مقتدرہ کیسے کھیلتی ہے۔۔۔۔۔طارق احمد

مقتدرہ کے کھیل تماشے اور پراسرا طریقے سمجھنے کے لیے لمحہ موجود اور تاریخ میں سے کچھ حوالے دینا ھوں گے۔ ممکن ھے کہ آپ کے دل میں اتر جائے میری بات۔
1۔ اصغر خان کیس میں ایف آئی  اے کا وزیر اعظم اور وزیر داخلہ عمران خان کو بتائے بغیر سپریم کورٹ میں کیس بند کرنے کی درخواست ۔ وجہ آپ جانتے ھیں ۔
2۔ وزیر اعظم عمران خان کی شدید مخالفت کے باوجود شہباز شریف کا شاہ محمود قریشی کے اعلان کے مطابق پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چئیرمین بننا۔ وجہ سمجھنے کی کوشش کریں ۔
3۔ حکومتی معاشی ترجمان فرخ سلیم کی اپنی ھی حکومت کے خلاف چارج شیٹ ، وجہ جاننی مشکل نہیں ۔
4۔ بقول وزیر اعظم عمران خان اسٹیٹ بنک نے ھم سے پوچھے یا بتائے بغیر روپے کی قیمت میں کمی کی۔ سوال یہ کہ کیوں ؟ اور کس نے کہا ؟
4۔ عمران خان کے وزیراعظم بنتے ہی بھارت ، فرانس اور امریکہ کو لے کر شاہ محمود قریشی کے ھاتھوں سبکی کروائی  گئی ۔
5۔ شاہ محمود قریشی کا کرتار سنگھ بارڈر کھولنے کے حوالے سے عمران خان کی گگلی والا بیان
6۔ وزیراعظم عمران خان کے وعدے کے باوجود صوبہ ساوتھ پنجاب کا نہ بننا۔
7۔ فاٹا کا کے پی کے کا حصہ نہ بننا ۔
8۔ وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے باوجود گورنر ھاوس کی دیواروں کا نہ گرایا جانا ۔
9۔ سندھ حکومت گرانے کے اعلان کے بعد فرار
10۔ پنجاب کے وزیر اعلی کی نامزدگی
11۔ ساٹھ فیصد وفاقی کابینہ کی نامزدگی
12۔ یاد رکھیں ۔ میڈیا میں نوازشریف کی مخالفت کرنے والے تین طرح کے لوگ تھے۔ وہ جو نواز شریف کو نا پسند کرتے ھیں ۔ وہ جو عمران خان کو پسند کرتے ھیں ۔ وہ جو مقتدرہ کے حمائتی ھیں ۔ لیکن عمران خان کے حمائتی بھی تھے۔ ان میں سے جو مقتدرہ کے حمائتی ھیں ۔ انہوں نے عمران حکومت بنتے ھی بوجہ عمران خان کی مخالفت شروع کر دی تھی۔ اور مخالفت کر رھے ھیں ۔ آپ ان کو جانتے ہیں ۔

13۔ گورنمنٹ سول اداروں جیسے پولیس اور انتظامیہ، فارن سروس ، نیم سول اداروں اور کارپوریشنز میں مخصوص ادارے کے افسر براہ راست شامل کر دیے جاتے ہیں ۔ پھر نوجوان ریٹائرڈ افسر سول میں بھرتی ھو جاتے ہیں ۔ پھر سینئر ریٹائرڈ افسران سول اداروں کے ھیڈ اور باس بن جاتے ھیں ۔ یہ سب حضرات ضرورت پڑنے پر سول حکومت کو بائی  پاس کر دیتے ھیں ۔ اور براہ راست اپنے اصل ادارے کے احکامات کے تحت کام کرتے ھیں ۔ خاکی و سویلین برتری کی کشمکش میں یہ سول سائیڈ کی کمزوری کا باعث بنتے ھیں ۔
14۔ اسی طرح ضرورت پڑنے پر عدلیہ ، نیب ، میڈیا ، اسٹیٹ بینک اور کسی بھی سول ادارے یا افسر کو بائی  فورس یا قومی مفاد کے نام پر استعمال کر لیا جاتا ھے۔ سول حکومت کو پتہ بھی نہیں ھوتا اور سول حکومت کی مرضی اور منشاء کے بغیر کام ھو رھا ھوتا ھے۔ اس کی بے شمار مثالیں ھیں ۔ خاص طور پر دھرنوں میں ۔
15۔ وہ سادہ ، معصوم اور مثالیت پسند افراد جو ملک میں میرٹ اور عدم مداخلت کی بنیاد پر سول اداروں کی تشکیل چاھتے ھیں ۔ اور جن کا خیال ھے۔ سول حکومت ایسا نہیں ھونے دیتی۔ ایسے حضرات بے خبر بھی ھیں ۔ کہ اصل میں ھو کیا رھا ھے ؟
16۔ اسی طرح کچھ پریشر گروپس، مولوی حضرات ،انتہا پسند اور سیاسی پارٹیاں پالی گئی ھیں ۔ پروان چڑھائ جاتی ھیں ۔ جن سے سول حکومت پر دباو ڈالنے، اپنا کام نکلوانے اور سول حکومت کو ضرورت پڑنے پر مفلوج کرنے کا کام لیا جاتا ھے۔ ستم ظریفی یہ ھے کہ سول حکومت کے ماتحت تمام ادارے ان بلیک میلر پریشر گروپس کے سہولت کار بن جاتے ھیں اور سول حکومت بے بسی سے دیکھتی رہ جاتی ھے۔ لیکن جب کوئی  پریشر گروپ ھاتھ سے نکلتا ھے۔ جیسے طالبان، جیسے خادم رضوی ، جیسے الطاف حسین، تو انہیں عبرت کی مثال بنا دیا جاتا ھے۔ یہ ایک بہترین مثال ھے۔ جس سے مقتدرہ کے طریقہ کار کو سمجھا جا سکتا ھے۔
17۔ جیسے جب جنرل کیانی نے ایکسٹینشن لینی تھی۔ تو اسلام آباد میں دھرنا کروایا گیا۔ جنرل راحیل شریف نے ایکسٹینشن لینی تھی۔ اور حکومت کو مفلوج کرکے اختیارات پر قبضہ کرنا تھا۔ اور سی پیک کے ٹھیکے حاصل کرنا تھے۔ تو ڈان لیکس اور کلبھوشن یادیو کو نکالا گیا ۔ اور دھرنے دلوائے گئے۔
18۔ جیسے جنرل مشرف سے چھٹکارا پانے کے لیے جنرل کیانی نے آزاد عدلیہ کے نام پر وکلاء تحریک چلوائی  ۔ لیکن جب پہلے افتخار محمد چوہدری اور پھر ثاقب نثار نے جوڈیشل ایکٹوزم کے نام پر آئین اور قانون سے کھلواڑ کیا تو کسی وکیل نے چوں بھی نہیں کی۔
19۔ جیسے پسند کے فنڈز نہ ملنے پر وزیراعظم نوازشریف کو نکالنے کے لیے عدلیہ ، نیب اور میڈیا کو استعمال کیا گیا۔
20۔ جیسے کارگل جنگ میں آل آوٹ شکست سے بچنے کے لیے وزیراعظم نوازشریف کو پہلے امریکہ بھیجا گیا۔ اور پھر میڈیا کے ذریعے وزیراعظم نوازشریف کے خلاف جنگ ھارنے کا پروپیگنڈہ کروایا گیا۔
اور مزے کی بات یہ ھے۔ وھی میڈیا جس نے ھمیشہ مقتدرہ کا ساتھ دیا۔ آج جب میڈیا پر ابتلاء کا دور ھے۔ سب ڈرے سہمے بیٹھے ھیں ۔
اور سیاستدانوں کی کرپشن، نااھلی اور ملک دشمنی کے حوالے سے مستقل پروپیگنڈہ مقتدرہ کا ایک مستقل آزمودہ ھتیار ھے۔ مقتدرہ کے سیاسی ، دفاعی ، مذھبی، صحافی، تعلیمی اور اداراتی مہرے ستر سال سے اس پروپیگنڈے کو چلا رھے ھیں ۔ اور لوگوں کے مائنڈ سیٹ سے کھیل رھے ھیں ۔

طارق احمد
طارق احمد
طارق احمد ماہر تعلیم اور سینیئر کالم نویس ہیں۔ آپ آجکل برطانیہ میں مقیم ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *