبر پلیٹ بھی نیلی پولیس والی ہے۔چنتا کی کوئی بات نہیں ۔ایچ۔ ٹو۔ او ۔ ذرا کھلنڈری، مت والی ، نمائش پسند اور قدرے بے باک اور حدود سود زیاں سے پرے رہنے والی عورت نے سوچا کہ یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply