تعلیم یافتہ۔۔۔۔محمداقبال دیوان/قسط8

SHOPPING

شہر کی ایک مشہور پبلک یونی ورسٹی کے ایام وابستگی سے منسلک سچے واقعات سے جڑی ایک جھوٹی کہانی
گزشتہ سے پیوستہ
شادی کی رات سے ایک دن پہلے جب مینواپنے کمرے میں جویریہ اور سارہ کے ساتھ موجود تھی بوبی وہاں آگیا۔ وہ چاہتا تھا کہ مینو سے وہ اکیلے میں بات کرے۔مینو نے اجازت دی تو وہ اس سے لپٹ کر بہت رویا اور اسے واسطے دیے کہ ” وہ نعمان سے شادی سے انکار کردے وہ کل ہی بارات لے کر آئے گا ۔ وہ اس کی پہلی اور آخری محبت ہے ۔وہ اس کے بغیر کیسے جیئے گا؟! ” ۔ اس کی بات مینو نے بہت اطمینان سے سنی اور انگریزی میں مہاتما بدھ کا وہ مشہور جملہ دہرایا جو وہ اپنے شاگردوں اور چیلوں کو اکثر کہا کرتے تھے کہ ” I see and know what you don’tبوبی آپ کو نہیں معلوم کہ میں نے تمہاری خاطر پہلے ہی کتنی بڑی قربانی دی ہے۔ “You too are my first love”۔اگر ہمارا پیار سچا ہے تو اللہ ہمیں پھر سے ملائے گا ۔بس تم ایک وعدہ کرو کہ میں جب تک   تمہیں او۔ کے نہ کہوں تم شادی نہ کروگے۔”بوبی نے سر جھکا کر وعدہ تو کرلیا مگر وہ جانتا تھا کہ مینو نے یہ سب کچھ محض اس کا دل رکھنے کے لیے کہا ہے۔ شادی والے دن وہ بہت اداس تھی۔

نئی قسط
جویریہ کی اپنی شادی بھی اس دن تھی البتہ سارہ کچھ دیر اس کے ساتھ رہی اور پھر وہ جویریہ کی طرف چلی گئی۔ وہاں رونق زیادہ تھی یہ تو ساری شادی گھر ہی پر ہورہی تھی۔ جس گاڑی میں وہ رخصت ہوئی یہ وہی جیپ تھی نیلی پراڈو جس میں وہ اس کے ساتھ کئی دفعہ باہر گئی تھی۔اسے سجایا بھی فرقان بھائی نے اس کے گھر کے پاس پاپوش نگر کے پھول والوں سے  تھا۔ اس کی طرف سے بمشکل بیس لوگ آئے تھے۔اس کی امی کو پہلی اولاد کی یہ بے لطف شادی کی تقریب جس میں دولہا کی عمر زیادہ ہونے کا احساس انہیں سبھی نے دلایا تھا نے اندر سے ریزہ ریزہ کردیا۔ وہ سوچ رہی تھیں کہ مینو کے پیٹ میں اگر نومی کا بچہ نہ ہوتا تو وہ ہرگز اس کے انتظامات کی تفصیلات جان کر رضامندی نہ ظاہر کرتیں۔اس شادی سے تو چہلم پر زیادہ گہما گہمی ہوتی ہے۔
انہیں اس سارے کھیل میں مینو کا قصور سب سے زیادہ دکھائی دیا اور ان پر یہ بات بھی ایک مادرانہ ادراک سے عیاں ہوگئی کہ اس جسمانی تعلق کی ابتدا یقیناً تھائی لینڈ میں ہوئی ہوگی۔انہیں نومی کے ساتھ مینو کو وہاں جانے کی اجازت دیتے وقت بھی دل پر بہت بوجھ محسوس ہو ا تھا۔جس وقت مینو نومی کے ساتھ جانے کے لیے کار میں بیٹھ رہی تھی اس کے سر پر روایتی انداز میں قرآن کا سایہ کرنے کے لیے بوبی کو ہی کہا گیا تھا۔ بوبی سے گلے لگ کر جب وہ کار میں سوار ہورہی تھی اس نے اسے آئی لو یو بھی کہا اور اس کا وعدہ بھی یاد دلایا۔ رات جب نعمان اسے پیار کررہا تھا اس نے ایک دفعہ پھر وہی بات چھیڑی کہ  اس کے جذبات بوبی کے بارے میں واقعی وہ ہیں جو اس نے بنکاک میں بیان کیے تھے۔ یعنیWe still are a family , or there is more than what meets the eyes?”
تو مینو نے اسے  کہا کہ آپ میرے پہلے مرد ہیں۔” I was a virgin before you touched me and I plan to remain so for all the men of the world.”
مینو کا خیال تھا کہ نومی اسے ہنی مون کے لیے واپس تھائی لینڈ لے جائے گا۔ وہ انہی مقامات پر اس کے ساتھ وہی کرے گی جو پہلے کیا تھا۔یہ ایک طرح سے ” Say Hello to yesterday “ہوجائے گا اور اس حوالے سے اس دل میں جو خلش ڈیرے ڈالی بیٹھی ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خارج ہوجائے گی وہ خود کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجائے گی کہ” After all I did this with my husband , only timing was wrong” وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا۔
اس کے وہی کاروباری مصروفیت کے بہانے تھے۔ وہ اب تک رہ بھی اپنی امی کے ساتھ رہی تھی۔اس کے گلشن اقبال والے بنگلے میں وہ تن تنہا ہول کھاتی تھی۔ البتہ کچھ سامان اس کا اب بھی وہیں تھا ۔رات کو اسے وہ وہاں لے جاتا۔دن میں دفتر جاتے وقت اسے واپس امی کے پاس چھوڑ جاتا تھا۔ اس کے رویے میں جو شادی سے پہلے لبھاؤ اور والہانہ پن تھا ۔وہ اب خال خال ہی دکھائی دیتا تھا۔اس نے جب ضد کی کہ وہ اسے بھی دوبئی شفٹ کردے تو اس کا اصرار ہوتا کہ تھائی لینڈ کے ٹرپ کی وجہ سے اس کے دو تین اہم کاروباری معاملات بڑے نقصان کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس نقصان کا ازالہ کرنے میں وہ بہت دشواری محسوس کررہا ہے۔وہ اگر دوبئی رہنا چاہتی ہے تو اسے اپنی خالہ کے ساتھ رہنا ہوگا۔وہ چاہے تو وہاں ملازمت بھی کرسکتی ہے یا وہاں دوبئی کی امریکی یونی ورسٹی میں اپنی پڑھائی بھی جاری رکھ سکتی ہے گو اس کے اخراجات کے لیے وہ اس کی خالہ اور آفتاب سے بات کرے گا۔
مینو نے سوچا کہ نیا ماحول ہوگا ۔وہ کچھ نئے فیصلے کرے گی۔ملازمت مل گئی تو ممکن ہے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ایک دن ایسے ہی وہ اور خالہ جمیرہ بیچ پر بیٹھی باتیں کررہی تھیں کہ اس نے ان سے ایک سوال کیا کہ آفتاب سے شادی کا مرحلہ کیسے آیا؟ وہ بھی بڑی چھلکن کے موڈ میں تھیں۔بتانے لگیں کہ جب انہوں نے پہلی دفعہ شگفتہ کے ساتھ آفتاب کو دیکھا تو انہیں دونوں کے تعلق میں ایک کھنچاؤ لگا۔ مجھے اس میں اپنے لیے ایک ونڈو دکھائی دی۔ یہ بھانپنے میں کچھ دیر نہ لگی کہ آفتاب مالدار اور اپنے تئیں ہشیار ہونے کے باوجود بہت Primitive سا مردہے۔اپنی شخصیت کو بہتر اور ارفع ثابت کرنے کے لیے مال خرچنے میں پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس کا پرابلم دولت سے مماثلت رکھنے والی self-actualization ہے ۔یہ پاکستان میں زمیندواروں اور تاجروں کا بنیادی مسئلہ ہے۔ان کو self-actualization کے لیے عورت اور طاقت کی ضرورت رہتی ہے۔ ۔اس لیے میں تمہاری صحت یابی کی دعوت والی رات فو ن نمبر بھی چوری چھپے ایکسچینج کرلیے۔I wanted a quick kill. A one shot kill. No chance .Now or never Zebu sort of shot. بات جلد ہی ملاقاتوں تک جاپہنچی۔

جمیرہ بیچ ،دبئی

میں نے بھی طے کرلیا کہ آفتاب کو اگر پھانسنا ہے تو میں اس لو لائف شگفتہ والی غلطی نہیں کروں گی۔میں بہت خاموشی سے پریگننٹ ہوگئی مگر اسے بتایا نہیں۔ نعمان بھائی تو خرم بھائی کو کرکٹ کی دعوت دے کر بھول بھال گئے تھے۔ میں آفتاب کے پیچھے لگی رہی۔یہاں آکرمیں نے اسے اپنی لیب رپورٹس دکھائیں۔وہ کہنے لگا اس کا کیا ثبوت ہے کہ بچہ اس کا ہے؟ میں نے کہا چلو یہاں ڈی این اے  ٹیسٹ کرالیتے ہیں۔یا تم کو انکار ہے تو میں پولیس میں جاتی ہوں یہاں بھی تم روز رات کو میرے بستر میں ہوتے ہو۔وہ گھبراگیا، تم لوگوں کے جانے کے بعد ہم نے وہاں سول میرج کرلی۔
خالہ زیبا کے اس انکشاف سے لگا کہ اس سارے کھیل میں نعمان کے علاوہ جس دوسری ہستی نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا وہ وہی تھیں۔
انہوں نے بنکاک کے حوالے سے نعمان کا احوال جاننا چاہا تو رومینہ بہت سی باتیں گول کرگئی مگر اس گدھے آفتاب نے انہیں بتادیا تھا کہ بنکاک میں وہ ایک کمرے میں تھے۔ رومینہ نے بات نبھانے کے لیے کہا کہ بنکاک کے پولن چٹ ایریا میں سوا ٹیل ہوٹل میں جہاں آفتاب خالو نے کمرہ بک کرایا   تھا و وہ واقعی کوئین سائز بیڈ والا ایک روم تھا۔اس کا کرایہ بھی تین سو ڈالر کے لگ بھگ تھا ۔میں نے تو ایک بیڈ دیکھ کر اودھم ڈال دیا ہم  نے فوراً  وہ بکنگ کینسل کی اور اس کے بعد وہاں سے ایڈمرل پریمئر ہوٹل میں علیحدہ کمروں میں ٹھہرے ان دو کمروں کا ملا کر کرایہ رعایت کے ساتھ دو سو ڈالر رات کا بنتا تھا۔ وہ پھر وہاں کی رات کی رنگینیوں کا ذکر لے کر بیٹھ گئی۔ یوں خالہ کے مزید سوالات کا دروازہ بند ہوگیا۔
جمیرہ بیچ والے ولا کا نچلا پورشن تو ان لوگوں نے کسی سری لنکن فیملی کو کرائے پر دے دیا تھا۔عجیب مصروف اور بے رونق سے میاں بیوی تھے ۔دونوں ہی ملازمت کرتے تھے۔اوپر کے حصے میں خالہ اور رومینہ کا قیام تھا۔آج جمعے کا دن تھا۔خالہ سو رہی تھیں۔آفتاب رات ہی آیا تھا مگر نعمان نے پھر کاروباری مصروفیت کا بہانہ کرکے پاکستان میں ہی اپنے قیام کو طول دے لیا تھا۔اگلے ہفتے آنے کا کہہ رہا تھا۔
رومینہ پر بھی چھٹی والے دن اپنی امی کی طرح صفائی کا بھوت چڑھ جاتا تھا۔ اس نے دو چھتی کی خبر لی۔ وہاں سب اسے Attic کہتے تھے۔ اس میں سامان خاصا بے ترتیبی سے پڑا تھا۔ دو بکسے تو
پرانے کپڑوں کے تھے۔ اس نے سوچا نومی آئے گا تو وہ کہے گی کہ انہیں اب وہ پہنتا نہیں تو وہاں لے جاکر بانٹ دے۔ایک بکس میں اس کی پرانی فائلیں تھیں۔وہ اس نے چھیڑنے سے گریز کیا۔مبادا کہیں کوئی کاغذ ادھراُدھر ہوجائے۔
ایک چھوٹا سا  بکس کھلا ہوا تھا اس میں اسے پرانی کتابیں دکھائی دیں۔ وہ جو دو عدد ناول پاکستان سے لائی تھی وہ اس نے پڑھ ڈالے تھے۔ ہمت کرکے اس نے اپنی امی کی ہدایت نظر انداز کرکے اسے نیچے اتارلیا ۔ ان میں زیادہ تر ہندوستان میں چھپے ہوئے انگریزی اور ہندی کے ناول اور کچھ فیشن کے رسالے تھے۔وہ ایک رسالے کو دیکھ رہی تھی کہ اس کی نظر ایک نسبتاً نئی کتاب پر پڑی جو مشہور ہندوستانی  ادیبہ ا نیتا ڈیسائی کا ناول The Zigzag Way تھا۔ اس کے درمیان دبا ہوا ایک لفافہ بھی تھا۔

اس کھلے لفافے میں ہندی میں لکھا ہوا ایک صفحہ اور ایک تصویر تھی جس میں ایک بے حد من ہوہنی صورت والی عورت ساڑھی میں ملبوس ایک بچی کی انگلی پکڑے کسی اسکول کے باہر کھڑی تھی۔ جس کا نام بھی انگریزی میں پڑھنا آسان تھا۔ “ہورائزن اسکول”۔ ساتھ ہی اسکول یونی فارم میں ملبوس ایک چھ سال کا بچہ بھی کھڑا تھا۔ تصویر ایسا لگتا تھا کوئی رکھ کر بھول گیا تھا۔پیچھے تین نام بھی لکھے تھے اور تاریخ بھی درج تھی۔نیچے کسی نے انگریزی میں قلم سے لکھا تھا۔روشنائی چار برسوں کی دھول میں اٹ جانے کی وجہ سے مدھم پڑگئی تھی مگر اس میں درج الفاظ کو پڑھنا ایسا مشکل نہ تھا۔ ” Yes those were the days — 09th Feb’ 2006″ نام جو درج تھے وہ بھی اسی تحریر میں تھے ۔ ساوتری زاہد، دل آویززاہد اینڈ کومل زاہد۔
نعمان کی تحریر وہ کئی دفعہ دیکھ چکی تھی ۔وہ سیدھے ہاتھ پر جھکی ہوتی تھی۔ تحریر شناسی کے ماہرین کہتے ہیں۔ اس طرح لکھنے والے لوگ مستقبل پرست ہوتے ہیں۔ ماضی سے انہیں کوئی لگاؤ نہیں ہوتا ۔تصویر والی تحریر میں جھکاؤ بائیں ہاتھ کی جانب تھا جو ماضی سے شدید لگاؤ رکھنے والوں کی نشانی ہے۔یہ تحریر بھی بہت پختہ اور نسوانی تھی۔الفاظ کھلے کھلے مگر چھوٹے چھوٹے تھے۔ماضی سے اس محبت کی ایک علامت وہ لائین بھی تھی جو یہ بتارہی تھی کہ ” Yes those were the days– 09th Feb ‘ 2006″
مستقبل کے اس معمار نعمان کو جب وہ واپس ہنی مون کے لیے ہواہن اور بنکاک لے جانے کی فرمائش کرتی تھی تو وہ کہتا تھا ” Past is another country. Some other place, some other time.” ۔وہ منہ  بسور کر  تحقیر ذات کے طور پر خود کوایک روتی رانی جان کر کہتی ” Queens. Queens. Strip them naked as any other woman, they are no longer queens. (مہارانیاں ، جی ہاں وہی مہارانیاں، انہیں بھی اگر ایک عام عورت کی طرح لباس سے محروم کردو تو وہ ملکہ نہیں لگتیں) ۔ اس کی تحریر اور اس کا طرز عمل اب یہ بتا رہا تھا کہ یہ شخص ماضی کو ایک بوجھ سمجھتا ہے۔

handwriting

اس تصویر کو دیکھ کر رومینہ کو چکر آگیا۔ بمشکل وہ اٹھی اور پانی پیا، پیٹ خالی تھا مگر حاملہ ہونے کی وجہ سے اسے زور کی ابکائی آئی اور پیا ہوا پانی ایک جھٹکے سے منہ  سے باہر آگیا۔
اس نے باتھ روم کے آئینے میں ایک نظر خود پر ڈالی۔وہ بہت حسین تو نہ تھی لاکھوں میں ایک نہ سہی مگر پھر بھی دس بارہ عورتوں میں وہ یقیناًایک کہی جاسکتی تھی۔اس میں Elegance and Style کی ضرور کمی تھی۔ لیکن تصویر والی ساوتری سکسینہ کے مقابلے میں تو وہ کوئی شمار قطار میں نہ تھی۔ایسا لگتا تھا کہ مشہور بھارتی اداکارہ ودیا بالن بچوں کو اسکول لینے آئی ہے۔دو بچوں کے باوجود اس کے جسم کی تراش خراش۔ اس پر ساڑھی کا چناؤ۔بلاؤز کا تناؤ۔بندھا بندھا سا ساڑھی کے پیچھے سے جھلملاتا شفاف پیٹ جس کی ناف میں ایک رنگ بھی صاف دکھائی دے رہی تھی۔اس عورت کو نومی نے عام شکل و صورت کی عام سی لڑکی کہا تھا اور اس کے حسن کو ایک معمول کا کرشمہ بتاکر ایک حقارت سے کہا تھا کہ جوانی میں تو سبھی حسین لگتے ہیں۔شادی بمشکل ایک سال چلی۔عمرکے اعتبار سے دیکھا جائے تو وہ تصویر میں کم از کم تیس برس کی لگتی تھی۔

ودیا بالن

اس نے اپنے دل کو ایک دفعہ پھر سے سنبھالا۔اسے لگا کہ اس کے بدن سے جان نکل گئی ہے ۔وہ بمشکل اٹھ کر کچن تک گئی اور دو کیلے اور انناس کے جوس کے  ایک گلاس سے اس نے اپنی توانائی کو بحال کیا۔بستر پر پڑی گیاتری زاہد کی تصویر کو ایک دفعہ پھر دیکھا۔ اس کے بدن کے گھاؤ کا تو وہ اپنے لمحات وصل میں ہواہن اور بنکاک میں جائزہ لے ہی چکی تھی اور اس کا جھوٹ اس حوالے سے بھی اس پر عیاں ہوگیا تھا۔بچوں کی صورت کو رومینہ نے غور سے دیکھا تو وہ بھی نعمان کے ہی لگے۔ایسا نہ تھا کہ نومی اس کا دوسرا میاں تھا اور یہ بچے پچھلی شادی کا کرشمہ تھے
تصویر کو اس نے ایک دفعہ پھر پلٹ کر اس تحریر کو ناموں کے ساتھ پڑھا ” Me- Savitri, Dil-Awez Zahid & Komal Zahid.” اوپر جو تحریر تھی وہ اب اس کے نعمان کے حوالے سے بھی ایک ایسی تصویر بن گئی تھی جس کی ہر جزئیات تو شاید اس کے دل کے البم میں موجود تھی مگر کوئی ایسا کیمرہ نہ تھا جو یہ منظر اپنے اندر محفوظ کرکے تو وہ بھی کہیں اسے حفاظت سے اپ لوڈ کرلیتی۔لڑکی دو دفعہ عورت بنتی ہے۔ ایک تو جب اسے پیار میں دھوکا ہو، دوسرا جب وہ ماں بنے۔ رومینہ ماں تو پہلے ہی بن چکی تھی جو کوئی معمولی تجربہ نہ تھا۔ اس تصویر کو دیکھ کر اسے پہلی دفعہ یہ ادراک ہوا کہ اس کے ساتھ پیار  میں بہت بڑا دھوکا ہوا ہے۔اسے نعمان نے ہر طرح سے لوٹ لیا ہے۔یہ احساس زیاں اس کی روح کو جھنجھوڑ گیا۔

یہ تحریر” Yes those were the days 29th June’ 2007″ اس نے سوچا اس کے دل میں بھی ایک ایسی یاد بن گئی ہے جس کے نیچے وہ بھی لکھ لے تو بہتر ہوجائے گا۔ اس کی کہانی کو بھی ساوتری کی کہانی کی طرح ایک عنوان مل جائے گا کہ ” Yes those were the days when I was his girl -2010″ وہ بھی ساوتری کی طرح ماضی پرست تھی۔اس کی تحریر بھی بائیں ہاتھ کی طرف جھکی رہتی تھی۔
اس نے یاد کیا کہ   ساوتری کے بارے میں اسے کلب میں اس نے بتایا تھا کہ ” بچے۔۔ساوتری کی Fallopian tubes میں مسئلہ تھا۔ خود ہی ڈاکٹر سے پوچھ کر آئی تھی ۔ اللہ نے ایک بڑا کرم یہ کیا کہ اس سے اولاد نہ ہوئی۔اس کے جانے کے بعد میرا اس  سے کوئی رابطہ نہیں۔ اس ساری بات کو اب دس سال سے اوپر ہوتے ہیں۔ اس کے بعد کوئی اور عورت میری زندگی میں نہیں آئی”
بچوں کے بعد وہ اپنی سابقہ سوکن ساوتری کی طرف ایک دفعہ پھر سے پلٹی۔اب وہ مقابلہء حسن کے جج کی سیٹ پر بیٹھ گئی ۔وہ جھوٹا مکار آدمی کہہ رہا تھا کہ ویسے بھی وہ مجھے زیادہ پسند نہیں تھی۔ عام شکل و صورت کی موٹی سی، قد کی چھوٹی، معمولی تعلیم یافتہ کلرک نما لڑکی۔جسے نہ تو دنیا کا کچھ علم تھا،نہ اس میں کوئی اسٹائل تھا۔ ہندوستان کے علاقے کیرالہ میں واقع کوچین کی کسی چھوٹی سی بستی سے اٹھ کر اپنے ملباری رشتہ داروں کی مدد سے دوبئی آگئی تھی۔زندگی میں نہ تو کبھی ساڑھی باندھی تھی نہ کوئی کتاب اپنی درسی کتابوں کے علاوہ پڑھی تھی۔میں نے اسے جوانی کی بھول جانا اور جب اسی کے والدین نے ضد کی تو اسے چھوڑ بھی دیا”۔
ساوتری بہت دلکش اور اسٹائلش عورت تھی۔بچے، عورت کے بدن کی چولیں ہلادیتے ہیں۔ رنڈیوں کو کتاب کی طرح پڑھنے والے درزی بھائی میاں ایک دن ان لڑکیوں کو کہہ رہے تھے عورت بچہ پیدا کرلینے کے بعد اچھی رقاصہ نہیں رہتی۔
یہ کنجر کہتے ہیں بچہ پیدا کرتے وقت پیڑوPelvic کھل جاتا ہے۔ بدن میں چال ختم ہوجاتی ہے۔پیڑو کو سمیٹ کر ناچنا ہوتا ہے۔
مگر یہاں تو معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا۔دو بچوں نے اس کے جسم کی تراش خراش کو ایک خوب صورت تھرو (Throw)عطا کی تھی ۔جیسے کرکٹ کی گیند ذرا پرانی ہوکر اسپن اور ریورس سوئنگ کے لیے اور بھی موزوں ہوجاتی ہے ۔ ساڑھی کا چناؤ اور سلیقہ۔بلاؤز کا کٹ اور بے سلوٹ آستیونوں کا اس کے سینے کے پاس بہتا بہتا تناؤ دیکھ کر لگتا تھا دیگر  عورتیں تو محض ساڑھی پہنتی ہیں مگر ا س کم بخت نے اس سبز اور جامنی کرنکل شفون کی ساڑھی کے گرد بدن پہاڑیوں کی دھند بنا کر لپیٹا ہوا تھا ۔ اس کی ساڑھی اور اس میں سمایا ہوا حسین بدن دیکھ کر اسے ہوا ہن تھائی لینڈ میں ریڈ سنائیپر مکھن میں تلی ہوئی مچھلی اور اس کے ساتھ ایک لمبی ڈنڈی والے نازک سے گلاس میں جسے فلیوٹ گلاس(بانسری) میں پی گئیCh226teau d’Epir233 Savenni232res, سفیدشراب یاد آگئی۔

فلیوٹ گلاس

اس رات وصل کی اپنی لذتیں تھیں اور اس کی بے باکی اور سپردگی بھی عروج پر تھی ۔نومی نے اسے بتایا تھا کہ سرخ شراب چوڑے گلاس میں پی جاتی ہے جب کہ  سفید شراب کو تنگ منہ  کے لمبی ڈنڈی والے گلاس میں اس لیے پیتے ہیں کہ شراب زیادہ دیر ٹھنڈی رہے۔اس کے بلبلے بھی دیر تک کم ہوا گلاس کے اندر جانے کی وجہ سے  جام کی سطح پر تھرتھراتے رہیں۔اسے لگا کہ اس کی قامت زیبا میں بندھا اس کا یہ بدن وہ سفید شراب ہے جس کے بلبلے اب سطح پر بلند ہورہے ہیں۔ اس کا حسن دلفریب اور عمر کا رواں  کا خراماں بہاؤ دیکھ کر رومینہ کو صادقین کی وہ رباعی یاد آگئی جو اس نے ایک دفعہ سر مجاہد کی زبانی سنی تھی کہ ع

دیتی ہے مزہ، جب ہو کہانی آدھی
پوشاک ہو اوودی اور دھانی آدھی
صورت میں حسینوں کے نئے معنی ہوں پاتا
جب ان کی گزر جائے ، جوانی آدھی
۔ اس نے دل ہی دل میں ایک طنزیہ ہنسی ہنسی آہاہا ۔۔تو اس اپسرا کو موصوف عام سی شکل و صورت کی موٹی سی، قد کی چھوٹی معمولی تعلیم یافتہ کلرک نما لڑکی کہتے تھے۔جسے نہ تو دنیا کا کچھ علم تھا،نہ اس میں کوئی اسٹائل تھا۔یہ تو سیدھی سیدھی ایک Walk-away killer تھی۔اب بس ایک آخری بات یہ رہ گئی تھی کہ میاں زاہد عرف نعمان صاحب کا بیان تھا کہ کوئی کتاب اپنی درسی کتابوں کے علاوہ پڑھی تھی۔وہ ایک بکس جسے وہ مشیت ایزدی کی طرف سے اس کی راہ نمائی کے لیے چھوڑگئی تھی اس میں Jun’Ichi Watanabe کی Beyond Blossoming Fields ) جس کی دس لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوچکی تھیں)انیتا ڈیسائی کی The Zigzag Way،Naila Minai کی The Women in Islam ، گبریل گارشیا مارکیز کا آخری ناول Memories of My Melancholic Whores جس کا اردو ترجمہ جو ڈاکٹر عمر میمن نے ” اپنی سوگوار بیسواوں کی یاد میں” پڑھا تھا۔ اسے یاد آیا کہ اس کی بہن سبرینہ نے اس کا ٹائٹل دیکھ کر اپنی امی سے بیسوا کا مطلب پوچھا تھا اور ڈانٹ کھائی تھی۔ ،Zoe Ferraris کی City of Veils اور اس کی پسندیدہ مصنفہ جھمپا لہری کی The interpreter of Maladies تو موجود تھیں مگر اس کے ساتھ چار پانچ ایسی ڈی وی ڈیز بھی تھیں جن کا تعارف پڑھ کر اس نے انہیں فوراً دیکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ یوں بھی اس نے ان فلموں کا تذکرہ انٹرنیٹ پر پڑھا تھا اسے اپنے گھر پر انگریزی فلمیں دیکھنے کی اجازت نہ  تھی ۔

یہ فلمیں شاید اس کے مطالبے پر ہی  اس کا میاں پاکستان سے لایا تھا کیوں کہ یہ اب بھی اسی دکان کی تھیلی میں رکھی تھیں جن پر ڈی فینس کراچی کا پتہ درج تھا یہ ڈی وی ڈیز فلم کیپنگ تھع فیتھ، ان ڈی سینٹ پرپوزل ،دی نوٹ بک، دی ریڈر، ان فیتھ فل، کلنگ می سوفٹلی کے علاوہ تین عدد ہندوستانی فلمیں” چینی کم”، “ویلکم ٹو سجن پور “اور ریکھا نصیر الدین شاہ کی “اجازت “بھی موجود تھیں۔یہ سب کچھ دیکھ کر اسے گائیتری کے حوالے سے ایک احساس کم تری محسوس ہوا۔اس جزبے سے مغلوب ہوکر وہ یہ بھول گئی کہ نومی نے کہا تھا۔”وہ چلی گئی تو دل کو بہت دکھ ہوا۔ وہ ہندووں کی دوسرے درجے کی کاشتیا ذات کے لوگ تھے۔اس کے لیے انہوں نے وہیں پر ایک برہمن لڑکا بھی بطور شوہر منتخب کرلیا تھا”۔

فلموں کے ڈی وی ڈیز کور
ان فیت فل

رومینہ کی سوچ کی اتھاہ تاریکی میں فہم و ادارک کی ایک کرن ابھری ۔نومی کے  کردار کا ایک عجب رخ اس کے سامنے آیا ۔ اس بات سے بہت گھن آئی کہ اس نے کہا تھا ” اللہ نے ایک بڑا کرم کیا کہ بچہ نہیں ہوا ۔۔ساوتری کی Fallopian tubes میں مسئلہ تھا۔ خود ہی ڈاکٹر سے پوچھ کر آئی تھی ۔ ۔اس کے جانے کے بعد میرا اس   سے کوئی رابطہ نہیں۔
۔ان بچوں کو دیکھ کر اس کے دل میں ایک عجیب نفرت سی جاگی۔اس نے سوچا کہ وہ پہلی فرصت میں اسقاط حمل کرالے گی۔ نعمان کا یہ بچہ یوں بھی اس کے پیٹ میں شادی سے پہلے آیا تھا۔اس گناہ کے لیے وہ رو رو کر اپنی ہر نماز میں اللہ سے معافی مانگتی رہی تھی۔وہ یہ تصویر دکھا کرسب سے پہلے اپنی خالہ کو اس وقت اعتماد میں لے گی جب خالو آفتاب باہر جائیں گے۔چھٹی والے دن وہ اپنے مرد دوستوں کے پاس چلے جاتے تھے۔یہ سب ان ہی کی کمیونٹی کے کاروباری افراد تھے۔ اس نے جیسے تیسے بکس کوگھسیٹ کریک کونے میں کردیا اور اس پر پرانے کپڑے ڈالدیے۔ اس میں ایک دو اور بھی لفافے تھے مگر وہ شاید ہندوستان والے ساوتری کے خط تھے۔ہر کتاب پر ساوتری کا نام تاریخ او ر خرید اری کا مقام بھی ساتھ درج تھا۔ کتابوں کو بہت شوق سے پڑھا گیا تھا ۔ا  ن میں جابجا اس کی مارکنگز تھیں۔
اب وہ سارا کھیل سمجھ گئی تھی۔نعمان ایک مکمل فراڈیا تھا۔ ایک شاطر کون مین (Con-Man)جسے خوبصورت عورتوں کو بے وقوف بنانے کا ہنر آتا تھا۔جب تک اس کا جی نہ بھر جاتا وہ ان سے کھیلتا رہتا تھا۔ہوسکتا ہے اس کی پاکستان میں بھی  کئی بیویاں ہوں ان سے بھی کئی بچے ہوں۔
آنسووں کی ایک جھڑی اس کی آنکھوں  سے بہہ رہی تھی اور دل نے ایک عدالت لگالی تھی۔ وہ سب کو ایک ایک کرکے اپنی نگاہوں کے سامنے لاتی چلی گئی ا س واردات  میں کون کون مجرم تھا :
دل کے تھانے میں درج ایف آئی آر نمبر 1/2010 کے حساب سے مجرم نمبر ایک تو بوبی تھا ۔ نہ وہ کم بخت اسے اس رات آئس کریم کھلانے لے جاتا نہ وہ گونگ لی کی تصویریں دیکھتی نہ یہ سب کچھ اس کے ساتھ ہوتا مگر اس معصوم کو تو اپنے کیے کی سزا اس کے جرم سے کہیں زیادہ ملی ،گونگ لی بھی گئی، مار بھی پڑی، سختیاں بھی جھیلیں ، بہت بڑی رقم سے بھی محروم ہوا اور رومینہ بھی اس کی بیوی بننے سے رہ گئی۔ : مجرم نمبر دو ۔۔ اس کی خالہ ان کے اس بھیانک ایجنڈا کی وجہ سے کہ آفتاب ایک مالدار، سادہ لوح اور باآسانی دستیاب مرد ہے۔
مجرم نمبر تین :اس کے ابو جو باآسانی نومی کے فریب میں آگئے، بیٹیوں کے باپ ایسے ہوتے ہیں کہ غیر مردوں پر یوں آنکھ بند کرکے بھروسہ کرلیں۔انہوں نے اسے بھیجنے کی بجائے خود بنکاک جانے کی ضد کیوں نہ کی۔جرم کی اعانت میں اس کی امی بھی مجرم تھیں جنہوں نے نومی کو اپنی بہن کا گھر بسانے کے لیے آفتاب کو استعمال کیا۔بہن کا گھر بسانے کے چکر میں بیٹی کی زندگی کو میوہ شاہ کا قبرستان (کراچی کا سب سے بڑا قبرستان ) بنادیا۔اس کا دل نہ چاہا کہ وہ مجرموں کی فہرست میں خود  کو بھی شمار کرے۔ایسا کرنے سے اس کی مدافعت پر ضرب پڑتی ۔اسے لگا کہ اس کے ارد گرد واقعات نے ایک بہت بڑا ویکیوم پیدا کرکے اسے ایسے ہی اندر کھینچ لیا جیسا ہوا کا دباؤBarometric pressure, یا atmospheric pressure, کم ہونے سے آندھی طوفان کی آمد ہوجاتی ہے۔
بیس اکیس سال کی متوسط گھرانے کی ایک سینت سینت کر رکھی گئی لڑکی کو زندگی کی ان ہولناک باریکیوں کا کیا ادراک ہوسکتا ہے۔ اسکول ، کالج، گھر، کتابیں امتحان اور منگیتر کے گرد بنے ہوئے سپنے۔ اس میں نعمان ، موساد کے ایجنٹوں جیسے گھاگ مرد اور خالہ زیبو جیسی Desperate Housewivesجو موقع ملنے پرسنی لیونے کو بھی چورن چٹادیں۔ وہ ان معصوماؤں کی زندگی میں کہاں فٹ ہوتے ہیں۔ اس نے خود کو اور آفتاب خالو کو شک کا فائدہ دے کر بری کردیا۔ اس عدالت کو لگانے میں اس کو ایک عجیب سی انتقامی خنکی کا احساس ہوا۔اس نے خود کو یقین دلایا کہ ” Revenge is a wild kind of justice. Its a dish you must always eat it cold, rather chilled “. )انتقام، انصاف کا ایک وحشیانہ روپ ہے۔وہ ایک ایسی ڈش ہے جسے ٹھنڈا ہونے پر کھانا چاہیے بلکہ اسے سرد کرکے  کھایا جائے تو زیادہ سواد آتا ہے) باجی نسیم سحر کی ایک بات اور اسے یاد آتی تھی۔ وہ اسکول کے زمانے تک سندھ کے علاقے خیرپور میں رہا کرتی تھی۔وہاں اس کی سندھی سہیلیاں اپنا ایک محاورہ سناتی تھیں کہ ” بدلہ کبھی پرانا نہیں ہوتا”۔۔۔

SHOPPING
سنی لیونے

اس نے بھی فیصلہ کیا کہ وہ نومی سے بدلہ لے گی۔اس کے بعد   ساوتری نے جس طرح اس سے جان چھڑائی اگر وہ طریقہ قابل قبول ہوا تو وہ اس سے خلع لے گی۔پیکج ٹور کے وہ سارے پیسے بھی وہ اس سے  وصول کرے گی۔مگر کیسے۔۔؟اس کے لیے اس نے اپنی کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے کچھ کرداروں کا انتخاب کیا۔سب سے پہلے توا پنی اس واردات میں خالہ کووعدہ معاف گواہ بنا کر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔خالہ زیبوکی مدد کو اس کا محمد بن قاسم،کھیپ یوں کا سردار گل سینٹر والا خالو آفتاب میمن ضرور آئے گا۔ لہذا اس سے بھی بگاڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔مجرم نمبر ایک بوبی کو وہ اب مزید کوئی سزا نہیں دے گی۔ضابطہء فوجداری کی شق 382(B) تحت مجرم کا جیل میں بسر کیا ہوا عرصہء حراست ہی اس کی سزاتصور کیا جائے گا۔
کچھ کہانیاں بلکہ اکثر کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ان کے کردار لکھواتے ہیں۔ وہ پہلے سے اپنا وجود نہیں رکھتی ہیں۔ الف لیلیٰ کی ہیروئین ،شہرزاد کی طرح اپنی جان بچانے کے لیے ہر رات ایک نئی کہانی گھڑ لی جاتی ہے تاکہ ْ قصہ سنتے سنتے اذیت پسند، نامرد ، ام پوٹینٹ خلیفہ سو جائے اور مظلومہ کی جان بچ جائے۔
ویسے ہی زندگی کی کہانی کے کچھ حصے بھی اپنے کردار خاص طور پر فرمائش کرکے لکھواتے ہیں۔اس حوالے سے کہانی کے آئندہ خدوخال جانے بغیردوبئی کی اس صبح ہماری شہر زاد ایک دفعہ کی نومی کی رومینہ بے بی(یاد کریں اس کے ابو کو نعمان نے ان کے گھر پر کیا کہا تھا …ہماری باجی زیبا ،رومینہ بے بی تو لازماً چلیں گی۔صولت بھائی(رومینہ کے ابو) تو میرے خاص مہمان ہوں گے۔زیبا خالہ کو اس کا باجی کہنا تو اچھا نہ لگا مگر رومینہ نے سمجھایا کہ نعمان انکل کو مذاق کی زیادہ ہی عادت ہے(نے فوری سماعت کی  ایک طرف ان کیمرہ عدالت لگائی ۔بغیر کسی وکیل اور گواہ کے دل کی جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر اس نے بھی پانچ کردار فی الفور منتخب کرلیے۔ سب سے پہلے وہ نومی کو سزا دے گی۔ اس معاملے میں ساوتری سکسینہ سے وہ اس کی تفصیلات لے گی۔خالہ اور خالو کو وہ اس کھیل میں اپنی مرضی سے استعمال کرے گی اور بوبی کو وہ بطورReserve Fire Power کے طورپر استعمال کرے گی۔تب تک وہ اسے پیار کے بینک میں خفیہ توجہ کے لاکر میں محفوظ رکھے گی۔اپنے امی ابو کو اس نے بڑا دل کرکے معاف کردیا۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *