محاسن ۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/چوتھی ،آخری قسط

محمد اقبال دیوان  کی زیر طبع طویل کہانیوں کی چوتھی کتاب  ’’چارہ گر ہیں، بے اثر‘‘میں شامل جو اردو کے موقر ادبی جریدے سویرا کے شمارہ بابت جولائی ۲۰۱۶ میں شائع ہوچکی ہے
چار اقساط کی آخری قسط!

کھانے اور شراب کا انتظام جب اس نے شیری کو سونپا تو اس نے یہ سب کچھ بڑے احسن طریقے پر سر انجام دیا۔ مچھیروں کی بستی ابراہیم حیدری سے نہ صرف وہ بہت عمدہ جھینگوں کی بریانی اور تلی ہوئی پمفرے بنواکرلایا بلکہ بش مل کی سولہ سالہ قیمتی وہسکی کی چھ بوتلیں بھی وہ کم قیمت پر لے آیا۔یہ شراب شہر میں یوں عام دستیاب نہ تھی۔
اس شام محاسن نے اولڈ نیوی کا فیروزی رنگ کا شانے پر باندھی گئی ڈوریوں والا ہالٹر اپنی پرانی اسٹریچ سکنی جینز کے ساتھ پہنا تھا۔یہ ہالٹر کچھ پیٹ پر آکر رک گیا تھا جس سے اس کی ناف اور پورا دو انچ پیٹ بھی دکھائی دے رہا تھا۔ورزشوں کا پالا ہوا جواں جسم غسل اورباڈی شاپ کے ونیلا سپائس شمر لوشن کی چمک سے جھلملارہا تھا۔اس نے دیکھا کہ شیری کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔

بش مل وہسکی 16 سالہ
ونیلآ سپائس شمر لوشن
ہالٹر

اسے چھیڑنے کے لیے اور ڈرائیور طفیل کے بارے میں اس کے ردعمل کا جائزہ لینے کے لیے محاسن نے اسے کہا کہ وہ اسے جب پیار سے دیکھتا ہے تو طفیل خان کو بہت برا لگتا ہے۔ میں تمہیں
ایک بات بتادوں یہ تمہارے دوست طفیل خان کی نگاہیں ہر وقت مجھی پر لگی رہتی ہیں۔میں کسی مرد سے بات کروں تو اسے اچھا نہیں لگتا۔ اگر سچ پوچھو تو جو میں نے نوٹ کیا ہے اسے میرا تم سے بھی بات کرنا ناپسند ہے۔ تم جب میرے ہاں آتے ہو تو یہ بہت بے چین ہوجاتا ہے۔ کہیں یہ نہ ہو کہ وہ غصے میں آن کر ایک دن مجھ پر پستول تان لے۔ خیبر پختون خوا  کا جواں مرد ہے ہتھیار ہر وقت اپنے نیفے میں اڑسے رہتا ہے اور ایمان کا مجھے علم نہیں اور تم انچولی والے”ہم ہیں راہی پیار کے ہم سے کچھ نہ بولیے۔” گاتے رہ جاؤگے۔
شیری نے اس کی یہ بات سن کر کچھ دیر توقف کیا اور کہنے لگا “اگر ایسا ہوا تو ایک بوری اس دن خوشحال خان ایکسپریس کے ڈبے سے ملے گی جس میں گونگے پہلوان استاد طفیل خان کی لاش بند ہوگی۔”
“ہائے تم بھی اتنے وائلنٹ ہو”۔محاسن نے یہ بات سن کر اسے جتلایا۔
“صرف تیرے معاملے میں بسنتی”۔ شیری نے  شوخی میں آن کر کہا۔
محاسن نے اس سے یہ سن کر پوچھا کہ وہ اس سے کیوں پیار کرتا ہے ۔اپنی کسی ہم عمر لڑکی کو چاہے گا تو اس کو زیادہ مزہ آئے گا۔ شہر میں اس کی ہم عمر لڑکیاں آکسیجن کی طرح دستیاب ہیں۔وہ تو اس سے پورے آٹھ سال بڑی ہے۔عین اس وقت محاسن کچن میں اوپر کے شیلف سے خشک میوے کی تھیلیاں اتار رہی تھی اس نے دیکھا کہ شیری کی نگاہیں اس کی صاف شفاف بغلوں پر جمی ہوئی تھیں۔
وہ شرما کر  یہ کہہ کر ایک طرف  ہوگئی کہ میرا ہاتھ نہیں پہنچ رہا۔شیری نے جب اس کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس کے ہاتھ کی پشت محاسن کے برہنہ بازو کو چھوتی ہوئی سامان اتارنے کے لیے بلند ہوئی۔ محاسن کو اس لمس سے ایک عجیب سی گدگدی کا احساس ہوا۔وہ کھلکھلاکر ہنس پڑی۔اس کی اس ہنسی سے شیری کے حوصلوں کو کچھ جلا ملی۔اس نے ایک شعر پڑھا کہ ع
اس کی باتیں تو، پھول ہوں جیسے
باقی باتیں، ببول ہوں جیسے
“تمہارا یہ شعر تمہارے پیار پر میرے اعتراض کا جواب نہیں “۔محاسن نے اسے چھیڑا۔
“آپ کے اس اعتراض کا جواب میں دعوت کے اختتام پر جب سب چلے جائیں گے  تو  دوں گا”۔ شیری نے اسے ٹالا۔
“نہیں ابھی دو،اسی وقت یہیں پر”۔محاسن بچوں کی طرح مچل کر مطالبہ کرنے لگی۔
“ایک شرط پر کہ اس بے صبری کا جرمانہ آپ نے دینا ہوگا”۔ شیری نے بھی جواب میں ایک مطالبہ داغنے کی سوچی۔
“منظور مگر یہ جرمانہ شریفانہ ہوگا”۔محاسن نے اپنی شرط اس کے سامنے رکھی۔
“یہ سب میں آپ کے کان میں آپ کو گلے لگا کر کہوں گا”۔ شیری نے اسے ورغلایا۔
“Just an innocent hug. Nothing more. Promise me.”محاسن نے اجازت دیتے ہوئے کہا۔
شیری نے جب اسے گلے لگانے کے لیے اپنی بانہیں پھیلائیں تو وہ بہت خاموشی سے ان میں سمٹ گئی۔اس کا جواں بدن جو فرحان کے ذائقوں کا آشنا اور اب دوسال سے کچھ اوپر اس کی فرقت کی آگ میں سلگ رہا تھا۔اس کے گلے لگا تو لذتوں نے ایک امنگ بھری انگڑائی لی۔اس آغوش کی کوئی معیاد نہ تھی بس پرانی خواہشوں نے ایک ایسا خواب دکھایا تھا کہ سر تو شیری کے کاندھے پر تھا اور یاد فرحان آرہا تھا۔
یہ جو عورتیں ہوتی ہیں انہیں لمحات رفاقت میں بھی دھوبی کا حساب، ماسی کی تنخواہ،کسی دوست کی کوئی بات، کسی کی آواز اور کوئی بھولی بسری خوشبو بھی انہی  لمحات میں گھیر لیتی ہے۔جس وقت گیٹ کی گھنٹی بجی محاسن کو اتنا یاد ہے اس سے کچھ دیر پہلے اس کی گردن پرشیری کے ہونٹ کئی گرم بوسے چھوڑچکے تھے۔ فرحان کے لمس کا آشنا اس کا بدن شیری کی آغوش میں بھی مزید وحشتوں کا تمنائی تھا۔ وہ جس وقت اس سے یہ پوچھ رہا تھا کہ ” وہ وعدہ کرے کہ وہ اس کے دو راز کسی کو بیاں نہیں کرے گی” ۔ اس وقت شیری اس کے کان کی لو کو دانتوں میں دبائے دھیمے دھیمے زبان سے چھیڑ رہا تھا۔ محاسن نے جواب میں ایک ہلکی سی ” اہوں” کی تو اس نے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ ایک راز تو یہ ہے کہ وہ بہت حسین ہے اور دوسرا راز یہ کہ وہ اسے بہت پسند ہے۔محاسن نے اس کی یہ بات سن کر صرف اتنا کہا ” یو آر ویری ویلکم۔ کلر نمبر ٹو”۔
گیٹ پر سمیرہ گروپ سب کا سب ساتھ ہی آیا تھا۔ ان کے اندر آنے کا اہتمام شہر یار نے کیا، محاسن اپنے غسل خانے کے آئینے میں اپنی گردن اور کان کا جائزہ لے رہی تھی۔ کان کی ایک لو تو دوسری سے زیادہ سرخ تھی مگر اسے ہلکے سے چبائے جانے کا ہلکا سا نشان بھی کان کی لو پر نمایاں طور پر موجود تھا۔ محاسن نے جلدی سے دونوں لووں کو چھپانے کے لیے بڑے سے دو فیروزے کے ٹاپس کان میں پہن لیے،جس کی وجہ سے وہ سہیلیوں کی متجسس نگاہوں کی کھوج سے محفوظ ہوگئے۔د عوت کھانا اور شراب سب کو بہت پسند آئے ،جاتے وقت دو سہیلیاں تو دو بوتلیں ساتھ بھی لے گئیں۔سمیرہ البتہ رات اسی کے پاس ٹھہر گئی جس کی وجہ سے شہر یار کو اس سے مزید گفتگو کا موقع نہ مل پایا۔
سمیرہ کو اسکول چھوڑ کر دفتر جاتے وقت سارا راستہ محاسن یہ سوچتی رہی کہ شہر یار مرزا کے ساتھ کل شام جو کچھ ہوا کیا وہ مناسب تھا۔ گناہ اور توبہ کے درمیان ایک باریک سا پردہ ہر وقت حائل رہتا ہے۔گناہ کے ساتھ اپنے سابقہ عمل کا جواز دل کو بہلانے کے لیے ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔توبہ کا دروازہ اس وقت کھلتا ہے جب یہی دل ندامت کا احساس کرکے اس سے باز رہنے پر آمادگی کا ارادہ کرلیتا ہے۔ توبہ تو پلٹ جانے کا نام ہے۔
محاسن کو ایک خیال تو یہ تھا کہ یہ سب غلط ہوا۔ جانے اب یہ تعلق کیا رنگ لائے۔ وہ اگر شہریار کو اپنے کاموں میں استعمال کرتی تھی تو اس کا وہ ایک معقول معاوضہ بھی ادا کرتی تھی۔اس کی بڑی بہن کی شادی میں اس نے اس گھرانے کی کافی مالی امداد کی تھی۔ یہ سب کچھ کافی تھا۔اسے اس حوالے سے کسی احساس خود غرضی میں مبتلا ہونے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔
دوسرا خیال جس مخمصے میں وہ مبتلا تھی اس حوالے سے یہ تھا کہ وہ شیری سے پورے پورے آٹھ سال بڑی ہے ۔ کیا ہوا وہ اگر اس کی قربت کی تاب نہ لاکر کل شام لاکر بے چین ہوگیا تھا۔وہ تو خود پر کنٹرول کرسکتی تھی۔ فرحان کو جدا ہوئے دو برس ہوگئے تھے۔فروزاں بھی تو بالآخر اس کی ہم عمر ہے ۔ وہ بھی تو اپنی بیوگی کو نبھا رہی ہے۔ کیا اس کا بدن مرد کی قربت کا طلب گار نہ ہوگا۔ انہی  لمحات میں گنہ گار دل نے جواز پیش کیا جو اسے اچھا بھی لگا کہ وہ بھی تو فرحان سے پورے پندرہ برس چھوٹی تھی۔ اس نے یہ سب کچھ اس کے ساتھ کیوں کیا اس سے پہلے تو وہ کنواری تھی۔اس نے تو یہ ظلم بھی کیا کہ حالات کا مقابلہ کرنے اور اسے عنادل سے طلاق کی ترغیب دے کر خود ایک معمولی سے واقعہ کو بنیاد بنا کر اسے تنہا چھوڑ کر دور کہیں چلا گیا۔
فروزاں اس دن دفتر معمول سے ذرا دیر سے آئی اور آتے ہی سیدھی اس کے پاس چلی آئی۔ادھر ادھر دیکھ کر اس نے آہستہ سے بتایا کہ وہ بینک گئی تھی مگر وہاں اسے فرحان اندر داخل ہوتا دکھائی دیا تو وہ اس کا سامنا کرنے سے بچنے کے لیے اپنی بیٹی گل لالے کی ڈاکٹر کے پاس چلی گئی اور بعد میں بینک آئی تو وہ وہاں سے جا چکا تھا۔ خیر ہوئی کہ اس نے فروزاں کو وہاں داخل ہوتے وقت نہیں دیکھا۔یہ سب کچھ فروزاں کی زبانی سن کر محاسن کو لگا کہ زمین اس کے پیروں سے نکل کر کہیں دور چلی گئی ہے اور اپنی تنہائی کی خلا میں معلق ہوگئی ہے۔
اگلے دن جب وہ دفتر آنے کے لیے گاڑی سے اتر رہی تھی۔ اسے ان کا پرانا کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ نعیم دکھائی دیا ۔ وہ وقاص کے ہاں اپنی پیمنٹ لینے آیا تھا۔بات چیت کے دوران اس نے پوچھا کہ کیا وہ لوگ فرحان کو ری ہائر کریں گے۔ وہ اسے کسٹم کلیکٹر اپریزمینٹ کے دفتر کے باہر ملے تھے ۔ کلکٹر ان کا دوست ہے۔ وہ بتارہے تھے کہ وہ ابوظہبی سے ایک ماہ ہوا واپس آگئے ہیں۔ محاسن نے اسے کہا کہ ہاں بات چیت چل رہی ہے۔ چین سے نیا کنسائنمینٹ آنے والا ہے۔ان کی بہت ضرورت ہوگی مگر یہ ایک کاروباری راز ہے لہذا اس پر لازم ہے کہ وہ یہ کسی پر ظاہر نہ کرے۔ کلیئرنگ کا کام وہی کرے گا۔
اس دن برسات بھی سر شام شروع ہوگئی۔مینہ چھاجوں برسنے لگا۔ طفیل خان کی وہی ضد کہ اس کی بہن کی طبیعت خراب ہے ۔ بہنوئی بھی اسے چھوڑ گیا ہے۔ گھر بھی نئی جگہ ہے۔ لوگ بھی نئے نئے  ہیں وہ   اس کے پاس رات کو جاکر رہنا چاہتا ہے۔صبح لوٹ آئے گا۔
محاسن نے چھٹی دی تو واپسی پر برسات کے پانی کی وجہ سے دفتر واپسی پر اسے کار چلانے میں بہت دشواری ہوئی۔ کار ایک دو جگہ سائلنسر میں پانی آنے کی وجہ سے بند بھی ہوگئی۔گھر پہنچتے پہنچتے اس کے دل کو عجب اداسی، احساس تنہائی اور بے وفائی نے گھیر لیا۔وہ سوچنے لگی کہ کیا اچھا ہوتا کہ اپنے آنے کی فرحان اسے سب سے پہلے اطلاع دیتا۔ اب تو ہر رکاوٹ دور ہوگئی تھی۔ ان کا ملنا اب پہلے سے بہت زیادہ آسان تھا۔یہ ادھر ادھر سے ملنے والی معلومات نے تو اسے بکھیر کر رکھ دیا۔ وہ سوچنے لگی اب کی دفعہ ممکن ہے کوئی عورت اس کی زندگی میں اس کا خلا بھرنے کو آگئی ہے۔جب ہی تو اس نے واپس آن کر محاسن سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ اس کو پاکستان آئے ہوئے مہینہ بھر ہوگیا۔سارا راستہ وہ اداسیوں اور اندیشوں کے تھپیڑوں کا مقابلہ کرتے کرتے گھر تک بمشکل پہنچی۔

گھر پہنچتے پہنچتے وہ کچھ نڈھال ہوگئی تھی ۔بھوک بھی بہت لگ رہی تھی اور دل کو اچھا کھانے کی بھی بہت طلب تھی۔اپنے مخصوص ایام کے شروع ہونے سے ایک دو دن پہلے وہ ایسے ہی نڈھال ہوجاتی تھی۔جب تک وہ کنواری تھی اس کے پیروں اور پیٹ میں کریمپس(Cramps) بھی بہت پڑتے تھے۔فرحان سے  جسمانی رفاقت کی وجہ سے ان کیریمپس میں تو بہت کمی آگئی تھی مگر طبیعت بدستور نڈھال رہتی تھی۔
اس نے میوزک سسٹم آن کیا تو رفیع گارہے تھے۔۔۔

تمہیں تھے میرے راہنما، تمہیں تھے میرے ہم سفر،

تمہیں تھے میری روشنی ،تمہیں نے مجھ کو دی نظر،

بنا تمہارے زندگی، شمع ہے اک مزار کی۔۔۔

کہانی کس سے یہ کہیں چڑھاؤ کی ،اتار کی۔۔۔

یہ کون سا مقام ہے، فلک نہیں ،زمیں نہیں ،

کہ شب نہیں ،سحر نہیں،

کہ غم نہیں خوشی نہیں،

یہ لے کے آگئی ہوا تیرے دیار کی۔

گھر کے در ودیوار سے لگ رہا تھا بوندوں کے ساتھ اداسی بھی برسی،شام کے مہیب سناٹے اور اس کمرے میں آویزاں آئینوں میں اس کی تنہائی کےہیولے منڈلارہے ہیں اپنا سراپا اس نے باتھ روم کے آئینے میں دیکھا اور ایک چیخ مار کر خود کے Zombie ہونے اور اس تنہائی کا احساس ٹالنے کے اس نے ایک چیخ ماری کر کہا ” او فرحان تم نے یہ کچھ اچھا نہیں کیا۔۔۔مجھے کس کے حوالے کردیا۔”
پہلے اس نے سوچا کہ وہ اپنی اداسی دور کرنے کے لیے شیری کو بلالے مگر پھر یہ سوچ کر  کہ دو شام پہلے کی جسارت کی وجہ سے وہ اسے چھونے کی ضد کرے گا اور اس کا کوئی موڈ نہ تھا کہ   اس کی مضمحل حالت میں اسے کوئی چھوئے۔ہمیشہ کی Impulsive   محاسن نے   تب ایک عجیب حرکت کی کہ اس نے عنادل کو فون پر ٹیکسٹ میسج کردیا کہ ” آئی  ایم ہنگری اینڈ آئی نیڈ کمپنی۔۔” اس سے پہلے کہ  اس میسج کو کرکے اس کو کوئی پچھتاوا دامن گیر ہوتا اس کا جواب آگیا کہ ” گیٹ ریڈی، ٹین منٹس اینڈ آئی ول پک یو اپ فار ڈنڑ” ( دس منٹوں میں تیار ہوجاؤ، میں تمہیں ڈنر پر لے جانے کے لیے آرہا ہوں)۔
وہ اسے ایک ٹونی سے ریسٹورنٹ میں لے گیا اپنے ساتھBlack Estate Chardonnay, Waipara, کی نیوزی لینڈ کی بنی ہوئی سفید شراب کی بوتل   لے آیا تھا۔ دونوں تلی ہوئی مچھلی کے ساتھ اسے بہت آہستہ آہستہ پیتے رہے، ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر۔ محاسن کو لگا کہ اس نے عنادل کو اس طرح اور خود عنادل نے اتنے چاؤ سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

Black Estate Chardonnay, Waipara

طور اطوار میں وہ ہمیشہ سے مہذب تھا۔ باتیں وہ پہلے بھی اچھی کرتا تھا، اس شام کو وہ شہر آفاق جاپانی ناول نگار ہاروکی مراکامی کی دو کتابوں بلائنڈ ویلو اینڈ سلیپنگ وومین اور کافکا آن شور کے بارے میں اسے بتاتا رہا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ وہ نوبل انعام کا حق دار ہے مگر اس کے خیالات چونکہ ویسٹرن اسٹیبلشمینٹ سے اکثر متصادم ہوتے ہیں لہذا ممکن ہے وہ یہ انعام کسی چینی ادیب کو یا سلمان رشدی کو اس لیے پکڑادیں کہ ایک چین کی اسٹیبلشمینٹ کا مخالف ہوگا تو دوسرے کی اسلام کی تحقیر میں بہت شہرت ہے۔یہ نوبل انعام ایک سیاسی ایجنڈا کے حساب سے تقسیم ہوتے ہیں۔

kafka on the shore
blind willow and sleeping woman

اب وہ اپنی سابقہ علت یعنی ہم جنس پرستی پر کچھ کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے ۔اسے باہر کے ایک دو ماہرین نفسیات نے اور پھر یہاں ایک دو تبلیغی جماعت کے حضرات نے بھی مدد دینا شروع کردی  ہے۔ وہ ان تبلیغی جماعت کے لوگوں سے  کئی باتوں میں اتفاق نہیں کرتا ۔ ان میں سے اکثر مال ومنال کے بہت دل دادہ ہیں ۔ ان میں اسے ایک بزرگ بھی مل گئے ہیں جو روحانیت کے ساتھ ساتھ حجامہ علاج کے بھی ماہر ہیں۔ یہ انگریزی میں”Cupping Therapy” کہلاتا ہے۔ہمارے نبی پاکﷺ نے صحیح بخاری کے حوالے سے اسے بہترین علاج کے طور پر تجویز کیا ہے۔یہ انہیں معراج کی رات فرشتوں نے تجویز کیا تھا۔بیرونی دنیا میں اب اس کے فوائد کو بہت تیزی سے تسلیم کیا جارہا ہے ، ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ Gwyneth Paltrow بھی اس علاج کی مداح ہے۔اس علاج سے اسے بھی بہت افاقہ ہوا ہے۔

حجامہ
hijamah- olympic swimmer
olympic swimmer
Gwyneth Paltrow

محاسن اس ڈنر میں زیادہ تر خاموش رہی ۔کئی دفعہ اس نے سوچا بھی کہ اس نے عنادل سے طلاق لینے میں کچھ عجلت دکھائی۔ وہ ایک درمیان کا راستہ نکال سکتی تھی۔ چند شرائط کے وہ اس سے یہ بات منواسکتی تھی کہ وہ گھر سے باہر اپنے راستے پر چلے اور وہ اپنے لورز کا ساتھ نبھاتی رہے۔ یہ گو کہ گناہ کا ایک راستہ تھا مگر اس راستے پر بالآخر وہ چل تو پڑی ہی تھی۔
ریسٹورنٹ سے نکلنے سے پہلے اس نے فروزاں کو فون کردیا کہ وہ رات اس کے پاس ٹھہرے گی۔اپنی کوئی صاف سی  نائٹی تیار رکھے ۔ اپنی سوتیلی بہن گل لالے سے گپ لگائے ہوئے  بہت دن ہوگئے ہیں۔
جب وہ فروزاں کے ہاں پہنچی تو اس کے خالو فریدوں گل ضمیرخان اسی کی باتیں کررہے تھے۔ وہ جب جوان تھے ایک روسی فوجی نے ان کے سر پر رائفل کا بٹ اس زور سے مارا تھا کہ ان کی بینائی تیزی سے جانے لگی۔ اب یہ بینائی دس فیصد سے بھی کم رہ گئی تھی۔اندھیاروں کا ساتھ ہوا تو یہ کمیونسٹ خالو جسے روس کی افغانستان آمد پر شدید اعتراض تھا، اللہ سے لو لگا بیٹھے۔ بینائی تو چلی گئی مگر ایک بصیرت ایسی آگئی کہ انہیں اب مستقبل کہ حوالے سے مناظردکھائی دینے لگے تھے۔
انہوں نے ہی فروزاں کو اس کے میاں یعنی جمیل سیٹھ کی مزاج پرسی کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یکے بعد دیگرے وہ چند ناپسندیدہ ترجیحات کو اپنانے پر مجبور ہوگی۔ جمیل سیٹھ کر بچنا محال ہے وہ اللہ سے ان کی بخشش کی زیادہ سے زیادہ دعا کرے۔پیار کرنے والے دو دفعہ مرتے ہیں۔ ایک محبوب کے مل جانے پر دوسرے اس کے جدا ہونے پر۔ اس سے وابستہ دو گھر اجڑنے والے ہیں۔ فروزاں نے ان پیش گوئیوں کو راز ہی رکھا ۔ جمیل سیٹھ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے، محاسن کا گھر بھی اجڑ گیا اور گھر کے حوالے سے اسے ایک دکھ بھری پیش کش کو بطور واحد قابل قبول ترجیح کو اپنانے پر مجبور ہونا پڑا۔
جب وہ عشا کے بعد اپنے معمولات سے فارغ ہوئے تو فروزاں ، محاسن کو ان کے پاس لے گئی۔وہ اس کی زندگی کے اجاڑ پن سے پریشاں تھی۔ کچھ اس ملاقات کرنے میں محاسن کا اصرار بھی شامل تھا مگر فروزاں کو علم تھا کہ محاسن کو ان باتوں پر کچھ یقین نہیں وہ یہ ملاقات محض جوش تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر کرہی ہے ، با صورت دیگر وہ بہت جدید خیالات کی مالک ہے اور اپنی سوچ میں عقلیت،سائنس اور ٹیکنالوجی کو بڑی اہمیت دیتی ہے۔
خالو فریدوں گل ضمیرخان  جب اس کا ہاتھ تھام کر اس کی انگلیوں کی اوپری پوروں کو چھو کر پوچھنے لگے کہ “صرف اچھی باتیں بتاؤں یا سب کچھ؟”
ڈرپوک اور احتیاط پسند فروزاں نے اس کی جگہ جواب دیا” جس میں اس کی بہتری ہو”
“بہتری تو سب کچھ جان لینے میں ہوگی، یہ شاید احتیاط کرنے لگ جائے”۔ خالو نے جواب دیا
“تو پھر سب کچھ۔”اب کی دفعہ محاسن نے جواب دیا۔
“بہت خون ہے اس کے ہاتھوں پر۔وہ کیوں؟” خالو نے بہت سرگوشی کے انداز میں پوچھا ۔
“مچھلی کھائی تھی۔ بے چاری کا خون میرے وجود میں چیخ رہا ہوگا۔” محاسن نے شوخی دکھائی اور بات کی کاٹ دار دھار کو کند کرنے کی کوشش کی۔
“ایک دروازہ کھلا ہے۔ وہ آرہا ہے۔ ہاتھ پکڑ کر دوسرے دروازے سے نکل جائے گا۔ تمہیں اپنے ساتھ بہت دور لے جائے گا۔ سب یہیں رہ جائیں گے تم چلی جاؤگی۔ جانے کی خبر بہت رسوائی کا باعث بنے گی۔ آج ایک دروازہ اور بھی کھولا ہے، مگر اس کی زنجیر کو ہٹا کر اسے اندر بلانا تمہارے بس کی بات نہیں۔ لوگوں سے ملنے جلنے میں احتیاط کرو۔”
کھانا کھاکر وہ فروزاں اور گل لالے بہت باتیں کرتی رہیں۔ گل لالے کو اس نے اپنے اور اس کے ابو کی کچھ باتیں بتائیں جو اسے پہلے معلوم نہ تھیں۔ فروزاں کو البتہ اس بات کا قلق تھا کہ اتنے دنوں کے بعد تو محاسن اس کے گھر رات رہنے آئی تھی خالو فریدوں نے یہ کیا ڈراؤنی باتیں کردیں۔ دن بھر کی تھکی فروزاں سو گئی تو محاسن بستر پر لیٹے لیٹے خالو فریدوں کی باتوں کا مطلب نکالنے لگی۔
اسی دوران اس کا ذہن عنادل کی ملاقات کی طرف چلا گیا۔وہ اچھا آدمی تھا۔ اس پر کبھی کوئی اعتراض نہیں کرتا تھا۔ بلکہ طلاق کے معاہدے سے بڑھ کر اس نے اسے دو تین ایسی رعایت دیں جو اس کے وکیل کے مشورے کی بالکل مخالفت میں تھیں۔ جوائینٹ اکاؤنٹ کی آدھی رقم بڑی خاموشی سے اس نے اگلے دن اس کے اکاؤنٹ میں جمع کرادی جو اس کی اصل رقم سے زیادہ تھی اور معاہدے کی رو سے اس کا وہ پابند بھی نہ تھا۔وہ نئی کار جو اس نے کچھ دن پہلے ہی خریدی تھی وہ بھی گھر کے ساتھ اسے دے دی۔ اپنے خاندانی زیورات کو واپس لیتے ہوئے اس نے محاسن کو زمرد کا ایک بے حد قیمتی سیٹ جو ا اس کی فیملی نے ایک نواب فیملی سے خریدا تھا وہ بھی اس لیے تحفے میں دے دیا کہ محاسن نے ایک دفعہ اس سیٹ کی بناوٹ اور اس میں لگے بڑے زمردکی بہت تعریف کی تھی۔اس کی ہر سالگرہ پر اسے خاموشی  سے ایک قیمتی تحفہ بھی اس کی جانب سے موصول ہوتا تھا۔اس نے محاسن کو ڈنر پر یہ بتادیا کہ اسے محاسن کے فرحان کے تعلقات کا علم تھا۔ ظہیر محمودنے اس کی وہ تصاویر جو چین میں سوئمنگ پول کے پاس دونوں کے بے تکلفی کے لمحات میں کھینچی گئی تھیں وہ عنادل کو بھی ای میل کرکے بھیج دی تھیں۔ ۔انسان بہت کم زور ہے اللہ کسی کو ہدایت دے تو راہ مل جاتی ہے۔ وہ کہنے لگا “حضرت رابعہ بصریؒ کی ایک بات اس نے کسی جگہ پڑھی تھی۔ ایک شخص نے آپ کو کہا کہ اس نے توبہ کی تو اللہ نے اسے ہدایت دی۔ آپؒ نے فرمایا کہ اپنا جملہ ٹھیک کرلو تمہیں اللہ نے ہدایت دی تو تم نے توبہ کی۔ ”
محاسن اس انکشاف پر حیران تو ہوئی مگر اس میں تلخی کی کوئی رمق نہ پاکر اس نے بہت آہستگی سے اس کو جانے دیا اور کسی قسم کے تجسس کا اظہار نہ کیا۔ خود عنادل نے اس را زکو اس وقت کھولا جب وہ ہاروکی مراکامی کے کسی کردار کی کمزوری کا  تذکرہ کررہا تھا ۔ یوں یہ بات کتاب سے منسوب زیادہ اور اس کی اپنی زندگی سے وابستہ ایک نادانی کم لگی ۔ اس راز کے انکشاف کا زہر اس لیے بھی کم ہوگیا کہ اس نے دین کے حوالے سے بھی انسان کی کمزوری کا انکشاف کیا۔اسی طرح اس نے حضرت رابعہ بصری کی بات بیان کرکے اس میں ایک بھاری بھرکم روحانی حوالہ ڈال دیا جس سے بات معافی اور بڑے پن کی طرف مڑگئی۔
اس تمام بات کو اب ہفتہ ہونے کو آیا تھا ،غسل پاکیزگی کے بعد اس کے بدن میں پہلے ہفتے عجیب سی جولانی اور جسمانی لذتوں کی طلب اور خواہشات موج زن رہتی تھیں۔ دن میں تو وہ ادھر ادھر گھومتی رہی۔ ایک نمائش میں بھی چلی گئی، کلب میں سمیرہ نے دو ایک دوستوں کو لنچ پر بلایا تھا وہاں جانے سے پہلے وہ بینک گئی۔اسی کی سفارش پر کسٹمر ریلشنز مینجر حسن رمیز کو ملازم رکھا گیا تھا۔ بینک نیا تھا اور نئے اکاؤنٹس کا متلاشی۔حسن رمیز اسے بینک میں دیکھ کر نہال ہوگیا۔ کافی کے آتے آتے  اس نے رمیز سے پوچھ لیا کہ کیا جب فرحان صاحب یہا ں پچھلے ہفتے آئے تھے تو وہ یہاں موجود تھا۔ جواب اثبات میں ملنے پر محاسن نے دو تین اور بھی سوالات داغ دیے۔ جی ہاں انہوں نے ان کے ہاں نیا اکاؤنٹ کھولا ہے۔ وہ اب اپنا کاروبار ایم۔ ایف اسو شیٹس کے نام سے کررہے ہیں ۔کوریا سے بالخصوص  تشخیصی نوعیت کی میڈیکل مشینری منگوارہے ہیں۔ ڈی فری بلیٹرز اور ایکسرے گرڈ بشمول ڈی آر سلوشنز کی تو پورے پاکستان کی ایجنسی ان کے پاس ہے۔ محاسن نے کمال چالاکی سے پوچھ لیا کہ ان کے گھر کا پتہ مل سکتا ہے کوئی دعوت بھجوانی ہے ۔ فون نمبر بھی ۔ احسانات کے بوجھ تلے دبا رمیز اپنی فائل سے فرحان کا پتہ بھی نکال لایا اور اس کے بزنس کارڈ کی بھی کاپی اسے کراکے دے دی۔گھر کا پتہ بدستور وہی تھا جہاں اس کے سلگتے ارمانوں پر پیار کا پہلا ساون برسا تھا۔

defabiliator

سمیرہ کے لنچ پر وہ کچھ کھوئی کھوئی تھی فرحان کے بارے میں حاصل کردہ معلومات کے حوالے سے تین سوالات اس کے ذہن میں مسلسل گردش کررہے تھے۔کمپنی کا نام ایم۔ ایف اسو شیٹس اس نے کیوں رکھا ہے؟۔کیا یہ محاسن۔فرحان اسو شیٹس کا مخفف ہے؟۔کیا اس کے کمرے کے فریم میں اب بھی اس کی تصاویر جس میں اس کی سیمی نیوڈز بھی تھیں ویسے ہی روشن ہوکر رقص کرتی ہوں گی؟۔ پریلی کے نیوڈز کلینڈر کے وال پیپر جیسے کمپیوٹر کے اسکرین پر لہراتے ہیں۔ان دنوں مشہور اطالوی ٹائر کمپنی کے اس کلینڈر میں اس آتش فشاں ماڈل گرل جزیل بنڈ شین کی نیم عریاں تصاویر کی بڑی دھوم تھی۔کیا اس کا وہ کرتہ الگنی پر اسی طرح لٹک رہا ہوگا جیسا وہ اس باتھ روم میں کپڑے تبدیل کرنے کے بعد چھوڑ کر آئی تھی؟۔
شام کو وہ جم سے واپس آن کر جب غسل کرکے اپنے بال سکھا رہی تھی اسے اپنے بالوں میں ایک سفید بال دکھائی دیا۔فرحان سے بچھڑنے کے دکھ کی پہلی علامت۔ اب وہ پورے بتیس برس کی ہونے والی تھی۔ دو دن بعد اس کی سالگرہ بھی تھی۔اس کا دل اس سفید بال کو دیکھ کر اداس ہوگیا ۔ وہ سوچنے لگی کہ ڈیڑھ کروڑ کی اس آبادی والے شہر میں  ماسیوں اور فقیرنیوں کے چاہنے والے تو موجود تھے پر ڈیفنس فیز ٹو کی اس جواں بدن ، دل فریب، تعلیم یافتہ، آسودہ حال خاتون کا کوئی بھی سچا عاشق نہ تھا۔سفید بال دیکھ کر اس پر ویسا ہی خوف طاری ہوا جو کسی خاتون پر اپنے بیڈ روم میں اچانک پستول لے کر گھس آئے ہوئے مرد کو دیکھ کر ہوسکتا تھا۔اس نے اپنی اداسی کا حساب لگایا، اپنی تنہائی کا سوچا تو  خود کو فروزاں سے بھی اکیلا محسوس کیا جس کے پاس اس کے قریبی عزیز اورگل لالے تھی۔ اس کے دونوں بھائیوں کی اپنی ایک دنیا تھی جس میں اس کا سمانا آسان نہ تھا۔اس نے سوچا وہ بھی سمیرہ  کی طرح اللہ سے لو لگالے یہ دنیا تو یوں بھی لہو لعب کا ایک ہر روز بدلتا تماشا ہے۔ سمیرہ  اپنے بیٹے کے ڈرگ پرابلم سے پریشان ہوکر اب فرحت ہاشمی کے لیکچرز میں جانے لگی تھی اور حجاب عبایا بھی اوڑھ لیا تھا۔
انہی  لمحات میں اس نے سوچا کہ ایک رنجور پجاری کی طرح اللہ کے پاس جانا مناسب نہیں۔ وہ تو بالکل ویسے ہی جائے گی جیسی رادھا اپنے شیام کے پاس یہ گاتی ہوئی جاتی تھی کہ جیسے رادھا نے مالا جپی شیام کی، میں نے اوڑھی چنریا تیرے نام کی۔جا نے کیا سوچ کر اس نے نماز پڑھی اور اللہ سے صرف ایک دعا کی کہ میرا فرحان مجھے لوٹا دے۔میری اس سے شادی کرادے تو میں اسے اپنا محرم بنا کر تیرے دربار میں معافی مانگنے آؤں۔اس دعا اور نماز سے اس کے دل کو بہت تقویت ملی۔اس نے گاڑی نکالی اور گل لالے اور فروزاں کو   عنادل والے ریسٹورانٹ میں کھانے پر لے گئی۔
دو دن بعد اس نے اپنی سالگرہ بھی ا انہی  کے گھر پر منائی۔اس دن وہ دو وجہ سے اداس تھی۔ عنادل کا تحفہ تو اسے دفتر میں ہی حسب روایت مل گیا ۔ یہ ایک چھوٹا سا پینڈینٹ تھا جو اس نے سنگاپور سے خریدا تھا۔فرحان کا نہ تو اسے کمپنی ایڈریس پر کوئی پیغام ملا نہ ہی اس کے فون پر کوئی میسج آیا۔ وہ سوچتی رہی کہ  کیا فرحان کے لیے اس کا نیا فون نمبر  حاصل  کرنا یا ای میل تلاش کرنا مشکل تھا۔ اس نے بھی تو بینک سے اس کے بارے میں سب تفصیلات کامیابی سے حاصل کرلی تھیں۔وہ بہر حال ایک Resourceful مرد تھا۔ اپنی نئی کمپنی بناسکتا تھا ۔ کاروباری اجارہ داری ڈی فری بلیٹرز اور ایکسرے گرڈ بشمول ڈی آر سلوشنز جیسی مشینری کے معاملے میں قائم کرسکتا تھا تو اس کے بارے میں تفصیلات حاصل کرنا اس کے لیے کون سا ایسا مشکل کام تھا۔ دوسری بات جس نے اس کا دل کاٹ کر رکھ دیا تھا وہ یہ تھی کہ اس کی بے اعتنائی کو وہ اپنے نسوانی اندیشوں کی مناسبت سے اس بات سے موسوم کررہی تھی کہ ممکن ہے اس نے شادی کرلی ہو ۔ اتنے ہینڈ سم مرد کو ممکن ہے اس سے بہتر اور جواں سال عورت مل گئی ہو۔
انہی  اندیشوں کو دل میں بسائے اس نے شہر یار مرزا کو سالگرہ والے دن دفتر کے نیچے بلایا اور کار میں اسے لے کر فرحان کے گھر پر پہنچی۔ دن کے ساڑھے گیارہ بجے تھے۔ اس نے سوچا کہ وہ شیری کے ذریعے یہ پتہ چلائے گی کہ فرحان اب بھی وہیں رہتا ہے۔ وہاں کے کیا حالات ہیں۔راستے میں شہریار نے اس سے پوچھا کہ وہ یہ سب کچھ کیوں معلوم کرنے کے کی کوشش کر رہی ہے تو اس نے نادانی کی کہ اسے بتادیا کہ وہ اس کی پہلی محبت ہے اور اس کا دل اس سے دوبارہ تعلق قائم کرنے کا خواہشمند ہے۔ محاسن نے نوٹ کیا کہ اس بات سے شیری کے چہرے پر کرب اور نفرت کے کئی رنگ ایک دم نمایاں ہوگئے تھے۔
وہ تو کار ہی میں بیٹھی رہی اس لیے کہ چوکیدار غلام رسول اور فرحان کے دونوں کتے ڈوبی اور برونو بھی ا سے پہچانتے تھے۔شیری نے معلومات لے کر واپس آنے میں پورے دس منٹ لگا دیے اور آتے ہی اسے کہنے لگا “میڈم محاسن آپ کے لیے گڈ نیوز اور بیڈ نیوز دونوں ہیں۔ کون سی پہلے سناؤں؟”
جو تمہارا دل چاہے وہ سنا دو آخر میں تو بیڈ نیوز ہی نے باقی رہنا ہے۔محاسن نے بھی ایک احساس شکست کو اپنے پر طاری کرتے ہوئے جواب دیا۔
” گڈ نیوز تو یہ ہے کہ آپ کے ایکس ابھی بھی یہیں پر قیام پذیر ہیں ۔ بیڈ نیوز یہ ہے کہ انہوں نے شادی کرلی ہے اور ان کی چھ ماہ کی بچی ہے۔” اس   ایک بات کو سن کر محاسن کو لگا کہ بیچ سڑک پر اس کی آنتوں کے اوپر سے کوئی سولہ وہیلرز ٹینکر اسے روندتا ہواگزر گیا ہے۔
شیری تو اس کی کرب ناک حالت اور اپنے لیے نو دریافت شدہ گنجائش کا احاطہ کرتے ہوئے پورے راستے اٹھکیلیاں کرتا رہا۔وہ کہنے لگا “آج اس کی سالگرہ ہے مگر اس نے اسے مدعو نہیں کیا” جس پر محاسن نے اسے جتلایا کہ ” وہ سالگرہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ مناتی ہے۔ یوں بھی بتیس برس کی ،پیار میں اجڑی ہوئی، تنہا عورت کیا سالگرہ منائے گی۔”
“آپ کے ان بتیس برسوں پر تو شہر کی کئی کنواریاں قربان کی جاسکتی ہیں”۔شیری نے اپنا وہی اسٹائل اپنائے رکھا جس کی وجہ سے محاسن کے دل میں محرومیوں کے سائے اور گہرے ہوگئے۔
آج رات جب آپ رشتہ داروں سے فارغ ہوجائیں تو اس خاکسار کو کچھ پینے پلانے ، میوزک سنانے کے لیے بلالیں۔ مرد تو ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ آپ سے مالدار اور حسین کوئی عورت مل گئی ہوگی تو انہوں نے گھر بسالیا۔ ہوسکتا ہے اس میں ہم جیسے خاک نشینوں کو آپ کی رفاقت کا کوئی انمول لمحہ مل جائے۔یاد کریں ہم نے آپ کو کبھی کہا تھا۔
“Wait for the boy that would do anything to be your everything” محاسن نے اسے بے چارگی سے دیکھتے ہوئے ایک فیصلہ کیا وہی فلم دی ریڈر کی ہنا شمڈٹ والا فیصلہ کہ وہ آج رات اسے بھی آزمائے گی۔
جس وقت محاسن کے لیے کیک کاٹنے اورکھانا لگانے کا اہتمام ہورہا تھا اس نے باہر لان میں جاکر  وہیں  بیٹھ کر شیری کو دو تین میسج اور ایک چھوٹا سا فون بھی کیا۔اس کا مطالبہ تھا کہ ایک تو دس بجے اس کے لیے وہ جیک ڈینئل کی سات نمبر وہسکی لے کر آئے گا۔ اسے گٹار پر کشور اور مناڈے کے گیت سنائے گا۔ وہ ڈوبی ڈوبی والے تھری ایڈیٹ کے گیت پر ناچیں گے اور پیار کرتے کرتے سوجائیں گے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر وہ اس کی خاطر کوئی نارنجی یا جنگل گرین ساڑھی بہت ٹینی وینی، اٹسی بٹسی بلاؤز اور کچھ زیورات کے ساتھ پہن لے۔

تھری ایڈیٹس،زوبی ڈوبی ڈو

گرین ساڑھی
jungle green sari

عمر میں گوشیری اس سے پورے آٹھ برس چھوٹا تھا مگر اس راز سے وہ کما حقہُ آگاہ تھا کہ اگر آپ کے مطالبے پر کوئی حسینہ آپ کے فرمائش کردہ لباس کو زیب تن کرلے تو رفاقت کے باقی مراحل باآسانی طے ہوجاتے ہیں۔ محاسن نے اس کا لباس کا مطالبہ تو مان لیا ۔ اس کے پاس شفون کی دونوں رنگوں کی ساڑھیاں موجود تھیں مگر گیت کے مطالبے پر اس نے جواب دیا۔نہیں تھری ایڈیٹس نامی فلم کے ڈوبی ڈوبی پر نہیں بلکہ تلاش کے گانے

ظلمی رات ما۔۔۔۔ ارے اونس اونس۔۔او کانچا۔۔

آج تو ظلمی رات ما ،دھرتی پر ہے آسماں،

کوئی رے بن کے چاندنی اترا من کے آنگنا

پر اکیلی ناچے گی۔یہ گانا اس نے اس لیے چنا تھا کہ اپنے آئی۔ پوڈ پر چین کے دورے میں فرحان نے اسے کئی دفعہ سنایا تھا۔ اسے موسیقار ایس ڈی برمن بہت پسند تھے۔آج کی رات اس کے لیے ہم نفسو شب انتقام تھی۔رات ساڑھے نو بجے فروزاں کے ڈرائیور نے اسے گھر واپس لاکر چھوڑ دیا، فروزاں اور گل لالے کی ضد تھی کہ وہ رات انہی  کہ پاس رک جائے پرانی باتیں کریں گے۔محاسن نے کل رات آنے کا وعدہ کیا اور چلی گئی۔

آج تو ظلمی رات ما

آج شام طفیل خان بدستور اپنی بہن کے گھر چلا گیا تھا۔ چند دنوں سے وہ اس کے حوالے سے بہت تشویش میں مبتلا تھا۔ مار پیٹ کی وجہ سے اس کی بہن کا بارھویں ہفتے میں اسقاط حمل ہوگیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ طبیعت کی خرابی کی شکایت مسلسل کررہی تھی اس نے ایک آدھ دفعہ اسے کہا کہ وہ اپنی بہن کو اپنے ساتھ لا کر بنگلے پر رکھنا چاہتا ہے مگر محاسن ایک پورا گھرانہ اپنے ہاں رکھنے کی حامی نہ تھی۔ وہ اس وجہ سے چھٹی بھی مانگ رہا تھا کہ بہن کو گاؤں چھوڑ آئے۔
اس رات سب کچھ تو ویسے ہی ہوا جیسے طے ہوا ۔وہ اسے مناڈے اور کشور کے پرانے گانے ساتھ بیٹھ کر سناتا رہا۔اس کی آواز بس واجبی سی تھی مگر سر تال کا اسے بخوبی اندازہ تھا۔ بالخصوص اس نے مناڈے کا وہ گیت کہ

ع کون آیا میرے من کے دوارے پائل کی جھنکار لیے آنکھ نہ جانے دل پہچانے۔

صورتیا یہ کیسی۔ یار کروں تو یاد نہ آئے مورتیا یہ کیسی۔

جب محاسن کا ایک اور پسندیدہ فلم خاموشی کاگیت وہ شام کچھ عجیب تھی ،یہ شام بھی عجیب ہے۔ وہ کل بھی پاس پاس تھی ، وہ آج بھی قریب ہے اس نے سنایا تو محاسن کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ گٹار ایک طرف رکھ کر اسے بانہوں میں سمیٹ کر بیٹھ گیا۔
محاسن نے رفاقت اور بوس و کنار کے انہی  لمحات میں اس سے پوچھا کہ” کیا واقعی بابا غلام رسول نے اسے یہ بتایا تھا کہ فرحان کی شادی ہوگئی ہے؟”
“نہ صرف آپ کے قبلہء مقصود نے شادی کرلی ہے  بلکہ  ان کی ایک چھ ماہ کی صاحب زادی ہے ۔آپ اس پیار پر فاتحہ پڑھ لیں۔ کم از کم آج کی رات تو حاضر کو حضور سمجھیں۔”۔
“تو تم مجھ سے واقعی پیا ر کرتے ہو؟ “محاسن نے پوچھا
“بہت۔” اس نے سرگوشی کرتے ہوئے محاسن کے بلاؤز کے ہک پیچھے سے کھول دیے۔
“اور کوئی دوسرا مجھ سے پیار کا  دعوے دار ہو تو؟” محاسن نے پوچھا
“اپن اسے جان سے ماردے گا۔”اس نے ایک قاتل کے بھرپور انداز میں جواب دیا۔
“یہ تو تم جانتے ہو کہ ہم کچھ بھی ہوجائے ایک نہیں ہوسکتے”۔محاسن نے اس کے لگاؤ کی شدت کا اندازہ کرنے کے لیے اسے چھیڑا۔
“یہ لوگ جو چاند ستاروں کو چاہتے ہیں، موسیقی پر جان نچھاور کرتے ہیں، لیڈی گاگا (مشہور امریکی گلوکارہ) کی  ایک جھلک دیکھنے کے  لیے گھنٹوں سردی میں ٹھٹھرتے رہتے ہیں۔یہ بزرگ لوگ جو اللہ سے لو لگاتے ہیں یہ کیا اپنے منظور محبت کے ساتھ ایک ہوجاتے ہیں”۔اس کے اندر کا ایک فلسفی بول اٹھا۔
“یہ تم ہر وقت مارنے مرنے کی بات کیوں کرتے ہو؟”محاسن نے پوچھ ہی لیا۔
“ہمارے ہاں غداری کی سزا موت ہے۔قائد کا جو غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے ۔پاکستان کے آئین کے آرٹیکل نمبر چھ پر صرف ہم عمل کرتے ہیں”۔ وہ اترا کر کہنے لگا۔پانچواں پیگ پی کر  تقریباً مدہوش ہوکراپنے ادھر ادھر پھسلتے ڈولتے بلاؤز کو درست کیے بغیرجب وہ تلاش کے گانے پر ناچ رہی تھی۔وہ اسے گانے کے آخری بو ل ۔۔کوئی رین کے چاندنی اترا من کے آنگنا پر گھسیٹ کے بستر تک لے گیا ۔”محاسن نے ایک عجیب پیش کش کی کہ ایک شرط پر وہ اسے سب کچھ کرنے کی اجازت دے گی اگر وہ رسی سے باندھ کر اسی کے بیلٹ سے مارنے کی سہولت دے ۔”
” یہ کونسی مشکل بات ہے ۔ آج وہ جو کار لایا ہے اس میں سب سامان موجود ہے” ۔ گاڑی سے ایک چھوٹا سا سفری تھیلا وہ نکال لایا جس میں رسی، چھری اور ایک کلاشنکوف دو عدد بھرے ہوئے میگزین سمیت رکھی تھی۔
محاسن نے جب پوچھا کہ ” یہ سب سامان وہ اپنے پاس کیوں رکھتا ہے ؟!”
“پارٹی کی جانب سے کب جانے کہاں سے کوئی ہدایت مل جائے۔ ہمیں کیا پتہ کس کا ٹکٹ آگیا ہو۔ ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو ہمیں بھی باندھ کر ہمارے سیف ہاؤس میں اذیت دی جاتی ہے”۔ شیری بول رہا تھا اور وہ حیرت سے منہ  کھولے اسے تکے جارہی تھی۔
“کون سی پارٹی؟ کیسا ٹکٹ؟ “محاسن نے پوچھا۔

“پارٹی کا نام تو وہی ہے جو شہر کی ہر پارٹی کا ہوتا ہے۔ ہم آج یہاں تو کل وہاں ہوتے ہیں۔ جہاں بھاؤ اچھا وہاں کام بھی اچھا ۔ٹکٹ کا مطلب ہے کسی کو اب آگے بھیجنا ہے؟”شیری نے اپنے جواب میں کچھ راز کھولے تو نشے میں ہونے کے باوجود کچھ چھپا بھی لیے ۔۔۔
“آگے کہاں؟” ایک معصومیت اور تجسس تھا کہ محاسن کا دامن ہی ان خوف ناک لمحات میں بھی نہیں چھوڑ رہا تھا
“اللہ میاں کے پاس اور کہاں؟ سب وہیں جائیں گے۔ تم بھی ، میں بھی ۔”شیری کچھ کھل کر بولا۔
تو تم اس بے چارے کو کسی کسی کے کہنے پر مار دیتے ہو؟پارٹی والے مائی باپ ہوتے ہیں ان کا حکم تو ماننا پڑتا ہے
“کبھی شدید اذیت دے کر ، تو کبھی تھوڑی سی قلاقند کھلا کر گولڈ لیف کا سگریٹ پلا کر۔ہم بھی انسان ہیں ۔آخری خواہش کا احترام کرتے ہیں۔”
“یہ آخری بات سمجھ میں نہیں آئی۔ تمہیں دوسروں کو جان سے مارتے ہوئے کوئی لحاظ اور خوف نہیں آتا۔”محاسن نے بھی سوچ رکھا تھا کہ وہ آج شہر کی سیاست کے بارے میں نہ صرف جان لے گی بلکہ یہ سوال جواب اسے دو طرح سے مدد کررہے تھے۔ایک تو ان کی وجہ سے وقت گزرتا جارہا تھا۔بعض دفعہ طفیل خان جلد آجاتا تھا۔ وقت گزرنے کی وجہ سے اس کی آمد ہوجائے گی۔ دوسرے وہ اس کے سامنے شیری کے دو روپ تھے۔ایک تو وہ انتہائی مہذب، لوئر مڈل کلاس، تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوان کا روپ تو دوسری جانب ایک سفاک قاتل کا ۔وہ اب اس مخمصے میں تھی کہ اس سے جان کس طرح چھڑائے۔

“آخری بات جو تھوڑی سی قلاقند کھلا کر گولڈ لیف کا سگریٹ پلا کر مارنے والی ہے۔ منا باربر ہمارا ساتھی تھا۔ظالم کے ہاتھ مکھن تھے۔ شیو ایسی بناتا تھا جیسے ہوا کا جھونکا ۔ جیسے بالوں پر استرا ایسے چلاتا تھا ویسے ہی گردن پر بھی چلاتا تھا۔ لگتا تھا ہاتھ کم بخت کے کتھک کررہے ہوں۔ مجھے پتہ تھا۔ اچھا نہیں ہوا۔ وہ مجبور تھا ۔اس کی بہن کے سسرال والے شادی کی جلدی کررہے تھے ۔ اسے پیسوں کی ضرورت تھی ۔ بس کسی کو اس نے پیسے پکڑ کر آ خری واردات کے بارے میں بتادیا۔ سامنے والے ہوشیار ہوگئے۔تیار بیٹھے تھے۔منا جان بوجھ کر پیچھے رہ گیا کہ اس کو گولیاں نہ لگے۔، دونوں ساتھی مارے گئے۔حکم آگیا ۔منا کو ٹکٹ دے دو۔ اسے لائے تو پرانی دوستی کے حساب سے پوچھ لیا ۔کوئی آخری خواہش ہے ۔کہنے لگا۔ آج بہن کی ڈھولکی ہے ۔ میں تو زری دیر میں قلاقند لے کر آنے کا کہہ کر نکلا تھا۔ بہن کو قلاقند پہنچا دو ،فون پر اس سے بات کرادو ۔اسی ڈبے کی تھوڑی سی قلاقند کھلا دو گولڈ لیف کا سگریٹ پلا کر۔ قلاقند کا آخری ٹکڑا اس کے منھ میں تھا تو راشد بھائی نے سر پر پیچھے سے گولی ماری، منھ سے سفید قلاقند لال شیرے کے ساتھ باہر نکل آئی۔
محاسن کو یہ سب کچھ سن کر لگا کہ وہ الٹی کردے گی۔ تب اسے اندازہ ہوا کہ اس نے شیری پر بھروسہ کرکے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔اس نے نارمل دکھائی دینے کے لیے پہلی دفعہ جب کلاشنکوف کو چھوا تو اسے لگا کہ مردوں کے دل بھی اتنے ہی ہلاکت آمیز ہوتے ہیں۔یہ وعدہ لے کر کہ وہ اس کے تشدد آمیز رویے پر جواباً کوئی کاروائی نہیں کرے گا۔ یہ وعدہ کرلینے کے بعدمحاسن نے اس کے پیروں اور ہاتھوں کو رسی کے ساتھ باندھ کر خوب مارا۔ اس کی کمر اور کولہوں کی کھال ادھیڑ کر رکھ دی ۔چند دن پہلے اس نے ایک فلم” سیکریٹری” دیکھی تھی جس میں بی۔ ڈی۔ ایس ۔ایم (اذیت، غلبے، سپردگی تحقیر اورجنس کا ایک ایسا عمل جو پاؤلو کولہیو کتاب دی الیون منٹس کا بھی ایک باب ہے اور مغرب کے بعض حلقوں میں اسے جنسی فعل کے دوران قابل قبول عمل سمجھا جاتا ہے ) کا پس منظر تھا۔ اس میں ہیروئین کو لمحات وصل میں اذیت پاکر بہت مزا آتاہے۔ اسے اس وقت تک جنسی تعلق میں سیرابی نہیں ہوتی جب تک مارنے والے یا اذیت اٹھانے والے کا حظ پورا نہ ہو۔

فلم دی سیکرٹری

جب وہ اسے مارتے مارتے تھک گئی تواس نے سوچا کہ وہ اسے اپنے ساتھ مزید کچھ نہ کرنے دے گی وہ ڈر بھی رہی تھی ۔شیری نے جب اسے حکم دیا کہ وہ رسی کھول دے اور اس کے زخموں پر اسی کے بیگ سے برنال نکال کر لگا دے ۔محاسن نے رسی کھول کر اسے برنال دے دیا۔ اسے  دیکھ کر بھی محاسن کو گھن اور خوف آرہا تھا ۔اسے معلوم نہ تھا کہ اس نے یہ کیا اینا کونڈا (شمالی امریکہ کا وہ قوی ہیکل ،بے زہر سانپ جو اپنے شکار کے گرد لپٹ کر اس کی ہڈیوں کا سرمہ بنادیتا ہے اور بعد میں اسے پورا نگل لیتا ہے) پا ل لیا ہے۔ خود معمول کے کپڑے بدل کر آگئی۔شراب کے نشے میں اس کے اوسان اب بہت حد تک معدوم ہوچکے تھے۔وہ لڑکھڑارہی تھی۔ طفیل خان اگر گھر پر ہوتا تو شاید یہ سب کچھ نہ ہوتا مگر جب شیری نے اس پر پستول تان کر اسے بستر پر دھکیل کر اس کے  کپڑے اتارنے شروع کیے تو اس نے بہت قسمیں دیں مگر وہ نہ مانا۔اسے کہنے لگا کہ وہ جان لے کہ مرنا مارنا اس کے لیے کوئی انوکھا فعل نہیں۔ ابھی وہ فون کرے گا تو قریب پنجاب کالونی سے چھ ساتھ لڑکے آجائیں گے اورپھر یہ گینگ ریپ اسے برداشت کرنا پڑے گا۔ وہ اس کے کہنے پر اسے بعد میں قتل بھی کردیں گے۔ شہر میں تو کوئی مائی کا لال ایسا پولیس والا ایسا نہیں جو ان پر ہاتھ ڈال سکے ۔ وہ یہ دیکھے کہ وہ ہر وقت کسی نہ کسی سرکاری گاڑی میں گھومتا ہے۔ محاسن کی یہ دھمکی سن کر گھگھی بندھ گئی۔اس کا سارا نشہ بھی تب تک ہرن ہوچکا تھا۔

anaconda with alligator
hqdefault

وہ ڈر کے مارے ساری رات اس کے ہاتھوں میں مردہ بنی، لٹتی رہی۔ عورت کو یہ وصف بھی اللہ نے دیا ہے کہ وہ اگر رفاقت کے اس پرلطف عمل میں بارضا شریک نہ ہو تو بہت سلیقے سے اپنی روح کو بدن سے جدا کرلیتی ہے۔
محاسن کا بدن دو دفعہ شیری کے تصرف میں ضرور رہا مگر اس کی روح ایک تاریک کونے میں سمٹ کر اپنی نادانی پر آنسو بہاتی رہی۔ دوسری دفعہ تو اس نے دو تین تھپڑ بھی محاسن کو اسے روکنے پر مارے اور پستول کا دستہ بھی مارنے کے لیے سر تک لے آیا۔۔ اس رات تاسف، پچھتاوا۔ ہوس، انتقام ، خود سے نفرت کون سا وہ جذبہ تھا جس نے محاسن پر دھاوا نہ بولا۔
نڈھال ہوکر اپنے بستر پر سوئے ہوئے شیری کو دیکھ اس کے دل میں کئی دفعہ خیال کہ وہ اسی کے پستول سے اس غلیظ وجود کا خاتمہ کردے۔یہ خیال اس کے دل میں اس وقت اور بھی تقویت پانے لگا جب وہ اپنے نشے کے توڑ کے لیے کچن میں گئی۔ اس نے اورنج جوس کے ایک گلاس کے ساتھ دوپہر کو لایا ہوا سلاد بھی کھالیا اور ساتھ ہی دو کیلے اور کیلشیئم اور وٹامن بی سکس کی گولی بھی کھالی جس سے اس کے اوسان کچھ بحال ہوئے۔ وہ سوچنے لگی کہ اس کا مارنا  اس کی نہ صرف بدنامی ہوگی۔ بلکہ شیری کے بدن پر مار کے نشان، اس کے کمرے میں ہتھیاروں کی موجودگی۔ایسے کئی شواہد پولیس کے پاس اس کیس میں اس کے ذاتی مدافعت والے اقدام کی مخالفت کریں گے۔ یہ اگر ریپ بھی ہے تو قانونی اصطلاح میں (Consensual Rape) زنا بالرضا ہے۔اس طرح کا جرم تو امریکہ میں ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے تو پاکستان میں تو صرف اسی کی جگ ہنسائی اور رسوائی کا باعث بنے گا ۔ پھر اس قتل کے نتیجے میں ہونے والی ہر کاروائی سے وہ برباد ہوجائے گی۔ اس طرح کے ریپ کے بارے میں اس نے کبھی عورتوں کے کسی انگریزی رسالے میں ایک مقدمے کی کاروائی پڑھی تھی۔امریکہ میں کسی ہم جماعت اور اس کے دو عدد بڑی عمر کے مرد دوستوں کے ہاتھوں اس کا ڈیٹ پر ریپ ہوا تھا۔ وکیل صفائی نے عدالتی کاروائی کے دوران جرح کرتے ہوئے پوچھا” کیا یہ بات درست ہے کہ اس کے ہم جماعت لڑکے اس راز سے بخوبی واقف ہیں کہ اسے جلد کی رنگت (Beige)کی لانجرے(lin183ge183rie) بہت پسند ہے ” ۔
اس سوال کے مضمرات پر غور کریں تو وہ ایک طرح سے اس کے کردار کو بھی یہ کہہ کر زیر بحث لارہا ہے کہ اس کے اندڑ ویرز اور براز کے بارے میں اس کی پسندیدگی کا علم بہت سے لڑکوں کو تھا۔
لڑکی نے سر جھکا کر جواب دیا کہ ” یہ بات درست ہے کہ اسے جلد کی رنگت کی لانجرے بہت پسند ہے” ۔
کیا وہ یہ بتا سکتی ہے ” واردات کی اس رات بھی اس نے اسی رنگت کی لانجرے پہنی تھی؟” وکیل صاحب نے مزید پوچھا۔
” ممکن ہے” ۔ لڑکی نے آہستگی سے جواب دیا۔
” جیوری اور فاضل جج اس بات کو نوٹ فرمائیں کہ پولیس کو جرم کو ثابت کرنے کے لیے اس لڑکی نے جو ثبوت مہیا کیے ہیں۔اس میں برا کی رنگت تو سیاہ ہے۔لیکن پینٹی پھولدار ہے۔” وکیل صفائی نے ایک فاتحانہ انداز میں اپنا پوائنٹ رجسٹر کرایا۔
انہی  خیالات میں غلطاں اس نے فیصلہ کیا کہ فی الحال وہ اس  راز کو خاموشی سے نبھائے بعد میں دیکھا جائے گا۔وہ چپ چاپ اسٹڈی میں آن کر بیٹھ گئی اور جتنی دعائیں اور وظائف یاد تھے پڑھنے لگی۔ گیٹ پر گھنٹی بجی تو گارڈ نے دروازہ کھولا ۔
طفیل خان آج صبح معمول سے پہلے ہی لوٹ آیا تھا۔اس نے فون بجنے کی گھنٹی بھی سنی تھی اور کچن میں شیری کے ناشتہ  کرنے کی آواز بھی اسے سیٹی بجاتی کیتلی کی وجہ سے آئی تھی۔ اس نے اپنی اسٹڈی کے پردے کی اوٹ سے دیکھا ۔ شیری کو طفیل خان گیٹ کے پاس ملا مگر اس کی آنکھوں میں ایک ناپسندیدہ حیرت شیری کے لیے اس لیے تھی کہ اس نے کبھی بھی وہاں رات کو قیام نہیں کیا تھا۔ شیری ایسا لڑکا نہ تھا جس کے لیے کوئی شریف گھرانہ اپنے گھر کا دروازہ کھولتا۔ اس نے طفیل خان کو اشارے سے بتایا کہ اسے فون آگیا ہے اس لیے وہ جلدی میں جارہا ہے۔
شیری جب چلا گیا تو محاسن کچن میں ناشتے کے لیے آئی تو اس نے دیکھا کہ طفیل خان کی آنکھوں میں بے چارگی، افسوس اور اس سے ناپسندیدگی کے جذبات بیک وقت موج زن تھے۔اسے لگا کہ وہ اس کی اس نادانی پر دل ہی دل میں آنسو بہارہا ہے۔ اس نے اشاروں سے محاسن سے دریافت کیا کہ کیا شیری رات کو اس کے پاس ٹھہرا تھا؟۔ جواب میں محاسن کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تو طفیل خان نے اپنے کرب کا اظہار کیا کہ یہ سب کچھ اس کی غیر موجودگی کی وجہ سے ہوا۔۔اس نے محاسن کے پیر پکڑ لیے اور کاغذ پر لکھ کر بتانے لگا کہ وہ اپنی بہن پر ہونے والے ظلم کی وجہ سے پہلے ہی بہت پریشان تھا ۔ اب اسے لگ رہا کہ اس کے گھر کی دو محترم خواتین کے ساتھ زیادتی ہوئی ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ کیا کرے۔ وہ اپنا سر دیوار پر مارنے لگا تو محاسن نے اسے پرسکون کرنے کے لیے پانی کا گلاس دیا اور چھت کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگی کہ اللہ سب دیکھ رہا ہے۔ وہی بدلہ لے گا۔
دفتر پہنچی تو اسے بتایا گیا کہ آج چیمبر میں الیکشنز ہیں ۔ ایک صدارتی امیدوار اسے لینے کے لیے اپنے بہنوئی کو روانہ کرچکے ہیں۔ چیمبر کے الیکشن میں بہت گہما گہمی تھی ۔ محاسن کو اگر یہ پہلے سے معلوم ہوتا کہ فرحان بھی وہاں آیا ہوا ہے تو شاید وہ وہاں جانے سے اجتناب کرتی۔اس کی ملاقات فرحان سے بہت اچانک ہوئی۔ زبیر صاحب جن کے کہنے پر وہ انہیں ووٹ ڈالنے آئی تھی ۔ وہ اسے بالکل بیٹیوں کا درجہ دیتے تھے ۔اس کے ابو کے بھی بہت اچھے دوست تھے۔
وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے ایک گروپ سے ملانے لے گئے۔ فرحان وہاں اس گروپ میں موجود تھا۔محاسن نے دیکھا کہ وہ اس کو اچانک وہاں موجود پاکر کچھ ہڑبڑاسا گیا مگر جلد ہی سنبھل کر کہنے لگا کہ “چلو کینٹین میں چائے پیتے ہیں”۔محاسن نے سوچا کہ سچ کو سامنے لانے کا اس سے  بہتر موقع  اسے شاید پھر نہ ملے۔ وہ اس خیال کو دل میں سمائے اس کے ساتھ جاکر ایک کونے والی میز پر سب کی طرف پشت کرکے کھڑکی کے سامنے بیٹھ گئی۔ کھڑکی کے باہرالیکشن کی بہت ہما ہمی تھی۔ کینٹین میں بہت تھوڑے لوگ تھے۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اسی نے مہر سکوت توڑی۔ اس تمام عرصے میں وہ اس کے جذبات کے چہرے پر جائزہ لیتا رہا۔
“بیگم کیسی ہیں اور بیٹی کا نام کیا رکھا ہے؟” محاسن نے ہمت کرکے سوالات کے اسلحہ میں سے پہلا فائر داغا۔

“بیگم تو سامنے بیٹھی ہیں۔ وہ بتا سکتی ہیں وہ کیسی ہیں مجھے تو ہمیشہ سے اچھی لگتی ہیں؟”
“شٹ۔ اپ “محاسن نے غصے سے کہا
“یہ ہمیشہ کی ہدایت ہے یا صرف موقع  کی رعایت سے حکم دیا گیا۔”
“یو آر میریڈ آئی نو ” محاسن نے جتایا
“میرا خیال تھا کہ آپ کو ،ہم دونوں کی شادی کایہ اعتراف کرنے میں ہمیشہ تامل رہا۔”
“آئی ایم ناٹ یور وائف۔”
“دین نو باڈی ایور ول بی۔آئی ایم پرمیننٹ وڈو۔”
“یو آر ناٹ سیریس۔ بیٹی کا نام کیا ہے۔”
“بیٹی کا نام وہی ہوگا جو تم رکھو گی۔”
جس وقت محاسن نے اس سے یہ کہا کہ ” آر یو شیور یو آر ناٹ میریڈ ؟ ” اس کے کانوں میں شیری کے وہ الفاظ پگھلا ہوا سیسہ بن کر گھل رہے تھے کہ ” بیڈ نیوز یہ ہے کہ انہوں نے شادی کرلی ہے اور ان کی چھ ماہ کی بچی ہے” ۔انتقام کے انہیں جذبات سے مغلوب ہوکر اس نے شیری کو اس رات اپنے بیڈ روم میں مدعو کیا تھا ۔وہ مناظراب ایک ایک کرکے اپنی  اصل ترتیب سے تیزی سے اس کی نگاہوں میں گردش کررہے تھے اسے شیری کا وہ جواب بھی یاد آیا جو اس کے سوال ” کیا واقعی بابا غلام رسول نے اسے یہ بتایا تھا کہ فرحان کی شادی ہوگئی ہے؟”
“نہ صرف آپ کے قبلہء مقصود نے شادی کرلی ہے مگر ان کی ایک چھ ماہ کی صاحب زادی ہے ۔آپ اس پیار پر فاتحہ پڑھ لیں۔ کم از کم آج کی رات تو حاضر کو حضور سمجھیں۔”۔اس انکشاف سے اس کا دل کرچی کرچی ہوگیا تھا ۔ جس کا ان نے بہت لطف لیا تھا۔

اسے ایسا لگا کہ چیمبر کی ساری عمارت اس پر گر پڑے گی۔ وہ اسے کہنے لگی پلیز مجھے گھر چھوڑ دو یا اپنے ساتھ کہیں لے جاؤ۔ وہ بہت سلیقے سے اسے تھام کر پچھلے دروازے سے  پہلے تو باہر لے آیا اور پھر گاڑی میں بٹھانے لگا تو اس نے کہا کہ وہ پہلے گھر چلے۔ دفتر فون کرکے اس نے گاڑی وہیں گھر پر منگوالی۔ اپنی ایک دوست کو فون کیا کہ وہ فوراً اپنی سائکاٹرسٹ کو فوری طور پرملنے کا کہے۔
گھر سے وہ سیدھی وہاں فرحان کے ساتھ پہنچی ۔اسے خیال ہوا کہ بعد میں اگر کبھی اسے اپنی اس ڈاکٹر کے پاس جانا پڑے تو فرحان کو اس بارے میں پہلے سے علم ہونا ضروری ہے ورنہ بعد میں پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی تھیں۔ ڈاکٹر جو خود بھی بہت سائشتہ اور ہمدرادانہ رویوں کی مالک تھی اسے محاسن نے سب کچھ   مکمل تفصیلات کے ساتھ بتادیا ۔ ڈاکٹر نے جو حال ہی میں باہر سے ایک پین مینجمنٹ  کی تربیت اور پاسائکومیٹک میڈیسن کی ڈگر ی امریکہ سے لے کر آئی تھی۔ اس کا ان دنوں شہر میں بہت چرچا تھا۔ ڈاکٹر نے اس کی پوری روداد بہت اطمینان سے سنی اس دوران وہ مسلسل نوٹس بھی لیتی رہی۔ محاسن کو اپنی روداد سناتے وقت اس نے نہ تو کوئی سوال پوچھا نہ ہی اسے درمیان میں کبھی ٹوکا ۔محاسن نے بھی الف سے لے کر یے تک اسے پوری تفصیلات بلا کم و کاست کے سنادیں۔

ڈاکٹر نے اسے سمجھایا کہ سب سے پہلے تو وہ اس ایک سوال سے نجات حاصل کرے جو اسے بار بارپچھتاؤں کی جانب دھکیلے گا اور اسے ایک مسلسل ڈیپریشن کی مریضہ بنادے گا کہ ” اس نے شیری پر بھروسا کیوں کیا؟”
دنیا میں اکثر جرائم اس لیے وقوع پذیر ہوتے ہیں کہ ہم سب اپنے آپ کو اپنے حالات کا مکمل کنٹرولر سمجھتے ہیں۔ ایسا کرتے وقت ہم ملزم کی جرم کرنے کی صلاحیت۔اس کی جنسی، سماجی اور مالی محرومیاں مکمل طور پر نظر انداز کردیتے ہیں۔ ہمیں اس کے ہمارے بھروسے کا فائدہ اٹھانے کی مجرمانہ صلاحیت کا بھرپور فائدہ اپنے مقاصد کی تکمیل میں استعمال کرنے کی موقع پرستی کا ہمیں کوئی ادراک نہیں ہوتا۔
ایک طرح سے ہم خود بھی اس کا شکار بننے کے لیے اپنے آپ کو ذہنی طور پر پروگرام کررہے ہوتے ہیں ۔ وہ نوجوان جن میں ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری ہو جیسے کہ شیری میں تھی ان میں اپنی سماجی اور مالی محرومیوں کے دباؤ کی وجہ مجرمانہ صلاحیتیں جلد ابھر آتی ہیں۔ ملک میں سیاسی پارٹیوں کی انہیں اپنے دامن میں محفوظ رکھنے کی اور تشدد آمیز سیاست نے انہیں قانون کے ہاتھوں سے محفوظ بھی بنادیا ہے۔سیاسی پارٹیاں ان کی انہیں محرومیوں کو اپنے مقاصد کی تکمیل میں کھل کر استعمال کرتی ہیں۔اسی سرپرستی کی آڑ میں وہ انہیں بدکرداری کی طرف بھی دھکیلتی ہیں۔ ان کا یوں کرمنل ریکارڈ تیار ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے ان کا استحصال کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔
اس پس منظر کو بطور تشخیص بیان کرکے اس نے صرف ایک سوال پوچھا کہ” کیا کبھی اسے لگا کہ شیری کا تعلق جرائم کی دنیا سے ہے اور اس میں اپنے مقاصد کے حصول میں رکاوٹ آنے پر وائلنٹ ہونے کی صلاحیت ہے”۔ محاسن نے ذہن پر زور ڈالا تو اسے یاد آیا کہ اس بات کا اشارہ شیری نے کل دو دفعہ دیا تھا ایک تو پہلی ملاقا ت میں ماچس پیش کرتے وقت اس نے ایک جملہ بطور مذاق کہا تھا کہ یوں بھی مجھے اگر کوئی حادثہ ہوجائے تو گاڑیوں کو آگ لگانے میں بہت مزہ آتا ہے”۔ اس حوالے سے دوسرا اشارہ اسے اس وقت ملا تھا جب شیری کو محاسن نے طفیل خان کی اسے پیار سے دیکھ کر جلنے والی عادت کے بارے میں بتایا تھا اور اس کا رد عمل جاننے کے لیے پوچھا کہ کہیں یہ نہ ہو کہ وہ غصے میں آن کر ایک دن مجھ پر پستول تان لے۔ خیبر پختونخواہ کا جواں مرد ہے ہتھیار ہر وقت اپنے نیفے میں اڑسے رہتا ہے اور ایمان کا مجھے علم نہیں اور تم انچولی والے”ہم ہیں راہی پیار کے سے کچھ نہ بولیے۔” گاتے رہ جاؤگے۔
شہر یار مرزا نے اس کی یہ بات سن کر کچھ دیر توقف کیا اور کہنے لگا “اگر ایسا ہوا تو ایک بوری اس دن خوشحال خان ایکسپریس کے ڈبے سے ملے گی جس میں گونگے پہلوان استاد طفیل خان کی لاش بند ہوگی۔”
“ہائے تم بھی اتنے وائلنٹ ہو”۔محاسن نے یہ بات سن کر اسے جتلایا۔
“صرف تیرے معاملے میں بسنتی”۔ شہریار مرزا شوخی میں آن کر کہا۔ ڈاکٹر کہنے لگی۔
” This was not a joke. These were all first tell-tale signs of his criminal behavior and hi nefarious linkages.Every day you hear such stories. People settle their scores by using such criminal elements. You completely ignored this important warning about him.No more regrets now”
(یہ سب کچھ محض ایک مذاق نہ تھا۔ یہ اس کی مجرمانہ ذہنیت اور جرائم کی دنیا سے اس کے رابطوں کی واضح نشانی تھی۔ تم تو روزانہ اس طرح کی وارداتوں کا سنتی ہو۔ لوگ اپنے بدلے اسی طرح کے مجرموں کو استعمال کرکے لے رہے ہیں۔اس کے باو
جود تم نے اسے باآسانی نظر انداز کردیا۔ مگر اب اس پر پچھتانے کو کچھ فائدہ نہیں)
محاسن کو اس کی بات سے کچھ دھاڑس بندھی تو وہ اسے کہنے لگی کہ اس کے لیے فوری طور پر تین ہدایات ہیں جن پر وہ عمل کرے گی تو بہتر ہے۔ سب سے پہلی ہدایت تو یہ ہے کہ اس واردات کے حوالے سے وہ کسی سے کوئی تذکرہ نہ کرے۔مکمل خاموشی اختیار کرے۔ اس حوالے سے سوائے اپنی ڈاکٹر کے مزید کوئی گفتگو اور راز افشانی کرنے کی ضرورت نہیں۔فرحان کو تو کبھی بھی اس حوالے سے کچھ نہیں بتانا۔ موقع آئے گا تو وہ خود اس معاملے میں اس کی رہنمائی کرے گی۔
دوسرے اس باب میں محاسن کی جانب سے احساس جرم قابل فہم ہے ۔انتقام اور اپنا احساس تنہائی مٹانے کے تحت اس نے شیری کو اپنے گھر بلایا تھا۔ بعد میں جب اسے لگا کہ یہ سب کچھ ٹھیک نہیں تو بہت دیر ہوچکی تھی۔ یہ واردات ہر اس خاتون کے ساتھ ہوسکتی ہے جو کسی مرد پر بھروسہ کرتی ہو۔اس جرم کا بڑا حصہ تو وہ ہے جو کسی اجنبی اور کسی سے غیر وابستہ عورت یا لڑکی کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے ۔ ریپ میں عورت کو مورد الزام ٹہرانا مناسب نہیں۔چونکہ عدالتیں اور تفتیش کار وں کی اکثریت مردوں پر مشتمل ہوتی ہے لہذا وہ یہ بات کبھی بھی نہیں جان پائیں گے ۔ وہ خود کو ابھی اسی وقت باور کرائے کہ جو کچھ ہوا اس میں اس کاکوئی قصور نہیں۔
تیسری اہم ہدایت یہ ہے کہ وہ اگر اس سے دوبارہ رابطہ کرے تو وہ نہ تو فون لے نہ اس کے پیغام کا جواب دے وہ اس کا کھویا ہوا اعتماد حاصل کرنے کے لیے معافی مانگنے کا کہے گا۔ اگر اس کا رابطے پر اصرار بڑھے تو وہ ایک سلیقے سے اس کی بڑی بہن جو اس کی مالی امداد کی وجہ سے اپنی گھر کی ہوگئی ہے ۔ اس کی خدمات حاصل کرے۔کسی طور پر بھی اس میں وہ Outside Institutional Intervention (بیرونی ادارہ جاتی مداخلت)۔ لینے کی ضرورت نہیں اس کا بہت فال آؤٹ ہوگا ۔جس کا کنٹرول محاسن کے  لیے بہت مشکل ہوگا۔ اس کے اثرات اس کے کنٹرول سے باہر ہوں گے اور راز داری کا جو اہتمام اس پورے معاملے میں لازم ہے وہ اس مداخلت کے بعد ممکن نہ رہے گا۔ کوشش کرے کے اگر وہ اسے تنگ کرتا ہے یا رابطے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اس کا واردات کا شور Muffle) ۔آواز گھونٹ دینا) کرکے اس کے گھریلو کنٹرولر کو بیان کرے۔جیسے وہ کچھ ایسے مطالبات کررہا ہے جو پہلے تو نارمل سمجھے جاسکتے تھے ۔ اب چونکہ اس کا منگیتر پاکستان آگیا ہے لہذا اس سے ملنا جلنا اس کے اور اس کے منگتیر کے آئندہ کے تعلقات پر برا اثر ڈالے گا۔ اس کے سابقہ جرم عینی ریپ کے بارے میں ہرگز اس کی بہن کو نہ بتائے۔ہماری اگلی ملاقات جب وہ چاہے ہوسکتی ہے۔ اس کی جانب سے وہ مطمئن رہے۔ ڈاکٹر سے مل کر محاسن کو ایک گونہ اطمینان ہوا ۔ اس نے سب کچھ سن نے سے پہلے اسے پرسکون بنانے کے لیے دو عدد ٹیبلیٹس بھی دی تھیں جس کا اس کے مزاج پر بہت خوش گوار اثر ہوا۔
وہاں سے باہر آئے تو فرحان ضد کرکے اسے ایک عمدہ کلب میں کھانے پر لے گیا۔ وہ اسے نظر انداز کرنے کا صرف ایک جواب پیش کرتا رہا کہ اس کی مالی حیثیت اور باپ کی ملازمت کا طعنہ اس کی انا کو پاش پاش کرگیا تھا۔ اسے محاسن کے پیار پر پورا بھروسا تھا۔وہ اسے بہتر حیثیت میں اپنی شریک حیات بنانا چاہتا تھا۔پانچ بڑے ہسپتالوں اور لیبارٹریوں سے ملنے والے ارڈرز ن نے اس کی مالی حیثیت میں نمایاں تبدیلی کردی ہے۔ اپنی کمپنی کا نام بھی اس نے محاسن اینڈ فرحان اسوشیٹس رکھا ہے ۔ اس کے شناختی کارڈ کی ایک کاپی اس کے پاس موجود تھی جس کی وجہ سے کمپنی میں اسے شراکت دار بنانے پر اسے کوئی دشواری نہ ہوئی۔یوں بھی اس کے تعلقات کی وجہ سے یہ سب کچھ باآسانی ہوگیا۔ وہ اس سے نہ ملنے کے باوجود اس کے کاروبار میں برابر کی شریک ہے
محاسن کو اگر اعتراض نہ ہو تو وہ جب چاہے شادی کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اس نے منیب کو تو اپنے ایک دوست کے ذریعے کل ہی پیغام دیا جس کا جواب اسے آج  ہی یہ موصول ہوا کہ وہ محاسن اور وقاص سے پوچھ کر بتائے گا۔
محاسن نے سب کچھ فرحان سے پوچھ کر اسے یقین دلایا کہ اسے کوئی اعتراض نہیں۔ دفتر پہنچ کر اس نے طفیل کو گھر جانے کی چھٹی دے دی۔اب اکثر یوں ہوتا تھا کہ یا تو محاسن شب کو فرحان کے گھر ہوتی تھی یا فرحان محاسن کے پاس رہنے آجاتا تھا۔ اس بات کو ایک ماہ ہوچلا تھا۔ وقاص بھی مان گیا تھا۔
محرم کا مہینہ اگر شروع نہ ہوا ہوتا تو یہ شادی جلد ہوجاتی مگر پھر سب نے یہ فیصلہ کیا کہ چہلم کے فوراً بعد ایک سادہ سی تقریب میں شادی کرلیں گے۔شیری نے اس دوران اسے کئی دفعہ فون کرنے اور میسج دینے کی کوشش کی وہ ڈاکٹر کی چیتاونی کی حوالے سے اپنے رویے کے بارے میں شرمندہ تھا ۔وہ اسے  ملنے کی اجازت دے، وہ آئندہ کبھی بھی کوئی ایسی بات نہیں کرے گا۔
سمیرہ کو محاسن نے جب یہ بتایا کہ شہد اء کربلا کے چہلم کے بعد وہ اور فرحان شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔ وہ اب اپنی سابقہ خرابیوں سے دور ہوکر ایک نیک زندگی گزارنا چاہتی ہے ۔شیری اس بات کو سمجھ نہیں رہا اور اس کا برتاؤ بہت غیر ذمہ دارانہ ہے ان دونوں نے آپس کے مشورے سے کار بھیج کر اس کی بہن کو جس کی شادی میں یہ دونوں پیش پیش تھیں حتیٰ کہ شادی کے لیے لڑکا بھی سمیرہ نے ڈھونڈ کر نکالا تھا ۔ سمیرہ کے گھر بلایا۔ زیادہ تر گفتگوسمیرہ نے ہی کی۔ بہن نے وعدہ کیا کہ شیری اب کبھی انہیں تنگ نہیں کرے گا اور وہ اسے محاسن سے اب کسی قسم کا رابطہ کرنے سے باز رکھے گی،اس گفتگو کا فوری اثر ہوا اور وہ کچھ دنوں کے لیے غائب ہوگیا۔
یہ دن محاسن کی زندگی کے حسین ترین دن تھے۔ اب وہ دھڑلے سے فرحان کے ہاں جاتی۔فرحان کی ضد تھی کہ وہ شادی کے بعد اس کے گھر پر رہیں گے۔ محاسن کے ساتھ والا گھر جو بہت دنوں سے خالی تھا اس کو خریدنے کے لیے فرحان نے کوشش شر
وع کردی تھی۔اس کا خیال تھا کہ بعد میں وہ اپنا گھر بیچ کر بہنوں کا حصہ بھی انہیں دے دے گا اور گھر بڑا ہوگا تو وہ اسے نئے انداز سے سجائیں گے۔ محاسن اپنی شادی کے سامان کی خریداری کے لیے دوبارہ لندن گئی تو ایک ہفتے بعد ہی وہ اسے لینے پہنچ گیا دونوں نے پیرس اور ایمسٹرڈم ساتھ گھوما اور دو ہفتے کی غیر حاضری کے بعد دونوں ساتھ ہی واپس آگئے۔
وہ رات یوں بھی عجیب تھی کہ طفیل خان جس نے گاؤں سے دو دن پہلے پہنچنا تھا وہ اب تک نہ آیا تھا۔ شام سے برسات بھی بہت تھی۔فرحان کے ساتھ جب وہ دفتر سے گھر پہنچی تو برگنڈی بھی بیمار بیمار سی لگی ۔ دو دن سے ویسے بھی کھانا پینا اس نے کم کردیا تھا۔محاسن کی مرضی تھی کہ وہ اسے جانوروں کے کسی ڈاکٹر کو دکھانے لے جائیں مگر بحث و تمحیص میں رات زیادہ ہوگئی فرحان نے اسے یقین دلایا کہ صبح کو پہلا کام وہ اسے ڈاکٹر کو دکھانے کا کریں گے۔
اس رات محاسن اپنی غلطی کے ازالے کے لیے پہلے تو اس کے ایبا گروپ کے مشہور گیتThe Day before you came پر مچلتی تھرکتی رہی۔پھر جامنی رنگ کی ساڑھی ، کردھانی پہن کر وہ وکٹوریہ سکیرٹ کی برا میں وہی وہسکی کے دو جام چڑھا کراسی کے پسندیدہ گیت

ظلمی رات ما۔۔۔۔ ارے اونس اونس۔۔او کانچا۔۔ آج تو ظلمی رات ما ،دھرتی پر ہے آسماں، کوئی رے بن کے
چاندنی اترا من کے آنگنا پر اکیلی ناچتی رہی ۔اس رات وہ پیار کرتے کرتے ایک دوسرے کی بانہوں میں سمٹ کر سوگئے۔
شیری صبح کوئی پانچ بجے تین لڑکوں کے ساتھ آیا۔ سائلنسر لگے پستول سے پہلے تو انہوں نے گارڈ کو قتل کیا۔ایک گولی اس نے برگنڈی کو بھی ماری، جو پہلے تو ہلکا سا بھونکی تھی مگر اسے سونگھ کر اور پہچان کرچپ ہوگئی تھی۔ بعد میں ان  چاروں نے کھڑکی توڑ کر محاسن اور فرحان کو باہر ہی سے گولیاں ماریں۔چونکہ پستولوں پر سائلنسر لگے تھے لہذا کچھ شور شرابہ نہ ہوا۔اس کے ساتھ آئے تین لڑکوں کا خیال تھا کہ وہ لائنز ایریا سے گاڑی اور دو لڑکے اور لے آئیں گے اور سامان بھر کے لے جائیں گے تو پولیس قتل کی اس واردات کا تعلق ڈکیتی میں مزاحمت کے شبے سے جوڑ دے گی۔ پولیس کو اس سلسلے میں مناسب طور پر ہدایات دے دی جائیں گی۔
پولیس کا انہیں کچھ خوف نہ تھا مگر میڈیا کو اس واردات کو ڈکیتی کا روپ دے کر آف ٹریک کرنا آسان ہوگا۔یوں کسی کا دھیان شیری کی طرف بھی نہ جائے گا۔وہ اسے وہیں چھوڑ کر چل دیے ان کا مشورہ تھا کہ آتے آتے چھ بج جائیں گے لہذا وہ صبح آٹھ بجے تک نئے گارڈ کے آنے سے پہلے پہلے نکل لیں گے۔وہ کچھ دیر سو لے ان کی جانب سے فون پر مس کال آئے تو وہ گیٹ پر آجائے۔ چھوٹا گیٹ وہ کھلا ہی چھوڑ کر جارہے ہیں۔
طفیل خان بھی ایک رات پہلے گاؤں سے آیا تھا مگر اس نے اپنی آمد کی اطلاع کسی کو نہ دی ، نہ محاسن کو نہ شیری کو ۔ اس نے اپنے بہنوئی اور اس کی نئی بیوی کو اسی کے گھر میں اسی رات دو بجے قتل کیا جس رات شہریار گروپ نے محاسن اور فرحان کو مارا ۔ وہ وہیں بہنوئی کے گھر پر نہایا دھویا۔ اپنے کپڑے تبدیل کیے اور محاسن کے گھر کی جانب چل پڑا۔
جس وقت وہ پہنچا اس نے دیکھا کہ گیٹ پر گارڈ موجود نہ تھا اور چھوٹا دروازہ بھی کچھ اس انداز میں کھلا تھا جیسے کسی کو اس سے باہر نکلتے وقت جلدی ہواور وہ اسے ٹھیک سے بند کرنا بھول گیا ہو۔کیاری کی ساتھ والی مٹی پر تازہ تازہ موٹرسائیکلوں کے ٹائروں کے جدا جدا نشان تھے۔وہ سمجھ گیا کہ بنگلے میں کوئی واردات ہوئی ہے۔اسے جنڑیٹر کے پیچھے سے گارڈ کے پیر دکھائی دیے ،اپنا پستول ہاتھ میں لیے جب وہ آگے بڑھا تو خون کی ایک دھار نکل کر آگے بہہ رہی تھی۔ گارڈ کے سر میں پیچھے سے گولی ماری گئی تھی۔ برگنڈی بھی اس کے پاس مردہ حالت میں پڑی تھی۔ بنگلے کے اندر وہ کچن کے راستے تالا اپنے پاس موجود چابی سے کھول کر داخل ہوا تو رات بھر کا جاگا شیری پستول سرہانے رکھے سورہا تھا۔
وہ چپ چاپ اوپر کوئی شور مچائے بغیر گیا تو بیڈ روم کا دروازہ کھلا تھا۔ محاسن کی لاش بستر پر موجود تھی ۔ایک باریک سی جامنی ساڑھی میں لپٹی البتہ اسے لگا کہ ساتھ کی میز سے فون اٹھانے کی کوشش میں فرحان کو گولی اس طرح لگی تھی کہ اس کا آدھا دھڑ بستر پر اور آدھا بستر سے نیچے جھول گیا تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ اس ورادات کا مرکزی کردار شیری ہے جسے فرحان کے آنے پر بادل ناخواستہ محاسن کی زندگی سے جانا پڑا۔ اس نے محاسن اور فرحان سے انتقام لیا ہے ۔یہ سب کچھ سوچ لینے کے بعد وہ بہت آہستگی سے کچن میں آیا اپنے پستول میں نیا میگزین لوڈ کیا اور کسی شور کے بغیر اس نے شہریار کے سر کے عین اوپر جاکر چھ کی  چھ گولیاں اس طرح ماریں کہ ہرطرف اس کے دماغ کے لوتھڑے دیوار سے اور صوفے کے کشنز سے چپک گئے۔
فائرنگ کے شور سے پاس پڑوس کے گارڈ اور پولیس والے بھی پہنچ گئے۔ طفیل خان کا سکون اور اطمینان سبھی کے لیے باعثِ حیرت تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *