شیخ رشید بتائیں وہ ارب پتی کیسے بنے؟ رانا ثنا

مسلم لیگ کے رہنما رانا ثنا اللہ نے شیخ رشید کو شیطان قرار دیتے ہوئے انہیں طبی معائنے کا مشورہ بھی دیدیا، ان کا کہنا تھا کہ ایسے شخص کی موجودگی معزز ایوان کی توہین ہے، وزیر ریلوے بتائیں ارب پتی کیسے بنے؟ اسپیکر قومی اسمبلی سے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوانے کا مطالبہ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے سینیٹر مشاہد اللہ خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا میرے ریفرنس کی وجہ سے شیخ رشید اندر سے جلا ہوا ہے، ہم شیخ رشید سے جواب لیں گے، پنڈی کا شیطان، جہلم کا ڈبو تلخیاں بڑھاتے ہیں۔ سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے کہا کہ شیخ رشید کے پاس دو ارب روپے کی جائیداد ہے ، اس کے ثبوت حاصل کرلئے ہیں، شیخ رشید نے لوگوں کے پیسے دینے ہیں، لوگ ان سے رابطہ کر رہے ہیں کہ وہ شیخ رشید سے متعلق بیان حلفی دینے کو تیار ہیں۔ رانا ثنا اللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ شیخ رشید کیخلاف 3 ارکان پارلیمنٹ نے نااہلی کی درخواست دی ہے، شیخ رشید کیخلاف اسپیکر قومی اسمبلی کو ریفرنس دائر کیا، 1985 سے پہلے شیخ رشید کے والد کا گھر 4  مرلے کا تھا، شیخ رشید بتائیں ارب پتی کیسے بنے؟ آج دو ارب کی پراپرٹی کے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔  رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ مہمند ڈیم کیس میں یہ سارے ہی جیل میں ہوں گے، کوئی بھی افسر کسی کاغذ پر دستخط کے لیے تیار نہیں ہے۔ شیخ رشید نے شہباز شریف پر بے بنیاد الزام لگائے، شہباز شریف نے دیانت داری سے پنجاب کے عوام کی خدمت کی، شہباز شریف کیخلاف ایک روپے کرپشن ثابت نہیں ہوئی، شہباز شریف نے ملک سے اندھیروں کو ختم کیا، آشیانہ ہائوسنگ اتھارٹی میں 3 ماہ تک کچھ نہیں نکلا۔ رانا ثنا اللہ کا مزید وزیر ریلوے کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تم ہو کیا؟ ہم نے تو جمہوریت کے لیے ماریں کھائیں، تم سات دفعہ نوازشریف کے ووٹ پر منتخب ہوئے، جب وقت آیا تو تم چوہے کی طرح چھپ گئے تھے، اب تم پی ٹی آئی کے ووٹوں سے منتخب ہوئے، آزاد حیثیت سے تم کونسلر بھی منتخب نہیں ہوسکتے۔ رہنما ٟنٞ لیگ رانا ثنا اللہ نے کہا شیخ رشید نے بھتیجے اور بھائیوں کے نام پر کاروبار کیا، 1995میں شیخ رشید نے اسحاق ڈار سے 5 ہزار پائونڈ لئے، رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو سمجھ نہیں کونسی بات کرنی ہے، وزیراعظم کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ سندھ کی چیخیں نکل رہی ہیں، چیئرمین نیب کا جواب مل گیا ہے، اگلے ہفتے چیئرمین نیب سے ملاقات ہوگی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *