لنڈا, برانڈ کانشس اور پاکستانی قوم — بلال شوکت آزاد

میرا گھر جس علاقے میں ہے اسے لاہور کا “لنڈا گودام” اور “مِنی پشاور” کہا جائے اشیائے لنڈا کی اترائی چڑھائی بذریعہ بائیس وہیلر ٹرکس اور ہمارے پختون بھائیوں کی چہل پہل اور رہائش کی وجہ سے تو شاید غلط نہ ہو۔خیر کل مجھے کچھ ذاتی خریداری کی ضرورت پیش آئی تو سوچا کیوں نہ ذرا A کلاس لنڈا (وہ اشیاء فروخت جن پر پرائس ٹیگ جوں کا توں ہوتا ہے اور جو مغربی ممالک کے نامور برینڈز آؤٹ لیٹس پر بطور ڈسپلے استعمال ہوئی ہوں مطلب غیر مستعمل سامان) چھان لیا جائے کہ من پسند چیز مل جائے۔

ویسے کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ استعمال شدہ (اس میں نوعیت الگ ہوجاتی ہے کہ وہ اشیاء ذاتی استعمال میں رہی یا تجارتی مطلب آؤٹ لیٹس کے ڈسپلیز تک) کپڑوں, جوتوں, کھلونوں, گھریلو مشینری اور پرانی دوسری اشیاء کے بازار کو ’’لنڈا بازار‘‘ کیوں کہا جاتا ہے؟

دراصل Linda لینڈا ایک عورت کا اسم گرامی ہے جو برطانوی نیشنل تھیں۔وہ بہت رحم دل اور حساس تھی، اسے غریبوں اور ناداروں سے خاص ہمدردی اور ان کی فکر تھی۔اس نے اپنے تئیں ارد گرد موجود غریبوں کے لیے کچھ اچھا کرنیکا سوچا چونکہ اس کے پاس اپنے ذاتی وسائل اس نیک مقصد کی تکمیل کی خاطر کم بلکہ نہ ہونے کے برابر تھے اس لئے اس نیک دل خاتون نے اپنے دوستوں اور پڑوسیوں سے عطیات دینے کی درخواست کی۔

اس کے دوستوں اور پڑوسیوں نے اسے اپنے استعمال شدہ کچھ پرانے جوتے کپڑے وغیرہ بطور عطیہ دیئے جو اس لینڈا نامی برطانوی نیک عورت نے غریبوں اور ناداروں کے لیے ایک سٹال پہ سجائے (جو اہل علاقہ میں Linda’s Stall کہلایا) اور غریب و نادار لوگ وہاں سے وہ مستعمل جوتے اور کپڑے حسب ضرورت مفت لینے لگے۔لینڈا کے سٹال کی افادیت اور تشہیر دیکھ کر دوسرے لوگوں کو بھی اس عمل کی ترغیب ہوئی اور ان لوگوں نے بھی اپنے پرانے کپڑوں اور جوتے وغیرہ لینڈا کو بطور عطیہ دینے شروع کردئیے تاکہ زیادہ سے زیادہ غرباء اور نادار افراد کی مدد ممکن ہوسکے۔

لینڈا کا یہ سٹال وقت کے ساتھ کافی مشہور ہوگیا, جو بعد میں ایک مکمل مارکیٹ کی شکل اختیار کرگیا۔آخر اس جگہ کو جہاں لینڈا نے سٹال لگا کر مستعمل اشیاء سے غرباء کی مدد شروع کی تھی “لینڈا مارکیٹ” کہا جانے لگا, جو درحقیقت صحیح معنوں میں غریبوں کی مارکیٹ تھی۔ایسٹ انڈیا کمپنی کے جھنڈے تلے انگریزوں کی برصغیر آمد کے ساتھ ہی انگریزوں کی پرانی اور استعمال شدہ اشیاء جو بے کار اور غیر ضروری ہوجاتی تھیں انگریز مالکوں کے لیئے وہ سستے داموں یہاں پاک وہند میں منڈی کی شکل میں بازار سجا کر بک جاتی تھیں۔

گویا ہمارے سابقہ آقا انگریز جاتے ہوئے اپنی وراثت کے طور پر ہمیں “لینڈا مارکیٹ” کا تحفہ دے گئے جسے ہم لوگ آج “لنڈا بازار” کہتے ہیں, جو کہ ہمارے ہاں ارتقائی مراحل اور زبان کے بگاڑ اور اکھاڑ پچھاڑ کے بعد مقامی زبان میں اس کا بگڑا ہوا نام ہے۔اب لوگ اسے “لُنڈا” اور “لنڈا” دونوں ناموں سے جانتے اور پکارتے ہیں لیکن اوکسفورڈ کی اردو ڈکشنری میں لفظ “لُنڈا” کے آگے “پرانی اور مستعمل اور سستی اشیاء کی مارکیٹ” کے طور پر معنی اور تفصیل درج ہے۔

اس کہانی میں ہمارے لیئے ایک اخلاقی سبق ہے اور ایک نظریاتی و فکری سبق۔لینڈا جو کہ ایک غیر مسلم عورت تھی لیکن انسانیت کا دکھ اور درد محسوس کرنے کی وجہ سے اس کا ایک چھوٹا سا نیک عمل آج پوری دنیا میں ایک برانڈ بن چکا ہے بیشک اب لنڈا مارکیٹ میں اشیاء مفت نہیں ملتیں پر کم خرچ بالا نشین کی مثال ہیں لنڈا مارکیٹس۔پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور عسکری ڈرامہ سیریل “ایلفا براوو چارلی” کا ایک منظر اس تناظر میں بہترین عکاسی کرتا ہے کہ دراصل برانڈز کون لوگ خریدتے اور پہنتے ہیں۔

منظر غالباً کچھ ایسے ہے کہ شہناز اور کیپٹن گلشیر کی شادی ہوچکی ہے اور وہ اپنا ہنی مون مناکر واپس آچکے ہیں اور کیپٹن گلشیر کی بوسنیا کی اٹیچمنٹس آچکی ہیں اور دونوں بیگ پیک کرتے ہوئے گپ شپ کررہے ہیں کہ شہناز ایک مشہور برانڈ مارک اینڈ سپینسر کا ٹوپیس پکڑتی ہے جس سے فرنائل کی گولیوں کی شدید بو آرہی ہوتی ہے, وہ اس کی جیب ٹٹولتی ہے تو اندر سے فرنائل کی گولیاں نکلتی ہیں جنہیں وہ فوراً پھینک دیتی ہے اور سوٹ کا ٹیگ دیکھ کر کیپٹن گلشیر کو مخاطب کرتی ہے کہ

شہناز: جی ایس جی آپ بھی برانڈز پہنتے ہیں, واؤ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا۔

گلشیر: ایس جی ایس, رہنے دو نا مت پوچھو۔

شہناز: جی ایس جی ایسا مت کریں بتائیں نا؟

گلشیر: ایس جی ایس دیکھو یہ جو برانڈز ہوتے ہیں نا یہ یا تو بہت امیر لوگ پہنتے ہیں یا پھر ہمارے جیسے۔

شہناز: جی ایس جی, کیا مطلب؟

گلشیر: ایس جی ایس, سمجھ جاؤ نا اب میں اور کیسے سمجھاؤں۔

خیر ہو سکتا ہے ترتیب اور الفاظ وہی نہ ہوں پر مفہوم کچھ ایسا ہی تھا جس میں کیپٹن گلشیر کا وہ جملہ

“یہ جو برانڈز ہوتے ہیں نا یہ یا تو بہت امیر لوگ پہنتے ہیں یا پھر ہمارے جیسے۔”

لنڈا مارکیٹ کی ساری داستان سنا گیا جس کا ہم سب ہی زندگی میں حصہ رہ چکے ہیں, ہیں یا مستقبل میں ہوسکتے ہیں۔

خیر اخلاقی سبق تو سمجھ آگیا کہ انسانی ہمدردی اور مدد کا جذبہ کبھی مرتا نہیں لیکن ذرا نظریاتی اور فکری سبق بھی سمجھ لیں کہ انگریز نے جیسے ہمارے بہت سے شعار اور مملکت کے نظاموں میں اپنی حاکمیت اور ہماری غلامی کی یاد داشتیں چھوڑی ہیں جیسے عدالتی نظام, صحت کا نظام, تعلیم کا نظام اور لارڈ میکالے کا تعلیمی فارمولا اور نصاب تعلیم ویسے ہی ہمارے رہن سہن اور پہناوے کو بھی غلامی ذدہ بنانے کی کوشش کی “لنڈا مارکیٹ” کی صورت۔

مطلب ہم زندگی میں کبھی خود انحصاری اور خود کفالت کی منزل نہ طے کرسکیں۔ہم جمہوریت, نظامت, تعلیم, صحت, صنعت, تجارت اور سیاست میں کبھی کچھ نیا اور اپنا نہ کرسکیں بلکہ انگریز کی جھوٹن, اترن اور اس کے دیئے طریقہ کار پر ہی کاربند رہیں۔میں “لنڈا مارکیٹ” کے خلاف نہیں ہوں بلکہ میں اس لنڈے کی سوچ اور برانڈ کانشسنس کے خلاف ہوں جس نے ہماری قوم کے عالی دماغوں کو جکڑا ہوا ہے اور وہ خود سے کچھ نیا لانے, بتانے, دکھانے اور بنانے کو تیار نہیں۔اس وقت یہ لنڈا صرف ایک مارکیٹ نہیں رہا بلکہ ایک مکمل سوچ بن چکی ہے۔

آپ کو اسی سوشل میڈیا پر بے شمار لنڈے کے دانشور اور مفکر مل جائیں گے جو کہ برانڈز کی نقل بننے کے چکر میں ایسی ایسی پھلجھڑیاں چھوڑتے ہوئے پائے جاتے ہیں الامان الحفیظ۔

خیر ہم بات کررہے تھے لنڈا مارکیٹ کی کی جو کہ پاکستانیوں کی اکثریت کی پسندیدہ جگہ ہے۔لیکن کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی اور مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت لنڈا مارکیٹ یعنی استعمال شدہ اشیا کے بازاروں کا رخ کرتی ہے لیکن دنیا کے امیر ترین ملکوں میں بھی لوگ ایسے بازاروں کا رخ کرتے ہیں، تاہم اس کی وجوہات اور ان کی ترجیحات قدرے مختلف ہیں۔

کافی ممالک میں گاڑیوں کا لنڈا مقبول ہے, کہیں سپورٹس کے سامان کا, کہیں مشینری کا, کہیں گھریلو فرنیچر کا, کہیں کمرشل فرنیچر کا اور کہیں گھریلو استعمال کی چھوٹی مشینری وغیرہ کا۔بہرحال میں ایک مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا عام پاکستانی بھی لنڈے کا دلدادہ ہوں پر میری ترجیح لنڈے میں وہ سامان تلاش کرنا ہوتا ہے جو کمرشل یوز میں رہ چکا ہو مطلب ہالی وڈ انڈسٹری کا مستعمل لنڈا اور برانڈز آؤٹ لیٹس کے ڈسپلے پیسز مطلب وہ اشیاء جن پر پرائس ٹیگ موجود ہو اور دکان دار انہیں فرسٹ کلاس یا A کلاس لنڈا اور ملائی پیس کہہ کر دکھائے بیشک نارمل لنڈے سے کچھ روپے زیادہ ہی مانگ لے۔

لنڈے سے جو برانڈڈ سوٹس اور شرٹس اور سردیوں کے گرم لباس ملتے ہیں ان کا کوئی ثانی نہیں ویسے, یہ ذاتی تجربہ ہے۔مجھے اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی کہ آپ لنڈا مارکیٹ سے خریداری کریں اور وہ سامان اپنی مخصوص محافل میں استعمال کریں۔لنڈا اب ہمارے بنیادی انسانی حقوق اور کلچر کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔پاکستان میں سردیوں اور لنڈے کا وہی رشتہ بن چکا ہے جو صدیوں سے یہاں ڈرائی فروٹ اور کہوے کا ہے۔اس وقت بہت سے بڑے برانڈز کے آؤٹ لیٹس میں بھی A کلاس لنڈے کو بہترین پیکنگ میں بیچا جارہا ہے معمولی سی کاریگری کے بعد جبکہ ہمارے برانڈ کانشس دوست اس بات سے مکمل بے خبر ہیں۔

قصہ مختصر لنڈا مارکیٹس نے اس وقت پاکستان کی عوام کا برہم رکھا ہوا ہے اور میرے خیال میں اتنا ہی کافی ہے کہ ہمارا برہم قائم رہے کیونکہ ہمارے حکمرانوں اور انگریز کے چھوڑے ہوئے نظام کو ہم بدلنے کے خواہاں نہیں تو چلو عقل سے بیشک غلام سہی پر شکل سے تو غلام نہ نظر آئیں بلکہ انہی جیسے نظر آئیں جن کے ہم ذہنی و عقلی غلام ہیں۔ہمیں سیاسی و جمہوری لنڈے سے فلفور چھٹکارا درکار ہے جو ہم پر ستر سالوں سے مسلط ہے باقی یہ اترن والا لنڈا چل جائے گا۔لنڈا برا نہیں, بس برانڈ کانشنس اور پاکستانی عوام کی بے حسی اور مرعوبیت بری چیز ہے۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *