دو ہزار انیس پوری دنیا کے لیے اہم ۔۔نذر محمد چوہان

میں پچھلے ایک ہفتہ سے یہ کہ رہا ہوں کہ ۲۰۱۹ فیصلہ کا سال ہو گا ۔ پوری دنیا کی سات ارب کی آبادی فیصلہ کرے گی کہ اب یہاں سے کہاں جانا ہے ۔ کرنسیاں reset ہوں گیں ۔ مجھے یقین ہے ۲۰۲۰ میں یا تو قیامت آ جائے گی یا ایک نیا ورلڈ آڈر ۔ یہ دنیا ہر معاملہ میں saturation پوائنٹ پر پہنچ گئ ہے ۔ اب ہر کوئ ہر جگہ کہ رہا ہے enough is enough، ۔ اگر کوئ ریاست ابھی بھی ڈھٹائی اور بھیک پر ڈٹی ہوئ ہے تو وہ ہے پاکستان ۔ جہاں ابھی بھی لوگ چاہتے ہیں کہ لُٹیرے پولیس والوں کے لیے تھانے بنائیں اور حکمرانوں کے لیے محل ۔ اور معاوضہ میں پھر ۲۲ کروڑ کو لُوٹیں ۔ ہم ابھی بھی کنٹینر میں بند ہو کر یورپ جانے کے لیے بےقرار ہیں ۔ پچھلے دنوں ہی ہیومن اسمگلنگ کا ایک گینگ گجرات -پاکستان سے پکڑا گیا ۔ پرویز الہی جیسوں کی ساری دولت کواپریٹو اور ہیومن اسمگلنگ کے نتیجہ میں بنی ہے ۔
یہاں امریکہ میں کئ جگہ یہ بورڈ آویزاں ہیں کے ، Adopt a Road ، کہیں بھی Adopt a Police Station یا judiciary کا واحیات بورڈ نظر نہیں آتا ۔ کل ہی بہت سارے میسیج انباکس میں آئے کہ میں ان لوگوں کو اس پاکستانی امریکی کا پتہ بتاؤں جو کمزور ، بزدل اور فری لوڈر پاکستانیوں کو مفت تعلیم ، وظیفہ اور پیسہ کی عنایات سے نواز رہی ہے اور ایسا کرتے کرتے تھک گئ ہے ۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ بھی اس خاتون کو لوٹنے میں پیچھے نہ رہ جائیں ۔ میرے ایک پاکستانی دوست میاں زولقرنین عامر اکثر کہتے ہیں کہ ہم پاکستانیوں میں کوئ مینوفیکچرنگ فالٹ ہے جو ہمیں بھیک اور بے غیرتی پر مجبور کرتا ہے اور بے شرم بنا دیتا ہے ۔
اُس دن میری کینیڈا والی گوری دوست جیلین نے بھی یہی کہا جو میری آسٹریلیا میں لکھاری دوست شیریل اکثر رو رو کر کہتی ہے کہ ہم مر گئے ۔ یورپ ، کینیڈا ، آسٹریلیا اور برطانیہ کا گورا اب رو رو کر کہ رہا ہے کہ یا ان فری لوڈر ایشینز کو رکھو یا ہم کو ؟ معاملات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ اب ایشینز کو ان ملکوں میں شدید نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ معاملہ Paki Cabbie سے اب you buggers تک جا پہنچا ہے ۔
امریکہ نے تو ویسے ہی آج سے بیس سال پہلے یہ فری لوڈنگ بند کر دی تھی ۔ اب تو گرین گارڈ پر بھی پابندی لگ گئ ہے کہ اگر آپ نے ایک پیسہ بھی سرکار کا خرچ کروایا ، تو گرین کارڈ ہرگز نہیں ملے گا ۔ تعلیم اور علاج معالجہ سوشل نیٹ ورک سے بلکل نکال دیا گیا ہے ۔ امیگرئشن جاپان کی طرح مکمل بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور مزدور صرف ورک پرمٹ یا اقامہ پر کام کرے گا ۔ بیگم بچوں کو ساتھ نہیں لا سکے گا اور کسی قسم کی امیگرئشن کا حق دار نہیں ہو گا ۔
اب کیا کریں ؟ کہاں جائیں ؟ میرے پاس اس کا بہت سادہ حل ہے ۔ وہی حل جو میرے تین فیورٹ سربراہ اپنائے ہوئے ہیں ۔ ڈٹرٹے فلپائین میں ، اوبراڈور میکسیکو میں اور بلسناریو برازیل میں ۔ تینوں ہر صورت اپنی ریاستوں کو ٹھیک کرنے کا عزم ٹھانے ہوئے تاکہ کسی کو ملک چھوڑنا ہی نہ پڑے ۔ لُٹیروں اور مافیا کے پیٹ چاک کر کے ان سے لُوٹی ہوئ دولت اگلوائ جائے ۔
کبھی کبھی میں ان بہن بھائ جنہوں نے میرے وراثتی گھر پر قبضہ کیا ہوا ہے کے بارے میں سوچتا ہوں کہ انہوں نے اپنے مہربان کے ساتھ ایسا کیوں کیا ؟ وہ خاتون پوری دنیا گواہ ہے مجھے mentor کہتے کہتے نہیں تھکتی تھی تو کیوں ایک دم اپنے گُرو کی پیٹھ پر چُھرا گھونپا ؟ بغیر مجھے بتائے ، اتنی بے غیرتی ، ڈھٹائی اور بے شرمی آخر کیوں ؟
وہ دنوں بہن بھائ دراصل اس نظام کی نا انصافیوں کا بدلہ میرے سے لینا چاہتے ہیں ۔ سرکار بھی ان کو اسی کے لیے اُکسا رہی ہے ، گزر بسر کے لیے لوگوں کے مال دولت چھینو ، خاص طور پر جو پاکستان سے غیر حاضر ہیں ۔ کوئ قانون نہیں ، انصاف نہیں ، ایسے میں ایسا ہی ہوتا ہے جو ان دو بہن بھائیوں نے کیا ۔ زرداری بھی تو یہی کر رہا ہے اور نواز شریف کا نعرہ بھی تو یہی رہا ۔ یہی سب کچھ ایک لاکھ سے زیادہ پاکستان کے سرکاری ملازموں اور پاکستان فوج کا بیانیہ ہے ۔ لیول playing field مہیا کرنا تو دور کی بات ہے پاکستان میں تو اب نہ تعلیم ، نہ علاج معالجہ اور نہ ہی انصاف ۔ بچ گئ تو ، ننگی درندگی ، انتہا کی بدمعاشی اور کربلا والا ظلم ۔
کل جب کینیڈا میں اس witch کو میں نے کہا کہ کرو میرے پر کالا جادو ، میں حاضر ہوں ۔ وہ اُٹھی اور میرا ماتھا چُوما ۔ اس نے کہا، تمہاری روح کی روشنی اتنی منور ہے کہ میں اگر کوشش بھی کروں تو جل کر راکھ ہو جاؤں گی ۔ یہ ہے اچھی نیت اور کردار کے ثمرات ۔ اس نے میرے دوست بوڈو کو کہا اس شخص کی موجودگی نے میرے چھوٹے سے فلیٹ کو اتنا روشن کر دیا ہے کہ پورا ۲۰۱۹ روشنیوں کے رقص میں گزرے گا ۔
امریکہ اور کینیڈا میں مقیم تقریبا تمام گوروں کا یہ کیا خیال ہے کہ پاکستان میں ایک پلے بوائے کو حکومت باہر کی طاقتوں نے دلوائ ہے تاکہ پاکستان کو شدت پسندی سے بچایا جا سکے ۔ ایک طرح سے یہ بات درست ہے ، گو کے یہ حکومت عمران خان کو اسی مقصد کے لیے در اصل پاکستان کی فوج نے دلوائ ہے ۔ اسی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے ، پاکستان کی سول اور ملٹری بیوریوکریسی نے کل ہی جہانزیب خان ، ایک کاٹھے انگریز ،راشی ، بدمعاش اور کرپٹ ، سارکوزی کے دوست کو پاکستانی ایلیٹ کے اسلام آباد کلب کا ایڈمنسٹریٹر چُنا ہے ۔ پاکستان میں status quo نہ صرف رہے گا بلکہ ان قوتوں کی کوشش ہوگی کہ عوام کو مزید غریب ، لاچار اور بے گھر کیا جائے گا ۔ ایسے میں صرف ایک ہی حل ہے ، یا ۲۲ کروڑ پاکستانی سمندر میں چھلانگ لگا دیں یا ان اسٹیٹس کو کی قوتوں کے پرخچہ اُڑا دیں ، ان کی نیندیں حرام کر دیں اور ان کو نیست و نابود کر دیں ۔
جولائ ۲۰۱۹ گرمیوں میں یہ مقابلہ طُول پکڑ جائے گا ، جب نہ بجلی ہو گی نہ پانی اور نہ اناج ۔ یہ جنگ کون جیتے گا ،کون فاتح اور کون شکست خوردہ ؟ کیا قدرت کی مدد سے عوام ؟ یا ٹینکوں کے سنگ پاک فوج ؟ میرے خیال میں عوام جیتیں گے اگر انہوں نے یہ نیت کر لی کہ “یا مار دینا ہے یا مر جائیں گے “ ۔ لیکن اگر وہ ستر سال کی طرح back foot پر ہی رہے تو ٹینک جیت جائیں گے اور یقیناً ۲۰۱۹ کا سال ۲۲ کروڑ لوگوں کی موت کا پروانہ لائے گا ۔ تھر ، سندھ – پاکستان سے یہ موت کا رقص پانچ سال پہلے ہی شروع ہو گیا تھا ، دیکھنا یہ ہو گا کہ کب اور کہاں جا کر رُکتا ہے ۔
جلال الدین رومی نے کہا تھا کہ حق اور باطل کی دسترس کے باہر ایک فیلڈ ہے جہاں میں تمہے ملوں گا ۔ انشاء اللہ یہ خاکسار نزر محمد چوہان آپ کو وہاں انشاء اللہ ۲۰۱۹ میں ضرور ملے گا ۔ میرا وعدہ ہے ، بشرطیکہ آپ بھی اس فیلڈ میں ہوئے ۔ اپنا بہت خیال رکھیں ۔ میں اس فیلڈ میں آپ سب ۲۲ کروڑ کا منتظر رہوں گا ۔
پاکستان پائیندہ باد ۔ اللہ نگہبان ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *