تعلیم یافتہ۔۔۔محمد اقبال دیوانؔ/قسط6

شہر کی ایک مشہور پبلک یونی ورسٹی کے ایام وابستگی سے منسلک سچے واقعات سے جڑی ایک جھوٹی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گزشتہ سے پیوستہ
اس کی امی کو رومینہ کے ساتھ اس پیچیدہ صورت حال میں بھیجے جانے پر شدید اعتراض تھا مگر جب خرم ماموں اوزیبا نے انہیں رو رو کر اور نعمان کے اعلیٰ کردار کی ضمانت دی تو وہ پسیج گئیں۔بھائی کے اکلوتے بیٹے کی جان کی حفاظت کا مسئلہ تھا۔خالہ نے بھی انہیں باور کرایا کہ ” نعمان اور آفتاب نے یہاں ان کے ساتھ ایسا عمدہ اور شریفانہ برتاؤ رکھا ہے کہ کیا کوئی سگا بھائی اپنی بہنوں کے ساتھ رکھے گا۔وہ رومینہ کے بارے میں انہیں یقین دلاتی ہیں کہ وہ نعمان سے اس کی حفاظت اور حرمت کی مکمل گارنٹی کے ساتھ ہی اسے اس کے ساتھ بھیجیں گی”۔
نئی قسط
اس پورے معاملے کے ٹھیک دوسرے دن رومینہ نومی کے ساتھ تھائی ایرویز فلائٹ نمبرTG 518 کی بزنس کلاس سے بنکاک کے لئے عازم سفر تھی۔کراچی سے آتے ہوئے جس اکانومی کلاس سے اس نے سفر کیا تھا اور اس بزنس کلاس کے سفر میں ایک جہان کا فرق تھا۔ اس کی بزنس لاؤنج سے ہی سرمستی کا آغاز ہوگیا تو جب نومی نے اسے ہالٹر پہننے کو کہا تو نہ تو اسے کوئی ہچکاہٹ محسوس ہوئی نہ ہی اسے یہ مطالبہ بے جا لگا۔اس لیے کہ اس نے اپنے لیے ایک گہرے جامنی رنگ کا اس سے بھی چھوٹا ہالٹر جو کپ کیک بھی نہ تھا۔ اس میں کچھ پیٹ ناف کے پاس سے نمایاں دکھائی دیتا تھا وہ اس شرارتی جملے کے ساتھ لیڈیز روم میں جاکر پہن لیا کہ ” No rear mirror view this time”.

بزنس کلاس
رو میں آئے تو خود گرمیء بازار ہوئے

جہاز میں جب ایئر ہوسٹس نے اس کے لیے مشروب کا پوچھا تو اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتی نعمان نے اپنے لیے اسکاچ آن دی راکس( بغیرملاوٹ کے ساتھ صرف برف کے ساتھ وہسکی) اور اس کے لیے بلڈی میری ( ٹماٹر کے جوس جس میں ہلکی سی ووڈکا ملائی گئی ہو ) ود بولین کیوب (Bouillon cube ) لانے کو کہا۔ایئر ہوسٹس جب واپس جارہی تھی تو رومینہ کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہی تھی اس وجہ سے اس نے نومی کا یہ جملہ نہیں سنا کہ” میک اٹ لائٹ، لیٹس ہیو بگنرز لک”( ہلکی بنانا، پینے والی نئی طالع آزما ہے) ائیر ہوسٹس نے بھی کمال شائستگی سے جواب دیا “آل یورز سر”۔وہ جب یہ سب کچھ لے آئی تو رومینہ نے پہلی بولین کیوب(گوشت اور سبزیوں کا پیٹس نما نمکین کھاجا) منہ  میں ڈالتے ہوئے پوچھا کہ یہ سب حلال تو ہے نا؟جس پر نعمان نے کہا کہ جس وقت وہ بکنگ کرارہا تھا اس نے حلال کی خصوصی ہدایت بکنگ ایجنٹ کو دی تھی ۔یوں بھی دوبئی سے فلائیٹوں میں شراب کے علاوہ سب چیز حلال ہوتی ہے۔ رومینہ جسے بلڈی میری کاپہلا ہی گھونٹ تھوڑا سا ہٹ کرگیا تھا اس نے بھی اسی شوخی سے کہا ” سوائے ایئر ہوسٹسوں کے” ۔

بلڈی میری
bullion cube

دوبئی ایرپورٹ کی دنیا رنگین پر رونق اور کسی حد تک دیسی تھی توبنکاک کے سورنابھومی ائیرپورٹ کی دنیا بے باک، باہر سے آنے والے مسافروں کو لینے ایسا لگتا تھا بنکاک کی ہر لڑکی ائیرپورٹ پر موجود ہے اور اپنے پسندیدہ ادھیڑ عمر کے مردمسافر کو بے دھڑک چوم رہی ہے۔نعمان نے اسے بتایا کہ یہ آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ اور یورپ کے بلیو کالر طبقے کے مرد ہیں۔ ان کے یہاں کے گھرانوں سے فون اور انٹرینٹ کے ذریعے رابطے رہتے ہیں۔ سال میں یہ دو دفعہ اپنی پندرہ روزہ تعطیلات گزارنے یہاں آجاتے ہیں۔ یہ کمسن لڑکیاں انہیں بہت Exotic لگتی ہیں۔یہ اس دوران ان کے ساتھ رہتی ہیں۔یوں ان کی گرتی عمر کوجوان رفاقت کا ایک ایسا پرلطف سہارا مل جاتا ہے جو انہیں واپسی پر اپنے وطن میں کام کے دوران سر شار رکھتا ہے۔

بنکاک ائیرپورٹ

ہماری طرف کے اور عرب سیاحوں کو تو ہر رات نئی لڑکی کی طلب ہوتی ہے مگر یہ باہر کے مرد ایک لڑکی کے ساتھ زیادہ خوش رہتے ہیں۔Sex Tourism کی ابتدا یہاں ویت نام میں مقیم امریکی فوجیوں نے ڈالی جنہیں تھائی لینڈ بہت قریب پڑتا تھا۔ اب یہاں معاشی خوش حالی آجانے کی وجہ سے ان کی اپنی لڑکیاں زیادہ تر اس گھناؤنے کاروبار سے باہر آگئی ہیں۔ یوں وہ مختلف بیماریوں اور غیر مروجہ کام کے اوقات کے بندھن سے بھی آزاد ہوگئی ہیں۔ تھائی لینڈ والوں نے کمال چالاکی سے اپنی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے برما، ویت نام، کمبوڈیا ،لاؤس،نیپال، بنگلہ دیش ہندوستان اور پاکستان کی لڑکیوں کو یہاں اس کام میں ملوث ہونے کی اجازت دے رکھی ہے۔
انہیں ایک دوسرے کو چومتا دیکھ کر نومی نے بھی رومینہ کو گلے لگایا مگر بوسہ دینے میں رومینہ نے پہل کی ۔یہ مرحلہ وہ جہاز میں کئی دفعہ بلڈی میری کے زیر اثر طے کرچکی تھی اس نے نومی کو چھیڑا بھی کہ اسے پبلک مقامات پر بے تکلف ہونے کا بہت شوق ہے تو اس نے کہا کہ اس کی تھرل (Thrill)کا اسے بھی اب تک اندازہ ہوچکا ہوگا۔
بنکاک کے پولن چٹ ایریا میں سوا ٹیل ہوٹل میں جب انہوں نے چیک ان کیا تو وہاں ان کا ایک تھائی شخص مونگ کٹ ری سپشن پر منتظر تھا اس کے ساتھ ایک تھائی لڑکی بھی تھی۔اس نے اپنا نام رتنا بتایا۔

سنی جو ان کے آنے کی آہٹ۔ بیرونی مہمان

سو ٹیل ہوٹل

 

اس کے فرائض میں رومینہ کو سیر کرانا تھا۔کمرے میں بے تکلفی کے اور بھی مراحل آئے۔کم از کم ہالٹر تو اس نے نومی کے سامنے ہی تبدیل کیا جس پر نومی نے اس کا بدن دیکھ کر کہا ” My God you are so gorgeous Meeno”
سچ بات تو یہ تھی کہ رومینہ نے ساری زندگی میں اتنے خوبصورت روم، انٹرنیٹ کی تصاویر میں تو دیکھے تھے مگر اسے یقین نہ آرہا تھا کہ وہ اس روم میں بھی کبھی قیام کرے گی اور وہ بھی اتنے ناقابل یقین حالات میں۔ایک بڑے سے بیڈ پر سفید اور چادر اور اس کے سفید کوور پر سلک کی ایک بڑی سی جامنی رنگ پٹی چل رہی تھی۔سامنے ہی شیشے کے اس پار گرے رنگ کا ایک بڑا سا جاکوزی باتھ ٹب رکھا تھا۔چھوٹے بڑے کئی تولیے ایک سلیقے سے اس میں ٹنگ رہے تھے۔زندگی کی کون سی آسائش تھی جو وہاں نہ تھی۔بلڈی میری کے دوسرے گلاس کا ہینگ اوور اب بھی اس پر طاری تھا۔اس نے پھر بھی اس کمرے پر ایک اعتراض کیا کہ کہ ” اس میں بیڈ صرف ایک ہے ؟” تو اس نے جواب دیا کہ “ڈبل بیڈ کے تمام کمرے بک تھے لہذاآفتاب بھائی نے جلدی میں جو ملا وہ بک کرالیا” تو رومینہ نے پیش کش کی کہ”کوئی بات نہیں وہ صوفے پر سوجائے گی”۔ جس کا اس نے صرف ایک جواب دیا کہ رات ہوجانے پر فیصلہ کریں گے۔فی الحال وہ رتنا کے ساتھ سیر کو جائے ” ۔ساتھ ہی اس نے رومینہ کو دو سو   ڈالر دیے کہ وہ اپنے لیے چیزیں خرید لے بنکاک میں شاپنگ اچھی ہوتی ہے۔رومینہ نے رقم لینے سے انکار کیا تو اس نے غصے کا اظہار کیا۔ وہ سب ساتھ ہی ہوٹل سے نکلے۔

سو ٹیل ہوٹل
ہوٹل باتھ روم

رتنا کے ساتھ وہ تو بنکاک کے دو ایک بہترین شاپنگ ڈسٹرکٹس میں گھومتی رہی وہ اسے دومانن سودک کی اس مارکیٹ میں بھی لے گئی جہاں مال کشتیوں پر فروخت ہوتا تھا ۔ نومی کی ملاقات البتہ بوبی سے Klong Toeyکے ایک ایسے گھر میں ہوئی جہاں گندگی اور غربت کا راج تھا۔ وہاں کسی تھائی مرد کے بغیر پہنچنا نا ممکن تھا۔بوبی کو انہوں نے پہلے دن بہت مارا تھا مگر بعد میں حالات مونگ کٹ کی مداخلت کی وجہ سے کچھ بہتر ہوگئے تھے۔ اس کی تین عدد تصویریں بھی اس نے لیں۔رات جب وہ واپس آیا تو بہت مطمئن تھا اسے وہ پولنچٹ روڈ کے قریب ہی ہا ئیڈ اینڈ سیک ریستورانٹ میں لے گیا۔وہاں مشروب کے لیے تو اس نے اپنے لیے اسکاچ آن دی راک کا آرڈر کیا مگر رومینہ کے لیے پہلے تو اس نے پینا کولاڈا منگایا۔ جو پورٹ ریکو کا قومی مشروب ہے۔ جویریہ سے اس نے اس ڈرنک کی بہت تعریف سنی تھی اس میں ویسے تو باہر رم کے ساتھ انناس کا جوس اور ناریل کا پانی ملاتے ہیں مگر اس نے رومینہ کے لیے رم کی جگہ سیون اپ ڈال کر لانے کو کہا۔ سچ بات تو یہ تھی کہ اتنی اچھی سی۔ فوڈ اس نے پہلے کبھی نہیں کھائی تھی اور پھر کھانے کی سجاوٹ دیکھ کر تو وہ بہت دیر تک اپنی پلیٹ کو تکتی رہی۔چلنے سے پہلے اس نے سنگریا (اس میں آڑو، شہد اور ہلکی سی برانڈی ملی ہوئی تھی) کا ایک ایک بڑا گلاس منگالیا خود بھی پیا اور اسے بھی پلایا۔مٹھاس کی وجہ سے رومینہ کو پتہ ہی نہ چل پایا کہ یہ شراب کی کاک ٹیل تھی۔

boat market
Klong Toey
pina colada
سی فوڈ

sangriya
سنگریا

کمرے میں آن کر پہلے تو اس نے خود غسل کیا اور پھر رومینہ نہائی۔رومینہ کی ضد تھی کہ وہ صوفے پر سوئے گی مگر جب نشے کے سرور میں بوس و کنار کے مراحل طے ہوئے اور اس نے بار بار وہی ضد  کی کہ وہ صوفے پر سوئے گی تو نعمان نے چڑ کر یہ کہا کہ ” “Decide now are you my girl or not تو رومینہ نے ہار مان لی۔جانے قربتوں کے وہ کون سے لمحات تھے کہ رومینہ کو پتہ ہی نہ چلا کہ بات کہاں آگے نکل گئی۔ رات میں یہ مراحل کئی دفعہ آئے ۔ ایجاب و قبول کے درجات میں اس نے کئی دفعہ نومی کو “مائی ہبی” کہہ کر پکارا۔ صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو بدن پر ایک کپڑا بھی نہ تھا۔ کچھ یہی عالم نومی کا بھی تھا جو برابر میں بے خبر سو رہا تھا۔وہ بہت دیر تک اپنی اس حرکت پر جاکوزی ٹب میں بیٹھی اپنے بدن کو دیکھ دیکھ کر آنسو بہاتی رہی۔ بدن پر جابجا کاٹنے اور ناخنوں کے نشانات بھی تھے جن  کی گواہی چاروں طرف باتھ روم میں لگے بے حیا بڑے بڑے آئینے بھی دے رہے تھے۔غسل کرکے اسے ایک عجیب فرحت بخش راحت کا احساس ہوا۔جیسے پانی نے رات کی سب زیادتی کو دھو ڈالا ہو۔
ٍ صبح اٹھ کر اس کے ساتھ ناشتہ کرتے ہوئے پہلے تو اس نے اس کی مدد سے اپنی امی کو فون کیا۔اس کی امی کو اس کی آواز میں بوجھل پن محسوس ہوا تو اس نے بہانہ کیا کہ ایک تو وہ رات بہت دیر تک بنکاک کی سیر کرتی رہی ہے۔ دوسرے بوبی بھائی کی تصویریں دیکھ کر اسے بہت دکھ ہوا۔طے یہ ہوا ہے کہ وہ اسے ایرپورٹ جانے سے پہلے ان کے حوالے کریں گے۔ ماموں جان کو بتادیں۔
جب رتنا اور وہ تھائی دوست ہوٹل آگئے تو وہ ان کے ساتھ Klong Toey بوبی سے ملنے گئی۔وہ وہاں اپنے سابقہ ٹھکانے پر موجود نہ تھا۔ البتہ جس چھوٹے سے گھر میں اسے مقید رکھا گیا تھا اس کے سامنے والے گھر سے ایک بڑھیا انہیں وہاں پریشاں دیکھ کر باہر نکل کر آئی اور انہیں بتایا کہ ” شاید انہیں پولیس کے چھاپے کا خطرہ ہوگیا تھا۔ انہیں لگا کہ پاکستان میں اس حوالے سے لڑکے کے لوگوں نے کچھ بداحتیاطی کی ہے۔ اس لیے وہ اس کو تھایان لے گئے ہیں جو یہاں سے تین گھنٹے کی مسافت پر ہے۔وہ وہاں پہنچ کر مین بازار میں ایک ٹھیلے والے کا پوچھیں۔باقی ہدایات وہ دے  گا”۔نعمان نے رومینہ کو بتایا کہ “جرائم پیشہ افراد کو علاقے کے لوگوں کی مکمل معاونت حاصل ہوتی ہے۔یہ بڑھیا ان کے ہاں Minder(معاملہ ساز) کہلائے گی”۔

تھایان
تھایان
تھایان

 

نومی نے مینو کو بتایا کہ ان کی اس حرکت کی وجہ سے اس کے اخراجات میں بلاوجہ تین سے چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔مینو نے کہا کہ وہ چاہے تو اس اضافی رقم کے لیے اپنی خالہ زیباسے بات کرسکتی ہے۔وہ آفتاب بھائی کو یہ رقم دے دیں گے۔

بنکاک کے شور شرابے سے دور تھایان ایک بہت چھوٹا سا صاف ستھرا قصبہ تھا۔ وہ ٹھیلے والا انہیں ایک بجے کے قریب مل گیا۔اس نے یہ تو یقین دہانی کرادی کہ ” بوبی یہاں تھایان میں موجود ہے۔ملانے سے وہ اس لیے قاصر ہے کہ اس بارے میں اس کے پاس کوئی حکم نہیں۔اس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔بس اسے تو پیغام رسانی کے لیے کہا گیا ہے”۔جب تھائی دوست مونگ کٹ نے اس سے ملانے کی ضد کی تو اس نے دو گھنٹے کا وقت بھی مانگا ۔
مونگ کٹ نے بتایا کہ اس لڑکے کی بہن بہت پریشان ہے اور خاص طور پر پاکستان سے اسے لینے آئی ہے۔دو گھنٹے بعد رومینہ اس ٹھیلے والے لڑکے کی بہن لے مائی ایک اسکوٹر پر بٹھا کر گھوماتی پھراتی ایک گاؤں کے اندر لے گئی ایک گلی میں پہنچ کر وہ رک گئی ۔سامنے کے گھر سے ایک لڑکا ایک ہیلمیٹ لے کر آیا اور رومینہ کہ سر پر پہنادیا۔اس ہیلمٹ کے پار رومینہ کو کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا
۔پانچ چھ منٹ بعد وہ اس کا ہاتھ پکڑے اسے ایک کمرے میں لے گئی جہاں بوبی کو رکھا گیا تھا۔ وہ اب ان تصویروں سے مختلف دکھائی دے رہا تھا۔ اس کی حالت اس دوران بہتر ہوگئی تھی۔شیو بھی بنا تھا اور اس کے کپڑے بھی نسبتاً صاف ستھرے تھے۔
اس سے مل کربوبی بہت شرمندہ تھا مگر اس کا اپنا پچھتاوا بھی کچھ کم نہ تھاوہ اس منگیتر کی وجہ سے دو دفعہ اجڑی اور بکھری۔ اب شاید وہ پہلے والی رومینہ نہ تھی۔کاش یہ سب کچھ نہ ہوتا مگر اب گیا وقت واپس آنا محال تھا ۔وہ اس سے گفتگو کرنا چاہتا تھا مگر جو دو عورتیں وہاں موجود تھیں انہوں نے لے مائی کو اشارہ کیا تو وہ رومینہ کا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر نکلنے لگی جس پر رومینہ نے لے مائی سے پوچھا کہ ” وہ اسے کب ان کے حوالے کریں گے؟!” تو اس نے یہ سوال ان دو عورتوں سے کیا جس پر ایک نے کہا کہ وہ باہر کمپاؤنڈ میں انتظار کرے اور پیچھے دروازہ بند ہوگیا۔کچھ دیر بعد وہ لڑکا بھی وہاں آگیا۔ لے مائی نے وہی سوال اس سے کیا تو وہ کہنے لگا” شاید پرسوں اسے یا تو وہ ان کے بتائے ہوئے پتے پر چھوڑ جائیں گے یا ایر پورٹ پر ان کے حوالے کریں گے”۔
۔ ۔ چلتے وقت رومینہ نے جو اپنی خالہ سے فون پر بات کی تھی اس کے نتیجے میں آفتاب کو پانچ لاکھ روپے پاکستان میں مل گئے تھے۔ رومینہ کی اس اطلاع پر نومی ناراض ہوا کہ اس نے یہ پیسوں کی بات اپنی خالہ سے کیوں کی۔وہ اس بکھیڑے میں صرف اس کی محبت میں ملوث ہوا ہے۔اس میں پیسوں کی آمیزش کرکے اس نے بہت زیادتی کی ہے۔رومینہ کو لے مائی نے اس کے پوچھنے پر بتایا کہ جب وہاں موجود عورتوں سے بات کی تو یہ طے ہوا کہ پرسوں وہ اسے اس کی فلائیٹ سے تین گھنٹے پہلے ان کے ہوٹل کے قریب چھوڑ جائیں گے۔
مونگ کٹ کا مشورہ تھا کہ اب جب سب کچھ طے ہوگیا ہے۔ وہ پے مینٹ کی ڈیلوری کا خاص خیال رکھے اور مینو کو وہاں سے کچھ دور ایک پرفضا مقام ہواہن لے جائے ۔ یہ تھائی رائلز کا پسندیدہ مقام ہے۔اسے وہ ہواہن ہل سائیڈ ری سارٹ میں قیام کرائے۔وہاں سے ذرا ہی فاصلے پر ایک بہت ہی خوب صورت بیچ ہے۔وہاں اسے لے کرپیراسیلنگ کرائے۔اس پر نعمان نے رومینہ کی نظروں کی طرف دیکھا جن میں اس سیر کا بھی ایک بے تاب مطالبہ بڑی خاموشی سے جھلملا رہا تھا۔

hillside resort
ہواہن
ہواہن
ہواہن
ہواہن
hu hin
ہواہن

اس نے اردو میں رومینہ کو صرف دو فرمائشیں کیں کہ ایک تو وہ اب اسے صرف” مائی ہبی “کہے گی دوسرے وہاں کپڑے اس کے کہنے پر اس کی مرضی کے مطابق پہنے گی۔رومینہ نے سوچا اس کے پاس اس مرد سے چھپانے اور بچانے کو کچھ باقی نہیں رہا۔اس نے بہت خاموشی سے اثبات میں جب سر ہلا دیا تو مونگ کٹ نے کہا ”
Ok now you hit the road”۔وہ خود تو اس وعدے کے ساتھ کہ  کل شام جب وہ واپس آئیں گے تو اس کے مہمان ہوں گے۔کل کی رات ا ن کی بنکاک میں آخری رات ہے “So lets paint the town red”
دو سے تین گھنٹے انہیں ہواہن پہنچنے میں لگے مگر انہوں نے قیام سنٹرا گرانڈبیچ ری سورٹ میں کیا ۔یہ ایک قدیم ہوٹل تھا جس کے قریب ہی بیچ تھا۔

Grand Cenrta hua hin

سارا راستہ رومینہ یہ سوچتی رہی کہ وہ اسے” مائی ہبی” پکارنے کی ضد کیوں کررہا ہے کہ وہ اسے یہ بات باور کرانے میں کامیاب ہوجائے کہ پہلی رات اس کے ساتھ نعمان نے ہوٹل میں جو کچھ کیا وہ میاں بیوی کے درمیان ایک طے شدہ امر ہے۔اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔وہ اس کی اس زیادتی کو نہ صرف دل سے قبول کرلے اور آئندہ اس کی ہرکاروائی میں اس حوالے سے دل کھول کر شریک ہوجائے۔اس نے البتہ اس کی پسند کے کپڑوں والی بات کو سوچ کر اپنے ذہنی خلفشار کو کچھ دیر کے لیے تسکین دی کہ وہ اسے یا تو کوئی اور ہالٹر وغیرہ پہننے کو کہے گا یا بہت ضد کی تو اسے سوئمنگ سوٹ پہننے کا کہے گا اگر سوئمنگ سوٹ پہننے والی ضد قائم رہی تووہ سمندر کے پانی میں جانے  سے پہلے ایک دوپٹہ بطور سارنگ اپنی کمر کے اردگرد لپیٹ لے گی تاکہ اس کی عریانی چھپ جائے۔

سارنگ

ہوٹل کی شان و شوکت دیکھ کر وہ چکراگئی۔کیا عمدہ قدیم ہوٹل تھا۔سن1923 میں اسے تعمیر کیا گیا تھا۔اپنا بیگ وغیرہ رکھ کر وہ تو بستر پر لیٹ گئی اور سوچنے لگی کہ یہ مزے اب زندگی میں اسے صرف اسی وقت مل سکتے ہیں جب یا تو وہ اس کی بیوی بن جائے یا اس جیسا کوئی اور مرد اس کی زندگی میں اس کے جانے کے بعد آجائے۔اس نے تھوڑی دیر اس کے ساتھ لیٹ کر اسے پیار کیا اور اس کے بعد اس کے بدن کی پیمائش پوچھی جو اس نے لجاتے ہوئے بتادی۔وہ کہنے لگا اس کے لیے وہ نیچے پیراکی کا لباس لے کر آتا ہے۔رومینہ نے جب ساتھ چلنے کی ضد کی تو وہ نہ مانا جس پر اس نے کہا وہ
جو لباس لائے وہ ایسا نہ ہو کہ اسے زیب تن کرنے میں اسے تامل ہو۔اس میں عریانی کا اہتمام کم سے کم ہونا چاہیے۔

اس کے جانے کے بعد رومینہ تو سیدھی باتھ ٹب میں بیٹھ گئی  ، اس کے کمرے میں آنے پر جب وہ ایک بڑا سا تولیہ لپیٹے باتھ روم سے باہر آئی تو وہ جو لباس لایا اسے دیکھ کر تو رومینہ کے ہوش اڑ گئے۔ یہ ایک ٹو پیس بکنی تھی ڈوریوں والی۔نیلے رنگ کی۔ اسے کھول کر دیکھتے ہی اسے لگا کہ اس  سے  تو  اس کا سینہ اور کولہے بمشکل ہی چھپ پائیں گے۔ اتنی عریانی! توبہ توبہ!! وہ کیسے باہر سب کے سامنے نبھا سکتی ہے۔ رومینہ نے اسے کہا کہ وہ اسے ہرگز نہیں پہنے گی تو وہ اسے چھوڑ کر جانے لگا اور یہ دھمکی بھی دی کہ ” وہ پیکنگ کرلے وہ واپس جارہے ہیں اپنی امی کو بھی فون کرلے کہ انہوں نے بوبی کو رہا کرنے سے انکار کردیا ہے”۔اس کی یہ بات سن کر تو رومینہ کے ہوش ہی اڑگئے ۔
رومینہ نے منہ  بسورتے ہوئے کہا “نومی آپ تو میرا سب کچھ دیکھ چکے ہیں۔ میں نے آپ کی کل رات والی زیادتی پر بھی کچھ نہیں کہا۔آپ میرے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک دفعہ مجھے کھل کر بتادیں تاکہ مجھے بھی آپ کے ظلم اور اپنی برداشت کی حد مقرر کرنے میں کچھ آسانی ہوجائے۔ وہ صاف مکر گیا کہ اس نے کوئی زیادتی اس کے ساتھ نہیں  کی ہے اگر وہ ایک چھوٹی سی فرمائش کے عوض اس تعلق کو ختم کرنے کے درپے ہے تو یہ اس کی مرضی ہے۔ ” I only want to see you beautiful. You should have decided you are not my girl. Did’nt you call me my hubby last night )when we were so close.”میں تو صرف آپ کو خوب صورت دیکھنے کا متمنی ہوں۔آپ کو یہ فیصلہ پہلے ہی کرلینا چاہیے تھا کہ آپ میری محبوبہ نہیں۔آپ نے کل رات جب ہم بہت قریب تھے کیا مجھے میرا میاں کہہ کر نہیں پکارا) “تو آپ نے کوئی زیادتی نہیں کی۔ آئی واز اے ورجن بی فور آئی کیم ہئیر ود یو۔آپ نے مجھے مختلف ڈرنکس میں شراب ملا کر پلائی۔میری عزت لوٹی اور آپ نے کوئی زیادتی نہیں کی
۔ ” You sure have a very convenient memory and all reasons to suit your demands”( میں آپ کے ساتھ یہاں آنے سے پہلے کنواری تھی ۔آپ کی یادداشت یقیناًبہت مطلبی ہے اور آپ کے پاس اپنی بات منوانے کا ہر حربہ ہوتا ہے) رومینہ نے روہانسی ہو کر کہا۔
اس کی یہ بات سن کر نومی دروازے کی طرف باہر جانے کے لیے بڑھنے لگا تو رومینہ نے اس کا راستہ روک لیا۔ بھاگ کر رومینہ بکنی اٹھائے ہوئے باتھ روم میں چلی گئی اور پھر ہالی ووڈ کی کسی دل فریب اداکارہ کی طرح سامنے دوپٹہ ڈالے آنکھیں مٹکاتی چہرے پر جان لیوا مسکراہٹ لیے باہر آئی ایک دوسرے کو منانے میں بے تکلفی اور وحشتوں کے کئی مراحل طے ہوئے اور ایک گھنٹے بعد نہاکر جگمگاتی رومینہ اس کی دی ہوئی بکنی پہن کر بیچ پر بیٹھی تھی ۔بیچ پر کئی خواتین تو اپنے سینوں پر کچھ بھی نہیں پہنے تھیں یہ سب کچھ دیکھ کر اسے اپنی عریانی پر ہونے والا پچھتاوا ہوا میں اڑتا ہوا محسوس ہوا۔اس نے ڈرتے ڈرتے پیرا سلینگ بھی کی ۔پیراشوٹ جب تیزی سے چلتی ہوئی اسپیڈ بوٹ سے جدا ہوکر فضا میں بلند ہوا تو اس کی چیخیں نکل گئیں۔نومی نے اسے کشتی سے ہاتھ ہلایا تو کشتی میں بیٹھے ملاح نے انگریزی میں  کہا کہ یہ لڑکی آج بیچ پر آنے والی لڑکیوں میں سب سے حسین ہے اور ایکزاٹک فگر کی مالک ہے۔اس نے تین مختلف مقامات پر اسی طرح کے کھیلوں میں حصہ لیا۔نومی نے اس کھانا بھی بہت عمدہ کھلایا۔ایک سونے کا لاکٹ بھی خریدکر اسے اس وعدے کے ساتھ دیا کہ ان کا آپس کا تعلق رہے یا نہ رہے۔وہ یہ لاکٹ ہر وقت پہنا کرے گی۔ اب آپ میری بیوی ہیں اور میں۔۔۔ اس پر مینو نے اس کی  بانہوں میں پگھلتے ہوئے کہا یو آر مائی آل ، یو آر مائی اونلی ہوپ ، مائی اونلی لو،مائی ہبی۔۔
ان کا کمرہ جو در اصل ایک ایسا ولا تھا جو بالکل ساحل سمندر کے سامنے تھا۔باغ سے ذرا پرے جہاں درختوں کا ایک جھنڈ اسے چھپائے بیٹھا تھا۔ اس کے دونوں رخ پر بڑی کھڑکیاں تھیں۔ان کھڑکیوں سے اندر کے مکین تو جلوے ادھر کے دیکھ سکتے تھے مگر باہر والوں پر اندر کا منظر دیکھنا ممکن نہ تھا۔
مینو اسے مزید رجھانے کے لیے ایک دلہن کی طرح بن کر پلنگ پر بیٹھ گئی مینو نے اس کی بات سن کر اسے قریب آنے کا اشارہ کیا اور اس کا گھونگٹ اٹھانے کی سرگوشی کی ۔اس نے جب یہ فرمائش پوری کی تو مینو نے ہلکے سے گنگنایا

ع جیسے رادھا نے مالا جپی شیام کی،

میں نے اوڑھی چنریا تیرے نام کی۔
جب نومی نے ضد کی کہ”Hit me”تو مینو نے کہا وہ آج ففٹی شیڈ آف گرے کی Anastasia Steele تو ضرور بنے گی مگر نومی پر وصل کے لمحات میں جسمانی مظالم وہ وہی کرے گی جو Christian Grey نے اناستیسا پر کیے تھے۔ وہ رات کرب و لطف کی عجب رات تھی۔مینو کو اپنی وحشتوں کا اندازہ نہ تھا۔اس رات لگا کہ وہ رومینہ جو گھر سے پہلی دفعہ باہر نکلی تھی وہ بہت پیچھے رہ گئی ہے اور سنٹرا گرانڈبیچ ری سورٹ میں مکمل عریانی اور مردانہ قربت کا لطف لیتی ہوئی اپنی  وارفتگی سپردگی اور وحشتوں کو مختلف انداز سے برتتی ہوئی یہ لڑکی کوئی عورت ہے جو اس کے اندر برسوں سے ایک جن بنی چھپی تھی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *