مستقبل کی دو تصویریں۔۔۔۔محمد اظہار الحق

پروفیسر اظہر پرانے دوست ہیں۔ بہت بڑا نجی تعلیمی نظام دیانت داری سے چلا رہے ہیں۔ ٹیکس پورا دیتے ہیں۔ اپنے ملازم کو ہر سال حج یا عمرے پر بھیجتے ہیں۔ ان کے ڈرائیوروں‘ نائب قاصدوں اور چوکیداروں کے بچے ان کے بلند مرتبہ سکولوں میں مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں مگر یہ وہ اصل بات نہیں جو آج کا موضوع ہے۔ پروفیسر صاحب گزشتہ کئی عشروں سے ایک معمول پر اتنی سختی کے ساتھ کاربند ہیں کہ ایسی پابندی یا تو وہ کرسکتے ہیں یا مشین۔ وہ ہفتے میں سات دن شام کو ایک گھنٹہ سیر کرتے ہیں۔ گرمی ہویا جاڑا‘ خزاں ہو یا بہار‘ وہ اس میں ناغہ نہیں کرتے۔ تیز بارش الگ مسئلہ ہے ورنہ پھوار اور بوندا باندی رکاوٹ نہیں بنتی۔ کوئی خاندانی تقریب ہو‘ کسی کی شادی ہو‘ وہ نمائندگی کے لیے بیٹے یا بیٹی کو بھیج دیں گے۔ دوسرا معمول ہے کہ صبح چھ بجے ایک گھنٹہ ورزش کرتے ہیں۔ اس میں تو بارش یا آندھی یا طوفان‘ کچھ بھی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ اب ہم پاکستان سے باہر نکلتے ہیں اور بحرالکاہل کے کنارے آباد ایک شہر میں جا نکلتے ہیں۔پروفیسر لز (Liz) اصلاً نیوزی لینڈ کا ہے مگر میلبورن میں آباد ہے۔ اس وقت اس کی عمر اسی سال سے پانچ سال کم ہے۔ چہرہ جھریوں سے اٹا ہے۔ کتنی ہی یونیورسٹیوں میں پڑھایا‘ کتنے ہی پی ایچ ڈی ڈاکٹر جو اس کے شاگرد ہیں ‘آج دنیا بھر کے تحقیقی اداروں میں مصروف عمل ہیں۔ پروفیسر لز نے اپنے ہم عمر ساتھیوں کا ایک گروپ تشکیل دیا ہوا ہے۔ یہ سب سنیچر کے دن سائیکلنگ کرتے ہیں۔ کم از کم ساٹھ اور زیادہ سے زیادہ ستر کلومیٹر۔ مگر اس طرح کہ یہ مشقت نہیں‘ تفریح محسوس ہوتی ہے۔ بوڑھوں کا یہ گروپ صبح پانی اور کچھ سنیک لے کر نکل پڑتا ہے۔ راستے میں جہاں ان کا موڈ بنتا ہے‘ کسی کیفے پر رک کرکافی پیتے ہیں۔ گپ شپ کرتے ہیں۔ پھر چل پڑتے ہیں۔ چند گھنٹوں بعد پھر کسی خوبصورت منظر کے پاس رک کر کچھ کھا پی لیں گے۔ اتنا نہیں کہ پیٹ ابھر آئے اور لیٹ جائیں۔ بس اتنا کہ بھوک کا کچھ حصہ دب جائے۔ جہاں ان کے اندازے کے مطابق تیس پینتیس کلومیٹر ہو جاتے ہیں‘ واپس چل پڑتے ہیں۔ یہ عمل وہ اتوار کے دن دہراتے ہیں۔ یعنی ہفتے میں دو دن ایسا کرتے ہیں۔ یہ ان کی ورزش بھی ہے‘ پکنک بھی اور دوستوں کا گیٹ ٹو گیدر بھی۔ یہ دو انتہائیں ہیں۔ پروفیسر اظہر کی طرح سخت پابندی کے ساتھ۔ یا پروفیسر لز کی طرح ہفتے میں دوبار۔ آپ ان دونوں میں سے ایک ماڈل اختیار کرسکتے ہیں۔ یقینا پہلا ماڈل آپ کے لیے ناقابل عمل نہیں‘ تو مشکل ضرور ہے۔ مگر دوسرے ماڈل پر آپ کا اور آپ کے احباب کا اعتراض ہو گا کہ ہفتے میں دو دن کیا فائدہ۔ یہ اعتراض بالکل بے بنیاد ہے۔ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ آپ کے معمولات اگر ہفتے میں چار دن اجازت دیتے ہیں تو لمبی سیر چار دن بھی کافی ہے۔ دو دن ممکن ہے تو یہ بھی مفید ہے اور اگر آپ کاروباری یا دفتری یا خاندانی مکروہات میں اس قدر دھنسے ہوئے ہیں کہ صرف ایک بار ہفتے میں وقت نکال سکتے ہیں تو اسے بھی بیکار نہ گردانیے۔ پابندی سے ہفتے میں ایک دن ہی اپنے لیے دو گھنٹے نکال لیجئے۔ ہاں ورزش‘ آپ کو سیر کے علاوہ کرنی ہوگی۔ آپ اپنی پسند کی کوئی سی ورزش انٹرنیٹ سے یا کسی جم کے انسٹرکٹر سے سیکھ سکتے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں لوگ پیدل چلنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ پارکنگ کے اصول سخت ہیں۔ سواری پارک کر کے آپ کو بازار یا دفتر یا یونیورسٹی تک بہت سا پیدل چلنا پڑتا ہے۔ اندرون شہر کے ریلوے سٹیشن یا بس سٹاپ دور دور واقع ہیں۔ ہمارے ہاں پہیہ الٹا گھومتا ہے۔ ہم بہانے ڈھونڈتے ہیں کہ پیدل دو قدم بھی نہ چلنا پڑے۔ وسیع و عریض پارکنگ چھوڑ کر گاڑی عین دکان کے سامنے کھڑی کرتے ہیں‘ بس نہیں چلتا کہ گاڑی دکان کے اندر لے جائیں اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے خریداری کرلیں۔ موٹرسائیکل پر تو یہ نشہ دو آتشہ ہے۔ تعجب ہے کہ موٹرسائیکل سوار واش روم یا ریستوران کے اندر‘ سوار ہو کر کیوں نہیں آتے۔ کرم نوازی ہے ان کی۔ ورنہ بعید اس گروہ سے کچھ نہیں۔ دن بدن پارک‘ باغات اور سیرگاہیں کم ہورہی ہیں۔ بچے گلی کوچوں اور شاہراہوں پرنہ کھیلیں تو کہاں جائیں‘ جُوع الارض۔ زمین کی بھوک۔ اس قدر بڑھی ہے کہ پلازوں پر پلازے بن رہے ہیں۔ متعلقہ محکمے بے نیاز بیٹھے ہیں۔ پلازہ بنتا ہے مگر ساتھ پارکنگ کی جگہ نہیں بنتی۔ ایسے میں جن اداروں نے نئی بستیاں قوانین کے مطابق بسائی ہیں‘ وہ قبولیت عامہ حاصل کر رہی ہیں۔ لاہور میں ای ایم ای ہائوسنگ سوسائٹی بنی تو لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ اسی طرح دارالحکومت میں بحریہ اور ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کی۔ بحریہ آج کل کالی گھٹا کی زد میں ہے۔ مگر دارالحکومت کی ڈیفنس ہائوسنگ کالونی نے بربادشدہ اسلام آباد کی جگہ لے لی ہے۔ آج سے چالیس سال پہلے اسلام آباد ایک خوبصورت شہر تھا۔ بہت سے شہروں کا آئیڈیل۔ شاہراہیں وسیع تھیں۔ پارکوں باغوں سیرگاہوں کی بہتات تھی۔ ہر طرف درخت تھے اور ہریالی۔ اسلام آباد کی خزاں بھی رنگین تھی کہ لہو کی طرح سرخ پتوں والے درخت عام دکھائی دیتے تھے۔ ترقیاتی ادارہ ابھی کرپشن کا ابوالہول نہیں بنا تھا۔ آپ فون کرتے تھے‘ سی ڈی اے والے دروازے پر حاضر ہو جاتے تھے۔ اب یہ سب کچھ ڈیفنس ہائوسنگ میں منتقل ہو گیا ہے۔ وسیع شاہراہیں‘ سیرگاہیں اور پارک‘ قانون کا نفاذ‘ مکان کی تعمیر کے دوران اگر سامان کا کچھ حصہ سڑک پر رکھا گیا ہے تو بھاری جرمانہ عاید ہوتا ہے۔ کسی سڑک کا کوئی حصہ بھی بند نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں دارالحکومت کا جو حصہ سی ڈی اے کے پاس ہے‘ وہاں سڑکیں اینٹوں بجری اور سریے سے اٹی ہیں۔ گاڑی تو دور کی بات ہے‘ پیدل چلنے کا راستہ نہیں۔ جس نئی بستی کا اوپر ذکر کیا ہے وہاں پانی کی قلت ہے نہ صفائی کا بحران۔ سب سے بڑا اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ مساجد ’’نجی شعبے‘‘ کی تحویل میں نہیں۔ مولوی صاحب اور موذن کو تین وقت باعزت کھانا مہیا کیا جاتا ہے۔ لائوڈ سپیکر صرف اذان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مسجد میں ایئرکنڈیشنڈ ہیں۔ جمعے کے خطبات فرقہ وارانہ نفرت سے پاک ہیں۔ کچھ عرصہ بعد مولوی صاحب تبدیل ہو کر کسی دوسری مسجد میں تعینات ہو جاتے ہیں۔ یوں گروہ بندی کا امکان ختم کر دیا گیاہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر بحریہ اور ڈیفنس میں ایسا ہوسکتا ہے تو پورے ملک میں کیوں نہیں ہو سکتا۔ مسجدیں‘ جو اللہ کا گھر ہیں‘ کب تک خاندانی وراثت کا حصہ رہیں گی اور کب تک مرنے والے کے ترکہ میں شما رہوتی رہیں گی؟ ہم سیر اور ورزش کی طرف واپس آتے ہیں۔ نئی بستیاں آباد کرنے والوں پر لازم ہے کہ سیرگاہوں‘ پارکوں اور باغوں کی گنجائش رکھیں مگر جہاں پارک اور سیرگاہیں نہیں ہیں‘ وہاں کے مکین سیر کے لیے کوئی اور راستہ نکالیں۔ سڑکوں پر کریں یا فٹ پاتھ پر یا چھتوں پر مگر نہیں کریں گے تو اپنے پائوں پر کلہاڑی ماریں گے۔ کچھ دن ہوئے ایک وڈیو کلپ نظر سے گزرا۔ ایک بوڑھا بستر پر لیٹا ہے۔ گلے اور ناک میں نلکیاں لگی ہیں۔ تیمارداریاں ہورہی ہیں۔ چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔ اسی عمر کا دوسرا بوڑھا نہا دھو کر‘ کپڑے تبدیل کر کے‘ پوتوں اور نواسوں کو لے کر باہر نکل رہا ہے اور چاق و چوبند ہے۔ یہ ورزش نہ کرنے اور کرنے کا فرق ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ موت کا وقت مقرر ہے۔ ورزش سیر اور بیماری کا بروقت علاج اس طے شدہ زندگی کو آرام سے گزارنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔بزرگ یہ دعا ضرور دیتے ہیں کہ خدا تمہیں کسی کا محتاج نہ کرے۔ جسمانی احتیاج سے بچنے کے لیے بزرگوں کی دعائوں کے علاوہ خود بھی کچھ کرنا ہوگا۔ اس لیے سیر اور ورزش کو روزمرہ کا معمول بنائیے۔ روزانہ نہیں تو ہفتے میں چار دن۔ وہ بھی مشکل ہے تو دودن ۔ مگر ایک پیوست زدہ مستقبل سے بچنے کی فکر کیجئے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *