شاعری سے توبہ اور ہمارا دیوان۔۔۔۔۔ممتاز علی بخاری

بھلے وقتوں کی بات ہے کہ راقم بھی شعر و شاعری کرتا تھا۔ عروض سے شناسائی نہ اس وقت تھی نہ آج ہے۔۔۔۔ کچھ عرصے میں ہی اندازہ ہو گیا کہ ہم اس میدان کےکھلاڑی نہیں۔ بس پھر کیا تھا شاعری سے توبہ کی اور نثر کو پیارے ہو گئے۔۔۔۔کیونکہ “تیرے آزاد بندوں” کو یہی دنیا راس آتی ہے جہاں نہ وزن کی پریشانی نہ بحر کا غم۔۔۔۔۔بس لکھتے جائیں۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہماری شاعری سے نئی نئی علیحدگی ہوئی تھی۔ جب جدائی تازہ ہو تو دکھ زیادہ گہرا اورصدمہ شدید ہوتا ہے۔ ان دنوںہم سے ملنے میرے ایک دوست آئے (نام اور چہرہ اب یاد نہیں) ۔ ادب کے حوالے سے گپ شپ ہوئی۔ فرمانے لگے: بھئی شاعری اچھی کرتے ہو۔ ہم نے عرض کی: کہاں حضرت! ہم نے تو شاعری کے راستے پر بے ڈھنگی چال چلنے سے بہتر یہ سمجھا کہ راستہ ہی بدل لیں۔ اب ہم اُس کشتی کے سوار نہیں ہیں۔ کہنے لگے ذرا اپنا دیوان دکھائیں تو؟ ہم گئے اور الماری سے اپنا دیوان نکال لائے ۔ اس وقت ہمیں وہ دیوان متروکہ محبوبہ کے خطوط کا سا لگ رہا تھا۔ ہم نے اپنے دوست کے حوالے کر کے ہاتھ اس طرح جھاڑے جیسے کوئی ممنوعہ شے سے ہاتھ گندے ہونے کا اندیشہ ہو۔

خیر انہوں نے دیوانے کے دیوان پر ایک سرسری نظر ڈالی اور پھر ہمارے ساتھ حالاتِ حاضرہ پر گفت و شنید کرنے لگے۔ جاتے وقت ہمارا دیوان یہ کہہ کر لے گئے کہ میں اسے پڑھوں گا اور ایک ہفتے مین واپسی ہو گی۔ مجھے کافی اچھا لگا ہے۔ ہم تو بخوبی جانتے تھے کہ کتنے پانی میں تھے۔ خیر ہم نے انہیں دیوان لے جانے کی اجازت دے دی اورعرض کی بیشک مہینے بعد واپس کرنا۔ وہ دن اور آج کا دن۔۔۔۔۔اس دیوان کی کوئی خبر ہے نہ دوست کی!!!! اگر وہ دوست یہ تحریر پڑھ رہے ہوں تو ان سے عرض ہے کہ وہ دیوان چاہے واپس نہ کریں لیکن ایک مہربانی ضرور کریں وہ یہ کہ وہ کلام کسی بھی فورم پر ہمارے نام سے پیش مت کیجیے گا۔ کیونکہ برا شاعر کہلائے جانے سے غیر شاعر کہلایا جانا بہتر ہے۔ وہ چاہے اسے اپنے نام سے شائع کروا لیں ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوگا۔

ممتاز علی بخاری
ممتاز علی بخاری
موصوف جامعہ کشمیر سے ارضیات میں ایم فل کر چکے ہیں۔ ادب سے خاصا شغف رکھتے ہیں۔ عرصہ دس سال سےطنز و مزاح، افسانہ نگاری اور کالم نگاری کرتےہیں۔ طنز و مزاح پر مشتمل کتاب خیالی پلاؤ جلد ہی شائع ہونے جا رہی ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی سازش کو بے نقاب کرتی ایک تحقیقاتی کتاب" عصمت رسول پر حملے" شائع ہو چکی ہے۔ بچوں کے ادب سے بھی وابستہ رہے ہیں ۔ مختلف اوقات میں بچوں کے دو مجلے سحر اور چراغ بھی ان کے زیر ادارت شائع ہوئےہیں۔ آج کل ایک آن لائن میگزین رنگ برنگ کےچیف ایڈیٹر ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *