• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • وارث شاہ دے نال کوئی گل کردا ، اوہنوں چا زمین تے ماردا میں۔۔۔۔زاہد علی بھٹی

وارث شاہ دے نال کوئی گل کردا ، اوہنوں چا زمین تے ماردا میں۔۔۔۔زاہد علی بھٹی

کچھ دن پہلے جھنگ سے ہمارے بہت ہی اچھے شاعر جناب عاقب ستیانوی صاحب نے جدی پشتی نوکر کے نام سے ایک نظم پڑھی، جو کہ سوشل میڈیا پر بہت ہی وائرل ہوئی ،جسے تجرباتی فنانس منسٹر نے ٹویٹر پر شئیر کیا، اچھا جذبہ ہے تعلیم دوستی اور پشتوں کی غلامی کے خلاف اعلان بغاوت کی جتنی بھی چرچا ہو وہ کم ہے لیکن اگلے ہی دن عاقب ستیانوی صاحب کو کال موصول ہوئی (قرین قیاس ہے کال لیہ کے اس خود ساختہ ارسطو کی تھی) جس میں انہیں مبارکباد دی گئی اور ان سے ٹٹولنے کے انداز میں ان کی زبان کا نام پوچھا گیا جس کے جواب میں ظاہر ہے انہوں نے پنجابی کہا تو موصوف کے پتا نہیں کہاں آگ لگ گئی اور کال کاٹ دی دوبارہ کال کی اور انہیں کہا گیا کہ منسٹر صاحب سے میری بات ہوئی ہے آپکی نظم انہوں نے غلطی سے ٹویٹ کر دی ہے ۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اگر سرائیکی جو کہ بذات خود پنجابی کا اک لہجہ ہے وہ بتایا جاتا تو سب ٹھیک تھا مزید کہا گیا کہ اگر آپ اپنی زبان کو پنجابی ناں کہیں تو کل میں فلاں اخبار میں آپکی نظم پہ کالم بھی لکھوں گا اور آپکو ترقی بھی ملے گی ورنہ کوئی کالم نہیں اور ٹویٹ بھی ڈلیٹ ہو گا ، عاقب ستیانوی صاحب نے انکار کر دیا اور کہا کہ باپ دادا پنجابی تھے زبان پنجابی ہے تو ہم کیسے اسکو بدل سکتے ہیں موصوف نے کال کاٹ دی…

اب یہاں کئی چیزیں واضح طور پر سامنے آ رہی ہیں سب سے پہلے تو حکومت جو کہ بلاشبہ ریاست کی پالیسی ڈیفائن کرتی ہے وہ پنجابی کی شناخت بدلنے پہ تلی ہوئی ہے دوسری بات کہ پنجابی سے ایسا متعصب رویہ رکھنے والے لوگ حکومتی وزراء تک پہ اتنے اثر انداز ہیں کہ وہ کسی کی ترقی کا ڈائریکٹ اختیار رکھتے ہیں، ان کے کہنے وزیر ٹویٹ ڈلیٹ کر دے گا یا اسے وضاحت پیش کرے گا، اس وزیر سے زیادہ با اختیار تو وہ صحافی نکلا تیسری مزید دلچسپی کی بات یہ کہ عطاء الحق قاسمی اور عرفان صدیقی کو درباری صحافی کہنے والے کلاسراوں کے سامنے کیسے لیٹے پڑے ہیں حکومتی پارٹی اور اسکے کرتا دھرتاوں کو ضرور اس نفرت انگیز رویہ کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور اہل پنجاب سے تو اب گلہ کرنے کو بھی دل نہیں کرتا ان سے تو بس اتنا کہوں گا ” تمہاری داستاں تک ناں ہوگی داستانوں میں” ، ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی زبان کا نام تک بدلہ جا رہا ہے، انکی زبان کو سکھوں کی زبان کہا جا رہا ہے، کیا سکھوں کے آنے سے پہلے یہاں کے لوگ گونگے تھے؟

سرائیکی جو بابا فرید کو الگ زبان کا شاعر کہتے ہیں کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ ہندوستانی پنجاب میں ہر دوسرے موڑ یا سڑک پہ کوئی ناں کوئی سکول کالج یا کوئی اور ادارہ بابا فرید کے نام سے منسوب ہے، تو کیا پھر بابا فرید رح سکھ تھا؟ وارث شاہ، سلطان باہو، میاں محمد بخش، شاہ حسین، بلھے شاہ سکھ تھے؟ یہ سانجھ ہزاروں سالوں سے چلی آ رہی ہے اور اسے اگر بزور طاقت ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر بہت بڑے مسائل پیدا ہونگے  ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *