مکڑی صفت۔مریم ڈار کا افسانہ/تبصرہ محمد اقبال دیوان

اردو ادب کا ایک مسئلہ ہے۔اس کے نقاد اور ہمارے جیسے معمولی صلاحیت کے لکھاری Horror- Fiction کو اتنے بہتر انداز میں بیان نہیں کرسکتے جتنے بڑے شہرو ں کا فراڈی عامل اور جنات کے زیر اثر ان کے زیر علاج پابند صوم و صلوۃ اور خود کو عالیہ بھٹ سمجھنے والی لڑکیاں بیان کرلیتی ہیں۔
آپ تو جانتے ہی ہیں یہ ادب کی وہ صنف ہے جو نری speculative یعنی قیاس پر مبنی ہوتی ہے۔اس میں آپ کو خوف زدہ ،معتجب ( startle)کرنے کے ارادے کے  ساتھ کراہت ( disgust ) پیدا کرنے کا امکان بھی موجود ہوتا ہے۔ ۔ارے رکیے تو ۔۔یہ شناختی علامات تو غیر متوقع طور پر حاملہ ہونے میں بھی پائی جاتی ہیں   ۔ کسی اور کا کیا ذکر کریں۔ ہماری اپنی ایک کہانی پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ کی ہیروئین ماہم جب دوسری دفعہ ماں بننے والی ہوتی ہے تو اسے اردو اخبار سے ویسے ہی ابکائی بساند آتی ہے جو سڑی ہوئی باسی مچھلی سے آتی ہے۔اردو اخبارات کے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ اس بدبو میں کتنی بھیانک سچائی پوشیدہ ہے۔
ادیب کی خوبی یہ ہے کہ وہ  رائی کا ایک چھوٹا موٹا پہاڑ بنانے میں کامیاب ہوجائے  ۔ وہ پہاڑ جس پر قاری کا تخیئل موسم گرما کی چھٹیاں گزارنے چلا جائے اور کہانی کے کردار اس کے دماغ اور لحاف  کا   وہی حشر کریں جو مری کے ہوٹل والے وہاں قطرہ قطرہ رقم جمع کرکے آنے والے اردو میڈیم سیاحوں کا کرتے ہیں،دے مار ساڑھے چار،اب مت آنا بھوتنی کے بھول کے بھی مری ۔

آئیں پہلے مریم کے اس افسانے میں رائی ڈھونڈتے ہیں۔ہمیں لگتا ہے کہ مریم کو اپنے ساتھ اپنے سے لگاؤ کا روگ پالنے  والوں کو مختلف انداز میں نفسیاتی جھٹکے دے کر ان کے stress hormones ۔کی کھچڑی بنانے میں مزہ آتا ہے۔ یہ تعارف کے جرمانے کی پہلی قسط ہے جو آپ کو ادا کرنی پڑتی ہے۔آپ اگر ٹینڈولکر ہیں تو مریم جو شعیب اختر والا باؤنسر ذرا پیچھے ہٹ کر  باؤنڈری سے باہر پھینک دیں گی ۔آپ اگر کامران اکمل حفیظ اظہر علی جیسے پیر بھاری پورے دنوں والے اوپنرز میں ہیں جن کے کولہے پچ سے باہر لٹک رہے ہوتے ہیں   تو پھر ہیلمٹ اچھا پہن کر پچ پر جائیں کیوں کہ بال اگر سر پر لگی تو امکان ہے کہ طبیعت بحال ہونے پر بینائی دس فیصد سے کم رہ جائے گی اور  اپنی کزن، سسٹر ذاتی ،بیوی بھی پریانکا چوپڑا لگنے گی

tripako tours pakistan
ممصنفہ،مریم مجید ڈار

ہمیں احساس ہوا کہ مکڑی صفت میں مریم نے پے در پے باؤنسر مارے۔پہلا تو یہ کہ انہیں مکڑیوں سے رغبت ہے انگریزی میں اسےArachnophilia کہتے ہیں۔سوچیں جس ملک کا وزیر اعظم چھپکلی دیکھ کر بستر سے کود کے باہر بھاگ جائے وہاں کسی بن بیاہی لڑکی کا اس طرح کی رغبت کا اشارہ ہی دراصل قرب قیامت کی نشانی نہیں تو پھر اور کیا ہے نہ ہوۓ آج کل دل پکڑ کے لیٹے ہوۓ سیدنا طارق جمیل یا ڈاکٹر شاہد مسعود کہ جس قاتل کا ہات تھام کر جیتے تھے اسی قاتل نے گردن میں ہات ڈال دیا۔ایک کے تقریر اور دوسرے کے ہروگرا۔ میں شسمل ہوکر یہ اینڈ آف دی ٹائم کے نصاب میں شامل ہوگیا ہو ۔۔
مریم چونکہ ایک وسیع المطالعہ طالب علم ہیں جو مرکز ذات سے ہٹ کر نہ صرف جینے کا مزہ لے سکتی ہیں بلکہ خود سے پرے رہنے میں اپنے پڑوس ہی میں ایک ایسا Space پیدا کرتی ہیں جس میں خلاف معمول خیالات کی گنجائش بہت ہوتی ہے ۔مین ہیٹن نیویارک جیسی جگہوں پر لکھنے میں دشواری کہاں سے آتی ہے؟بڑے شہر ہاتھی کی طرح ہوتے ہیں اور سب قاری اگر اس شہر میں نہ رہتے ہوں تو وہ ایک نابینا گروپ ہوتے ہیں جنہیں پہلی دفعہ ہاتھی  کو چھوکر انگریزی والا فیل کرنے کا موقع ملا ۔یوں سب کا بیانیہ بہت مختلف تھا۔ اپنی حد تک درست بھی۔
اس میں کوئی مضائقہ نہیں اگر گبرئیل گارشیا مارکیز تنہائی کے سو برس ۔ابوالفضل صدیقی اپنے افسانے کی  ہر بستی اور ہم اپنی کہانی کی   ہر ہیروئین سے تو تڑاق کی حد تک آشنا تھے تو اس کے  عین مقابل گاڈ فادر والے ماریو پوزو کی ملاقات کسی مافیا والے سے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ساحر لدھیانوی نے تاج محل پر معرکۃ الآرا نظم لکھنے کے باوجود مجال ہے جو کبھی آگرے میں قدم رکھا ہو۔ممتاز محل پر کوئی بری نظر ڈالی ہو۔تاج محل کی تعمیر کے اخراجات نے مغلوں کی اکانومی کا جو اسحق ڈار والا حشر کیا اس کے بارے میں دم بھر رک کر بھی سوچا ہو۔

100 years of solitude
mario puzo
god father

سو نیویارک میں ہمارے محلے مین ہٹن کے بیان کی جو کمزوریاں ہیں وہ مرتبان کے تذکرے اور فرینک کے کردار میں تو نبھ جاتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں مگر جیمز اور مکڑیوں کے حوالے سےc Hobbyist Arachnophili کے اعتبار سے ذرا کم کم لگتی ہیں۔

مکڑیوں پر پہلی دفعہ ہمیں اس وقت غصہ آیا جب انہوں نے ہماری پسند کیMiss Muffet جو سولہیویں صدی کے مشہور انگریز ماہر حشرات Dr Thomas Muffet, کی صاحبزادی تھیں ڈرادیا۔
ہمیں یہ nursery rhyme. ہماری دوست اور سینئر کولیگ مہتاب راشدی صاحبہ کی بہن عزیزہ چنا نے پڑھائی تھی۔

نظم کچھ یوں تھی147Little Miss Muffet۔۔ چھوٹی سی باجی مفیٹ
Sat on a tuffet, ۔۔۔۔۔ایک اسٹول پر بیٹھی تھیں
Eating her curds and whey;۔۔۔اپنی ملائی اور چھاچھ کے مزے لوٹتی تھیں
There came a great spider,۔۔کم بخت کہیں سے ایک بڑی سی مکڑی آگئی
Who sat down beside her,۔۔بلا تکلف اس کے پاس آکر بیٹھ گئی
And frightened Miss Muffet away۔۔چھوٹی سی باجی مفیٹ اس وجہ سے ڈر کے دوڑ گئی۔

Advertisements
merkit.pk

اگلے دن یامین اور شاہد نے ایک مکڑی لاکر مس کی میز پر رکھ دی جیسے ہی مس نے دراز کھولی مکڑی نے چھلانگ لگائی مس بھی اپنی beige wوائل کی ساڑھی سمیٹ کر ایسے دوڑیں جیسے پیچھے سونامی آرہا ہو ۔مخبری ایک ہم جماعت لڑکی نے کی،ہم چونکہ ان کے دوست تھے اس لیے ہماری بھی لترول ہوئی۔ہم نے جب انہیں بتایا کہ اس حرکت کے تو ہم شریک نہ تھے تو سندھی میں کہنے لگیں بتایا کیوں نہیں غیر بتاتے ہیں تم میمن ہو کر ہمارے خلاف سازشوں کی خبر نہیں دیتے ۔تب پہلی دفعہ ہماری سمجھ میں آیا کہ قائد ہی نہیں ٹیچر کا بھی جو غدار ہے وہ لترول کا حق دار ہے۔
مریم کا ڈکشن اچھا ہے مگر مکڑی صفت کو انہوں نے رپورٹ کے انداز میں لکھا جس کی وجہ سے کہانی کی اثر انگیزی کچھ ماند پڑگئی ۔کہانی میں کیفیات کا کردار کے حوالے سے بیان بہت لازم ہے۔اس کمی کو البتہ انہوں نے ایک ہائی سسپنس کے نکتے سے خوب جوڑا ہے جب قاری کو پتہ چلتا ہے کہ لاش تو پاؤلا کے گھر میں ہی کہیں پڑی ہے۔
ہم مریم کو اس کے فل مارکس دیتے ہیں کہ انہوں نے ایک ایسی صنف اور موضوع کو اپنایا ہے جو انگریزی میں تو قدم قدم پر موجود ہے مگر ارود میں یہ اب بہت کم یاب ہے۔ہماری ان سے استدعا ہے کہ وہ اس حوالے سے ڈریکولا کو انگریز ی میں ضرور پڑھیں۔Horror fiction میں لفظوں کے ذریعے قائم ہونے والے تاثر کی وہی اہمیت ہے جو اس طرح کی فلموں میں لائٹ اور میوزک کی ہوتی   ہے،انگریزی کی تین کتب جو صرف مکڑیوں کا horror fiction `ہیں ان کی تصویریں ہم نے ٹانگ دی ہیں۔

tuffet
marquez

elite-daily-lisa-donovan-spider-face-YouTube

 

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply