میں صحافی نہیں ہوں

گلبرٹ کہتے ہیں کہ جرنلزم ان لوگوں کو خبردار کرتا ہے کہ رابرٹ مر گیا ہے جن کو یہ نہیں معلوم کہ رابرٹ زندہ کیوں تھا۔ کالم نگار کا کام یہی ہے کہ وہ آپ کو یہ بات ثابت کرکے بتاتا ہے کہ رابرٹ ماشاءاللہ صوم وصلوۃ کا پابند تھا اور مولانا فضل الرحمٰن کا پیروکار بھی تھا۔

ہمارے یہاں پاکستان میں فیس بک نے ٪60 صحافی پیدا کئے ہیں، ٪40 کالم نگار اور ٪10 اس بات پر کنفیوزڈ ہیں کہ وہ اچھے صحافی ہیں یا بہترین تجزیہ نگار، اپنے یہاں اردگرد ہر سو تجزیہ نگار ہی گھومتے پھرتے ہیں، زرا دیکھئے اور ڈھونڈیئے تو لگ پتہ جائے گا۔

پشتون معاشرے میں صحافی کی اوقات اتنی ہی ہے جتنی آپ کے ہاں میراثی کی اوقات ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں اچھے وقتوں میں جب کہیں دوسرے گاؤں میں فوتگی ہوتی تھی تو میراثی گاؤں گاؤں جاکر آوازیں لگاتے تھے، جن سے زیادہ پیسے ملتے تھے تو میراثی رو رو کر اعلان کرتا تھا کہ جناب جمعہ گل کا انتقال دوران نماز و حالت سجدہ میں ہوا ہے۔ جن سے پیسے کم ملتے تھے تو کہتے کہ گل خان کا انتقال دست اور قے سے ہوا ہے۔ پشتون معاشرے میں بستر پر بیماری سے مرگ ہونا بڑی معیوب بات سمجھی جاتی تھی اور جن سے پیسے ملنے کی توقع بالکل نہیں ہوتی تھی ان کا اعلان یوں فرماتے کہ شیرخان مرا ہے اور نمروز خان کا بیٹا ہوا ہے…… میری بیگم کہتی ہیں کہ صحافت کا ارتقاء یقیناً یہیں سے ہوا ہے۔

ہمارے علاقہ کا معین الدین، جو کہ مقامی اخبار کا کرائم رپورٹر ہے، بالکل غیر شادی شدہ ہے۔ جب بھی رشتے کی بات چلائی جاتی ہے تو لڑکی کی ماں یہ کہہ کر انکار کردیتی ہے کہ معین الدین چغلیاں لگاتا ہے حالانکہ یہ عورتوں کا کام ہے، لہذا وہ اپنی بیٹی کی شادی ہر گز ایسے زنخا نما مرد سے نہیں کراسکتی۔

میرے پاکستانی دوست مجھ سے کابل کے صحافیوں کے بارے میں پوچھتے ہیں تو میں بتاتا ہوں کہ الحمداللہ کابل میں صحافی اور کالم نگار نہیں ہوتے، وہاں رپورٹرز ہوتے ہیں، جن کا کام صرف مردے گن کر یہ بتانا ہے کہ دشمن کے کتنے مرے اور دشمن نے کتنے مارے۔

میں نے صحافیوں کے ٹشن صحیح معنوں میں پاکستان میں دیکھے ہیں۔ جس کو دیکھو کارڈ دکھا کر ڈراتے ہیں۔ کچھ کو تو میں نے رشتہ داروں کو بھی ڈراتے دیکھا ہے اور ایک ہم ہیں کہ گاؤں میں کسی کو نہیں معلوم کہ ہم صحافی ہیں۔ لوگ الحمدالله سمگلر یا جاسوس سمجھ رہے ہیں جن سے کچھ اپنی عزت رہ جاتی ہے، یار دوست کابل سے چرس کی فرمائشیں بھی کرڈالتے ہیں۔

اپنی عزت صرف طالبان کرتے ہیں۔ جب بھی دیکھتے ہیں تو فوراً اٹھ کر گلے لگاتے ہیں اور مسکرا کر خوش آمدید کہتے ہیں اور کان میں آہستہ سے سرگوشی کر جاتے ہیں کہ کوئی پشتو فلموں کے ٹوٹے مل جائیں گے؟

اور ہم انکو ٹوٹے دکھا کر خبر حاصل کرتے ہیں……………. کیونکہ صحافی جو ہوئے۔

(یہ تقریر پاکستان فیڈرل کالمسٹ کونسل میں مورخہ 23 اکتوبر بمقام کراچی آرٹس کونسل میں کی ہے)

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *