ایک منفرد افسانہ نگار اجمل اعجاز ۔۔۔۔۔صفی سرحدی

اردو کے سینئر منفرد افسانہ نگار اور ڈرامہ نگار اجمل اعجاز 22 ستمبر 1941 کو بھرت پور انڈیا میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ بھرت پور چھوڑ کر آگرہ آگئے اور پھر  آگرہ سے حیدر آباد دکن چلے گئے لیکن جب حیدر آباد دکن پر ہندوستانی فوج نے قبضہ کرلیا تو ان کے خاندان کو باقاعدہ ہندوستان چھوڑ کر جانا پڑا۔ ان کے ایک چچا پہلے ہی ہندوستان چھوڑ کر کراچی گئے ہوئے تھے اجمل اعجاز خاندان کے ہمراہ کراچی  آکر چچا کے پاس رہنے لگے بعد میں لیاقت علی خان نے لیاقت  آباد کے نام سے ایک بستی کا قائم کی جس میں ان کے خاندان کو ایک کمرے کا مکان مل گیا۔ اس دوران ان کے والد نے ہندوستان میں چھوڑی ہوئی زرعی زمین کلیم کی جس کے بدلے میں انہیں نواب شاہ میں زرعی زمین دے دی گئی جس کے بعد ان کے معاشی حالت ابتر سے بہتر ہوئے۔ مسلسل ہجرت کی وجہ سے اجمل اعجاز کو پانچ چھ اسکولوں میں زیر تعلیم رہنا پڑا لیکن میٹرک کی تعلیم انہوں نے کراچی سے مکمل کی۔ اجمل اعجاز کے بزرگوں میں کسی کو ادب سے لگاؤ تک نہیں تھا اور گھر میں بھی شاعر و ادیب قسم کی کوئی مخلوق نہیں تھیں اور اسکول میں بھی ان کا کوئی ایسا دوست نہیں تھا جسے ادب سے کوئی لگاؤ ہو۔ اجمل اعجاز کو بچپن سے کہانیوں میں دلچسپی رہتی تھیں۔ شروعات میں انہوں نے بادشاہوں ملکاؤں شہزادوں شہزادیوں جنوں اور پریوں کی کہانیاں پڑھی۔ بعد میں جب وہ ساتویں کلاس تک پہنچے تو اسکول کی لائبریری سے ان کا تعارف ہوا۔ جہاں پہلی بار انہیں سنجیدہ ادب پڑھنے کا موقع ملا۔
اسی لائبریری میں ایک دن انہیں منٹو کے افسانوں کی ایک کتاب ملی اور وہ کتاب پڑھنے کے بعد اجمل اعجاز منٹو سے بہت زیادہ متاثر ہوئے اور ان کا من ہوا کہ بڑا ہوکر کاش میں بھی ایسا لکھ کر لوگوں کو چونکا سکوں۔ بعد میں جب اجمل اعجاز نے لکھنا شروع کیا تو قاری خود بخود چونکتے گئے اور اج اتنے سال گزرنے کے بعد اجمل اعجاز اور بھی زیادہ متاثر کرنے والے ادیب بن چکے ہیں۔ اجمل اعجاز کے افسانوں اور ڈراموں کو اگر پڑھا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم اپنے عہد کے کتنے بڑے ادیب کو پڑھ رہے ہیں۔
اجمل اعجاز کی کہانیوں میں ہمیں جاندار مشاہدہ ملتا ہے انہوں نے منٹو کو فحش نگار ماننے کے بجائے ماہر نفسیات سمجھا تھا اور یہی وجہ ہے کہ اجمل اعجاز اپنے افسانوں اور ڈراموں میں ہر کردار کی نفسیات کو دیکھ سمجھ کر لکھتا ہے اور آخر تک کردار کا بھر پور تعاقب بھی کرتا ہوا نظر آتا ہے اور اچانک دلچسپ اختتام پیش کرنے کی وجہ سے ان کے کئی افسانوں اور ڈراموں پر فلم اور ڈرامہ بنانے کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
اگر اجمل اعجاز کی ادبی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو ان کا پہلا افسانہ کراچی سے شائع ہونے والے ہفت روزہ فلمستان میں شائع ہوا۔ اور پھر جنگ اخبار کے لیے انہوں نے تواتر سے کہانیاں لکھیں۔ اور سال 1958 اور 1960 میں انہوں نے بہترین نثر نگاری پر دوسرا انعام بھی حاصل کیا۔ اور ماہنامہ بھائی جان میں بھی ان کے دو کہانیوں ستاروں کی چھاؤں میں اور چاند ستارے نے پہلا انعام حاصل کیا۔ ادب دوستی کی وجہ سے اجمل اعجاز اسکول میں بزم ادب کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ اور اس دور میں ان کے افسانے ملک کے نیم ادبی اور فلمی رسائل میں شائع ہونے لگے اور کچھ عرصہ بعد اجمل اعجاز نے دہلی کے ماہنامہ بیسویں صدی اور ماہنامہ تخلیق کے لیے بھی کئی افسانے لکھے۔
میٹرک کے بعد کراچی ہی سے بی کام کرنے کے بعد 1963 میں اجمل اعجاز نے معاشی مصروفیات کا آغاز امریکن لائف انشورنس کمپنی سے کیا۔ 1974 میں ان کا تبادلہ کراچی سے حیدر آباد ہوگیا اور یوں ماحول کی تبدیلی کے سبب وہ دس سال تک ادبی سرگرمیوں سے دور ہوگئے لیکن بعد میں حیدر آباد کے معروف افسانہ نگار امین جالندھری سے ان کا تعلق استوار ہوا جس کی وجہ سے ایک بار پھر ان کی ادبی سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔ اس دوران حیدر آباد میں معروف شاعر پروفیسر عظیم الکریم عباسی سے ان کی دوستی ہوئی جنہوں نے اجمل اعجاز کو ریڈیو حیدر آباد سے متعارف کروایا۔ ریڈیو حیدر آباد کے لیے اجمل اعجاز نے بیس ڈرامے لکھے جو ان کی کتابوں آس کا پنچھی اور درد کا چاند میں محفوظ ہیں۔
اس دوران اجمل اعجاز نے ڈپٹی نذیر احمد کا ناول توبہ النصوح کی ڈرامائی تشکیل کی جو خواتین کے پروگرام انجمن میں قسط وار نشر ہوا۔ اور ساتھ ہی محمد وسیم خان کے رسالہ نٹ کھٹ میں بچوں کیلئے کہانیاں بھی لکھتے رہے۔ 1991 میں حیدر آباد کے معروف شاعر صابر بن ذوقی نے اجمل اعجاز سے متاثر ہوکر اپنی کتاب ایک محقق تین ادیب میں ان کے افسانے شامل کیں۔ حیدر آباد میں اجمل اعجاز نے 35 سال گزارے اور وہاں اسٹیٹ لائف انشورنس سے اسسٹنٹ جنرل منیجر کے عہدے پر ریٹائر ہوئے اور ریٹائرمنٹ کے بعد واپس کراچی منتقل ہوئے اور اج کل گلشن اقبال کراچی میں رہ رہے ہیں۔
اگر اجمل اعجاز کی نجی زندگی کا رخ کیا جائے تو انہوں نے شادی بہاولپور سے کی جس سے ان کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ وفا دار بیوی نے پوری جانفشانی سے بچوں کی پرورش کی زمہ داری نبھائی اور اب سب بچے ماشاء اللہ شادی شدہ ہیں۔  ذاتی زندگی میں اجمل اعجاز نہایت ملنسار اور مہمان نواز انسان ہیں ان کے ساتھ جس کسی کا بھی قریبی تعلق رہا ہے وہ انہیں نہایت شریف انسان مانتے ہیں۔ اجمل اعجاز ہر خاص وعام سے خندہ پیشانی سے ملتے ہیں۔
اجمل اعجاز اپنی صحت کا بھر پور خیال رکھنے والے انسان ہیں۔ روز صبح باقاعدگی سے سوسائٹی پارک میں اپنے ریٹائر دوستوں کے پاس واک اور ورزش کرنے چلے جاتے ہیں۔ اور گھر میں فرصت کے وقت لکھنا پڑھنا جاری رکھتے ہیں۔ مانسہرہ میں ہزارہ یونیورسٹی کے طالب علم محمد دیار اجمل اعجاز کی شخصیت اور فن پر تحقیقی مقالہ بھی لکھ رہے ہیں۔ اور مستقبل قریب میں اجمل اعجاز اپنے افسانوں کے مزید کچھ مجموعے منظر عام پر بھی لانا چاھ رہے ہیں جس پر اج کل وہ سنجیدگی سے کام کررہے ہیں۔

اجمل اعجاز کی تصانیف

اصلی خزانہ بچوں کے لیے ناول 1991
ایک محقق تین کتابیں منتخب افسانے 1992
بے لباس موسم، افسانے 1998
بادل اور زمین، ڈرامے 2009
اس کا پنچھی، ڈرامے 2012
درد کا چاند، ڈرامے 2013
زرافہ اور لمبی لڑکی، افسانے 2015
زندگی اے زندگی، زیر ترتیب

یادگار ملاقات کی تصویر 26 نومبر 2018 کراچی

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *