محاسن۔۔۔۔محمد اقبال دیوان /قسط3

محمد اقبال دیوان  کی زیر طبع طویل کہانیوں کی چوتھی کتاب  ’’چارہ گر ہیں، بے اثر‘‘میں شامل جو اردو کے موقر ادبی جریدے سویرا کے شمارہ بابت جولائی ۲۰۱۶ میں شائع ہوچکی ہے
محاسن
چار اقساط کی تیسر ی قسط

گھر آن کر وہ سوگئی۔ تین گھنٹے بعد اٹھ کر جب وہ غسل کررہی تھی عنادل کمرے میں آیا اور سیدھا باتھ روم کا دروازہ کھول کر اسے بہت انہماک سے دیکھنے لگا۔ محاسن نے سوچا کل رات سے اب تک کے یہ عجیب لمحات ہیں۔اس کی عریانگی دو مردوں کی نگاہوں میں کھب کر رہ گئی تھی ۔ وہ ہاتھ پھیلائے جب اسے سمیٹنے کو آگے بڑھا تو محاسن نے انتہائی غصے سے اسے جھڑکا کہ” ڈونٹ یو ڈئیر”۔ وہ اس کی اس جھڑکی سے ڈر کر انہیں قدموں سے واپس پیچھے ہٹ گیا ۔کہنے لگا کہ اس کا باس آیا ۔محاسن کو اس نے درخواست کی کہ وہ تیار ہوکر نیچے ڈرائنگ روم میں آجائے ۔محاسن نے نیچے آکر خانساماں کو اس کے لیے چائے لانے کا کہا۔ باس بھی عنادل کا ہم عمر تھا۔کچھ دیر بعد وہ دونوں رخصت ہوگئے
محاسن اس شش و پنج میں مبتلا رہی کہ وہ عنادل سے اپنی شادی ختم کرنے کے بارے میں براہ راست اپنے بھائی بھابھی سے بات کرے یا فروزاں کو پہلے اعتماد میں لے۔ وہ اپنے ابو کے گھر گئی تو خلاف توقع وہ گھر پر تھے ۔ آج ان کے اینجائنا میں کچھ شدت تھی۔ فروزاں اور اس کا بھائی کچھ ہی دیر پہلے انہیں دل کے ڈاکٹر کو دکھا کر   لائے تھے۔محاسن نے مناسب نہ سمجھا کہ وہ اس موقعے پر اپنا روگ بیان کرنے بیٹھ جائے۔
جب اس کے ابو سوگئے تو فروزاں نے اس سے پوچھا کہ ” وہ رات کہاں تھی۔ اس کے ابو نے اعلی الصبح اسے فون کرنے کو کہا تو اس کے فون پر گھنٹیاں تو بج رہی تھیں پر جواب نہیں مل رہا تھا۔کیا وہ رات فرحان کے ساتھ تھی؟!” ۔ اس لمحے محاسن کو خیال آیا کہ رات سے اس نے فرحان کے ساتھ کار میں بیٹھتے ہی اپنا فون سائلنٹ پر کرکے پرس میں رکھ دیا تھا اور اب تک اس کی خبر نہ لی تھی۔
اس نے بہانہ تراشا کہ چونکہ عنادل نہیں آیا تھا لہذا وہ پی پلا کر فون کا رنگر سائلنٹ پر رکھ کر سوگئی تھی۔ عنادل کے معاملے میں وہ اب کسی فیصلے پر پہنچنا چاہتی ہے۔فرحان والی بات پر اس نے کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا ۔ ممکن تھا کہ کسی قسم کی کوئی وضاحت اس باب میں فروزاں کے شک کو مزید تقویت بخشتی۔ اپنے والد کی طبیعت کا پوچھتے ہوئے جب اس کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ ڈاکٹر نے انہیں ماحول کی تبدیلی کا کہا ہے تاکہ وہ بزنس کے جھمیلوں سے دور کہیں باہر چلے جائیں۔ دو دن اس فیصلے میں لگے کہ وہ اپنی سالی کے گھر ایبر ڈین، اسکاٹ لینڈ چلے جائیں۔فروزاں بھی کبھی ملک سے باہر نہیں گئی تھی۔ جب ان کے روانہ ہونے کا دن آیا تو اس کے ابو نے اچانک ضد کی کہ محاسن بھی ساتھ چلے۔
دو دن سے محاسن نے فرحان سے نہ تو ملاقات کی نہ اس کے فون کا جواب دیا۔ جس دن اس کی روانگی تھی۔ فرحان شہر سے باہر گیا ہوا تھا۔یوں بھی محاسن اسے اپنی روانگی کے بارے میں کچھ بتانے کے حق میں نہ تھی۔ اس کو اس بات سے یک گونہ راحت سی مل رہی تھی کہ اس رات کی حرکت پر اگر وہ کچھ فکر مند رہے، تو اچھا ہے۔اسے واپسی پر کمپنی کے دفتر میں پتہ چلا کہ اسکاٹ لینڈ کے عازمین میں محاسن بھی شامل ہے۔ روانگی کے اس پروگرام کی پیشگی اطلاع محاسن کی جانب سے نہ ملنے کا اسے کچھ ملال ہوا۔
محاسن نے اس حوالے سے عنادل سے بھی کچھ بات نہ کی جب وہ صبح سویرے کی فلائیٹ پر روانہ ہونے کے لیے اپنا سامان اپنے بیڈ روم میں پیک کر رہی تھی ۔عنادل رات کو ڈرائیور کے ساتھ واپس آیا تو وہ بغیر دستک کمرے میں چلی آئی ۔ خیال تھا کہ وہ اپنے اس سامان کے بارے میں اس سے سوال جواب کرے گی ۔ عنادل نے قمیص اتاری ہوئی تھی اور پشت پر ناخنوں کے کھرچنے کے تازہ نشان تھے۔ عنادل سے اس نے جب ان کے بارے میں پوچھا تو وہ چپ ہوگیا ۔ ایک خفت اور خوف جو ہر مجرم کے چہرے پر رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے وقت ہوتا ہے،وہ اس کے چہرے پر بھی عیاں تھا۔ محاسن جو تقریباً عنادل کے برابر قد کی تھی بہت آہستگی سے اس کے قریب گئی اور صرف ایک جملہ کہا کہ ” So you faggot , you dirty bastard , you are with him”( گالی! غلیظ حرامزادے تو تم اس کے زیر تصرف ہو) اس کے ساتھ ہی زناٹے سے اس نے کس کر ایک چانٹا اس کے منہ  پر رسید کیا۔ اس نے وہ تمام بکس جو اس کے سامان سے خالی تھے ایک  ایک کرکے اس پر پھینکے اور ہر اس حرکت پر صرف ایک جملہ کہا کہ ” You dirty bastard . You wore all these for him. Shame on you! I am leaving you” ( حرام زادے۔ یہ سب کچھ تم نے اس کے لیے پہنا ۔ میں تمہیں چھوڑ کر جارہی ہوں)۔
اس نے اپنی خالہ سے ایبر ڈین، اسکاٹ لینڈ میں جب عنادل کے حوالے سے بات کی تو ان کا مشورہ تھا کہ وہ وقاص کو اعتماد میں لے کر خلع کی درخواست عدالت میں دائر کرے لیکن اگر عنادل کو اسے طلاق دینے میں کوئی اعتراض نہ ہو تو اس بات پر خاموش علیحدگی ایک بہتر فیصلہ ہوگا۔
فروزاں اور اس کے ابو تو وہاں اسکاٹ لینڈ ہی میں قیام پذیر رہے مگر اس کے ابو نے محاسن کو یہ کہہ کر جلد ہی واپس پاکستان بھجوادیا کہ وہ فرحان کے ساتھ گوانگ زو میں جو صنعتی نمائش منعقد ہورہی ہے اس کا دورہ کرکے دیکھ لے کہ وہاں سے قدرتی آفات کے حوالے سے جو اب ملک میں کثرت سے آنے لگیں جس میں زلزلہ، اور طوفان کے بعد کی تباہ کاریاں شامل ہیں وہاں ان آفات کی تباہ کاریوں کے اثرات زائل کرنے کے لیے امپورٹ کی خاطر کون سی مشینری منافع بخش ثابت ہوگی۔اس نمائش میں انہیں اور فرحان کو جانا تھا۔اس سلسلے میں سب لوگوں سے بات چیت ہوچکی ہے مگر اب ان کی نمائندگی وہ کرے گی۔گوانگ زو تک مختلف فلائٹیں جاتی ہیں مگر وہ خود ایک دفعہ ہانگ کانگ سے انٹر سٹی ٹرین میں سوار ہو کر گئے تھے۔زمینی سفر طویل ہے یہی کوئی پندرہ گھنٹے کا مگر بہت پر لطف محسوس ہوتا ہے ان کی ٹرین سروس بھی بہت عمدہ ہے۔

tripako tours pakistan
گوانگ زو صنعتی نمائش
گوانگ زو صنعتی نمائش
گوانگ زو صنعتی نمائش
ٹرین ،گوانزو سے ہانگ کانگ تک

چین کے سفر پر روانہ ہونے سے ہفتہ بھر پہلے فرحان نے اسے اپنی مادہ کتیا برگنڈی جو ڈوبر مین پنشر تھی تحفے میں دے دی۔ وہ محاسن کو بہت پسند تھی۔ وہ بتانے لگا کہ اس کتیا پر برونو اور ڈُوبی گھر کے دونوں نر کتوں میں اب کھینچا تانی ہونے لگی ہے۔اس کے دو تین دوست بھی برگنڈی اس سے مانگتے ہیں ۔ اس نے محاسن کو بتایا کہ چونکہ ایک ہفتہ کا عرصہ ایسا ہے کہ وہ اس کی عادات کے بارے میں اسے سمجھانے میں کامیاب رہے گا۔نیا کتا جب گھر میں آتا ہے تو اسے ایڈجسٹ کرنے میں کیا کچھ کرنا پڑتا ہے ۔ محاسن کا خیال تھا کہ عنادل کو اس پر اعتراض ہوگا مگر اس ایک ہفتے میں وہ گھر پر بہت ہی کم آیا وہ بھی اس کی غیر موجودگی میں۔برگنڈی بھی اس ایک ہفتے میں اس گھر اور محاسن سے خاصی مانوس ہوگئی۔
اس سفر میں وہ فرحان کے بہت قریب آگئی۔ عنادل سے طلاق لینے کا مشورہ اس نے بھی دیا۔ اس کی جنسی عادات کے حوالے سے فرحان کو یقین تھا کہ یہ بہت پختہ عادات ہیں۔ ان میں کسی طور تبدیلی ممکن نہیں بلکہ وقت کے ساتھ اس میں اور بھی خرابیاں آئیں گی۔ اس حوالے سے ان میں شادی کے عہد و پیماں بھی ہوئے۔واپسی میں انہوں نے شنگھائی کی سیر بھی کی ۔محاسن کو لگا کہ اس نے ایک مرد کے حوالے سے جو بھی خواب دیکھے تھے ان کی واحد تعبیر اسے فرحان کے وجود میں دکھائی دی۔
جب وہ واپس آئی تو بھائی وقاص کا رویہ محاسن کے بارے میں خاصا جارحانہ تھا ۔بھابھی بھی سیدھے منہ  اس سے بات نہیں کررہی تھیں۔وہ حیران تھی کہ اچانک یہ سب کیوں ہوا۔ فرحان بھی وقاص کے رویے سے بہت نالاں تھا۔ وقاص اس کی بات بات پر تحقیر کرتا تھا۔ چین سے واپسی کے پانچویں دن اسے فروزاں نے فون کیا کہ وہ فوراً ایبرڈین پہنچے اس کے ابو کی طبیعت بہت مضمحل ہے ۔وہ ان کے صحت کے حوالے سے خاصی پریشان ہے۔
چلنے سے پہلے اس نے عنادل سے طلاق کے بارے میں بات کی۔ اس نے طلاق کے باب میں اس کے سامنے دو شرائط رکھیں۔ایک تو وہ تمام زیورات جو عنادل کی طرف کے ہیں ۔ یہ ا ن کے خاندانی زیورات ہیں یہ سب اس کی پر نانی اور پر دادی سے انہیں کے گھرانے میں موجود رہے ہیں وہ واپس کردے گی بشمول ان کے جوائنٹ اکاونٹ میں موجود رقم کے ۔
محاسن کو لگا یہ بہت گھاٹے کا سودا ہے ۔جوائینٹ اکاونٹ میں کوئی دو کروڑ روپے موجود تھے۔ جس میں کچھ رقم اس کی اپنی بھی تھی۔ ۔دوسرے وہ اس کی نجی زندگی کے بارے میں حلف لے کر یہ اقرار کرے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے و ہ انہیں کہیں بھی ،کبھی بھی ،کسی پر ظاہر نہیں کرے گی۔ اس خاموشی کے عوض وہ اپنا وہ گھر جس میں وہ دونوں شادی کے بعد سے قیام پذیر ہیں وہ اس کے نام کردے گا۔ محاسن کو ان دونوں شرائط پر کوئی اعتراض نہ تھا۔اس وجہ سے اسے طلاق اور خیابان ہلال والا گھر دونوں بغیر کسی بد مزگی کے اور اطمینان سے مل گئے۔
ایبرڈین سے واپس آتے ہی اس کی زندگی میں دو بھونچال ایک دم آگئے۔پہلا بھونچال تو یہ آیا کہ اسے فروزاں نے بتایا کہ وہ فرحان کے ساتھ گوانگ زو کے چائنا ہوٹل کے سوئمنگ پول میں بکنی پہنے بوس و کنار میں مصروف تھی ۔ یہ سب وقاص کو ای میل کے ذریعے کمپنی کے ایک ملازم ظہیر محمود نے بھیجی تھیں۔مزید چھان بین پر اکاونٹنٹ نے وقاص بھائی کو سفری اخراجات کی جو فائل دی اس میں گوانگ زو اور شنگھائی میں صرف ایک کمرہ دونوں ہوٹلوں میں لیا گیا تھا اور وہ بھی فرحان کے نام پر۔اس نے یہ کیا نادانی کی۔اس کے ابو کو فون پر یہ سب باتیں بتادی گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ دل گرفتہ ہیں۔

تین دن بعد جمیل سیٹھ کا انتقال ہوگیا۔ اپنی وفات سے پہلے انہوں نے محاسن کو معاف اس لیے کردیا کہ عنادل کے بارے میں وہ گھر کے چوکیدار اور محاسن کی خالہ کی زبانی بہت کچھ جان چکے تھے۔خود فروزاں نے بھی انہیں سب کچھ بتادیا تھا ۔انہیں محاسن کے اس سے طلاق لینے پر کوئی اعتراض نہ تھا۔
محاسن کو یاد آیا کہ ظہیر محمود انہیں اس ہوٹل میں کئی دفعہ دکھائی دیا تھا۔ اسے فرحان نے کمپنی کی ملازمت سے ایک بڑے گھپلے کی وجہ سے جمیل سیٹھ کو بتا کر نکالا تھا۔وقاص اس فیصلے سے ناخوش تھا۔وہ اسے ایک موقع  اور دینا چاہتا تھا۔ اسے لگا کہ احمد سلمان نے ہی اپنے سیل فون سے یہ تصاویر کھینچ کر اس کے بھائی کو بھجوائی تھیں۔
واپسی پر دوسرے جس بھونچال نے اس کا استقبال کیا وہ یہ تھا کہ وقاص بھائی نے شدید بے عزتی کرکے فرحان کو کمپنی کی ملازمت سے فارغ کردیا ہے اس بے عزتی میں یہ طعنہ بھی شامل تھا کہ وہ ایک ملازم کا بیٹا ہے لہذا اس نے ان کی بہن کو ورغلا کر نمک حرامی کا ثبوت دیا ہے۔وہ ملازمت چھوڑ کر ملک سے کہیں باہر چلا گیا ہے۔
چند دن بعد اسے فرحان کی ایک ای میل ملی جس میں جمیل سیٹھ کی وفات پر تعزیتی کلمات کے علاوہ یہ بھی درج تھا کہ ” اسے ابوظہبی میں بہت اچھی ملازمت مل گئی ہے۔ کمپنی اس کے دوست کی ہے۔ جو کچھ ہوا وہ اس کی غلطی تھی۔محاسن نے اسے دونوں جگہوں پر بالکل اسی طرح کمرے لینے کو کہا تھا جیسا انہوں نے ہانگ کانگ کے پینی انسویلا ہوٹل میں کیا تھا حالانکہ سالسبری روڈ پر واقع یہ ہوٹل ان دونوں ہوٹلوں سے جہاں انہوں نے گوانگ زو اور شنگھائی میں قیام کیا۔ ان سے وہ ایک مہنگا ہوٹل تھا۔ وہ کچھ بد احتیاط ہوگیا تھا اس کا خیال تھا کہ سفری اخراجات کے بل محاسن جب واپسی پر منظور کردے گی تو وہ یہ فائل اپنے پاس رکھ کر تلف کردے گا۔واپسی پر تیزی سے بدلے ہوئے حالات نے دونوں کو مہلت نہ دی تو یہ بدمزگی ہوئی۔وہ برگینڈی کا خیال رکھے ۔وہ اس کی نشانی ہے۔ زندگی میں ملنا بچھڑنا انسان کے اختیار سے زیادہ حالات کے بہاؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔خط کے آخر میں ایک جان لیوا فقرہ یہ درج تھا کہ” Everything, Everyone, Everywhere…..Ends”۔محاسن اس ای میل کو پڑھ کر بہت دیر تک روتی رہی۔اس نے تہیہ کیا کہ اب وہ کسی سے پیار نہیں کرے گی۔

pennisula hotel hongkong

اس بات کو اب دو سال ہوتے تھے۔فروزاں سے اس نے اس دوران کئی دفعہ شادی کا کہا وہ اس کی ہم عمر تھی۔ وہ کب تک یہ پہاڑ جیسی زندگی یوں تنہا کاٹے گی۔فروزاں کا جواب تھا کہ “ہم غلزئی ہیں نہ ہمارا دل کسی پر آتا ہے نہ ہمارا بدن ایک کے علاوہ کوئی دوسرا مرد دیکھتا ہے۔”
وقاص بھائی اور بھابھی اس کے حوالے سے بہت نارمل ہوگئے تھے۔کمپنی میں اس کا خاصا اچھا رول ہوگیا تھا ۔ گوانگ زو اور شنگھائی سے منگوائے ہوئے ڈی واٹرنگ پمپس اور ملبہ ہٹانے والی مشینری امپورٹ کرنے والی ایجنسی کی وہ مالک تھی۔جس میں اس نے فروزاں کو بھی شامل کرلیا تھا۔
ہفتے اتوار کو وہ ایک دوست کی این جی او کے کام میں مدد کرتی تھی۔سمیرہ اس کی بچپن کی دوست تھی۔شادی کے بعد لاہور چلی گئی تھی۔ وہاں سے طلاق اور ایک بیٹا ساتھ لائی جو اب چودہ برس کا تھا۔ہمیشہ کی مالدار سمیرہ کو ضوریز نام کے نوجوان سے جو ایک بینڈ کا مالک تھا اس سے پیار ہوا تو اس سے شادی کرلی۔ عمر میں اس سے پورے آٹھ برس چھوٹا تھا۔
ایک دن وہ کسی دعوت کے سلسلے میں سمیرہ کے ہاں وقت سے بہت پہلے گئی تو اسے لگا کہ بیس مینٹ میں بہت شور تھا۔ وہ نیچے جب یہ منظر دیکھنے گئی تو سب بینڈ بجانے والے ایک نوجوا ن شیری جس کا پورا نام شہر یار مرزا تھا۔ اس بے چارے کو ڈانٹ رہے تھے کہ وہ آج گٹار بجاتے وقت لے اور سر کا خیال نہیں رکھ رہا ۔سفید کرتے پاجامے میں اسد امانت علی خان کا یہ ہم شکل وضاحت دے رہا تھا کہ اسے ان کے بینڈ میں شامل ہوئے بمشکل ایک ہفتہ ہوا ہے۔ اسے ان کے تال میل کو سمجھنے کا کچھ وقت ملنا چاہیے۔ یوں بھی وہ انفرادی کارکردگی سے جدا ہوکر پہلی دفعہ کسی بینڈ میں شامل ہوا ہے۔
وہ اپنا فون اور پرس وہاں لاؤنج میں چھوڑ سمیرہ کے پاس کچن میں گئی توشیری بھی پیچھے پیچھے چائے اور سر درد کی گولی کا مطالبہ لے کر آگیا۔ گولی کے لیے سمیرہ نے جب اپنے بیڈ روم میں محاسن کو بھیجا تو اسے وہاں کچھ دیر ہوگئی۔واپسی پر اس نے شیری کو کہا کہ لگتا ہے” یہ ساز اس کے لیے کچھ نیا ہے۔یہ اس کا اوریجنل گٹار نہیں لگتا؟”
“ساز بھی پرایا ہے، انداز بھی غیروں جیسا ہے مگر یہ سب کچھ ا پنوں کے لیے ہے۔” شیری نے لہجے میں ایک بے اعتنائی سے مگر اس انداز سے اسے دیکھتے ہوئے،جس میں اس کے لیے بڑی پسنددیدگی اور اپنائیت تھی جواب دیا ۔ محاسن کو دور کہیں سے لگا کہ یہ سب کچھ فرحان نے اس کی طرف دیکھ کر کہا ہے ۔ وہ بھی اسی کے انداز میں بات کرتا تھا۔ جس میں سننے والے کے لیے اپنا مطلب تلاش کرنے کی واضح رعایت موجود ہوتی تھی۔

اسد امانت علی خان

” Interesting Answer” سب سے کیا وہ ایسی ہی باتیں کرتا ہے؟ محاسن نے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے جتلایا۔
“وہم سے نازک اگر کوئی یقین ہو تو وہ ایسی ہی باتیں کرتا ہے۔” شیری کے اس جملے نے محاسن کو بہت شدت سے فرحان کی یاد دلائی تو وہ موضوع بدلنے کے لیے اس سے پوچھ بیٹھی کہ ” اس کی بات چیت اور اردو اتنی اچھی کیسے ہے؟”
وہ بتانے لگا کہ ” اس کے ابو ایک ناکام شاعر ہیں۔ اس کی امی کی سر توڑ کوشش کے باوجود ان کا ہر ایک اسکرپٹ نسوانی موضوعات پر ڈرامے پیش کرنے والے ایک چینل نے ہمیشہ بے دردی سے ان کے جذبات کو کرچی کرچی کرتے ہوئے ردی کی ٹوکری کی نذر کردیا ہے۔انچولی۔ فیڈرل بی ایریا کے جس گھر میں وہ رہتا ہے وہاں چوبیس گھنٹوں میں اردو ادب پر اتنی گفتگو ہوتی ہے جتنی انجمن ترقیء اردو کے سالانہ اجلاس میں نہیں ہوتی۔”
اس کی بات سن کر محاسن نے اپنے پرس سے سگریٹ نکالی اور لائٹر تلاش کرنے کی کوشش کرنے لگی تو شیری نے جیب سے ماچس نکالی اور سگریٹ سلگادی۔ اس کی یہ خود اعتمادی ،محاسن کو اس لیے بھی اچھی لگی کہ یہاں پاکستان میں تو کسی عورت کو سگریٹ پیتادیکھ کر بڑے اچھے اچھے مرد حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔
” وہ سگریٹ پیتا ہے کیا؟ “محاسن نے شہر یار مرزا سے پوچھا
جواب ملا “نہیں” ۔
“پھر ماچس کیوں رکھتے ہو؟ “محاسن نے پوچھ لیا۔
“کچھ لوگ سگریٹ رکھتے ہیں پر ماچس رکھنابھول جاتے ہیں۔۔شیری نے اس کو مزید یہ کہہ کر چونکا دیا کہ یہ  کسی سے تعارف کا ایک اچھا ذریعہ بھی ہے۔یوں بھی مجھے سڑک پر اگر کوئی حادثہ ہوجائے تو گاڑیوں کو آگ لگانے میں بہت مزہ آتا ہے”۔ محاسن نے سوچا کہ یہ مکالمہ گاڑیوں کو آگ لگانے والی بات کو منہا کر کے کہیں سنا ہے۔ پھر اسے یاد آیا کہ ہندوستانی فلم اجازت میں ویٹنگ روم میں ریکھا یہ جملہ نصیر الدین شاہ کو اس وقت کہتی ہے۔جب وہ سگریٹ منہ  میں لگا کر ماچس تلاش کررہا ہوتا ہے اور وہ اسے اپنے پرس سے ماچس نکال کر دیتی ہے۔بطور ایک سابقہ بیوی کے اسے اپنے میاں کی ماچس کھودینے والی عادت کا بخوبی علم ہوتا ہے۔

اجازت
ریکھا

اس سے پہلے کہ یہ گفتگو مزید جاری رہتی اسے بیس مینٹ سے کوئی بلانے آگیا ۔ سمیرہ بھی کمرے میں آگئی تھی۔ وہ چپ چاپ اس پر ایک اچٹتی نگاہ ڈال کر سیڑھیاں اتر کر واپس اپنا گٹار بجانے پہنچ گیا۔ دعوت دل چسپ تھی۔ سمیرہ نے اپنی دو ایک پرانی دوستوں کو بلایا تھا۔ وہ متجسس تھیں کہ کم سن میاں کیسا ہوتا ہے۔ سمیرہ بتانے لگی کہ یہ جو ذرا کم عمر مرد ہوتے ہیں ان کے پیار میں شدت بھی بہت ہوتی ہے۔ عمر کے ایک قوس( Curve )پر آکر جسم بہت تعریف پسند ہوجاتا ہے ۔جسمانی رفاقت سے بہتر کوئی تعریف نہیں یا کوئی نیوڈز بنائے پینٹر ہو کہ فوٹو گرافر مگر فوٹو والا دھندہ ذرا رسکی ہے۔جسم کا ایک معاملہ ایسا ہے کہ جسے عورت بہت سینت سینت کر سجا بنا کر رکھتی ہے وہ فریب محبت کی وجہ سے اسی تاج محل کے روندے جانے پر خوش ہوتی ہے۔
یہ جو زور آور خان جی جیسے مرد ہوتے ہیں ۔جسمانی رفاقت میں عجلت اور وحشت بھی ہم عمر یا بڑی عمر کے مرد سے زیادہ ہوتی ہے یہ شہ زور توجہ کے بھی بہت طلب گار ہوتے ہیں۔ بڑی عمر کے مرد کا ذکر کرتے ہوئے اس نے قدرے شرارت سے محاسن کی جانب دیکھا ۔ وہ اس کے اکثر رازوں کی شریک تھی۔فرحان سے محاسن کے تعلقات کا بھی اس سے کبھی ذکر ہوا تھا۔” But a young lover or a young husband is a real fun .If you can handle his wild passions”( لیکن ایک جواں سال عاشق یا شوہر بہر حال بڑا پر لطف ہوتا ہے اگر آپ کو اس کے جذبات سے کھیلنا آتا ہو) سمیرہ نے ٹیپ کا بند سنا کر گفتگو کچھ زنانہ موضوعات کی جانب موڑ دی۔
دعوت کے اختتام پر گھر واپس آن کر محاسن نے وہسکی کا ایک پیگ بنایا اور سگریٹ سلگا کر اپنے ڈی وی ڈی پلیئر پر فلم لگادی۔
رات   سونے سے پہلے  اس تقابل کے پیچ و خم میں الجھی محاسن جس وقت دونوں فلموں کی خوبیوں اور کمزوریوں کا موازنہ کررہی تھی اس کے فون پر میسج ٹون سنائی دی۔یہ فلم وہ دیکھ کر اس فیصلے پر پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اس کے بعد جو فلم بنی ” یعنی بی فور دا سین سیٹ” ا چھی تھی یا پہلے والی۔سمیرہ کا خیال تھا کہ دوسری فلم بہت عمدہ تھی۔ اس میں عورت کے اس عالمی المیے کا کہ ہر عورت اجڑتی اپنی پہلی محبت کے ہاتھوں ہی ہے ۔ ہرجگہ پیار کرنے والوں کے یکساں حالات کا بہت عمدگی سے جائزہ لیا ہے ۔
محاسن کا خیال تھا کہ دوسری فلم بہت Predictable ” “ہے۔اس میں سنیما بہت کم ہے۔اس میں ریڈیو ڈرامہ کی تو سب خوبیاں کہی جاسکتی ہیں مگر رومانس اور بے ساختگی جو پہلی فلم میں  ہے وہ سرے سے اسی سیریز کی دوسری فلم میں مفقود ہے۔ اس کے سین جو کل چار پانچ ہی ہیں وہ غیر ضروری طور پر طویل ہیں ۔

بی فور سن سیٹ

میسج ٹون پر اسے پہلے گمان ہوا کہ یہ کم بخت سیل کمپنیاں اور ٹیلی مارکیٹنگ کرنے والے بے وقت پیغامات بھیجتے رہتے ہیں۔ وہ فلم کے آخری سین میں خلل نہ آنے دے۔ پہلی فلم کے آخری سین میں یہ دونوں ٹرین پر سوار ہوتے وقت پانچ سال میں دوبارہ ملنے کا وعدہ کرتے کرتے چھ ماہ میں ملنے کا وعدہ کرتے ہیں اسی جگہ اسی اسٹیشن پر آسٹریا کے شہر ویانا میں۔ پہلی دفعہ اس سین کو دیکھ کر وہ بہت روئی تھی ۔کاش فرحان بھی اس سے کوئی ایسا وعدہ کرکے رخصت ہوتا تو کیسا اچھا ہوتا۔اس نے وہ سین روک کر جب میسج کا جائزہ لیا تو نمبر کی جگہ بھیجنے والے کے نام کے آگے وہی جیل بریک لکھا تھا۔ اسے اپنی یہ نمبر محفوظ کرنے والی پیش بندی اچھی لگی۔
پیغام رومن اردو میں تھا “اجنبی سی ہو مگر غیر نہیں لگتی ہو”
محاسن نے ایک لمحے کو سوچا کہ یا تو وہ اس نمبر پر کال کرے یا پیغام کو نظرانداز کرے مگر پھر جانے کیوں اس نے حقیقت کا کھوج لگانے کے لیے پوچھ لیا۔۔۔”۔ تو کیسی لگتی ہوں؟”
“آنچ دیتی ہوئی برسات کی یاد آتی ہے”۔ بغیر کسی توقف کے جواب بھی آگیا۔۔ محاسن نے اس پر پوچھ لیا کہ “مسٹر گٹارسٹ یہ پیغام کیوں دیا تھا۔انچولی میں  تو بڑا حسن دل فریب ہے۔ مجھے چھوڑو اور پڑوسیوں کا حق ادا کرو ؟”
“ایک حسین شام کو دل میرا کھوگیا۔” سامنے سے وضاحت پیش کی گئی۔محاسن کی نگاہیں اسکرین پر منجمد اس منظر پر جمی ہوئی تھیں جس میں ہیروئین سیلین آخری دفعہ ویانا کے اسٹیشن پر ہیرو جیسی کو چوم رہی ہوتی ہے۔ دل اس کا وہیں فرحان کی یادوں میں اور دماغ اس کم بخت شیری کے پیغام میں الجھا تھا ۔اس نے ریموٹ پر پلے کا بٹن دبا کر شرارت کرتے ہوئے پوچھ لیا کہ “شام زیادہ حسین تھی یا میں؟”۔ حالانکہ اسے بخوبی علم تھا کہ وہ سیاہ چوڑی دار پاجامے۔باریک کرنکل جارجٹ کے گہرے نیلے بغیر آستین کے گہرے نیلے کرتے میں، گلے میں سادہ سا سفائر کا نیکلیس پہنے وہ کوئی بہت اہتمام سے وہاں نہیں گئی تھی۔

بی فور سن رائز

“وہ شام آپ کی وجہ سے حسین تھی”۔ جواب بھی جلد ہی آگیا۔ اس نے شیری کو یہ مختصر سا حکم دیا کہ ” کال می” اس کا خیال تھا کہ فون آنے میں زیادہ تاخیر نہ ہوگی مگر جب تین منٹ سے زیادہ ہوگئے تو اس نے فلم کو دوبارہ چلا دیا۔ فلم کا ہیرو “جیسی” اب اس بس میں سوار تھا جو اسے ائیر پورٹ لے  جارہی تھی۔ جدائی کے ان لمحات کی اداسی فلم کے اختتام پر آپ کو بری طرح جکڑ لیتی ہے گو اندر سے بھر جانے کا ایک عجیب احساس بھی متوازی طور پر جنم لیتا ہے ۔ جب پہلی گھنٹی بجی تو سکرین پر فلم کے کریڈٹس کا ٹائٹل چل رہا تھا۔

فون پر بھی شیری اتنا ہی دل چسپ اور مہذب تھا جتنا روبرو تھا۔اس نے محاسن کے پوچھنے پر بتایا کہ اس نے ایک جسارت اس سے پوچھے بغیر یہ کی تھی کہ اس کے فون سے اپنے فون پر کال کی تھی جس کی وجہ سے اس کا نمبر وہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔کیا وہ اسے اپنے سے پیار کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔
محاسن نے کہا کہ جب اس نے اس کا فون استعمال کرنے کی اجازت طلب نہیں کی تو وہ اس سے پیار کرنے کی اجازت کیوں مانگ رہا ہے۔وہ اس سے عمر میں بڑی ہے۔عشق کے لیے ساری عمر پڑی ہے ۔بہتر ہوگا وہ اس کی عزت کرے اور اپنی تعلیم پر توجہ دے ۔یہ بینڈ باجا بارات امیر لڑکوں کے چونچلے ہیں۔
سمیرہ نے اسے بتایا کہ اس کے ابو واٹر بورڈ میں ایک چھوٹے سے افسر ہیں۔وہ پڑھ لکھ لے گا۔اچھی نوکری مل جائے گی تو زندگی میں اسے اپنی ہم عمر اور پسند کی لڑکی بھی مل  جائے گی۔اسے پسند نہیں کہ کوئی مرد اسے میسج کرے یا فون پر رابطہ کرکے اس سے عشق جتائے۔ اب اگر اس نے یہ جسارت کی تو وہ یہ سب کچھ اس کے امی ابو کوسمیرہ سے اس کی تفصیلات لے کر بتائے دے گی ۔بعد میں جو کچھ ہو اس کے لیے اسے الزام نہ دیا جائے۔
فروزاں بھی اب ڈیفنس فیز فور میں رہنے چلی گئی تھی۔ پشاور سے اس کی ایک بیوہ پھوپھی اس کا چھوٹا بیٹا ،بیٹی اور خالہ خالو بھی ساتھ رہنے آگئے ۔ اس کا منجھلا بھائی منیب اپنی بیوی کو طلاق دے کر واپس آگیا تھا۔جائیداد کے بٹوارے کی بات ہورہی تھی تو منیب نے مطالبہ کیا کہ اس کے ابو کا مکان اسے دے دیا جائے ۔بیوہ کا ترکے میں مکمل حصہ نہیں۔ پشاور سے اس کی ایک بیوہ پھوپھی اس کا چھوٹا بیٹا ،بیٹی اور خالہ خالو بھی ساتھ رہنے آگئے ۔ اس کا منجھلا بھائی منیب اپنی بیوی کو طلاق دے کر واپس آگیا تھا۔ محاسن نے بالآ خر اپنا حصہ چھوڑ دیا اور یوں فروزاں کو اس رقم کے عوض فیز فور ڈیفینس میں ایک گھر خریدنے کا موقع  مل گیا۔
بھلا ہو فرحان کا کہ ابتدائی دنوں میں جب یہ کمپنی رجسٹر ہوئی تو اس نے اسے محاسن کا حصہ ستر فیصد اور فروزاں کا تیس فیصد رکھا۔ بلکہ اسی کے مشورے سے اس کے ابو نے بلڈنگ میں دفتر بھی ایک علیحدہ سوئیٹ میں قائم کرکے بڑی دور اندیشی کا ثبوت دیا۔ محاسن کے دونوں بھائیوں وقاص اور منیب کو یوں اس کاروبار میں دخل اندازی کا موقع  نہ مل پایا۔فرحان کے بارے میں اس کے بھائی اور بھابی نے جو غیر ذمہ دارانہ رویہ رکھا تھا اور اس کے ابو کو ان کی بیماری کی حالت میں اس کے اور فرحان کے تعلقات بارے میں جن غیر ضروری تفصیلات سے آگاہ کیا تھا اس کے بعد وہ دونوں اس کے دل سے اتر گئے تھے۔ اس نے بھائی بھابھی اور منیب سے ملنا جلنا تو ترک نہ کیا مگر وہ بھی عنادل سے ملا ہوا گھر بیچ کر فیز ٹو کے ایک قدیم سے بنگلے میں منتقل ہوگئی۔
اس شفٹنگ میں جب وہ خیابان ہلال سے فیز ٹو کے ایک پرانے مگر کچھ چھوٹے سے بنگلے میں منتقل ہورہی تھی۔ اس کی شیری اور طفیل خان نے بہت مدد کی۔ طفیل خان کو اب اس نے این جی او سے ملازمت چھڑواکر اپنے ہاں ملازم رکھ لیا تھا۔ اس شفٹنگ میں نہ تو کوئی بلب ٹوٹا نہ کوئی فریم، نہ ہی چھوٹی سی کوئی چیز ادھر سے ادھر ہوئی۔ رنگ روغن کھڑکیوں دروازوں کی تبدیلی بجلی کا کام اور پلمبنگ کی خدمات سب کے سب میں شہر یار مرزا اور طفیل خان نے اس کی بڑی مدد کی۔گھر اس کے پرانے بنگلے سے چھوٹا ضرور تھا مگر اس کی سجاوٹ اور آرائش میں محاسن کی شخصیت کا پرتو نمایاں تھا۔ بیڈ روم تو اس نے پہلی منزل پر بنالیا البتہ اسٹڈی اس نے گیسٹ روم کے ساتھ ہی بنالی تھی۔جس میں کہیں سے  شیری اس کے لیے ایک بے حد عمدہ سنگل صوفہ کسی سیل سے خرید لایا جس پر اس نے برگنڈی رنگ کا جرمن کاف لیدر بھی چڑھاوالیا اور ساتھ ہی ایک عمدہ سے سنگل بیڈ بھی رکھ لیا۔
طفیل خان کو اس نے ایک دن کچن میں جب پستول سے گولیاں نکال کر دراز میں رکھتے دیکھا تو اس نے شیری کو اس کے بارے میں بتایا۔جس پر وہ کہنے لگا کہ یہ “جو خیبر پختون خوا  کے لوگ ہوتے ہیں ان کی دو باتوں کے بغیر گزارا نہیں یعنی ہتھیار اور  ایمان”۔ جس پر وہ شوخی سے کہنے لگی ” اور تم انچولی والوں کا؟ ”
“ہم ہیں راہی پیار کے ہم سے کچھ نہ بولیے۔” شیری نے بھی ترنت اسی شوخی سے جواب دیا۔
دفتر سے فارغ ہوکر وہ سیدھی جم جاتی اور پھر کبھی کبھار کسی دعوت میں چلی جاتی مگر پھر بھی شام کو خاصی تنہائی رہتی تھی۔ ایک عورت کے اکیلے دل کی اداسی کو نہ کوئی مرد سمجھ سکتا ہے نہ کوئی عورت۔ اس نے اپنا فون نمبر بھی تبدیل کرلیا تھا کہ اس کا پرانافون چوری ہوگیا تھا اور ای میل اکاؤنٹ ہیک ہوجانے کی وجہ سے اپنا ذاتی ای میل ایڈریس بھی بدل گیا تھا۔ اس کی نسوانی اناّ نے اسے روکے رکھا کہ وہ ان تبدیلیوں کی اطلاع فرحان کو دیتی۔
۔ شیری ایک ذہین اور باسلیقہ نوجوان تھا ۔محاسن کا خیال تھا کہ وہ جلد سمجھ جائے گا کہ سامنے والی بی بی کو اس سے کام لینے میں تو مزا آتا ہے مگر عشق کے کسی سفر پر وہ اس کا ساتھ قبول کرنے پر رضامند نہیں۔ اسے لگا کہ اس سرد مہری کی وجہ سے شیری کی دل چسپی اس میں معدوم ہوجائے گی اور وہ جلد ہی رفو چکر ہوجائے گا۔ پرندے بے برگ درختوں میں گھونسلے کہاں بناتے ہیں۔
ایسا نہ ہوا ۔اس کا ارادہ تھا کہ وہ شیری کو اپنی اگنور لسٹ پر ہی رکھے گی۔ اس دوران نہ تو اس نے کبھی اسے گھر بلایا نہ ہی اس کے فون کا وہ جواب دیتی تھی کبھی کبھار اس کا اگر کوئی ٹیکسٹ میسج اسے اچھا لگتا تو وہ بھی دو تین پیغامات دے کر کچھ دنوں تک ناغہ کرلیتی تھی۔۔کاروباری مصروفیات کے دوران بھی اسے کئی مرتبہ ایسے مردوں سے سابقہ پڑتا تھا   جو کاروباری تعلقات کو نجی حیثیت دینا چاہتے تھے۔
فرحان چلا گیا تو اس کو کوئی مرد اچھا نہ لگا،سب ہی بے وفا ہوتے ہیں ۔سب ہی اپنے اپنے راز چھپاتے ہیں۔ سب کی انا پیار پر حاوی ہوتی ہے۔ ایسی جنس خود پسند سے کیا پیار کرنا۔ایک دن اسے شیری کا میسج ملا تو اسے لگا کہ اس میں بے تکلفی اور بے ہودگی بہت ہے ۔اس نے فون کرکے اس کو بہت ڈانٹا ۔جس کی وجہ سے وہ کافی دن تک سین سے غائب رہا۔
وہ بھی سمجھ گئی کہ ایک ڈانٹ کے بعد  شیری کے ہوش ٹھکانے آگئے ہیں مگر ایک دن جب وہ جم سے واپس آئی تو اسے اپنے فون پرشہر یار کا یک میسج ملا۔یہ میسج اپنی سادگی کے باوجود دل کو بہت برمانے والا تھا ۔ اس نے لکھا تھا۔” “Wait for the boy that would do anything to be your everything”
وہ شاور کے دوران اس کے لطف بیاں کا جواب اپنے خوبصورت بدن پر گرتے ہوئے قطروں کی صورت میں تلاش کرتی رہی۔اسے بہت دن پہلے کیٹ ونسلیٹ کی فلم ” دی ریڈر ” یاد آئی جس کی تیس بتیس سال کی ہیروئن ہنا شمڈٹ( کیٹ ونسلیٹ) بھی اپنی زندگی میں ایک پندرہ سالہ لڑکے مائیکل کو شامل کرکے اس کے بہت قریب آجاتی ہے۔اس نے بہتے پانی کی اس دھار میں اپنی سابقہ احتیاط کو پس پشت ڈالا اور سوچا کہ وہ بھی جائزہ لے کہ یہ محترم شیری آخر اس سے کس قسم کے پیار کے متلاشی ہیں۔

the Reader
kate winslet in the Reader

ایک دن وہی سمیرہ والا سہیلیوں کا گروپ محاسن کے گھر اچانک بنے ہوئے پروگرام کی وجہ سے مدعو تھا۔
محاسن کا خیال تھا کہ طفیل خان جو ایک شام پہلے سے اپنی بہن کے گھر اس کی زچگی کی کسی ایمرجنسی میں گیا تھا وہ واپس آجائے گا۔وہ نہ آیا تو محاسن نے شیری کو بلوالیا۔ ان سہیلیوں کی مرضی پینے پلانے کی بھی تھی۔یوں تو شراب کا بندوبست عام طورپر سمیرہ کا ہوتا تھا مگر اس کا بوٹ لیگر(شراب فراہم کرنے والا) کئی دنوں سے غائب تھا۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply