ایچ ٹو او۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/پہلی قسط

وہ بطور اس کہانی کے مصنف کے خوداس تذبذب میں مبتلاہے کہ مسز حسنہ حسین باٹلی والا نے اس سے خود پر یہ کہانی لکھنے کی فرمائش تیسری ملاقات میں کی یا چوتھی میں۔
ان دنوں حسنہ حسین بھائی باٹلی والا اسکینڈے نیویا کے کسی ملک میں اعلی تعلیم کے شوق میں ایک ایرانی فٹ بالر کے جسم و جاں کے عذاب دھوتی ہے اور اپنی رہائش اور کھانے پینے کیاخراجات محفوظ کرکے ان کا حساب کتاب یورو میں اپنے میاں کو سمجھاتی ہے جس کا اصرار ہے کہ وہ اس مہنگے شوق سے باز آجاتی تو اچھا تھا۔وہ تنہا کب تک جیئے گا اور اب دونوں بیٹے بھی بڑے ہورہے ہیں۔

حسنہ کا نام اس کے نانا ہارون کوریا (( کوریا کے پرانے ساز و سامان کا کباڑی ہونے کی وجہ سے ملک کا نام ان کی شناخت کا حصہ بن گیا تھا)۔ نے اس زمانے کی ایک بے حد دل فریب اداکارہ حسنہ ( اصلی نام ثریا) کے نام پر رکھا۔ وہ ہر اس فلم میں سرمایہ لگاتے تھے جس میں ان کی کوئی نہ کوئی پسندیدہ اداکارہ اپنے فن کے جوہر دکھا رہی ہوتی۔وہ ممبئی سے 1952 میں کراچی آئے تھے قیام پاکستان کے ابتدائی زمانے میں ہی انہیں کاروبار کا سرا مل گیا۔وہ کوریا کی جنگ کا کباڑ امپورٹ کرکے بیچتے تھے۔بہت مال کماتے تھے۔دولت کے ریل پیل کے باوجو پاجامہ اور کالر والی قمیص پہنتے تھے۔ سائیکل رکشہ میں گھومتے تھے۔بندو خان کے کباب بھی بہت شوق سے کھاتے تھے ہفتے عشرے میں مہنگی شراب Vat 69 بھی پورٹ سے سستی خرید کرپیتے تھے۔ کراچی ان دنوں فلم سازی کا مرکز تھا ۔لاہور نے ابھی مسابقت کا آغاز نہیں کیا تھا ۔۔ دار الحکومت بھی کراچی تھا۔ جرنیلوں کو نیا شہر اسلام آباد تعمیر کرکے مال بنانے کی نہیں سوجھی تھی۔ ہر نئی اداکارہ   کے جوہر حسن و کمال ۔بند دروازے کے پیچھے پہلے خود پرکھتے پھر یہ حشر سامانیاں سلور اسکرین کے ذریعے شائقین و ناظرین کے دیدہ و دل کی رونق بنتی تھیں ممبئی میں ایسے ہی کام کے شوقین ایک پارسی سیٹھ کی دوستی میں وہ  بہ سلیقہ و مہارت ان کے چلتر اور چمتکار سے نبھانا سیکھ گئے تھے ۔ہندوستان میں تھیٹر اور فلم کی دنیا جسے ممبئی منتقل ہونے کے بعد بالی وڈ کا نام دیا گیا وہاں پارسی چھائے ہوئے تھے ان کے سرخیل جناح صاحب کی صاحبزادی دینا کے سسرال والےJamshed Boman Homi Wadia تھے جنہوں نے اس وقت کی مشہور فلم ہنٹر والی بنائی تھی جس کے باکس آفس پر ہٹ ہونے کی وجہ سے سنیما سے رقم منتقل کرنے کے لیے پولیس والے بیل گاڑی کے ساتھ سائیکل پر سوار ہوکر چلاکرتے تھے۔ اس وقت ان کا حفاظتی ہتھیار ایک ڈنڈا ہوتا نہ کوئی موبائیل نہ بلٹ ہروف جیکٹ نہ ہی ممبئی میں ذیشان جیسا کوئی دہشت گرد تھا کہ وہ یہ رقؔم لوٹ کر ساہیوال پر بچوں کو ہیومن شیلڈ بنا کر بھاگنے کی جرات کرے۔رقم منتقل کرنے کا یہی لگا بندھا روز انہ کا یہی طریقہ تھا

حسنہ
کورین وار
سائیکل رکشہ
بندو خان کی پہلی دکان
بندو خان کی پہلی دکان
ویٹ69
sohrab modi parsi
ہنٹر والی

یہ نئی پرانی سبھی طرح کی اداکارائیں بھی جانتی تھیں کہ وہ گھر سے عمرے کی نیت سے نہیں نکلیں تھیں۔ وہ انہیں جب یہ سمجھاتے کہ ’ دیکھ دکھے گی تو بکے گی ‘ تو وہ اشارہ سمجھ جاتیں اور شبستان کا رخ یہ جان کر کرتیں کہ یہ سلیز پروموشن اور باکس آفس پر ہٹ ہونے کی پہلی پائیدان ہے۔اس پر قدم رکھ کر ہی وہ شہرت کے ستارے توڑ کر لائیں گی۔
یہ کام وہ ہندوستان میں بھی کرتے تھے مگر وہاں ان کی حیثیت تھرڈ سلپ کے فیلڈر کی تھی۔ یہاں آئے تو فلموں میں سرمایہ لگانے کی سوچی۔اس میں فلم سے پیسہ کمانے سے زیادہ دنیائے گلیمر سے قربت کی ٹھرک تھی۔ دوستوں کی محفل میں انہیں اب کی مشہور اداکاراؤں کے راز دروں  بتانے میں بہت مزہ آتا تھا۔ان کے کاروباری دوست اس سے بہت متاثر ہوتے اور انہی  کی پیش کردہ شراب اور کباب گھٹکا کر اکثر فرمائش کرتے کہ یہ جلوئے انہیں بھی برتنے کا موقع ملے تو کیا ہی اچھا ہو ۔سخی کے دسترخوان پر کبھی دنیائے فلم کی یہ مرغابیاں ،یہ تیتر ،وہ ہرن کا گوشت بھی مل جائے تو   گریب دوستار بھی انجواۓ کرلیں گے اٹھلا اٹھلا کر کہتے ۔ ہارون بھائی اپن کو بھی ٹیس ( Taste)جس پر ہارون کوریا اگر محفل مختصر ہوتی اور ایک دو نو گرفتاران شہرت کی طلب گار بھی وہاں موجود ہوتیں تو وہ انہیں سمجھاتے کہ فلم میں آدھی موڑی( سرمایہ) یہ اپنے جاوید بھاشانی ( بنگلہ دیش کے مشہور کمیونسٹ لیڈر) اور احمد کوئین(مشہور اداکار انتھونی کوئین کا مداح ہونے کے ناطے اس کا نام بھی کوئین رکھ دیا گیا تھا) کا لگے لا(لگا ہوا ہے)۔تن کی سیوا ٹھیک سے ہوگی تو من کی مراد ملے گی۔سیکس اور پھیم(فیم) کا گھاس اور پانی کا ساتھ ہے۔پانی نہیں ملے گا تو گھاس سوکھ جائے گی۔جب فیمس ہوجا تو بھلے فجل (فضل) محمود کے ساتھ شادی کرلینا ۔ فی الحال ھاجر (حاضر) کو ہجور (حضور) سمجھ۔اچھے زمانے تھے۔ اداکارائیں بات مان لیتی تھی۔
ایسے تھے ہماری مسز حسنہ حسین باٹلی والا کے نانا ہارون کوریا۔

تھرڈ سلپ
عبدالحمید خان بھاشانی
اینتھونی کوئین
فضل

ہماری کہانی کی ہیروئین کو آپ دیکھتے تو لگتا کہ وہ ایسی دلفریب، سروقد اور دیدہ زیب تو نہیں جیسی وہ سن پچاس ساٹھ کی دہائی والی اداکارہ حسنہ ہواکرتی تھی مگر اس کے باوجود بقول ابن انشا کہ

ع کچھ راز تھے اس کی چتون(ہندی: نگاہ) میں ،

کچھ بھید تھے اس کی  باتوں میں،

وہی بھید کے جوت جگاتے ہیں ،

کسی چاہنے والے کے من میں۔

اس لحاظ سے نام کے حوالے سے نانا کا انتخاب تیس سے اڑتیس فی صد تک درست مانا جاسکتا تھا۔
اس یونی ورسٹی میں جہاں وہ پڑھاتی تھی وہاں اس کی تیس برس کی کھولتی ، دھیمی دھیمی سیٹیاں بجاتی سیکس اپیل اور تیرِ حسن سے گھائل شاگردوں کے ایک گروپ نے رات ہاسٹل میں ایک خصوصی میٹنگ کی ۔ اس خفیہ اجلاس میں شعبہء ابلاغ عامہ (ماس کمیونی کیشن ، ) پولیٹکل سائنس اور اسٹیٹسکس کے وہ تمام طالب علم شریک ہوئے جن کی سیاسی وابستگیاں دیگر مسائل کے معاملے میں ویسے تو ایک دوسرے سے ناقابل مفاہمت تھیں مگر یہاں ع تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے ،والا معاملہ تھا ۔جن کے ذہن میں اس کے ان کے عشق سے ریپ کے تمام تر منصوبے اپنی اپنی استطاعت ، طاقت اور شہوت کے حساب سے ہر وقت نالی کے کیڑوں کی طرح کلبلا رہے ہوتے تھے۔
ایسے کسی منصوبے پر آپس میں گفتگو ہوتی تو کوئی شرارت کے طور پر احساس دلاتا کہ خیال کرو وہ ہماری استانی ہے، ہماری پروفیسر ، ہماری بہن اور خالہ جیسی ۔ یہ سن کر کوئی لچا طالب علم وہاں گرہ لگاتا کہ ماں  بہن ہم گھر پر ،خالہ ، خالو کے  پاس خالی کرنے چھوڑ کرکے آتے ہیں۔بڈھے پروفیسر جب سالے اسٹوڈنٹس کو Well Done Steak with Tartar Sauceسمجھتے ہیں تو ہم کیا مرد نہیں۔
ہاسٹل میں ہونے والی اس میٹنگ کا اہم ایجنڈا استانی جی مسز حسنہ حسین بھائی باٹلی والا کو ایک جچتا ہوا نام دینے کا تھا۔
اس سلسلے میں منعقدہ اجلاس میں کل دو نام فائنل میں پہنچے ، پہلا نام تو کراچی کے مشہور شورش زدہ علاقے قصبہ کالونی کے رہنے والے شاعر نما طالب علم ایاز رومانی نے جسے بلوچ طالب علم تنظیم سے تعلق رکھنے والا واجہ عبدالکریم مینگل ہمیشہ بیاض رومالی (رومالی بمعنی شلوار کے نیچے کا وہ حصہ جہاں پائنچے جوڑے جاتے ہیں،لڑکیوں کا چھوٹا دوپٹہ)کے تحقیر آمیز نام سے پکارتا تھا کی جانب سے تجویز کیا گیا ۔ وہ نام تھا “نیوٹاؤن کی پرانی لڑکی” اس پرپنجابی اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے عبد الودود بُٹر نے اسے یہ کہہ کر رد کردیا کہ ” ابے کٹی پہاڑی کے ثابت شاعر” کوئی چھوٹا نام بتا۔ اس کے بعد دوسرا نام ملا گوگل نے (H2O) تجویز کیا۔اس نام کو سب نے بے حد پسند کیا سب نے اتفاق رائے سے اپنی نو وارد اُستانی حسنہ حسین بھائی باٹلی والا کا نام ایچ ۔ٹو۔ او (H2O)رکھ دیا۔

قصبہ کالونی
قصبہ کالونی

ویسے تو یہ پانی کا کیمیائی فارمولا ہے مگر اس کی تجویز شعبے کے ایک ایسے Nerd ( وہ نوجوان جو سماجی طور پر پسماندہ مگر ذہنی طور پر بہت بلند ہوں اور اپنی دنیائے تخیل میں رہتے ہوں) طالب علم نے دی ۔جس کے چہرے پر ڈاڑھی تھی، سرمہ لدی آنکھوں پر وہ پرانے طرز کا چشمہ ، جینز پہنتا تھا مگر وہ بھی ہر وقت ٹخنوں سے اوپر رکھنے کے لیے پائینچے شرارتی لڑکیوں کے انداز میں موڑ لیتا، نماز کی پابندی کا قائل تھا ۔عقائد بڑی حد تک درست تھے ، ہمہ وقت اپنے لیپ ٹاپ پر کچھ نہ کچھ کرتا رہتا۔ اسی وجہ سے اس کا نام ملا گوگل پڑگیا تھا۔ یہ لیپ ٹاپ اس کے بڑے بھائی نے اسے بحرین سے لا کردیا تھا۔وہ کمپنی جہاں بھائی ملازم تھا ،ا س بار بار خراب ہوکر تنگ کرنے والے لیپ ٹاپ کو پھینکنا چاہتی تھی۔بھائی نے اس آزارِ جاں کو تحریری طور پر لکھ کر مانگ لیا تو انہوں نے خس کم جہاں پاک کی پالیسی کے تحت اسے عطا کردیا۔یوں یہ کمپیوٹر مُلا گوگل تک پہنچا ۔اس نے جیسے تیسے اسے ٹھیک کرکے چلا لیا۔

ملا گوگل نے جب حسنہ کا نام ایچ ۔ٹو۔ او (H2O) تجویز کیا تو اس نے بطور ایک ذہین اور جواز پسند مرد کے یہ بھی وضاحت کی کہ اس پیاری سی استانی جی کا اپنا نام تو حسنہ حسین بھائی باٹلی والا ہے مگر ہم محض حسنہ حسین پر رک جاتے ہیں کیوں کہ وہ جو ہر بات پر شکیرہ کی طرح گلے میں لفظ Oh کو اس طرح گھماکر بولتی ہیں کہ اس کا ایچ انگریزی الفاظ Hour, Herb or Honor کی طرح ابتدا کی بجائے آخرمیں داغِ مفارقت دے جاتا ہے۔ اس لیے ایچ ۔ٹو کے بعد او”O” یہاں سے لے لیتے ہیں ۔باٹلی والا کے بارے میں انہیں پتہ نہ تھا کی یہ انگریزی کے لفظ باٹل کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔
یوں بھی اس اجلاس میں جو سندھ ، پنجاب اور خیبر پختون خوا ، بلوچستان اور صومالیہ کے لڑکے شریک ہوئے تھے، ان کی وجہ سے آخری نام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو نامناسب سمجھا گیا۔ جس میں استانی جی کا اسم قومیت یعنی باٹلی والا آتا تھا۔ اس نام کو نظر انداز کردیا گیا ۔اس بات کو لے کر مذاق بنانے پر پہلے بھی کئی دفعہ جھگڑے ہوچکے تھے۔ نائیجیریا کی ایک لڑکی حلیمہ بابا ڈنگا جسے کسی لڑکی نے اپنی جہالت کی بنیاد پر ایک دفعہ سب کے سامنے حلیمہ تخ ملنگا کہہ دیا تھا ( تخ ملنگا شربت میں ٹھنڈک کے لیے ڈالے جانے والے نیاز بو کے بیج ہوتے ہیں مگر یہ لفظ نائجیریا کی اس لڑکی کو ایک گالی لگا ) اس نام کو لے کر لڑکیوں میں ہاتھا پائی کی نوبت آگئی۔ معاملہ اس حد تک آگے بڑھ گیا کہ وزارتِ خارجہ کو مداخلت کرنا پڑی۔ تب کہیں جاکر معاملہ رفع دفع ہوا۔
سندھ کے بالائی علاقے گھوٹکی کے دو تین لڑکے ایسے تھے جن کا آخری نام لینے سے پروفیسر صاحبان اور طالب علم سبھی اسی طرح احتراز کرتے تھے جس طرح ایک زمانے میں امریکی نائب صدر اور بعد میں بل کلنٹن کے صدارتی انتخاب میں حریف، باب ڈول کا نام اپنے اخبار میں درج کرنے سے ایرانی اخبار اجتناب کرتے تھے۔ ڈول فارسی زبان میں ایک ایسے مردانہ عضو کا نام ہے جس پر
اخبارات کا مردانہ عملہ فخر تو بہت کرتا تھا مگر اخبار میں اس لفظ کا استعمال فحاشی اور بد گوئی کے زمرے میں آتا تھا۔مشرقی زبانیں اعضا کے قابل ذکر نام لینے کے معاملے میں بہت پیچھے رہ گئیں۔
حسنہ حسین بھائی باٹلی والا کو پانی جیسا یہ حیات بخش نام دینے کے بعد اس منڈلی میں ڈرٹی جوکس   سنانے کا ایک سلسلہ چل پڑا ۔اس میں جس طرح قانون کے امتحان میں درست حوالے کے لیے قانون کی کتابوں کی مدد لینے پر پابندی نہیں ہوتی اسی طرح سیل فون پر موصول ہوئے ایس ایم ایس کی صورت میں موصول شدہ ان فحش لطائف کو پڑھ کر سنانے پر پابندی نہ تھی۔
فحش لطائف کے اس سلسلے کے شروع ہوتے ہی جب ایک مذہبی جماعت کی بغل بچہ طلباء تنظیم کے ارکان اٹھ کر جانے لگے تو ملا گوگل نے انہیں روکنے کے لیے پوچھا کہ ” وہ کیوں محفل کو چھوڑ کر جارہے ہیں؟” تو ہاسٹل کے یونٹ کے نگران نے کہا کہ ” ان کی جماعت فواحئش اور اس طرح کی حرکات قبیحہ کی نظریاتی مخالف ہے” ۔جس پر وہ کہنے لگا کہ ” ہنسی مذاق کے ان مختصر تذکروں میں محض نامحرموں کے کچھ انسانی اعضاء کا حوالہ اجمالاً ” In Details” زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں اس کے علاوہ اور کیا برائی ہے ” توجمیعت کے یونٹ انچارج نے اسے کھاجانے والی نگاہ سے دیکھا جس پر وہ خاموشی سے اپنے لیپ ٹاپ پر اس طرح کے جوکس ، گوگل کرنے لگ گیا۔

اس دوران جیسے ہی پنجابی اسٹودنٹس فیڈریشن کے عبد الودود بُٹر مادہ ژرافہ اور بندر کی ڈیٹ اور جنسی بے تکلفی کے حوالے سے ایک جوک سنانا شروع کیا۔جس میں اس نے کہا کہ بندر سرگودھے کا تھا اور مادہ ژرافہ لانڈھی کراچی کی تھی ۔ اس بلاوجہ جی پی ایس پوزیشن اور جیو فینسنگ کی وجہ سے تیزی سے یونی ورسٹی کی کائنات پر حاوی ہوتی ہوئی ایک تنظیم کے ارکان یہ کہہ کر کھڑے ہوگئے کہ  “گو ابھی تک انہیں اپنے قائدین سے اس بارے میں کوئی واضح ہدایات موصول نہیں ہوئیں لیکن اگر ان کے مرکزی قائدین اور ان کی تحریکی ذمہ داریوں   کو ہدف تضحیک نہ بنایا جائے تو ان کا جو ساتھی اپنی رضا و رغبت سے شریک ہونا چاہے تحریک کو اس پر اصولاً کوئی اعتراض نہ ہوگا۔
اس پالیسی اسٹیٹمنٹ اور جوک میں خلل واقع ہونے کی وجہ سے  واجہ عبدالکریم مینگل نے جو سوتے وقت بھی  نائن ایم کا بھرا ہوا پستول  اپنے سرہانے رکھتا تھا اور گمان غالب تھا کہ اس وقت بھی یہ سامان اس کے پاس موجود تھا وہ کہنے لگا ” اڑے یہ بھاشن بند کرو اچھا خاصا جوک ڈی لٹ (Delete) ہوگیا۔” اس پر جمال کھچی کہنے لگا “اڑے واجہ ڈی لٹ نہیں مس ہوگیا بولو۔ تمہاری انگلش اگر اوباما سن لے تو وہ خود ہی افغانستان سے امریکی فوج واپس بلالے گا۔واجہ یہ سن کر کہنے لگا ” اڑے تمہارے مائی باپ اوباما میں ایسا کون سا سرکھاب (سرخاب) کا پر لگا ہے ان لوگ کا بڑا وہ بھی ہماری لیاری سے ادھر امریکہ گیا ہے تو انگلش اچھی بولتا ہے اب یہ اپن کا یار ملا گوگل بامبے (ممبئی) میں رہے تو یہ ایشوریا سے اچھا ہندی بھی بولے گا اور کھٹک(کھتک) بھی ناچے گا۔”
اس اجلاس میں اپنے نئے نام کی منظوری کے بعد اگلے دن سے ہی وہ پیاری سی استانی جی آہستہ آہستہ ایچ۔ ٹو ۔او کے نام سے مشہور ہونا شروع ہوگئی۔
حسنہ حسین بھائی باٹلی والا کو یہ سارا قصہ کسی طالب علم لڑکی نے اسی ملا گوگل کے پیار کے سائیڈ ایفیکٹ کے طور پر سنایا۔ وہ اپنے اسائنمینٹ اسی ملا گوگل سے لکھواتی تھی۔ حجاب و عبایا کی بہت بڑی حامی اس لیے بھی تھی ۔اس عبایا برگیڈ کی اکثریت اسے پردے سے زیادہ لباس اور بالوں کی تراش خراش کے اوپر آنے والے اخراجات سے بچت کا ذریعہ سمجھتی تھی۔ سب لڑکیاں اس تلخ حقیقت سے بخوبی واقف تھیں کہ آج کل لان کا ایک معمولی سا جوڑا بھی دو ہزار روپے سے کم کا نہ ملتا تھا۔یوں بھی اچھے فگرز سے محروم کوتاہ قد یہ لڑکیاں تھائی لینڈ کی آگ لگادینے والی لال مرچی جیسی طبیعت کی مالک ، ماسیوں کا وہ سستا اسمارٹ فون لگتی تھیں جسے سیاہ عبائے جیسے کور میں چھپایا گیا ہو۔

تھائی لینڈ کی سرخ مرچ

اپنے تحکمانہ رویے اور ہر بات میں خود کو درست سمجھ کر دوسروں پر چھاجانے کی کوشش والے رویے کی وجہ سے بھی اس کانام لڑکے لڑکیوں نے باجی عبایا رکھ چھوڑا تھا ۔خود اسے اپنے اس تضحیک آمیز لقب پر ان سب سے شدید پرخاش تھی ۔استانی جی سے مزید قریب ہونے کے لیے اس نے اس حرکت کو ایک عمدہ وجہ مانا ۔ ایچ ٹو او نے اس واردات کی پوری روداد ایک مسکان بھرے سکون اور کسی رد عمل کے اظہار کے بغیر سنی اور دل ہی دل میں اس بات پر مسرت کا بھی اظہار کیا کہ سات سال اور چار سال کے دو بیٹوں کی ماں ہونے کے باوجود وہ اب بھی کئی جواں دلوں کی دھڑکن ہے ۔اس دن سے جب باجی عبایا نے اُسے رات کو ہاسٹل میں منعقدہ اجلاس اور اس میں منظور شدہ قرار داد کے بارے میں سب کچھ بتایا تو حسنہ نے بھی کلاس میں’ اوہو’ (oh) کی بجائے انگریزی کے لفظ یاہ (yeah )کو اپنالیا ۔جسے کچھ لڑکوں نے قدرے تردد سے نوٹ بھی کیا مگر اس تبدیلی پر غور کا معاملہ اگلے کسی اجلاس تک ملتوی کردیا۔
ایچ ۔ٹو ۔ اور کے ذہن و دل پر اس بات کا اور نبیل آغا سے پہلی ملاقات کا عجب اثر ہوا ۔
یونی ورسٹی سے واپس لوٹتے ہوئے اس نے شہر کی جانب بس پکڑنے کے لیے گیٹ کی جانب رواں دواں باجی عبایا کو اپنی چھوٹی سی  کار میں بٹھالیا۔ سارے راستے وہ جگجیت کی گائی ہوئی   غزل۔۔ “تم نہیں ،غم نہیں، شراب نہیں، ایسی تنہائی کا جواب نہیں “،اپنے کار کے ایم پی تھری پلئیر پر سنتی رہی۔جس پر باجی عبایا کو لگا کہ شاید اس غزل کا استانی جی کے ساتھ کوئی خاص بھید بھاؤ ہے۔
اس نے آخر کار ہمت کرکے پوچھ ہی لیا کہ ” میڈم آپ شراب پیتی ہیں؟ “تو ایچ ٹو او نے عبایا برگیڈ کی اس سرغنہ کا رد عمل جاننے کے لیے جھوٹ بولا کہ ” ہاں اکثر “۔اس نے نوٹ کیا کہ باجی عبایا کی ہر وقت ٹیبل ٹینس کی بال کی مانند تھرکتی بڑی بڑی آنکھیں، چشمے سے تقریباً اچھل کر باہر آگئی ہیں ۔اس نے کچھ توقف اور تذبذب سے پوچھا “عورت کو شراب پینی چاہیے؟” تو ایچ۔ ٹو ۔او نے شرارتاً کہا ” کیا دو پیگ کی خاطر میں جینڈر (جنس) بدلوانے کا آپریشن کرالوں؟۔”
کسی طالبہ کے ساتھ اس طرح کی ظالمانہ حس مزاح کا اس نے یہ جواز   ڈھونڈا کہ ا ب اس طرح کی sacrifice -throws جنہیں جاپانی زبان اور جوڈو کی اصطلاح میں (sutemi-waza) کہا
جاتا ہے اور جن میں لڑنے والا جان بوجھ کر خود کو بظاہر غیر مدافعتی انداز میں زمین پر گرادیتا ہے ،تاکہ مد مقابل دھوکے میں آن کر اس پر ناگہانی جھپٹے اور وہ اپنا پسندیدہ داؤ مار سکے ۔غالب کا وہ شعر تو آپ کو یاد ہی ہوگا کہ

بدل کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ

تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں،

وہ یہ ہی سوتیمی وازا کا ایک شاعرانہ انداز ہے۔ اس نے سوچا اس رندوری ( جاپانی زبان میں جوڈو میں اپنے پارٹنر کے ساتھ فری مشق) کا فائدہ نبیل آغا کے ساتھ گپ شپ میں ہوگا ۔
اس دن بادل بھی جھکے جھکے تھے اور شہر کے کچھ علاقوں میں گڑ بڑ کی وجہ سے ٹریفک بھی سڑکوں پر کم کم تھا۔لہذا اس نے بھی اپنے موڈ میں اٹھتی ہوئی سوچ کی لہروں کے حساب سے اپنی چھوٹی سرخ کار کبھی تیز تو کبھی آہستہ چلائی۔
جب باجی عبایا جس کا اصل نام ماریہ تیموری تھا عالمگیر روڈ پر اتارنے کے لیے کار بہادر آباد کے چار مینار چوک پر پہنچی تو حسنہ نے اپنی اس رندوری کا ایک خفیہ، لذت بھرا ہرجانہ یہ سوچ کر ادا کیا کہ دونوں نے رک کر وہاں چاٹ اور آئس کریم بھی کھائی۔ جس کا معاوضہ بھی حسنہ نے ہی ادا کیا ۔گھر پہنچتے پہنچتے اس کے پیٹ میں تھوڑی سی گڑ بڑ تھی۔ گھر آن کر اس نے ٹھنڈے پانی سے شاور لیا اور دہی کھچڑی اور پودینے کی چٹنی کھاکر اپنی نیٹ سے کاپی کردہ وکٹوریہ سیکریٹ کے ڈیزائن کو سامنے رکھ کر اور چٹختے سرخ رنگ کی کاندھوں پر باندھے جانے والے تسموں والی ساٹن شفون کی نائٹی جسے اس نے طارق روڈ کے کمرشل ایریا کے درزی سے سلوایا تھا پہن کر جلد ہی سوگئی۔

چار مینار،بہادر آباد،کراچی
سرخ شفون ساٹین کی نائٹی

رات کے کسی پچھلے پہر جب حسین بھائی کسی دعوت میں اپنے کچن کا کھانا پہنچاکر لوٹے تو دن بھر کی تھکی ماندی مگر دھلی دھلائی حسنہ پر نیند کا غلبہ تھا، سوتے میں وہ بہت ترغیب آمیز لگا کرتی تھی۔سرداروں اور وڈیروں کی ایک ایسی دعوت کی مانند ،جس میں کھانا بے حد لذیذ اور فراوانی سے زیادہ  مگر   کسی تکلف اور اہتمام کے بغیر میزوں پر مہمانوں کی لذت کام و دہن کے لیے موجود ہو۔ اپنے لمبے چمکیلے رنگ دار لہر والے بال، وہ سوتے وقت کھول لیتی تھی جو کبھی بستر تو کبھی اس کے نیم عریاں بدن پر ادھر ادھر بکھر کر ایسے چاک و چوبند ،ہتھیار بند سنتری دکھائی دیتے جو کسی اہم فوجی تنصیب کے باہر ٹہل ٹہل کر پہرا دیتے ہیں۔

حسین بھائی کے گھر لوٹ کر آنے کا اس نے کبھی بھی انتظار نہیں کیا۔ اس رات بھی نہیں جس شام اسے یہ علم ہوا تھا کہ اس کا نیا نام کیا ہے ۔ اس رات بھی نہیں جب اس نے بڑی خاموشی سے نوٹ کیا تھا کہ یہ نیا ٹیچر نبیل آغا بہت دھیمے گدگداتے لہجے میں گفتگو کرتا ہے ۔سگریٹ بھی تین انگلیوں اور انگوٹھے کے چھلے میں اس طرح تھامتا ہے کہ چھوٹی انگلی ایک ہلکے سے زاویے سے یوں مڑی رہتی ہے گویا وہ سگریٹ نہ ہو بلکہ پنڈت ہری پرشاد چورسیا (بھارت کے مشہور بانسری نواز) نے کسی بڑے کانسرٹ میں بہت اہتمام سے بانسری تھام رکھی ہو۔ اس نے اس حوالے سے یہ بات بھی بہت کومل سی مسکراہٹ سے نوٹ کی کہ سگریٹ کا کش لے کر دھواں چھوڑتے وقت اس کے ہونٹ ایک ایسا دائرہ بناتے ہیں جو کسی خاتون سے بوسے کی یقین دہانی پاکر کسی مرد کے حریص ہونٹ بناتے ہیں۔ یہ سب باتیں اس نے وہاں سمینار میں تعارف کے وقت ویسے تو بہت برق رفتاری سے سوچیں مگر ان کا اعادہ اس نے اپنی سہولت سے اسی دن دو دفعہ کیا ۔ایک تو جب وہ سڑک پر گھر واپسی کے سمے دھیمے دھیمے کار چلاتے وقت اور دوسرے جب اسے شاور لیتے وقت پیٹ میں زور کی مروڑ اٹھی اور اس کے تھم جانے پر اس نے سوچا کہ اگر نبیل کے ہونٹوں کے وہی دائرے اس کے سینے سے پھسل کر ناف تک ویسے ہی بوسے لیتے لیتے آجاتے تو شاید یہ درد کبھی   بھی نہ اٹھتا۔اس طرح کی تمہیدوں اور جنسی الاپوں کا اسے فلموں، انٹرنیٹ اور رومانی انگلش ناولوں کی وجہ سے علم تو تھا مگر حسین بھائی بہت بنیادی اور ڈائریکٹ قسم کے آدمی تھے۔انہیں پیار کے یہ تعارفی ،لبھاؤنے دیباچے اپنی رفیق حیات ایچ ۔ٹو۔ او کے بدن کے اجلے اوراق پر لکھنا نہیں آتے تھے۔

سگریٹ

پنڈٹ ہری پرساد چورسیا

رات جب حسین بھائی باٹلی والا واپس لوٹے تو اس مہر معجل کے بل بوتے پر جو حیرت ناک حد تک کل بتیس روپئے پچاس پیسے تھا اور جس کی پابندی ان کی جماعت کی وجہ سے لازمی تھی  تاکہ بلاوجہ مقابلے اور غریب دولہا کا استحصال نہ ہو۔ انہوں نے بیگم سے بھی دست درازی کی بالکل ویسے ہی جیسے اس مہر کی طاقت سے ایچ ۔ٹو۔ او نے سہاگ رات ہی تیزی سے بدن کا ساتھ چھوڑتے ہوئے عروسی ملبوسات اور زیر جاموں کے جھاگ سے فرقت کی شرما شرمی میں ،حسین بھائی کی جانب سے بروقت ادائیگی کے  وقت چپکے سے سنگھار میز کی دراز میں ڈالدیا اور پلٹ کر دیکھا تک نہیں۔اسی مہر معجل کی روز افزوں طاقت کے بل بوتے پر حسین بھائی  آج کی رات بھی بغیر نہائے دھوئے کسی رومانچک (ہندی ۔ رومانٹک )تمہید کے ، حسنِ خوابیدہ حسنہ پر ، ایک بلائے ناگہانی کے طور پر مسلّط ہوئے۔ ان کی عجلت ، مصالحوں کے بھبکوں اور چبائے ہوئے پان کے ادھر ادھر چمٹتے ہوئے ذرات کی پچی کاری سے وہ اہتمام اور جذبات کی اس زبوں حالی پر ،بجلی کی  تیزی سے آتے جاتے کرنٹ کی وجہ سے خود بخود محتاط قیمتی ائیر کنڈیشنر کی مانند ٹرپ کرکے بند ہوگئی ۔اس کی بے اعتنائی کا اُس کے میاں حسین بھائی باٹلی والا نے اس پر گرتے پڑتے ، ہانپتے کانپتے ،رال ٹپکاتے ہوئے ،شکایت بھی کی کہ وہ کئی دنوں سے بستر استراحت میں مردہ مچھلی کی طرح پڑی رہتی ہے اور اس کی وحشتوں کی ساتھی نہیں رہی۔ انہوں نے تقریباً کوستے ہوئے ہلکے سے کہا “ایک تو سالا دھندے میں واندہ( میمنی،سندھی، ہندی اورگجراتی میں پریشانی کو کہتے ہیں) ،دوسرے بائی۔ ڑی ( میمنی میں بیوی )بھی خود کو مادھوری ڈکشٹ سمجھتی ہے۔ اللہ ایسی سیکس سے مرد کو موت دے دے تو اچھا ہے” .۔ حسنہ نے اس بات پر تاؤ کھانے کی بجائے دل ہی دل میں مسکراکر سوچا کہ یہ پچھلے چوبیس گھنٹے بھی عجب ہیں کہ اسے اپنے بارے میں نوجوان لڑکوں کی جانب سے یہ تمام تر توجہ اورپتی پرمیشور کے یہ تعریفی کلمات اس عمدہ مگر پس انداز (بچے ہوئے )کھانے کی طرح ملے ہیں جو فقیر کے کشکول میں کوئی بددلی سے الٹ دے۔

حسن خوابیدہ
حسن خوابیدہ

ناشتے پر البتہ اپنے میاں سے کسی سنجیدہ موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے جب حسنہ نے لفظ اوہ (Oh)کہا تو اسے خود ہی اپنے آپ پر ہنسی آگئی جس پر میاں نے اسے قدرے جھڑک کر میمنی زبان میں کہا کہ “اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟” ۔
وہ چاہتی تو اپنے میاں کو یہ سمجھا سکتی تھی کہ سماجی جانور ہونے کے ناطے انسان نہ صرف خود ہنستا ہے بلکہ ایسے حالات، مواقع اور فن پارے بھی تخلیق کرسکتا ہے جو دوسروں کوہنسنے کے بے تحاشا مواقع فراہم کرسکتے ہیں مگر وہ پچھلے بارہ سال سے جانتی تھی کہ مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر ہوگا کیوں کہ حسین بھائی باٹلی والا کی ٹوٹل دنیا ۔ او ۔ڈی، بینک ڈراٖفٹ،پرائز بانڈ کی پرچیاں، گرتے چڑھتے اسٹاک کے ریٹس تھے۔ پے در پے دو تین کاروبار میں نقصان نے انہیں بے ہنگم اور زود رنج بنادیا تھا۔ ایک سال سے کسی سے شراکت میں انہوں نے کچن کا کام شروع کیا تھا۔ یہاں بھاگ دوڑ اور بے وقتی زیادہ تھی ۔اسے یعنی حسنہ کو اس بات کا بھی بہت دکھ تھا کہ وہ اس کے بڑے بیٹے صفوان کو اس کی مخالفت کے باوجود کچن کے کام میں شامل کررہا تھا۔ صفوان کو ابھی سے مرغی، تیل، چینی اور گھی کے بھاؤ، کرکٹ کے اسکور ، فٹ بال کے ایونٹس اور کمپیوٹر گیمزکی نسبت زیادہ معلوم تھے۔
حسنہ کی ماں جب اسے ہندی کی یہ کہاوت سناتی کہ بارہ برس بعد تو گھورے( کچرہ کنڈی) کے بھاگ ( نصیب )بھی بدل جاتے ہیں تو حسنہ روہانسی ہوکر جتلاتی ” ماں مجھے لگتا ہے میں تو گھوڑے سے بھی گئی گزری ہوں۔”
نبیل آغا کی حسنہ حسین بھائی باٹلی والا سے پہلی ملاقات یونی ورسٹی کے شعبہء ابلاغ عامہ کی چھوٹی سی لائبریری میں ہوئی تھی۔ وہ ٹی وی کے ایک چینل میں ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز تھا۔انہی  دنوں وہاں ٹاک شوز کی انچارج کسی نئے چینل میں بہتر  معاوضے کے چکر میں نوکری چھوڑ گئی تھی۔ اس وجہ سے اسے چینل مالکان نے   ٹاک شوز کا انچارج بھی بنادیا تھا۔
شعبہء ابلاغ عامہ میں اس کے ایک دو پرانے ہم جماعت بھی استاد تھے مگر نبیل آغا کو بخوبی علم تھا کہ وہاں علمیت کا زور محض اُن کرم خوردہ ڈگریوں کے حصول پر تھا جن کی عمارت کٹ ۔کاپی۔ پیسٹ قسم مقالوں کی گارے مٹی سے چنی گئی تھی ۔ حقیقی دنیا ئے ابلاغ سے ان کا دور کا واسطہ بھی نہ تھا۔
یونیورسٹی نے جب شام کا ڈپلوما پروگرام ،اپنی آمدنی میں اضافے کی خاطر شروع کیا تو اسے بھی دعوت دی کہ وہ بطور وزیٹنگ فیکلٹی شامل ہوجائے۔صدرِ شعبہ کا خیال تھا کہ شام کی ان ڈپلوما کلاسوں جن کو بعد میں ڈگری کورس میں تبدیل کرنے کا خاص اہتمام رکھا گیا تھا۔میڈیا سے وابستہ وہ افراد کثرت سے آئیں گے۔ جن کو اس ڈپلوما اور ڈگری کی بنیاد پر ملازمت میں ترقی کرنے کے مواقع مل جائیں گے۔نبیل آغا نے اپنی پہلی ہی کلاس میں شعبے کے اہلیانِ اختیار کی اس خام خیالی کے پرخچے اڑا دیے۔جس کے بارے میں وہاں کے اساتذہ میں دبا دبا سا احتجاج بھی ہوا مگر اس کی بازگشت صرف اسٹاف روم اور چند شوریدہ سر طالب علموں تک ہی محدود رہی۔اختلاف رائے کو یونی ورسٹی کے علمی حلقوں میں شدید ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
نبیل کو نہ تو کوئی مالی پریشانی کہ وہ اس پروگرام میں بطور ویزیٹنگ فیکلٹی کے شمولیت حاصل کرکے خوش ہوتا ۔ یوں بھی وہاں سے ملنے والامعاوضہ بہت ہی ناکافی تھا۔ نہ ہی اس کے لیے وقت گزارنے کا کوئی مسئلہ تھا۔ اس کے باوجود اس نے اس پروگرام میں بطور استاد شریک ہونے میں یوں بہتری جانی کہ وہ ایک بحران ذات سے گزر رہا تھا جس کی وجہ سے اس کا خود پر اعتماد کچھ کچھ متزلزل ہوچلا تھا۔دوسرے اسے لگا کہ وہ چینل سے وابستہ ہوکر خود پڑھنے لکھنے اور نئی نسل میں پائے جانے والے رجحانات سے خاصا پرے ہوگیا ہے۔ان کے چینل کے ٹاک شوز ان اسٹوڈیو میں ریکارڈ ہوتے تھے جو اس یونی ورسٹی کے عقب میں واقع ریل کی پٹریوں سے بہت دور ایک پرسکون علاقے میں قطار در قطار چار بنگلوز میں بنائے گئے تھے۔
سیمینار میں جب نبیل آغا داخل ہوا تو حسنہ لیپ ٹاپ پر بڑے انہماک سے اپنے لیکچر کو آخری شکل دینے میں مصروف تھی۔ کھڑکی کے ادھ کھلے بلائنڈز سے دامن بچا کر اندر آتی ہوئی سردیوں کی خوش گوار دھوپ اس کے چہرے کو اجلا اور بالوں کی اسٹریکوں کو رنگ دار بنارہی تھی۔ اس کی نشست کا انداز کچھ ایسا تھا کہ سینے کے بحر الکاہل سے دو شریر ڈولفن سطح آب سے اچھل اچھل کر   سورج کی روشنی کا براہ راست مزہ لے رہی تھیں

دھوپ چھاؤں کا منظر

ایک نسوانی ادارک کے تحت اسے یہ احساس تو ضرور ہوا کہ سیمینار کے کمرے میں کوئی داخل ہوا ہے۔ کمرے میں آنے والا یہ مرد اور اپنی خوشبو اور ماحول میں پھیلے ہوئے ارتعاش کی وجہ سے شعبے کے دیگر مردوں سے جن میں وہاں موجود جمعدار سے لے کر نامی گرامی استاد سبھی شامل تھے، قدرے مختلف اور جداگانہ شخصیت کا حامل تھا۔اس کے باوجود اس کی اپنے لیکچر کی تیاری میں دل چسپی اور ایک سوچی سمجھی بے نیازی نے   یکدم اسے دیکھنے پر نہ اکسایا۔
وہاں کمرے میں اس کے علاوہ تین اور بھی افراد تھے۔ ایک طالب علم جوڑا جس میں لڑکی نے دستانے بھی پہنے تھے اور آنکھوں سے نیچے تک چہرہ بھی اپنا حجاب گھسیٹ کر چھپایا ہوا تھا۔ ایچ ۔ٹو ۔او نے انہیں سرگوشیوں میں گفتگو کرتے دیکھ کر سوچا کہ یہ لڑکا ،اس قدر چھپی چھپائی لڑکی کو اتنی بے شمار لڑکیوں میں کیوں کر ڈھونڈلیتا ہوگا۔ تب اسے اپنے میاں حسین بھائی کا ایک سوال یاد آگیا کہ یہ چینے جاپانی اور کورین ایک دوسرے کو کیسے پہنچاتے ہوں گے۔ اس رات وہ جسمانی طلب کی عدم سیرابی پر حسین بھائی سے ناراض تھی اور چڑ کر کہنے لگی “ہمارے  سیکس کے حساب سے تو میرا حق بنتا ہے کہ آپ  کو میں بھی اب بھائی بولنا شروع کردوں ” حسین بھائی اس کی اس بے ربط اور اچانک تضحیک سے ہراساں ہوکر کہنے لگا “میرے سے کوئی اچھا ملتا ہے تو جاکر گھرگ (میمنی زبان میں شادی کرنا) جا۔” حسنہ کو اس جملے سے جس سے اس کا سابقہ اس تعلق میں کئی دفعہ پڑا تھا ، شدید نفرت تھی۔ اس کی نسوانی حمیت کو نہ صرف یہ اپنے دلفریب وجود اور گھر گرہستی پر ایک رکیک حملہ لگتا تھا بلکہ یہ ایک طرح کا ایسا خفیہ اعلامیہ ہے کہ جیسے وہ اس کی جسمانی بہتری ، برتری اور لطافت سے محروم ہونے پر پشیماں نہیں ہوگا۔ وہ دل میں کئی مرتبہ اسے سبق سکھانے کا ارادہ کرکے بیٹھی تھی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *