دنیا کی سستی ترين کار کی پروڈکشن بند کرنے کا فیصلہ

بھارت میں تیار کی جانے والی سستی ترین کار کا نام ٹاٹا نینو رکھا گیا تھا۔ دس برس تک کار ساز ادارے کو مشکل حالات کا سامنا رہا لیکن اب اس کی مزید پروڈکشن بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

دنیا کی سستی ترین کار ٹاٹا ٹینو کی ہیت جیلی بین جیسی ہے۔ اس کو مشہور صنعتی گروپ ٹاٹا اپنے کار ساز کارخانے میں تیار کر کے مارکیٹ کر رہا ہے۔ تاہم اس ادارے نے اعلان کیا ہے کہ ٹاٹا نینو اب مزید تیار نہیں کی جائے گی اور اس کی پروڈکشن اگلے برس اپریل سے مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔

tripako tours pakistan

ٹاٹا موٹرز کے مطابق اس فيصلے کی وجہ سڑکوں پر گاڑیوں کی سلامتی کے لیے متعارف کرائے جانے والے نئے ضوابط کے علاوہ دھوئیں کے اخراج سے متعلق قواعد ہیں۔ کمپنی کے فیصلے کے مطابق اپریل سن 2020 کے بعد ٹاٹا نینو کو فروخت کے لیے ملکی کار مارکیٹ میں فراہم نہیں کیا جائے گا۔

ٹاٹا نینو کو بہت زور و شور سے سن 2009 میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ اُس وقت اس کار کی قیمت محض بائیس سو امریکی ڈالر مقرر کر کے اِسے دنیا کی سستی ترین کار قرار دیا گیا تھا۔ ٹاٹا نینو بظاہر چھوٹی سی گاڑی ہے لیکن اس کے چار دروازے ہیں۔

ٹاٹا نینو کی تیاری اور تخلیق کا سہرہ بھارت کے بڑے صنعتی گروپ ٹاٹا کے سربراہ رتن ٹاٹا کے سر جاتا ہے۔ رتن ٹاٹا عام متوسط طبقے کے بھارتی شہریوں کے لیے کم قیمت مگر بڑھیا کار متعارف کرانے کی سوچ رکھتے تھے۔ ایک موٹر سائیکل پر سوار شوہر اور بیوی کو گھریلو سامان کی خریداری کے ساتھ سڑکوں پر سفر کرتا دیکھ کر انہیں پریشانی لاحق ہوتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹاٹا نینو کار نے یقینی طور پر لاکھوں بھارتی شہریوں کی زندگیوں کو تبدیل کر دیا ہے۔ اس کار کی وجہ سے ایک چھوٹے خاندان کو ایک مقام سے دوسری جگہ جانے میں راحت بھی میسر آئی اور بلا شبہ اسے دنیا کی سستی ترین کار قرار ديا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب کئی ناقدین اور تجزیہ کاروں نے اسے کار صنعت میں ایک ناکام اختراع اور پیشکش بھی قرار دیا ہے۔

Advertisements
merkit.pk

ٹاٹا صنعتی گروپ چائے کی پیکنگ سے لے کر فولاد سازی تک بيشتر کاروباروں ميں سرگرم ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply