تعلیم یافتہ۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط9

شہر کی ایک مشہور پبلک یونی ورسٹی کے ایام وابستگی سے منسلک سچے واقعات سے جڑی ایک جھوٹی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ سے پیوستہ
 زندگی کی کہانی کے کچھ حصے بھی اپنے کردار خاص طور پر فرمائش کرکے لکھواتے ہیں۔اس حوالے سے کہانی کے آئندہ خدوخال جانے بغیردوبئی کی اس صبح ہماری شہر زاد ایک دفعہ  نومی کی رومینہ بے بی(یاد کریں اس کے ابو کو نعمان نے ان کے گھر پر کیا کہا تھا …ہماری باجی زیبا ،رومینہ بے بی تو لازماً چلیں گی۔صولت بھائی(رومینہ کے ابو) تو میرے خاص مہمان ہوں گے۔زیبا خالہ کو اس کا باجی کہنا تو اچھا نہ لگا مگر رومینہ نے سمجھایا کہ نعمان انکل کو مذاق کی زیادہ ہی عادت ہے(نے فوری سماعت کی ایک طرف ان کیمرہ عدالت لگائی ۔بغیر کسی وکیل اور گواہ کے دل کی جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر اس نے بھی پانچ کردار فی الفور منتخب کرلیے۔ سب سے پہلے وہ نومی کو سزا دے گی۔ اس معاملے میں ساوتری سکسینہ سے وہ اس کی تفصیلات لے گی۔خالہ اور خالو کو وہ اس کھیل میں اپنی مرضی سے استعمال کرے گی اور بوبی کو وہ بطورReserve Fire Power کے طورپر استعمال کرے گی۔تب تک وہ اسے پیار کے بینک میں خفیہ توجہ کے لاکر میں محفوظ رکھے گی۔اپنے امی ابو کو اس نے بڑا دل کرکے معاف کردیا۔
نویں قسط
پروفائل :اپنے اس فیصلے پر اس نے بہت دیر آنسو پونچھتے ہوئے غور کیا۔ساوتری سکسینہ کی کتابوں کو جھاڑ پونچھ کر صاف کیا۔اس کا مطلوب و مقصود یہ تھا کہ شاید اس سامان متروکہ میں کوئی تصویر یا خط وغیرہ موجود جس سے زاہد کے سابقہ طور طریقوں کا کوئی نشان مل جاۓ ۔

وہ سب کچھ نہ ملا تو اس نے ایک منصوبے کے تحت سب سے پہلے ایک ای میل پروفائل بنایا۔۔۔۔۔
سب سے پہلے اس نے لوپ میں بوبی کو لانے کا سوچا۔ پروفائل میں اس نے اپنا نام گونگ لی رکھا اور اس درخواست کے ساتھ کے وہ میل پڑھتے ہی اسے ڈی لیٹ کردے اپنا مختصر سا تعارف بھی کردیا تاکہ اسے کوئی الجھن نہ ہو۔ورنہ اس کے دماغ میں خدشات پیدا ہونے کا احتمال تھا۔اس میں اسے اپنی محبت، بے گناہی اور دونوں کے ساتھ ہونے والی ایک بڑی سازش کے بارے میں ہلکے ہلکے اشارے بھی اس مشورے کے ساتھ دیے کہ وہ اس بارے میں صرف اس کے مشوروں پر عمل کرے۔وہ لک آؤٹ پر رہے کہ دوبئی میں اگر کاروبار کا یا فنانسنگ کا کوئی موقع ہے تو اسے ضرور بتائے اسے  معلوم ہے اس کی رہائی کے معاملے میں ان کے چالیس لاکھ روپے تیل ہوگئے ہیں۔وہ صبر کرے۔You need to be smart honey.No more kheypya follies
وہ انہیں وصول کرکے دے گی۔ان سب ہدایات کے ساتھ اس نے بوبی کو اس ایڈریس سے پہلی ای میل بھیجی۔
اپنی زندگی کو ری فورمیٹ کرنے کے لیے یہ اقدامات لازم تھے۔دوسرا قدم بچے سے متعلق تھا۔ وہ حاملہ تھی۔نومی کا بچہ اس کے پیٹ میں تھا۔
اسقاط حمل: دوبئی میں اس حوالے سے کیا قوانین تھے اس کا جائزہ اس نے نیٹ پر لے ڈالا۔اسقاط حمل وہاں ایک جرم تھا۔کسی کو اگر اسقاط حمل کرانا ہو تو ڈاکٹر کی رائے اس میں بہت اہمیت رکھتی تھی۔اس کے علاوہ یہ بھی لازم تھا کہ مریضہ کے پاس اپنے شوہر کا اجازت نامہ بھی موجود ہو۔اس بارے میں اس نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ کارروائی پاکستان جا کے ہی کرے گی۔ممکن ہے اگر وہ نومی کو اعتماد میں لے تو بچہ ضائع کرنے پر کوئی اعتراض نہ ہو۔ اسے ایک کھیل میں دل چسپی تھی۔بچے پالنے اور اس کے بکھیڑوں میں الجھنا وہ ہرگز نہیں چاہتا تھا۔
ہورائزن اسکول اور ساوتری : اس حوالے سے اس نے فیصلہ کیا کہ سب سے پہلے تو وہ اس تصویر کی تین چار کاپیاں بناکر محفوظ کرلے گی۔تصویر پر درج تاریخ کے حساب سے یہ تین سال پرانی تھی۔یوں اس کا بیٹا دل آویز زاہد اب آٹھ یا نو سال کا ہوگیا ہوگا ۔ممکن ہے  پانچ برس کی کومل زاہد کو بھی اس نے اسی اسکول میں داخل کرلیا ہو۔ یہ اسکول تین سے گیارہ سال کی عمر کے بچوں کے لیے تھا۔سفا پارک کی گلی نمبر49 آف واصل روڈ پرواقع یہ اسکول جو لائیڈ بینک کے قریب ہی واقع تھا وہ ان کے گھر سے کوئی آدھا کلو میٹر کے فاصلے پرتھا۔اس کے پاس نومی کے دیے ہوئے ہزار ڈالر اور اس کے ابو کے اور سلامی میں ملے پندرہ سو ڈالر اور بھی موجود تھے۔وہ ان سے لائیڈ بینک میں اپنا اکاؤنٹ کھول لے گی۔اصل مسئلہ ساوتری سے رابطے اور بات چیت کا تھا، اس کے ذہن میں یہ خدشہ تھا کہ شاید وہ نومی کے حوالے سے بات چیت کرنا فوری طور پر مناسب نہ سمجھے۔

ہورائززن سکول

الصفا پارک

 

نومی:نومی کو اس نے چھوڑنے کا فیصلہ تصویر دیکھ کر اس کی ساوتری کے بارے میں کی گئیں باتوں کا موازنہ کرکے کرلیا۔یوں بھی وہ اس کے رویے سے دل برداشتہ تھی۔اس میں اب وہ پہلے والا لگاؤ اور رکھ رکھاؤ باقی نہ رہا تھا۔ سنا تو اس نے بہت بار تھا کہ Men are spring when they woo,Autumn when they marry
مگر یقین اب آیا کہ مرد جب آپ کو رجھاتے ہیں تو ان کا مزاج اور رویہ آپ کی جانب بہاروں کا سا دل فریب ہوتا ہے، شادی ہوجانے کے بعدیہی مزاج پت جھڑ کی طرح ہوجاتا ہے۔یوں بھی ایک حسین عورت کے تین دشمن ہوتے ہیں؛ دوسری حسین عورتیں، وقت اور مرد کی اکتاہٹ۔ممکن ہے کتابوں کی کوئی اور نمائش وہیں یونی ورسٹی میں لگی ہو۔وہاں اسے کوئی اور رومینہ مل گئی ہو۔ اس جیسی ہی کنواری، انگریزی زبان میں Gorgeousاور اس کی طرح اپنی پرانی محبت کے زخم مندمل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو کر ) Bounce -Back Syndromeوہ کیفیت جس میں عورت ایک مرد سے ٹوٹ کر فوری طور پر دستیاب مرد کی جانب تیزی سے لپکتی ہے تاکہ اپنے آپ کو وہ باور کراسکے کہ وہ اب بھی مردوں کے لیے دلکش اورقابل توجہ ہے)۔مبتلا کوئی معصومہ اس کے ہتھے چڑھ گئی ہوگی ۔وقت اس کا دشمن بن کر اس وقت سامنے آجائے گا جب یہ پیٹ کا بچہ تولد ہوجائے گا۔اس کی اکتاہٹ تو شادی کے ابتدائی ایام سے عیاں ہوچلی تھی۔نوبیاہتا بیوی کو نہ تو وہ ہنی مون پر لے گیا ۔ نہ کبھی باہر کھانے پر ، نہ ہی اس نے اپنی تجارتی مصروفیتوں میں کمی کرکے اس کے ساتھ وقت بتایا۔” So the party is soon going to be over”۔اس نے ماموں کو جو چالیس لاکھ روپے کی ڈز(کراچی کے محاورے میں نقصان پہنچانا) دی تھی۔ اس کا وہ ازالہ کیسے کرے۔اس سے spousal supportجسے Alimony بھی کہتے ہیں وہ کیسے حاصل کرے۔یہ گھی سیدھی انگلیوں سے نکلنے والا نہ تھا۔اس کے لیے وہ اس کے ساتھ کوئی فراڈ کرے تو بات بن سکتی ہے۔ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ اسے بتائے بغیر وہ اپنی امی کو اسقاط حمل کے لیے کیسے راضی کرے۔پاکستان میں یہ کام آسان تھا۔جویریہ کی بڑی پھوپھی گائناکا لوجسٹ تھی ۔ان کا اپنا زچہ بچہ کا کلینک تھا لہذا اسقاط حمل کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔آئندہ زندگی کے لیے بچہ ایک بوجھ بن سکتا تھا۔بہت سے مرد اس لیے بھی کسی عورت سے شادی نہیں کرتے کہ اس کے ساتھ پہلی شادی سے بچے کا Excess Baggage ہوتا ہے۔ وہ اگر اسے باور کرائے کہ بچہ ایک نادانی تھا ۔ وہ انجوائے کرنا چاہتی ہے۔ یہاں دوبئی میں اس کے کاروبار میں معاون بننا چاہتی ہے تو وہ شاید اسے ضائع کرنے پر رضامند ہوجائے۔اس خیال سے اس کے دل کو ایک تسلی ہوئی اور وہ سوگئی۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو خالہ ناشتے کی میز پر تھیں اور خالو اپنے دوستوں سے ملنے جاچکے تھے۔اس نے انہیں بہت آہستگی سے تصویر والی بات بتائی۔بہت دیر تک وہ اسے بے یقینی سے دیکھتی رہیں۔وہ اسے بتانے لگیں کہ “اس کا میاں بھی  کہہ رہا تھا کہ رومینہ نے نعمان سے شادی کرنے میں جلدی کی۔اس کے والدین اگر اس سے پوچھ لیتے تو بہتر ہوتا۔ “He is mad, bad and dangerous to know۔اس نے اپنی خالہ سے احتجاج کیا کہ “انہوں نے اسے یہ بات کیوں نہیں بتائی تھی؟” تو خالہ نے کہا کہ ” You were already carrying his child before marriage”۔ اسے لگا کہ اس کی امی نے خالہ کو یہ بات بتا کر زیادتی کی ہے۔
ایک بارگی اس کے دل میں آیا کہ وہ اپنی خالہ کو جتادے کہ ان کے حالات بھی اُس سے بچے کے معاملے میں کچھ مختلف نہ تھے ۔ وہ تو کم سن تھی اور نادانی کی تھی ۔انہوں نے یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا۔جانے کیوں اس نے اس بات پر صبر کیا ۔ شاید اس لیے بھی کہ وہ ایک عدالت وہ پہلے ہی تن تنہا لگا چکی تھی۔ اس میں اس نے اپنا فیصلہ صادر کردیا تھا اور اب وہ اس فیصلے کو وہ الزام در الزام کے بکھیڑے میں روندنا نہیں چاہتی تھی۔ اس کے فیصلے کی رو سے اپنی اس وردات میں خالہ زیبو کو تو وعدہ معاف گواہ بنا کر استعمال کرنا شامل تھا۔ وہ اگر انہیں اس معاملے میں جوڑ کر تصادم سے بچ بچا کر رکھتی ہے تو ممکن ہے کے ضرورت پڑنے پر مدد کے لیے کھیپ یوں کا سردار گل سینٹر والا خالو آفتاب میمن ضرور آئے ۔ اس کی شادی میں جلد بازی کا اشارہ مل چکا تھا۔ یہ اس کی ہمدردی کے لیے پہلا لہذا اس سے بھی بگاڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اس نے زیبو کو بوبی کے اغوا میں خالو آفتاب کے حوالے سے بھی کچھ نہیں بتایا کہ اس سے ان کے تعلقات میں بگاڑ آنے کا اندیشہ تھا۔
لمحے کا بوجھ ٹالنے اور اپنے غصے پر قابو پانے کی خاطر وہ چپ چاپ اٹھی اور انیتا ڈیسائی کی کتاب The Zigzag Way اٹھالائی جس میں وہ تصویر والا لفافہ موجود تھامگر اس نے تصویر دکھانے میں کوئی جلدی نہ کی ۔ خالہ سے البتہ اس نے یہ ضرور پوچھا کہ” کیا اس کے والدین کو  نعمان کے حوالے سے کوئی معلومات تھیں؟”۔ وہ کہنے لگیں “اس کی امی اس کی اس ضد پر بہت پریشاں تھیں کہ شادی میں کوئی بڑا اہتمام نہ ہو اور یہ ایک Low-Key Affairرہے۔وہ کوئی بچہ نہیں پینتیس سال کا مرد ہے ۔ یہ لڑکوں والے شادی کے چونچلے اسے زیب نہیں دیتے۔میں نے انہیں بتایا بھی تھا کہ بھائی جان اور بھابھی میرے پاس آئے تھے انہوں نے امی کے سامنے بھی بہت گڑگڑایا ہے کہ رومینہ کی شادی بوبی سے ہی کریں۔خود بوبی بھی میرے پاس آیا تھا کہ پھوپھو میری مدد کریں۔ رومینہ سے میری شادی کرادیں میں کل ہی بارات لے آؤں گا۔مجھے اس کے نعمان سے افئیر کا علم ہے مگر ہم سب سے جوانی میں غلطیاں ہوتی ہیں۔ وہ میری محسن ہے میں اس بات کا ذکر ساری عمر زبان پر نہیں لاؤں گا۔
خالہ نے الزامات کا سلسلہ دراز کرتے ہوئے کہا کہ ” ساری مصیبت تمہاری بچے والی نادانی سے ہوئی۔میں نے انہیں حالانکہ کہا بھی کہ بوبی سے شادی کے لیے تین مہینے کا وقت مان لیتے ہیں تمہارا Miscarriage کرادیں گے ” ان کی غلط انگریزی سن کر رومینہ نے کہا “خالہMiscarriage اپنی رضامندی سے نہیں ہوتا۔ اپنی مرضی سے ہونے  والی بات کو انگریزی میں Abortion کہتے ہیں “۔ اسی وقت اسے اردو کی تہی دامنی پر پھر وہی غصہ آیا جو نومی کی بنکاک میں سمجھائی گئی ریپ اور زنا والی بات پر آیا تھا۔ یہ تو بہت اہم الفاظ ہیں ان کے متبادل الفاظ جرم،رضا،مجبورئی جیسے غالب تصورات کو انہی  درست فریم میں ٹانگتے ہیں۔
خالہ کا بیان جاری تھا ” میں نے انہیں کہا بھی کہ جویریہ کی پھوپھو کا کلینک ہے میری ایک دو اپنی جاننے والی ڈاکٹر دوست بھی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ لاکھ روپے لیں گی۔ کسی کو پتہ بھی نہ چلے گا بات باجی کے اور میرے درمیاں رہے گی۔تمہاری امی نہ مانیں ابھی تک فاطمہ ثریا بجیا اور زبیدہ آپا کے زمانے میں رہتی ہیں۔گناہ ہوگا۔۔ ان کی ایک ہی ضد تھی۔ اب مجھے بتاؤ گناہ کی تو توبہ ہے ۔
اللہ معاف بھی کرنے والا ہے۔مردوں کے اس حرامی پن کو کون سنبھالے۔ اس کا کیا کفارہ ہے؟ اس کام کے بعد ان کے ساتھ بھی کچھ ہوتا، کم از کم بچہ پیدا کرنے کا درد ہی اللہ میاں ان بستر زادوں کو دے دیتا تو ساری عمر عورت کے پاس نہ پھٹکتے۔ مجھے پتہ ہے یہ سارا کام اس نے بنکاک میں کیا ہوگا۔ اسی لیے تمہیں وہ ساتھ لے گیا تھا۔ خرم بھائی جان بھی جاسکتے تھے ” رومینہ نے جو اپنے خیالات میں گم تھی یہ سمجھا کہ شاید وہ قرار حمل کی بات کررہی ہیں تو اس نے بے دھیانی میں کہا “نہیں ہواہن میں؟ ” اسے علم تھا کہ نومی کا بچہ اس کے پیٹ میں کب آیا۔ وہ رات بہت بے باک تھی۔اس رات احتیاط کو بالائے طاق رکھ دیا گیا تھا۔ ففٹی شیڈ آف گرے کی Anastasia Steele نے بھی ہنستے ہوئے اس کی بات مان لی ۔ رضا و رغبت، وحشت و سپردگی کے لمحات اس وقت شروع ہوئے جب اسپا سے وہ اسے ہواہن میں مانجھ کر گود میں اٹھا کر کمرے پر لایا تھا ۔ اس کے سیل فون پر وہ دیر تک کمرے میں ناچے،جام بھی لنڈھائے جب اس نے شکیرہ کے مشہور گیت ہپس ڈونٹ لائی کی نقل کرتے ہوئے کہا تھا کہ
” Ladies up in here tonight
No fighting, no fighting
We got the refugees up in here
No fighting, no fighting.I know how to play my game.And my hips don’t lie”
اس کے یہ بول سن کر اس نے بھی اپنے سب خدشات کو پرے رکھ کر شکیرہ کی طرح کولہے مٹکا کر اور اسی شہرہ آفاق گیت کے یہ بول گا کر ا پنی وحشت کو سپردگی کا ر وپ دے دیا تھا کہ
Oh baby when you talk like
that
You make a woman go mad
So be wise and keep on
Reading the signs of my body

 

شکیرہ-کا-جان-لیوا-گیت-ہپس-ڈونٹ-لاءی-پر-ایک-انداز

اس نے تمہیں وہاں Deflower کیا؟
“نہیں بنکاک میں میرا ڈرنک اس نے Spike ( شراب یا کسی اور ڈرنک میں نشہ آور شے کی آمیزش کرنا) کیا تھا؟ رومینہ نے وضاحت کی۔
خالہ نے یہ سن کر پلٹ کر ایک وار کیا کہ
” And you lied you did’nt stay in the same bed and in the same room Aftab had booked for you two”
خالہ کی یہ بات سن کر اس نے سر جھکالیا۔اسی دوران اس نے ایک مجرمانہ خاموشی سے کتاب سے نکال کر  ان کے سامنے وہ تصویر رکھ دی۔اس تصویر کو خالہ زیبا نے الٹ پلٹ کر خوب غور سے دیکھا۔انہیں ساوتری کا  نام بھی پتہ تھا۔
رومینہ نے انہیں یہ بھی بتایا تھا کہ اس کے بارے میں نومی نے انکشاف کیا تھا کہ عام شکل و صورت کی موٹی سی، قد کی چھوٹی معمولی تعلیم یافتہ کلرک نما لڑکی۔جسے نہ تو دنیا کا کچھ علم تھا،نہ اس میں کوئی اسٹائل تھا۔ ہندوستان کے علاقے کیرالہ میں واقع کوچین کے کسی چھوٹی سی بستی سے اٹھ کر اپنے ملباری رشتہ داروں کی مدد سے دوبئی آگئی تھی۔زندگی میں نہ تو کبھی ساڑھی باندھی تھی نہ کوئی کتاب اپنی درسی کتابوں کے علاوہ پڑھی تھی۔میں نے اسے جوانی کی بھول جانا اور جب اسی کے والدین نے ضد کی تو اسے چھوڑ بھی دیا”۔

” یہ زاہد کون ہے اور تمہیں تو اس نے کہا تھا کہ شادی ایک سال چلی ۔ بچے اس لیے نہیں پیدا ہوسکے کہ ساوتری کی Fallopian tubes میں مسئلہ تھا۔ خود ہی ڈاکٹر سے پوچھ کر آئی تھی ۔ایک اللہ نے بڑا کرم یہ کیا کہ اس سے اولاد نہ ہوئی۔؟ “خالہ نے اس حوالے سے اہم ترین سوال پوچھا
تمہیں یہ یقین ہے کہ بچے اسی کے ہیں؟
” زاہد ،نعمان کا پرانا نام ہے۔بچے بھی اسی کے ہیں ۔دونوں کی شکل نومی سے ملتی ہے۔بیٹا تو بالکل اپنے باپ پر گیا ہے۔اللہ کرے اس کے کرتوت باپ جیسے نہ ہوں” ۔رومینہ نے مری ہوئی آواز میں جواب دیا۔
” شی از ایلی گینٹ اینڈ کیوٹ۔ تمہیں تو اس نے بتایا تھا کہ وہ عام شکل و صورت کی موٹی سی، قد کی چھوٹی معمولی تعلیم یافتہ کلرک نما لڑکی۔یہ توبالکل کوئی انڈین ایکٹریس لگتی ہے” ۔
” ودیا بالن ” ۔۔رومینہ نے اپنی طرف سے ایک شناخت اسے دے دی ۔” خالہ آپ اس کی کتابیں تو دیکھیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔اس کی ڈی دو ڈیز کا کلیکشن دیکھیں” ۔
اس حوالے سے کچھ اور بھی سوال اور جواب ہوئے۔رومینہ نے اپنے پلان کا کچھ حصہ انہیں بتایا کہ وہ پیر کے دن اسکول جائیں گے۔اس سے ملنے کی کوشش کریں گے۔ وہ وہاں یقیناًآئے گی کیوں کہ بیٹا اب آٹھ نو برس کا ہوگا اور ممکن ہے کومل اب پانچ کی ہو۔اس اسکول میں بچے گیارہ سال کی عمر تک پڑھتے ہیں پھر ان کے دوسرے کیمپس میں چلے جاتے ہیں
۔اس نے بہت سنجیدگی سے ان سے وعدہ لیا کہ وہ اس سلسلے میں نہ تو اپنے میاں سے کوئی بات کریں گی نہ اس کے امی ابو سے۔انہیں یہ سب باتیں سن کر بہت دکھ ہوگا۔البتہ اس نے فی الفور فیصلہ یہ کیا ہے کہ ایک تو وہ اسقاط حمل کرالے گی۔ ایسے فریبی اور مکار آدمی کی اب بیوی  بن کر رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے پاس اس کے کئی اور اہم راز بھی ہیں مگر وہ ان کو وقت آنے پر افشا کرے گی۔
پیر کے دن، خالو آفتاب، صبح کی فلائیٹ سے پاکستان واپس چلے گئے اس وعدے کے ساتھ کے وہ دس دن بعد نومی کو ساتھ لے کر آئیں گے ۔ اس نے خالہ کو ساتھ لیا اور لائیڈ بینک پہنچ گئی۔وہیں کسی دکان سے اس نے فوری طور پر اس تصویر کے پانچ پرنٹ بھی بنوالیے۔اس کا ارادہ بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے کا بھی تھا جس کے لیے اس نے آن لائن ساری تفصیلات لے کر خالو کی کمپنی کا این او سی بھی لے لیا تھا۔ جس وقت بینک سے ذرا سے فاصلے پر تھیں انہوں نے دیکھا کہ ایک عورت ساڑھی میں ملبوس کسی سے ہنستے ہوئے بات کرتی کرتی ان سے پہلے بینک میں داخل ہوئی۔رومینہ کو شبہ ہوا کہ یہ ساوتری ہی ہے ۔اس نے اپنے شبے کا اظہار اپنی خالہ سے کیا تو انہوں نے اسے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اس کے دماغ پر چونکہ ساوتری سوار ہے لہذا اسے ہر عورت وہی لگ رہی ہے۔بینک میں وہ داخل ہوکر کچھ دیر کے لیے ایک صوفے پر بیٹھ گئیں ۔ذرا سی دیر کے بعد ان کے سامنے والے کیبن میں وہی عورت داخل ہوئی جسے رومینہ نے کچھ دیر پہلے بینک میں داخل ہوتے دیکھا تھا۔ بڑے مزے سے وہ اپنی کرسی پر  ان کے عین سامنے بیٹھ گئی تو انہیں اسے پہچاننے میں کوئی تامل نہ ہوا۔ وہ واقعی ساوتری ہی تھی۔
وہ دونوں سیدھی اس کی کیبن میں چلی گئیں اور بینک میں اکاؤنٹ کھولنے کی بات کی۔ٹیبل پر لکھا نام دیکھ کر انہیں اب کوئی شک اس لیے نہ رہا کہ اس پر انگریزی میں ساوتری سکسینہ ہی لکھا تھا۔فارم پر وہ ایک نام دیکھ کر چونکی مگر اپنی حیرت کو ایک دل فریب مسکراہٹ کے پیچھے چھپالیا ۔یہ اس سے سوال پوچھنے کا ایک اچھا موقعہ تھا رومینہ نے اس سے انگریزی میں جب پوچھا کہ’’ وہ اس کا فارم دیکھ کر کیوں مسکرائی تھی؟‘‘۔ وہ شرما کر کہنے لگی’’ میرے سابق شوہر کا تعلق بھی پاکستان سے تھا‘‘۔رومینہ نے جب نام پوچھا تو اس نے زاہد ہی بتایا۔

ساوتری جیسے بینکر

رومینہ نے اس سے اس کی نجی زندگی کے بارے میں سوال پوچھنے کی معذرت کرتے ہوئے پوچھا کہ ’’اس نے سابقہ کیوں کہا تو وہ انہیں ایک پیشہ ورانہ خوش اخلاقی سے اطمینان دلاتے ہوئے کہنے لگی کہ’’ پاکستان اور ہندوستان کے لوگوں کے نجی اور پرائیوٹ زندگی کے بارے میں بات کرنے پر معذرت خواہ ہونا عجیب لگتا ہے۔ میں نے اسے چھوڑ دیا۔ شادی پانچ سال چلی۔شاید اس کی دو عدد بیویاں اور تین چار بچے پاکستان میں بھی تھے۔بڑی بیوی کا بیٹا تو شاید اس وقت پندرہ برس کا تھا۔وہ اس کے ساتھ یہاں آیا تھا۔باپ کی نئی بیوی دیکھ کر بہت پریشان ہوا تھا۔بعد میں یہاں کچھ بدمعاش قسم کے لوگوں نے مجھے تنگ کرنا شروع کردیا تو میں سمجھ گئی کہ اس کا پس منظر اس لڑکے کا یہاں مجھ سے ملنا ہے۔اس کی بیوی نے اس کے کان کھینچے ہوں گے‘‘۔
رومینہ نے اس کا دھیان بٹانے کے لیے اور موضوع کی طرف دوبارہ لوٹنے کے لیے بات کو بدلا اور اس کے حسن کی تعریف کی تو وہ خوش ہوگئی اور آہستہ سے کہنے لگی ” Blame it on regular work out other wise I am mother of two” اب سوال کرنے کی باری خالہ کی تھی۔ انہوں نے اس سوال پوچھا کہ’’ بچوں کے نام کیا ہیں اور وہ زاہد ہی سے ہیں ؟‘‘تو وہ کہنے لگی ’’بچوں میں لڑکے کا نام تو میں نے رکھا تھا دل آویز۔ہمارے لکھنوء میں یہ بڑا پاپولر نام تھا مگر بیٹی کا نام اس نے کومل رکھا تھا۔
یہاں قریب ایک اسکول ہے دونوں اس میں پڑھتے ہیں۔میرے لیے ان کو لانا لے جانا آسان رہتا ہے۔سنگل پیرینٹ ہونے کے ناطے آپ کو تھوڑی مشکلات تو ہوتی ہیں‘‘۔ رومینہ نے پوچھا کہ ’’ اس پرانے میاں سے کوئی رابطہ نہیں ہوتا؟‘‘ وہ کہنے لگی ’’نہیں مجھے جھوٹے دغا باز لوگ اچھے نہیں لگتے۔میں پہلے ائیر ہوسٹس تھی جب اس سے ملاقات ہوئی۔بی ۔بی ۔اے کے کچھ کورسز رہتے تھے۔ طلاق کے بعد میں نے فلائنگ چھوڑ دی۔ واپس لکھنؤ گئی اپنا ایم بی اے کیا اور بینک میں نوکری کی اور یہاں دوبئی ٹرانسفر لے لیا۔ اس کو چھوڑنے کا کوئی دکھ ہے؟
خالہ نے پوچھا۔’’ نہیں البتہ اس کے پاس میری کچھ جیولری رہ گئی تھی،میرے نانا نے کسی نواب سے بہت قیمتی جیولری Distress Sale میں سستے داموں خریدی تھی۔ میری امی ان کی اکلوتی ولاد تھیں اورمیں ان کی اکلوتی اولاد ہوں۔ انہوں نے یہ سب مجھے دان کردی تھی۔ ابو کا دیہانت (انتقال) ہوا تو اسی نے سجھاونی دی کہ اتنی دولت کا وہاں ہندوستان میں رکھنا کوئی سمجھ داری نہیں میں ماتا جی کو اور اس جیولری کو لے آوءں اور یہاں لاکر میں رکھ دوں اور میں ایسی نادان کے سب لے کر دوبئی آگئی تھی۔ وہ لاکر میں تھی۔ طلاق کے دنوں میں اس نے مشترکہ لاکر سے وہ غائب   کردی۔ریکارڈ تو تھا نہیں کہ کچھ ہوسکتا،مگر ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ کروڑ درھم کی ہوگی۔ بہت اینٹیک  جیولری تھی ۔ میری امی کہتی تھیں ہوسکتا ہے یہ ان نواب صاحب کے ہی خاندان کا وارث ہو۔ان کو وہ بہت پسند تھا۔رومینہ کو لگا کہ وہ ہر خاندان میں ایک اہم فرد کو اپنا گرویدہ بناکر واردات کرتا تھا۔جیولری کے علاوہ کچھ اور اس نے نہیں ہتھیایا۔ کچھ خط تھے میرے ایک پرانے اسکول کے دنوں کے پریمی کے ہندی میں۔ ایسے خط جو آپ پندرہ سولہ سال کی عمر میں ایک دوسرے کو لکھتے ہیں۔ وہ اس کے سامان میں رہ گئے۔ہم ان دنوں   ڈیرہ دوبئی کے ایک فلیٹ میں رہتے تھے وہ چھوٹا پڑ رہا تھا۔ دل آویز کا اسکول بھی دور پڑتا تھا ۔کومل بھی بڑی ہورہی تھی مگر ہمارے تعلقات کی کشیدگی بھی عروج پر تھی۔ اس نے جمیرہ بیچ پر ایک ولا لیا تھا ۔مجھے اس کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔شاید اس میں سے کچھ جیو لری کو ہی بیچ کر لیا ہو اسی میں مجھے لگتا ہے شاید میرا وہ سامان بھی چلا گیا۔کچھ بکس اور وہ خط اور کچھ لانجرے آئٹمز جو مجھے یقین ہے اس کی پرانی بیوی نے جلادیے ہوں گے۔ وہ یہاں رہنے آگئی تھی‘‘۔ رومینہ نے پوچھا کہ “کیا اسے لگتا ہے اس نے اور بھی کوئی شادی اس کے بعد کی ہوگی؟”

“وہ ایک ایسا مرد تھا جو ایک پلان پر عمل ہوتے ہی دوسرا پلان بنالیا کرتا ہے”. ساوتری نے اسے بتایا
ان کی گفتگو جاری تھی کہ ایک لڑکی نے بتایا کہ اس کا اکاؤنٹ کھل گیا ہے وہ اگر رقم جمع کرانا چاہے تو اب کرسکتی ہے۔خالہ ز یبونے اس پر اٹھنے سے پہلے ساوتری کو بتایا کہ اس کا سامان اسے مل سکتا ہے اس لیے کہ اب وہ جمیرہ بیچ والے اس ولا میں نئی کرائے دار ہے۔یہ میری بھانجی رومینہ ہے۔یہ کہہ رہی تھی کہ Attic میں مالک مکان کا کچھ پرانا سامان پڑا ہے۔ہم نے اسے کہا بھی تھا کہ وہ اسے لے جائے مگر انہوں نے کوئی دل چسپی نہیں دکھائی۔ہم نے صفائی کی تو کتابوں کا ایک بکس اور ڈی وی ڈیز بھی ملی ہیں۔اسی دوران رومینہ نے وہ تصویر اس کے حوالے کی تو اس کا چہر ہ خوشی سے دمک اٹھا اور وہ بے اختیار کہہ اٹھی کہ” واٹ اے لٹل ورلڈ۔یہ سب کچھ وہی ہے”۔جس پر رومینہ نے کہا کہ اگر وہ اجازت دے تو وہ کتابیں پڑھ لے اور اس کی ڈی وی ڈیز بھی دیکھ لے۔وہ اس بات کا اطمینان رکھے کہ چونکہ وہ ہندی نہیں پڑ ھ سکتی۔لہٰذا اس کے پریم پتر سیف ہیں۔لیکن وہ وعدہ کرے کہ وہ بچوں کو لے کر ان کے گھر جمیرہ بیچ پر پکنک منانے اگلے ہفتے آئے گی تو وہ یہ سامان اسے دیں گی۔ دس دن تک وہ اور یہاں ہے پھر وہ پاکستان چلی جائے گی۔
۔ There are stories to share جب ساوتری نے وعدہ کرلیا تو وہ وہاں سے چل پڑیں۔ دونوں ہی بہت خوش تھیں کہ ان کو نعمان کے بارے میں اتنی سب کچھ معلومات اس قدر باآسانی مل گئیں۔ایسا کہاں ہوتا ہے۔رومینہ نے سوچا اب اس کا اگلا قدم طلاق لینے اور اس سے پہلے انتقام لینے کا ہے مگر وہ اس کی پلاننگ ساوتری کی مدد سے ہی اس دن کرے گی۔

گھر آن کر وہ اسی ساوتری سکسینہ کی ہی باتیں کرتی رہیں۔ خالہ نے جب رومینہ سے پوچھا کہ ’’ اس کا اب اگلا قدم نعمان کے حوالے سے کیا ہوگا ؟‘‘تو اس نے کہا’’ وہ ابھی ان تمام معلومات کو اپنے اندر سمانا چاہتی ہے تاکہ اس کے بارے میں وہ صحیح فیصلہ کرسکے۔اسے اس معاملے میں دو عورتوں کی مدد درکار ہوگی۔ان کے سوال کا انتظار کیے بغیر اس نے کہا ایک تو آپ کی۔ اس لیے کہ نعمان اور بوبی کے حوالے سے ایک راز ایسا ہے جس نتیجے میں ان کے گھرانے کو پہنچنے والے نقصان کا انہیں ٹھیک سے اندازہ نہیں۔اس بات کو سمجھنا اور اس پر انگریزی میں کہتے ہیں کہ دشمن کا دشمن آپ کا دوست ہوتا ہے۔ میں نومی کی دشمن ہوں گو میری یہ دشمنی کیسے پیدا ہوئی اور نومی کون ہے اس کے بارے میں اسے ابھی کچھ علم نہیں۔ لیکن آپ اسے میری دوست بنانے میں مکمل مدد کریں گی‘‘۔
اس کی بات سن کر اور اس کے ارادوں کی اٹھان دیکھ کر خالہ کچھ سراسیمہ سی ہوگئیں۔ان کے اس بارے میں رومینہ سے صرف تین سوال تھے۔ کیا اس نے بچہ ضائع کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا ہے؟ کیا وہ نعمان کو چھوڑ دے گی اور وہ راز کیا ہے؟اس نے پہلے دو سوالوں کا جواب تو ایک پر اعتماد ہاں سے دیا مگر آخری سوال کا جواب وہ یہ سوچ کر گول کرگئی کہ آج کے تمام تر انکشافات کے بعد وہ اپنی خالہ کا طرز عمل ایک ہفتے تک دیکھے گی۔جب نومی یہاں آئے گا اور اگر اس عرصے میں انہوں نے محتاط اور بالغ طرز عمل کا مظاہرہ کیا تو وہ انہیں ایک وارننگ کے ساتھ بوبی کے اغوا میں نعمان کی کارستانی کا راز  کھول دے گی۔ اس اظہار میں وہ البتہ یہ احتیاط کرے گی کہ خالو آفتاب کے ملوث ہونے کی قباحتوں پر مصلحتوں کی دبیز چادر ڈال دے ۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ خالہ اس محدود جنگ میں کسی کراس فائر میں آجائے۔ان دونوں میاں بیوی کے تعلقات بہت خوش گوار تھے ۔ دن میں وہ کم از کم چار پانچ دفعہ ان کی خیریت اور ان کے حمل کے بارے میں سوال کرتا تھا۔ جب کہ رومینہ کو نعمان کا دو تین دن میں ایک دفعہ ہی مختصر سا فون آیا تھا اور اس میں بھی اس کے ماں بننے کے بارے میں کوئی دل چسپی کا اظہار نہ تھا۔اس کے بھلے سے کئی بچے تھے رومینہ کی تو یہ پہلی اولاد تھا اور وہ بھی اس کا Love Child تھا۔

جاری ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *