ایک غزل کی تشریح۔۔۔۔ہارون الرشید

ڈاکٹر راحت اندوری ہندوستان کے ایک مقبول شاعر ہیں اور اُن کا شاعری پڑھنے کا انداز بھی کمال کا ہے۔ اُن کی ایک غزل سنی تو خیال آیا کہ کیوں نہ اِس کی تشریح کی جائے جیسے کبھی سکول کے زمانے میں شعروں کی تشریح کیا کرتے تھے۔ تو ذیل میں شعروں کی تشریح درج ہے:
؎ جھوٹوں نے جھوٹوں سے کہا ہے سچ بولو
سرکاری اعلان ہوا ہے سچ بولو
اِس شعر کے پہلے مصرعے میں شاعر کہہ رہا ہے کہ تحریکِ انصاف کی قیادت نے تحریکِ انصاف کے کارکنوں کو سچ بولنے کی تلقین کی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ قیادت اور کارکن دونوں نے ایک دوسرے کو سچ بولنے کی تلقین کی ہو۔
دوسرے مصرعے کو سوچتے، لکھتے اور پڑھتے ہوئے شاعر کے دماغ میں خان صاحب کا یہ اعلان گونج رہا تھا کہ “میں ہمیشہ اپنی قوم سے سچ بولوں گا”۔

؎ گھر کے اندر جھوٹوں کی اک منڈی ہے
دروازے پر لکھا ہوا ہے سچ بولو
اِس شعر میں دراصل شاعر یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ کابینہ کے اندر جھوٹوں کی ایک منڈی ہے اور کابینہ میٹنگ رُوم کے دروازے پر وزیرِاعظم کے سچ بولنے کا اعلان درج ہے۔ شاعر کے ذہن میں سچ بولنے کی جو چند مثالیں آ رہی تھیں، اُن میں سے چند میں یہاں درج کر دیتا ہوں:
1) میں ہمیشہ عوام سے سچ بولوں گا: وزیرِ اعظم

(2) حکومت نے ڈاکٹر فرخ سلیم کو معیشت کے لیے وزیرِاعظم کا معاونِ خصوصی کبھی مقرر ہی نہیں کیا: وزیرِ اطلاعات

(3) وزیرِاعظم نے کبھی آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینے کی بات نہیں کی: وزیرِ خزان

(4) پنجاب حکومت کی سو روزہ کارکردگی میں شہباز شریف حکومت کے منصوبوں پر تحریکِ انصاف کا لیبل لگا کر نمائش

(5) گزشتہ حکومت کے مختلف منصوبوں کے سنگِ بنیاد پر نئی حکومت کا دوبارہ سنگِ بنیاد

(6) تیس ہزار ارب کے قرضے

(7) سوئس بینکوں کے دو سو ارب ڈالرز کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں: وزیرِ خزانہ
اور اِس طرح کی اور بے شمار مثالیں

؎ گلدستے پر یکجہتی لکھ رکھا ہے
گلدستے کے اندر کیا ہے؟ سچ بولو
یہ شعر درج کرتے وقت شاعر دراصل کہنا یہ چاہ رہا ہے کہ چُوں چُوں کے مربے پر یکجہتی کا لیبل لگایا ہوا ہے لیکن سچ بولنے کی تلقین کرنے والے نہ تو جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کی “یکجہتی” کا ذکر کرتے ہیں، نہ شیخ رشید اور فیاض الحسن چوہان کی “یکجہتی” کا، نہ یار محمد رِند اور جام کمال کی “یکجہتی” اُن کو دِکھتی ہے اور نہ شیریں مزاری اور فردوس عاشق اعوان کی “یکجہتی” اور نہ قائدِ حزبِ اختلاف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنائے جانے پر وزیرِاعظم سمیت پوری کابینہ کی “یکجہتی”۔

؎ گنگا میا ڈوبنے والے اپنے تھے
ناؤ میں کس نے چھید کیا ہے، سچ بولو
یہ شعر کہتے وقت شاعر کے پیشِ نظر ماضی اور مستقبل دونوں کا نقشہ موجود تھا۔ ماضی یعنی ماضی قریب کا الیکشن کہ جِس میں شاعر حقیقی مقتدر قوتوں کو یہ باور کروا رہا ہے کہ اُس سیاسی قوت کہ جس کی شکست پر ‘وتعز من تشا وتذل من تشا’ کی ٹویٹ آئی تھی، اُس سمیت تمام سیاسی قوتیں کہ جن کو میدان سے باہر رکھنے کا بندوبست رچایا گیا وہ سب اپنی ہی تھیں، اور اُن کو مصنوعی طریقے سے اقتدار سے دور دھکیلنے کا جو ڈرامہ رچایا گیا، اُس ڈرامے کی حقیقت اور ڈرامہ نویس کا کردار پوری سچائی سے سامنے لایا جانا چاہئے۔
اور مستقبل کا جو نقشہ شاعر کے ذہن میں موجود تھا، وہ نئی حکومت کی نالائقی، نااہلی اور ناتجربےکاری کی بدولت ملک اور ملکی معیشت کے ڈوبنے کا تھا۔ اور بظاہر طاقتور نظر آنے والی لیکن حقیقت میں کمزور اپوزیشن جس کا ہونا اور نہ ہونا ایک برابر ہے، کابینہ میں موجود جغادریوں کے نِت نئے تماشوں سے اُس اپوزیشن کا کام خود آسان کرنے کی بدولت شاعر وزیرِاعظم کو یہ باور کروا رہا ہے کہ اپنے ہی سچ بولنے کے اعلان پر قائم رہتے ہوئے ملک اور ملکی معیشت کے حالات اِس قدر دگرگُوں کرنے والے اپنے ارد گرد پھیلے کرداروں کو ابھی سے خود بےنقاب کر دیں۔ پانی سر سے کزر گیا تو ناؤ میں چھید کرنے والے کہیں اور اڑان بھر جائیں گے اور جنابِ وزیرِ اعظم کا سچ بولنے کا سرکاری اعلان محض اعلان ہی رہ جائے گا۔

ہارون الرشید
ہارون الرشید
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *