تعلیم یافتہ۔۔۔۔محمد اقبال دیوان /قسط10

SHOPPING
SHOPPING

شہر کی ایک مشہور پبلک یونی ورسٹی کے ایام وابستگی سے منسلک سچے واقعات سے جڑی ایک جھوٹی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ سے پیوستہ
اس کی بات سن کر اور اس کے ارادوں کی اٹھان دیکھ کر خالہ کچھ سراسیمہ سی ہوگئیں۔ ان  کے  اس  بارے  میں رومینہ سے صرف تین سوال تھے۔ کیا اس نے بچہ ضائع کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا ہے؟ کیا وہ نعمان کو چھوڑ دے گی اور وہ راز کیا ہے؟اس نے پہلے دو سوالوں کا جواب تو ایک پُر اعتماد ہاں سے دیا مگر آخری سوال کا جواب وہ یہ سوچ کر گول کرگئی کہ آج کے تمام تر انکشافات کے بعد وہ اپنی خالہ کا طرز عمل ایک ہفتے تک دیکھے گی۔جب نومی یہاں آئے گا اور اگر اس عرصے میں انہوں نے محتاط اور بالغ طرز عمل کا مظاہرہ کیا تو وہ انہیں ایک وارننگ کے ساتھ بوبی کے اغوا میں نعمان کی کارستانی کا راز وہ کھول دے گی۔ اس اظہار میں وہ البتہ یہ احتیاط کرے گی کہ خالو آفتاب کے ملوث ہونے کی قباحتوں پر مصلحتوں کی دبیز چادر ڈال دے ۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ خالہ اس محدود جنگ میں کسی کراس فائر میں آجائے۔ان دونوں میاں بیوی کے تعلقات بہت خوش گوار تھے ۔ دن میں وہ کم از کم چار پانچ دفعہ ان کی خیریت اور ان کے حمل کے بارے میں سوال کرتا تھا۔ جب کہ رومینہ کو نعمان کا دو تین دن میں ایک دفعہ ہی مختصر سا فون آیا تھا اور اس میں بھی اس کے ماں بننے کے بارے میں کوئی دل چسپی کا اظہار نہ تھا۔اس کے بھلے سے کئی بچے تھے رومینہ کی تو یہ پہلی
اولاد تھا اور وہ بھی اس کا Love Child تھا۔

دسویں قسط
دراصل ہماری زندگی میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں کچھ حادثات اور تجربات ایسے ہوجاتے ہیں، درد کی کوئی ٹیس سارے وجود میں یوں اچانک بے قرار ہوتی ہے کہ ہمارے اندر شعور اور آگہی کے نئے دریچے کھل جاتے ہیں۔ ہمیں گرد و پیش کا جائزہ لے کر اپنی راہ دوبارہ متعین کرنے کے لیے ایک ایسا اونچا محفوظ مقام یا درہ مل جاتا ہے جہاں سے زندگی ایک وادی کی مانند پھیلی ہوئی صاف دکھائی دیتی ہے۔
اس دن اگر وہ اس پرانی کتابوں کے اس کارٹن تک نہ پہنچتی تو شاید زندگی کی وادی بے خبری کے کسی انجانے پہاڑ کے پیچھے چھپی رہتی۔اس بکس سے ملی تصویر اور بعد میں ساوتری سے گفتگو اور اس کی کھلی شخصیت نے اس کے ذہن میں اس کے نعمان سے تعلق اور اس سے بدلہ لینے کے لیے وہی مہارت عطا کردی جو ایک اچھے اسکرپٹ کو پڑھ کر کسی کہنہ مشق ڈائریکٹر کو حاصل ہوجاتی ہے۔ اس کی  نگاہوں کے  سامنے فلم کا نام ، کاسٹ، شوٹنگ لوکیشنز، اور تمام تر معاونین کے نام سب ایک لمحے میں کوند جاتے ہیں۔ وہ تصویر ایک بڑی Inspiration تھی۔
اسے لگا کہ یہ تو وہ تابوت سکینہ تھا جو جوانی کی بھول کے سرکش قبیلے گم کرچکے تھے۔اس صندوق کو توڑے بغیراسے پاس ہی رکھی ایک ایسی گم شدہ چابی بھی دستیاب ہوگئی جس سے رازوں سے لدے پھندے ایک صندوق کا زدہ قفل کھل گیا۔سب سے پہلے اس تابوت سے برآمد ہونے والی ہستی رومینہ کے اندر کی چھپی ہوئی ایک اصل عورت تھی۔ اسے لگا کہ وہ غفلتوں کے بابل و نینوا کے کھنڈرات میں گھوم رہی تھی کہ بے خیالی میں کسی بوتل کو ٹھوکر لگی اور برسوں سے اس میں مقید جن اسے بغیر بتائے آزاد ہوگیا تاکہ اپنی کھوئی ہوئی توانائی واپس حاصل کرکے اس پر جب مرضی ہو طاری ہوسکے۔
Inspiration کے حوالے سے اسے یاد آیا کہ اس کے کرشمے عجیب ہوتے ہیں۔ایک تو یہ کم بخت آپ کو ملتی ایس جگہ ہے جہاں اس کے ملنے کی توقع کم سے کم ہوتی ہے۔ عین اسی لمحے اسے کہیں پڑھی ہوئی ایک واردات یاد آئی کہ گیت کار آنند بخشی کا مشہور موسیقار جوڑی لکشمی کانت پیارے لال سے بہت عرصے کا ساتھ تھا۔ تینوں نے ستر اور سن اسی کی دہائی میں ایک سے بڑھ کر ایک ہٹ گیت دیے۔ایک دن لکشمی کانت اور آنند بخشی دونوں پیارے لال جی کا نیا گھر دیکھ کر اس میں گھوم پھر کر اس کا جائزہ لے رہے تھے ۔ آنند بخشی جی اس بڑے سے گھر کی کسی راہداری سے ہوتے ہوئے کسی کمرے میں ایسے گم ہوگئے کہ راستہ مل کر ہی نہیں دے رہا تھا۔جب گھر میں ڈھنڈیا پڑی تو وہ مل گئے مگر لکشمی کانت نے جب ان سے کہا کہ کیوں کمرے کی چابی کھوگئی تھی کہ راستہ نہیں مل رہا تھا تو فلم بوبی کا وہ شہر ہ آفاق گیت وجود میں آیا جس نے گانوں کے بولوں کو بہت بے باکی عطا کردی یعنی

ع ہم تم ایک کمرے میں بند ہوں اور چابی کھوجائے۔۔۔۔
اس ہفتے پیر سے بدھ تک کا عرصہ رومینہ نے ایک عجیب بے قراری میں گزارا۔وہ سارا سار دن بیچ پر چلی جاتی تھی۔ واک کرتی کرتی ایک تنہا گوشے میں اکیلی بیٹھی رہتی۔کبھی بنکاک کے اس کمرے میں گزاری راتوں کو یاد کرتی تو کبھی اسے ہواہن کی وہ بے باک اوراحتیاط کو بالائے طاق رکھ کر خود کو بے دریغ لٹاتی رات یاد آتی۔اس عرصے میں اس نے نوٹ کیا کہ جہاں وہ اکثر جاکر بیٹھتی ہے وہاں سے ذرا ہٹ کر کہیں سے کوئی گورا مرد بھی آجاتا تھا۔ایک دو دفعہ اس نے رومینہ کو دیکھ کر ہاتھ بھی ہلایا جس کا جواب اس نے بھی ہاتھ ہلا کر دیا۔

 

اس مرد کی عمر تو شاید تیس برس ہوگی۔ چہرہ تو ایسا نہ تھا کہ اسے وجیہہ کہا جاسکے مگر اس پر رقصاں دوستانہ سے تاثرات کی وجہ سے اس پر ایک عجیب سی معصومیت ہر وقت اس پر طاری رہتی تھی۔ چہرے پر ہر وقت ایک شریر سی مسکراہٹ اور نگاہیں بہت ہی اطمینان سے جائزہ لیتی ہوئی۔ ذرا سے چھوٹے قد کی وجہ سے وہ آسٹریلوی اداکار رسل کرو جیسا لگتا تھا مگر بدن بہت گٹھا ہوا تھا۔ سارے کا سارا خالص مسلز کا مرکب مردانہ۔مینو کو وہ اچھا تو لگا مگر وہ اب کسی سے بلاوجہ تعلقات بڑھانے کے موڈ میں نہ تھی گو نعمان سے شادی کے بعد اور بنکاک کے تجربے کے بعد اس کے دل سے مردوں کا خوف جاتا رہا تھا۔
وہ گورا مرد جانے کہاں سے اپنی ہارلے ڈیوڈسن موٹر سائیکل لے کر آجاتا تھا۔ بڑے سکون سے اسے پارک کرتا اور سائڈ پر لگے تھیلے سے پڑھنے لکھنے کا سامان نکال کر وہ کسی نہ کسی طرح وہ ایک ایسی قریبی جگہ پر بیٹھ جاتا جہاں سے وہ اسے باآسانی دکھائی دیتی رہے ۔ بڑے سکون سے اپنے اسکیچ پیڈ پر تصویر کشی کرتا رہتا تھا یا اپنے آئی پیڈ پر کام کرتا رہتا۔اسے لگا کہ دو تین دفعہ اس نے اس کی تصویر بھی کھینچی مگر اس کی یہ حرکت رومینہ کو بری نہ لگی۔دو تین دن تو وہ اس کو خاموشی سے دیکھتا رہا۔

رسل کرو

ہارلے ڈیوڈ سن

ایک دن وہ اپنے خیالات میں گم بیٹھی تھی۔سامنے بحیرہ عرب کا مٹیالا سمندر بہت سکوں سے لہریں ساحل پر بھیج کر واپس بلالیتا تھا۔ اسے اپنے پیچھے سے ایک آواز آئی ’’ ہائے ہیئر یو گو‘‘۔اس کے ہاتھوں میں دو عدد چاک بارز تھیں۔ایک اس نے بڑی خاموشی سے اس کی طرف بڑھا دی۔’’ آئی ایم رونالڈ۔ اینڈ آئی ایم فرام ویلز ۔کال می ڈونی ‘‘۔اس نے بھی اپنا نام صرف مینو بتایا اور باتیں کرنے لگی۔وہ فری لانسر تھا۔پہلے کبھی برطانیہ کی سیکریٹ سروس ایم آئی۔ فائی میں ہوتا تھا۔ اب یہاں وہ کارپوریٹ فراڈز پکڑنے اور تجارتی کمپنیوں کو رسک مینجمنٹ  پر مشاورت کا کام کرتا تھا۔ وہ یہ کام اپنے ولا میں بیٹھ کر کیا کرتا تھا۔ گرل فرینڈ ایمانڈا چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ اسے یہاں رہنا پسند نہ تھا۔

جمیرہ بیچ
جمیرہ بیچ

اس تعارف کے بعد رومینہ نے اسے بغور دیکھا۔ وہ ہرگز ایسا نہ لگتا تھا جیسا فلموں میں دکھائے جانے والے جاسوسی  کردار ہوتے ہیں۔رومینہ نے جب اس بات کا اظہار کیا تو وہ ہنس کر کہنے لگا’’ اس کے ساتھ ایک لڑکی کام کرتی تھی لارا۔ جس کا کام برطانیہ میں ان غیر ملکی لوگوں کے بارے میں معلومات اکھٹا کرنا ہوتا تھا جو عرب عیسائی اور یہودی مشرقی یورپ کی عورتوں کو پھانس کر انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے۔وہ اس سے ملتی تو لگتا کہ یہ تو بہت عام سی لڑکی ہے۔ ہر وقت جینز،پولو نیک ٹی شرٹس اور سوئیٹرز پہنتی تھی۔ اس کی ایک خوبی یہ تھی کہ اسے ٹیکسی چلانے سے بار ٹینڈر اور ویٹرس کے رول نبھانے خوب آتے تھے۔اس سے مل کر لگتا ہی نہیں تھا کہ اس کا کام اتنا خطرناک ہے‘‘۔

لارا جاسوس

رومینہ کو لگا کہ وہ یہ باتیں محض اپنی ذات میں اس کی دل چسپی بڑھانے کے لیے کررہا ہے۔اس نے پوچھا کہ وہ اپنے اسکیچ پیڈ پر کیا تصویر کشی کرتا رہتا ہے۔جب اس نے وہ اسکیچ پیڈ اس کی طرف بڑھایا اور اس نے اوراق الٹ پلٹ کر دیکھے تو اس میں اکثر تصویریں رومینہ ہی کی تھیں۔ان تصویروں کو دیکھ کر جب رومینہ نے اس کی طرف دیکھا تو وہ جھینپ گیا۔اس کی یہ خفت رومینہ کو بہت اچھی لگی۔’’وہ یہاں کیوں آتا ہے اور یہ سب وہ کیوں کرتا ہے ؟‘‘ وہ بہت دیر تک چپ رہا پھر نیچی نظریں کرکے بتانے لگا کہاایمانڈا کے چلے جانے کے بعد وہ ایک جذباتی بحران کا شکار ہوگیا۔وہ رومانیہ کی تھی۔اسے لگتا ہے کہ اس کے خلاف اس کی ساتھی لارا نے ہی ایجنسی کو رپورٹ کی تھی۔ شاید اس کو میں اچھا لگتا تھا ۔وہ میری ایمانڈا سے دوستی پر کچھ خوش نہ تھی۔ جس کی وجہ سے اس کی نوکری جاتی رہی ۔اس کے تعلقات مشرقی یورپ کی انڈر ورلڈ سے تھے ۔اس کی خالہ اور دو بہنیں ان کی مدد سے ایک بار لندن میں چلاتی تھیں۔کیا وہ بھی کسی اس طرح کے کسی بحران ذات سے گزر رہی ہے؟!

رومینہ نے سوچا کہ وہ اسے اپنے بارے میں اس کو کچھ نہ بتائے تو اچھا ہے مگر اس کے دل نے کہا کہ کارپوریٹ فراڈز پکڑنے والا یہ مرد یقیناًنعمان سے نمٹنے میں اس کی مدد کرے گا۔اس کا پرانا جاسوس ہونا بھی شاید اس کا معاون ثابت ہو۔وہ بڑے فیصلے کرنے جارہی تھی اس کے لیے اسے کسی ایسے مددگار مردکی ضرورت تھی جس کا ان تمام معاملات میں نقطۂ نظر غیر جذباتی اور پروفیشنل ہو۔
مغربی مرد سے دوستی کے طور اطوار کیا ہوں ، اس چمتکار کا رومینہ کو علم نہ تھا ۔اس نے سوچا باہر کے لوگ سیدھے سچے ہوتے ہیں۔Straight Shooters. No frills
لہذا اس نے پاکستانی مردوں کا سا اندازالٹ کر اپنایا اور بہت آہستہ سے پوچھا ’’ آر وی فرینڈز؟ ‘‘
وہ مسکراکر کہنے لگا کہ’’ اسے تو وہ بطور دوست پہلے دن ہی محسوس ہوئی تھی۔ آپ کو کوئی اچھا نہ لگے تو آپ اس کی تصویریں کیوں بنائیں گے؟
اس کا ایک جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ آپ اپنا انتشار ذات نبھانے کے لیے جو بھی اچھا لگے اس کو اسکیچ کرکے دور کرسکتے ہیں۔
وہ بھی چالاک تھا کہ کہنے لگا وہ اس بات پر کبھی بحث نہیں کرے گا کہ وہ اسے ہی نہیں کوئی بھی ایسا مرد جو سمندر کے کنارے وقت گزارنے آتا ہو ۔جسے اسکیچنگ بھی آتی ہو اسے یقیناًاچھی لگے گی۔
اس مختصر سی گفتگو کے بعد وہ بہانہ بنا کر چل دی ۔ایک دن وہ بیچ پر جانے کی بجائے ادھر ادھر وقت گزارتی رہی۔
دوسرے دن وہ اسے بیچ پر دیکھ کر لپک کر آیا وہ اس کے حوالے سے بہت متذبذب تھی۔بہت دیر تک اس کی باتیں سنتی رہی نگاہوں میں اس کا جائزہ لیتی رہی پھر ہر احتیاط کو بالائے طاق رکھ کر پوچھ بیٹھی کہ
’’کیا وہ اس بات کا وعدہ کرسکتا ہے کہ وہ اس کے معاملے میں رازوں کا امین ہوگا؟‘‘ رومینہ نے پھر بھی پوچھ لیا ۔وہ سوچ رہی تھی کہ اگر آپ اپنا راز کسی اجنبی کو بتاتے ہیں تو اس سے دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے
۔مدد بھی ممکن ہے مل جائے ۔ اس نے کہا کہ’’ اس کا سینہ اپنے پرانے کام اور موجودہ مصروفیتوں کے حساب سے رازوں کا ایک خزانہ ہے جو اس کی احتیاط کے سمندر میں کسی غرقاب جہاز کی مانند دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہے۔‘‘ رومینہ کو یہ یقین دہانی اس کی زبانی سن کر یک گونہ اطمینان سا محسوس ہوا۔
وہ بتانے لگی اس کے ساتھ بھی ایک فراڈ ہوا ہے۔یہ سب کچھ اس کے میاں نے کیا ہے۔ وہ ان دنوں ایک عجیب سے مخمصے کا شکار ہے۔۔اب اس شادی میں ایسے انکشافات ہوئے ہیں کہ وہ اس ازدواجی بندھن کو ختم کرنا چاہتی ہے۔اس کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ اس Con-Man سے کس طرح اپنی جان چھڑائے۔
ڈونی نے کہا ’’اس بارے میں وہ کیا سوالات ہیں جو اسے تنگ کرتے ہیں؟‘‘
’’سوالات۔تین ہیں۔ میں بچے کا کیا کروں۔اس حوالے سے اس کے ذہن پر ایک اخلاقی بوجھ بھی ہے کیوں کہ یہ بچہ Sort of a love -child ہے؟۔اس سے رقم کیسے وصول کرے جو اس نے ایک بڑے فراڈ کے ذریعے اس کے خاندان سے ہتھیالی ہے۔ایسا ایک فراڈ اس نے ایک اور خاتون سے بھی کیا ہے جو اس کی یہاں دوبئی میں دوسری تیسری یا چوتھی بیوی تھی‘‘۔رومینہ نے ایک ایک کرکے وہ تمام سوالات ڈونی کے سامنے انڈیل دیے جو جمعے سے اس کے ذہن میں کلبلا رہے تھے۔
’’بچہ تو اس کے پیٹ میں ہے لہذا اب وہ اس کا بچہ ہے۔اس کا اخلاقی یا غیر اخلاقی جواز کچھ بھی نہیں۔ جس نے جس طرح اس دنیا میں آنا ہوتا ہے وہ ضرور آتا ہے۔یہ بہت نجی مسئلہ ہے۔ اس بچے کو پیدا کرنے کا یا نہ کرنے کا فیصلہ تنہا اس کا ہوگا۔اس میں سماجی اور معاشرتی کئی ایسے نازک پہلو ہوں گے جن کو وہ بہتر سمجھ سکتی ہے۔لیکن یہاں امارات میں ابارشن ناممکن ہے اس کے لیے تو جو کچھ کرے پاکستان جاکر ہی کرے۔

وہ اگر ایک Con-Man تو وہ یہ سوچ لے کہ ایسے مرد عام مردوں سے زیادہ شاطر ہوتے ہیں۔ وہ نہ صرف جرم کرسکتے ہیں بلکہ اس جرم سے حاصل شدہ فوائد کو اپنے مقصد میں بہت بہتر طریقے پر استعمال کرسکتے ہیں۔ اس لیے اس سے کھوئی ہوئی رقم کا حصول ایک دشوار گزار مرحلہ ہوگا But with bit of care ,caution and lot of patience we can give it a try
( لیکن ہم اس کے لیے ٹرائی کرسکتے ہیں اس کے لیے کچھ احتیاط سوجھ بوجھ اور بے حد صبر کرنا ہوگا) کیا اس کی اس دوسری بیوی سے ملاقات ہوئی؟ ‘‘رومینہ نے جب اسے کہا کہ’’ ہاں ہوئی ہے‘‘ تو وہ کہنے لگا کہ’’ اس کا طرز عمل بہت ہی اہم ہوگا‘‘۔ رومینہ نے بتایا کہ’’ اس سے بھی زاہدنے فراڈ کیا تھا۔اس کی High Value Antique Jewellery چوری کی ہے۔اس نے اس کے بارے میں کچھ معلومات دی ہیں‘‘۔ تو ڈونی نے اتنی جلدی یہ سب معلومات اکھٹی کرنے کے حوالے سے مذاق کیا کہ’’ کیا وہ آئی ایس آئی کے لیے کام کرتی ہے؟‘‘ تو رومینہ نے بھی شرارت سے جواب دیا کہ’’ جب انتقام کی بات ہو تو ہر عورت آئی ایس آئی اور موساد بن جاتی ہے۔‘‘ میرا واسطہ عورت کی بے وفائی سے تو پڑا ہے انتقام سے کبھی نہیں‘‘۔
’’وہ بے وفا نہ تھی تمہاری ایمانڈا۔ اس کے لیے یہ ماحول اجنبی تھا‘‘۔رومینہ نے اس کی جانب سے نسوانی وضاحت پیش کی۔
” Oh now I have created a union with one slip of tongue”(اوہو میں نے زبان کی ایک لغزش سے ایک یونین بنادی ہے) ڈونی نے جواب دیا۔
اس کے بعد وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور جانے کے لیے اجازت مانگی۔ڈونی نے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا تو اس نے تھام لیا ”

Remember I have trusted you as a friend Donny. Don’t betray a broken woman”

( یاد رکھو میں نے تم پر بطور دوست پھروسہ کیا ہے۔ ایک دل شکستہ عورت کو تم دھوکا مت دینا )رومینہ نے اس سے کہا تو وہ بھی اس کو دیکھ کر کہا ” Over my honor I will be there for you”(اپنی عزت کی قسم میں تمہارا ساتھ دوں گا)۔اس نے مینو کو بتایا کہ وہ کل شام کو یہاں آئے گا اگر وہ پسند کرے تو وہ اسے اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر اسے ابوظہبی ڈنر پر لے جاسکتا ہے۔ جس پر مینو نے انکار کردیا تو وہ آہستہ سے کہنے لگا ’’اوکے ٹیک یور ٹائم‘‘۔
۔جمعے کے دن حسب وعدہ ساوتری آگئی تھی۔اسے  جب اپنا یہ بکس ملا تو اس کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔سب نے مل کر کوکنگ کی وہ بہت خوش گفتار اور ہنس مکھ عورت تھی۔بچے بھی بہت مہذب تھے۔دلاآویز تو بالکل اپنے باپ جیسا ہی تھا مگر بے حد کم سخن۔جب دوپہر کا کھانا کھا کر بچے سوگئے اور خالہ بھی قیلولہ کرنے چلی گئیں تو مینو اور ساوتری باہر ٹیریس پر جاکر بیٹھ گئے۔سامنے سمندر بہت شانت تھا ۔بات چیت کے دوران اس نے بھی مینو کے بارے میں سوالات کیے تو مینو نے اس کو بتایا کہ اس کی شادی ایک دھوکہ دہی کی وجہ سے زاہد کے ساتھ ہوگئی ہے جس نے اپنا نام نعمان رکھ لیا ہے۔وہ اب اس سے طلاق کی خواہشمند ہے مگر وہ اس کی مدد کرے۔
ساوتری سکسینہ نے جسے گھر میں سب پیار سے ساوی کہتے تھے اس نے وعدہ کیا کہ وہ نہ صرف اس کی مدد کرے گی بلکہ اس میں وہ مکمل راز داری بھی برتے گی۔وہ ایک خطرناک مرد ہے بلکہ ان تمام تحفظات جن کا اظہار مینو نے اس سے کیا ہے ان پر عمل درآمد کرنا بہت آساں نہ ہوگا۔مینو نے اسے بچے کے بارے میں تو نہ بتایا مگر اس طلاق اور رقم کیسے وصول کی جائے یہ بھی کوئی آسان کام نہیں کم و بیش اس بارے میں جو بات اسے ڈونی نے کہی تھی کہ اس کے لیے اس سے کھوئی ہوئی رقم کا حصول ایک دشوار گزار مرحلہ ہوگا ۔پیسے کے معاملے میں اس کا ذہن عام مردوں سے بہت تیز کام کرتا ہے۔وہ کوئی ایسا پلان بنانے میں اس کی مدد کرے گی جس کے تحت وہ اپنی ایک خطیر رقم اس کے ا کاؤنٹ میں منتقل کردے۔اسے چونکہ خالہ زیبو نے اس کے اور آفتاب کے بزنس پارٹنر ہونے کا بتادیا تھا لہذا ساوتری ہی نے اسے سجھاونی دی کہ وہ اس کی خالہ کو یہ بات سمجھائے کہ وہ اپنے میاں کو اسے پھانسنے کے لیے استعمال کرے۔یہ ذرا نازک مرحلہ ہے ۔اس میں بہت سمجھ بوجھ اور احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ ان کے اپنے تعلقات بھی کراس فائر میں آسکتے ہیں ۔وہ اس لیے بہت کول پلے کرے۔ مجھے بھی اس سے بدلہ لینا تھا مگر میں بہت اکیلی اور ڈرپوک تھی۔ تمہارے آنے سے مجھے بہت سہارا ملا ہے۔ ہم دونوں مل کر اسے چھٹی کا دودھ یاد کرادیں گے ۔دیکھنا! ساوتری کی ان باتوں سے مینو کے دل کو بہت دھاڑس بندھی۔
اگلی صبح خالہ کو اچانک پاکستان جانا پڑگیا۔ ان کی امی کی طبیعت خراب ہوگئی تھی چونکہ ان کے پاس آفتاب کی فرم کا جاری کردہ ملازمت کا ویزہ تھا لہذا انہیں آنے جانے کی پابندی نہ تھی۔ان کا وعدہ تھا کہ وہ آفتاب کے ساتھ نعمان کو لے کر آئیں گی۔رومینہ اس دن بہت اداس تھی جب وہ پاکستان روانہ ہوئیں۔رات گئے اسے بوبی کی ای میل ملی تھی وہ بھی اس کے بغیر بہت تنہا اور اداس تھا۔اس کی امی کا دباؤ اس پر بہت بڑھ گیا ہے کہ وہ ان کی بہن کی بیٹی تانیا سے شادی کرلے۔وہ کب تک رومینہ کی راہ دیکھے گا۔وہ تو اپنا گھر بسا کر دوبئی چلی گئی ہے۔
رومینہ کو اس کے گھر بسانے کے الفاظ پر بہت رنج ہوا۔بسے ہوئے گھر ایسے تو نہیں ہوتے جیسا رومینہ کا تھا۔میاں کو اس میں کوئی دل چسپی نہ تھی۔وہ وہاں پاکستان میں جانے کیا کررہا تھا۔اس کی ضد پر جان چھڑانے کے لیے اسے دوبئی بھیج دیا تھا۔اس نے سوچا کہ اس انکشاف کے بعد اس کا وعدہ اسے یاد دلانا فضول ہوگا لہذا اس نے بھی لکھ دیا کہ اس اب اپنی زندگی پر کوئی اختیار نہیں وہ ایک کٹی پتنگ کی طرح فضاؤں میں ڈول رہی ہے۔وہ اسے تانیا سے شادی کے بارے میں کیا مشورہ دے سکتی ہے۔

خالہ کے چلے جانے پر گھر پر بھی کوئی نہ تھا۔اپنے اکیلے پن سے تنگ آکر وہ اپنے معمول سے ذرا پہلے ہی بیچ پر جاکر اپنے مخصوص پتھروں پر بیٹھ گئی۔اس کی نگاہیں ڈونی کو تلاش کررہی تھیں۔وہ وہاں نہ تھا۔وہ کچھ دیر وہاں بیٹھی رہی،قریب تھا کہ وہ اپنی بوریت سے تنگ آکر وہاں سے چل پڑتی اسے اپنے کندھے پر بہت شائستگی سے رکھے دو ہاتھ محسوس ہوئے ۔
یہ ڈونی تھا۔ اس نے جتایا کہ وہ آج جلدی وہاں آگئی تھی۔رومینہ کو اس کا یوں کندھے پر ہاتھ رکھنا اور اسے مینو کہہ کر پکارنا بہت اچھا لگا۔ بھولے ہوئے ناموں سے اب اسے کوئی نہیں بلاتا تھا۔ یہ ایک خلش تھی جو دن میں کئی دفعہ اسے تنگ کرتی تھی۔ لمحات وصل میں اسے نومی نے کبھی مینو پکارا تھا مگر اب وہ اسے رومینہ ہی کہہ کر پکارتا تھا۔ بوبی کی ای میل میں بھی اس کا پوار نام رومینہ ہی لکھا تھا۔ ہاتوں کے کاندھے پر رکھنے میں جنس کا کوئی حوالہ نہ تھا بلکہ ایک احساس تحفظ کی مضبوط گرفت تھی ۔ مرد جب آپ کو احساس تحفظ عطا کریں تو بلاوجہ ہی پرکشش ہوجاتے ہیں۔
اس کا کہنا تھا کہ اس کا آج اس طرف آنے کا کوئی ارادہ نہ تھا پر چونکہ اس کے پاس اس کا سیل فون نمبر نہ تھا لہذا وہ یہ سوچ کر آگیا کہ وہ ان درختوں کے نیچے بیٹھی بہت اکیلی ہوگی۔ اس نے شرارت سے پوچھا ” Did you miss me?” مینو نے جب انکار کیا تو وہ اسی لہجے میں اس سے کہنے لگا’’ اب سمندر جیسے بڑے وجود کا کوئی کس طرح مقابلہ کرسکتا ہے‘‘۔
۔ اس نے اپنی ساوتری سے ملاقات کا تفصیلی احوال دیا تو وہ کہنے لگا کہ وہ اورساوتری تقریباً ایک سے خیالات رکھتے ہیں، مگر اس کا مشورہ ہے کہ وہ ساوتری کو سب باتیں نہ بتائے تو اچھا ہوگا۔ وہ پاکستان جانے سے پہلے ایک کام کرے کہ اپنے لیے ایک ایسے ویزہ کا بندوبست کرے جو ملازمت کا ویزہ ہو تا ہے ۔ اس کا دوبئی آنا جانا آسان ہوجائے ورنہ وزٹ ویزہ میں آنے جانے پر اسے مشکل پیش آئے گی۔اس کے لیے وہ اسے ای میل پر اپنی لازمت کے حصول کی درخواست      بھیجے اس کی ایک کاپی وہ اپنے میاں کو بھی بھیجے تاکہ اس کی اجازت مل جائے۔اس کی فرم میں دو تین خواتین اور لڑکے اور بھی ملازم ہیں ۔اس کا ایک چھوٹا سا دفتر شہر میں بھی ہے۔وہ اسے کچھ تنخواہ بھی دے سکے گا جو بہت زیادہ تو نہ ہوگی مگر پھر بھی وہ اس کے کچھ اخراجات سے نمٹنے کے لیے کافی ہوگی۔
اس نے پیشکش کی کہ وہ اس کے ساتھ چل کر اس کا دفتر اور گھر دیکھ لے۔یہ بچے بچیاں اس کے گھر والے دفتر پر بھی کام کی نوعیت کی وجہ سے اکثر آجاتے ہیں۔ وہ سارا ریکارڈ ایک جگہ نہیں رکھتا۔اس میں کچھ بہت حساس نوعیت کا بھی ہوتا ہے۔وہ آج موٹر سائیکل کی بجائے کار پر آیا ہے۔مینو نے ضد کی کہ اگر اس کے پاس وقت کی قلت نہ ہو تو وہ پندرہ بیس منٹ یہیں اس کے پاس بیٹھے وہ کافی بھی پینا چاہتی ہے اور اس سے باتیں بھی کرنا چاہتی ہے۔وہ آج اپنی خالہ کے پاکستان جانے کی وجہ سے خود کو بہت تنہا اور اداس محسوس کررہی ہے۔
وہ اس کے لیے کافی اور خود کے لیے بئیر لے آیا۔مینو کے ذہن میں اس کے حوالے سے کئی سوالات تھے جن میں پہلا اور اہم ترین سوال یہ تھا کہ’’ وہ اس پر اتنی جلدی کیوں مہرباں ہوگیا ہے؟۔دوبئی میں عورتوں کی کوئی کمی نہیں اور ملازمت دینے کے بہانے سے تو وہ کئی لڑکیوں کو پھانس سکتا ہے‘‘۔ وہ کہنے لگا ’’ اس کا مختصر سا جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اسے بہت اچھی لگی ہے، بہت اپنی اپنی سی اس کی طرح اکیلی اور قدرے غم زدہ سی‘‘۔
’’مگر تم تو مجھے ٹھیک سے جانتے تک نہیں ہو؟‘‘ مینو نے اسے چھیڑنے کے لیے کہا۔
’’میں تمہیں تمہارے ساتھ رہ کر تمہیں جاننا چاہتا ہوں۔مجھ سے پہلے تم جو بھی تھیں میں تم سے پہلے جو کچھ تھا وہ اب ماضی کا ایک ایسا باب ہے جس کو از سر نو پڑھنا اس تعلق کو قائم کرنے میں ضروری نہیں‘‘۔ اس نے بہت سنجیدگی اور اعتماد سے بتادیا۔

’’تو تمہیں میرے غم اور میری تنہائی سے پیار ہے‘‘۔مینو نے اسے تنگ کرنے کے لیے ایک دفعہ اور اسے چھیڑا۔
’’یہ کہنا تو تمہاری زیادتی ہے   مجھے پیار تو تمہیں دیکھتے ہی ہوگیا تھا۔اس وقت نہ مجھے تمہارے غم کا پتہ تھا نہ یہ علم تھا کہ تم کتنی اکیلی ہو‘‘۔ ڈونی نے جواب دیا۔وہ اپنی کافی اور ڈونی اپنا بیئر کا گلاس ختم کرچکا تھا۔اس کے کندھے پر اس نے ویسی ہی شفقت اور رفاقت بھرے احساس کے جذبے سے گلے لگانے کے لیے اسے کھینچا تو وہ دور ہٹ گئی۔
کچھ دیر بعد وہ اس کی کار میں اس کے دفتر کی جانب رواں دواں تھے۔ڈیرہ دوبئی کے علاقے میں ال مراقبات روڈ پر ریف مال کے قریب ہی ایک بلڈنگ میں اس کا چھوٹا سا مگر بے حد خوبصورت اور کمپیوٹروں سے آراستہ ایک دفتر تھا۔یہاں چار مرد اور دو لڑکیاں بڑی سنجیدگی سے اپنے کام میں مصروف تھے۔اس نے رومینہ کا تعارف ایک نئی ساتھی کے طور پر کرایا۔ ایک مرد جس کا نام اسے رمیش معلوم ہوا اسے ہدایت دی کہ مس رومینہ کے ملازمت مل جانے پر ان کے ویزہ میں ملازمت ویزہ کی تبدیلی اس کا ذمہ ہوگی۔یہ کام جلدی کرنا ہوگا۔انہیں کام جولی سکھائے گی۔ جولی کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے اس نے بتایا کہ کارپوریٹ فراڈ میں بہت ذہین اور قابل اعتماد ملازمین شامل ہوتے ہیں اس لیے انہیں پکڑنے کے لیے بہت صبر اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے ، ہمیں معاوضہ بھی اسی کام کا ملتا ہے۔
کام مشکل ضرور تھا مگر رومینہ کو وہ دل چسپ لگا اصل مرحلہ نومی سے ملازمت کی اجازت ملنے کا تھا۔اس کے جانے رومینہ کے بارے میں کیا پلان تھے۔واپسی کی بات ہوئی تو ڈونی اسے اپنے گھر لے گیا۔ رومینہ کو اندازہ ہوا کا اس کا گھر اس ولا سے جہاں وہ رہائش پذیر تھی بمشکل ایک کلومیٹر دور تھا۔وہاں بھی تین لڑکیاں اور ایک پولش لڑکا کام کرتا تھا۔
یہ جیمی تھا۔ اس کا کام گھر کی دیکھ بھال اور نگرانی کرنا تھا۔ ایک کمرے میں اوپر کی منزل میں اس کا بیڈ روم تھا۔ ساتھ ہی ایک بڑی سی اسٹدی تھی جس کا رخ سمند ر کی جانب تھا۔اسی میں ڈونی کا اپنا دفتر تھا۔رومینہ کچھ دیر وہاں رہی۔ اسے اس ولا کی سجاوٹ میں ایک اپنائیت اور ذوق جمالیات کا مظاہرہ محسوس ہوا۔ان کا ولا اس سے کافی بڑا تھا مگر اس میں ان باتوں کی کمی تھی۔رومینہ نے کچھ دیر وہاں بیٹھ کر اور ماحول کا جائزہ لے کر جانے کا ارادہ کیا تو ڈونی کہنے لگا کہ’’ وہ مناسب سمجھے تو وہ اسے کھانے پر لے جاسکتا ہے‘‘۔ رومینہ نے انکار کیا۔اس کی خواہش تھی کہ وہ آج کے حوالے سے جو کچھ اس نے دیکھاہے اور ساحل پر ابتدا میں جو باتیں اس کے ساتھ ہوئی ہیں ان کا جائزہ لے۔ڈونی کو اس کے انکار پر کچھ مزہ نہ آیا مگر یہ سوچ کر کہ اس کرب سے گزرنے کی وجہ سے اب اس کی طبیعت ہر بات کے لیے کچھ وقت مانگتی تھی۔اسے لگا کہ ماضی میں وہ کچھ جلد باز واقع ہوئی تھی۔
شام چھ بجے اس کے پاس ساوتری سکسینہ آگئی۔بچوں کے اسکول میں کوئی تقریب تھی۔دونوں نے ٹریس پر بیٹھ کر باتیں کیں رومینہ نے آ ج مگر یہ احتیاط کی کہ اس سے نومی کے بارے میں کوئی بات نہ کی۔البتہ اس کی اپنی زندگی کے بارے میں کسی مرد کی موجودگی کے نہ ہونے کا پوچھا تو وہ بتانے لگی کہ ’’ اس کا ایک لوور (Lover) ہے نریندر گوپال نام ہے۔اب میرا شادی میں زیادہ یقین نہیں۔میرا یہ لوور ہمارے سفارت خانے میں کام کرتا ہے۔پولیس کا افسر ہے مگر یہاں کوور پوسٹنگ پر آیا ہوا ہے۔اس کی بھی بیوی تھی ۔طلاق ہوگئی تو اس کا بھی شادی سے یقین اٹھ گیا ہے‘‘۔’’ملاقاتیں کہاں ہوتی ہیں؟‘‘رومینہ نے پوچھا۔وہ بتانے لگی “We both work out at the same gym and we burn- out at his place” اس کا جواب سن کر رومینہ ہنس کر کہنے لگی کہ ع ’’ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں‘‘۔اس کے اس مصرعے کا ساوتری نے بہت لطف لیا اور جتانے لگی کہ زاہد کو بھی شعر بہت یاد تھے۔اس کا مطالعہ تو کوئی ایسا خاص نہ تھا مگر جتنا  بھی علم تھا اس کا وہ بہت برمحل استعمال کرتا تھا۔رومینہ نے گفتگو کا موضوع ایک سلیقے سے زاہد سے بدلتے ہوئے جب گوپال کے بارے میں ایک خاص انداز سے شرارت بھرے لہجے میں پوچھا تو وہ کہنے لگی کہ ’’ وہ دیکھنے میں تو کچھ ایسا خاص خوش شکل نہیں۔تامل ناڈو کا ہے اس لیے ذرا کالا بھی ہے But he is very intense, witty and very caring.‘‘(وہ ذرا شدت پسند ہے،خوش مذاق ہے اور بہت خیال رکھنے والا ہے)۔ وہ کوئی گھنٹہ بھر اس کے پاس ٹھہری پھر اسے گوپال لینے آگیا۔رومینہ نے اسے روکا بھی نہیں اور گوپال کو اندر آنے کی بھی دعوت نہ دی۔وہ نعمان، آفتاب اور خالہ کی وجہ سے اپنی رہائش گاہ کو ایسے مہمانوں سے پاک رکھنا چاہتی تھی جن کی اگر آمد و رفت کا علم کرائے داروں کی وجہ سے ان تینوں میں سے کسی کو ہو تو اس کی وضاحت کے پاس نہ ہو۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING
SALE OFFER

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *