میں علیہ السّلام۔۔۔۔خالد سہیل

ایک نفسیات کے طالب علم ہونے کے ناطے جب میں اپنے ارد گرد کی ادبی محفلوں پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مجھے مختلف شخصیتوں کے مالک شاعر اور ادیب‘ ناقد اور دانشور دکھائی دیتے ہیں۔ وہ مختلف مزاج رکھتے ہیں۔ بعض شاعروں‘ ادیبوں‘ ناقدوں اور دانشوروں کا مزاج طالبعلمانہ ہوتا ہے‘ بعض کا استادانہ‘ بعض کا فلسفیانہ اور بعض کا پیغمبرانہ اور ایک گروہ ایسا ہوتا ہے جس کے ممبروں کو ہمارے عزیز دوست رفیق سلطان میں علیہ السلام کہتے ہیں۔
میں نے زندگی میں چند ایسے شاعروں‘ ادیبوں‘ ناقدوں اور دانشوروں سے ملاقات کی ہے جو میں علیہ السلام کے خبطِ عظمت کا شکار تھے۔ اکثر لوگ ایسے فنکاروں سے بہت frustrate ہوتے ہیں لیکن میں ایک ماہرِ نفسیات ہونے کی وجہ سے بہت fascinate ہوتا ہوں۔ ان کی جن باتوں سے باقی لوگ irritate ہوتے ہیں میں ان سے amuse اور محظوظ ہوتا ہوں۔ اب آپ پوچھیں گے کہ ایسے شاعروں‘ ادیبوںُ ناقدوں اور دانشوروں کی کیا خصوصیات ہیں جو میں علیہ السلام کے ذہنی عارضے کا شکار ہیں۔
میری پیشہ ورانہ رائے یہ ہے کہ ایسے لوگ Delusions of Grandiosity کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیات میں مندرجہ ذیل خصوصیات پائی جاتی ہیں (اگر ان کو خصوصیات کہا جا سکتا ہو)
پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ Mr know it all ہوتے ہیں۔وہ ہر بات حتمی طور پر کرتے ہیں اور ہر موضوع پر اپنے آپ کو authority سمجھتے ہیں۔

دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اپنی رائے دینے سے پہلے وہ سقراط ‘ بقراط‘ افلاطون اور جالینوس کو quote کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو سے یوں لگتا ہے جیسے وہ سقراط کے دوست ہوں یا بقراط کو اپنا ہم خیال سمجھتے ہوں۔
تیسری خصوصیت یہ ہے کہ ہر محفل میں دوسروں کو impress کرنا چاہتے ہیں۔یوں لگتا ہے جیسے وہ ایسے خود ساختہ پیر ہوں جنہیں نئے مریدوں کی تلاش ہو۔ اگر انہیں کسی مرد یا عورت میں ادبی مرید بننے کی صلاحیت یا کمزوری دکھائی دے تو وہ فوراٌ اسے اپنے دامِ شاگردی میں الجھانے اور پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔

چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص محفل میں کوئی شعر یا جملہ غلط پڑھے تو فوراٌ اس کی تصحیح کرتے ہیں اور وہ بھی اس طرح کہ اگلا شخص جھینپ جاتا ہے۔ دوسرے لوگوں کا سب کے سامنے مذاق اڑا کر یا انہیں شرمندہ کر کے ان کی انا اور ایگو EGO کو تسکین حاصل ہوتی ہے۔ ایسے فنکار دوسروں کی لاش پر کھڑے  ہو کر اپنا قد بڑھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔
پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ انہیں یہ کہتے ہوئے بالکل شرم نہیں آتی کہ وہ عہدِ حاضر کے سب سے بڑے شاعر ‘ ادیب ‘ نقاد یا دانشور ہیں۔ ان کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے وہ ایک طویل عرصے سے ناشناسی کا دکھ جھیل رہے ہیں اور ناقدری کی صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں۔

چھٹی خصوصیت یہ ہے کہ اگر ان کی کوئی نظم ‘ غزل ‘ افسانہ یا مقالہ کسی رسالے میں چھپ جائے تو شکریہ کا خط لکھنے کی بجائے وہ مدیر کو فون کرتے ہیں اور غصے سے شکایت کرتے ہیں کہ ان کی تخلیق کو صحیح مقام پر نہیں چھاپا گیا۔
ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ کسی ایسی محفل میں نہیں جاتے جہاں ان سے صدارت نہ کروائی جائے۔ بعض دفعہ تو صدارت کرنے کے لیے چھپ چھپا کر پانچ سو یا ہزار ڈالر بھی دے دیتے ہیں۔ ایک شاعر نے تو منتظمین کو ہزار ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن مشاعرے سے رخصت ہوتے ہوئے انہوں نے منتظمین کو صرف پانچ سو ڈالر دیے اور شکایت کی کہ ان کی باری آنے تک آدھے سامعین جا چکے تھے۔

اب تک آپ کو میں علیہ السلام کے ذہنی عارضے کے signs and symptoms کا اندازہ ہو گیا ہوگا۔ اگر آپ ایسے حضرات اور خواتین کی Life long study کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ آہستہ آہستہ ان کے شہر کے لوگ ان کو اپنی محفلوں میں بلانے سے کترانے لگتے ہیں۔
میں نے جب ایسے شاعروں‘ ادیبوں‘ نقادوں اور دانشوروں کو بڑھاپے میں احساسِ تنہائی کا زہر پیتے دیکھا اور وجہ پوچھی تو کہنےلگے کہ اس شہر کے لکھاری مجھ سے حسد کرتے ہیں۔
میں علیہ السلام کے ذہنی مریض اس خود فریبی کا شکار رہتے ہیں کہ وہ اتنے عظیم نابغہِ روزگار ہیں کہ وقت سے پہلے پیدا ہو گئے ہیں اور عوام کو کئی نسلوں اور کئی صدیوں کے بعد ان کی عظمت کا احساس ہوگا۔
مجھے پوری امید ہے آپ بھی میں علیہ السلام کے ذہنی عارضے کا شکار کئی ادیبوں‘ شاعروں‘ نقادوں اور دانشوروں سے مل چکے ہونگے۔ اگر نہیں ملے تو امید ہے کہ اس مضمون کے پڑھنے کے بعد جلد ہی آپ کی ان سے ملاقات ہو جائے گی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”میں علیہ السّلام۔۔۔۔خالد سہیل

  1. ایسے “مَیں بازوں” کیلئے میری حدملاقات تین نشستوں تک محدود ہے .اس کے بعد زیادہ تر اپنی باتیں دھرانے لگتے ہیں اور لطف جاتا رہتا ہے . پھر وہ مجھے ترس جاتے ہیں اور میں ان کو

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *