پیوما۔۔۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان/چوتھی،آخری قسط

یہ کہانی اردو کے موقر ادبی جریدے ’’سویرا ‘‘کے سالانہ کہانی نمبر بابت دسمبر سن2017میں شائع ہونے پر قارئین میں بے حد پسند کی گئی
چوتھی اور آخری قسط

گزشتہ احوال
ٍ پیوما نے جتایا کہ گیلانی بہت گھناؤنے اور بھیانک کردار کا حامل ہے۔میں نے اس کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ اسے تمہارے میرے تعلقات پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔اس کے لیے اس کی جنسی ترغیبات کے حوالے سے اسے بہت رعایتیں دی تھیں۔اسے نہ جانے حسد کی کونسی آگ نے تمہارے بارے میں گھیر لیا ہے۔ تمہارا جانی دشمن ہوگیا ہے ۔میں اس سارے کھیل کو اب انجام تک پہنچانا چاہتی ہوں مگر مجھ میں اتنی سکت نہیں کہ میں دو قریبی مرد بھی کھودوں اور اپنے اصل مشن سے بھی رو گردانی کروں۔
یہ سب کچھ سن کر میں سوچتا رہا کہ پیوما کا یہ ایک دلفریب جال ہے جو وہ سعدی کے گرد بن چکی ہے۔یہ اس کا سعدی سے بے پایاں عشق ہے جس میں جنس کا پہلو غیر ضروری طور پر دہلیز پر شور مچانے کھڑا ہوگیا ہے۔وہ اسے مہرین سے جدا کرکے گیلانی سے خود اپنی جان چھڑا کر امریکہ لے جانا چاہتی ہے۔سیدھا سادہ گھر گرہستی کا منصوبہ۔

نیا آغاز!

دو دن بعد سعدی جنوبی افریقہ  سرکاری مشن پر چلا گیا تو بابین، مسز سعدی اور معصومہ نے عجب حرکت کی، بابین نے ثمر کے ڈرائیور سے گیلانی کے گھر کا پتہ پوچھ لیا اور اس کے گھر پہنچ   گئیں۔چوکیدار سے خود کو پیوما  کی اسکول کی سہیلیاں ظاہر کرکے اس کا پوچھا تو وہ کہنے لگا وہ پاکستان سے باہر گئی ہوئی ہیں۔وقت اور تاریخ روانگی کے علم میں آجانے کے بعد پیوما سعدی تعلقات کا گٹھ جوڑ جاننا مشکل نہ تھا۔رہی سہی آگ اس فون نے لگائی جو ادارہ روک تھام برائے منشیات میں  مہرین بھابھی کے کزن نے گیلانی کو کیا۔ یہ افسر ان کا بہنوئی بھی تھا۔
گیلانی کو بلاکر اس سے منشیات کے ایک جواں سال خوبرو مرد کئیریر کے بارے میں تفتیش کی ۔ کئیریر کے فون سے گیلانی کا فون نمبر ملا تھا۔ان کے کبھی آپس میں جنسی تعلقات بھی رہے تھے۔گیلانی کو دو تین دن   ادارے نے اپنی تحویل میں بھی رکھا۔شاید بد سلوکی بھی کی ہومگر بعد میں ثمر نے ہی مداخلت کرکے اسے چھڑادیا۔
ثمر خود بھی مہرین بھابھی سے اس رویے سے ناخوش تھا۔چوں کہ خود بھی بابین کے علاوہ دیگر خواتین کے ساتھ وقتاً فوقتاً ملوث ہوجاتا تھا لہذا اس کے لیے اس دکھ بھری بات کا ادارک مشکل تھا کہ ان حرکتوں کا بیگمات کی نفسیات اور احساس عدم تحفظ پر کس قدر منفی اثر پڑتا تھا۔
گیلانی کو اپنا یوں گرفتار ہونا، اپنی تحقیر اور مہرین بھابھی کے حالات کو اس ناپسندیدہ نہج تک پہنچانے کا بہت رنج تھا۔ سعدی کی شادی میں دراڑ پڑنے سے اس کی بیوی کا گھر خراب کرنے سے اور گیلانی کے دل میں سعدی کے لیے جذبہء انتقام پیدا ہونے اور بدلہ لینے سے جوڑوں تو یہ ایک طرح کا بریک پوائنٹ کہا جاسکتا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ اسے پیوما اور سعدی کے غیر معمولی تعلقات پر کوئی بڑا اعتراض تھا۔اس نے کچھ دن بہت تحمل سے کام لیا مگر پھر ایک سوچی سمجھی چال کے طور پر پیوما کے اور سعدی کے لمحات وصال کی قابل اعتراض تصاویر سے بھرا لفافہ کسی کارندے کے ہاتھ گمنام انداز میں مہرین بھابھی اور سعدی کے گھر پہنچا دیا۔ پیوما کے ملک سے باہر جانے کا عقدہ بھی ہم پر گیلانی کے ذریعے ہی کھلا۔
وہ جنوبی افریقہ نہیں بلکہ بمبئی گئی تھی۔اس کے سوتیلے والد کلیان جی مہتہ کے بھائی مانک رام جی کا مہاکلی کیوز روڈ ۔ اندھیری میں ہیروں کی پالشنگ کا بزنس تھا اور وہ چاہتے تھے کہ پیوما اپنا ٹھکانہ جنوبی افریقہ کو بنالے تاکہ وہ اس کی مدد سے یہ کام وہاں بھی شروع کرسکیں۔ اس کاروبار کو البتہ وہ ہندوستانی نژاد باشندوں بالخصوص گجراتیوں کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی کے پیش نظر ایک علیحدہ انداز میں کرنا چاہتے تھے یعنی گولڈ اینڈ اسٹون ٹریڈ جس کا محور قیمتی پتھروں کی بجائے کرنسی ہوتی۔اس بزنس کے لیے وہ قانونی اورا نشورنس کے مقاصد کے لیے

professional replacement valuation certificates ،

متبادل قرضہ،جیولری اور ہیرے برائے کیش قسم کا ایک کاروباری دفتر کھولنا چاہتے تھے۔
اس کام میں نہ صرف ہیروں کی شناخت ایک اہم مسئلہ تھی بلکہ اس میں مسل پاؤر کی بھی ضرورت اس لیے تھی کہ جنوبی افریقہ میں چینی پاکستانی، بھارتی،لبنانی،روسی ،اسرائیلی اور برطانوی کرمنل گینگز جو نائٹ کلبوں،اسمگلنگ،سگریٹ کے غیر قانونی دھندے کا بہت زور تھا۔

کیپ ٹاءون کے نائٹ کلب

پیوما میں انہیں یہ خوبی نظر آئی کہ وہ نہ صرف کاروبار کے ظاہری پہلو کا بخوبی احاطہ  کرسکتی ہے بلکہ اس میں ہونے والی مجرمانہ ریشہ دوانیوں سے بھی بہت عمدگی سے نمٹ سکتی ہے۔

مجھے جب سعدی کی ای میل ملی تو پتہ چلا کہ پیوما بھی بمبئی سے کیپ ٹاؤن آگئی ہے۔ اس ای میل سے یہ بات ثابت ہوئی کہ پیوما نے  گیلانی  کو اپنے مکمل سفر کا روانگی کے وقت نہیں بتایا

تھا۔ممکن ہے وہ سفیان کو اپنے آئندہ منصوبوں سے باہر کرکے اس کی جگہ سعدی کی شمولیت کی گنجائش نکال رہی ہو۔ پیوما نے سعدی کی ملاقات وہاں ایشون کالو سے کرادی۔
ایشون کالو ایک نائٹ کلب کا مینجر تھا۔ہر وقت ہی اچھے برے لوگوں میں گھرا رہتا تھا۔اس نے کالو کو دو طرح سے شیشے میں اتارا۔اسے بہتر تنخواہ پر اپنی نئی فرم کے لیے کریمنل سائیڈ کو سنبھالنے کے لیے آپریشن انچارج بنانے کا وعدہ کیا۔ دوسرا سعدی کو جس مشن میں آیا تھا اس میں کامیاب کرنے کے لیے یہ کہانی سنائی کہ وہ کراچی اور لاہور میں بھی اس طرح کا کام شروع کرنے کے لیے اسے ساتھ لائی ہے۔ان کے کراچی کے آپریشن کے لیے اسے وہ ان لڑکوں کے بارے میں معلومات دے جو وہاں سے مفرور ہوکر یہاں آئے ہیں ان میں سے چند ایک سے ملا بھی دے تو اور بھی اچھا ہوگا۔
یہ ایک پرفیکٹ ۔کور بن گیا ۔ایشون کالو نے اس کی بات کو کسی شک کی نگاہ سے اس لیے نہ دیکھا کہ اس طرح کا کاروباری سلسلہ مانک رام جی تو یہاں بہر حال قائم ہی کررہے تھے۔گجراتی ، گجراتیوں سے چال بازی نہیں کرتے ۔ وہ بھول گیا کہ نہ تو پیوما گجراتی تھی نہ سعدی۔
ایشون کے لیے مانک رام جی کی نمائش میں خود موجودگی ان کے پیوما سے میل ملاپ کا انداز اور سعدی کی تابعداری کا انداز ایسا تھا کہ سب کام آسان اور ہر تجویز قابل فہم و عمل ہوگئی۔ ایشون کے نائٹ کلب Knotty Boy میں کچھ مفرور لڑکوں کی بیویاں اور گرل فرینڈز بھی ملازم تھیں۔وہ خود بھی کریمنل گینگز میں ایک goombah(اطالوی مافیا میں وہ فرد جو سینئر اور مددگار کے طور پر کام کرے) کا درجہ رکھتا تھا۔ زیادہ تر وہ اسے کالو گومبھا کے نام سے پکارتے تھے۔اسے زیادہ خوش کرنا مقصود ہوتا تو ڈان گومبھا کے لقب سے یاد کرتے تھے ۔پاکستان سے آئے ہوئے لڑکے جن کی اکثریت کا تعلق علیحدگی پسند، سیکولر، مذہبی اور خالصتاً جرائم کی دنیا سے ہوتا تھا۔ وہ بصد احتیاط انہیں جانچتا ،ان کے اپنے میں outfit ان کے مقام اور آئندہ افادیت کا جائزہ لیتا اور انہیں وہاں موجود ’’را ‘‘ کے ہینڈلرز کے حوالے کرتا تھا۔کئی لڑکوں کی تو وہیں یا دور دراز علاقوں میں ٹریننگ ہوجاتی اور بعض کو پڑوس کے ملک موزمبیق میں دہشت گردی کی تربیت کے لیے بھیج دیتے ،پاکستان میں جاری کاروائیوں اور مطلوبہ اہداف کی روشنی میں ان میں سے زیادہ جی دار اور ہمارے ملک میں دہشت گردی کے سیلپر سیلز سے بہتر روابط میں رہنے والے لڑکوں کو لبنان، بھارت اور افغانستان بھجوادیا جاتا۔
کالو گومبھا کے حوالے سے مختلف گینگزاس کی معاملہ فہمی،اثر اندازی اور مختلف کلبوں میں کام کرنے والی لڑکیوں سے تعلقات کی بنیاد پر اسے یہ فریضہ بھی سونپا گیا تھا کہ اگر مختلف کارندے آپس میں لڑجائیں تو وہاں اپنے دھندوں سے لگے  گینگز کی جانب سے اسے یہ فریضہ سونپا ہوا تھا کہ وہ ان کے آپس میں تصفیے کرادے۔ سب ہی ان فیصلوں کو مستحسن نظروں سے دیکھتے تھے۔ اس سے آپس میں خون خرابے میں بچت ہوجاتی تھی۔
اس لحاظ سے ان لڑکوں کے ذریعے کراچی اور ملک کے دیگر مقامات پر دہشت گردی کے آپریشن ،مذہبی دہشت گردوں سے روابط ، ملائیشیا ، تھائی لینڈ، لبنان اور کابل کی واسطے داریاں اور
جنوبی افریقہ کا اس میں بطورHUBاستعمال ہونا ۔ان سب معاملات کی کالو گومبھا کے ذریعے سعدی کو باآسانی سمجھ آگئی تھی۔چند مفرور لڑکوں نے تو اپنے وہاں پاکستانی contacts کے فون نمبر بھی دے دیے۔سعدی سے ان کے قریبی عزیزوں کے لیے نوکریوں کے وعدے لے کر میل ملاپ کی آسانی بھی فراہم کردی۔ان ملاقاتوں میں پیوما بھی موجود ہوتی۔اس کی نگاہوں میں آئندہ منصوبوں کی خوابیدگی عجب سہانے دھنک رنگ اور ایرانی گلستانوں کی خوشبو بکھیرتی محسوس ہوتی ۔وہ سوچتی تھی کہ واپسی پر وہ سعدی کو لے کر یہاں کیپ ٹاؤن یا دار السلام ۔تنزانیہ آجائے گی۔ان خوبصورت شہروں  میں سب ہی کچھ تھا۔اس میں زندگی کی رفتار ایسی تیز نہ تھی جیسی امریکہ میں تھی نہ اس قدر سست اور بے یقیں تھی کہ جیسی پاکستان میں ہوسکتی تھی پھر سعدی اس کے ساتھ وہاں پاکستان میں رہ کر اپنی سرکاری ملازمت کے نشے سے دامن نہ چھڑا سکتا تھا جس سے اسے شدید نفرت تھی۔یہیں اس نے سب کچھ سوچ کر ایک اور منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جو سعدی کا بچہ پیدا کرنے کا تھا۔
میرا خیال تھا کہ سعدی دو تین دن میں واپس آجائے گا مگر مجھے گھانگرو نے بتایا کہ  چند اہم لڑکے جو پاکستان اور دیگر ممالک سے دو تین دن میں واپس آنے والے ہیں ان سے مل کر مزید ایک ہفتہ جوہانسبرگ میں ٹھہر کر واپس آئے گا۔ اب وہ کچھ ایسے شہروں اور بستیوں میں ہوگا جہاں یہ لڑکے اپنے اپنے حساب سے قیام پذیر ہیں ۔ اس وجہ سے فون اور انٹرنیٹ وہ اب جوہانسبرگ پہنچ کر روانگی کے وقت آن کرے گا۔ تب تک کے لیے اللہ حاٖفظ۔ یوں سعدی کی یہ یاترا کل دس دن کی بنی۔میں  نے بھی گھانگھرو کی اس اطلاع پر کامل یقین کرلیا۔ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ تیسرے دن میرے پرانے ای میل lip_gloss @ yahoo.com والے ای میل ایڈریس جو بہت نجی اور چنیدہ لوگوں سے رابطوں کے لیے تھا۔
اس پر سعدی کی بہت سی تصاویر سے مزین ایک ای میل ملی۔ اس نے لکھا تھا کہ یہ تصاویر دیکھ کر Delete کر نے کے لیے ہیں۔آیت اللہ زندگی میں پہلی دفعہ جیمز بونڈ کا کردار نبھا رہا ہوں۔انٹیلی جینس کی کاروائیوں کے بعدانہیں دیکھئے میری سلویا ٹرینچ کو( اداکارہ Eunice Gayson جو جیمز بانڈ کی پہلی اور دوسری فلم میں اس نام سے اس کی محبوبہ تھی)۔فائل ان زپ ہوکر ڈاؤن لوڈ ہوئی تو مجھے اسکرین کو سلگا دینے والی پیوما کی جھاگ جیسی بکنی میں بمشکل سماتی ہوئی کئی تصاویر دکھائی دیں۔دو ایک تصاویر ایسی تھیں کہ بکنی کے تکلف سے مکمل  یا محتاط سی لاپروائی کے انداز میں آزاد تھیں۔ساحل پر پڑی چھوٹی بڑی چٹانوں کے درمیان پیوما کی عریانگی بہت جان لیوا انداز میں چھپ چھپا کر جھانکتی تھی۔وہ وونوں شیشلز کے دو جزائر ماہے اور پارسلین کے نیلے اجلے ساحلوں پر جسم و جاں کے عذاب دھوتے تھے۔میں نے تصاویر کو سعدی کی ہدایت کے برعکس Delete نہیں کیا۔ ارسال کردہ تصاویر میں مقید پیوما کے حسن دلفریب کے ان بے باک نظاروں کو میں نے کئی دفعہ کبھی جل کر تو کبھی حسرت سے   دیکھا۔

جیمز بونڈ کی فلم
eunice gayson
شیشلز
mahe

آپ کو یاد ہوگا کہ جب میں نے اور ثمر نے مہرین بھابھی کو سمجھانے کی کوشش کی اور انہوں نے جو تصاویر اور کاغذات   ہمیں سعدی کی حمایت سے باز رہنے کے لیے دیے  ان میں لیبارٹری سے تصدیق حمل کی ٹیسٹ رپورٹس اور ایک بڑے کلینک کی Obstetrics شعبہء کے بل کی رسید کی فوٹو کاپی بھی تھی۔
اب میں مڑ کر سوچوں تو گمان ہوتا ہے کہ پیوما کی رسیدوں کی وارداتوں کے مقصد یہی ساحلی  مقامات تھے۔انہیں دلفریب نظاروں میں اس نے سعدی کے بچے کی ماں بننے کے عمل کا آغازکیا تھا۔۔ان دستاویزات پر مسز سعد نجم الدین لکھا تھا۔ آپ کو تو یاد ہے نا کہ سعدی کا اصل نام سعد نجم الدین تھا۔
سعدی واپس آیا اور اس کے دو دن بعد پیوما بھی آگئی ۔سعدی کے آنے کے بعد دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف سندھ میں آپریشن میں تیزی آگئی کافی لو گ پکڑے گے اور کچھ لوگ مشکوک حالات میں مارے بھی گئے۔انہی کامیابیوں کا نتیجہ تھا کہ شہر میں امن و امان کی صورت حال میں واضح طور پر بہتری آگئی۔سعدی کو ترقی دے کر اُن چار شعبہ جات یعنی اس کا اپنا ڈیپ پاکٹ، دم پخت ، پستہ خنداں اور مدرسۃالبنات کو سندھ میں ایک جگہ جمع کرکے جوائینٹ ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔

مہرین بھابھی سے سعدی کی ناچاقیوں میں اضافہ ہوگیا۔ میں اور ثمر انہیں جتنا سمجھاتے لگتا تھا وہ لیکچر اگلے دن بے اثر ہوجاتا تھا۔سعدی نے انہیں ملک سے باہر تعطیلات پرلے جانے کی کوشش بھی کی مگر وہ نہ مانیں۔ دوسری جانب گیلانی سے پیوما کی لڑائی ہوئی۔اس کے ہاتھ پیوما کی تصدیق حمل اور اسقاط کی رسیدیں لگ گئی تھیں۔یہ سب ایک جگہ پیوما کی اسٹڈی میں رکھی تھیں وہاں ان تک اس کی رسائی اس وقت ممکن ہوگئی جب پیوما ایک دن کے لیے اسلام آباد گئی تھی۔
مہرین بھابی نے بالآخر خلع کی درخواست دے دی ۔ہماری دونوں میں   صلح  کی آخری کوشش ہی وہ ملاقات تھی جس میں ہمیں وہ لفافہ دیا گیا جس میں پیوما اور سعدی کے ناجائز تعلقات کی پیچیدگی، گہرائی اور بے احتیاطی کے ثبوت تصاویر اور رسیدوں کی صورت میں موجود تھے۔ ان کے گھر میں مہرین بھابھی کے بہن ، بہنوئی رہنے آگئے اور وہ سعدی کو چھوڑ بیٹے سمیت اپنے میکے مردان منتقل ہوگئیں۔ان کے جنوبی افریقہ اور شیشلز سے واپسی کو پانچ ماہ ہوگئے تھے۔اسی دوران سعدی اپنی موت سے تقریباًایک ماہ پہلے گھانگرو صاحب کے کسی مہرباں وڈیرے دوست کے فیز ٹو والے بنگلے میں شفٹ ہوگیا تھا۔
پیوما کی ہسپتال والی رسیدیں شہود گیلانی کے ہاتھ لگیں تو یہ سب کچھ اسے معاہدے کی خلاف ورزی لگا۔ پیوما سعدی اور اس کے تعلقات کی تکون میں بچہ شامل نہ تھا۔ ان میں لڑائی ہوگئی۔ پیوما لڑائی کے نتیجے میں ناراض ہوکر کچھ دن تو اپنی خالہ امی کی طرف رہنے چلی گئی۔
پیوما اکثر رات کو ہمارے فلیٹ پر آجاتی جہاں اکثر سعدی بھی ہوتا۔اب سعدی والے کمرے میں  کافی سامان اس کا تھا ،بالخصوص جوتے، میک اپ کتابیں وغیرہ ۔کک منعم بھوئیاں سے اس کی خوب بنتی تھی۔وہ چند عربی، چینی کھانے اور پائز بہت اچھی بناتی تھی۔منعم بھوئیاں کو اب اس کے بچوں والی چڈی پہن کر گھومنے پر اور اپنے ساتھ کچن میں مدد کرنے پر بڑی مسرت  ہوتی۔جب ہم تینوں کھانے کی میز پر ساتھ ہوتے تو میں حیران ہوتا کہ وہ سعدی کو بالکل چھوٹے بچوں کی طرح کھانے کھلانے پر بضد رہتی اس کے منہ  میں چمچے سے نوالے تک دیتی تھی۔
چند ہفتے یوں ہی گزرے ایک دن میں اور ثمر دن کے بارہ بجے فلیٹ پر موجود تھے مگر جب وہ روحی کے ساتھ آئی اور اپنا بہت سا سامان لے کر چلی گئی۔کچھ چپ چپ تھی۔سامان کی پیکنگ بھی بددلی سے کررہی تھی۔ہر شے کو دیکھ بھی بہت حسرت سے رہی تھی۔گویا ایک شہر دل فریب تھا جس کا قیام اسے عزیز تھا اور جسے وہ بادل ناخواستہ خیر باد کہہ رہی تھی۔ثمر اور روحی باتوں میں لگے تو میں پیکنگ میں مدد کے بہانے سے کمرے میں چلا گیا۔مجھے لگا جیسے پیوما رو رہی ہو اور اس شفٹنگ میں اس کی مرضی شامل نہ ہو۔یوں لگ رہا تھا جیسے اس پورے عمل میں وہ روحی کے  احکامات کی پابند تھی۔ سعدی دفتر میں تھا۔تین دن بعد ہم نے زیارات کے لیے ایران اور شام روانہ ہونا تھا۔
سامان اور روحی کے ساتھ وہ باہر تو نکلی مگر پھر یہ بہانہ بنا کر   مین گیٹ سے اکیلی واپس آگئی کہ وہ اپنا پرس تو کمرے میں ہی بھول گئی ہے۔مجھے اشارے سے ثمر کو روحی کی طرف بھیجنے کا کہہ کر گلے لگ گئی اور روتے روتے انگریزی میں بتانے لگی کہ  سعدی سے کہو ملک چھوڑ دے۔وہ اس کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔گیلانی نے انہیں سب بتادیا ہے۔ جب سے سعدی واپس آیا ہے  ان کے شہر میں ان کے بہت اہم افراد مارے گئے ہیں یا پکڑے گئے ہیں۔ دو تین تو بہت ہی Key -Assets تھے ۔ انہیں شبہ ہے کہ اس کے پیچھے سعدی کی دورے میں حاصل کردہ معلومات کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے میرے کمپیوٹر کو بھی ہیک کیا ہے۔شیشلز کی ہماری چھٹیوں کا بھی ان کو ثبوت مل گیا ہے۔انہیں لگتا ہے کہ میں Compromised ہوگئی ہوں۔سعدی میری First-Priority بن گیا ہے ۔ ہم جنوبی افریقہ یا امریکہ چلے جاتے ہیں اب مہرین بھی نہیں تو اسے کیا رکاوٹ ہے۔

کوئی اور موقع  ہوتا تو میرا حاسد بدن پیوما کی قربتوں سے ماؤنٹ ایورسٹ کی برف پر صبح کی دھوپ سے پگھل رہا ہوتا مگر الفاظ کا سحر، ان میں پوشیدہ خطرات اور معلومات کا ریزہ ریزہ ہوتا ایک کوہ گراں سبھی میرے دماغ کے علاوہ پورے وجود کو سُن کرگئے۔
ان دونوں خواتین کے رخصت ہونے کے بعد ہم سعدی سے ملنے  دفتر گئے ۔میٹنگ ختم ہوئی تھی اور وہ گھانگھرو کے پاس بیٹھا تھا۔اس کے کمرے میں پہنچ کر ہم نے پیوما کے سامان لے جانے کا بتایا وہ اسے کاروائی سے پہلے ہی آگاہ کرچکی تھی۔جب اسے پیوما والے انکشافات سے آگاہ کیا تو اس نے انگریزی میں اس کے لیے paranoidکا لفظ استعمال کرکے ہنسی میں اڑا دیا۔
وہ کہنے لگا کہ مہرین سے کل اس کی بہت تفصیلاً گفتگو ہوئی ہے۔بڑی حد تک وہ اس بات پر رضامند ہوئی ہے کہ وہ اپنی عدالت میں دائر کردہ خلع کی درخواست واپس لے لے۔ہم حیراں ہوئے تو
شرما کر کہنے لگا کہ وہ ماں بننے والی ہے ،۔ مجھے کہہ رہی تھی سعدی میں نہیں چاہتی کہ ہمارا بچہ ایسے بستر پر پیدا ہو جو باپ کے سائے سے محروم ہو۔وہ چاہتی ہے کہ پیوما اور دیگر خواتین سے میں اگر ملنے جلنے  میں مکمل اجتناب کروں اور اپنا تبادلہ یہاں وزارت داخلہ میں کرالوں تو اسے دوبارہ لوٹ کر آنے میں کوئی اعتراض نہیں۔روحی نے آن کرپیوما اور گیلانی میں راضی نامہ بھی کرادیا ہے۔ چند دنوں میں ہر شے نارمل ہوجائے گی۔پیوما ،کیپ ٹاؤن چلی جائے گی۔
شام کو پیوما کچھ دیر کے لیے دوبارہ آئی ۔ سعدی کے ساتھ کمرے میں چلی گئی۔مجھے لگا کہ انہیں لمحات وصال میں سعدی نے پیوما کو اپنا پروگرام بتایا ہے ۔وہ بہت روئی روئی، دل گرفتہ اور بے لطف لگ رہی تھی۔کھانے پر ہمارے ساتھ ضرور شریک ہوئی مگر وہ جو سعدی کے ساتھ اس دوران مادرانہ اور عاشقانہ قسم کے چونچلے ہوتے تھے ۔ان کا کہیں دور دور بھی مظاہر ہ نہ تھا۔

اگلے دن ہم ایران چلے گئے۔وہیں ہمیں سعدی کی موت کی اطلاع ملی۔ اس نے خودکشی کی تھی۔پنکھے سے لاش لٹکی ہوئی تھی۔لاش لینے مہرین بھابی اور ان کے بہنوئی پہنچے اور پوسٹ مارٹم سے انکار ہوا ۔ جنازہ اور تدفین بھی ان کے آبائی شہر مردان میں ہوئی۔مہرین بھابھی عدت میں بھی بیٹھیں۔
سعدی کی موت کے ٹھیک ایک ہفتے بعد گیلانی کو اس کے دفتر سے نکلتے ہوئے کورنگی سائٹ کے ایریا میں موٹر سائیکل سواروں نے بھون ڈالا۔ دو دن سے پیوما دوبئی میں تھی۔
شام میں ہم دونوں زائرین یعنی میری اور ثمر کی ملاقات دوبئی کے رہائشی صادق بیابانی سے ہوئی۔صادق بیابانی کا تعلق ایران سے تھا۔اس کا زائرین کے قافلوں کا کاروبار تھا۔ میری  بہن معصومہ بخاری پاکستان سے جو قافلے بھجواتی تھی ان کے قیام و طعام  اور دیگر معاملات اس کی فرم کے ذمے ہوتے  تھے۔اس لحاظ سے وہ کاروباری رفیق تھے۔
۔دوبئی میں بھارتی افراد کے ساتھ اس کے بڑے گہرے روابط تھے۔ خود اس کا بڑا بھائی بھی ایران کیVAJA (وزارت اطلاعات جمہوریہ اسلامی ایران) میں اس شعبے میں اہم عہدے پر فائز   تھا جس کے بھارت سے خصوصی روابط تھے۔روحی کی تصویر میں نے ثمر کے بہنوئی کے مشورے  سے اس کیمرے سے نکلوالی جو ہماری بلڈنگ کمپلیکس میں لفٹ کے باہر لگا تھا۔یہ چار زاویوں والا کیمرے کا ریکارڈ اس لیے میری دسترس میں تھا کہ میں بلڈنگ کی سوسائٹی کا صدر تھا۔ روحی اور پیوما کی تصاویر ان کی آمدکے موقعے پر وڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے مطلوبہ تصاویر کی صورت میں ہم نے محفوظ کرلی تھیں۔یہ تصاویر ثمر کے بہنوئی کے ذریعے تو متعلقہ اداروں تک پہنچ ہی گئیں تھیں۔بیابانی سے یہ میری پہلی ملاقا  ت تھی مگر ہمشیرہ معصومہ کی وجہ سے وہ اس کی بیوی سارہ نوروزی اور اس کی بہن فہیمے بیابانی سب ہی ہمارے گھرانے سے بہت قربت محسوس کرتے تھے۔سارہ اور فہیمے تو پچھلے محرم میں ہماری  لاہور والی حویلی میں بھی آن کر مہمان رہی تھیں۔دونوں ہی بہت اچھی سوز خوانی کرتی تھیں۔
بیابا نی کی مدد کا لیول جانچنے کے لیے میں نے روحی کی تصویر بیابانی کو اس کے اپنے بھائی کے لیے تصدیق اور روابط کے لیے دی تو وہاں سے یہ رپورٹ ملی کہ کہ وہ پاکستانی ہے دوبئی میں جس ادارے میں وہ ملازم ہے اس کے مالکان کا ہندوستان کے ادارے ’’ را ‘‘سے بہت گہرا تعلق ہے۔ایک طرح وہ ان کا بزنس کور سمجھیں۔اس میں بہت کم غیر مسلم ملازم ہیں۔مالکان کا رویہ اور تنخواہوں کا پیک ایج بھی بہت عمدہ ہے۔پاکستانی خواتین کو خصوصی ترجیح دی جاتی ہے۔وہ روحی کو پاکستان میں بڑے مخصوص نوعیت کے آپریشنز میں سہولت رساں اور منصوبہ ساز کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔اس کام کے لیے اس کی بڑی خصوصی تربیت نیپال اور ملائیشیا میں کی گئی ہے۔بے حد ذہین اور ترتیب آشنا  صلاحیتوں اور جذبات سے بلند مزاج کی مالک ہے۔اس کے بھائی کا نام گیلانی ہے ۔پیوما کی باقاعدہ شادی تو نہیں ہوئی مگر ایک بہتر کور کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی را نے گیلانی اور پیوما کو آپس میں ملا دیا ہے۔خود پیوما ایک امریکی سیکورٹی ایجنسی کی ملازم ہے اور گیلانی کے ذریعے اسے اپنا کام کرنے اور پیسے کمانے میں آسانی ہوگئی ہے۔حال ہی میں چند ایسے ناخوشگوار واقعات ہوئے ہیں جن میں گیلانی کی ٹارگیٹ کلنگ بھی شامل ہے۔رو حی کو شبہ ہے کہ اس Hit  کا بندوبست پیوما نے سعدی کا انتقام لینے کے لیے کیا تھا۔ روحی اور پیوما میں شدید ناچاقی ہوگئی ہے دونوں کے ہینڈلرز کا حکم ہے کہ وہ اب مزید روابط سے گریز کریں ، دونوں جانب سے مکمل جنگ بندی ہے۔ آئندہ احکامات کا انتظار کریں۔

واپس آن کر پیوما سے ملاقاتوں کا کچھ احوال تو پہلے ہی بیان ہوچکا ہے ۔ علم ہوا کہ وہ اب امریکہ کی ریاست  کیلی فورنیا میں اپنے والدین کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ایک ماہ بعد خاکسار کمپپویٹرز کی ایک نمائش کے لیے ایران کی خاطر کچھ خریداری کرنے گیا تھا ۔ایران کے امریکہ سے ان دنوں تعلقات بہت خراب تھے ۔صادق بیابانی کے انیٹلیجنس ایجنسی واجا والے بھائی زین بیابانی کو ان کے شعبہ کمپیوٹر سرویلنس کے حوالے سے کچھ ضروری پروگرام اور مشینیں درکار تھیں، خاکسار اس طرح کی فری لانسنگ یہاں پاکستان میں کرتا رہتا ہے۔دفاعی اداروں کی جانب سے اسے جو سیکورٹی کلئیرنس حاصل ہے اس وجہ سے اس طرح کے ساز و سامان کی خریداری آپ کے اس خادم کے لیے الحمد وللہ ہر گز دشوار نہیں ہوتی۔ پاکستان کی جانب سے خریداری میں صرف آرڈر کے آئٹمز میں ایران کے لیے آئٹمز کی تعداد میں خاموشی سے اضافہ ہی کافی تھا۔ جب ایران کا مال منگواتے ہیں تو احتیاط یہ کرتے ہیں کہ پہلے وہ دوبئی آئے ۔ دوبئی آتے ہی ایران کے سامان کو علیحدہ کرکے لانچوں کے ذریعے تہران روانہ کردیا جاتا۔
نمائش میں پیوما مجھے مل گئی۔اس کی کمپنی کے پاس کچھ مطلوبہ آئٹمز تھے۔ میں نے آرڈر اس کے ذریعے دیا تو اسے خاصا کمیشن ملا۔کچھ اور آئٹمز جو وہاں رکھے ہوئے نہ تھے وہ بھی اس کی مدد سے مل گئے تو ہم دونوں کے کمیشن میں وارے نیارے ہوگئے۔نمائش کے اختتام پر ہم کئی دن  ساتھ گھومے پھرے۔وہ پاکستان کو مس کرتی تھی۔سلیکون ویلی کی جس کمپنی کے لیے وہ کام کرتی تھی وہ واک تھرو گیٹس اور سیکورٹی سے متعلق سامان کی ڈیزائننگ اور پروگرامنگ کی ماہر ہونے کے ساتھ سی آئی اے کے کنٹریکڑ کا بھی کام کرتی تھی۔پیوما کو امریکہ میں بہت مقابلے کا سامنا تھا وہ دوبارہ پاکستان لوٹ کر آنا چاہتی تھی۔سعدی کی موت کو سال سے اوپر کا عرصہ ہوچلا تھا۔اگست کی اس امگی ہوئی رات کو جب ہم Stadium Promenade سے فلم، دیکھ کر رات گئے لوٹ رہے تھے۔برسات ایسی تھی کہ دل بے اختیار بھیگنے کو دل کرتا تھا۔ شام کو نمائش ختم ہوئی تب تک یہ فیصلہ نہ ہوا تھا کہ وہ میرے ہوٹل جائے گی کہ اپنے ہوٹل۔

اسٹڈیم پومرنیڈ

وہ اپنے قیمتی سینڈلز بارش کے پانی سے بچانے کے لیے ننگے پیر چل رہی تھی۔ پیوما نے چست نیلی فگر ہگنگ جینز جو  آدھی پنڈلیوں تک لپٹی تھیں ان پر   آبی رنگوں کا پھولدار ڈورریوں والا ہالٹر بغیر برا کے پہنا تھا یہ اس کی ناف سے کافی اوپر جھجھک کر تھم گیا تھا۔کمر بھی مکمل ننگی تھی جس کی ٹھنڈک اور ریشمی پھسلن اور گہرے کٹاؤ کا مجھے فلم دیکھتے ہوئے اور واپسی پر کمر پر ہاتھ رکھ کر چلتے ہوئے کئی دفعہ ادارک ہوا۔
بھیگی رات کے وسطی پہر سنسان ایسٹ بال روڈ پر جو میرے ہوٹل سے بہت قریب تھی میں نے اسے ایک عمارت کے شیشے کے سامنے روکامختلف رنگ کی روشنیوں کے زاویے ایسے تھے کہ تجارتی کھڑکیوں کے بڑے شیشے آئینے جیسے بن گئے تھے۔پیوما کے کاندھے تھام کر  اسے اپنے آگے کھڑا رکھ کراس کا عکس اسے دکھایا ۔معاملہ کچھ بن گیا کہ پیچھے کھڑے ہوئے خاکسار کے عکس نے اسے آئندہ کے سپنے دکھائے۔وہ کچھ پگھلی تو بوس و کنارکے طویل وقفوں والے سلسلے وہیں دراز ہوئے ۔

سٹؤر کی کھڑکی
سٹؤر کی کھڑکی
سٹؤر کی کھڑکی
سٹؤر کی کھڑکی

مجھ میں اس کے مچ مچانے اور سسکیوں کا مردانہ شعور اجاگر ہوا تو میں نے گردن کے پیچھے ہونٹوں سے ہالٹر کی ڈوریاں کھول دیں ۔ڈوریاں کھلنے کا احساس اگر اسے ہوا بھی تو انہیں سامنے کی طرف گر کر عریاں  سینہ دکھانے سے روکنے کی مہلت نہ ملی۔رفاقتوں کے اس سوز نہاں کا سلسلہ کھنچ کھنچا کر میرے ہوٹل کے کمرے تک دراز ہوا اور ہم دونوں نے پیمان باندھا کہ یہاں امریکہ میں تو ہم Open Relationship میں سما کررہیں گے۔ اسی نے تجویز دی کہ دستاویزات میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں مگر  نکتہ چینوں کامنہ  بند رکھنے کے لیے ہم پاکستان میں ایک دوسرے کے لیے میاں بیوی بھی کہلائیں گے ۔وہ رہے گی بھی میرے پاس۔ہمارے درمیاں جائداد، پیسہ کوئی ایشو نہیں ہوگا، جو میرا ہے وہ میرا رہے گا۔ جو اس کا ہے وہ اس کا رہے گا۔ بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ باقاعدہ اور تحریری معاہدے کے تحت امریکہ میں ہوگا۔ رہائش ، طعام اور سفری اخراجات میرے ہوں گے۔ پاکستان میں میرے علاوہ کسی مرد سے جنسی اور جسمانی تعلق نہیں رکھے گی۔ یہ کم و بیش گیلانی والا ہی ماڈل تھا۔ ہم ایک دوسرے کے  ماضی پر سوال جواب نہیں کریں گے۔نہ ہمارا ماضی ہمارے موجودہ اور آئندہ تعلقات پر اثر انداز ہوگا۔سعدی یا گیلانی کے بارے میں وہ خود کچھ بتائے تو یہ اس کی صوابدید ہوگا مگر میں سوال نہیں کروں گا۔اپنے تعلقات کی بنیاد پر میں اس کی روحی سے گیلانی والے گھر کے حصول میں مدد کروں گا۔ اس لیے کہ وہ دستاویزات کے حساب سے گیلانی کی بیوی ہے۔اس لحاظ سے اس قیمتی جائداد میں اس کا معقول حصہ ہے۔روحی نے اس کے والد کی  جمع کردہ کچھ قیمتی تصویریں ، پرانے کیمرے،اور قدیمی کتابی نسخوں پر بھی قبضہ کرلیا ہے وہ اسے واپس لے کردوں گا، یہ ان نجی ذخیرہ کی پانچ نسلوں سے خاندان میں چلا آرہاہے۔اس میں دعاؤں کی کچھ ایسی کتابیں بھی شامل ہیں جو اس کی پرنانی اپنے ساتھ منگولیا سے باسل اس وقت لے گئیں تھیں جب انہیں الان بطور میں ایک عیسائی پاردی سے عشق ہوگیا تھا جس کا تعلق باسل سوئزرلینڈ سے تھا۔وہ الان بطور اس کے ساتھ ہی بھاگ لی تھیں۔
ہمارا یہ ساتھ بے حد خوشگوار اور پر لطف تھا۔ ہر ایک دو ماہ میں وہ پاکستان ہو کہ امریکہ   دو تین دن کے لیے غائب ہوجاتی تھی۔اس کا انکشاف مجھے اس کے رول آن بیگ کو دروازے کے پاس دیکھ کر اس وقت ہوتا جب وہ سعدی کی اصطلاح میں کہتی تھی’’ آیت اللہ آئی ایم آف۔سی یا لیٹر۔یہ وقفہ تین د ن  سے زیادہ نہ ہوتا۔وہ گھر سے جب روانہ ہوتی تو پچھلی گلی میں کوئی کار کھڑی ہوتی جس کا نمبر مجھے کبھی بھی پتہ نہ چل پایا۔
اب مڑ کر دیکھوں تو ہمارے اس تعلق کو سال سے اوپر ہوچلا تھا۔ا س کے نوادرات کی وصولیابی یوں آسان ہوئی کہ گھانگھرو کی ایک ٹیم کی مدد سے ایک ڈکیتی کی گئی ۔ روحی گیلانی والے گھر پر قابض تھی ۔وہ اس کی حقیقی ہم شیرہ تھی ۔ جس کا پیوما کو علم بھی تھا۔وہ دو تین دن کے لیے کہیں غائب تھی ۔گھانگرو کے آدمیوں نے پہلے تو چوکیداروں کو نشہ آور بریانی کھلائی۔انہیں اپنے سیف ہاؤس کے کمرے میں بند کیا ۔ پیوما نے بعد میں گھانگرو کی فراہم کردہ سرکاری سوزوکی بھر کر اپنی مطلوبہ اشیا وہاں سے خالی کرلیں۔۔ پیوما اس ڈکیتی میں نہ صرف خود شریک ہوئی بلکہ وہ دعاؤں کی وہ کتاب مل جانے پر بہت خوش ہوئی حالانکہ مذہب سے اس کا دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔گیلانی والے گھر کے حوالے سے کوئی زیادہ مشکل نہ ہوئی۔وکیل صاحب کا نوٹس ملا تو روحی نے ثمر کے ذریعے اس سے آؤٹ آف کورٹ راضی نامے کی پیشکش کی ،دونوں خواتین کے لیے مقدمات ان کے ہینڈلرز کے لیے درد سر ہوتے ۔ نصف حصہ لے کر دونوں خوش ہوگئیں ۔میں اور پیوماجب امریکہ میں اپنی رفاقتوں کو ایک معنی آفریں استحکام بخش رہے تھے ۔ ایک حادثہ یہ ہوا کہ زیارت پر گئی ہوئی بابین عراق میں بغداد ہوٹل والی دہشت گردی   کی   واردات میں اللہ کو پیاری ہوگئی۔
ہم کوئی پانچ ماہ بعد  جب پاکستا ن پہنچے تو ثمر اور روحی کے تعلقات میں گہرائی کا علم ہوا۔اس دوران یہ بھی ہوا کہ ثمر کے بہنوئی شجاعت بھائی کے پاس اب نہ صرف وزارت داخلہ میں پہلے والا اہم عہدہ تھا بلکہ انہیں صدر صاحب کی خصوصی عنائیت سے اس خفیہ بیورو کاچیف بھی بنادیا گیا تھا ۔وہ اب اس حوالے سے براہ راست صدر کے پرنسپل سیکرٹری کو رپورٹ کرتے تھے۔

میرا معاملہ ان کے ساتھ یہ تھا کہ وہ ہمارے قریبی عزیز بھی تھے اور ان کے برے دنوں میں ابا نے ان پر بڑی مہربانیاں کیں تھیں۔ کم سنی میں والدین کے انتقال کے بعد سے ان کو مقابلے کے امتحان تک ہمارے گھر میں ہی رہنے کا موقع دیا گیاتھا۔چند ماہ کے لیے وہ ایک کالج میں لیکچرر ہونے کے باوجود   جس طرح بچپن سے ہمارے ہاں ہی رہتے تھے۔ سچ پوچھو تو ثمر کی بہن سے ان کی شادی میں ابا کی ہی ضد نے کام دکھایا تھا ورنہ ثمر کے والدین کو ان کے گھرانے پر اہل سادات نہ ہونے پر کافی اعتراض تھا ۔
پیوما اور میں ان دنوں پاکستان تھے۔یہ وہی صبحیں  ہیں جن کا ذکر آپ نے کہانی کے آغاز میں پڑھا ہے۔پیوما یہاں پاکستان میں بھی آن کر دو تین دن کے لیے اپنا رول آن بیگ لے کر غائب ہوجاتی تھی۔میں اس وقت تو اندازہ نہ لگا پایا مگر اس کی غیر حاضری کے دوران یا فوراً بعد کوئی نہ کوئی دہشت گردی کی واردات ضرور ہوتی جس کی تفصیلات وہ بہت دل جمعی سے اپنے کمپیوٹرمیں فیڈ کرتی۔اس کے کمپیوٹر میں یہ سب تفصیلات then came a spider والی ہیڈنگ میں درج ہوتی تھیں۔اس کا احوال بھی آگے  ہے ۔
پیوما کو ایسے ہی ایک دورے پر روانہ ہونے سے پہلے بیک وقت دو تکالیف نے گھیر لیا۔ایک تو دانت میں درد کی ۔جسے اس نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ جہاں جارہی ہے وہاں سے علاج کرالے گی۔ دوسری تکلیف یہ تھی کہ اس کے لیپ ٹاپ نے دھوکا دے دیا۔بجلی کا کرنٹ اوپر نیچے ہونے سے کچھ ایسا ہوا کہ ہارڈ ڈسک بری طرح سے گرم ہوئی جس سے ڈیٹا کرپٹ ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا۔کوئی اور  موقع ہوتا تو شاید پیوما اس کی درستگی کا خود اہتمام کرتی مگر اپنا کام چلانے کے لیے وہ میرا پرانا لیپ ٹاپ ساتھ لے گئی۔ تب تک پاکستان میں نوکیا 3310 بہت دھانسو فون سمجھا جاتا تھا۔ایپل اور دوسری کمپینوں کے فون ابھی تک مارکیٹ میں نہ آئے تھے۔انٹرنیٹ نے اپنا دائرہ کار فونز تک نہ  بڑھایا تھا۔ پیوما اپنا لیپ ٹاپ چھوڑ گئی۔میں نے بھی ڈرا دیا کہ ہارڈ ڈسک اگر گرم ہوجائے تو اسے ٹھیک کرناہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔

نوکیا 3310

جاتے وقت جلد ی میں پیوما مجھے کہہ گئی کہ میں اس کی آمد تک یہ لیپ ٹاپ اور ڈسک ٹھیک کرالوں۔ڈسک ٹھیک کرانے میں دیر نہ لگی۔رات گئے تنہائی کا عالم تھا۔میں اس کے کمپیوٹر سے کھلواڑ کر رہا تھا تب مجھ پر یہ بھیانک انکشاف ہوا کہ سعدی کو مارنے کے منصوبے میں پیومااگر برابر کی شریک نہ تھی تو روحی کو اس رات سعدی کے اپنے پاس سے رخصت ہونے کی اطلاع پیوما نے ہی دی تھی۔ اس کی ایک ڈیجیٹل ڈائری تھی۔سعدی کو مارنے کے فیصلے سے پہلے پیوما نے روحی اورگیلانی کو  سعدی کو مارنے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔
وہ تنکا جس نے اونٹ کی کمر توڑی وہ بظاہر ایسے ایک مذہبی رہنما کی ہلاکت تھی جس کی ٹارگٹ کلنگ کا سارا شبہ فوراً ہی ان کی مخالف مذہبی جماعت پر گیا تھا ۔میڈیا میں بھی اس حوالے  سے خصوصی زاویوں کو جو اسی نوعیت کے مخالفین کی طرف اشارہ کرتے تھے اجاگر کیا۔حقیقت یہ ہے کہ ا س ہٹ ٹیم کی پشت پر سعدی کا ادارہ تھا۔یہ رہنما اس بہت بڑے غیر ملکی نیٹ ورک کا اہم رکن تھا جس کے آستانے پر کنفیوژن اور افراتفری پھیلانے والے تمام عناصر تحلیل اختلافات، تقسیم مالیات اورترویح اہداف کے لیے جمع ہوتے تھے۔
سعدی کی ہلاکت کا منصوبہ اعلی الصبح کا تھا۔ سعدی کو پیوما کے گھر ہی زہر دیا گیا۔وہ اسے یہ بتانے گیا تھا کہ اس کے مہرین سے ازدواجی تعلقات بحال ہونے کو ہیں۔ مہرین معترض ہے کہ وہ اس سے تعلق کو یوں ہی جاری رکھے ۔ یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔پارٹی از اوور۔
کمپیوٹر کی ڈائری میں درج معلومات کو سامنے رکھوں تو سعدی کو راستے کی رکاوٹ ایک عرصے سے  سمجھا جارہا تھا۔پیوما سے تعلقات ہر مرتبہ اس کو مارنے کے منصوبوں کے آڑے آتے تھے۔ان منصوبوں میں شدت اس وقت آئی جب کالو گومبھا کے ذریعے ’’را ‘‘ والوں کو سعدی کی تصویریں اور کچھ لڑکوں سے ملاقات کا علم ہوا ۔وہ واچ کرتے رہے کہ جس کاروباری سیٹ اپ کا خواب پیوما نے کالو گومبھا کو دکھایا ہے اس کی کوئی شاخ پاکستان میں بھی قائم ہوتی ہے کہ نہیں مگر جب سعدی کی واپسی پر اہم کارکنان کی ہلاکتوں اور گرفتاریوں کی فصل کٹنا شروع ہوئی تو انہیں لگا کہ کالو گومبھا کو بے وقوف بنایا گیا۔پہلے کالو کو انہوں نے وہاںdrive by shooting میں مارا اور پھر سعدی کو یہاں پاکستان میں ٹپکانے کا منصوبہ بنا۔پیوما کو انہوں نے کیوں معاف رکھا شاید اس لیے کہ وہ کسی امریکی پرائیوٹ کنٹریکٹر فرم کی ملازم تھی جیسا بعد میں پاکستانی عوام کو ریمنڈ ڈیوس کی صورت میں دکھائی دیا۔
اس رات گیلانی کی دعوت پر سعدی ان کے گھر گیا تھا۔روحی بھی وہاں موجود نہ تھی۔ وہ سن سیٹ بلوارڈ کے قریب ہی ایک گلی میں واقع ایک گھر میں اپنی ہٹ ٹیم کے ساتھ موجود تھی۔
میرے لیے یہ بات آج بھی راز ہے کہ زہر دینے کا علم   پیوما کو تھا یا نہیں۔پیوما میٹھی اشیا سے مکمل گریز کرتی تھی۔سوائے آم اور بیر کے۔سعدی ہر طرح کے میٹھے کا دیوانہ تھا۔ شاید ایسی ہی کوئی ڈش ہوگی جس میں زہر ملایا گیا ہوگا۔
پیوما ہی نے اسے میرے فلیٹ سے پک کیا تھا اور رات گئے وہی ا اسے گھانگرو کے دوست کے گھر چھوڑ کر آئی تھی ۔واپسی پر جو ٹیم اسے اور پاؤر کرنے ایک ہلاکت آمیز انجکشن دے کر اس کی لاش پنکھے سے لٹکانے کے لیے گئی تھی وہ گیلانی کی اطلاع پر روحی کی سربراہی میں روانہ ہوئی۔خاتون کا ر میں بیٹھی ہو تو تلاشی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ان دنوں پولیس کے ناکے جابجا دکھائی دیتے تھے مگر روحی کو سامنے کی نشست پر بیٹھا دیکھ کر اور سوزوکی کئیری پر پریس کا پرچہ دیکھ کر پولیس والے ڈر سے گئے۔ یوں بھی سیاسی  تنظیموں نے اپنے لڑکے پولیس میں اس قدر کثرت سے بھرتی کردیئے تھے کہ پولیس موبائیلوں کے ناکے بے اثر ہوگئے تھے ۔ٹیم میں احتیاطاً انہوں نے دو لڑکیاں اور بٹھائی ہوئی تھیں جب کہ  اسلحہ بھی سیٹ کے نیچے رکھا تھا۔اصلی زور آور کچھ آگے کچھ پیچھے دو عدد موٹر سائیکلوں پر چل رہے تھے۔سوزوکی کئیری ان میں سے سامان کا ایک تھیلا اور دو عدد لڑکے اتار کے ڈیفنس مارکیٹ پہنچ گئی۔
اس ڈائیر ی میں روحی پیوما کے حوالے سے ایک مکالمہ بہت دل چسپ تھا جس میں روحی نے اسے سمجھایا تھا کہ محبت ابتدائی ایام میں بلی کے نوزائیدہ بچوں کی طرح بینائی کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہے مگر بعد میں یہ صلاحیت ایسی بیدار ہوتی ہے کہ اندھیرے میں بھی سب صاف دکھائی دیتا ہے۔پیوما کے ہینڈلرز مختلف تھے انہیں سعدی کی ہلاکت میں کوئی دل چسپی نہ تھی۔ جب کہ روحی کو اس کام کے لیے خصوصی طور پر دوبئی سے بھیجا گیا تھا۔
میں نے اس ڈیٹا کا بیک اپ دو عدد USB میں حفاظت سے منتقل کیا۔اگلی صبح گھانگرو کے دفتر کے Secure فون سے شجاعت بھائی کو فون کیا تو وہ لاہور سے چل پڑے۔ایک ٹیم اسلام آباد سے بھی روانہ ہوئی۔بلوچ کالونی کے پاس جو ایک مشہور رہائشی کالونی ہے وہاں ہم سب جمع ہوئے۔یو ایس بی کو ایک presentation کی صورت میں روحی، سفیان، پیوما کی تصاویر کے ساتھ ڈھال کر اس ٹیم کے سربراہان کو دکھایا گیا۔
اسلام آباد سے فیصلہ آنے میں پورے پندرہ دن لگے۔شجاعت بھائی کو یہ بدگمانی تھی کہ میرا پیوما سے لگاؤ اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ ہوگا شاید ایسا ہی کچھ دوستوں کے گرویدہ روحی کے نئے عاشق ثمر کے بارے میں بھی سوچا گیا ۔یہ ان کی غلطی تھی۔ثمر نے ہی انہیں روحی کے دوبئی آنے جانے کے پروگرام سے آگاہ کیا تو اس کے پیچھے پیچھے ایک ٹیم یہاں سے چل پڑی۔واپسی پر اسی ٹیم نے روحی کو تو بلاتکلف اغوا کیا ۔وہ دوبئی سے واپس آئی  تھی اور ائیرپورٹ سے جس ٹیکسی میں گھر آنے کے لیے روانہ ہوئی وہ ڈیفنس کی بجائے ملیر کی طرف ایسی مڑی کہ ٹیکسی اور مسافر دونوں کی خبر ہی نہ ملی۔
پیوما کو مارنے کا فیصلہ ذرا گھمبیر تھا۔پیوما دورے سے واپس آئی تو کہنے لگی یار وہاں ملتان میں مجھے کوئی ایسا ڈاکٹر نہ ملا جو قابل بھروسہ ہو۔ڈینٹسٹ نے پین کلر دے کر آرام تو دے دیا مگر روٹ کینال پر میرا دل راضی نہ ہوا میں نے اسے یہاں کراچی میں دو ایک مشہور ڈینٹسٹ دوستوں کا حوالہ دیا ۔کام کو ذرا مشکل بنایا گیا۔گھانگرو کی سفارش کے ذریعے ایک جاننے والے بڑے ڈاکٹر صاحب سے معاملہ طے ہوا۔گھانگھرو ،سعدی کی موت کے بعد اپنے طور پر اس کے قاتلوں کی تلاش میں رہتا تھا۔اسے یہ خیال مارے ڈالتا تھا کہ اس کی موت میں ادارے کی اندرونی لیکج کا ہاتھ تھا۔ اسے پیوما کے کمپیوٹر اور سعدی کی ساؤتھ افریقہ کی کاروائیوں کا علم نہ تھا۔
میرا کام یہ تھا کہ میں ڈینٹسٹ صاحب کو گھانگرو صاحب کے گوٹھائی (سندھی میں گاؤں  والے )نائب نور محمد کوزہر کا وہ وائل (VILE) فراہم کروں جو وہ پین کلر کے ساتھ انجکشن میں بھر کر دو مرتبہ ڈاکٹر صاحب کو دے گا۔۔Castor Bean جسے ہم .اریٹھا کہتے ہیں اور جس سے امی جان بال دھویا کرتی تھیں. اس سے جب تیل نکل جاتا ہے تو اس میں ایک سفید مواد باقی رہ جاتا ہے۔اس کو کیمکل طریقے سے refine کرکے ایک زہر بناتے ہیں جسے Ricin کہتے ہیں۔اس کا نہ رنگ ہوتا ہے نہ کوئی نمایاں ذائقہ۔اسے یا تو سوئی کے ذریعے یا inhalation کے طریقے سے مطلوبہ شخص کے بدن میں داخل کرتے ہیں۔ingestion یعنی سوئی سے نسوں میں داخل ہونا زیادہ مہلک ہوتا ہے۔اس کے اثرات چار گھنٹے میں نمایاں ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔جگر اور گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔سینہ جکڑا  جاتا ہے۔ شدید کھانسی سے پھیپھڑوں میں بے تحاشا درد ہونے لگتا ہے۔

ری سین کا زہر
ری سین کا زہر

نور محمد دانتوں کے اس ڈاکٹر صاحب کا اسسٹنٹ تھا۔ اس کو گھانگرو صاحب ہی گاؤں سے لائے تھے اور ڈاکٹر صاحب کے پاس انہوں نے ہی ملازم رکھوایا تھا۔اسے بتایا گیا کہ یہ باہر کی دوائی ہے۔ سرنج میں دو دفعہ بھرنی ہے ۔ڈاکٹر صاحب کو اس کا بالکل نہیں بتانا۔استعمال کے بعد اس کی خالی بوتل وہ مجھے چپ چاپ دے گا۔ پہلی بڑی ڈوز (Dose)وہ اس وقت سرنج میں بھر کردے گا جب ڈاکٹر صاحب فون سننے باہر جائیں گے اس کا اہتمام کچھ یوں تھا کہ انہیں کمرے سے باہر لانے کے لیے میں گھانگرو کو مس کال کروں گا۔وہ جواباً ڈاکٹر صاحب کو پارت رکھنے( سندھی میں خیال رکھنا) کا فون کریں گے ۔ اسی دوران وہ خالی بوتل دی جائے گی ۔جسے میں نے کلینک سے کہیں دور دو تلوار کے پاس پھینک دینا ہے۔ Georgi Markov بلغاریہ کا ایک نامور مصنف تھا۔اسے مبینہ طور پر کے جی بی نے اس زہر سے مارا تھا۔چھتری کے نوکیلے کنارے جس میں ricin بھرا تھا بظاہر حادثاتی  طور پر لندن میں واٹر لو برج کے اوپر گھونپ کر مارا گیا تھا۔

دو تلوار،کراچی
جارجی مارکو کا قتل اور وہ چھتری
جارجی مارکو کا قتل اور وہ چھتری

اندرون سندھ سے برآمد شدہ نور محمد کا ذہن اس سے آگے کام کرنے سے قاصر تھا۔وہاں پہنچتے ہی پانچ سو روپے کا ایک نوٹ جب میں نے پیوما کے سامنے اسے دیا تو وہ کہنے لگی تم بھی نا ہر جگہ لوگوں کی عادتیں خراب کرتے ہو۔اس کی اب ہر ایک مریض سے یہی آس ہوگی۔
قتل کی سازش میں یہ قلیل معاوضہ   ہی تھا جس نے پیوما کی ہلاکت کا دروازہ کھولا۔سب کچھ ایسے ہی ہوا۔ڈینٹسٹ صاحب گھانگرو کا فون سننے باہر آئے۔میں نے اندر جاکر خاموشی سے نور محمد کو بوتل دی ۔خالی بوتل سرنج میں بھرنے کے بعد واپس لی اور پیوما کی روٹ کنال سرجری کے بعد اسے کمر میں ہاتھ ڈالے گھر لے آیا۔
اب میں یاد کروں تو ایک تو این ہائم۔ کیلی فورنیا میں برسات میں بھیگتے ہوئے عکس دیکھتے دیکھتے اس سے بوس کنار بہت یاد آتا ہے اور بارہا اس کا اٹھلا کر تم بھی نا کہنا۔ڈاکٹر صاحب کے ہاں سے نکل کر گھر آئے تو وہاں کچھ دیر بعد اس کی طبیعت بگڑنے لگی۔وہیں سے میں اسے خالہ امی کی طرف لے گیاطبیعت خراب ہوئی ۔کہنے لگی آیت اللہ لگتا ہے میرے اندر کوئی آگ سی لگی ہے ۔ کوئی دوائی لڑگئی ہے ۔میں نے جھوٹ موٹ کہا بھی کہ چلو تو ہسپتال لے جاؤں وہ کہنے لگی نہیں صبح تک دیکھتے ہیں۔پہلی دفعہ اس نے میری ہی تجویز پر آئس کریم کھانے پر رضامندی ظاہر کی کہ  جس میں مزید رسین شامل تھا۔ رات کے اسی پہر جب سعدی کو انجکشن دے کر زہر دیا گیا ہوگا میں نے حب الوطنی اور جذبہء انتقام کے ملے جلے جذبات سے اس کے منہ  پر تکیہ رکھ کر اس کی رہی سہی سانسوں کا سلسلہ بھی منقطع کردیا!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *