یاجوج ماجوج

یہ کہانی مجھے تو میری امی نے سنائی تھی، پتہ نہیں آپ لوگوں نے بچپن میں سنی ہو یا نہ ہو۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ یاجوج ماجوج دو سرکش قبیلے تھے جن کو ایک نیک دل بادشاہ نے ایک علاقے میں محصور کرکے ایک بڑی دیوار بنادی کہ وہ اس سے باہر نہ آسکیں۔ تب سے وہ اس دیوار کو چاٹ رہے ہیں مگر کبھی وہ اس دیوار میں راستہ نہیں بنا سکے اور دنیا میں نہیں آسکے۔ تاہم قیامت کے قریب ان میں ایک مسلمان بچہ پیدا ہوگا جو کہے گا کہ انشااللہ اس میں راستہ بنے گا اور وہ بنا دے گا۔ میں نے پوچھا کافروں کا ایک مسلمان بچہ؟ امی نے کہا کہ ہاں مسلمان بچہ۔ اس کے بعد یہ یاجوج ماجوج پوری دنیا میں پھیل جائیں گے اور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

یہ ایک دلچسپ کہانی تھی بعد ازاں جب میں نویں میں تھا تو افغان جہاد شروع ہوا۔ کالج میں گیا تو جمیعت کے لوگ افغان جہاد کے لئے دلائل سے مسلح ہوتے تھے۔ یہ سرخ ریچھ، کمیونسٹ اصل میں یاجوج ماجوج کی نسل ہے جو روس اور چین میں ہے۔ یہ محصور اقوام ہیں جن کو راستہ چاہیے۔ میں نے ایک نوجوان کو یہ کہتے سنا کہ یہ محصور رہیں گے، ان کو راستہ نہیں ملے گا۔ ایک تو کہہ رہا تھا یہ دیوار چین ہی تو یاجوج ماجوج کی دیوار ہے۔ میں نے توجہ نہیں دی مگر اس طرح کے دلائل تو ملتے تھے کہ یہ محصور لوگ راستہ چاہتے ہیں۔ ایک دفعہ مولوی صاحب مسجد میں کہہ رہے تھے کہ کافروں کے ہاں مسلمان بچہ پیدا ہوتا ہے، پاکستان بھی ایک مسلمان بچہ ہے جو کفر یعنی انڈیا سے الگ کیا گیا۔ یہ ایک پاک وجود ہے جسے کفر کے نجس سے الگ کیا گیا۔

میں ٹی وی دیکھ رہا تھا، ایک تجزیہ نگار کہہ رہا تھا کہ انشااللہ پاکستان راستہ بنائے گا اور روس اور چین کو راستہ دے گا وہ مشرق وسطی اور یورپ سے لنک ہوجائیں گے۔ ایک دانشور دوست ملا، وہ بتلا رہا تھا کہ جب مذہبی اساطیر لکھی جارہی تھیں تو دنیا سے مراد مشرق وسطی، ایران اور روم ہی ہوتا تھا۔ مجھے ان باتوں میں ربط نظر نہیں آتا، یاجوج ماجوج، دیوار، مسلمان بچہ اور محصور اقوام کی سمندر تک رسائی مگر ان کی آبادی واقعی اتنی زیادہ ہے کہ دنیا میں تل رکھنے کی جگہ نہیں ہوگی۔

ایک دوست کہہ رہا تھا کہ انڈیا اور چین ملا کر دنیا کی نصف سے زائد آبادی ہے اگر پاکستان اور بنگلہ دیش بھی ملا دو، اور یہ سب دنیا میں پھیل گئے تو دنیا میں کون سی جگہ بچے گی؟

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
غیر سنجیدہ تحریر کو سنجیدہ انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *