قبائلی روایات اور مظلوم نسوانیت۔۔۔۔سلمان اسلم

عرصہ دراز سے یہ مکالمہ بھانت بھانت کے ہر پلیٹ فارم پہ تقریباً  نہایت  فصیح و بلیغ انداز میں ہو چکا ہے اور آج بھی جاری و ساری ہے۔ بس فرق اتنا پڑا کہ کہنے والے کہتے کہتے تھک گئے اور چپ کی چادر  اوڑھ چکے جبکہ سننے والے سنی ان سنی کر کے آگے بڑھتے رہے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہماری  قبائلی روایات اپنی  ساخت کے اعتبار سے بہت سخت اور زیر عمل بھی ہیں۔ مگر کیوں ؟ یہ وہ سوال ہے جس پہ تعصبی نقادی کا نہیں بلکہ ابتسام خیز علمی ابلاغ کی ضرورت ہے۔ اک مشہور مقولہ کے طور پہ پشتو میں یہ فقرہ بولا جاتا ہے کہ ” پشتون پچھلے پانچ ہزار سال سے مسلمان چلے آرہے ہیں ۔” اسلاف اس کی دلیل یہ لاتے ہیں کہ پشتون اپنے اکثریتی قبائلی روایات کی وجہ سے اسلام کے فطرتی اصول سے کافی حد تک موافقت رکھتے ہیں۔ روئے زمین پہ سوائے دین محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاہ کوئی اور شے مکمل صورت نہیں رکھتی ۔ باقی ہر چیز فطری اصول کے مدنظر کمی کجی کی  متحمل لازماً رہتی  ہے ۔ اور یہی اصول پشتون قبائل پہ بھی صد فی صد درست صادر آتا ہے۔
ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم اپنی   کمی کجیوں کو ٹھیک کرنے اور دور کرنے کے لیے باہم مل بیٹھنے کی بجائے خود ہی ان پہ واویلا کرکے سارے جگ میں اپنی عزت کو پامال کرتے ہیں اور اغیار کو بھی راستہ دکھا دیتے ہیں ۔ جبکہ اغیار نسوانی مظلومیت کی  ڈھال لے کر اسی بہانے ہماری دہلیزیں تک پار کرلیتے ہیں اور ہم انکو اپنا حقیقی ہمدرد سمجھ کر تشکر بجا لاتے ہوئے ان کا ہاتھ خود پکڑ کر اپنے گھر کی چوکھٹ پار کرواتے ہیں۔ اور ہمارا یہی رویہ ہماری روایات اور عزت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو جاتے ہیں ۔۔ کسی شاعر کے بقول ۔۔
ہمیں اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا
میری کشتی وہاں  ڈوبی جہاں پانی کم تھا

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قبائلی روایات اتنی  سخت کیوں لگتی  ہیں کیا یہ واقعتا اتنی  سخت اور پر تشدد ہوتی  ہیں ؟ اور دیکھا جائے تو یہی رویہ اور مکالمہ ہم شرعی اصول کے نفاذ پہ بھی کرتے ہیں تو یہی سوال ادھر بھی سامنے آتا ہے کہ ” کیا اسلام اپنے بندوں پہ سختی /ظلم برتتا ہے یا غیر فطری اصول لاگو کرتا ہے ؟

میں ان سوالات کی طرف بعد میں آتا ہوں اس سے پہلے میں آپکو اک کہانی سناتا ہوں جو کہ اک حقیقی واقعہ رونما ہو چکا تھا۔

مئی 2012 میں کوہستان کے علاقے میں چار عورتوں کا قتل غیرت کے نام پہ ہوا اور وہ بھی بھیانک طریقے سے، اسکے پس پردہ وجہ یوٹیوب پہ اپ لوڈ ہونے والی ان خواتین کی بنائی ہوئی اک ویڈیو تھی۔ اس ویڈیو میں شادی کے موقع پہ اک کمرے میں چار خواتین کے تالیوں کی تھاپ پہ اک جوان لڑکا رقص کر رہا ہوتا ہے اور اسکا دوسرا بھائی ویڈیو بنا رہا ہوتا ہے۔ اس ویڈیو میں کسی عورت کا سر ننگا نہیں ہوتا اور نہ کوئی اور بے حیائی کا کام ہورہا ہے۔ ویڈیو کے لیک ہونے کے بعد خواتین کے گھر والوں نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس لڑکے کو بھی قتل کر دیا جو عورتوں کے عین بیچ رقص کر رہا تھا اور ان عورتوں کو بھی اک مہینہ کمرے میں قید رکھنے کے بعد ذبح کیااور پھر انکے اجسام کو جلا بھی دیا۔ ( اس بیان میں کتنی صداقت ہے اور کتنی نہیں یہ تو وہ ڈاکومنٹری چینل والے ہی بتا سکتے ہیں۔ ) لیکن بتائے ہوئے طریقہء سزا میں عوامی قبائل واقعتا ً ظلم کی انتہا کر چکے ہیں ۔

مجھے یہ ڈاکومنٹری یوٹیوب پہ “وائس Voice ” نامی چینل( The Honor Killing in Pakistan)پہ ملی جس میں اک سکیولر لڑکی جو خوبصورت مادری لہجے میں اردو بھی بولتی ہے اور انگلش کی بولی بھی مادری  لہجے سے سرشار  ہے۔ ڈاکومنٹری میں مقتول لڑکے کا بھائی وجہ بتاتا ہے  کہ اس ویڈیو کے لیک ہونے کے بعد مقامی جرگہ نے فیصلہ دیا کہ لڑکا بھی واجب القتل ہے اور لڑکیوں کو بھی ذبح کیا جائے اس تعزیز کی  بناء پہ کہ انہوں نے اک بے حیائی کا کام کیا ہے۔ اور اسلامی اصول کے ساتھ ساتھ پشتون روایات کو بھی توڑا ہے۔ جرگے کا سربراہ مقامی مولوی کہتا ہے کہ نامحرم لڑکا اور لڑکی کا اسلام میں باہم یوں ملنا قطعا ً ممنوع ہے اور ہماری  قبائلی روایات میں بھی یہ غیرت کی  حدود کو توڑ کر پھلانکنے کے مترادف ہے جو کہ ناقابل معافی جرم ہے۔ اور ایسے شخص کو جو نامحرم لڑکیوں کی صحبت اختیار کرتا ہے کوہستانی روایات میں “کنڈل چور” کے نام سے پکارتے ہیں ۔ “کنڈل” کے لغوی معنی چھلکا /آپ چمڑہ بھی کہہ سکتے ہیں ، ہے اور “چور” وہ جو بغیر اجازت کے مالک کی  عدم موجودگی میں اسکی ملکیت کو اٹھاتایا استعمال میں لے آتا ہے “چور” کہلاتا ہے ۔ یعنی “چمڑی چور” ، واللہ اعلم۔۔۔
جرگے کے سرپنچ مولوی کے کہنے کے مطابق “کنڈل چور” کی سزاء مجرم کو کسی بھی چیز سے ضرر پہنچا کر تھوڑا سا خون نکلوانا ہوتا ہے مگر ظالم سماج کے ان پڑھ جلادوں نے انکا بھرکس ہی نکال دیا۔
اس خبر کے سنتے ہی عالمی ادارہ برائے انسانی حقوق تو تلملا اٹھا ہی ہوگا لیکن ساتھ میں حقوق نسواں کے صور پھونکنے والے اور مرا جسم مری مرضی کے راگ الاپنے والیاں /والے بھی چپ  نہیں بیٹھے   ہونگے ۔ ڈاکومنٹری کی میزبان خاتون کا بھی یہی حال رہا۔
پاکستان کے اک معروف ڈائجسٹ ” کامیابی ڈائجسٹ” کے مدیر سید عرفان احمد کے بقول “الفاظ جادو رکھتے ہیں، جس سےہم روازنہ دوسروں کو ہپناٹائز کرتے ہیں اور خود بھی ہوتےہیں۔” مغربی میڈیا کے بالخصوص اور ہمارا مشرقی میڈیا بھی اسی موٹو کو سامنے رکھ کر ہر چیز کو فلماتے ہیں۔ اس ویڈیو میں اینکر کہتی ہیں ” پاکستان دنیا کے ان ممالک میں آتا  ہے جہاں پہ عورت کے حقوق سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوتے ہیں اور ظلم کا شکار بنتی ہیں۔” اور یہی وہ فقرہ تھا جس نے مجھے اس تحریر کو لکھنے  کے لیے  متحرک  کیا۔

میں اک پشتون قبیلہ اور اک گاوں سے تعلق رکھنے والا عام آدمی ہوں ۔ مگر مجھے   نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آج مغربی میڈیا بشمول مرے ،اپنے مکین ہماری اُن روایات کو بھی بدنام کر رہے ہیں جو پرکھوں سے پشتون قبائل کی اقوام عالم میں اک منفرد پہچان رکھتی ہیں، چہ جائیکہ کچھ خراب روایات بھی ہیں مگر اک ساتھ سب فری میں بیچنا بھی منصفانہ رویہ نہیں۔ چند ایک نفر کے جاہلانہ حرکت کی  بناء  پر ساری قوم یا روایات پہ لعن طعن کرنا یا پرمتشدد کہنا ازخود اک جہل روی اور حماقت  کے سوا کچھ نہیں ۔ یہ بات مصدقہ طور پر درست ہے کہ ہماری  روایات سخت ضرور ہیں مگر متشدد نہیں مستثنیات کے وجود کے ساتھ۔ اور اس بات میں کوئی دو رائے نہیں اور پوری ذمہ داری سے کہہ رہاہوں کہ الحمد اللہ صد الحمد ہماری  عمومی روایات اکثریتی طور پر دین اسلام کی  شریعت کے موافق ہیں (دیکھیے مرا کالم پختون اور پختون ولی) ۔ لیکن سیکولر اور نام نہاد آزاد خیال لوگوں کے نزدیک یہ نسوانیت پہ ظلم کےمترادف ہیں کی پرچار بڑے زوو شور سے کر رہے ہیں صرف اس لیے کہ وہ ہمارے ہاں سے حیاء کا پیرہن چھین لینا چاہتے ہیں اور ہماری مشرقی روایات کو اپنے مغربی روایات کی طرح ننگا کرنا چاہتے ہیں جہاں نہ مادر کی پہچان اور پدر کی شناخت بلکہ بل ھم اضل ۔۔

اب آتا ہوں اپنے سوال کی طرف، کہ قبائلی روایات سخت اور پرتشدد کیوں ہوتی  ہیں ؟
جیسے میں پہلے بھی اس بات کی تصدیق کر چکا ہوں کہ قبائلی روایات سخت ضرور ہوتے ہیں مگر پر تشدد نہیں الا ماشاءاللہ۔ آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارا عصر میڈیا ، انٹرنیٹ کا عصر ہے جس سے اک ریموٹ کنٹرول پہ دنیا جہاں کی پہنچ ہمارے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ الفاظ کے جادو سے بننے اور فلمانے والے یہ اشتہارات ؛ ڈرامے اور فلمز ہی دراصل ہماری  اقدار کی  قاتل ہیں۔ بغیر کسی مبالغہ آرائی کے اگر دیکھا جائے تو ہمارے ہاں خاندانی زندگی (جوائینٹ فیملی  سسٹم ) پورے وطن عزیز میں اگر کہیں باقی ہے تو انہی قبائل میں ہے  ۔ اسی لیے اک دہائی سے ہمارے ہاں حیاء اور شرافت کے لبادے پہ ایسے کالک لگتی  جا رہی  ہے   کہ جس کا تصور بھی کراہت انگیز  لگتا ہے۔ ہم جنس پرستی کی وباء کہاں سے آئی ؟ دیور بھابھی کی لعنت کہاں سے آئی ؟ سکول ٹیچر اور طلبہء وطالبات کا قبیح مخلوط کلچر کہاں سے آیا ؟ شادی بیاہ پہ رچائے جانے والے ہندوانہ  رسومات کی ترویج  کیسے شروع ہوئی ؟ چپکے ہوئے لباس ، سروں سے حیاء کی  چادر کس آندھی کی  نذز ہوئی  ؟ انہی وجوہ کی  بناء پہ قبائل میں کچھ آزادخیال لوگ پیدا ہوچکے ہیں جو اپنے گھروں میں انہی ساری چیزوں کی اجازت دے رکھی  ہے جسکی وجہ سے قبائل کا روایتی کلچر بھی بہت متاثر ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ لڑکی اور لڑکے کی معشوقی اور فرار کے واقعات آہستہ آہستہ معمول کی طرف گامزن ہوتے جارہے ہیں ، جنسی اختلاط کا رجحان بھی شادی بیاہ کے موقعوں پہ یا برتھ ڈے پارٹیز ، سکول پارٹیز وغیرہ کا کلچر تو اسی میڈیا اور انٹرنیٹ کے مرہون منت ہی تو ہے۔ یہ سب کیا ہے ؟ یہی سب اسلام میں بھی حرام ہے اور پشتون قبائلی روایات میں بھی سخت ناپسندیدہ اور ناقابل معافی جرم ہے۔ اسی طرح  اپنے کزن تک سے پردے کی سختی اکثریتی قبائل میں عورتوں پہ نافذ کی جاتی ہے جو عین اسلامی اصول ہے۔ اسلام میں بھی پردہ نامحرم سے ہے ہر صورت میں ، جو پارہ 4 آخری رکوع میں قرآن نے محرمات کی مکمل تفصیل بیان کی ہوئی ہے۔
مخلوط کلچر چاہے کسی بھی پہلوہائے زندگی میں ہو (سکول ہو، آفس ہو یا کچھ بھی) کی اجازت اسلام میں نہیں اسی طرح پشتون اکثریتی قبائل میں بھی یہی اصول نافذ العمل پائے جاتے ہیں ۔
ان سب باتوں کے باوجود یہ بات اپنی جگہ پہ بجا طور پر موجود ہے کہ ہمارے قبائل میں بھی اب ایسے اصیل قبائل اور اسی  کے باسی اب تقریبا ً نایاب ہوتے جا رہے ہیں اور کچھ علمی اور معاملہ فہمی کی جہالت کے آزردہ کردار بھی موجود ہیں جسکی زد میں عورتیں  آجاتیں ہیں مگر وہ تعداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہوگی۔ یہ اصول بھی فطرت کا مسلمہ اصول ہے کہ جہاں اچھائی ہوتی ہے وہاں برائی کی  مکھیاں بھی بھنبھناتی ضرور ہیں لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ ساری اچھائی ہی ناپید ہو چکی ہے ۔

جس انداز سے مغربی سازندے ہمارا نقشہ کھینچتے ہیں ۔ وہ انتہائی قابل غور اور سنجیدہ فکر کا متقاضی ہے۔ ٹی وی چینلز اور مغربی دنیا کے چاپلوس سورماوں کے فحاش خیز نقاروں کی آوازیں ( بول کہ لب  آزاد  ہیں تیرے  ، مرا جسم مری مرضی ) ہماری عصر کے نسل کے کانوں تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ اور فطری اصول کے برعکس جانوروں کی مانند (لبرل) اور ہر قسم کے اختلاط عام سے زندگی گزارنے کو ہم آزادی کہتے پھر رہے ہیں۔ اسی لیے اسلامی اور قبائلی روایتی اصولوں کی پاسداری ہمارے لیے قید ، جبر اور تشدد لگتے ہیں  جبکہ ہم قبائلین میں سے ہر کوئی اپنی والدہ یا والد کے عہد کی طرف اگر جھانک کر دیکھیں تو انکے عہد میں ایسے کوئی مکروہ واقعات نظر نہیں آتے۔ اور ہماری مائیں انہی اصولوں کو اپنے حیاء کے چادروں میں ڈھانپ کے رکھے ہوئے ہیں انہیں آج تک کوئی دقت محسوس نہ ہوئی اور نہ اسکی ضرورت کی ” بول کہ لب ترے آزاد ہیں۔”
اور یہ کہانی یہاں صرف روایات سے بغاوت پہ ختم نہیں ہوتی بلکہ ہر مسلمان کے گھر کی کہانئ یہی بن چکی ہے کہ اسلامی اصول کے موافق عائلی زندگی گزارنے کی تلقین بھی اب ہمیں گلے میں کانٹا ، کباب میں ہڈی کی مانند معلوم ہوتاہے۔ یہاں بھی نام نہاد لبرلز کود پڑتے ہیں کہ اسلام میں اتنی سختی نہیں ہے ، ساتھ میں قرآن کی اک آیت کا حصہ دلیل میں پیش کرتے ہیں ” لااکرہ فی الدین۔”

جبکہ یہاں” دین“ سے مراد اللہ کے متعلق وہ عقیدہ ہے جو آیت الکرسی میں بیان ہوا ہے ، اور وہ پورا نظام زندگی ہے جو اس عقیدے پر بنتا ہے ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”اسلام“ کا یہ اعتقادی اور اخلاقی و عملی نظام کسی پر زبر دستی نہیں ٹھونسا جا سکتا ۔ یہ ایسی چیز ہی نہیں ہے جو کسی کے سر جبراً منڈھی جا سکے ۔ (تفسیر مودودی پارہ تیسرا آیت 3 )
اپنے بات کو اختتام کی طرف لے جاتے ہوئے یہ کہونگا کہ یاد رکھیں ،
اسلامی شرعیہ کے اصول و قوانین کے نفاذ کے بارے میں جبر و تشدد کا تصور بھی قطعا ممنوع ہے کیونکہ یہ سیدھا سیدھا اللہ کی بندگی سے انکار کے ترادف میں آکھڑا ہوتا ہے ۔
اللہ تبارک وتعالی نے قرآن میں سخت الفاظ میں کہا ہے ،

وَ قُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۟ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡیُؤۡمِنۡ وَّ مَنۡ شَآءَ فَلۡیَکۡفُرۡ ۙ
اور کہہ دیں (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حق تمہارے رب کی طرف سے ہے (واضح ) اب جو چاہے مانے (مومن ہوجائے) جو چاہے نہ مانے (کفر کرے)۔ ( سورہ کہف آیت 28) ۔

اب ہمیں اسلامی شرعیہ کے اصول جیسے بھی گراں گزرتے ہوں تو ہوں مگر وہ اپنی جگہ اک واضح حقیقت و ہدایت ہے رب کی طرف سے۔ اور اسی طرح اکثریتی پشتون قبائل کے روایتی اصول بھی اک واضح اسلامی اور باحیاء معاشرے کے تشکیل کے علمبردار اور معاون رہنما اصول ہیں (مستثنیات ہر جگہ شامل حال رہتے ہیں)۔ یہ کوئی تشدد یا جبر پر مبنی اصول و روایات نہیں ۔ بلکہ یہ ہمارے اندر پھلتا ہوا وہ شیطانی وسوسہ ہے جو ہمیں اپنے جال میں جکڑ کر مادر پدر آزاد زندگی کے ظاہراً پرتعیش زندگی کے رنگین خواب دکھلاکر ہمیں ننگاناچ نچوانا چاہتے ہیں ۔ اسلامی و قبائلی روایات میں جتنی عزت اور احترام عورت کو حاصل ہے اتنی شائد کہیں اور حاصل ہو عین اسلامی آئین کے موافق ۔ ہمارے نسوانیت مظلوم نہیں بلکہ معزز ترین ہے۔
اور ہاں وہ لوگ جو قبائل میں سے ہوکر ان عمومی اکثریتی اسلام موافق اصول کا غلط استعمال کرتے ہیں تو انکو جبر سے نہیں تعلیی میلان سے رفع دفع کرنے کی کوشش بھی ازبس ضروری ہے۔ ہماری بقا صرف اور صرف اسلامی شرعی اصول کی پاسداری ہی میں مضمر ہیں اور کسی چیز میں نہیں ۔

وجود زن سے ہے تصویر کائنات ۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *