ڈھابے کی دال۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط1

SHOPPING

نازو!

ہمارے اس دوست کا نام تو فوادعثمانی تھا ۔سب دوست انہیں بھائی جان کہتے تھے۔بھائی جان ان کے رام پور سے آئے ہوئے والد صاحب شارق عثمانی کا تکیہ کلام تھا ۔ وہ پولیس میں انسپکٹر تھے۔ تھانوں کے ایس ایچ او جن کے اختیارات سمندر کی لہروں کی مانند ،جن کی ریشہ دوانیوں کا درست اندازہ اور سدباب نہ اندھا قانون کرسکتا تھا نہ مجبور عوام اور نہ ہی ان ہی کے رنگ میں رنگے مقابلے کے امتحان سے کشید کیے ہوئے پی۔ ایس۔ پی افسران کرسکتے ہیں۔مختلف گروپس کے افسران کا ان کے بارے میں خیال تھا کہ اس گروپ میں سپاہی سے لے  کر افسر عالی مقام کی بے حسی اور بے رحمی کا لیول یکساں تھا۔
اپنی گفتگو میں وہ بھائی جان کا لفظ بلا امتیاز اور بے تکان استعمال کرتے تھے ۔اکثر بے دھیانی میں وہ اپنے افسران بالا اور ملزمان کو بھی بھائی جان کہہ کر پکارتے تھے جس پر بڑی کھلی مچتی تھی ۔محکمے کے کثیر التعداد پنجابی پولیس والے انہیں رام پور کا لکشمن کہتے تھے اور سندھی پو لیس والے البتہ ذرا لٹک سے بھائی پناہ کے نام سے پکارتے تھے۔ ہم پیشہ سندھی دوستوں کی مذاق مستی میں کبھی اس لقب پر اعتراض ہوتا تو وہ یہ عذر آگے بڑھا دیتے تھے کہ اب ہم پناہ گیروں کو عالم پناہ تو کہنے سے رہے۔ سندھ دھرتی ماتا کے بیٹوں کے اس تخاطب کا آخری حصہ دراصل مہاجرین کے لیے ان کے کم حقارت آمیز خطاب ،پناہ گیر کا اولیں حصہ تھا۔ورنہ عام حالات میں وہ انہیں اپنی نجی گفتگو میں مکڑ(Locust) کہہ کر شناخت کرتے تھے۔مقامی باشندوں کو خیال تھا کہ بھارت سے آنے والے  مہاجرین، سندھ کے وسائل پر قابض ہوگئے تھے۔یہ متعصبانہ طرز فکر خود ذوالفقار علی بھٹو کے ہاں بھی پایا جاتا تھا جن کے والد نے اپنی کثیر دولت نواب آف جوناگڑھ کے ہاں ہاتھ پیر مار کر بنائی تھی۔ان کی اپنی دوسری بیوی لالی بیگم (خورشید) یعنی ذوالفقار علی بھٹو کی والدہ بھی ایک مارواڑی مہاجر تھیں جو قیام پاکستان سے پہلے ہی کراچی میں آن کر بس گئی تھیں۔وہ کراچی کے علاقے گارڈن ایسٹ میں غفوریہ مسجد کی لائن میں خورشید منزل میں رہتی تھیں۔یہاں آج کل باسم اپارٹمنٹ کی بدنما بلڈنگ کھڑی ہے۔
ہمارے دوست فوادعثمانی تھا المعروف بہ بھائی جان کی چند خصوصیات اسکول کے زمانے میں ہی نمایاں ہوگئیں تھیں وہ ذہین اور کم آمیز تھے۔۔غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے باوجود کلاس میں ہم دو نوں دوستوں کی اکثر پوزیشن کی مسابقت رہتی تھی۔کلاس کے ساتھیوں میں اکثریت کا تعلق شہر سے تھا ،صرف ہم دونوں شہر سے دو میل دور چند گلیاں چھوڑ ایک نئی بستی میں رہتے تھے۔دونوں کے پاس اپنے والد کے زمانے کی ایک ایک پرانی ریلے بائیسکل تھی اس پر سوار ہوکر ہم اسکول آتے جاتے تھے۔
آٹھویں جماعت سے ہم دونوں کو نویں جماعت میں پہنچے چند ہی دن ہوئے تھے کہ ایک دن خبر ملی کہ فواد کی والدہ اللہ کو پیاری ہوگئی ہیں۔یہ سب کچھ اچانک ہوا تھا۔ہم سب کو یقین نہ آیا ،فواد کے لیے تو سب کچھ انہونا سا تھا۔ کل شام ہی کو وہ اپنی امی ،خالہ اور دیگر رشتہ دارخواتین کے ساتھ شمیم آرا کی فلم’’ لاکھوں میں ایک‘‘د یکھنے گیا تھا۔ابا نے پورے باکس کے ٹکٹ بھجوائے تھے اور یہ سب بگھی میں بیٹھ کر گئے تھے۔اس کی امی کو فلمیں دیکھنے کا ہوکا تھا۔وہ خود بھی کسی فلم کی ہیروئن لگتی تھیں۔اس زمانے کی ہیروئین سب ان کے جیسے ہوتی تھیں وجنتی مالا، سادھنا، شرمیلا ٹیگور ، مینا کماری ،نندہ،وحیدہ رحمان،دیبا۔

بگھی
لاکھوں میں ایک
نندا
شرمیلا ٹیگور
وحیدہ رحمان
سادھنا
وجنتی مالا
مینا کماری

جب ہم کالج میں پہنچ گئے اور ہماری جوانی کا پڑوسنوں اور اہل خانہ کو باقاعدہ ادارک ہوگیا توہم نے اپنی میز کے شیشے کے نیچے شرمیلا ٹیگور کا ایک عید کارڈ پر چھپا پورٹریٹ لگادیا ،وہ ہمیں اچھی لگتی تھی،اعلی طبقے کی شائستہ، سانولی ،گلاب جامن جیسی ۔ فواد کی امی شگفتہ بھی اس کے جیسی ہی لگتی تھیں گوری ،سروقد،بہت سجیلی ،محبت کرنے والی خاتون تھیں،شام کو یوں ہوتا کہ اکثر و بیشتر فواد ہمارے گھر تو دوپہر کو میں اس کے گھر کھانا کھالیا کرتا تھا۔شگفتہ آنٹی ،دال، چاول اور تلی ہوئی مچھلی بہت اچھی  بناتی تھیں۔کچی کیری کی قاشوں پر لال مرچ اور تل کا تیل ڈال کر ایسا جھٹ پٹ اچار بناتی تھیں کہ سواد آجاتا تھا۔ان کے ہاں میٹھا کھانے کا رجحان نہیں تھا اس کے برعکس ہمارے ہاں سب کو میٹھے کا ہڑکا تھا۔یہی وجہ تھی کی متوقع آمد کے طور پر اس کے لیے میٹھا سنبھال کر رکھا جاتا تھا
فواد کی والد ہ نے اسے صبح ناشتہ دیا تھا۔ میں نے اس کے گھر کے سامنے سائیکل کی گھنٹی بجائی ،میرا گھر ان کے گھر سے دور تھا، لہذا  میں     ہی رک کر اسے ساتھ لے لیا کرتا تھا۔وہ سائیکل لے کر نکلا تو وہ دروازے پر کاٹن کی پرانی ملگجی سی رنگت کی ساڑھی پہنے اسے رخصت کرتی کھڑی تھیں۔ اس منظر اور دم رخصت  ان کی خیر و عافیت کا گواہ میں بھی ہوں۔ ان کی موت کی اطلاع اسکول کے فون پر آئی تھی ۔اس کے والد صاحب نے اسے واپس بھیجنے کی درخواست کی تھی۔باہمت لڑکا تھا۔واپس اپنی سائیکل پر سوار ہوکر جارہا تھا کہ ہمارے اردو کے استاد مولوی عبد اللہ نے ہمیں بھی ساتھ جانے کی تلقین کردی۔دو میل کا یہ سفر اس نے اشک آور آنکھوں اور بے زبان مشقت سے کاٹا۔اسکول سے گھر تک اس نے کوئی بات نہ کی۔
اب سوچوں تو مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا اور ناگہانی صدمہ تھا ۔اسے امید بھی نہ تھی کہ واپسی پر اس کی امی اس کو خوش آمدید کہہ کر بانہوں میں سمیٹنے کے لیے موجود نہ ہوں گی ۔چھوٹے شہر کے گھرانوں  میں ناگہانی موت بس ایک موت ہی ہوتی ہے ۔دیگر اموات جیسی نارمل ۔چونکہ فواد نے کبھی والدین کے درمیان کسی ناچاقی اور بدمزگی کا کبھی ذکر تک نہ کیا تھا، لہذا یہ سوچنا محال تھا کہ ان کی موت کا طبعی موت ہونے کے علاوہ کوئی اور بھی سبب ہوسکتا ہے ، جیسے زہر خوانی، خود کشی ، وغیرہ ۔ رفتہ رفتہ میرا یہ احساس پختہ تر ہوگیا کہ ٹھیک اسی دن سے فواد میں گہری تبدیلیاں واقع ہونا شروع ہوگئیں۔ ان ہی تبدیلیوں میں دو نئی باتیں اور بھی شامل ہوگئیں  جن  کا  تذکرہ میں آئندہ کرنے والا ہوں۔
وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ پہلی نئی بات تو یہ ہوئی کہ اس وفات ناگہانی سے ان کے گھر کے روز مرہ نظام میں خاصاخلل پڑا ۔اس دشواری کے مدنظر وہ اپنی مطلقہ خالہ زرینہ کے گھر رہنے چلا گیا۔والدہ کے سوئم کے بعد وہ دوبارہ اسکول آنے لگا ۔مجھے لگا کہ اس کی کم آمیزی میں اب ایک طرح کی کھوئی کھوئی دور افتادگی، دوسروں کو بے جا ہمدردی پر اکسانے والی بے بسی اور ایک دردمندانہ تنہائی کا تاثر غالب آ گیا۔
دوسری نئی بات یہ ہوئی کہ چہلم سے ٹھیک ایک ہفتے بعد اس کے والد نے ایک بھرپور جوانی والی کم سن رقاصہ نازو سے شادی کرلی۔وہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے قصبے نارنگ منڈی کے ایک ادھیڑ عمر کے مگر سندھ میں اثر و رسوخ سے محروم اناج کے آڑھتی کی ملازمت سے فرار ہوکر کر آئی تھی۔۔نازو کی نتھ کشائی کا معاہدہ دو برس کا تھا مگر وہ سات ماہ میں ہی نارنگ منڈی سے دوڑ گئی۔ ۔اس سے پوچھو کہ یہ سب کیوں کیا تو وہ کہتی تھی کہ آڑھتی سلامت علی بھنڈر رات کو جب بستر میں آتا تو اسے لگتا کہ اچانک وہ غلّے کے کسی گودام میں جا گھسی ہے اور اس پر سیلے چاول کی کئی بوریاں گر پڑی ہیں جس سے سانس لینا بھی محال ہوچلا ہے۔
نازوکے بھائی اس کی سن گن لیتے لیتے اس کے تعاقب میں پہنچ گئے ۔وہ اسے معاہدے پر عمل درآمد کرانے کے لیے واپس نارنگ منڈی لے جانا چاہتے تھے۔آڑھتی بقایا رقم کے طلب گار
تھا۔۔وہ شہر کی ہیرا منڈی میں اپنے نیٹ ورک کے سہارے، تھانے پہنچے تھے۔ نازو مارکیٹ تھانے سے طلبی پر سراج دلال کے ہمراہ آئی تھی۔پنجاب سے آن کر وہ اسی کے ہاں پناہ گزیں ہوئی تھی۔سراج دلال جسے وہاں ہیرا منڈی میں ساجی دلّا کہتے تھے، اس کی ایک دفعہ انسپکٹرشارق عثمانی نے بہت مدد کی تھی۔اس کی بہن زمرد کئی مرتبہ ان کےء کراچی میں یوکے اسکوائیر والے فلیٹ پر دیار نور میں انسپکٹر صاحب کی تیرہ شبوں کی ساتھی رہی تھی۔ گاہکوں کے پر زور اصرار پر اسے کئی دفعہ کراچی آنا پڑتا تھا ۔ان دوروں میں ، وہ بھائی پناہ کے اس فلیٹ پر ہی قیام پذیر ہوتی تھی ۔تین ماہ پہلے ہیرا منڈی میں ایک بڑا بلوہ ہوا تھا جس میں بڑی سر پٹھول ہوئی تھی۔مخالف پارٹی نے بہت زور دیا کہ ساجی دلا قتل کے الزام میں گرفتار ہوجائے زمرد کی سفارش پر ہی وہ پہلے بھی بھائی پناہ کی وجہ سے گرفتاری اور مقدمہ بازی سے محفوظ رہا تھا ۔ والا حضرت نے کی گرفتاری وقوعے سے ایک  دن پہلے ایک مضافاتی علاقے کے تھانے میں ضابطہء فوجداری کی دفعہ 107/117/151 کے تحت باقاعدہ گرفتاری کی روز نامچہ انٹری کا ثبوت مثل مقدمہ کے ساتھ نتھی کردیا تھا ۔مخالف پارٹی البتہ دعوے دار تھی کہ وہ اس دنگے میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوا تھا۔ان کے یہ دعوے عدالت کو قابل قبول نہ تھے۔

۔زخمی ہونے والا ایک مو ٹا ادھیڑ عمر دلال ہسپتال میں ایک ماہ بعد مربھی گیا تھا ،۔ وہ چونکہ پچھلے کئی دن سے امراض قلب کے وارڈ میں داخل تھا لہذا زمرد کی محبت میں زیر بار پولیس نے یہ ہشیاری دکھائی کہ اس کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر ضرب شدید کی بجائے موت کا سبب حرکت قلب کا بند ہوجانا ظاہر کیا جو طبی اعتبار سے درست تھا ۔یوں ساجی دلے پر قتل کا مقدمہ بننے کا ہر خدشہ زائل ہوگیا۔
نازو کے بھائی شیخو پورہ  سے جب سراج دلال کی تحویل سے اسے چھڑاکر ساتھ لے جانے کے لیے آئے تو شارق عثمانی نے بھائیوں پر تو دو ایسے قانونی اعتراضات ٹھوک دیے کہ ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔وہ ڈر ہی گئے کہ یہ نہ ہو سونے کی چڑیا بہن بھی نہ ملے اور اس پر مستزاد یہ کہ رام پور کا لکشمن انسپکٹر شارق عثمانی انہیں الٹا بردہ فروشی اور عورتوں کی خرید و فروخت کرنے والے گروہ کا سرگرم کارندہ سمجھ کر پابند سلاسل کردے ۔اس خوش گفتار مگر مہاجر عیار انسپکٹر کے تیور انہیں اس وقت اور بھی خطرناک لگے جب اس گرگ باراں دیدہ پولیس افسر نے ان سے پنجاب سے جہاں اس جرم کا وقوعہ  ہوا  تھا، وہاں کی ایف آئی آر اورساتھ ہی پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے متعلقہ پولیس کے ساتھ سندھ میں آمد اور سندھ کے ہوم ڈیپارٹمنٹ سے ان کے ساتھ تعاون برائے برآمدگی کا اجازت نامہ پیش کرنے کا مطالبہ کردیا۔اتنی دفتری کاروائی تو انہوں نے اپنی ناکتخدا لاڈو بہنوں کو نتھ کشائی کے لیے حوالے کرتے وقت بھی نہیں کی تھی چہ جائیکہ وہ ایسی کسی کاروائی کا پنی مفرور ہمشیرہ کی واپسی کا مطالبہ کرتے وقت سوچتے ۔ بے چارے یہ سب سن کر سر ہی پکڑ کر بیٹھ گئے۔
جب برادرران  نازو نے  انسپکٹر شارق عثمانی کے سامنے نازو کے حق دار خریدار شوہر آڑھتی کی جانب سے دباؤ کا اشارہ دیا تو وہ رامپوری مونچھوں پر تاؤ دے کر کہنے لگے ’’ پنجاب کے تیرے اس ٹنڈے بھنڈے آڑھتی سلامت علی بھنڈرکو بھی دیکھ لیتے ہیں۔ اس کو ابھی کال کرتے ہیں۔ تھانے کی پولیس پارٹی بھیج دیتے ہیں۔ وہ مروجہ قانون کی رو سے اغوا اور نا بالغ بچی سے زنا کے مقدمہ میں مطلوب ہے ۔ اس جرم کی سزا سندھ کی عدالت سے سزا سات سال ہے‘‘۔بھائی اس دھمکی سے ہراساں ہوئے۔ ان کی ایک اور بہن بھنڈر کی قربان گاہ ء شہوت کے لیے تیار تھی۔انسپکٹر صاحب کو انہوں نے منتیں ترلے کیے کہ یہ نہ کریں۔ وہ اب آئندہ مجال ہے کبھی خان پور سے آگے سندھ کے کسی ریلوے اسٹیشن پر تدفین کے سلسلے میں بھی قدم رکھیں۔ نازو کے بھائیوں کو شارق عثمانی المعروف بہ بھائی پناہ نے اس معاملے پر سوچنے کے لیے اگلی صبح تک کا وقت دے کر اس مقدمے سے جان چھڑانے اور اپنے ساتھ کچھ رقم لانے کا کہہ کر رخصت کیا۔
ساجی دلے کو انہوں نے ڈرایا کہ کوئی دن کی بات ہے یہ برداران نازو ،وقوعے کی ایف آئی آر اور پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ سے اجازت نامہ لے آئیں گے۔وہ ان کا ٹنڈہ بھنڈہ کیا نام سسرے کا ۔اس پر ہیڈ کانسٹبل نے لقمہ دیا سلامت علی بھنڈر۔ ایسی کنواری کلی کو کیوں تیرے ہات مفت چڑھنے دے گا۔ ابے وہ پنجاب ہے وہاں کی پولیس تو بلی کا دودھ بھی پی جاتی ہے ۔ ابے وہ تو ایسے بد لحاظ ہیں کہ صدقے کے بکروں سے ولیمہ کرتے ہیں۔ تو کسی بھرم میں مت رہیؤ ۔یہ جو تیرے نچوڑے نگینے ہیں نا ، تیری بہنیں زمرد اور نینا ، ابے ان جیسی تو انارکلی اور اچھرہ میں فقیرنیاں پھرتی ہیں۔ یہ مت بھول وہاں سے ان کے ہمراہ ایک پولیس پارٹی بھی آئے گی۔ساجی سالے ان کے ہاتھوں ہی تیری گرفتاری ہوگی ۔ وہیں سے مردہ سور کی کھال چھتر بھی لائیں گے ،ہمارے تھانے میں ہی اوندھا لٹا کر تیرے چوتڑ پر طبلہ بجائیں گے ۔ہم کچھ کر بھی نہ پائیں گے۔ نازو کی برآمدگی بھی اس میں شامل ہوگی۔گواہ کے طور پر یہ بھی ہوسکتا ہے تیری بہن نینا کو لے جائیں۔۔یہ پولیس والے سالے شیخو پورہ تک نازو اور تیری بہنوں کو قلفی کی طرح چوستے رہیں گے۔ عدالت کا نمبر تو بعد میں آئے گا۔مجسٹریٹ تو ویسے بھی دعوت کا جھوٹا کھاتا ہے ۔ ٹھوک کے اغوا اور کمسن بچی سے ز نا کے مقدمے میں بیس سال سزا ملے گی۔ جو تونےء اور تیری بہنوں نے یہاں سندھیوں کی چارپائیوں کے بان ڈھیلے کرکے یہاں سندھ میں جوکمایا ہے وہ واپس پنجاب میں لٹ جائے گا۔ایسی صورت میں تیری زمرد باجی کا دلدار یہ  تیرا خاکسار انسپکٹر عثمانی تو چھوڑ سندھ کا آئی جی بھی کوئی مدد نہیں کرپائے گا۔تیری اپنی بہنیں زمرد اور نینا بازار کے مشہورآئٹم ہیں۔رات بھر سونا لوٹتی ہیں۔نازو پرائی آگ ہے ابے یہ انگارے دامن  میں مت سمیٹ ۔اس سے جان چھڑا۔اس چیتاؤنی سے بازار کا یہ شیر ساجی دلا جو در حقیقت بازار سے دور ایک چھوٹے چوہے کا دل رکھتا تھا، ہڑبڑاگیا۔ انہوں نے کہا جا بہن سے مشورہ کرکے گھنٹہ بھر میں آجا ۔ میں اس آفت کی پرکالہ سے بھی کچھ پوچھ گچھ کروں کہ اس نے پچھواڑے کون سا منشا بم باندھ کر رکھا ہے ۔اس کے کیا ارادے ہیں۔
ساجی دلے سے سوال جواب اور زبانی چھترول کے عمل میں نازوکچھ کھوسی گئی تھی۔ اسی دوران وہ ملتانی کڑھائی والی اپنی سیاہ چادر سے کچھ ایسی بے نیاز بھی ہوگئی تھی۔ساجی نے اسے اپنے سے بھاری بدن والی بہن زمرد کی کشادہ گلے کی کرتی پولیس کے بلاوے پر پہنے کو دی تھی یہی وجہ تھی کہ گریباں سے باہر نکلنے کے لیے دو دودھیا مرغابیاں پھڑپھڑاکر اڑنے کے لیے بے تاب تھیں۔
ان نئی مسافتوں کی مشتاق مرغابیوں اور نازو کی بڑی بے تاب نیل گگن جیسی آنکھیں دیکھ کر بھائی پناہ کو الاسکا کی Bar-Tailed Godwitبطخ یاد آگئی جو امریکہ کی سرد ترین ریاست الاسکا سے ایک لاکھ کی تعدار میں ہرسال ستمبر کے مہینے میں نیوزی لینڈ کا گیارہ ہزار کلو میٹر کا فاصلہ بغیر کسی وقفے کے کھائے پیئے بنا نو دن میں طے کرتی ہیں۔وہاں ان کی افزائش نسل ہوتی ہے اور مارچ کے مہینے میں یہ اپنے نقطۂ آغاز پر ایک دوسرے راستے سے لوٹ آتی ہیں۔ انہیں لگا کہ یہ Bar-Tailed Godwit بطخ ایسی ہے جو ان کی تنہائیوں کا سدباب کرنے اور افزائش نسل کے لیے سلامت علی بھنڈر آڑھتی کے چنگل سے آزاد ہوکر کبھی واپس نہ جانے کے لیے ان کے پاس حیدرآباد آئی ہے ۔ یہ اب سے پہلے قصبہ نارنگ منڈی میں بس رہی تھیں کہیں۔ انہیں زمین پر بھائی پناہ کے بڑھاپے کی وحشتوں کی رفاقت کے لیے دو ستارہ جنرل کے طور پر حاضر کیا گیا ہے۔

بار ٹیل گوڈ وٹ بطخ
بار ٹیل گوڈ وٹ بطخ

ہیڈ محرر صاحب کو انہوں نے تھانہ سنبھالنے کا اشارہ کیا ۔ نازو کو مزید تفتیش کا بہانہ بنا کر وہ اپنے دفتر کے ساتھ ہی ایک کمرے سے گزار کرعقب میں برآمدے میں اسلحہ کی الماری کے پیچھے لے گئے ۔ بھائی پناہ کو نازو سے وہاں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے جب درخواست کی کہ وہ اپنی چادر اتار کر ایک طرف رکھ دے۔درخواست یقیناً اچانک تھی مگر نازو کم سنی کے باوجود ان کے حکم کی تعمیل میں جب کھڑی ہوئی تو بھائی پناہ کی نگاہوں کو سمجھنے کے لیے اسے سوربون یونی ورسٹی سے Body Language میں پی ایچ ڈی کی ڈگری درکار نہ تھی ۔جس کمرے سے وہ گزر کر اس اسلحہ الماری کی سیاچین جیسی محفوظ آڑ میں آئی تھی۔اس کمرے میں میز پر جمی مٹی اور ایک دوسرے سے بے زار کرسیوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ یہ کمرہ بہت دنوں سے غیر استعمال شدہ تھا۔بھائی پناہ چاہتے تو تفتیش کے دریا یہاں بیٹھ کر بھی بہائے جاسکتے تھے ۔اسی لیے جب انسپکٹر صاحب بطور جائزہ مشن یہ دیکھنے گئے کہ کسی الماری کی  آڑ میں نیندیں اڑاتے مسیتے ملیئے جیسے پولیس والے تو چادر تان کر سو تو نہیں رہے۔ اس جانچ کے لمحات میں نازو نے آنے والے طوفان کے آثار دیکھ کر جس طرح پیش بند مشاق ملاح کشتی کے بادبان کھول دیتا ہے، اس نے بھی بہت آہستگی سے دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت اور انگوٹھے کے ناخن سے اپنی برا کے ہک بھی کھول دیے تھے۔ وہ جانتی تھی کہ ہڑا ہڑی کے ایسے موقعوں پر مردوں کے پہلے پہل ہاتھ اور دانت   خراب عورتوں کے زیر جامے پالتو کتوں کی طرح ہوتے ہیں مالکن کی معمولی سی جنبش دست پر اپنی جگہ یہ گاتے ہوئے چھوڑ دیتے ہیں کہ ع
اس دل کے دریدہ دامن میں ،دیکھو تو سہی،سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے ،اس جھولی کا پھیلانا کیا
نازو کو چادر ایک طرف ڈالنے کی فرمائش سن ذرا سی دیر کو رسمی تامل ہوا مگر یہ سوچ کر جو کچھ بھی ہونا ہے وہ تھانہ انچارج کی مرضی سے ہی ہوگا ۔یہ ان کا پسندیدہ میدان الفت ہے۔ یہاں آئیں ،ضابطے حکم،حکومت اور حکمت بھی ان ہی کی چلے گی۔ اور یہ سب اس کے لیے ایسا کچھ نیا نہیں ہوگا جو نارنگ منڈی اور ساجی دلّے کے ساتھ گزری شب فرار میں اس کے ساتھ نہ ہوا ہو ۔
اس نے سینہ آگے کرکے جب بازو پھیلا کر چادر ایک طرف ڈالی تو انسپکٹر شارق عثمانی کو لگا کہ وہ کوئی اداکارہ مدھوبالا ہے جسے انارکلی کے روپ میں مغل اعظم اکبر نے دیوار میں چنوایا تھا وہ دیوار کے دوسری طرف سے نارنگ منڈی ضلع شیخو پورہ سے ہوتی ہوئی اس وقت فریاد لے کر مارکیٹ تھانے میں ان کے سامنے کھڑی ہے۔بس کمی ہے تو اس چھوٹی سی سرخ مخملیں چولی ،اس سنہری دوپٹے اور اس اناری گھگرے کی ، یہ Ensemble ( وہ بہت سارے لوازامات جو ایک فنی یا جمالیاتی اکائی کا مجموعی تاثر قائم کریں )مہیا ہوجائیں گے اور وہ زیور پہن کرجب موہے پنگھٹ پر نند لال (میری نند کا بھائی بمعنی میرا شوہر) چھیڑ گیو کی تان بلند کرے گی تو پورا ضابطہء فوجداری اس کی ہم جولی بن کر ناچ اٹھے گا۔

مدھو بالا

انہوں نے بہت آہستگی سے اُسے پوچھا کہ’’ بول مجھ سے شادی کرے گی ؟‘‘تو اس کی کشادہ آنکھیں بے اعتباری کے دھندلکوں سے لڑتی، لڑھکتی،گتھم گتھا ہوکر وعدہء فردا کی مسرت بھری رنگولی پرلوٹ لگا کر مزید شربتی اور نشیلی ہوگئیں۔ ۔کیچڑ کے اس کنول کو پہلی دفعہ تھانے کی اس غیر رومانچک فضا میں ایسا لگا کہ گویا اسے کسی نے نارنگ منڈی کے کسی جوہڑ سے اٹھا کر بغیر امپورٹ پرمٹ کے راجھستان کے استھان اودے پور میں مہارانا جگت سنگھ کے جگ نواس محل ( جہاں آج کل تاج لیک پیلس کے نام سے Heritage Hotel قائم ہے ) اس کی جھیل پچولاکی سطح پر آہستہ سے چھوڑ دیا ہو۔یہ پیشکش سن کر اگر وہ کوئی راجپوت ٹھکرائین ہوتی تو گا اٹھتی کہ کیسریو بالم آؤ پدھارو(خوش آمدید) مارے دیس (کیسر۔ کیوْرہ ) ( پدھارو۔خوش آمدید) ۔اس نے بس اس مختصر سے جواب پر اکتفا کیا کہ ’’ جیہڑی سرکار دی مرضی ‘‘

تاج لیک ہیری ٹیج ہوٹل

کیسریو بالم

ا نسپکٹر صاحب نے اپنی مخصوص پولیس والی ذہنیت کو بروئے کار لا کر اگلے وار کے طور پر سوچ رکھا تھا کہ ہچکچاہٹ کی صورت میں وہ اسے واپس پولیس جیل اور بالآخر سلامت علی آڑھتی کی دو سالہ ملازمت کاخوف دلائیں گے۔ وہ وقتی طور پر حیران ہوگئے۔ مفاد کی آگاہی کو سامنے رکھ کر اپنے مستقبل کے اندازے لگانے میں میں یہ بمشکل سترہ برس کی لڑکی پیچیدہ اور کثیر الجہتی Database Design کو اوندھا سیدھا کرکے مطلوبہ تخمینے لگانے والا کسی ایٹمی لیبارٹری کا سپر کمپیوٹر نکلی۔اس نے بھی فی الفور اندازہ لگا لیا کہ اس کے ممکنہ سر تاج شارق عثمانی ایک تو سلامت علی بھنڈر سے عمر میں سات آٹھ برس چھوٹے تھے۔ دوسراباقاعدہ بیوی بن کر رہنا رنڈی بن کر کسی Part-Time Loverکی رکھیل بن کر رہنے سے خیر العمل ہے۔انہوں نے جیہڑی سرکار کی مرضی والا ترانہء جاں گداز سنا تو اسے بانہوں میں سمیٹ کر کہنے لگے ’’ نازو اپنی یہ شادی ہوگئی۔ بھائی پناہ نے ایک زور دار بوسے سے اس نکاح کو تھانے ہی میں رجسٹر کرلیا ۔یہ ایک بوسہ جس میں انہیں نازو کے لبوں کو فرائض منصبی کی وجہ سے بادل ناخواستہ چھوڑنا پڑا ہر قسم کے ایجاب و قبول پر بھاری تھا۔ورنہ کئی نکاح تو نازو کو یہ علم تھا کہ بادشاہی مسجد میں ہونے کے باوجود بھی طلاق پر ختم ہوتے ہیں ۔خود سلامت علی بھنڈر کی بھانجی کی شادی جو تیسرے مہینے میں طلاق پر ختم ہوئی اس کا نکاح بادشاہی مسجد میں ہوا تھا۔ انہوں نے لب ہٹاتے ہوئے اسے تین جیبوں سے پانچ ہزار روپے نکال کر بطور سلامی دیے اور اعلان کیا کہ اب رسم اور تکلفات کراچی میں ادا ہوں گے۔ نماز عشق اداکریں گے یو کے اسکوائیر میں۔ تیرا میک اپ طارق روڈ سے تیرا زیور صدر سے تیرا جوڑا مینا بازار سے ۔بہ عوض مہر  معجل روپے تین لاکھ جس کی چوتھائی رقم حجلہء عروسی میں دست اندازیء پولیس سے پہلے ادا ہوگی ۔ ب ستر میں پیار ہوگا پولیس مقابلہ نہیں۔جس وقت وہ بانہوں میں سمیٹ کر نازو کو چوم رہے تھے تو انسپکٹر شارق عثمانی المعروف بہ بھائی پناہ کولگ رہا تھا کہ خالص دودھ کی ملائی کے ایک ٹب میں وہ باوردی درست اتر گئے ہیں۔ اسے اب مزید کاروائی کے دوران چپ بیٹھنے کی تلقین کرکے وہ باہر نکل آئے۔چونکہ یہ تمام عرصہ تین چار منٹ کا تھا اس لیے تھانے کے عملے کو کسی غیر اخلاقی کاروائی کا شک نہ ہوا۔
سراج دلال کو انہوں نے جتایا کہ نازو کا کیس بہت گھمبیر ہے۔آڑھتی بھنڈر اور اس کے بھائی چین سے بیٹھنے والے نہیں۔برآمدگی کی صورت میں بڑا بھونچال آئے گا کورٹ کچہری وکیل پنجاب پولیس جانے کس کس سے پالا پڑے لہذا میں اسے کراچی میں دار الامان میں خود چھوڑ کر آتا ہوں۔تمہارے قبضے سے برآمدگی ظاہر نہیں ہوگی ہم اس کی برآمدگی ریلوے اسٹیشن پر آوارگی کی صورت میں کرکے روز نامچے میں اندراج کردیتے ہیں۔انہوں نے ہیڈ محرر کو بلایا اور اسی وقت ایک سادہ کاغذ پر لکھوایا کہ’’ امشب بوقت نو بجے نازش بیگم کو بحالت ناواقفیت نور محمد ہائی اسکول کے عین مقابل جی ٹی ایس بس اسٹینڈ کے پاس بغیر ہمراہی محرم مرد پایا۔دریافت کرنے پر دیگر کوائف کا علم ہوا کہ موصوفہ کا تعلق شیخوپورہ پنجاب کے قصبے نارنگ منڈی سے ہے۔بغرض ملاقات و سیر اپنے گھروالوں کی مرضی بغیر کراچی بذریعہ تیز گام کراچی کے لیے روانہ ہوئی تھی ،حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر سستی کی وجہ سے اپنا سفر ٹرین میں دوبارہ جاری رکھنے سے قاصر رہی۔ایک نیک دل شخص اسے یہاں شہر لے آیا۔تھانہ ہذا میں چونکہ باکرہ شریف خاتون کا قانونی قیام مناسب نہیں مزید برآں چونکہ لیڈی کانسٹبلان کی دستیابی بھی ممکن نہیں لہذا اسے عمر رسیدہ کانسٹبل بکل نمبر 4672 منصب آہیر جو اس کا ہم زبان ہے کی ہمراہی چندہ کی رقم سے کراچی دارالامان مزید عدالتی حکم کی وصولیابی تک بغرض حفاظتی تحویل روانہ کیا جاتا ہے۔

حیدر آباد

سراج دلال جو یہ سب کاروائی ایک سنگ بے حرکت بنا سن رہا تھا اسے لگا کہ انسپکٹر صاحب نے اس کے ہاتھ سے یہ جلتا ہوا انگارہ لے کر اس پر احسان عظیم کیا ہے۔اس نے نازو کے سامنے ہی تین ہزار کے نوٹ شارق میاں کو دو سو روپے ہیڈ محرر اور اور کانسٹبل منصب آہیر کو تھانے کے دیگر عملے میں بقایا چھ سو روپے تقسیم کرکے ایسی راہء فرار اختیا ر کی کہ نازو کو چلتے وقت اللہ بیلی تک بھی نہ کہا.وہ روانہ ہوا تو منصب آہیر کے ساتھ نازو کو اپنے گھر بھیج دیا اور خود دو دن کی چھٹی کی درخواست دینے ڈی ایس پی صاحب کے دفتر کی طرف اپنی پرانی ٹرائیمف موٹر سائیکل پر روانہ ہوگئے۔
رات دو بجے واپسی ہوئی۔موٹر سائیکل کی آواز سن کرمنصب نے گیٹ کھولا۔وہ برآمدے میں پڑے تخت پراپنا رین بسیرا کیے ہوئے تھا۔نازو کے باب میں اس کے اپنے گمان خالصتاً فطری اور مردانہ تھے۔اپنے تئیں حساب جوڑے بیٹھا تھا کہ صاحب کا کراچی تک کا سفرنازو کے بدن کے خراج کے بغیر مکمل نہیں ہوگا۔اشارے سے بتانے لگا کہ وہ ان کی خواب گاہ میں موجود ہے۔گربہ کشتن روز اول (بلی کو پہلے ہی دن ہلاک کردو) کے مصداق انہوں نے وضاحت کردی کہ وہ اس کمرے میں نہیں سوئیں گے۔

SHOPPING
triumph

یہ دیکھنے کے لیے وہ حسن خوابیدہ عالم شباب و بے خبری کی کن جان لیوا وادیوں میں بھٹک رہا ہے وہ اپنے ماسٹر بیڈ روم میں داخل ہوئے ۔کئی راتوں کی جاگی نازو دیوار کی طرف پشت کیے بچوں کی طرح منہ  کھولے سو رہی تھی ۔ بستر میں انسپکٹر بھائی پناہ کی متوقع آمد کے پیش نظر مناسب جگہ چھوڑ دی تھی ۔ تب تک ملک میں شلواروں کے نیفوں میں لاسٹک کا استعمال عام نہ تھا اور زنانہ عصمتوں کے آخری محافظ یہ ریشمی سوتی ازار بند ہی ہوتے تھے ۔نازو نے متوقع پولیس مقابلے کے اندیشے کے تحت شاید اس حد تک ڈھیلا کردیا تھا مسافر کومقفل کواڑوں کے باہر زیادہ دیر سر نہ پٹخنا پڑے ۔ خوابیدگی کے اس عالم میں کرتہ ناف سے اوپر اٹھ گیا تھا ،ازار بندڈھیلا ہوکر شلوار کو ناف سے کافی نیچے تک کھینچ کر لے گیا جس کی وجہ سے شلوار ایک جانب سے ایسے اتر گئی تھی کہ اس کے دائیں کولہے کی اجلی گولائی کرہ ارض کے اس حصے کا منظر پیش کررہا تھا جس پر سورج اپنی پوری آب و تاب سے اپنی حیات بخش روشنی پھیلا رہا تھا۔فرق تھا تو صرف اتنا کہ یہاں آفتاب عالم تاب کی بجائے سر کے عین اوپر شیشے کے گلوب میں سو واٹ کا جو بلب تھا اس کی روشنی میں وہ وجود بے خبر وادیء نوم(نیند) میں بھٹکتی نازو اور کمرے کو منور کیے ہوئے تھا۔اس کا بایاں ہاتھ اس کے گال کے نیچے تکیے کی کنار مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا اور بایاں بازو ایک بے اعتنائی سے اس کے مدور سینے پر دباؤ ڈال کر دست طمع کی مانند داراز تھا۔اسی بے جادباؤ کا نتیجہ تھا کہ کروٹ لے کر سونے کی وجہ سے دائیں ہات والی چمکتی دمکتی دودھیا Godwit بطخ اپنی ہم پرواز دوسری بطخ پر مسابقت میں گرپڑی تھی۔شلوار کا ایک پائنچہ کھسک کر پنڈلی سے خاصا اوپر چلا گیا تھا۔سڈول پنڈلی نے بوسوں کی ایک فری فار آل قسم کی دعوت برپا کررکھی تھی۔گٹھنے کے عین عقب میں ایک ہموار سا میدان تھا جہاں ان کے لب کسی رکاوٹ کے بغیر بہت دیر خیمہ زن رہ سکتے تھے انہوں نے بے تاب ہوکر وہاں اپنے ہونٹ رکھے تو نازو نے انہیں اپنی جانب کھینچنے کے لیے اپنا بازو بلند کیا مگر وہ کمال ہشیاری سے پیچھے ہٹ گئے۔ جائزہ لیا تو منصب آہیر باہر برآمدے میں سورہا تھا ۔جہاں دیدہ آدمی تھے ۔ اب ایک ماہ سے اوپر ہوتا تھا کہ وہ اپنی روز مرہ عادت کے باوجود کسی وجود نسوانی کی قربت سے دور تھے اور دل میں نازو کے اس دلفریب اہتمام کا مناسب جواب دیتے ہوئے اسے  بانہوں میں سمیٹ کر برابر سونے کی طلب تو بہت تھی مگر انہوں نے اپنے قلب بے تاب کو سمجھایا کہ اس شتابی سے ،کانسٹبل منصب کو ان کے بارے میں بے جاچہ مگوئیاں کرنے کا موقع مل جائے گا۔انہوں نے کسی مجرے میں ایک میمن سیٹھ سے یہ جملہ اس وقت سنا تھا جب ان کی رکھیل ایک دوسرے شخص کو اپنے عشوے و غمزے دکھا کر لمبا کاٹ رہی تھی ۔توجہ دلانے پر وہ سیٹھ شرارتاً کہنے لگا ’’بھائی پناہ قبر کو صبر ہونا چاہیے مردہ کہیں نہیں جائے گا‘‘۔یہ بروقت حوالہ ان کے لیے صبر کا منترہ بنا ۔وہ دل پر جبر کرکے خود کئی دن سے غیر آباد فواد کے بستر پر جاپڑے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *