قدرت کے قوانین۔۔۔۔۔محمد نصیر

خدا نے “کُن” سے یہ ساری کائنات بنائی اور پھر کئی اصولوں اور قوانین سے باندھ کر خودکار طریقے سے کائنات کو قائم رکھا  ہوا   ہے۔ کائنات کی ہر شے قدرت کے متعین کردہ اصولوں کے مطابق عمل کرتے ہوئے سکون اور کامیابی سے اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔ سورج، ستارے، چاند، ہوا، مٹی، پانی، نباتات، جمادات، پرندے، جانور تمام کے تمام ان اصولوں پر پابندی سے عمل کرتے ہیں اور ذرہ بھر  بھی روگردانی نہیں کرتے۔ چنانچہ ان کا جتنا بھی وقت کائنات میں گزرتا ہے یا گزر رہا ہے ہر قسم کی پریشانی، ٹینشن، شکایت سے پاک ہوتا ہے۔ قدرت نے انہیں مخصوص اصولوں سے باندھ دیا اور کچھ اختیار ہی نہیں دیا کہ وہ روگردانی کر کے مشکل کا شکار ہوں۔

یہیں ایک مخلوق ہے جو تمام مخلوقات سے افضل ہے اور آج تک کے علم کے مطابق  یہی لگتا ہے کہ کائنات کی ہر شے اسی مخلوق کے لئے بنائی گئی، وہ ہے حضرتِ انسان۔۔۔۔ خدا نے اسے مکمل بااختیار بنا کر اصول سکھا دئیے  کہ ان پر عمل کرو اور فلاح پاؤ۔ لیکن یہ حضرت اکثر روگردانی کرتے ہوئے کسی نہ کسی جگہ سینگ پھنسائے دُہائی دیتے پائے گئے ہیں۔ وہاں سے کسی نہ کسی طرح نکلے تو تھوڑی ہی دیر بعد بالکل ویسی ہی کسی مشکل میں گرفتار ہو گئے۔ اور ایسے ہی کرتے وقتِ آخر آن پہنچتا ہے۔ اور قدرت کا یہ شاہکار زندگی بھر ٹینشن، ڈپریشن، مشکلات اور پریشانیوں میں گھرے رہنے کے بعد اپنی نادانیوں اور ناکامیوں کا ٹوکرہ  اٹھائے ملکِ  عدم سدھار جاتا ہے۔ جہاں اس کے استقبال کے لئے بڑے بڑے گُرز اٹھائے خوفناک صورت فرشتے تیار کھڑے ہوتے ہیں۔ اور پہلی فرصت میں حساب کتاب کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ پھر اس دردناک عذاب کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کا ذکر جابجا ربِ کائنات نے اپنی کتاب میں کیا ہوا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا نے مجھ انسان کو کیا اسی لئے تخلیق کیا تھا؟ بالکل بھی نہیں۔ اصل بات اس کے بالکل برعکس ہے۔ خدا کی سب سے بڑی صفت “رحمٰن” ہے۔ سب سے بڑا مہربانی کرنے والا۔۔۔۔ اس کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے۔ اور اپنے سب سے محبوب بندے کو بھی رحمۃللعالمین کا لقب دیا۔ اگر زندگی بھر خواری اور آخرت میں عذاب ہی میں رکھنا ہوتا تو یہ نام یقیناً مختلف ہوتے۔ ہمارے ارد گرد ہر جگہ لامحدود نعمتیں اور رحمتیں ہیں۔ یہ جو ہمیں ہر طرف برائی ہی برائی نظر آرہی ہے ہماری کم ظرفی، غلط زاویہءِ نظر اور غلط پروگرامنگ کی وجہ سے ہے۔ یہ قدرت کے قوانین کے خلاف چلنے کی وجہ سے ہے۔

ایک بات گرہ میں باندھ کر رکھنے کی ہے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے سب اس بنانے والے کی عظیم منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ اگرچہ یہ بات ہمیں ہوش سنبھالتے ساتھ ہی معلوم ہو جانی چاہیئے، جیسا کہ اُس نے انتظامات کر رکھے ہیں۔ لیکن ہم سمجھنے سے بھاگتے ہیں۔ جبکہ اس کی نشانیاں ہمیں ہر طرف سے پکار پکار کر  بلاتی ہیں۔ ہر اچھی بری تقدیر اسی کی طرف سے ہے۔ اسی نے برائی بنائی اسی نے اچھائی بنائی۔ کیا وہ سب سے بڑا منصف ایسا کر سکتا ہے کہ دنیا میں ہم پر اپنی مرضی ٹھونس کر آخرت میں ہم سے اسی کا حساب بھی لے؟

اس نے انسان کو عقلِ سلیم سے نوازہ اور اس عقل کی رہنمائی کے لئے عِلم کو ہر مسلمان مرد و عورت کے لئے فرض کر دیا کہ وہ لازمی طور پر سیکھیں اور سمجھیں کہ قدرت کے قوانین کیا ہیں اور کیسے کام کرتے ہیں اور اندازہ لگا سکیں کہ بنانے والے کا ہمیں بنانے میں منشاء و مقصد کیا ہے۔ اس نے انسان کو حکمت و دانائی سے لیس کر کے اپنی نشانیوں کو اس کے ارد گرد پھیلا دیا۔ پھر اس نے فرما دیا حکمت کی بات مومن کی گمشدہ میراث ہے جہاں ملے ملکیت میں لے لو۔ اس نے سمجھایا کہ جاننے کی جستجو میں نکلو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ اس نے زندگی کی ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی رہنمائی اپنی کتاب میں لکھ کر ہمیں دے دی۔ پھر اسے بار بار پڑھنے کی ترغیب کی خاطر ایک ایک لفظ پر نیکیوں اور اجر کا اعلان کر دیا۔ ہم کتنے عجیب ہیں کہ اندھے، بہرے بنے دلوں کو سیل بند کئے اندھا دھند اپنی زندگی کے اختتام کی طرف بھاگتے جا رہے ہیں۔

کائنات کے سارے نظام کو قوانین نے باندھ کر رکھا ہوا ہے۔ ذرا سی بے اعتدالی سب کچھ تباہ کر سکتی ہے۔ کائنات میں جو اربوں کھربوں ستارے اور سیارے اپنے مداروں میں محوِ گردش ہیں اگر ایک ملی میٹر بھی مقررہ رستے سے ہٹیں تو کائنات کا نظام درھم برھم ہو جائے۔

قدرت کے بنائے ہوئے اصول و قوانین اس قدر سادہ اور آسان ہیں کہ ان کی مثال نہیں ملتی۔ ہم محض اپنی ہٹ دھرمی اور کم ظرفی کی بنا پر ان کے دائرے سے نکل جاتے ہیں۔ ہم ان کے سادہ ہونے وجہ سے انہیں دھتکار کر مشکل راستے اختیار کرتے ہیں اور آگے جا کر جب ان پر چلنے کی سکت نہیں پاتے تو مجبوراً وہ راستے چھوڑنے پڑ جاتے ہیں۔ اور مایوسی کا شکار ہو کر بے آسرا ہو جاتے ہیں۔ پھر ہمیں اندھیرے اچھے لگتے ہیں۔ پستیوں میں گرتے جانا زیادہ بہتر لگتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم پستیوں ہی کے لئے بنے ہیں۔ جبکہ خدا نے ہمیں “احسن تقویم” میں پیدا کیا ہے۔ ہر بچہ اس اوریجنل فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ بعد میں اس کے والدین اور ماحول اس کی تربیت کرتے ہوئے بگاڑ کر ویسا بنا دیتے ہیں جیسے وہ خود ہوتے ہیں۔ ہم ابھی جو کچھ بھی ہیں یہ ہمیں ماحول نے بنایا ہے۔ جتنے بھی رویے ہماری شخصیت کا حصہ ہیں سب ماحول کے عطا کردہ ہیں۔ ہماری شخصیت کی تعمیر میں خالق کے بنائے قوانین کے بجائے ایسے نظریات، قوانین و اصول کثرت سے پائے جاتے ہیں جو ہمارے شعور نے معاشرے کے غلط رویوں کے شر سے بچنے کی خاطر خود سے تخلیق کر لئے ہیں۔ جس وجہ سے ہم سروائیول موڈ میں جی رہے ہیں۔ یہ زندگی جو کہ رحمت تھی، زحمت کی طرح ہمارے گلے پڑی ہوئی ہے۔ اور ہم اسے اختتام تک پہنچانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔

ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اپنے رویے بدل کر اس فطرت پر لوٹیں جو اصلی اور حقیقی ہے۔ جو بنانے والے نے ہمیں بناتے وقت ہمارے اندر انسٹال کی تھی۔

انسان کے اندر کی کائنات کی تحقیق کرنے والوں نے انسان کے سات حقیقی رویے دریافت کئے ہیں۔ انہیں Seven Original Behaviors of the Soul کہا گیا ہے:-

Peace

Purity

Power

Love

Truth

Knowledge

Bliss

قدرت کا نظام کس قدر پیارا ہے کہ جب ہم ان حقیقی رویوں میں ہوتے ہیں تو کتنا اچھا محسوس کرتے ہیں۔ جبکہ ان کے متضاد رویے ہمارے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ ہم غصے، پریشانی، کمزوری، جھوٹ، جہالت، نفرت اور ان جیسے تمام منفی رویوں کے دوران کتنی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے ان منفی رویوں کی کیفیت کو UN-resourceful state کا نام دیا ہے۔ یعنی وسائل سے محرومی کی کیفیت۔ اس کیفیت میں انسان کچھ بھی اچھا نہیں کر سکتا۔ کُڑھتا ہے، خون جلاتا ہے، نقصان کرتا ہے اپنا بھی دوسرے کا بھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس کیفیت نے کبھی بھی بھلا نہیں کیا۔

دوسری طرف جب ہم اپنے حقیقی رویوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو ہم Resourceful state میں ہوتے ہیں۔ یہ تعمیری کیفیت ہے۔ دنیا جہان کی نعمتیں اور اچھائیاں اس فریکونسی پر دستیاب ہوتی ہیں۔ یعنی اگر فلاح اور کامیابی کی طرف جانا ہے تو اپنے آپ کو حقیقی رویوں کی طرف لے کر جائیں۔ اور اگر ناکامیوں اور پریشانیوں سے آپ کو پرابلم نہیں ہے تو اپنے آپ کو برے اور غیر حقیقی رویوں میں جینے دیں۔

ہم آج تک جو زندگی جیتے آئے ہیں اس کے مطابق ہمارے فطری اور حقیقی رویے وہ بن چکے ہیں جن میں ہم رہتے ہیں۔ یعنی غصہ، پریشانی، کمزوری، جھوٹ، جہالت، نفرت، دھوکہ(چالاکی) وغیرہ۔ جب ہم پیدا ہوئے تھے تو ان میں سے ایک بھی ہمارے ساتھ نہیں تھا یہ سب ہم نے  زمانے سے سیکھے، ماحول سے سیکھے۔ ہم اس سیکھے کی وجہ سے کہہ رہے ہوتے ہیں۔

“اس بات پر غصہ آنا تو فطری ہے”

“اس چیز کی وجہ سے پریشانی تو ہو گی ہی ناں”

تو اب سے اپنے حقیقی رویوں کی طرف لوٹیں۔ مزے کی بات ہے کہ یہ آپ کو سیکھنے نہیں پڑیں گے۔ آپ صرف قدم بڑھائیں ان سے جڑا اچھا احساس آپ کو کھینچ کر لے جائے گا۔

یاد رکھیں اُس سب سے بڑے مہربان نے ہمیں صرف اور صرف نوازنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ وہ ہم میں سے ہر ایک کو فلاح کے سب سے اونچے درجے پر دیکھنا چاہتا ہے۔ اس نے کائنات کی ہر شے ہمارے لئے بنائی۔ سب قوانین ہمارے فائدے کے لئے بنائے۔ اور پھر ان قوانین کو سکھانے کے لئے کیا کیا انتظامات نہیں کئے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اور تمام کتابیں آخر کس لئے بھیجیں؟ ہمارے اندر ضمیر کی صورت میں ایک نگران اور رہنما کیوں بٹھایا؟ یہ جو ہم ہر لمحے خوار ہو رہے ہیں کیا اُسے یہ اچھا لگ رہا ہو گا؟ نہیں۔ وہ ایسا ہر گز نہیں چاہتا۔ یہ ہمارے اپنے نقطہ نظر کی خرابی ہے۔

یہ اپنے راستے میں آپ کو جتنے بھی کانٹے نظر آ رہے ہیں یہ آپ نے خود بوئے ہیں۔ یہ دیواریں آپ کی اپنی کھڑی کی ہوئی ہیں۔ پرانے کانٹے چن لیں یا بچ کر آگے نکل جائیں اور نئے بونا بند کر دیں۔ دیواروں کو آہستہ آہستہ ایک ایک اینٹ کر کے گرائیں۔ اپنے دشمنوں کو اپنی دشمنی سے آزاد کر دیں۔ یہ آپ کا ان کانٹوں پر، رستے کی دیواروں پر اور آپ کے دشمنوں پر احسانِ عظیم ہوگا۔ کیوں کہ آپ اُن کو خدا کے ایک بندے کو اذیت دینے کے جرم سے نجات دلا رہے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *