تعلیم یافتہ۔۔۔۔ محمد اقبال دیوانؔ۔۔۔ قسط نمبرسات

شہر کی ایک مشہور پبلک یونی ورسٹی کے ایام وابستگی سے منسلک سچے واقعات سے جڑی ایک جھوٹی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ سے پیوستہ
مینو اسے مزید رجھانے کے لیے ایک دلہن کی طرح بن کر پلنگ پر بیٹھ گئی اس کی کمرے میں آمد کی آواز سن کر اسے قریب آنے کا اشارہ کیا اور اس کا گھونگٹ اٹھانے کی سرگوشیوں میں فرمائش کی ۔ ایسا ہوا تو مینو نے ہلکے سے گنگنایا ع جیسے رادھا نے مالا جپی شیام کی، میں نے اوڑھی چنریا تیرے نام کی۔
جب نومی نے ضد کی کہ”Hit me”تو مینو نے کہا وہ آج ففٹی شیڈ آف گرے کی Anastasia Steele تو ضرور بنے گی مگر نومی پر وصل کے لمحات میں جسمانی مظالم وہ وہی کرے گی جو Christian Grey نے اناستیسا پر کیے تھے۔ وہ رات کرب و لطف کی عجب رات تھی۔مینو کو اپنی وحشتوں کا اندازہ نہ تھا۔اس رات لگا کہ وہ رومینہ جو گھر سے پہلی دفعہ باہر نکلی تھی وہ بہت پیچھے رہ گئی ہے اور سنٹرا گرانڈبیچ ریزارٹ میں مکمل عریانی اور مردانہ قربت کا لطف لیتی ہوئی اپنی وارفتگی سپردگی اور وحشتوں کو مختلف انداز سے برتتی ہوئی یہ لڑکی کوئی عورت ہے جو اس کے اندر برسوں سے ایک جن بنی چھپی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساتویں قسط
اسی رات پہلی دفعہ رومینہ نے اس کی سابقہ زندگی کے حوالے سے چند سوالات کرڈالے۔ ایک سنگل ممبر غیر اعلانیہ جے آئی ٹی کے برپا ہونے سے حاصل شدہ جوابات کے مجموعے سے نومی کا پروفائل کچھ یوں بنا۔
وہ بیس برس کا تھا جب سے روزی روزگار کے چکر میں پڑ گیا ۔والد پولیس میں ڈی ایس پی تھے۔ان کا قتل ہوگیا تھا۔ وہ اپنی جان بچاکر کر دوبئی آگیا۔آج سے بیس سال پہلے کا دوبئی بہت عمدہ تھا۔یہیں اس کی ملاقات اس کی ایک دفتر میں فیض آباد لکھنوء کی ساوتری سکسینہ سے ہوئی۔عام شکل و صورت کی عام سی لڑکی مگر جوانی میں تو سبھی حسین لگتے ہیں۔شادی بمشکل ایک سال چلی۔اس کے ماں باپ خوش نہ تھے۔ وہ ہندوؤں کی دوسرے درجے کی کاشتیا ذات کے تھے۔اس کے لیے انہوں نے وہیں پر ایک برہمن لڑکا بھی بطور شوہر منتخب کرلیا تھا۔وہ چلی گئی تو دل کو بہت دکھ ہوا۔ایک اللہ نے بڑا کرم یہ کیا کہ اس سے اولاد نہ ہوئی۔اس کے جانے کے بعد میرا اس کوئی رابطہ نہیں۔ اس ساری بات کو اب دس سال سے اوپر ہوتے ہیں۔ اس کے بعد کوئی اور عورت میری زندگی میں نہیں آئی۔
اس میں ساوتری کلپنا کے نام سے لے کرعلاقے تک کے کچھ inconsistencies تھیں۔ عورت تو رہتی ہی یادوں کے محلے میں ہے ۔اسی لیے وہ ایک بات بار بار مرد سے پوچھتی ہے ۔اس سے اس کا وہ جھوٹ سچ پکڑتی ہے ۔اس گفتگو نے رومینہ کی سپردگی میں ایک عجب والہانہ پن اور ہوس ڈال دی۔
مرد عریاں ہو تو صرف ننگا ہوتا ہے، اپنی ہوس کا پجاری ۔دنیا و مافیا سے بے خبرلیکن عورت عریاں ہوکر بھی بہت کچھ چھپالیتی ہے۔ اس کاروبار ہوس و وحشت میں مبتلا مینو نے اس کا سر اپنی چھاتیوں میں سمیٹ کر بہت آہستگی سے اس کے بالوں کو اس حوالے سے ٹٹولا ۔ایک گھاؤ تلاش کرنا تھا۔ وہ جو اس نے کلب میں اسے کہا تھاسارے گھاؤ تو بھر گئے۔ایک گھاؤ سر کا اور ایک ران پر(اس نے اپنے مردانہ عضو کا انگریزی میں نام لیتے ہوئے بتایا) کے پاس اپنی نشانی چھوڑ گیا ۔ایک گھاؤ سر کا کہیں ڈھونڈ پائے مگر اس کے بالوں میں چھپی ایسی کوئی علامت سر پر موجود نہ تھی جو اس کے بیان کی تصدیق کرتی۔ ایک گھاؤ ران پر(اس نے اپنے مردانہ عضو کا انگریزی میں نام لیتے ہوئے جو اسے بتایا تھا) کے پاس جو ا اپنی نشانی چھوڑ گیا۔اس کی تشفی تو اس نے بنکاک میں پہلی رات کو پھر جب کبھی موقع ملا اس کا بدن غور سے دیکھتے ہوئے ٹٹول ٹٹول کے کرلی تھی۔وہاں بھی اس حادثے کی کوئی علامت نہ تھی۔اسے یقین آگیا کہ یہ حادثے والی بات جو اسے شگفتہ نے سنائی تھی اور اس نے بھی بیان کی تھی وہ اس حوالے سے مکمل طور پر جھوٹا نکلا تھا۔ اس کے دل کا گھاؤ وہ تو اس رات اس نے جی کھول کر بھر دیا تھا۔یوں وہ اب پوری طرح مطمئن تھی۔

اگلی رات مونگ کٹ انہیں گھمانے اور وہ کلب دکھانے لے گیا۔ان کلبوں میں وہ نومی کے ساتھ دل کھول کر ناچی بھی اور نومی کے ہی پیگ سے اس نے اسکاچ آن دی راک کے کئی گھونٹ بھی جابجا لیے۔اس دوران جب وہ وہاں بیٹھے تھے ایک گورا لڑکا اس کے پاس ڈانس کی درخواست کرنے آیا۔ اسے یہ بہت عجیب لگا مگر نومی نے کہا وہ ناچے اس لیے کہ اس کا ہبی کوئی Control Freak نہیں۔

وہ ڈانس فلور پر چلی گئی تو نعمان مونگ کٹ سے باتوں میں لگا رہا۔ رات نومی کی وحشتیں عروج پر تھیں اسے اس گورے لڑکے سے بہت حسد بھی ہوا تھا۔ اس حسد کی آگ کو بستر میں بھڑکارہا تھا۔
اگلی صبح بنکاک کا ہوٹل کا وہ کمرہ چھوڑتے ہوئے اس نے ایک نظر اس پر ڈالی۔ افسوس اورندامت کے جذبات تو اس کے دل پر یوں غالب تھے کہ یہاں پہلی رات جو کچھ اس کے ساتھ ہوا تھا وہ ندامت کی بجائے اب ایک یاد بن کر ہمیشہ کے لیے اس کے دل میں گھر کرگیا تھا۔عورت مرد کے تعلق میں اچھا ہے کیا اور برا کیا ہے وہ اب سب اسے معلوم ہوگیا تھا۔ وہ سوچنے لگی کیا دلہنیں بھی اگلی صبح ایسے ہی سوچتی ہوں گی؟
ان کی کالج کی ساتھی کا قصہ اولیں تھا۔رخشندہ کے ساتھ بھی یہ سب کچھ ہوا تھا مگر اسے تو کوئی ندامت نہ تھی۔ اس کی خالہ کے جانے اس حوالے سے کیا جذبات ہوں گے۔کیا جو کچھ اس کے ساتھ یہاں ہوا ہے اس کی خالہ کے ساتھ دوبئی میں آفتاب نے بھی کیا ہوگا؟۔اس کے ابو تو وہاں کرکٹ کی دنیا میں مگن رہے ہوں گے۔انہیں کیا پتہ کہ ان کی مصروفیت کے دوران آفتاب نے اس کی خالہ کے ساتھ کیا کھیل کھیلا؟۔اس نے سوچا خالہ کا معاملہ اس سے بہت مختلف ہے۔ وہ طلاق یافتہ تھیں۔آفتاب انہیں بیوی بھی بنانا چاہتا تھا۔رخشندہ تودو تین مردوں کو بھگتانے کے بعد وہ دراصل ان کی جنسی معلومات کی استاد تھی۔رومینہ خود بھی معلومات کی حد تک اس معاملے میں کوئی بودی لڑکی نہ تھی۔انٹرنیٹ پر وہ سب کچھ دیکھ اور پڑھ چکی تھی۔
نعمان نے اس کے ذہن میں برپا تلاطم کو پڑھ لیا اور بہت آہستگی سے ایک ایسا جملہ کہا جس کو سن کر اسے آگ تو لگ گئی مگر وہ چپ رہی۔ یہ جملہ اس نے پہلی دفعہ باجی نسیمِ سحر کی زبانی سنا تھا۔ باجی نسیم سحر ان سے دو سال سنیئر تھی۔اس کالج میں وہاں کے علاقے کی ایک اہم سیاسی تنظیم کی انچارج تھی۔رخشندہ کی طرح مردوں سے تعلقات کے معاملے میں رومینہ، جویریہ اور سارہ بھی اسے بلیک بیلٹ سمجھتی تھیں۔ ایک دن ایسے ہی ان لڑکیوں میں Pride of Virginity کے حوالے سے بات ہورہی تھی۔ جب ان تین لڑکیوں نے مل کر کسی بھی لڑکی میں کنوار پن کے غرور پر بات کی تو وہ کہنے لگی” کیا مردوں کی کوئی عصمت نہیں ہوتی۔ جو ہمارا میاں بنے گا کیا اس کے کنوارے ہونے کی کوئی گارنٹی کوئی مولوی صاحب دے سکتے ہیں ؟ ” So what is the big issue over a little tissue” ۔نومی نے بھی اس وقت یہی جملہ کم و بیش انہیں الفاظ میں دہرایا کہ what is the big issue over a little tissue” ۔ تب رومینہ کو پہلی دفعہ باجی نسیم سحر کا یہ جملہ ٹھیک سے سمجھ میں آیا اور اس لگا کہ مردوں کے نزدیک عورت میں کنوار پن کے غرور کی اہمیت واقعی ایک ٹشو (جھلی )سے زیادہ نہیں۔
اس نے کچھ دیر کے بعد اس جملے کا جواب یہ کہہ کر دیا کہ میری ایک دوست رخشندہ کہتی تھی کہ ” All men are potential rapists”.(تمام مرد ممکنہ زانی ہیں) وہ ہنس کر کہنے لگا کہ وہ اکثر سوچتا ہے کہ اردو زبان میں potential rapist کا ترجمہ کیا ہوسکتا ہے؟ اس حوالے سے اردو ابھی نابالغ زبان ہے۔وہ زنا اور ریپ میں کچھ فرق کرنے سے اب تک قاصر ہے۔زنا میں جنس مخالف کی رضا کا دخل ہوسکتا ہے۔ زنا اخلاقی جرم ہے اور ریپ قانونی جرم”۔جس پر مینو نے ہلکے سے کہا” شٹ اپ”۔جواب میں نومی نے بھی اسے چھیڑتے ہوئے ۔”اوکے مس کرسچن گرے ” کہا ۔اس کی مرضی تھی کہ وہ اسی کی اصطلاح میں کمرہ چھوڑتے چھوڑتے اپنے potential rapist ہونے کا ایک ثبوت اور دے مگر عین اس وقت جب وہ رومینہ کے تعاون سے اپنے ارادے کی طرف کامیابی کی طرف بڑھ رہا تھا دروازے پر دستک ہوئی۔ مونگ کٹ دروازے پر موجود تھا۔ اسی نے اسے بتایا کہ بوبی نیچے لاؤنج میں پہنچ گیاہے۔
بوبی اسے دیکھ کر دوڑ کر لپٹ گیا۔شاید یہ پہلے ممکن نہ ہوتا مگر رومینہ کو بھی اس والہانہ پن میں کچھ قباحت محسوس نہ ہوئی۔ وہ اسے بہت دیر تک دیکھتی رہی۔کچھ بے اعتباری سے، کچھ اپنے احساس گناہ کو مدنظر رکھ کر۔ ایک زمانہ تھا وہ لاج و لحاظ کے مارے اس کا نام بھی نہ لیتی تھی۔ اسے لگا کہ وہ بہت ٹوٹ چکا ہے۔ وہ رو بھی رہا تھا۔خاموش آنسو اس کے رخسار پر بہے چلے جارہے تھے۔اور وہ اپنی انگلیوں سے اور اپنی ہتھیلی کی پشت سے انہیں پونچھ رہی تھی ۔اس کی اپنی آنکھیں بھی نم تھیں۔اس نے ایک دفعہ پھر اسے تسلی دینے کے لیے گلے لگایا تو وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔رومینہ نے اسے دو تین دفعہ چوما تو اس نے کچھ بے یقینی سے اپنی اس سابقہ منگیتر کو دیکھا جو اس کی رہائی کے لیے اتنا جوکھم جھیل کر اس تک پہنچی تھی۔اس کی آنکھوں میں بھی اب ایک ہی سوال تیر رہا تھا کہ کیا یہ وہی رومینہ ہے جس نے اس کو سارے گھروالوں کے سامنے وہ تصویریں دکھا کر ریزہ ریزہ کردیا تھا۔

نومی نے کچھ دیر بعد اس سے پوچھا کہ ” اس نے بوبی کو گلے لگایا تو کیسا لگا؟۔ کیا اس کے جذبات اس کے بارے میں اب بھی وہی ہیں جو اس کے مینو کی زندگی میں آنے سے پہلے تھے ؟ تو وہ کہنے لگی “بوبی بہت ٹوٹ گیا ہے۔وہ جذبات تو شاید دوبارہ کبھی بھی لوٹ کر نہ آئیں۔گلے اس لگایا کہ وی آر اسٹل اے فیملی”۔جس کا جواب اس نے صرف اتنا دیا کہ ” If you say so I better believe you ” مینو کو اس کے حسد کا کچھ تو اس گورے لڑکے کے ساتھ اس کی اور مونگ کٹ کی تجویز پر ناچنے کی وجہ سے بھی سے بستر میں اندازہ ہوا تھا ۔وہ رات بہت ہی Violent تھا۔مینو نے کئی دفعہ اس حوالے سے اسے ٹوکا بھی تھا۔
ہوٹل چھوڑتے وقت مونگ کٹ نے نومی کو کہا کہ “مینو اس بات کا خاص خیال کرے کہ بوبی تھائی لینڈ سے اپنے گھر والوں سے کوئی بات نہ کرے ۔سب فون ٹیپ ہوسکتے ہیں .ہاں اردو میں مینو اپنے گھر والوں کو اطلاع دے سکتی ہے کہ اس کا ناراض ہوکر گھر سے بھاگا ہوا بھائی اسے مل گیا ہے۔ائیر پورٹ بھی وہ دو گاڑیوں میں جائیں گے، بوبی اور مونگ کٹ ایک گاڑی میں اور نومی اور مینو دوسری میں”۔رومینہ کو ان احکامات اور احتیاط سے وحشت تو ہوئی مگر ان سے کوئی مفر نہ تھا۔بوبی کی خاطر یہ سب کچھ کرنا اس کی ذمہ داری تھی۔ وہ سب مونگ کٹ کے بتائے ہوئے طریقے سے ائیر پورٹ پہنچے۔مونگ کٹ سے ملنے وہاں دو تین ڈراؤنے سے تھائی مرد موجود تھے۔جنہیں مونگ کٹ نے نعمان سے لے کر ڈالر گن گن کر دیے۔نعمان اور مونگ کٹ تو اس کے ہاتھ سے فون لے کر سارا سامان ان کے پاس چھوڑ کر ٹکٹ تبدیل کرانے چلے گئے۔ایک مرد البتہ ان کی نگرانی کے لیے لاؤنج میں موجود رہا۔

اس نے اپنی امی کو یہ خوش خبری بھی سنا دی کہ اس کا ناراض ہوکر گھر سے بھاگا ہوا بھائی اسے مل گیا ہے ۔ اس کی امی نے اطلاع دی کہ وہ سب لوگ اپنے اختلافات بھلا کر بوبی کو لینے ائیر پورٹ جارہے ہیں، اس کی امی نے بتایا۔اس کی امی کی ضد تھی کہ وہ بھی اگر بوبی کے ساتھ نعمان کو لے کر پاکستان آجاتی تو سب کی خوشیاں دوبالا ہوجاتیں۔ اب وہ سارے خاندان میں ایک بہت اہم اور ممتاز مقام کی مالک ہے۔ وہ نہ ہوتی تو بوبی کا زندہ بچ کر آنا ناممکن تھا۔
اس کا استقبال وہ ایک شاندار طریقے پر کرنا چاہتے ہیں۔ ماموں ،ممانی تو اس کے احسان کے بوجھ سے دب کر اس کے گرویدہ ہوگئے ہیں۔ سب نے ان کے قدموں میں اپنا سر رکھ کر اور معافی مانگ کر کہا ہے کہ پچھلی باتوں کو بھول جائیں ۔اس نے اپنی امی کو بتایا کہ نومی ان کے ٹکٹ بدلوانے گیا ہے۔اسے اگلی فلائٹ تین گھنٹے بعد مل رہی ہے جو دوبئی کے راستے پاکستان آئے گی ۔اسے امی نے بتایا کہ اس کے ابو،زیبا اور آفتاب بھائی دوبئی سے کراچی آنے کے لیے ان کے ساتھ ہوں گے۔آفتاب نے بڑی خاموشی سے زیبو خالہ کو اپنی بیوی بنانے کا کہا ہے۔ اس نے ابھی کوئی حتمی جواب اسے نہیں دیا مگر میں نے بھائی جان اور امی جان سے بات کی ہے ۔یہاں اس رشتے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔
کچھ دیر بعد جب وہ بوبی کو تسلیاں دینے میں کامیاب ہوگئی تو ایک گوشہ ءِ تنہائی میں جس کے سامنے ایک بوڑد کے ساتھ کھڑا ہوا ان کا وہ Minder ان پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔بوبی نے اس کی انگلیوں سے کھیلتے ہوئے وہ واردات اردو میں اسے سنائی جس رات جب وہ کلب سے اغوا ہوا تھا ۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اس رات اس کا کلب جانے کا کوئی موڈ نہ تھا ۔اس نے کمرے میں ہی مغرب کی نماز بھی پڑھی تھی۔ وہ اپنی قسم پر بھی قائم تھا کہ وہ اب نہ تو کسی عورت سے کوئی تعلق رکھے گا نہ ہی شراب پیا کرے گا۔وہ اسے کھو نے کے بعد بہت پریشان تھا۔ وہ ہوٹل پر ہی تھے کہ ایک میمن کھیپیا وہاں آگیا۔ وہ آفتاب بھائی کے لیے کام کرتا ہے۔
کامران بھائی جو کبھی کبھار آفتاب کے لیے بھی کام کرتے ہیں ،وہ دونوں کمرے سے باہر جاکر دس منٹ تک آپس میں جانے کیا باتیں کرتے رہے۔ اسی کامل بھائی نے ہم سب کو کلب لے جانے کی ضد کی میں نے کامران بھائی کو کہا بھی کہ ” اس کلب میں زیادہ تر لیڈی بوائز آتے ہیں۔

آپ کو پہلے بھی واندہ ہوچکا ہے دس ہزار بھات کی چٹی پر چکی ہے۔آپ کا اگر گڈ ٹائم کا موڈ ہے توکسی اور جگہ چلے جائیں اس کلب میں مت جائیں۔ میں یہاں کمرے میں عشا کی نماز پڑھ کر سو جاؤں گا مگر یہ آفتاب بھائی والا آدمی کامل نہیں مانا۔زبردستی ہم کو وہاں لے گیا اور جانے کے کچھ دیر بعد ہی ایک لیڈی بوائز کے گروپ کو بھی بلا کر ساتھ بٹھالیا۔ مجھے لگا کہ ابھی یہ شراب پی کر کوئی ہنگامہ کریں گے۔

میں وہاں سے چپ چاپ سرکنے کا پروگرام بنا رہا تھا کہ اتنے میں جھگڑا بھی شروع ہوگیا۔مجھے پتہ ہے کامران بھائی کے پاس چھری نہیں تھی۔پہلے تو انہوں نے کامل کو دو ایک لاتیں ماریں تو وہ ان کو دھمکی دے کر بھاگا کہ میں بھی اپنے تھائی دوست لے کر آتا ہوں اتنے میں شور مچ گیا کہ کامران بھائی نے چھری ماردی ہے۔چھری میرے حساب سے انہی میں سے کسی نے اس کی ران میں ماری تھی۔ سین تھوڑا کلیئر ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک چھوٹی سی چھری تھی جو نیچے فرش پر پڑی تھی ۔کامران بھائی گھبراکے بھاگ گئے اور میں پھنس گیا۔ یہ مجھے لے گئے ۔مارا بھی بہت۔ ابو کو ایک فون کرانے کے بعد انہوں نے میرا پاسپورٹ پیسے ، کاغذات فون وغیرہ سب لے لیا۔ ۔بعد میں کوئی مونگ کٹ آگیا۔مار پیٹ تو بند ہوگئی مگر آگے کیا ہوا مجھے نہیں پتہ۔رومینہ نے اس پوری گفتگو میں صرف ایک سوال اس سے کیا کہ “وہ لڑکا کامل کیا وہ واقعی آفتاب بھائی کے لیے کام کرتا تھا اور اس کلب میں لے جانے کی ضد بھی اسی کی تھی؟”۔جب اس کے سوال کا جواب اسے اثبات میں ملا تو وہ گہری گہری سوچوں میں ڈوب گئی۔
اپنی بے گناہی کا بیان کرکے وہ رونے لگ گیا اور کرسی سے نیچے اتر کر اس کے پیروں کے پاس بیٹھ گیا۔رومینہ نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور اس کے آنسو پونچھنے لگ گئی۔اس واردات کے کچھ خدو خال اس حوالے سے اس پر واضح ہوئے کہ اس میں اس بے چارے کا کوئی قصور نہ تھا اس کے شانے تھام کر اس نے بوبی کو کھڑا کیا اور گلے لگ گئی خود بھی بہت روئی ۔ اسے مینو نے ہدایت کی کہ ” وہ پاکستان جاکر اگر اس حوالے سے کوئی احوال اپنے ابو اور دیگر رشتہ داروں کو بیان کرے تو اس میں آفتاب بھائی اور کامل والا حصہ ہرگز بیان نہ کرے۔اسے اس کی رہائی کے بارے میں ہونے والی کچھ ایسی تفصیلات کا علم ہے۔ جن کا جاننا اس کے حق میں بہتر نہیں ۔ جو کچھ اس کے ساتھ ہوا اسے بھلانے کی کوشش کرے ۔ ان لوگوں کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ ان کا کارستانیوں کا اگر وہاں پاکستان میں اس نے کسی سے تذکرہ کیا تو وہ اسے وہاں بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے نام پر لوگ اپنے ذاتی بدلے بھی لے رہے ہیں۔وہ نہیں چاہتی کہ ماموں جان کے لیے یا اس کے لیے کوئی نئی مصیبت کھڑی ہوجائے۔ پہلے ہی ان بے چاروں کا چالیس لاکھ روپے کا نقصان ہوگیا ہے۔”
یہ سب کچھ اسے سمجھا کر اس نے دل ہی دل میں انگریزی کی ایک اصطلاح “آن دی ہاؤس “یاد کی۔یہ اصطلاح شراب خانوں اور ہوٹلوں میں ان اشیا کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن کے لیے علیٰحدہ سے کوئی قیمت وصول نہ کی جائے۔اسے لگا کہ یہ بنکاک اور دوبئی کا ٹرپ بھی ان سب کو ماموں جان کی طرف سے “آن دی ہاؤس ” ملا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جس کمپنی نومی اینڈ آفتاب ٹریولرز نے اس پیکج ٹور کا اہتمام کیا ہے، انہوں نے ان کے گھرانے کے سب لوگوں کو ایک انتہائی گھناونے اور ظالمانہ طریقے سے اُنہیں Dupe(ڈوپ یعنی بے وقوف بنانا) کیا ہے ۔
اس کھیل کو کھیلتے ہوئے اس کے مالکان میں سے ایک نے تو تقریباًرشتہ داری قائم کرلی ہے اورعنقریب اس کا خالو بن جائے گا اور دوسرا چونکہ اسے مقابلتاً بہت زیادہ ہی اچھا لگ گیا ہے لہٰذا اس نے رومینہ بی بی آپ سے خود کو ” مائی ہبی مائی ہبی ” کہلواکر اور شراب پلا کر وہ کچھ بڑے ہی چلتر اور چمتکار سے اس سے وہ سب کچھ لے لیا جو شاید اسے اتنی با آسانی نہ مل پاتا۔اس رقصِ بسمل میں اگر دھن کسی اور نے بجائی تو آپ رومینہ جی نے بھی بے خود ہوکر دھمال ڈالنے میں جی بھر کر حصہ لیا ۔اورنگ زیب کو اگر اپنے سابقہ کرتوتوں کی سزا ملی ہے تو عصمت سے محروم ہو نے میں بھی آپ نے بھی ایک Willing Victim کے طور پر اپنا پسندیدہ کا کردار ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ یہ ایک ایسا مخمصہ تھا جس کا ذکر اس نے طے کیا کہ وہ آئندہ کبھی خود سے بھی نہیں کرے گی۔ممکن ہے آفتاب اس کا خالو بن جائے۔ وہ اس سارے گھناؤنے کھیل میں اس کی شراکت کو کیسے منہا کرے گی؟
ائیر پورٹ پر جب وہ ان سے دو گھنٹے پہلے جہاز میں سوار ہوا تو مینو اسے رخصت کرنے سے زیادہ اپنی اطمینان کے لیے امیگریشن کاؤنٹر تک اس کے ساتھ گئی ۔جب اس کے پاسپورٹ وغیرہ پر خروج کی مہر لگ گئی تو اس نے بوبی کو گلے لگایا اور اس کے گالوں کو چوما بھی مگر اس دوران اس نے صرف اتنا سنا کہ وہ کہہ رہا تھا” مینو آئی لو یو۔ پلیز ڈونٹ لیؤ می الون”۔اس کے چلے جانے کے بعد رومینہ کو ایک عجیب سی اداسی نے آن گھیرا۔وہ نومی کے پاس واپس آئی تو اس نے طنزیہ لہجے میں اس پر جملہ کسا کہ ” You two sure are a very loving family”رومینہ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
اپنی فلائٹ کے انتظار میں وہ نعمان کے سینے پر سر رکھے دھیمے دھیمے دل ہی دل میں روتی رہی ۔خواب اور بیداری اور نعمان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات میں جب وہ اپنی سوچوں میں گم تھی ۔اسے اس گفتگو کے محرکات کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگے جو اس دن جمیرہ بیچ پر نومی اور آفتاب کے درمیان ہوئی تھی۔ اسے یاد آیا کہ وہ کہہ رہے تھے۔۔ کم از کم پچیس اور بنکاک کا دو بندوں کا بندوبست۔آفتاب کا کہنا تھا کہ کہ پچاس کی آواز آئے گی تو پچیس کی بات ہوگی۔تیس پر ڈن کریں گے دو بندے کوور (Cover) ہوجائیں گے۔اسے لگا کہ یہ سب واردات ایک بڑے بھیانک پلان کے ساتھ کی گئی ہے اس میں آفتاب نے نومی کی اعانت کی ہے اس لیے کہ جو کچھ اس کے ساتھ وہاں تھائی لینڈ میں ہوا وہ اس کے ابو اور خالہ کی موجودگی میں ہونا ممکن نہ تھا۔
نومی اس کو اپنی بانہوں میں تھامے ،گلے لگائے ہوئے ، لاؤنج کے نظارے دیکھنے میں مصرف تھا اور گاہے بہ گاہے اس چوم بھی رہا تھا۔۔اس نے ایک بے یقینی سے اس پر نگاہ ڈالی مگر اس کا دل نہ مانا کہ وہ یہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ اسے لگا کہ جہاز میں اور شاید ہر ملاقات میں بھی اس کے ساتھ ہر دفعہ یہی کچھ ہوتا رہے گا۔لاؤنج میں وہ کئی دفعہ بے یقینی کی نگاہ سے نومی کو دیکھتی رہی۔اس دوران وہ وہاں بوس و کنار میں مصروف جوڑوں کو بشمول دیکھ کر مسکرائی بھی۔ اس کے دماغ میں خیال آیا کہ وہ پاکستان واپس جاکر تھائی لینڈ ٹورسٹ بورڈ کو تجویز ارسال کرے گی کہ ائیر پورٹ کا نام بھلے سے وہ سورنابھومی ائیرپورٹ ہی رکھیں مگر کم از کم اس لاؤنج کا نام وہ چوما چاٹی لاؤنج رکھ دیں ۔یہ نام ویسے بھی بہت تھائی تھائی سا لگتا ہے اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے اس کو یاد رکھنا بھی آسان ہوگا۔
ایر پورٹ پر انہیں بھی لینے بوبی سمیت پورا خاندان آیا تھا۔ اپنا استقبال اور خاندان والوں کا والہانہ پن دیکھ کر رومینہ کو لگا کہ وہ نعمان کے ساتھ سیر کرکے نہیں بلکہ کوئی انٹرنیشنل ٹائٹل جیت کر وطن واپس لوٹی ہے۔ نومی اس کی امی کو ا ایر پورٹ پر ہی ایک طرف لے گیا اور انہیں بہت آہستگی سے اس نے کچھ کہا۔اس کی امی نے بہت حیرت سے اس کی طرف دیکھا مگر مسکراکر چپ ہوگئیں۔رات جب سب چلے گئے ، تھائی لینڈ اوردوبئی کے احوال بھی اپنی مکمل جزئیات کے ساتھ بیان ہوگئے تو اس کی امی نے خالہ اور رومینہ کو بتایا کہ”لڑکیو! اب سنجیدہ ہوجاؤ دو رشتے ایک ساتھ آئے ہیں۔ ایک کا فیصلہ تو زیبانے کرنا ہے ایک کا تجھے مینو”۔اس سے پہلے کہ یہ بات آگے بڑھتی اس کے ابو بھی کمرے میں آن کر بیٹھ گئے اور نعمان اور آفتاب کی بوبی کے رہائی کے سلسلے میں بیش بہا خدمات کا ذکر اس کے والدین کی جانب سے ایک لامتناہی سلسلے کی طرح دراز ہوگیا۔اس سلسلہءِ تعریف و توصیف میں اس کی خالہ تو کبھی کبھار شرکت کرتی رہیں مگر وہ اس مخمصے میں الجھی رہی جو اس نے بوبی سے گفتگو کے بعد اس کے دل میں نومی اینڈ آفتاب ٹریولرز کے حوالے سے گھر کرگیا تھا۔
واپسی کے ٹھیک ایک ماہ بعد اس کی خالہ کی شادی آفتاب سے ہوگئی۔اس کی ضد تھی کہ زیبا یہاں کراچی میں ہی رہیں۔۔وہ نہ مانیں اور چار و ناچار اس نے انہیں جمیرہ بیچ والے ولا میں منتقل ہوگئیں۔ اس دوران رومینہ نے اپنے امتحان دے کر بی ۔اے کی ڈگری لے لی۔نومی سے وہ اب باقاعدہ طور پر ملتی تھی۔یہ ملاقاتیں اس کے گلشن اقبال والے بنگلے پر ہوتی تھیں۔اس کے ابو نے بھی اس کی امی کے کہنے پر اس کی شادی نعمان سے کرنے کا عندیہ دے دیا تھا۔ شادی میں جلدی کا اہتمام اس لیے بھی ہوا کہ رومینہ نے نعمان کو بتایا کہ وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔نعمان کی ضد تھی کہ شادی بہت سادہ انداز میں ہو۔ہمارے ہاں سارے اخراجات رسومات پر ہوتے ہیں جب کہ رقم کی اصل ضرورت تو شادی کے بعد ہوتی ہے۔مینو نے اپنی امی کو بچے والی بات بتادی تھی اس لیے انہوں نے ناراضگی کے ساتھ ایک چپ بھی سادھ لی۔ انہیں مینو سے اس بے راہ روی کی امید نہ تھی۔
شادی کی رات سے ایک دن پہلے جب وہ اپنے کمرے میں جویریہ اور سارہ کے ساتھ موجود تھی بوبی وہاں آگیا۔ وہ چاہتا تھا کہ مینو سے وہ اکیلے میں بات کرے۔مینو نے اجازتدی تو وہ اس سے لپٹ کر بہت رویا اور اسے واسطے دیے کہ ” وہ نعمان سے شادی سے انکار کردے وہ کل ہی بارات لے کر آئے گا ۔ وہ اس کی پہلی اور آخری محبت ہے ۔وہ اس کے بغیر کیسے جیئے گا؟! ” ۔ اس کی بات مینو نے بہت اطمینان سے سنی اور انگریزی میں مہاتما بدھ کا وہ مشہور جملہ دہرایا جو وہ اپنے شاگردوں اور چیلوں کو اکثر کہا کرتے تھے کہ ” I see and know what you don’tبوبی آپ کو نہیں معلوم کہ میں نے تمہاری خاطر پہلے ہی کتنی بڑی قربانی دی ہے۔ “You too are my first love”۔اگر ہمارا پیار سچا ہے تو اللہ ہمیں پھر سے ملائے گا بس تم ایک وعدہ کرو کہ میں جب تک میں تمہیں او کے نہ کہوں تم شادی نہ کروگے۔”بوبی نے سر جھکا کر وعدہ تو کرلیا مگر وہ جانتا تھا کہ مینو نے یہ سب کچھ محض اس کا دل رکھنے کے لیے کہا ہے۔ شادی والے دن وہ بہت اداس تھی۔
جاری۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *