• صفحہ اول
  • /
  • گوشہ ہند
  • /
  • یہ راہل گاندھی کا ماسٹر اسٹروک تو ہر گز نہیں ہے ۔۔۔۔محمد غزالی خان

یہ راہل گاندھی کا ماسٹر اسٹروک تو ہر گز نہیں ہے ۔۔۔۔محمد غزالی خان

پرینکا گاندھی کے تجربے اور سیاست میں ان کی کار کردگی کو سامنے رکھتے ہوئے، کانگریس میں ان کی شمولیت اور اتر پردیش میں انہیں اہم رول دیا جانا راہل گاندھی کا ماسٹر اسٹروک تو بالکل بھی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ گاندھی ۔ نہرو خاندان کی چشم و چراغ ہونے اور امیٹی میں اپنے بھائی کی انتخابی مہم میں کام کرنے کے علاوہ ان کاکوئی ایسا سیاسی کارنامہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر ایسا لگے کہ ان کی وجہ سے ووٹر کانگریس کی جانب کھچے چلے آئیں گے۔

علاوہ اس کے کہ ہندوتوا کی ڈائن کی پھیلائی ہوئی فرقہ پرستی کا زہر اس حد تک زائل ہو چکا ہو کہ لوگ سب کچھ بھول کر ایک خوبصورت چہرے کو دیکھ کر کر جوق در جوق کھچے چلے آئیں اور ان کے کہنے پر کانگریس کے حق میں ووٹوں کے ڈھیر لگادیں ،پرینکا کی کانگریس میں شمولیت کو راہل گاندھی کا ماسٹر اسٹروک قرار دیا جانا قبل از وقت ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ عوام میں بی جے پی کے خلاف غصہ موجود ہے مگر اس غصے کی بہت سی وجوہات ہیں جن کا تعلق ذات پات کی سیاست سے لے کر وعدوں کا پورا نہ کئے جانے سمیت بہت سے مسائل سے ہے۔ پھر بھی یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ فرقہ وارانہ کینسر کے جو جراثیم ہندوتوائی غنڈوں نے ہندوستان میں پھیلا دئے ہیں ان میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ بی جے پی سے نا امید ہونے کے بعد نفرت کی یہ سوچ اب ذات پات کی سیاست کی جانب پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ مائل ہو چکی ہے۔ کم از کم یوپی کی حد تک تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ جن لوگوں کیلئے ہندوتوا کے نعروں میں کشش باقی نہیں رہ گئی ہے وہ اپنے ووٹ ذات پات کی بنیاد پر ڈالیں گے اور راجپوتوں کے علاوہ دیگر کے ووٹ اکھلیش یادو، اجیت سنگھ اور مایا وتی کو جائیں گے۔ واضح رہے کہ جن صوبوں میں کانگریس نے کچھ بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے وہاں یہ پارٹیاں موجود نہیں تھیں۔

پرینکا گاندھی کا سیاست میںآنا راہل گاندھی کے ماسٹر اسٹروک کے بجائے مستقبل میں کانگریس اور راہل دونوں کیلئے آزمائش بن سکتا ہے۔ سیاست ، شہرت اور اقتدار ایسا نشہ ہے جس میں رشتوں اور تعلقات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔2012 میں اکھلیش یادو نے اپنے والد ملائم سنگھ کو جس طرح باہر کا راستہ دکھایا اور خود پارٹی لیڈر بنے اور جس طرح چچا بھتیجے کے درمیان بھی تعلقات خراب ہوئے وہ زیادہ دنوں کی بات نہیں ہے۔

موروثی بادشاہت ہو یا موروثیت کی بنیاد پر ووٹ کے ذریعے ملا ہوا اقتدار، تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جب والدین، اولاد اور بہت بھائیوں کے درمیان اقتدار کے لالچ نے خون خرابہ کروایا ہے۔ جمہوریت میں ایک ہی خاندان کے افراد کے درمیان ایسی رسہ کشی کی مثال پڑوسی ملک پاکستان کی دی جا سکتی ہے جہاں بے نظیر اور ان کی والدہ نصرت بھٹو کے تعلقات کشیدہ ہوئے تھے ، بے نظیر اور بھائیوں کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے تھے اور یہاں تک ہوا کہ بے نظیر کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کا قتل تک ہوا جس کا الزام آصف زرداری کو دیا جاتا ہے۔

ایسی ہی ایک مثال برطانیہ میں 2010 میں سامنے آئی تھی جب لیبر پارٹی کے سربراہ ایڈ ورڈ ملی بینڈ کو سیاسی چال بازیوں سے راستے سے ہٹا کر ان کے بھائی ایڈ ورملی بینڈ اپنے آپ کو پارٹی سربراہ منتخب کروانے میں کامیاب ہوئے تھے اور اس وقت کی اخباری اطلاعات کے مطابق خاندان کا ماحول اس بات کو لے کر کافی دنوں تک کشیدہ رہا تھا۔

پرینکا گاندھی کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان میں اپنی دادی سے بہت زیادہ مشابہت ہے۔ ایک مرتبہ انھوں نے بڑا زور دے کر کہا تھا کہ وہ پرینکا گاندھی نہیں پرینکا وڈورا ہیں۔ سیاست کے میدان میں وہ دوبارہ پرینکا گاندھی بن کا سامنے آئی ہیں۔دادی سے مشابہت سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے بجا طور پر کہا ہے کہ ان کی رگوں میں ان کی دادی مسز اندرا گاندھی کا خون دوڑ رہا ہے۔ اس حقیقت سے بھلاکس کو انکار ہو سکتا ہے۔ یقیناًان میں دادی کی بہت سی صفات بھی موجود ہوں گی جن میں سے ایک بے رحمی کے ساتھ اپنے سینئرز کو ایک طرف کر کے اپنا راستہ صاف کرنا اور آگے بڑھنا ہے۔

یہاں پر ایک اور واقعہ بھی یاد آرہا ہے جو کلدیپ نیرصاحب نے اپنی کسی کتاب میں تحریر کیا ہے (کتاب کا نام یاد نہیں آرہا ہے)۔ نیر صاحب کے مطابق جن دنوں نہرو جی کی جانشینی کے بارے میں باتیں ہو رہی تھیں یہ سوچ کر کہ لال بہادر شاستری جی سیدھے سادے اور ایثار والے شخص ہیں کلدیپ نیر صاحب نے ان سے کہا کہ آپ تو شاید اندرا جی کیلئے راستہ صاف چھوڑیں گے۔ اس پر شاستری جی نے جواب دیا تھا کہ کلدیپ نیر صاحب کے خیال کے برعکس وہ کوئی مہاتما نہیں تھے۔ ظاہر ہے سیاست سیاست ہی ہوتی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *