اپنے اصول خود بنائیے۔۔۔۔اعزاز احمد

زندگی کے رنگ اپنے اصولوں کے سنگ ہی بہتر لگتے ہیں کوئی تُھوپ دے یا مجبورًا اُن اصولوں پر چلا دے، زندگی عجیب سے کسی نامکمل راستے میں ایک لاحاصل کشمکش میں گزر جاتی ہے، پھر زندگی کا ہر رنگ جِتنا بھی حسین ہو اُتنا ہی بے رنگ سا لگتا ہے، انسان کی سوچ اگر سوچے  تو زندگی گزارنے کی مشکل سے مشکل گتھی سلجھا دیتی ہے اور اگر بلکل نا سوچے نتیجتجاً ہر راستہ الجھا دیتی ہے، فکر کی کشتی کسی اپنی خواہش کے کنارے پر لنگر انداز نا ہو اور تو ہر سہانا موسم بھی بے ڈھنگ سا لگتا ہے اور اگر کسی اپنی چاہت سے بغل گیر ہوجائے تو تپتی دھوپ میں بھی گن گنانے کا دِل کرتا ہے، اـس لیے کوشش تو یہی رہنی چاہیے کہ زندگی کی اُلنجھنیں آسان اور سیدھے راستوں سے ہی سلجھ جائے، تو بہتر ہے۔۔

انسان کی زندگی کا سب زیادہ دارومدار اُسکے والدین کی خواہشتات پر ہوتا ہے، وہ کیا چاہتے ہیں؟ کتنا چاہتے ہے؟ کس سے چاہتے ہیں ؟ گویا کہ وہ کامیابی اور ناکامی کی ایک بہت واضح لکیر کھینچ دیتے ہیں۔۔!

غور کے سمندر میں غوطہ ظن ہوا جائے تو ہماری زندگی بلکل ایک پاکستان کرکٹ کی طرح ہے، جہاں والدین (بورڈ چیئرمین اور کوچ) کا کردار کرتے ادا کرتے ہیں، اور اولاد ایک کپتان کا، جس طرح کپتان سے پوچھ کر چیئرمین نہیں لگایا جاتا اِسی طرح ہم سے پوچھ کر والدین کا انتخاب نہیں کروایا جاتا،

چیئرمین اکثر اوقات کپیتان سے مشورہ کیے بغیر بہت سارے ٹیم کے اندرونی اور بیرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں، کپتان مجبور ہوتا ہے اور اکثر اُسی فیصلے کی پاسداری کرتا ہے، چئیرمین بہت سارے ایسے کھلاڑیوں کو ٹیم میں لاتا ہے، جو کپتان کی نظر میں ناقابل قبول ہوتے ہیں، لیکن ہر بار اُسے سر خم ہوکر فیصلے کو تسلیم کرنا پڑتاہے،

سوچنے کی بات یہ ہے، چیئرمین ایسا کیوں کرتا ہے، شاید اِس لیے کہ وہ  ایسا کرنا حق سمجھتا ہے، اپنا حق جتانا جانتا ہے، یا پھر اُس نے معاشرے میں یہی چلتے دیکھا ہے۔۔ یا شاید ایسا ہے کہ اُسکی فہم و فراسٹ، شعور، دور بینی اُس ایک کپتان سے بہت اچھی ہوتی ہے، جس کا ایک مقصد ہے کہ کپتان کو کامیاب بنایا جائے،

اِس سب حالات میں ایک بات تو واضح ہے، تاریخ کسی کوچ یا چئرمین کے نام کو یاد نہیں رکھتی، کون بتا سکتا ہے 1992 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چئرمین کون تھا ؟ کس کو یاد ہوگا 2009 کے ورلڈکپ میں کون کوچ یا چئرمین تھا ؟ 2017 کی چیپین ٹرافی میں کون چیئرمین تھا؟ کچھ یاد نہیں رہتا سوائے ایک نام کے اور وہ ہے کپتان !

ایسا نہیں ہے کہ ناکامی کے بعد کوچ یا چئرمین یاد رہتے ہیں، 1999 کے فائنل ہار میں کون تھا کوچ ؟ یا 2007 کے فائنل کی  ہار میں کون تھا چئیرمین ؟ کس کا نام یاد رکھا جائے گا صرف کپتان کا !

اِس لیے حالات کامیابی میں بدل جائے یا ناکامی میں، ہار ہو یا گالی، یاد کپتان کو رکھا جائے گا، تو کیوں نا چئیرمین یا کوچ اُس کپتان کو اتنا اعتماد میں لیں جو اپنے دِل کی بات سمجھ سکیں، بہتر پرفارمنس کو مستقل بنیادوں میں کیسے لایا جاسکتا ہے، لیکن ضروری یہ بھی ہے کہ کپتان (اولاد) خود کو اِس قابل رکھے کہ چئیرمین خود اعتماد کرنا چاہے نا کہ ایسا ہو کہ کپتان کو مجبورًا ہی ٹیم میں رکھا ہو اور وہ خود بے خبر ہو کہ وہ میدان میں کیا کرنے آیا، دوسری جانب  چئیرمین کا فرض زیادہ بنتا کہ وہ ایسے فیصلے زندگی میں مسلط نا کرے جو جو بعد میں ایک دوسرے کو ملامت اور طعنہ زنی کے علاوہ کچھ نا دیں سکے۔۔

چئرمین اور کپتان، والدین اور اولاد ایک دوسرے کو سمجھے گے سنیں گے تو وقتی سیریز نہیں جیتے گے بلکہ ورلڈکپ بھی جیتے گے۔۔

زندگی کسی زندہ انسان کے بتائے اصولوں سے نہیں گزاری جاتی اور نا ہی صرف مطلب پرست ہو کر خود سری میں گزاری جاسکتی ہے، منزل اور سواری کا خود انتخاب کیا جائے تو راستے کسی کہ بھی بتائے کام آسکتے ہیں لیکن منزل کا انتخاب ہی کسی اور کا ہو، تو سامنے نظر آنے والی منزل بھی ہمیشہ لاحاصل رہتی ہے ۔۔!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *