آٹھ دہائیوں کا چکر۔۔۔۔رانا اظہر کمال

اس کا نام تھا شیخ محمد حنیف اور وہ بوڑھ والی گلی، بازار حکیماں، اندرون بھاٹی گیٹ کا رہائشی تھا۔ واجبی سی تعلیم اور نہایت معمولی سرمائے کے باعث کوئی بڑا کاروبار نہیں کر سکتا تھا، اس لیے اس نے کپڑے کی ہول سیل مارکیٹ سے کپڑا خریدا اور بڑی سی گٹھڑی کی صورت میں کاندھے پر رکھ کر گلی محلوں میں بیچنا شروع کر دیا۔ یہ اس زمانے کا عام رواج تھا کیونکہ اکثر خواتین اپنی ضرورت کی اشیاء گھر بیٹھے ہی خرید لیا کرتی تھیں۔

کپڑا بیچنے کے لیے اسے دن بھر مختلف علاقوں میں پیدل گھومنا ہوتا تھا اور تھوڑے ہی عرصے میں مختلف تجربات سے گزرتے ہوئے اسے ہر علاقے کی نفسیات سمجھ آ چکی تھی۔ جب اس نے کام کا آغاز کیا تو وہ دھوتی کرتے کے ساتھ سر پر ترکی ٹوپی رکھتا تھا لیکن جلد ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ مسلمانوں والا حلیہ بھاٹی گیٹ سے بلال گنج تک کے علاقے میں تو قابل قبول ہے البتہ سَنت نگر اور کرشن نگر کی خواتین اسے خریداری کے لیے آواز دے کر نہیں بلاتیں۔ چند ہی روز میں اس کی کاروباری صلاحیت نے اسے اس مشکل کا حل بھی سجھا دیا۔ اب وہ گھر سے نکلتا تو اسی حلیے میں تھا جو اس کے باپ دادا کے زمانے سے چلا آ رہا تھا اور بلال گنج کے علاقے میں کام کے بعد جب ریمنگٹن روڈ یا ٹبہ بابا فرید کی جانب پہنچتا تو کسی درخت کے نیچے سانس لینے کو رک جاتا۔ اسی دوران وہ سر سے ترکی ٹوپی اتار کر اپنی بڑی سی گٹھڑی کی تہوں میں چھپا دیتا اور انہی تہوں سے ایک کشتی نما سفید ٹوپی نکال کر سر پر جما لیتا۔ (یہ ٹوپی بعد ازاں نہرو کیپ کے نام سے مشہور ہوئی) اب وہ سنت نگر اور کرشن نگر کا رخ کرتا جو متمول ہندو علاقے تھے اور یہاں بِکری بھی اچھی ہو جاتی تھی۔ شیخ حنیف نے بتایا کہ اگر دوراں گفتگو کسی عورت کو شک ہوتا تو وہ صاف پوچھ لیتی:
وے بھا! توں مُسلا تے نئیں؟
اچھا گاہک ہاتھ سے پھسلتے دیکھ کر وہ بھی رسان سے کہتا:
نئیں بھین جی ۔۔۔۔ دھرم نال نئیں ۔۔۔۔
سودا بیچ کر نکلتے ہوئے حنیف دل ہی دل میں اس عورت کو موٹی سی گالی دیتا اور سوچتا کہ اسے کپڑا خریدنا ہے یا مجھے اپنی بیٹی کا رشتہ دینا ہے ۔۔۔۔ ؟

ان حالات کو آٹھ دہائیاں گزر گئیں۔ سید گلفام حیدر انٹرویو کے لیے ایک کمپنی کے دفتر میں داخل ہوتا ہے۔ ڈائریکٹر اس کا سی وی دیکھ کر پہلا سوال ہی یہ پوچھتا ہے:
آپ شیعہ سید ہیں؟
گلفام کہتا کہ جی ہاں۔
ڈائریکٹر فائل واپس بڑھاتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ تشریف لے جا سکتے ہیں۔
گلفام حیدر حیرت سے کہتا ہے:
سر آپ نے میری پیشہ ورانہ صلاحیت کے بارے میں تو کچھ پوچھا ہی نہیں؟
ڈائریکٹر پھر کہتا ہے:
یو مے گو ناؤ۔
باہر نکلتے ہوئے گلفام کو بھی یہی سوچنا چاہیے کہ ڈائریکٹر کو مجھ سے دفتر کا کام لینا ہے یا بیٹی کا رشتہ دینا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن وہ صرف یہ سوچتا ہے کہ پاکستان کا بانی بھی تو ایک شیعہ ہی تھا لیکن اس نے یہ ملک محض اپنے مسلک کے لوگوں کے لیے تو نہیں بنایا تھا۔

(شیخ حنیف صاحب سے میں 1990 میں ملا تھا، وہ میرے ایک پروفیسر صاحب کے سگے ماموں تھے۔
سید گلفام حیدر، میرے مرشد جناب حیدر جاوید سید کے عزیز ہیں اور ان کے ساتھ یہ واقعہ ولسن فارماسیوٹیکلز میں پیش آیا ہے۔)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *